128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

شاہ میر گھر میں داخل ہوا تو… اماں سامنے ہی ڈائنیگ ٹیبل پر سامنے رکھتی ہوئ ملیں… جبکہ باقی کوئ بھی گھر پر نظر نہ آیا تو اسے انداز ہو گیا…. کہ لازمی شہروز اور شانزے یونیورسٹی گے ہوں گے…
اماں کو دیکھ کر تو ہمیشہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی تھی… سفید دوپٹے کے حالت میں انکا پورنور چہرہ اسے دنیا کا خوبصورت ترین چہرہ لگتا تھا…
وہ چپکے سے انکے نزدیک آیا… اور پیشے سے انھیں اپنے بازوں میں بھر لیا… اور اپنا سر انکے شانے پر ٹیکا دیا….
وہ ایسا ہی تھا.. بچپن میں بھی جب… کسی بھی بات پر وہ اداس ہو جاتا.. تو اسی طرح انکے.. وجود میں چھپنے کی کوشش کرتا تھا… اور آج کافی وقت بعد اسنے یہ حرکت کی تھی.. وہ مسکرا کر.. پلٹیں… تو شاہ میر کے لب بھی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے…
خیریت…. کس بات کی فکر ہے… میرے بیٹے کے اس دل کو “انھوں نے لاڈ سے.. اسکے دل پر انگلی رکھ کر.. پوچھا تو… وہ ہنس دیا…
یہ وہ ہنسی تھی.. جو شاید… بس… اماں ہی دیکھتی تھی.. آج تک شانزے یہ پھر شہروز نے بھی نہیں دیکھی تھی…
مجھے بھلہ کس بات کی فکر ہو سکتی ہے” اسنے شانے اچکا کر.. بے پرواہی سے کہا… تو اماں نے اسکے. چئیر پر بیٹھنے کا شارہ کیا….
اور وہ چئیر پر بیٹھ گیا جبکہ… اماں اسکے ساتھ چئیر پر بی”ٹھ گئیں….
اور اسکو ناشتہ نکال نکال کر دینے لگئیں… جسے وہ پر سکون ہو کر کہا رہا تھا… مگر حقیقتاً اسکا دل اداس تھا.. وجہ شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھی.. یہ پھر وہ اس وجہ سے آنکھیں چرا رہا تھا….
حرم کو ڈانٹنا… اسے اب بلکل اچھا نہیں لگتا تھا.. مگر وہ چاہ کر بھی خود کو نارمل رکھ کر اسے ٹریٹ نہیں کر پا رہا تھا…
شاہ میر… کس بات پر اداس ہو “اماں نے… اسکو غور سے دیکھا…
تو اسنے انکی جانب دیکھا…
آپکو ایسا کیوں لگ رہا ہے میں اداس ہوں” اسنے لاپرواہی سے پوچھا….
جانتے ہوں… تمھارا میرا دکھ ہمیشہ سے ایک جیسا رہا…. ہے…
اور تمھاری اور میری کمزوری بھی ایک شخص رہا ہے “وہ پھیکا سا مسکرا دیں جبکہ شاہ میر بات سمجھتے ہوئے کھانا چھوڑ چکا تھا..
یہ آپ بلکل غلط بات کر رہیں ہیں”وہ ناگواری سے بولا… کیونکہ وہ کبھی اس بات کو ایکسیپٹ نہیں کرنا چاہتا تھا کہ اسے اپنے باپ سے… دلی لگاو تھا ہے…. وہ ان سے اس حد تک محبت کرتا تھا.. کہ ہر… زندگی کے موڑ پر وہ لاشعوری طور پر انکا منتظر رہا ہے…..
حقیقت کو کب تک جھٹلاو گے….
جانتے ہو تم… دو لوگوں سے مل کر بنے ہو… میں نے کبھی شہروز میں.. یہ بات نہیں دیکھی…. جو مجھے تم میں نظر آتی ہے… وہ لاپرواہی ہے جزباتی ہے.. مگر.. تم بظاہر بلکل اپنے باپ جیسے ہو… اسطرح بلکل َجس طرح میں نے اسے دیکھا…..
خوبصورت.. حسین…… غصیلہ….. بلکل ویسے ہو…..
