128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں… “صفدر نے.. اس بھوکے شیر کو سختی سے جکڑ کر اس لڑکی سے دور کیا.. جو بری طرح خوف ذدہ تھی…..
چھوڑو مجھے بہت مان ہے اسے اسپر…. اسکا قتل کر کے. زیادہ نہیں تو کچھ تو.. میرے وجود میں دیہکتے کوئلوں پر اوس پڑے..” وہ چلایا… چہرہ سرخ جب کے ماتھے کی رگیں اب کے پھٹنے کے قریب تھی….
شائم اونچی آواز سے رونے لگی جبکہ.. وہ ایک بار پھر بھپرہ…
سر سر پلیز…. مولوی آ گیا ہے…” اسکا ذہن صفدر نے مولوی کیطرف لگایا تاکہ کچھ تو.. وہ اس نازک لڑکی کی جان پر ترس کھائے.. مگر اب کہ یہ ناممکن تھا….
مولوی کا نام سن کر وہ تن فن کرتا وہاں سے نکلا… جبکہ حرم کی ہوائیاں اڑنے لگائیں وہ بھی کچھ بھی دیکھے بغیر.. ساڑھی سمبھالتی.. وہاں سے.. بھاگنے لگی… مگر افسوس کہ اسکے پھنچنے سے پہلے ہی… وہ ظالم شخص لاونج کے دروازے بند کر چکا تھا.. جبکہ حرم نے دروازے.. بری طرح پیٹ ڈالے..
کھولو.. پلیز… اب میں کچھ نہیں کہو گی تمھیں… پلیز سوری…. “وہ روتے ہوئے بولے جا رہی تھی مگر دوسری طرف.. اسکی آواز کو کان پر بھی دھرا نہیں….
اور جب دروازہ پیٹتے پیٹتے اسکی آواز بیٹھ گئ… تو وہ.. زمیں پر بیٹھ کر… رضا صاحب کے بارے میں سوچنے لگی وہ کتنے پریشان ہوں گے….
اب تو آنسو بھی تھم گئے تھے….
تقریباً ایک گھنٹے بعد دروازہ کھلا…
تو دروازہ ایک جھٹکے سے کھلنے پر.. اسکی کمر میں زور سے لگا…..
شاہ میر نے نوٹس لیے بغیر اسکو انگلی سے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا… اسکے پیچھے مولوی اور دو تین مرد اور.. انکے علاوہ اسکا چمچا صفدر بھی تھا..
اس وقت یہ بات وہ ہی جانتی تھی کہ اتنے آدمیوں کو دیکھ کر.. اسکو کتنا خوف محسوس ہو رہا تھا…
وہ ان سے دور ہونے لگی جب کہ وہ سب… نگاہیں جھکائے اندر داخل ہوئے اور صوفوں پر ٹک گئے…
ان سب کی نظریں نیچیں تھیں جبکہ… شاہ میر کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جو فق چہرے سے کھڑی تھی ….
ادھر آو ” شاہ میر نے… اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا جبکہ وہ زور زور سے نفی میں گردن ہلانے لگی…
مگر مقابل کا ٹمپر اتنا نہی‌ں تھا کہ وہ چند لمہے مزید انتظار کرتا… وہ دو قدم چل کر اس تک پہنچا…
چھوڑو مجھے…. کھڑوس بدماغ انسان… نا جانے میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو.. جو تم چاہتے ہو میں نہیں ہونے دو گی وہ…
تمھارے ناپاک ارادے ہیں.. چھوڑو مجھے ہیلپ ہیلپ…. “وہ زور زور سے چیختی.. اسکے سینے پر مکے برسا رہی تھی.. جبکہ
مقابل کا صبر حد سے سوا ہو گیا….
اسنے بلا لحاظ کے اپنے بھاری ہاتھ کے زور دار دو چانٹے.. حرم کے نرم و نازک کومل رخسار پر جڑ دیے.. جس سے.. اچانک ہی اسکا منہ بند ہوا…
یہ مت سمجھنا میں کوئ تمھارے اس نکمے حسن کا دیوانہ ہو کر تم سے نکاح کر رہا ہوں.. درحقیقت تم صرف بدلہ ہو….
