Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 26
Rate this Novel
Episode 26
صفدر سے گھر کی چابی لے کر… وہ شاہ پیلس میں آ گئ تھی.. یہ آ کر.. ایک تحافظ کا احساس تھا… ایسا لگتا تھا جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو.. اسکے پاس ہو اسکے اردگرد ہو…
مگر حرم کا دل بوجھل سا تھا…. شاہ میر اسکے لیے جخاص تھا مگر وہاں.. خان ہاوس میں اور بھی لوگ تھے.. جن کو ناراض کر کے اسے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا…
اسنے صفدر کو شاہ میر کو اپنی یہاں موجودگی کے بارے میں بتانے سے سختی سے روکا تھا.. اور فیضان کو بھی کہ.. وہ وہاں گھر میں بھی کسی کو اسکی شاہ پیلس میں موجودگی کا نہ بتائے…
شاہ پیلس میں ملازم اسی طرح.. اپنے کام وقت پر کر رہے تھے جس. طرح.. پہلے کرتے تھے…
جبکہ اسے سکینہ کہیں دیکھائ نہ دی…
مگر وہ شاہ پیلس کو اپنا گھر مانتی تھی.. تبھی وہ
اپنے روم میں… بیٹھی شاہ میر کے… کپڑوں کو بیڈ پر پھیلانے دیکھے جا رہی تھی…
وہ بلیک شرٹ میں اچھا لگتا ہے “اسکی آنکھ سے آنسو ٹپکا… کاش پھر سے سب ٹھیک ہو جائے…
اسکے پرفیوم روم میں سپرے کرتے ہوئے وہ اسکی خوشبو میں جیسے نہاتی جا رہی تھی….
اسکی ایک شرٹ کو اپنی. بازوں میں جکڑے.. وہ اسکے پرفیوم کی سہرے.. فضا میں کرتی… اس خوشبو.. کو جیسے وجود مین اترنا چاہ رہی تھی..
مان جاو میر “وہ نیچے بیٹھ کر اسکی شرٹ کے کلر پر.. اپنے لب رکھ گئ.. جبکہ چہرہ سرخ ہو گیا….
باہر… چاند کو دیکھتے ہوئے وہ.. گزرنے والے دو دن کو سوچ رہی تھی..
وہ دو دن سے یہاں تھی.. کیا اسے یہ بات پتہ ہو گی..
…………………….
آپ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں حرم دوبارہ چلی گئ” آبان کا پارہ رضا پر شدید ہائ ہوا..
وہ اپنے گھر چلی گئ ہے آبان.. اور وہ ٹھیک گئ ہے… اس کی جگہ وہیں ہے.. اسے اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہیے” رضا نے.. سختی سے کہا… اسکا چیڑنے کا انداز انھیں ایک آنکھ نہ بھیا.. جبکہ زرینہ بھی خاموش تھیں.. جیسے رضا کے فیصلے سے متفق ہو.. جہاں وہ خوش تھی وہ تو وہیں.. خوش تھیں…
گریٹ.. اتنی محنت سے… اسے یہاں دوبارہ لایا.. اور آپ کتنے سکون سے یہ بات کہہ رہے ہیں…” وہ دھاڑا.. تو رضا نے غصے سے اسکی جانب دیکھا…
چاہ کیا رہے ہو تم.. رہا سہا اس گھر کا سکون بھی گارت کر دوں.. میں اب سب ٹھیک کرنا چاہتا ہوں…” رضا بولے… تو آبان.. تالی بجاتا طنزیہ مسکراہٹ سے ان تک پہنچا…
مطلب.. سو چوہے کہا کر.. آج بیلی میڈیم کو ححج کی سوجی ہے..” وہ نفرت سے بولا..
زبان سمبھالو اپنی” رضا غصے سے چلایے..
ابے چپ کر بڈھے” اسنے انھیں دوبارہ گریبان سے پکڑ کر صوفے پر دھکہ دی آ.. زرینہ تو یہ منظر دیکھ دنگ رہ گئ…
تیری وہ مریضہ بیٹی میری زندگی کے لیے بہت ضروری ہے…” وہ اپنی اصلیت دیکھتا.. ان کے منہ پر پھنکارہ..