مگر اندر سے تم مجھ پر گئے ہو… ایک حساس… دل… جس میں محبت کی دو بوند گیرنے کی چاہ ہے…..
جانتے ہو.. میں نے تم سے.. بہت محبت کی… مگر میری محبت عجیب تھی.. کہ میں تمھیں دنیا کی دھوپ چھاو… سے بچا نہ سکی… چھا کر بھی “انکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹے.. جبکہ شاہ میر کو… اس وقت اپنا کھانا کھانا حرام ہی لگا….
یہ سب حقیقتیں اسکے لیے ناقابل برداشت تھیں….
چھا کر بھی اپنے پلو… کی نرمی… تمھارے چہرے پر نہیں پھیر سکی… تمھیں یہ احساس نہ دلا سکی.. کہ میں تمھارے ساتھ ہوں.. تم سے محبت کرتیں ہوں…. میں نے تمھیں ان احساسات. کو سمجھانے کے بجائے صرف اتنا سمجھایا.. کہ تمھارے دو چھوٹے بہن بھائ ہیں… تم نے انکا پیٹ پالنا ہے… تم نے اپنی ماں کا سہارا بننا ہے…..
شاہ میر میں نے تمھارے اندر سے.. سب احساسات کو ختم کر دیا.
میں…. چاہ کر بھی تمھیں بچا نہیں سکی….
آج یہ سب.. آرام سکون.. آرائش…. یہ سب بعض اوقات کاٹتے ہیں مجھے…. جب تم ساری ساری رات ڈیوٹی پر ہوتے ہو… مجھے یہ سب سکون ڈنستا ہے….
یہ آرام.. میرے بچے کی خواہشات.. اور احساسات کا خون کر کے ملا ہے……
تمھارے اندر کا شاہ میر… کہیں چھپ گیا… تب… مجھے مجھ خود غرض اور میرے دونوں بچوں کو.. یہ سب ملا….. “
وہ بری طرح رو رہیں تھیں.. جبکہ.. شاہ میر.. کے اندر عجیب ٹوٹ پھوٹ تھی..
اسنے ایک گھیرہ سانس لیا.. اور اماں کے ہاتھ تھام لیے…
آپ کو کیا ہو گیا ہے…. یہ سب…. ہمارا ہے ہم خوش ہیں… اور یہ سب سے بڑی حقیقت ہے… اور کوئ حقیقت نہیں جو گزر گیا.. اسے بھول جائیں” اسنے پیار سے انکی جانب دیکھا…
میں بھول جاو… سب بھول جائیں مگر میں جانتی ہوں.. تم یہ باتیں وہ گزرے لمہے کبھی نہیں بھولے گے… تمھارے اندر کی یہ سردمہری.. کیا مجھے دکھ نہیں رہی… تمھیں سکون وہ ہی شخص… دے”
بس کریں پلیز….. مجھے نفرت ہے اس آدمی سے نفرت نفرت نفرت اس سے زیادہ نفرت تو ہو سکتی ہے مگر کم نفرت نہیں ہو سکتی… میری نفرت کا کوئ پیمانہ نہیں…. بس
.. جو آپکے تجزے ہیں سب غلط ہیں…” وہ بولا تو.. اسکی آواز بلند تھی جیسے.. وہ ساری آوازوں کو دبا دینا چاہتا تھا..
لالا” شہروز کی پکار پر اسنے پلٹ کر دیکھا…
شاید وہ ابھی ابھی آیا.. تھا.. اور اسکی توجہ.. اس جانب نہیں تھی.. وہ حیران و پریشان.. اس لیٹر کی جانب دیکھ رہا تھا..
وٹ ہیپینڈ… “شاہ میر نے ایک بار اپنے اندر کے ابال کو سب سے چھپا لیا تھا اور شہروز کی جانب لپکا..
جبکہ اماں بھی… آنسو پوچھتی اٹھیں..
لالا یہ سب..” شہروز سے کچھ بولا نہیں گیا….
اسے سمھجہ نہیں آیا یہ ٹرمیننٹ لیٹر… شاہ میر کو کیسے.. دیکھئے.. شاہ میر نے اسکے ہاتھ سے لیٹر.. چھینا…
اور جیسے جیسے وہ اس لیٹر کو پڑھتا گیا.. ویسے ویسے… اسکے قدموں سے زمین کھیسکتی گئ…..