اس سے زیادہ نہیں جس دن میرا بدلہ پورا ہو جائے گا اس دن خود تمھیں.. طلاق دے کر.. کام تمام کروں گا…
اور یہ جو تم حد سے زیادہ بدتمیز ہو.. تمھاری کینچی کی طرح چلتی زبان بھی کاٹ کر علیحدہ رکھ دو گا اب اگر ایک لفظ اور بھی بولا تو..
نکاح شرافت سے کرو… ورنہ مجھے تمھیں.. نکاح کے بغیر رکھنے میں بھی کوئ پروبلم نہیں مگر میں ایسا کرو گا نہیں.. کیونکہ ناپاکی سے مجھے گھن آتی ہے…
اگلا لفظ تمھارے منہ سے میں صرف قبول ہے سننا پسند کرو گا… “
اسکے کان کے قریب.. اپنا زہر نکال کر وہ اسکو سن کر چکا تھا… وہ اسکی باتیں سن کر… دماغی طور پر سن ہو چکی تھی.. کیسا انتقام.. کیسا بدلہ.. اور پھر طلاق..
وہ اسے گھیٹستا ہوا… مولوی کے سامنے لے گیا…
شروع کریں”
اسنے اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر مولوی کو کہا.. جس نے بس ایک نظر حرم کو دیکھا جس کا حولیہ خاصا بے ترتیب تھا.. ساڑھی بھی ڈھلک رہی تھی…
شاہ میر نے… بمشکل مولوی کی ایک نگاہ کو ہضم کیا….
اور اسکو کھینچ کر اپنی پیٹھ کے پیچھے کیا….
مولوی نے سٹپٹا کر نکاح شروع کیا
.
حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا لڑکی کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا…
مگر ہمت نہ بن پڑی اور جلدی جلدی نکاح پڑھا کر.. اسنے اس جلاد صفت.. پولیس والے سے اپنی جان چھوڑائ.. مگر.. اس جلاد کے پیچھے.. بے ہال بیٹھی پری پر.. وہ چارو مرد ہی افسوس کر رہے تھے
صفدر ان سب کو باہر لے گیا.. جبکہ.. شاہ میر سیدھا ہو کر بیٹھا…
چہرے پر اب… مسکراہٹ تھی.. مگر.. بارونق نہیں.. خاصی طنز بھری…
عجیب ہوتی ہو تم لڑکیاں بھی….
بلکل بے کار…. اپنی حفاظت نہیں کر سکتیں….
کوئ بھی منہ اٹھا کر.. تمھارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے…
سٹرینج تمھارے تین بار کے قبول ہے کہنے… نے مجھے اچھے سے انداز کرا دیا ہے… کہ تم بھی… انھیں میں شمار ہوتی ہو بزدل “
وہ سکون سے.. اسکی پھٹی پھٹی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا.. جس کے کریم کی طرح ملائم چہرے پر…
اسکی انگلیوں کے نشان چھپے ہوئے تھے….
خیر. اب تم میری بیوی ہو” وہ کچھ نہ بولی تو.. وہ پھر سے بولنا شروع ہوا.. مگر چہرے.. پر دبی دبی مسکراہٹ…
اور اوپر سے مسکراہٹ میں چھپا طنز…
وہ اس عجیب و غریب انسان کو دیکھ کر رہ گئ…
مگر تب تک جب تک میں چاہو….
اور یہ جو.. آج تم نے لباس زیب تن کیا تھا…” وہ پوری طرح اسکی طرف موڑا.. تو وہ ہڑبڑا کر.. اپنی ساڑھی کا پلو.. ٹھیک کرنے لگی…
شاہ میر… کو غصہ ہی آیا… یعنی تب اسے کوئ ہچکچاہٹ… یہ شرم نہیں آئ جب وہ ہزاروں مردوں کے سامنے.. یوں ہی دعوت کا سامان بنی ہوئ تھی اور اپنے محرم کے سامنے وہ اس گھٹیا لباس میں چھپنا چاہ رہی تھی…
اور اسی غصے میں.. کچھ بھی دیکھے سوچے. بغیر اسنے وہی پلو.. اسکی جگہ سے زور سے کھینچا.. تو نیچے ساڑھی کی کئ پلیٹئں تڑخ گئ.. جبکہ آگے سے.. پلو… ہٹ کر.. اب زمین بوس تھا….
