128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

یونیورسٹی میں کنوکیشن ڈے تھا۔ اور سیاسی لیڈرز کی اس فنکشن میں شمولیت کے باعث سیکیورٹی کی ضرورت تھی ۔ اسنے یہ تمام کام صفدر کے ذمے لگایا۔
“صفدر مجھے زبیر باجواہ سے ملنا ہے تم سیکیورٹی کنڑول کر لینا۔ ” اسنے فون پراسے اطلاع دی جس نے یس سرکہا تو شاہ میر نے فون بند کر دیا۔ اسکی زبیر باجواہ سے میٹنگ چار بجے تھی جبکہ ابھی ایک بجا تھا۔ شہروز اور شانزے بھی گھر پر تھے۔ فنکشن کی وجہ سے ان دونوں نے شام چھ بجے تک نکلنا تھا۔ اماں کچن میں تھیں تو وہ خاموشی سے سٹڈی میں آگیا۔
کچھ کیس کے بارے میں بھی الجھا ہوا تھا۔ کچھ رضا خان کی چہیتی بھتیجی نے بھی دماغ خراب کیا ہوا تھا۔ وہ نفرت سے اس لڑکی کے بارے میں سوچ کر رہ گیا۔ اسنے ایک فائل اٹھائ اور اپنی چئیر کی جانب آ گیا۔ جہاں ٹیبل پر پہلے سے ہی ایک فائل موجود تھی اسے یاد آیا کل ہی یہ فائل صفدر نے اسے دی تھی۔ وہ جانتا تھا خان ہاوس کے ایک ایک بندے کے بارے میں ڈیٹیل اس فائل میں موجود ہے ۔ مگر اب تک اسنے اس فائل کو نہیں کھولا تھا ۔ وہ کھولنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ جب جب رضا خان کا عکس اسکی ذہن کی سکرین پر ابھرتا یہ جب جب وہ انہیں اپنے مقابل پاتا۔
وہ اپنا آپ کسی بھڑکتی آگ میں جلتا محسوس کرتا۔ گزرے دنوں کی تلخیاں آج بھی اسکے لہجے میں گھولی ہوئیں تھیں ۔ وہ رضا خان کو ختم کردینا چاہتا تھا۔ بعض اوقات تو دل کرتا ایک بار ہی شوٹ کر کے اپنے سارے بدلے لے لے ۔۔۔ مگر ایک بار کی موت رضا خان کو وہ تکلیف نہیں دے سکتی تھی جو اتنی سی عمر میں اسنے سہی تھی ۔
جب سے رضا خان کو مقابل دیکھا تھا ایک آگ سی سینے میں بھڑک رہی تھی ۔
وہ فائل کو گھورتا جا رہا تھا ۔کہ دروازہ بجا اور شانزے اماں اور شہروز اندر داخل ہوے۔
شانزے کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں کوئ میٹھی چیز تھی ۔
“لالا ٹیسٹ کرِیں میں نے فرسٹ ٹائم میک کی ہے ۔”وہ بہت ایکسائٹیڈ لگ رہی تھی شاہ میر نے مسکراتے ہوے اسکے ہاتھ سےٹرےلے لی جس میں شاہی ٹکرے خوبصورتی سے سجے ہوے تھے۔ کچھ دیرپہلے کی تلخی اسکے چہرےسے غاِب تھی ۔
“لالا مت کھائیے گا ڈاکڑ کا خرچہ پڑے گا فضول میں “شہروز اپنی کٹوری سےانصاف کرتا ہوا بولا۔
“اف خدا کتنے گھنے میسنے ہو لالا آپ تیسری کٹوری کھا رہے ہو اور پھر بھی برائی کیے جا رہے ہو” شانزے نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا۔