تمھاری باتوں میں مجھے انا ہی نہیں چاہیے تھا.. تو یہ ہے تمھارا اصل روپ” وہ اسکا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹانے لگے..
ہاں یہ ہے میرا روپ.. تیری بیٹی کو بیچنا چاہتا ہون میں.. اور وہ نہ ملی تو تو.. اور یہ تیری بیوی… دونوں… زندہ نہین بچو گے” وہ انکا جبڑا پکڑتا.. پھنکارہ….
اصلیت تو وہ انہر واضح کر چکا تھا.. مگر وہ اان دونوں بڈھا بڈھی کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا تھا…
کھڑا ہو” اسنے رضا کو اٹھایا.. اسوقت گھر پر فواد.. کی فیملی موجود نہ تھی.. تبھی وہ شیر ہہو رہا تھا..
چھوڑو آبان “زرینہ نے رضا کا گریبان چھوڑا آ چاہا.. کہ اسنے انکے منہ پر بغیر لحاظ کے چماٹ مار دیا..
چپ کر “اور وہ دونوں کو کھنچتا… انکو انکے روم مین لے گیا.. رضا نے لاکھ خود کو چھڑانے کی کوشش کی…
مگر وہ ایک جوان مرد کا مقابلہ اس عمر مین نہیں کر پا رہے تھے.. انھیں حیرت تھی..
یہ وہ.. لڑکا ہے.. جیسے وہ اپنی فیملی کا حصہ سمجھتے رہے…
آبان انکو انکے روم مین باندھ کر منہ پر ٹیپ لگا کر .. آگے سے لوک لگا چکا تھا….
اگر کوئ آتا تو.. وہ کوئ بھی جھوٹ بول دیتا.. مگر حرم ایک بار پھر اسکے چنگل سے نکل چکی تھی… وہ… بھنا ہی گیا تھا….
………………..
او شاہ میر “کمشنر صاحب خود آٹھ کر اس سے ملے..
جو سنجیدہ اور.. بے تاثر تھا..
ویسے میں خود آ جاتا مگر… افسوس…. میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی…” انھوں نے.. آج اسے اپنے گھر بلایا.. تھا تبھی معزرت کرتے ہویے بولے.. وہ کچھ نہ بولا…
کیا لو گے.. چائے پانی کوئ چیز “انھوں نے پوچھا.. تو وہ نفی میں گردن ہلا گیا….
ڈیڈ.. کسی بھی مہمان سے پوچھتے نہیں ہے یار… بس صرف کرتے ہیں”انگریزی لبوں لہجے میں انگریزی جواب اسے اپنے عقب سے آیا….
اسنے گردن موڑ کر دیکھا…
وہ ایک پیاری سے لڑکی….
کیجول ڈریس مین ٹرالی کھینچتی اندر لا رہی تھی..
شاہ میر… نے نظروں کا زاویہ بدلا…
میری بیٹی ہے.. نیویورک میں ہوتی ہے.. وہیں.. پلی بڑھی ہے.. اپنی دادی کے پاس تبھی… اردو نہیں جانتی “انھون نے مسکرا کر.. اپنی بیٹی کو دیکھا… شاہ میر اب بھی بے تاثر ہی رہا…
مگر مجھے اردو سمھج آتی ہے ڈیڈ” وہ اب بھی انگلش مین بولی.. تو وہ ہنس دیے…
جبکہ شاہ میر. اکتاہٹ کا شکار تھا…
ہاو مچ شوگر “اسنے پوچھا.. تو شاہ میر نے نفی کی…
میں شوگر نہیں لیتا…” اسنے کہا… تو.. لڑکی نے شانے اچکا کر.. کافی کا کپ اسکے ہاتھ میں دیا…
سر آپ نے مجھے کسی خاص کام کے تہت یاد کیا تھا…”وہ بولا تو انھوں نے کافی کے سپ لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا..
یہ فائل ہے.. اسے سٹڈی کرو….