اسے ایک پرسنٹ بھی اس لیٹر کی امید نہیں تھی…..
ایک بار وہ پھر وہیں جا کر کھڑا ہو چکا تھا…..
جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا….
کیا ہو اہے.. تم دونوں ایسے کیوں کھڑے ہو “اماں کو پریشانی ہوئ…
شہروز نے آہستگی سے انھیں بتایا.. تو وہ دل تھا. کر رہ گئیں.. جبکہ… شاہ میر اب تک اپنی جگہ ساکت تھا….
Once again”
اسکے لب پھڑپھڑائے.. اور اسنے لیٹر کو فولڈ کر.. کے اپنی پوکٹ میں رکھ لیا.
اٹس اوکے میں دیکھ لوں گا… پریشانی کی بات نہیں ہے”اسنے اپنی آواز ہی کسی کھائ سے آتی محسوس ہو رہی تھی…
نہیں شاہ میر…. ادھر دیکھو.. کیسے ہوا ہے یہ سب ٹھیک جا رہا تھا پھر یہ لیٹر کیوں” انھوں نے روتے ہوے.. اسکا چہرہ تھامہ…
شاہ میر کو آج اپنے ضبط کی آخری حد کا انداز ہو رہا تھا…
اماں.. کچھ بھی نہیں ہوا… آپ… فکر مت کریں… بلکل بھی…
میں سب دیکھ لوں گا…” اسنے پیار سے.. انکے آنسو صاف کیے… جبکہ اماں اب بھی نفی میں سر ہلا رہا تھیں….
شہروز اب بھی خاموش کھڑا تھا…
جبکہ اسی دوران شاہ میر کا سیل بجنے لگا.. اسنے صفدر کا نمبر دیکھا اور شہروز کو غصے سے گھورا تو وہ ہڑبڑاتا ہوا… اماں کی جانب بڑھا جن کی طبعیت خراب ہونے لگی.. تھی..
ہاں بولو صفدر.. “اسنے اپنے چہرے پر آیے پسینے کو ایک ہاتھ سے پوچھا اور صفدر سے پوچھا..
سر.. شاہ پیلس پر ریٹ پڑی ہے” صفدر کی آواز بھی پریشان تھی…
جانتا ہوں تم صرف حرم کو وہاں سے غائب کرو.. حرم انکے ہاتھ نہ لگے…. باقی میں خود دیکھ لوں گا “اسنے کہا.. اور صوفے پر.. گیرتی اپنی ماں کو.. دیکھا….
جبکہ شہروز کچن میں پانی لینے دوڑا تھا.. وہ ایک قدم بڑھا کر انکے نزدیک ہوا….
سر وہ لیٹر..” صفدر نے سوال کیا…
صفدر جو تم سے کہا ہے وہ کرو “شاہ میر غرایا اور فون بند کر دیا..
اماں…. ” اسنے انکا چ ہی رہ تھپتھپایا.. جو مسلسل..
میرا شاہ میر.. میرا بچہ… کہے جا رہی تھیں…”
وہ انکے پاس سے اٹھا.. اس وقت اسے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا
چارو جانب جیسا اندھیری چھا گیا تھا…
تکلیف تو اس بات کی بھی تھی.. کہ.. آفیسرز اسکی کارکردگی سے واقف تھے… پھر صرف ایک انسان کی سفارش پر اسے ٹرمیننٹ کر دیا گیا….
اپنے وجود میں اترتی کمزوری کو وہ خود پر ہاوی نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر یہ کمزوری اسے چارو جانب سے.. گھیر رہی تھی
شہروز… اماں کو پانی پیلا رہا تھا… جبکہ اماں… شاہ میر شاہ میر کیے جا رہیں تھیں.. وہ الٹے قدموں سے وہاں سے نکلا…
حرم “ایک خیال دماغ میں کندا… جس نے اسکے وجود میں بجلی بھر دی..
اور وہ دوڑتا ہوا.. اپنی گاڑی میں بیٹھا.. اور شاہ پیلس کی جانب بڑھ گیا.. اسکی گاڑی کی سپیڈ.. ڈید سو کراس کر چکی تھی…
……………..