“سہی کہہ رہی ہے شانزے شہروز تمھیں اچھا لگ رہا ہے تو تعریف کرو نہیں کرنی تو منہ بند رکھو رزق کی برائ نہیں کرتے “اماں نے اسے سختی سے کہا تو وہ منہ بسور کر رہ گیا جبکہ شانزے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ آج پھر سے اسنے شہروز کو ڈانٹ پڑوا دی تھی۔
“واہ بھئ زبردست” شاہ میرر نے ایک چمچ منہ میں ڈالا اور محبت سے شانزے کو دیکھا ۔
“مجھے نہیں پتا تھامیری زے اتنے مزے کا کھانا بناتی ہے انعام بنتا ہے تمھارا” اسنے کہتے ساتھ ہی ہزارکا نوٹ نکال کر شانزے کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ جو مارے خوشی کے اچھلنے ہی لگی تھی۔
“شاہ میرمت دیا کرو اسے یوں پیسے بہت فضول خرچ کرتی ہے” اماں نے اسے ٹوکا ۔
“کچھ نہیں ہوتا اماں سب اسی کا تو ہے “اسکی محبت لوٹاتی نظریں شانزے پر تھی جو شہروز کو نوٹ دیکھا دیکھا کر چیڑا رہی تھی۔
واہ لالا واہ مطلب کتنے بےایمان ہیں آپ مجھ پر تو نہ لوٹائے کبھی ہزار کے نوٹ “وہ کمر پر ہاتھ رکھے فل لڑائ کے موڈ میں تھا ۔ جبکہ شاہ میر اسکے انداز پر ہنس دیا اور اماں بھی۔
“یار تو نے کبھی کوئ ایسا کام کیا بھی تو نہیں “
“جی لالا آپ سر پر دوپٹہ لے کر اماں کے ساتھ کام میں مدد کرائیں پھر لالا سے پیسے لے لیا کریں ۔” شانزے ہنس ہنس کر دہوری ہو رہی تھی۔ ۔۔
“زے پے تم نے مجھے ماسی سمھجا ہے کیا” اسنے اسکی پونی گھورتے ہوے پکڑی۔ اور اسکا اچھا بھلا نام بگاڑ دیا
“اف لالا۔ ۔۔۔ اچھا سوری” اسنے جلدی سے کان پکڑے۔ ۔اسکا انداز اتنا معصوم تھا کہ شہروز کو بے اختیار اسپر پیار آیا اور یہی حال اماں اور شاہ میرکا بھی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔//////۔۔۔۔
“کیا پہن رہی ہو تم “ونیزے کی آواز ائیر پیس سے آ رہی تھی جبکہ وہ وارڈروپ کھولے کھڑی تھی
“نہیں سمھجھ آرہا مجھے “اسنے منہ بسورا
“ابھی پرسو ہی تو شوپنگ کی ہے تم نے “
“ہاں کی تو تھی مگر اب سب برا لگ رہا ہے “وہ بیڈ پر بیٹھ گئ۔
“خیر تمھارا تو یہی کام ہے ۔۔۔ میں تیار ہو رہی ہوں تم اور فیضان مجھے پک کر لینا” ونیزے نے کہتے ساتھ ہی فون بند کر دیا۔
جبکہ وہ تو رو دینے کو ہو گئ ۔
“کیا ہوا میرے چندا کو ایسے منہ پھولائے کیوں بیٹھا ہے” زرینہ جو ابھی ابھی اسکے روم میں آی تھی اسے ایسے بیٹھا دیکھ کر رونے کی وجہ پوچھنے لگی۔
“میرے پاس ڈریس نہیں میں کیا پہنوں گی “وہ سوں سوں کرتے ہوے بولی۔
“ابھی تو شوپنگ کی ہے آپ نے ” وہ اسکی وارڈروپ دیکھتے ہو بولی جس میں نت نئے ڈریسز موجود تھے ۔
“نہیں مجھے کچھ ڈفرنٹ چاہیے ۔
کچھ سب سے الگ ۔۔ کچھ ایسا کے سب دیکھتے رہ جائیں ۔ “وہ منہ بسورتے ہوے انھیں اپنی خواہش بتا رہی تھی
زرینہ اسکے زبردست خیال سن کر حیران رہ گئ ۔
پھر کچھ سوچتے ہوے بولی” میرے روم میں آو پھر”