حرم تو مانو لٹھے کی مانند سفید پڑ گئ.. جبکہ اسنے کہیں اور توجہ دیے بغیر اسکا… چیرہ ہاتھوں میں جکڑ لیا…
وہاں پارٹی میں مردوں کو لجانے کا سامان بن کر آئ تھی تب تمھاری یہ تمھارے اس… بےغیرت چاچے کی شرم و حیا اور عزت غیرت نے جوش نہ مارا اور میرے سامنے بیٹھی ڈرامے بازی کرتی ہو….. ” وہ پھنکارہ… تو… حرم ہچکیوں سے رو دی…
اسکے گالوں میں اسکی انگلیاں جیسے دھنس رہیں تھیں.. درد سے وہ رونے لگی…
مسلہ کیا ہے تمھارا… کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا” وہ ایسی ہی تھی بے دھڑک. جبکہ مقابل خاصا ٹھڑا بندہ تھا.. جس کو شوق مستی شرارت یہ.. فرینکنیس زہر لگتیں تھیں..
کیوں کہ.. اسنے… شوق مستی کے دور میں دن رات محنت کی جو.. اسکے وجود سے یہ حس ہی اڑا لے گئ.
تمھارے باپ کا ملازم ہوں جو تم تم لگا رکھی ہے..” وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ.. حرم… کا چہرہ ہی سفید پڑ گیا….
آ… آآ… آپ” وہ ہکلائ…
Mind it “
وہ تنبھی کر کے.. اس سے دور ہوا……
حرم… کو بھی اپنی پوزیشن کا خیال آیا… تو جلدی سے جھک کر.. اسنے ساڑھی کا پلو اٹھا کر دوبارہ سینے پر پھیلا لیا..
چہرہ کچھ اسکے تھپڑ کے نشان.. اور کچھ… شرم سے سرخ ہو گیا.. شاہ میر نے بے زاریت سے یہ منظر دیکھا..
ملاو… اس گھٹیا انسان کو فون… “اسنے ایک اور حکم نامہ جاری کیا.. حرم نا سمھجی سے اسکی صورت تکتی گئ…
اپنے باپ کو…. ملاو فون… اور بتاو.. کہ تم جان بوجھ کر گھر سے بھاگی.. تھی کیونکہ… تمھیں میں پسند تھا… اور تم کل صبح گھر آ جاو گی ..میرے ساتھ… یہ رات گزار کر”
نہ… نہیں” ایک بار پھر سے.. اس کٹھور کی بات سن کر وہ رونے لگی.. جبکہ وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا….
اور جھک کر… اسکا سیل.. جو زمین پر پڑا تھا… اٹھایا اور اسکے ہاتھ میں تھما دیا…
ملاو نمبر… “
نہیں… میر وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں.. وہ ہارٹ پیشنٹ ہیں.. اتنی بڑی بات نہیں برداشت کر سکیں گے انھیں کچھ ہو جائے گا…”
وہ… ہچکیاں لیتی.. اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑ گڑانے لگی…
وہ پہلے تو اسکے میر پکارنے پر چونکا.. مگر اس بات کو آوائیڈ کر کے…
اسنے دوسری بات کو فوکس کیا.. اور ایک جھٹکے سے….
اسکے بال.. پکڑ کر تقریب جھنجھوڑ ہی دیے
میری پیا…….ری… بیوی.. آج آخری اور پہلی بار یہ بات بتا رہا ہوں… میری بات سے.. انکار کبھی مت کرنا… ورنہ.. تمھیں شوٹ کرنے کا مجھے زرا بھی افسوس نہیں ہو گا…. “وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا…
جبکہ حرم.. بے اوسان رو رہی تھی..