یہ تصویر بھی ہے اس میں…
نام ڈاکٹر ابان…. یہ اتنے مہزہب پیشے سے جوڑنے کے باوجود…
لڑکیوں کی سمگلنگ کرتا ہے…” انھوں نے جیسے اسکے سر پر بم پھوڑا..
اسنے جھٹ تصویر کھول کر دیکھی.. اور اپنی مٹھیاں بینچ کر رہ گیا….
آر یو اوکے” وہ لڑکی اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگی..
مگر شاہ میر نے نظریں نہ ہٹائ..
وہ اسکے اتنی قریب تھا.. پھر بھی وہ کچھ جان نا پایا…
کمشنر اب بھی بول رہے تھے.. مگر.. وہ.. تو.. ابان کی تصویر مٹھی میں دبوچ چکا تھا..
سامنے بیٹھی لڑکی نے.. حیرت سے اسے دیکھا…
اور تمھارے ساتھ اس کیس.. میں..
Isi agentصنم ہیلپ کریں.. گئیں… “اسنے اپنی بیٹی کیطرف اشارہ کیا…
مگر مجھے کسی کی ہیلپ کی ضرورت نہیں” وہ بولا.. اور اٹھا..
اس کے پیچھے بہت بڑے بڑے گینگسٹرز کا ہاتھ ہے.. تمھین.. خوفیہ پولیس کی ضرورت پڑ سکتی ہے “انھوں نے جیسے ہتمی انداز مین کہا.. وہ اس لڑکی کی صورت دیکھ کر رہ گیا…
جو سنجیدہ تھی…
تم چاہو تو کیس سٹڈی کر سکتے ہو… “انھوں نے کہا.. تو… وہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کر سکا…
یہ پہلا کیس ہو گا صنم کا.. تمھارے ساتھ.. اٹیچ کرنے کا مقصد یہ ہی ہے کہ وہ تم سے کچھ سیکھ سکے” انھوں نے کہا… تو وہ سر ہلا گیا..
اب وہ کمشنر کی بیٹی… کو برداشت کر کے مزید اپنی برداشت آزما رہا تھا….
گڈ لک..” انکے کہنے پر صنم نے جھک کر.. ان سے ماتھے پر پیار لیا.. اور شاہ میر کے ساتھ باہر آ گئ… .
دوپہر دو کا وقت تھا..
تمھارا نام کیا ہے “صنم نے اس پرکشش شخص کو دیکھا…
سر “اسنے سنجیدگی سے کہا.. اور گاگلز… اپنی آنکھوں پر لگا کر وہ باہر گاڑی کیطرف بڑھا…
واو” صنم کافی ایمپریس ہوئ… اتنا اکڑو آدمی تو اسنے پہلی بار دیکھا تھا…
وہ بھی اسکی گاڑی مین بیٹھ گئ…
جبکہ شاہ میر نے گاڑی سٹارٹ کر لی…
مجھے اپنی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے.. میں اپنی ٹیم میں اضافہ نہیں چاہتا.. اور نہ مجھے کسی خو”فیہ ایجنٹ کی ضرورت ہے “وہ انگلش میں سنجیدگی سے اس سے بات کر رہا تھا…
اوکے.. تو سر آپ اوور کونفیڈینٹ ہیں.. جو آدمی.. پیچھے. پانچ سال سے.. یہ کاروبار کر رہا ہے.. آپ کے شہر مین رہتے ہوئے.. آپ اسے.. پکڑ نہ سکے..
اور آپ کو پانی ٹیم پر بھروسہ ہے سٹرینج..
بائے دا وے. یہ ڈیٹیل میری کولیٹ کی ہوئ ہیں”اسنے انگریزی میں ہی ٹکا سا جواب دیا.. شاہ میر دانت پیس کر رہ گیا.. ہاں یہ غلطی اسی کی تھی کہ وہ.. اس نیچ کو پہچان نہ سکا….