اور وہ انکے ساتھ انکے روم میں چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” چاچی یہ یہ مجھ سے نہیں سمبھالی جاے گئ “وہ روہانسی ہو گئ۔
“چپ کرو بس” انھوں نے اسے ڈپٹا اور اسکے بال بنانے لگیں ۔ اس وقت وہ لیمن ریشمی ساڑھی میں اپنے ریشمی وجود کی تبہاکاریوں سمیت آفت لگ رہی تھی بلڈ ریڈ لیپسٹک ہونٹوں کوسرخ کلئ کی پتی کا شبہ دے رہے تھے کانوں میں بڑے بڑے آویزے ۔۔ہاتھوں میں بھری بھری چوڑیاں لیمن کلر کی پینسل ہیل ۔۔۔ وہ نقابل بیان سی لگ رہی تھی زرینہ اسے تیار کر کے خود ہی خوف کہا رہیں تھیں تبھی بار بار نظر اتار رہیں تھیں۔
جس نے بھی گھر میں اسے دیکھا ۔ دیکھتا ہی رہ گیا فیضان کا تو منہ ہی کھل گیا ۔ جبکہ وہ کھلکھلہ رہی تھی کہ جیسا وہ چاہتی تھی ویسا ہی ہو
رہا تھا۔
وہ اور فیضان ونیزے کو پک کرتے یونی پہنچ گئے ۔ ونیزے اپنے مخصوص حولیے میں حسن کا شہکار لگ رہی تھی ۔ ڈارک گرین پینٹ پر وائٹ شرٹ اور ڈارک گرین کوٹ میں وہ باکمال لگ رہی تھی چہرے پر کیا گیا میکپ اور بھی دلکشی بڑھا رہا تھا۔
“لُک ڈیفرنٹ ” پوری محفل سے ستائشی فقرے سن کر اسنے اشہد سے بھی وہی الفاظ سنے تو اکتا گئ۔ منہ بنا کر وہ سائیڈ میں ہو گئ جبکہ ونیزے سب سمھجتے ہوے ہنسنے لگی ۔
“کیا ہوا “وہ حیران ہوا
“کچھ نہیں تم اپنا کام جاری رکھو” ونیزے جوس کا گلاس لبوں سے لگاتی ہوی بولی۔
سٹوڈنس کو انکے انعامات دیئے جا رہے تھے ۔بڑی بڑی سیاسی حستیاں اس فنکشن پرمدو تھیں جس کے وجہ سے سیکرٹی بھی خوب تھی ۔ انعامات کا طویل سلسلہ ختم۔ ہونے کے بعد سب کو ڈنر دیا گیا۔ وہ اپنے فرینڈز کے ساتھ کھڑی تھی۔ کہ نظر سامنے کھڑے شاہ میر پر گئ ۔ جو ڈنر ڈریس میں بہت خوبرو لگ رہا تھا۔
وہ سر شہروز اور ساتھ میں ایک دو پروفیسرز تھے انکے ساتھ تھا۔
“یہ بھلہ یہاں کیا کر رہا ہے” وہ اسے دیکھ کر سوچتی رہ گئ۔ اور جب باقی پولیس احلکاروں پر نظر گئ تو اسے سب سمھجھ آ گیا وہ یہاں سیکیورٹی کی وجہ سے موجود ہے ۔ جبکہ حقیقت تو یہ تھی کہ شہروز زبردستی اسے اپنے ساتھ لایا تھا کہ زبیر صاحب نے میٹنگ کل پر ڈال دی تھی۔
“جانتے ہو اشہد یہ یہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے میں تم لوگوں سے نہ مل سکی” انکا تقریبا سارا گروپ کھڑا تھااسکے اشارے پر سب اس طرف متوجہ ہوے ۔ جبکہ فیضان کی نظریں تو جیسے کسی منظر پرسے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں۔
شانزے پیچ سٹائلش شرٹ پجامے میں بہت پیاری اور کیوٹ سی لگ رہی تھی ۔
“اہ پہلے بتاتی میں کرتا ہوں اسکا دماغ درست” اشہد غصے سے بولا۔
“نہیں اشہد وہ پولیس والا ہے”
