Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
آہ گاڈ” وہ ایکدم اٹھی آج اسے دیر ہو گئ تھی نہ جانے کیوں بہت نیند آ رہی تھی…
مگر پھر بھی نیند کو پرے دھکیلتی وہ اٹھی.. ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو دیکھا…
وہ شاور لے رہا تھا…
بہت دن گزر گئے تھے.. زندگی پرسکون تھی..
مگر اسے اکثر اس بات پر افسوس ہوتا تھا..
کیا وہ اسکا باپ نہیں ایک بار بھی پلٹ کر پوچھا نہیں کہ بیٹی کہاں ہے…
کیا ملازموں نے نہیں بتایا ہو گا… کہ.. ونیزے.. تین ماہ سے گھر سے غائب ہے…
کیا انھیں زرا بھی اسکی فکر نہیں ہوئ تھی..
وہ سوچتی ہوئ.. شہروز کے پرفیوم الٹ پلٹ کرنے لگی..
پرفیوم اسے بہت پسند تھے…
اسکی ایک مخصوص خوشبو تھی…
جس کے سب ہی دیوانے تھے….
اسے یاد ہے.. اکثر لوگ اسکی خوشبو سے متاثر رہتے تھے…
مگر وہ شخص اسکی خوبصورتی… اسکی خوشبو کسی سے بھی تو متاثر نہیں ہوا تھا…
وہ صرف اسکے بدلاو… کو پسند کر رہا تھا…
محبت…. عشق…
ان کے رشتے میں ایسے لفظ نہیں تھے…
وہ بس ایک شوہر تھا….
جو روز رات کو اسکے پاس ہوتا.. اسکو بیوی سمھجہ کر اپنا حق استعمال کرتا.. جبکہ وہ ایک اچھی بیوی بننے کی پوری کوشش میں تھی..
شہروز کے لیے دل میں اسکے جزبات تھے…
مگر… شہروز کے دل میں نہیں تھے…
اسنے کبھی ایسا اظہار نہیں کیا…
حتئ کے اسکی خوبصورتی سے بھی ونیزے نے کبھی اسے.. متاثر ہوتا نہیں دیکھا تھا…
سب اچھا ضرور تھا.. مگر ویسا نہیں تھا… جو ایک رشتے کی ضرورت ہو.. جس میں دونوں فریقین ایک دوسرے کے وجود سمیت فل میں بھی اتر جائیں…
وہ.. اداسی سے.. اپنے عکس کو دیکھنے لگی….
اس عکس میں ہموہ بات نہیں تھی…
سادھے سے کپڑے…
جو… اسنے بس بھوجے دل سے.. وقت گزاری کے لیے تھے…
جبکہ ہئیر کٹ.. تین ماہ سے نہیں لیا تھا.. بالوں کاکلر بھی ڈل ہو گیا تھا.. وہ بلکل بھی.. پہلے جیسی دلکشی لیے ہوئے نہیں تھی..
کیا مرد کے دل میں اترنے کے لیے فرمانبرداری کے ساتھ…
ظاہری خوبصورتی کا ہونا بھی ضروری نہیں تھا…
وہ سب اپنے وجود سے کھنچ کر دور پھینک کر اسے کیسے متاثر کر سکتی تھی…
اس سے پہلے وہ مزید کچھ سوچتی کلک کی آواز سے دروازہ کھلا…
وہ ٹاول سے بال رگڑتا نکلا… تو ونیزے کو سامنے دیکھ کر…
وہ واڈروپ کیطرف بڑھ گیا…
میں نکال دیتی ہوں”ونیزے نے خود سے پیشکشکی تو.. اسنے سر ہلایا.. اور بغیر ونیزے کی جانب دیکھے… وہ میرر کے سامنے کھڑا ہو گیا…
ونی، ے کو یہ بات محسوس ہوئ..
کیا اس میں زرا بھی اٹریکشن نہیں رہی تھی…
وہ کس طرح.. کیا سوچ کے اس رشتے کو نباہ رہا تھا.. کبھی وہ اسکی فرمابردای سے خوش ہو جاتا…
اور کبھی وہ بس ایسے ہی.. نارمل بیہیو دیتا…
سوات میں وہ اس سے بات کر لیتا تھا…
مگر.. یہاں آکر.. وہ… عجیب ہو رہا تھا..
ایسا رشتہ ہوتا ہے.. میاں بیوی کا…
اسنے.. سیاہ شرٹ نکال کر.. اسپر گرے ٹائ.. اور گرے پینٹ نکالی…
اور اسکے حوالے کی..