مجھے اپنے کام مین زیادہ بولنے والے لوگ پسند نہیں..” شاہ میر نے اسکو گھورا…
آپ گھور کر مجھے دبانا چاہتے ہیں.. مسٹر اوور کونفیڈینٹ”اب وہ زیادہ پھیل رہی تھی…
شاہ میر نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی..
گیٹ اوٹ”وہ.. سختی سے بول ؛..
وٹ…” وہ حیران ہوئ…
اردو میں دفع ہو جاو…. کیب لو.. اور پہنچو.. اس ایڈریس پر جو میرا.. پی اے تمھیں سینڈ کرے” وہ.. ملے جھلے لہجے مین بول آ..
صنم کا چہرہ خفت سے سرخ پڑ گیا…
وہ.. گاری سے باہر نکل گی جبکہ وہ شن سے گاڑی بڑھا لے گیا..
انمینرڈ”وہ پیر پٹخ کر.. کیب. کا ویٹ کرنے لگی.. چند سیکینڈذ.. مین ہی ایک لوکیشن اسے سینڈ کر دی گئ تھی….
……………..
صفدر… “شاہ پیلس کے.. سامنے.. کھرا.. وہ صفدر کو پکارنے لگا.. جو فق چہرے سے.. ارد گرد دیکھ رہا تھا…
کیا مسئلہ ہے تمھارے ساتھ “اسنے اپنی ٹیم کی میٹنگ شاہ پیلس میں رکھی تھی
جبکہ صفدر.. پریشان ہو اٹھا تھا.. وہ حرم کی موجودگی کے بارے مین.. جان گیا تو.. لازمی…
اسکا بینڈ بجا دے گا…
س.. سر.. ہم یہان میٹنگ کریں گے”…
کیوں کیا مسلی یے “وہ.. اکھر کر بولا…
میرا مطلب”
شیٹ آپ “اسنے ٹوک دیا.. اتنے مین ایک کیب آ کر روکی اسنے گالز کے پیچھے سے اس لڑکی کو دیکھا.. جو غصے مین دکھ رہی تھی…
اسکے علاوہ بھی وہاں باقی ممبران آ گئے…
چوکیدار نے دروازہ کھولا…
صفدر مرے مرے قدموں سے اندر بڑھا…
جبکہ جس طرھ مر مر کر وہ چل رہا تھا.. صنم اس مین آ کر زور سے بجی..
یو میڈ.. یہاں سب پاگل ہین کیا “وہ چلائ.. شاہ میر نے ناگواری سے پلٹ کر دیکھا..
سوری میم” صفدر شرمندہ ہوا…
ساری ٹیم کو لاونج میں ویٹ.. کرنے کا.. اور اس کیس کو ریڈ کرنے کا کہہ کر.. وہ خود فریش ہونے کے لیے جیسے ہی اپنے روم کیطرف بڑھا..
صفدر.. کسی جن کیطرح اسکے آگے آیا..
سر.. یہاں نیچے ہی. فریش ہو جائیں.. پھر ہمیں لیٹ نہیں ہو گا…” وہ.. ہچکچاتے ہوئے بولا..
شاہ میر نے.. گھور کر اسے دیکھا..
تم خوش ہو جاو…” وہ التے قدموں اسی طرح پلٹ گیا..
اور اپنی یونیفارم کو.. کیجول لوک دینے لگا..
وہ پہلے یونی فارم میں اتنا ڈیشنگ لگ رہا تھ آ.. اب اسے کیجول لوک دیتا ہوا.. تو اور بھی جان لیوا لگنے لگا.. اوپری دو بٹن کھول کر.. اسنے.. بازو فولڈ کیے..
اور کیس فائل کو ہاتھوں میں دبائے.. اس فائل پر کم اور اسپر زیادہ توجہ دیتی اس لڑکی کے ہاتھ سے اسنے فایل کھینچی…
اور.. آبان کے گھر کا اڈریس.. دیکھنے لگا.. جو.. شہر سے کافی دور تھا…
وہ اب سب کے آئڈیز لے رہا تھا جبکہ اسکے سامنے سب تار کیطرح سیدھے اپنی اپنی رائے دے رہے تھے..