“اف حرم تم انوسنٹ ہو ۔۔۔ مگر تم۔ مجھے نہیں جانتی میرے ڈیڈی کے آگے یہ پولیس والے دم ہلاتے پھیرتے ہیں” وہ سیاستدان مرزا کا بیٹا تھا غرورسے بولا۔
“اور ویسے بھی ۔ان کا کام ہماری خدمت کرنا ہے زرا انکی اوقات یاد دلا دوں میں میرے ساتھ چلو تم بھی ” وہ اسے گھسیٹتا ہوا گروپ سے نکال لایا وہ خود بھی اس مغرور پولیس والے کا دماغ ٹھکانے لگانا چاہتی تھی ۔
اشہد نے اسکے کان میں کچھ کہا ۔ جس پر سر ہلاتی ہوئ ۔ آگے بڑھ گئ ۔جہاں اب شاہ میر اکیلا کھڑاتھا۔ ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا ۔ وہ تیز تیز چلتی جان بوجھ کر اس سے ٹکرائ۔
جوس سارا ان دونوں کے کپڑوں کو خراب کر گیا۔
” اندھی ہو تم ” شاہ میر اسے کھانے کو دوڑا ۔ جس نے اتنے ہلکے رنگ کی ساڑھی ڈالی ہوئ تھی کہ جوس گیرنے کی وجہ سے اسکا وجود صاف واضحے ہو رہا تھا شاہ میر کو اسکا حولیہ دیکھ کر مزید تپ چڑھ گئ جبکہ مقابل کی بےنیازی اپنے ہوشربا حسن پر کمال کی تھی۔
“تم اندھے ہو جب تمہیں ایک لڑکی آتی ہوئ نظر آ رہی تھی تو سائیڈ میں نہیں ہو سکتے تھے۔ “وہ اشہد کی پڑھائ ہوئ باتیں بول رہی تھی۔
“تمیز سے بات کرو” شاہ میر دھاڑا تو تقریبا لوگ انکی طرف متوجہ ہو گئے ۔
“کیوں چیخ رہے ہو بھئ۔ ۔۔۔ پولیس والوں کو تو عوام۔ کی خدمت کرنی چاہیے اور غالباً تم ہماری خدمت میں حاضر ہوے ہو اور خدمت گار اونچی آواز سے نہیں بولتے” اشہد نے ہتک امیز لہجے میں اتنے باعزت شوبے کا تجزیہ کیا تھا کے شاہ میر کا خون کھول اٹھا ۔ اسنے اشہد کا وہی ہاتھ جو اسنے اسکے کندھے پر پھیلایا تھا پکڑ کر موڑا اور مارے تیش کے وہ ابھی وہ اسکے ہاتھ کی ہڈی توڑتا کہ صفدر دوڑ کر اس تک پہنچا ۔۔شہروز بھی دور سے یہ کاروائ دیکھ چکا تھا انکی طرف دوڑا ۔
“سر سر رہنے دیں پلیز ۔۔۔ یہ موقع نہیں ہے بہت کچھ بگڑ جائے گا” صفدر نے اسکے ہاتھ سے اشہد کا ہاتھ آزاد کرایا ۔اشہد کچھ خوفذدہ سا ہو گیا تھا مگر صفدر کی بات سن کر اس کا حوصلہ بلند ہوا ۔حرم دم سادھے اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ رہی تھی جو اسے ہی گھور رہا تھا۔
“لالا گھر چلتے ہیں “شہروزنے اسکا ہاتھ تھام۔ لیا جو مارے غصے کے کانپ رہا تھا ۔
“شانزے کو بولاو “
“جی آپ چلیں
صفدر لالا کے ساتھ رہو” اسنے صفدر کے کان میں ہدایت دی اوراشہد کو گھورا جو اپنی جان میں اکڑ رہا تھا جیسے شاہ میر اسکے باپ کے اثروسوخ سے خائف ہو کر یہاں سے نکلا ہے۔
ونیزے لبوں۔ پر مسکراہٹ لیے شہروز خان کو دور جاتا دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“صفدر مجھے وہ لڑکا چاہیے ابھی کے ابھی” وہ باآواز بلند چلایا