تھینکس.. “اسنے.. فارمل سے انداز میں مسکرا کر کہا…
اور.. ڈریس روم میں چلا گیا….
ونیزے کی طبعیت عجیب سی ہو رہی تھی.. اسے رونا آنے لگا..
وہ خود بھی واشروم میں چلی گئ.. اگر اسنے اسکے لیے خود کو بدلا تھا.. تو وہ.. اس سے محبت کیوں نہیں کر رہا تھا.. خالی.. شوہر بن کر… وہ بس.. چند گھنٹے اسکے ساتھ گزار کر کیا ثابت کر رہا تھا…
اسنے بھیگتی آنکھوں سے شاور لیا…
اور فریش ہونے کے بعد جب وہ باہر نکلی…
تو وہ روم میں نہیں تھا… اسنے اس بات کو بھی شدت سے محسوس کیا..
بھلے شاہ میر حرم پر غصہ کرتا تھا.. کچھ بھی تھا ڈانٹ دیتا تھا.. اسکے ساتھ ضد لگائے ہوئے تھا..
اسکی مرضی کے بغیر اسے رکھا ہوا تھا.. مگر اسکی آنکھیں بتاتی تھیں وہ اسکے لیے کس قدر کنسرن کرتا ہے جبکہ یہاں…
اس.. اس وقت غصہ آیا… شہروز کے ساتھ گزری ہر رات پر….
اس عجیب و غریب رشتے پر…
………………
حرم.. کیا مجھے روز تمھیں اٹھانا پڑے گا.. بچہ پال لیا ہے میں نے “وہ.. شدید چیڑ کر بولا….
اور اسے جھنجھوڑا تھمو وہ.. غصے سے اٹھی…
آپ میری جان چھوڑتے ہیں…
ساری رات.. تو…..” اس سے پہلے.. وہ.. کم عقل چینخ چینخ کر بولتی شاہ میر نے اسکے لفظوں کو منہ میں ہی اپنی ہتھیلی رکھ کر دبا دیا…
یہ لڑکی… شاید پہلا شخص تھی…
جو شاہ میر کو شرمندہ کرتی تھی.. بلاوجہ…
تمھاری زبان بہت چلتی ہے” وہ غصے سے بولا…
جبکہ شاہ میر نے.. اسکے کی نائٹی کو بھی غصے سے دیکھا…
تم یہ بلوجہ بیہودہ لباس کیوں پہن کر سوتی ہو” اپنی شرٹ پہنتے ہوئے وہ بولا.. جو.. ایسے انگڑائ لے رہی تھی جیسے ککمر توڑ لے گی اپنی..
رات تو بہت اچھا لگ رہا تھا.. “
اففف کس قد منہ پھٹ ہو تم… اب یہ بکواس نہ ہو میرے سامنے “وہ
اسے گھور کر رہ گیا…
عجیب.. بس” حرم نے.. منہ بنایا…
شاہ میر نے میرر میں سے گھورا…
تو.. حرم ٹائم دیکھنے لگی.. اسک ابلکل دل نہیں تھا.. آج جانے کا.. کیونکہ ٹیسٹ سٹارٹ ہو رہے تھے
وہ چلتی ہوئ.. میر کی وال پر بنی تصویر کے پاس آ گی..؛
میر… “اسنے پکارہ.. جو ٹائ باندھ رہا تھا.
ہمممم “وہ مصروف سا بولا…
میر اس تصویر کے ساتھ میری تصویر بھی لگوائیں”وہ شاہ میر کے پاس ای
اور اسکے پاس آ کر اسکی بندھی ہوئ ٹائ ٹھیک کرنے لگی…
کس خوشی میں” وہ اسکا.. پیارا سا چیرہ دیکھتے ہوئے بولا.. جو مہرون نائٹی میں دمک رہا تھا…
شاہ میر.. اسکے حسن سے شدید متاثر تھا
مگر بتا کر وہ اسکو مزید سر پر چڑھانا نہیں چاہتا تھا…
شاہ میر نے.. اسکی کمر میں نہ محسوس طریقے سے ہاتھ ڈالا…
خوشی… ہاں خوشی تو آپکو بہت ہونی چاہیے… آپ جیسے کریلے کو….. “
ہری مرچ مل گئ” شاہ میر نے… اسکے لیپس کو فوکس کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا…
ہمممم تعریف سے… لفظوں کی کمی نہیں ہو گی “اسنے منہ بنایا…
بندہ تمھاری تعارف کرے… یخ میرا ٹیسٹ خراب نہیں ہوا ابھی” شاہ میر نے پرفیوم اٹھانا چاہا.. جسے اس سے پہلے حرم نے اچک لیا…
آپ بہت ڈیش ہیں” اسنے اسکی گردن پر… کان کے پیچھے پرفیوم سپرے کرتے ہوئے… کہا..