حرم شاہ میر کے جانے کے بعد.. کافی زیادہ روی جس سے.. اسکا چہرہ.. بلکل سرخ ہو چکا کا تھا… اندر ہی اندر اسے اماں سے تھوڑی سی جلن بھی ہو رہی تھی.. جن کے ایک حکم پر وہ اسے چھوڑ گیا تھا….
اسنے اپنے آنسو صاف کیے…
اور واشروم میں فریش ہونے چلی گئ…
فریش ہونے کے بعد ہو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی…
جبکہ سکینہ نے اسی دوران… دروازہ بجا دیا…
بی بی جی ناشتہ کر لیں”اسنے کہا تو حرم نے اثبات میں سر ہلایا
اور اسکو جانے کے لیے کہا….
اسکے جانے کے بعد وہ.. شاہ میر کے پرفیوم دیکھنے لگی…
ناجانے وہ کون سا پرفیوم لگاتا تھا کہ…. اسکے اندر سے.. اتنی مہک آتی تھی.. کہ حرم.. اسکی خوشبو… سے ہی بے حد متاثر ہو گئ تھی.. اسکی سمیل…. بہت اچھی تھی…
مگر وہ صرف اسکے لیے نہیں تھی….
اسنے منہ بنا کر.. سارے پرفیومز کو. سمیل کیا مگر شاہ میر کے وجود سے اٹھتی خوشبو ان میں سے کوئ نہیں تھی.. مگر یہ سب پرفیوم اسی کے تھے.. تبھی اسنے ایک ایک کر کے وہ سارے پرفیوم… لگا لیے…
اور بالوں کو… ایسے ہی کھلا چھوڑ کر.. چھوٹے سے کیچر میں قید کر کے… وہ نیچے ناشتہ.. کرنے آی…
ہی تھی… کہ اچانک ہی اسے باہر سے آوازیں آنے لگیں.. جبکہ گمان ملازم لاونج میں اسکے گرد جمع ہو چکے تھے…
وہ حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی…
جبکہ سب چیماگویاں کر رہے تھے…
کیا ہوا ہے سکینہ “اسنے سکینہ سے پوچھا اسکا چھوٹا سا دل بہت کانپ رہا تھا…
بی بی ریٹ پڑی ہے شاہ پیلس پر” سکینہ فق چہرے لیے بولی تو حرم کو ہنسی آ گئ..
ہاو انٹرسٹینگ میر نے خود ہی پیلس پر ریٹ ڈال دی “وہ چئیر کھینچ کر بیٹھنے ہی لگی تھی کہ… سکینہ باہر کی جانب دوڑ گئ.. اسے کچھ ٹھیک نہ لگا تو وہ بھی باہر آ گئ..
پولیس ہارن… اور.. صدر دروازہ بری طرح پیٹا جا رہا تھا…
اب حقیقت میں اسکی جان ہوا ہو رہی تھی…
سارے ملازم… نہ جانے کس راستے پر دوڑ رہے تھے…
شاید وہ دوسری طرف سے باہر نکل رہے تھے.. مگر وہ.. وہ سکنیہ کو تلاش کرنا چاہتی تھی… مگر سکینہ بھی غائب تھی اور ایک ایک کر کے تمام ملازم اسکی نظروں سے غائب ہو گئے جبکہ اب… باہر ایک دو فائر چلا تو.. حرم کی چینخیں نکل گئیں….
……………..
سر باہر بہت پولیس ہے.. اور اب تک واچمین نے گیٹ نہیں کھولا ہے جبکہ حرم میڈیم ابھی گھر کے اندر ہیں اور ملازموں کو.. آپکے حکم سے… دوسرے راستے سے نکال دیا ہے… “صفدر… نے شاہ میر کو اطلاع دی…. تو شاہ میر کا دماغ گھوم گیا…
کیا بکواس کر رہے ہو.. حرم تک نہیں پہنچے ابھی تم” اسنے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھا لی….
سوری سر.. مگر. میں کوشش کر رہا ہوں”
باسٹرڈ…” وہ غصے سے دھاڑا اور فون بند کر.. کے اسنے.. شاہ پیلس کا نمبر ڈائل کیا…..
……………..