“یس سر “وہ جانتا تھا شاہ میر سے دشمنی لگانا خطرے سے خالی نہیں تھا پھر چاہے وہ اشہد مرزا سیاسی لیڈر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
“اور ساتھ میں وہ لڑکی بھی “
وہ مٹھیاں بھنچ کر جیسے ضبط کی انتہاوں پر تھا۔
“جیسا حکم۔ سر” وہ اسوقت شاہ پیلس میں تھا شہروز کی ہزار ضدکرنے پر بھی وہ اسکے ساتھ گھر نہیں گیا تھا۔ جب بھی اسکا ذہن منتشر ہوتا وہ شاہ پیلس کو اجاڑ دیتا ۔ اور یہاں موجود چیزوں پر غصہ نکل کر اسکے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑتے ورنہ ناجانے وہ کیا کر دیتا۔
صفدر اسکے حکم پر عمل کرنے کے لیے فوراباہر کی جانب دوڑا تھا۔
“نہیں نہیں حرم خان ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔” اسنے واس اٹھا کر دیوار پر دے مارا ۔
خاموشی میں کانچ کے ٹوٹنے کی آواز خوف طاری کر رہی تھی۔
تم۔ نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔۔ بہت غلط کیا ہے تم نے ۔۔۔۔ تمھارے چاچا نے بھی بہت غلط کیا تھا ۔ اب شاہ ضبط نہیں کرے گا وہ ایک ایک چیز کو اٹھا ٹھا کر پٹخ رہا تھا کچھ ہی دیر میں لاونج اجڑ بیابان لگ رہا تھا کچھ کانچ کے زرے اسکے ہاتھ کو بھی زخمی کر گے تھے۔
” اب بتاو گا میں تمھیں بھی اور تمھارے چاچا کو بھی شاہ میر خان اخر ہے کون “وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا۔ ضبط سے مٹھیاں بھنچ رکھی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا وجود پتے کی مانند لرز رہا تھا زہن کی سکرین پر سرخ دو آ نکھیں۔۔۔ اسے خوفذدہ کر رہی تھی وہ ۔۔ جلد از جلد گھر جانا چاہتی تھی ۔۔۔ کیونکہ اب اسے رونا آ رہا تھا نہ جانے کیوں۔۔۔ فیضان اور ونیزے ابھی اندر ہی تھے جبکہ وہ پارکینگ میں کھڑی گاڑی کا ڈور کھول رہی تھی ۔۔ ا
تم اتنی جلدی جا رہی ہو ۔۔۔چلو ہینگ اوٹ کرتے ہیں ” اشہد نے نرمی سے اسکے بازو پے ہاتھ پھیرہ ۔۔اور مسکرایا ۔۔ جبکہ حرم کو اسکا انداز بہت برا لگا ۔۔۔
ہٹو یہاں سے ” وہ غصے سے بولی ۔۔۔ اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔ خوف سے برا حال تھا ۔۔ وہ فل سپیڈ میں گاڑی آگے بھگانے لگی ۔۔جبکہ اشہد ۔۔۔ کی سوچ بھری نظریں اسپر تھیں ۔۔۔ وہ پلٹ کر دوبارہ یونی میں جانے ہی لگا تھا کہ کسی نے اسکے سر پر ۔۔ کوئ بھاری چیز ماری اور ۔۔ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا ۔۔ ۔۔
گاڑی ۔۔بہت تیز چل رہی تھی ۔۔جبکہ وہ ۔۔اپنی اس غلطی کی وجہ سے وہشت میں گھیری تھی