گالی دے رہی ہو” شاہ میر نے سختی سے جکڑا…
ڈیش گالی کب ہوئ” وہ منمنائ…
یہ انداز گالی والا ہی ہوتا ہے “وہ اب بھی گھور رہا تھا..
آف میرا مطلب تھا.. “
بند کرو اپنے مطلب.. اورا کے بعد یہ ڈیش ڈوش بولا.. تو زبان نکال دوں گا.. “وہ اسپر جھکتا.. اپنی شدت لوٹاتا.. اسکو گال پر کاٹ کر.. اسے سزا دے چکا تھا…
حرم نم آنکھوں سے.. گال رگڑتی اسے گھورنے لگی…
کیوں رگڑا ہے “شاہ میر نے تیور چڑھائے..
یہ جو آپ رومینس بھی.. بندوق کی نوک پر کرتے ہیں مجھے بلکل پسند نہیں. “
رات کو جو آپکو اچھا لگتا ہے.. صبح اس سے چیڑ کھاتے ہیں…
یونی نہ جاو.. تو پروبلم… ہے.. جاو.. تو.. بار بار. فون کر کے پہنچ گئ پوچھتے ہیں…
جب میں ٹھیک ہوتی ہوں.. تو.. چیڑتے تپتے ہیں.. جب…
مجھے کچھ ہو جائے.. تو. میں آپکا بیبی بن جاتی ہوں..
اب.. اپنے کاٹا.. مجھے درد ہوا تب بھی آپکو مسلی.. چاہتے کیا ہیں آپ “وہ اسکو اب شوز پہنتا دیکھ کر.. غصے سے بھڑکی..
یہ تم ہی ہو جس کی میں اتنی سن لیتا ہوں..” وہ اسکے بال کھینچے.. اپنا سیل چیک کرنے لگا…
دل تو کرتا ہے… میں بھی یوں ہی اوائیڈ کروں تو پتہ چلے.. “وہ بڑبڑائ…
جاو حرم یونیورسٹی جانا ہے.. ڈیلی شانزے لیٹ ہوتی ہے تمھاری وجہ سے “اسنے اسکی بڑبڑایٹ سن لی تھی..
پیسے دیں مجھے.. بندہ ایک گفٹ پیسے… پکٹ منہ کچھ دے ہی دیتا ہے… “اب وہ.. اسکے پاس آ کر اسکے ہاتھ سے سیل لیتی.. بولی…
تم نے ایسا کچھ نہیں کیا جو میں گفٹ دوں… اور رہی بات پوکٹ منہ کی…
تو و وو”
وہ سوچنے لگا.. جبکہ آج حرم کو اپنی قسمت پر حیرت ہوئ اتنی کنجوسی.. وہ چاچو سے جتنے مانگتی تھی وہ اتنے دے دیتے تھے..
شاہ میر نے گھیرہ سانس بھرتے.. والٹ کھلا.. پیسوں سے والٹ بھرا ہوا تھا.. مگر پھر بھی کنجوس…
حرم کے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں تھا.
. یہ لو… “اسنے 1000 کا نوٹ بڑھایا..
اور دو دن بعد ملیں گے اب پیسے..” وہ جان بوجھ کر اسے تپا رہا تھا جبکہ اسکے چہرے کے زاویے.. دیکھنے لائق تھے..
اب نہیں بچتے آپ.. “وہ غم زدہ سی بولی…
نہیں بچیں گے” اسے رونا ہی آ گیا..
ایک تو میں تمھارے رونے سے تنگ ہوں.. لو سو روپے بڑھا کر دے رہا ہوں” شاہ میر نے.. ایک سو اور نکالے.. حرم کا دل کیا دیوار سے لگ کر روے..
پورا والٹ نہ خالی کرایا تو نام بدل دینا” وہ واشروم سے چینخی جبکہ.. شاہ میر اسکے جانے کے بعد ہنس دیا…
…………………
ناشتے کی ٹیبل پر سب.. تھے.. ونیزے نے سب کو ناشتہ سرو کیا.. کھانا اب بھی اماں بناتی تھیں جبکہ. وہ بس سرو کر دیتی تھی اور حرم تو اتنا بھی نہیں کرتی تھی…
شانزے خاموشی سے ناشتہ… کر رہی تھی..