اب اسنے صنم کیطرف دیکھا.. جو اسکو گھور رہی تھی..
مس خوفیہ پولیس.. آپ کے کیا کہنے ہیں”وہ طنزیہ بولا.. تو صنم ہوش میں آئ…
آپ لوگوں سے تو زیادہ اچھے کہنے ہین میرے..” وہ منہ بگاڑ کر بولی… شاہ میر نے ضبط سے فائل ٹیبل پر پٹخی. . اور اسکی جانب دیکھا..
اول تو آپ اس کیس سے غیر حاضر ہیں.. “وہ شروع ہوئ.. سب کے چہرون کی دبی دبی مسکراہٹ شاہ میر نے خونخوار نظروں سے سب کو دیکھا… جو فوراً سیدھے ہویے..
اب بات یہ ہے.. کہ ڈیڈ نے جب.. آپکو…
کام کی بات کرو” اسنے بیچ میں ٹوکا..
یہ کام کی بات ہے “وہ غصہ ہوئ…
اس سے پہلے سے ہی مین اس آدمی کو فوکس کر رہی ہوں..
تو جس سے مجھے.. بس اتنا معلوم ہوا ہے.. یہ بندہ.. اپنے گھر پر نہین پایا جاتا. جو اسکا اڈریس ہے…
وہاں یہ نہیں ہوتا… “
کیا فضول بات ہے.” شاہ میر نے. تیوری چڑھائے..
یہ فضول بات نہیں ہے..
اسکے گھر کا.. میٹر… پیچھلے سال سے بند ہے.. جبکہ.. اسکی لوکیشن اسی گھر کی ہے جو کچی آبادی میں ہے.. “وہ چیڑ کر بولی..
تو شاہ میر نے اسکی ریسرچ کو دل میں سہرایا ضرور مگر.. زبان پر نہ لایا…
تو.. کہاں ہو سکتا ہے.. یہ..” اسنے سوچا.. اور پھر.. ایک اور گھر.. اسکے دماع می( کلک ہوا..
اوکے.. جس گھر کا میں ایڈریس دیتا ہوں.. شام تک اسے ٹریس کرو.. اگر یہاں وہاں دیکھو.. اور جس ڈیورینگ میں دیکھے.. سب سے پہلے انفارم کرنا.. اور گگر کے باقی لوگون ہر بھی توجہ رکھنا” اسنے سپاٹ سے انداز میں کہا..
تو سب نے.. سر ہلایا…
کچھ کھا کر جائیے گا سب..” اسنے ایک نظر سب پر ڈالی..
میں دشمنوں کے گھر نہیں کھاتی “صنم نے.. گھور کر اسکو دیکھا جبکہ.. وہ شانے اچکا گیا.. باقی سب انکو حیرت سے دیکھ رہے تھے..
وہ ٹک ٹک کرتی باہر نکل گئ..
جبکہ صفدر.. اب بھی اوپر دیکھ رہا تھا..
پھر اسنے شاہ میر کو دیکھا. جس نے آبان کی تصویر کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا…
اور اٹھا کہ اسک سیل بجا…
اوکے میں آتا ہوں”اسنے کہا..
اور. سب ہی ر الوداعی نظر ڈال کر نکل گیا… جبکہ صفدر نے سوکھ کا سانس لیا…
…………………
شاہ میر…” اماں.. بخار میں اسکو پکار رہیں تھیں…
وہ جب انکے روم میں آیا تو.. شانزے کو روتے ہوئے جبکہ.. ونیزے کو انکے سر ہر پٹیاں رکھتا پایا.. شہروز شاید خوب پر تھا..
اماں” وہ انکے نزدیک گیا…
شاہ میر… “اماں نے.. اسکا چہرہ تھاما..
میرا بچہ…” وہ اسکے ہاتھ چومنے لگین.. وہ چار دن سے گھر نہین آیا.. تھا.. اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا…
اپنے آپ کو یون تکلیف نہ دو.. شاہ میر” انھون نے.. اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں مین بھرا..