کہ اچانک گاڑی کے سامنے ۔۔۔ ۔ ایک گاڑی آ رکی ۔۔۔ اسنے ۔۔ بریک لگائ ۔۔۔ گاڑی سے ایک نقاب پوش ۔۔نکلا اور اسکی طرف بڑھا ۔وہ بھاگ جانا چاہتی تھیں مگر اسکا وجود خوف سے شل ہو گیا ۔۔ اسے اپنی ناک پر ایک بدبودار کپڑا ۔۔محسوس ہوا اور ۔۔وہ وہیں جھول گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تک بچے نہیں آے رضا ” زرینہ پریشان سی ادھرادھر چکر لگا رہی تھی ۔۔ پیچھلے ۔۔کچھ دنوں سے رضا صاحب کی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی وہ پوچھ پوچھ کر ہار گئ تھی ۔۔مگر وہ تھے کہ ۔۔منہ باندھے پڑے تھے ۔۔۔
آ جائیں گے فیضان ساتھ ہی گیا ہے ۔۔” وہ نقاہت زدہ آواز سے بولے ۔۔
نہیں مجھے پرشانی ہو رہی ہے ” وہ دل میں اٹھتے ہول کی وجہ نہیں جان پا رہی تھیں ۔۔۔
لو آ گئے بچے خوامخواہ پریشان ہو رہی تھیں آپ ” باہر سے آتی فیضان کی آواز پر رضا صاحب بولے ۔۔۔ زرینہ ایک لمحے میں باہر کی طرف دوڑی ۔۔۔
حرم کہاں ہے فیضان ۔” انھوں نے ۔۔ فیضان کو اکیلے دیکھا ۔۔۔ تو دل میں دوبارہ وسوسے سے اٹھنے لگے ۔۔
چچی وہ تو بہت پہلے نکل گئ تھی ۔۔ ” فیضان حیران ہوا۔۔
جبکہ زرینہ نے ۔۔ دل ہی تھام لیا ۔۔۔
فیضان وہ گھر نہیں آئ ۔۔” انکی آنکھوں سے آنسو روا ہونے لگے ۔۔
تم تم ۔۔اسکے ساتھ نہیں تھے ۔ وہ تمھارے ساتھ گئ تھی تم کیسے ۔۔اس سے لاپرواہ ہو سکتے ہو”
انکی آواز سن کر باقی گھر کے افراد بھی باہر آ گئے ۔۔
چچی وہ ونیزے کے ساتھ ہو گی ۔۔ میں دوبارہ چیک کرتا ہوں ۔۔” وہ گاڑی کی چابی ٹیبل سے اٹھاتا باہر کی طرف دوڑا ۔۔
رکو فیضان میں بھی چلو گا ” رضا صاحب بھی اسکے ساتھ ہو لیے ۔۔جبکہ زرینہ کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے جب ہوش آیا تو سر بہت بھاری ہو رہا تھا ۔۔اسے اپنے ارد گرد تاریکی سی محسوس ہوی چھوٹا سے پیلے بلب کی روشنی اسکے چہرے پر پڑی ۔۔۔ اسنے ارد گرد دیکھا ۔۔عجیب سا کمرہ تھا ۔۔۔ وہ ایک لمہے میں اٹھ کھڑی ہوی ۔۔ اسکا پورا وجود اپنے ساتھ ہوے اس واقعے پر کانپ رہا تھا ۔۔اسنے چہرہ موڑ کر ارد گرد دیکھا ۔۔ سامنے شیشے کی دیوار سے اس پار اسے جو منظر نظر آیا اسکی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں ۔۔۔ جبکہ انھیں سرخ آنکھوں نے اسے پھر سے گھورا تھا ۔ اسے اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئ ۔۔۔ وہ اشہد کے ۔۔ہاتھ توڑ چکا تھا ۔۔ااور اسکے کارندے ۔۔ اشہد کو . ڈنڈوں سے مار رہے تھے ۔۔ اور وہ ۔۔ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا ۔۔۔
اسے اپنے حواس غائب ہوتے محسوس ہوے ۔۔ اور اسنے پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹنا شروع کر دیا ۔۔۔ مگر دروازہ نہیں کھلا ۔۔۔ مگر وہ پھر بھی پیٹ رہی تھی آنکھوں سے اشکوں کی برسات بہہ رہی تھی ۔۔۔وہ اپنے آپے میں ہی نہیں رہی تھی ۔۔
اسکے ہاتھ زخمی ہونے لگے تھی ۔۔ خون کی بندے دروزے سے ٹپک رہی تھیں ۔۔۔