تمھیں پاکٹ منی نہیں چاہیے “شاہ میر نے اسکیطرف دیکھا…
لالا.. ہے میرے پاس جب چاہیے ہو گی مانگ لوں گی” وہ پہلے کی نسبت اب بجھی بجھی لگتی تھی….
یہ لو… “شاہ میر نے.. 5000 کا نوٹ اسکیطرف بڑھایا.. شہروز اماں ونیزے سب دیکھ رہے تھے..
لالا مجھے” شانزے.. نے انکار کرنا چاہا..
چندہ رکھ لو…. ” شاہ میر نے کہا تو اسنے پیسے لے لیے.. جبکہ آنکھیں بھیگ گئیں تھیں..
اسی دوران حرم بھی لیمن کیپری شرٹ میں وہی دوپٹہ.. ایک شانے پر جھٹلاتے منہ پھلائے آئ اور چئیر کھینچ کر بیٹھ گئ..
جبکہ منہ کو اماں کے سامنے مزید پھلا لیا تھا.. شاہ میر نے زمین پر تیرتا دوپٹہ اسکے شانے پر.. ڈال دیا.. جس سے وہ مزید انوسینٹ دیکھ رہی تھی..
ونیزے کو.. خود سے زیادہ حرم کے کپڑے اچھے لگے..
وہ کھلے بالوں.. کے ساتھ… بغیر میکپ کے بہت پیاری لگ رہی تھی..
بیٹا ٹھیک ہو.. “اماں نے بالآخر پوچھ ہی لیا.. حرم چاہتی ہی یہ ہی تھی..
جبکہ اب.. اسنے پلکیں جھپکیں.. اور رونا سٹارٹ کر چکی تھی…
حرم..” اماں تو حیران رہ گئیں…
جبکہ شانزے.. ونیزے.. شہروز سمیت شاہ میر بھی یہ ڈرامہ حیرت سے دیکھ رہا تھا…
کیا ہوا ہے… میرے بچے کو…
بھابھی آپ ٹھیک ہیں..”
اماں کے ساتھ شانزے بھی فکر سے بولی…
اماں.. امں آپکا بیٹا.. بہت… میرا مطلب کیسے ہین یہ آپکو پتہ ہے روم میں کتنا ڈانٹا ہے.. انھوں نے مجھے.. حالانکہ میں نے یہ بھی کہہ دیا تھا. اب بس کریں شاہ میر.. مگر” وہ دھواں دار رو دی جبکہ اب سب کی نظروں.. غصے سے کھولتے شاہ میر پر تھیں..
یہ کیا بیہودگی ہے شاہ میر.. تم جانتے ہو ڈاکٹر نے کیا کہا تھا پھر بھی تم بعض نہیں آ سکتے” اماں نے تو لگے ہاتھ جھاڑ پلا دی..
جھوٹ بول رہی ہے اماں.. ایسا کچھ نہیں ہو آ.. “
شاہ میر نہ چاہتے ہوئے بھی صفائ دینے لگا..
توبہ ہے.. “حرم نے اماں کے ہاتھ.ں کے نیچے سے منہ باہر.. نکالا..
اماں آپکو پتا ہے کیوں ڈانٹا نگوں نے.. بس میں نے تھوڑے سے پیسے مانگے تھے نوٹس کے لیے.. صرف پانچ سو.. “وہ بے بسی سے.. سسکی..
اماں تو ششدر رہ گئیں.. جبکہ سب ہی حیران تھے…
شاہ میر مٹھیں بھینچے حرم کو گھورنے لگا…
جو.. اب اپنے آنسو صاف کر کے.. اماں کی عدالت سے ہوتا انصاف سننے والی تھی..
سامنے رکھو والٹ اپنا..” اماں نے سختی سے کہا..
اماں”شاہ میر نے کچھ کہنا چاہا…
شرم کرو شاہ میر.. صرف ان نوٹوں پر تم نے اسکا چڑیا جیسا.. دل دکھایا.. “
اماں نے اسے شرم دلانا چاہی..
چڑیا جیسا.. اس چڑیل کو. زیادہ ہوا.. لگ گئ ہے.. بخشنا نہیں ہے میں نے..” اسنے حرم کو دیکھتے دانت پیستے ہوے سوچا…
اور والٹ نکال کر.. ٹیبل پر رکھا…
میرا بچہ.. یہ سارے تمھارے ہیں.. شاپنگ کرنا.. جہاں استعمال کرنا ہو کرنا… اوکے ” وہ بولیں تو حرم نے جلدی سے والٹ اٹھا لیا اور سعادت سے سر ہلایا… جبکہ شاہ میر پیچوتاب کھاتا.. اٹھا..