آپ یہ بھی کہ رہی ہین اور اپنی حالت سے مجھے تکلیف بھی پہنچا رہی ہیں”اسنے انکا ماتھا چوما…
میں بلکل ٹھیک ہوں.. “وہ مسکرا دیں..
یہ تو اچھی بات ہے..” وہ بغیر مسکرائیے انکو دیکھنے لگا..
کھانا. کھایا ہے اماں نے “اسنے ونیزے کو دیکھا..
نہیں… “اسنے نفی کی..
اوکے آپ لا دیں” اسنے کاہ تو ونیزے نے اثبات میں سر ہلایا..
شانزے تم بھی بیٹھو.. ہلکان نہ ہو.. اماں ٹھیک ہو جائیں گی “ونیزے نے کہا تو.. شانزے اماں سے لگ کر بیٹھ گئ…
شاہ میر ابھی ان سے ہلکی پھلکی بات کر رہا تھا کہ فون کی بیپ بجنے لگی..
ہاں بولو فواد… “اسنے کہا..
تو یار گھر آ جاو. “وہ بولا..
اوکے.. مین ویٹ کر رہا ہوں.. اسنے کہہ کر فون رکھا..
اماں… مین آتا ہوں” اسنے ایک بار پھر انکے ہاتھوں کو عقیدت سے چوما اور باہر نکل گیا.. فواد بھی تب تک آ چکا تھا..
وہ دونوں.. ڈارینگ روم مین بیٹھ گیت اور ونیزے انھین کافی کے کپ دے گئ..
وہ یار.. ایک بات کرنی تھی” فواد نے کہا..
ہان بولو “شاہ میر اسی کیطرف متوجہ تھا..
یار وہ.. میں شانزے کو.. میرا مطلب اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں.. “فواد نے کہا تو.. شاہ میر نے کہ سائیڈ ہر رکھا…
دیکھو فواد ابھی صرف بات پکی ہوئ ہے.. اور میری بہن ایمچیور ہے.. مین نہیں چاہو گا.. کہ کسی مظبوط رشتے سے پہلے.. تم اسے یوں لےکر گھومو” اسنے مناسب لفظوں میں جوب دیا..
کیا یار… مودرن زمانہ ہے.. اور.. ویسے بھی کہہ تو ایسے رہے ہو.. جیسے تم نے حرم بھابھی.”
شیٹ آپ.. فواد.. لاحظ کر رہا ہون تو سر پر مت چڑھو “وہ ناگواری سے بولا.. فواد نے اسکے تلخ لہجے پر غصے سے دیکھا..
میں سچ کہہ رہا ہون کڑوا کیوں لگ رہا ہے..
خیر.. مما.. منگنی کی نہیں شادی کی ڈیٹ فیکس کرننے آئیں گی “وہ بولا.. تو شاہ میر نے اسے گھورا…
میں نے تمھین کہا تھا شادی اسکی پڑھائ پوری ہونے سے پہلے نہین ہو گی”
میرے پاس کر لے گی پڑھائ پوری “وہ بول کر اٹھا.. شاہ میر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا…
چلتا ہو” اسنے ہاتھ بڑھایا..
چلے ہی جاو “وہ سختی سے بول کر.. وہاں سے آٹھ کر چلا گیا.. لحاظ نام کی چیز نہین اس بندے مین “فواد نے سوچا.. اور خود بھی چلا گیا..
……………….
فیضان.. انکے گھر کے دروازے کے باہر کھڑا… یہ ہی سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے.. موم ڈیڈ تو.. اپنے فرینڈ کے بیٹے کی شادی پر.. کراچی گیے ہوے تھے.. اور دو ہفتوں بعد.. انا تھا.. تب وہ شانزے کا سوال لے کر اسکے گھر جاتے مگر وہ پہلے ایسا ماحول بنان چاہتا تھا.. جو کہ… اسکے مان باپ کو انکار کی شکل نہ دیکھیے..
اور اپنے گھر جانا تو اسنے کافی ٹائم سے چھوتا ہوا تھا.. وہ ان اسکا دم گھٹتا تھا…
اسنے دروازہ بجایا مگر ھیرت تھی دروازہ کھلا تھا.. وہ اندر آ گیا…
تم… “شاہ میر کی گرج پر اسکی ٹانگین کانپی ..