کم اون ڈارلنگ ملاو.. نمبر سسر.. کو.. میں چاہتا ہوں.. وہ سالا جلد از جلد مرے.. اور تمھاری جان مجھ سے.. چھوٹے.. رائٹ.. تم بھی یہ ہی چاہتی ہو.. آی نو.. پھر ملاو نمبر” اب کہ وہ زور سے چینخا…
اور جب اسکے چیخنے کا بھی حرم پر اثر نہ ہوا… تو.. اسنے آو دیکھا نہ تاو… اپنی گن ہولڈر سے گن با ہر نکالی… اور حرم کی کنپٹی پر رکھ دی…
اور یہ ہی لمحہ تھا حرم کا خون خشک ہو گیا.. بھیگی پلکوں کی باڑ میں چھپی خوف ذدہ آنکھیں… شا میر کو ٹکر ٹکر دیکھ رہیں تھیں….
م… ملاتی ہوں.. “زبان کو لبوں سے تر کر کے اسنے کانپتی انگلیوں سے نمبر ملایا…
وہ بزدل تھی… وہ جانتی تھی…. شاید مقابل بھی یہ بات سمجھ چکا تھا تبھی اسپر ہاوی ہو رہا تھا….
بیل جا رہی تھی جبکہ.شاہ میر نے موبائل جھپٹ کر سپیکر پر ڈال دیا…
میری جان میرا بچہ… حرم کہاں پر ہو تم…. “انکی آواز میں تڑپ تھی… حرم کی جہاں سسکیاں بندھ گئیں وہیں.. شاہ میر… …
کہ دل کو کچھ ہوا تھا…
یہ آواز اس میں موجود تڑپ…. وہ سرخ… آنکھوں کو حرم پر گاڑے بیٹھا تھا….
م…. میں”حرم سے کچھ بولا نہ گیا تو.. شاہ میر نے کال کاٹ دی….
یہ سب اسکی بھی برداشت سے باہر تھا.. نہ جانے کیا تھا اسکے اندر چھپا ہوا.. کہ وہ اس وقت.. انکی تڑپ حرم کے لیے برداشت نہ کر سکا….
حرم.. چہرہ ڈھانپے رونے لگی.. جبکہ.. وہ جگہ سے.. آٹھ کر بے چینی سے ادھر ادھر چلنے لگا… حرم کا فون مسلسل بج رہا تھا…
جس کو اسنے کچھ دیر تو برداشت کیا.. اور پھر.. اٹھا کر.. زمین پر کھینچ کر.. مارا… فون دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا… اور وہیں حرم کی بھی سٹی گم ہو گئ…
اس سے پہلے وہ آگے کچھ کروائ کرتا..
اسکا سیل بجنے لگا….
اسنے سکرین پر صفدر کا نمبر دیکھ کر کال اٹینڈ کی.. اور اسکے علاوہ شہروز… اماں کی بھی کئ کالیں تھیں جو اسنے اٹھائ نہیں تھیں…
ہاں بولو”
سر… رضا صاحب رپورٹ درج کرانے آئے ہیں ” صفدر نے اس اطلاع دی.. تو…
اسکے چہرے کے زاویوں میں رتی بھی تبدیلی نہیں آئ اسے لگا.. آج ضرور.. اپنا غصہ برداشت کرتے کرتے.. اسکے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی….
میں آتا ہو.. تب تک رپورٹ نہ کٹے” اسنے آرڈر دے کر فون بند کر دیا.. اور حرم کیطرف دیکھا…
جو… اب بھی رو رہی تھی… اسے اس ڈرامے بازی سے شدید اکتاہٹ ہوئ.. اسے ہرگیز بھی یہ رونا دھونا نہیں پسند تھا…
اور وہ بھی اس حد تک کہ یہ لڑکی مسلسل روے جا رہی تھی…
وہ جانتا تھا.. اسے حرم کو کس طرح ٹریٹ کرنا ہے.. کم از کم.. ایک آج کی رات… تو وہ اسکے لیے یاد گار بنا دینا چاہتا تھا…..