فائر کی آواز کے ساتھ.. اب سپیکر میں کسی کے بولنے کی آوازیں بھی آ رہیں تھیں جبکہ شور ہنگامہ سن کر اسکا وجود پتے کیطرح کانپنے لاگ تھا.. اور اسی دوران فون کی بیل بجی تو.. وہ ایکدم خوف سے اچھل پڑی.. اور ڈرتے ہوئے.. فون تک پہنچی….
جیسے ہی اسنے.. سپیکر اٹھایا..
حرم….. “شاہ میر کی آواز سنتے ہی حرم.. بچوں کیطرح رو دی…
میر…… میر مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”
حرم…. میری جان… تمھیں کچھ نہیں ہو گا…. بس ایک کام کرو.. شاباش “
نہیں میر… میں میں… کچھ آپ کہاں ہیں.. یہاں پولیس کیوں آئ ہے…. گولیاں چل رہیں ہیں” وہ حرم نے روتے ہوئے؛ سے کہا.. تو… شاہ میر نے سٹیرنگ پر گرفت سخت کر لی… جبکہ شاہ پیلس سے کچھ فاصلے پر گاڑی کھڑی کر کے اسنے رضا آبان اور فیضان.. کو اپنے گھر کے دروازے پر پولیس.. کمشنر کے ساتھ دیکھا..
اسکے دماغ کی رگیں جیسے پھٹنے کے قریب تھیں…
حرم….. میں تمھارے بہت قریب… ہوں… پھنچ جاو مجھ تک “نہ جانے کس انداز میں… وہ اسے یہ بات کہ رہا تھا.. حرم.. نے سپیکر پر خوف سے گرفت اور مظبوط کر لی… جبکہ.. باہر کا دروازہ اب.. جیسے.. کھولا جا رہا تھا….
میر…” حرم بری طرح رو دی.. تبھی اسکا.. صفدر نے… ہاتھ پکڑا.. اسنے صفدر کیطرف دیکھا..
چلیں میڈم “صفدر نے کہا… تو.. حرم بغیر یہ دیکھے کہ مین گیٹ سے اندر داخل ہونے والا… شخص کون ہے….
صفدر کے ساتھ ہو لی جبکہ… رضا آبان اور فیضان.. پولیس اور کمشنر کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہو چکے تھے….. شاید حرم انکی جانب ایک نظر دیکھ لیتی تو…. صفدر کے ساتھ کبھی نہ جاتی….
…..
……………………..
صفدر اسے پیچھلے راستے سے نکال کر.. شاہ میر کی گاڑی تک لایا.. جو پہلے ہی پیچھلے راستے… پہنچ چکا تھا…
حرم اسکے سامنے تھی..
اب وہ یہ سب… بہت سہلوت سے ہل کر سکتا تھا…
اسکا دل جیسے… پرسکون.. ہو چکا تھا… شاہ میر کو اپنے مقابل دیکھ کر.. حرم جلدی سے گاڑی میں بیٹھی اور شاہ میر کے سینے سے چیپک کر بری طرح.. رو دی….
جبکہ شاہ میر نے صفدر کو ایک نظر دیکھا جو اپنی نظریں چرا.. کر وہاں سے ہٹ چکا تھا…
اب صفدر اپنی گاڑی میں شاہ پیلس.. کو یوں ہی.. ان سب کے حولے کیے.. اپنی گاڑی میں نکلا جبکہ.. شاہ میر نے بھی حرم کو.. ایسے ہی سینے سے لگائے.. گاڑی… کچے. علاقے کیطرف اتار.. لی…
حرم اب بھی اسکے سینے سے لگی رو رہی تھی.. جبکہ.. اسکا ہاتھ حرم کی پشت پر آہستہ آہستہ سے چل رہا تھا..
حرم کا رونا اب سسکنے میں بدل چکا تھا جبکہ شاہ میر شاہ پیلس سے کافی دور گاڑی نکال لایا تھا.. اسنے ایک حرے بھرے کھیت کے قریب گاڑی روکی.. اور… حرم.. کو خود سے دور کف کے.. وہ دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکلا….