یہاں کای جر رہے ہو” وہ چلایا..
فیضان نے.. کمرے سے نکلتی اس خاتون کو دیکھا.. جس کی طبعیت شاید ٹھیک نہیں تھی…
مین میں اپنی چاچی کے گھر آیا ہوں آپکو کوی مسلی ہے.. “وہ جھجھکتے ہوئے بولا.. شاہ میر تو اس رشتے پر عش عش کر اٹھا جبکہ شانزے حیران رہ گئ.. اور امان بھی اسی کی جانب دیکھ رہی تھی..
سلام چچی جان” وہ انکے نزدیک گیا..
دیکھیں پلیز آپ اپنے جلاد بیٹے سے بچا لین ورنہ وہ میری ہدیون کا قیمہ بن؛. دے گا.. پلیز”وہ.. اماں کے نزدیک جھک کر بے چارگی سے بولا..
تیری ہمت اتنی “شاہ میر اسکی جانب لپک کر. اسکی شرٹ دبوچ چکا تھا…
شاہ میر” اماں نے پکارہ…
اسنے انکی جانب دیکھا.. چھوڑ دو است وہ مہمان ہے” انھون نے سنجیدگی سے کہا.. تو.. فیضان جہان چوڑا ہوا.. شاہ میر غصے سے کھول اٹھا…
او.. تمھاری خاطرمدارت کروں” اسنے اسی طرح اسکو جھتکے سے کھینچ کر صوفے ہر پٹخا.. …
فیضان کا دم نکل رہا تھا.. شانزے کو. اس سیریس سچویشن پر.. کافی ہنسی آ رہی تھی جبکہ ونیزے بھی.. اپنی مسکراہٹ چھپا چکی تھی..
تم اسے چھوڑو گے تو وہ بیٹھے گا” امان نے شاہ میر کو ٹوکا.. جو.. اب بے اسکی شرٹ دبوچے اسے نظروں سے ہی کھا جانے کا ارادہ رکھتا تھا..
شاہ میر نے اسے جھٹکے سے چھوڑا تو… تو وہ.. گیرا…
اور اپنی شرٹ ٹھیک کرتا کہ وہ اسکے ساتھ ہی بیتھ گیا.. تبھی شہروز بھی داخلہوا..
لالا” اسنے.. پکارہ.
او شہروز.. امان کے رشتے دار اییں ہیں.. خاطر مدارت کرو..” اسنے پکارہ تو.. شہروز.. شرٹ کے بازو چڑھاتا.. اس تک پہنچا.. اور اسکے برابر [ک گیا.. ایسے کے فیضان رو دینے کے قریب تھا..
فیضان نے حلق میں اٹکتا تھوک نگلا..
ہاے محبت.. کن گینڈوں میں پھنسا دیا” اسنے سوچا.. اور ونیزے نے.. اسکو.. چائے کا کپ اٹھا کر.. دیا.. جیسے شہروز نے اچک لیا..
پی کے آیا ہو گا اپنے گھر سے” وہ گھور کر بولا.. تو فیضان نے تابیداری سے سر ہلایا..
ونیزے پیچھے ہٹ گئ..
کیسے ہو بیٹا آپ “امان نے سوال کیا..
جبکہ فیضان کا دل کیا.. کہ دے رونا آ رہا ہے..
مگر ہمت سے بولنا چاہا.. کہ.. شاہ میر بول اٹھا..
ٹیڈ پھسلی ٹھیک ہی لگ رہا ہے اماں”وہ اسکے کندھے پر ہاتھ مارتا بولا.. جبکہ.. فیضاں.. کندحا سہلا کر رہ گیا..
اور فرمانبرداری سے سر ہلانے لگا..
بس بہت ہو گیا” اماں کو غصہ آیا..
ہٹو تم دونوں اسپر سے “وہ بولیں تو دونوں بربڑاتے ہوئے اٹھے..