جب تک میں او… ان انسوں کو سمبھال کر رکھو… کیونکہ رات.. میرے ساتھ گزارنے پر یہ تمھاری مدد کریں.. گے…
مزید تمھیں رونے کی بلکل اجازت نہیں ہے… “اسکے قریب جھک کر… اسنے پراسرار آواز میں کہا… چہرے پر.. ہلکی سی بھی… نرمی نہیں تھی حرم بڑی بڑی.. سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی…
مجھے جانے دیں…” وہ بولی… تو… شاہ میر نے.. نفی کی.. ابھی نہیں جب میں چاہو گا تب…
سکینہ “اسکو کہہ کر… شاہ میر نے.. ایک ہانک لگائ…
اور سکینہ پل میں اس تک پہنچی…
جی صاحب “اسکی نظریں جھکی تھیں…
یہاں کھڑی رہو.. میڈیم کے پاس ہلنا مت.. اور.. یہ رویں تو… انھیں کھانا پانی مت دینا بھلے… میں پوری رات نہ آو “اسنے سکون سے کہا….
حرم کی جان اس عجیب و غریب انسان کے ساتھ چند پل گزار کر ہی سوکھنے لگی تھی…
……….
شہروز پتہ کیا ہے. کہاں ہے وہ… میرے دل میں ہول آٹھ رہے ہیں بیٹے” اماں بےچینی سے بولیں تو شہروز نے بے بسی سے انکی جانب دیکھا… وہ کیا کرتا… آدھی رات ہونے کو آئ تھی مگر شاہ میر فون نہیں اٹھا رہا تھا.. اور شاہ پیلس کے بارے میں گھر والوں میں سے کوئ بھی نہیں جانتا تھا…
صفدر کا بھی موبائل بند تھا…
آ جائیں گے لالا… آپ اپنے روم میں جائیں… میں جاگ رہا ہوں انکے انتظار میں”اسکی طبعیت کے پیش نظر شہروز نے… انھیں انکے روم میں جانے کے لیے کہا…
نہیں جب تک وہ نہیں آئے گا میں کہیں نہیں جاو گی” وہ پریشانی سے بولیں…
اماں آپ جانتی ہیں انکی جوب ایسی ہی ہے.. وہ پہلے بھی راتوں کو گھر سے باہر رہتے ہیں آپ پریشان ہو کر اپنی طبعیت خراب نہ کریں” شہروز نے دوبارہ صفدر کا نمبر ٹرائ کرتے ہوئے ان سے کہا…
تم جانتے ہو وہ غصے کا کتنا تیز ہے.. وہ.. رضا حیدر کا جب سے پتہ چلا ہے… میں دیکھ رہی ہوں.. وہ راتوں کو سوتا نہیں ہے… باہر لون میں ٹہلتا رہتا ہے.. وہ کچھ غلط.. نہ کر لے میرے دل میں ہول آٹھ رہے ہیں”انھوں نے اپنا خدشہ بیان کیا تو شہروز ایک لمہے کے لیے انھیں دیکھ کر رہ گیا…
وہ جانتا تھا.. وہ شاہ میر کے معاملے میں حد سے زیادہ سینسیٹیو ہو جاتیں ہیں… اور اکثر اسپر ہی سب سے زیادہ غصہ کرتیں تھیں…
اماں… لالا آئیں گے تو میں سب سے پہلے آپ کو ہی اٹھاو گا.. تاکہ آپ ان سے بدلہ لیں میری نیند برباد کرنے کا… “وہ مسکرایا…
اب آپ جائیں… میں دیکھتا ہوں” اسنے انکا ہاتھ پکڑ کر.. کمرے کی جانب بڑھایا تو وہ.. خدا کے سپرد اسکو کر کے کمرے کی جانب چل دیں…
یار لالا.. نیند حرم کر دی “شہروز… نے جھنجھلا کر سوچا اور.. صوفے پر دھپ سے بیٹھ گیا..
………………..