کہ اچانک دروازہ کھلا ۔۔ اور شاہ میر اسے گھسیٹتا ہوا ۔۔شاہ پیلس کی طرف چلنے لگا ۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔ ” وہ چلائ ۔۔
مگر اسپر اثر کوئ نہ ہوا ۔۔
آسنے اسے لاونج کے صوفےپر لا پٹخا ۔۔۔ پورے لاونج میں کانچ کے ٹکڑے پڑے تھے ۔۔
صفدر” اسکی گرج دار آواز ابھری ۔۔
یس سر ” وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر تھا ۔۔۔
اس حرام خور کو اسکے گھر پھینک آو ۔۔ اور کسی مولوی کو بھی لیتے آنا ۔۔صرف پندرہ منٹ میں تم مجھے یہاں ملو “
جی سر ۔۔” وہ حرم پر افسوس بھری نظر ڈال کر پلٹ گیا ۔۔۔ جبکہ وہ صوفے پر سکڑی سیمٹی خوف ذدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
میرا کام تم لوگوں کی خدمت کرنا ہے ۔۔ کیوں ایسا ہی ہے نہ ” وہ اسکے سامنے ۔۔۔ چئیر پر ٹیکتے ہوے ۔۔غرایا۔۔
۔۔ن . نہی۔ ” وہ دل ہار کر رونے لگی ۔۔۔
ارے ارے ابھی نہیں بعد کے لیے بچا کر رکھو ان آنسوں کو ۔” وہ اپنے پوروں پر اسکے آنسو چنتا ہی کہ حرم نے جھٹکے سے اسکے ہاتھ کو خود سے دور کیا ۔۔ وہ طلملاتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ پھر سمبھل کر بولا ۔۔
یہ ساری اکڑ ۔۔ میرے ایک تھپڑ کی مار ہے “
وہ سرد نظروں سے اسکے گلابی گالوں پر پھیسلتے آنسو۔ کو دیکھتے ہوے بولا ۔۔۔
تم۔۔۔ تم ۔۔انتہائ ۔۔ نیچ قسم کے انسان ہو ۔۔میرے چاچو چھوڑیں گے نہیں تمھیں ۔۔” وہ چلائ ۔۔
اس حرام خور کا نام مت لینا میرے سامنے ” وہ چیل کی طرح اسپر جھپٹا ۔۔ اور اسکی نازک گردن پر پورا دباو ڈال دیا ۔۔کہ اسکی آنکھیں پھیل گئ ۔۔اور وہ ارد گرد ہاتھ مارنے لگی ۔۔۔
سر ۔۔”۔ صفدر کی پکار پر وہ پیچھے ہٹا ۔۔ جبکہ حرم کا کھانس کھانس کر برا حال تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا صاحب اور فیضان اسے پوری یونی میں ڈھنڈ چکے تھے مگر وہ وہاں ہوتی تو ملتی ۔۔رضا ۔۔۔ صاحب بے دم سے صوفے پر ڈھے گئے ۔۔ اسکی گمشدگی ۔۔۔ دل دہلا رہی تھی ۔۔ونیزے بھی ۔۔پریشانی سے باقی سب دوستوں سے اسکے متعلق پتہ کر رہی تھی مگر سب نے ہی لا علمی کا اظہار کیا ۔۔ زرینہ ۔۔ نے رو رو کر اپنی طبعیت ہی بگاڑ لی ۔۔تھی گھر میں آگ کی طرح یہ افوا پھیل چکی تھی اسد صاحب ۔۔ پولیس میں ریپوٹ درج کرانے کا فیصلہ کرتے باہر نکلے اور انکے پیچھے ۔۔ فیضان بھی تھا ۔۔۔ جبکہ تائ ۔۔ماں زرینہ کو سمبھال رہی تھی ۔۔عجیب و غریب صورتحال تھی ۔۔جبکہ رضا ۔۔ صاحب ۔۔کو آج شدت سے اپنی کی گئ غلطیاں یاد آ رہی تھیں ۔
مگر وہ ہمت باندھتے ہوئے… ریرپورٹ درج کرانے… انانکے ساتھ.. ہو لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
…………….
جاری ہے