حرم اسی کی جانب دیکھ رہی تھی جو… دوسری طرف سے.. گھوم کر.. اسکیطرف آیا.. اور دروازہ کھول کر حرم کو بانہوں میں بھر کر.. اسنے پیچھلی سیٹ ہر حرم کو بیٹھایا.. اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا…
دوپہر کے وقت اس.. سائیڈ پر.. ایک بندہ بھی دیکھائ نہیں دے رہا تھا.. جبکہ حرے بھرے کھیتوں کی ٹھنڈک نے ساری روڈ کو ٹھنڈا کیا ہوا تھا…
حرم نے شاہ میر کیطرف دیکھا…. جبکہ شاہ میر بھی حرم کی جانب دیکھ رہا تھا..
مجھے بہت ڈر لگ گیا تھا.. میر.. مجھے لگا میرا دل بند ہو جائے گا “وہ بولی تو ایک بار پھر سے پلکیں نم اور آنکھوں میں اشک تھے…
کیا تمھیں لگتا ہے… میر تمھیں ایسے ہی چھوڑ دیتا… کیا گم میر کی قید میں نہیں تھی” شاہ میر نے اسکی پیشانی کا بوسہ لیا.. اور اسکو سینے میں جکڑ لیا…
میر پولیس کیوں آئ تھی.. آپ لائے تھے نہ مجھے ڈرانے کے لیے” اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے ہوئے وہ بولی تو شاہ میر کو حرم… کچھ ریلکس لگی …
میں کیوں اپنے گھر پولیس لاتا “شاہ میر کو وہ آج واقعی کم عقل لگی….
وہ اسکے بالوں سے کھیلتے ہوئے… اس وقت صرف خود بھی ریلکس ہونا چاہتا تھا… تا کہ اگلے اقدام سوچ سمھجہ کر اٹھا سکے.. مگر ایک خوشی بھی تھی کہ.. رضا کو.. کچھ نہیں ملا سب کچھ کرنے کے بعد بھی.. کیونکہ اگر آج حرم راضا کو مل جاتی تو شاید شاہ میر حرم کو وہیں شوٹ کر دیتا…
کچھ بھی تھا…
وہ حرم کو کبھی بھی ان لوگوں کے حوالے نہ کرتا.. وہ اس انسان کو ایسے ہی تڑپانا چاہتا تھا…
تو پھر پولیس کیا کرنے آئ تھی “حرم.. نے آنکھیں اٹھا کر اسکو دیکھا…
تمھیں لینے آئ تھی..” اسنے مسکراہٹ دبا کر کہا تو حرم… حیرت سے اسکی جانب دیکھنے لگی..
اگر تم میرے ساتھ رہو گی تو پولیس نہیں لے جائے گی اور اگر.. تم نے میرے پاس سے بھاگنے کی کوشش کی تو.. پولیس تمھیں لے جائے گی… “شاہ میر نے اسے اچھا خاصا ڈرایا تو… وہ خاموش ہو گئ..
البتہ اسکی پکڑ اسکی شرٹ ہر سخت ہوئ تھی…
اب بھاگنے کا سوچو گی” شاہ میر نے اسکے گالوں پر انگلیاں چلاتے ہوئے.. پوچھا…
تو حرم نے معصومیت سے سر نفی مین ہلا دیا…
جبکہ شاہ میر کو پہلی بار وہ اچھی لگی….
اسنے.. اسکی ٹھوڑی.. کے نیچے انگلی رکھ کر…
حرم کا چہرہ اوپر کیا…
حرم شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھنے لگی… جبکہ شاہ میر نے.. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال.. کر اسے مزید اپنے قریب کر لیا…
آپ بہت وہ ہیں”حرم…. اس سے فاصلہ بنانا چاہتی تھی… مگر شاہ میر کو کچھ سجاہی نہیں دے رہا تھا..
شاہ میر… ہم گاڑی میں ہیں” حرم پھر سے بولی جبکہ شاہ میر اسپر جھک رہا تھا….
می… میررر “شاہ میر نے اسکی بغیر سنے اسکے لفظوں کو اپنے لبوں پر چن لیا.. جبکہ اسکے عمل میں جتنی شدت تھی کہ حرم… اسکے جنون کے آگے…. خود کو بکھرتی ہوئ محسوس کرنے لگی….
جبکہ شاہ میر… اپنے اندر کی ہلکی سی جھلک اسے.. دیکھا رہا تھا…
…………………..
جاری ہے