پولیس اسٹیشن میں اسنے قدم رکھے تو اپنے کیبن میں… ان تینوں کو بیٹھے دیکھ.. اسکے وجود میں گو ناگو… اطمینان سا اترا.. دبی دبی مسکراہٹ…
وہ… سنجیدگی کا تاثر لیے سامنے جا کر ٹک گیا…
رضا صاحب نے اسے دیکھا…
آنکھوں میں بے بسی کا تاثر…
بیٹے میری بیٹی…. نہیں مل رہی” وہ نم لہجے میں بولے
تو شاہ میر نے کھا جانے والی نظروں سے انکی جانب دیکھا….
شاہ میر…” اسنے انگلی اٹھا کر تنبیھی کی….
میرا نام شاہ میر ہے… ایس پی شاہ میر… اگلی بار… یاد نہیں کراو گا…. “
اسکا انداز خاصا تحقیر لیے ہوئے.. تھا.. راضا.. صاحب… کو جہاں چپ کی کفل لگی وہیں اسد صاحب نے سارا معاملہ.. اسکے گوش گزار کیا… جبکہ وہ.. چئیر پر جھولتے ہوئے سکون سے سب سن رہا تھا…
مطلب آپ لوگوں کی بیٹی بھاگ گئ ہے… تو پہلے یہ بتا دیں.. کوئ عاشق…”؟
اسنے جیسے جان بوجھ کر… رضا صاحب کے دل میں تیر پیوست کیا…
وہ ایسی نہیں ہے” وہ جیسے ہارے ہوئے لہجے میں بولے….
دیکھیے سر…. آپ ریپورٹ درج کریں…. وہ شام سے غائب ہے.. “فیضان بھی شاہ میر کے سرد لہجے پر کچھ تلملایا جبکہ وہ انکی تلملاہٹ سے حظ اٹھا رہا تھا…
صفدر درج کرو ریپورٹ… جب ملے گی.. تو آپ لوگوں کو اطلاع کر دی جائے گی “اسنے لاپرواہی سے کہا اور اپنی چئیر سے.. آٹھ… گیا…
وہ تینوں میں سے ابھی کوئ کچھ کہتا ہی کہ.. کوئ آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوا…
کہاں ہے… حرم” اسکی آواز خاصی بلند تھی شاہ میر نے.. تیوری چڑھا کر… اسکی جانب دیکھا…
آبان بھائ.. حرم ابھی تک نہیں ملی..” فیضان نے… جلدی سے آنے والے کو.. مخاطب کیا….
تو آبان ایڑیوں کے بل شاہ میر کی جانب گھوما…
ڈاکٹر آبان مرضا…. “اسنے شاہ میر سے اپنا تعارف کرایا…
مگر شاہ میر اسکی آنکھوں میں چھپی حرم کو گھورتا رہ گیا….
سر… آپکو رپورٹ لکھوا دی ہے.. آپ نے اب تک کوئ کروائ نہیں کی” شاہ میر کا انداز اگنور کر کے.. وہ… بے چینی سے بولا…
اسکے انداز میں تڑپ تھی… شدید تڑپ…
مسٹر آبان آپکو مجھے سیکھانے کی ضرورت نہیں ہے میں خود اپنا کام سمھجہ سکتا ہوں…” شاہ میر تڑخ کر بولا…
مسٹر شاہ میر مجھے آپ اپنی ڈیوٹی کرتے ہوئے نظر نہیں آ رہے خیر میں آپ سے. مزید بات نہیں کرنا چاہو گا” وہ کہ کر.. وہاں سے باہر نکلا.. اور.. کال پر بات کرنے لگا…
جبکہ شاہ میر.. کچھ سوچ رہا تھا.. یہ کہاں سے آ گیا تھا اور کون تھا… وہ ایک لمہے کے لیے یہ سب سمھجہ نہیں پا رہا تھا…
اور جیسے ہی آبان کا سیل بند ہوا ؛… وہیں .. صفدر کا فون بجا…
اور.. منیسٹر کی کال.. پر اسنے شاہ میر کو موبائل دیا..
اور نہ چاہتے ہوئے بھی شاہ میر کو حرکت میں آنا پڑا.. مگر یہ آبان نامی بلا… ضرور شاہ میر کی آنکھ میں پھنس گئ تھی….
………….. .