دو منٹ میں اسے فارغ کرین.. ورنہ.. اپنی کوئ ہڈی ٹوٹوا لے گا.. “شہروز نے.. کہا اور دونوں آٹھ کر اپنے رومز مین چلے گئے.. جبکہ فیضان نے اپنا کب سے روکا سانس بھال کیا..
اماں اسے توجہ سے دیکھنے لگی جبکہ.. اب وہان ان دونوں کے سوا کوئ نہیں تھا..
تمھین یہان نہیں آنا چاہیے تھا..” انھوں نے کہا…
کیا جس رشتے سے مین آپکو پکار رہا ہوں آپ اسکو فوکیت دین گی” وہ اٹھ کر انکے قدموں میں بیٹھا…
کیا چاہتے ہو “امان نے.. اسکو دیکھا..
آپکی بیٹی کو…” وہ.. سر جھکائے بولا…
جبکہ اماں دل تھام گئیں.. جو جو وہ بتا رہا تھا کہہ رہا تھا.. وہ ماننا.. یہ منگوانا.. مشکل ترین تھا..
شاہ میر کبھی نہیں مانے گا” انھوں نے کہا… انکی ہر شرط مجھے منظور ہے” وہ بولا…
کھ|آ ہو “اچانک ابھرتی دھار پر وہ ایکدم اٹھا.. شاہ میر نے اسکا گریبان جکڑا..
اسکی منگنی ہو گی ہے. اور شادی ہونے والی ہے.. سنا آج تمیز سے کہہ دیا.. اگلی بار تیری صورت نہ دیکھے مجھے” وہ چلایا..
جس شخص مین آپکی بہن کی مرضی نہین آپ اسکے ساتھ اسے جوڑ رہے ہین.. “فیضان ہمت کرتا بولا جبکہ ایک مکہ بھی وہ کھا چکا تھا.. اماں جاموش ہی رہیں
تجھے الحان ہوئے ہین کہ اسکی مرضی تجھ میں ہے.. “شہروز نے.. اسکی شرٹ پکر کر دوسرا مکہ جڑا..
شانزے منہ ہر ہاتھ رکھے اسے پیٹتا دیکھ رہی تھی..
جبکہ فیضان نے آنسو صاف کیے..
میں اسے اپنی عزت سمجھتا ہون.. اور اسکے بھائیوں کے سامنے بھی کچھ اسکے بارے مین ایسا نہیں کہو گا…
میں اسے چاہتا ہون..” وہ بولا.. تو دونوں. اسپر تل پڑے.. جبکہ وہ اپنے بچاو کو کچھ نہین کر رہا تھا..
لالا رک جائیں خدا کا واسطہ آپ کو” اچانک شانزے چلائ…
شاہ میر نے اسکی جانب دیکھا..
میری پسند ہے.. “وہ سسکی..
شانزے” وہ دھاڑا..
رک جاو شاہ میر. “اماں نے ٹوکا..
مین اپنی بیٹی کو اس گھر مین نہیں بیاہوں گی..
اگر تم… یہاں میرے سامنے رہو گے.. تو مین کچھ سوچ سکتی ہوں”اماں نے کہا…
اماں یہ ناممکن ہے “شاہ میر نے قابو ہوا.. اماں نے اسکا ہاتھ تھاما..
مگر مین گھر جنوائ نہیں بننا چاہتا..
اس. تلے مین بڑا دم ہے.. چھوڑو گا نہین میں اسے “شہروز بھنایا…
ونیزے نے اسکو روکا…
تو پھر بھول جاو میری بیٹی کو…” امان نے ٹکا سا جواب دیا..
جس طرح آپ.. اپنی اولاد کو اہم ہین اسی طرح مجھے بھی میرے مان باپ اہم ہین.. انھیں چھوڑ نہیں سکتا میں.. مگر شانزے.. کو.. اپنی جان سے بھی زیادہ چاہو گا.. “وہ انکے قدموں میں بیٹھا.
میری شرط اتنی ہی ہے “امان نے کہا… اور شاہ میر کا ہاتھ جکڑ کر اندر چل دیں…
………………….
جاری ہے