اس کیس کو حل کرتے کرتے.. اسے صبح ہو چکی تھی.. مگر… انھیں نہ… حرم ملنی تھی اور نہ ملی…
اسی دوران وہ شہروز کو اطلاع کر چکا تھا کہ وہ ایک کیس میں پھنسا ہے تبھی گھر کی فکر ختم ہوئ.. اور اسنے… صبح دس بجے شاہ پیلس میں قدم رکھا.. تو ملازمہ اب بھی وہیں کھڑی تھی جبکہ حرم صوفے پر سکڑی سیمٹی پڑی تھی…
؛ اسے ایک جھٹکا سا لگا… اور وہ ان تک پہنچا…
سکینہ جو نیندوں میں جھول رہی تھی… اچانک ہوش میں آئ…
کچھ کھانے کو دیا تھا”وہ حرم کی صورت دیکھتے ہوئے سکینہ سے پوچھنے لگا…
ن… نہیں صاحب وہ روے جا رہی تھیں تو آپ نے منع کیاتھا اسی لیے ام نے کچھ نہیں دیا” سکینہ نے جلدی جلدی اسے بتایا تو.. اسنے سکینہ کو ایک زبردست گھوری لگائ..
دفع ہو جاو “ایکدم.. اسکے چیخنے پر وہ.. یکدم غائب ہوئ…
تو وہ.. حرم کے وجود کو.. اپنے مظبوط بازوں میں سختی سے جکڑ کر… اوپر اپنے روم کی جانب چل دیا….
حرم کا وجود.. اتنا ہلکا تھا.. اسے.. اسکا وزن محسوس بھی نہ ہوا.. مگر آبان.. شاہ میر کی آنکھوں میں گھوم رہا تھا…
اسے بیڈ پر لیٹا کر وہ خود واشروم میں چلا گیا… اور پھر فریش ہو کر… وہ باہر آیا تو.. حرم اسی طرح پڑی تھی جس طرح…
شاہ میر اسے لیٹا گیا تھا…
وہ بغیر نوٹس لیے.. پورے استحقاق سے.. اسکے پہلو میں لیٹا…
جیسے.. اپنے کسی خیال میں آبان کو اچھی طرح جتا دیا ہو.. اور جلد ہی.. آگے کے بارے میں سوچتے سوچتے… اسکو نیند آ گئ…
……………..
خان ہاوس.. میں جیسے قیامت کی رات گزر چکی تھی….
کہاں ہو گی میری بچی کس حال میں ہو گی. “زرینہ.. مسلسل روے جا رہی تھی…
جبکہ آبان بے چینی سے… لاونج میں ٹہل رہا تھا اور اسی طرح سب اپنی اپنی جگہ… حرم کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے…
اسکو کچھ ہو گیا تو…” فیضان کے بولنے پر آبان نے.. فیضان کو گھور کر دیکھا….
میرا مطلب… “جبکہ فیضان سٹپٹا گیا….
اسے ٹھیک ہونا چاہیے.. ورنہ… میں کسی کو زندہ نہیں چھوڑو گا.. “وہ غصے کی کیفیت میں چلایا…
اس وقت سب سے زیادہ فکر کی بات… حرم کی طبعیت تھی…. بچپن سے ہی اسکے ساتھ… دل کا مسئلہ رہا تھا یا یہ کہنا زیادہ مناسب تھا کہ وہ دل کے مرض کا شکار تھی.. اسکے دل کا سائز عام سائز سے بڑھا ہوا تھا
.. اسی بنا پر وہ حد سے زیادہ.. نازک اور کمزور مزاج تھی…
اور گھر بھر کی لاڈلی خاص طور پر آبان.. جس کی جان…
حرم میں بستی تھی…
مگر.. اب اسکی حرم اسکے پاس نہیں تھی اور یہ ہی بات.. اسکو انگاروں پر گھسیٹ رہی تھی…
….. مل جائے گی… میری بچی… تم لوگ.. ایسی باتیں نہ کرو “اسد صاحب بولے تو… سب خاموش ہو گئے جبکہ… رضا صاحب کی اندرونی کیفیت.. کا کوئ انداز نہیں لگا سکتا تھا