تم بھی رکھو اپنا والٹ باہر” اب اماں نے شہروز کو دیکھا..
اماں قسم لی لیں میں لالا جتنا امیر نہیں ہوں”
شہروز کی تو جان نکلی پورا پرس…
توبہ توبہ… ونیزے مسکرائ تھی
رکھتے ہو یہ بتاو “اماں نے گھورا.
شہروز نے مرے دل سے والٹ رکھ دیا…
کچھ بچا لینا.. میڈیم” اسنے ونیزے کو دیکھا…
جس نے بھی فورا سے والٹ چک لیا تھا..
شانزے اپنی بھابھیوں.. کی اس چلاکی پر.. ہنس رہی تھی.. جبکہ اماں بھی مسکرا رہین تھیں.. اور وہ دونوں اپنے کلچ… کے ترسی ہوئ نگاہوں سے دیکھتے چلے گئے…
باہر آ جاییں بھابھی محترمہ.. یقین مانئیں آپ.. سے.. کوئ نہیں بچ سکتا.. میرے لالا پر ترس آ رہا ہے آج مجھے “وہ بولا.. تو حرم نے گھورا…
آج میں سمودی بنانے والی ہوں.. تم مجھے پیسے دو گے” حرم نے کہا.. شاہ میر تو جا چکا تھا..
تو اب ڈرنا کیسا…
نہیں یار ایک پیسا بھی نہیں اب تو “شہروز نے دھائ دی..
لے لیں بیوی سے ادھار
بعد میں دے دینا” حرم نے مشورہ دیا…
جبکہ ونیزے نے کان بند کر لیے…
وہ اچھی بھلی شریف ہو گئ تھی.. آپ کی وجہ سے بگڑ گئ ہے” شہروز.. نے پر مزاہ طریقے سے بات کہی تھی.. مگر ونیزے جیسے سوچ میں پڑ گئ…
………….
یونی سے آنے کے بعد حرم.. اور ونیزے کو اماں نے اپنے کمرے میں بلا لیا.. جبکہ شانزے.. اپنے روم میں بیٹھی…
آنے والے میسیجز کو دیکھنے لگی..
فواد کون ہے..
جواب دو.. کیا ہو رہا ہے..
تمھارے گھر میں…
یار پلیز جواب دو…
شانزے شانزے “
ایسے کئ میسیجز تھے…
شانزے تھک چکی تھی.. خود کو قابو مین کیے کیے..
وہ اسکے خوابوں میں آتا تھا.. ہر پل اسکی امید بھری آنکھیں اسے چین لینے نہیں دے رہی تھیں.. اور اب اسکا ضبط جواب دے گیا.. اسنے.. فیضان کو کال ملائ.. وہ جانتی تھی یہ غلط ہے.. اسکے بھائیوں کو پتہ چلا تو.. وہ اسکے ساتھ کیا کریں موم نہین مگر وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھی..
فیضان.. جو خود ابھی یونی سے آیا.. تھا…
اسکی کال فورا پیک کی.. جبکہ دوسری طرف شانزے کے رونے سے.. اسکو اپنا شک حقیقت لگا..
رشتہ.. رشتہ ہو گیا ہے میرا… “وہ اٹکتے ہوئے بولی..
فیضان بیٹھے سے آٹھ گیا…
جبکہ شانزے نے فون بند کر دیا…
وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا..
نہیں.. یہ ناممکن تھا…
اب وہ بھی شاہ میر کی ضد کے آگے.. اڑ کر اسکو ثابت کرنے والا تھا.. کہ شانزے صرف اسکی ہے…
……………
مجھے نہیں لگتا تم دونوں.. کی حرکتیں ٹھیک ہیں “اماں نے کہا جبکہ حرم.. چیپس کھاتی.. حیران جب کہ ونیزے بات سمجھتے شرمندہ تھی..
بیٹا.. تم دونوں… شادی شدہ ہو مگر کہیں سے بھی ایسا نہیں لگتا.. شوہر کے آنے پر نہ کوئ سنگھار ہوتا ہے.. نہ کوئ سجاوٹ..”
وہ بولیں…
مطلب ہر وقت لیپسٹک لگا کر پھیرں.. “حرم حیران ہوئ…
جی بیٹا جی.. اچھا سا تیار ہو کر شوہر کا استقبال کرو.. انھین کھانا سرو کرو.. انکی خاطر مدارت کرو. “اماں نے کہا..
سمھجہ گئ ہو دونوں” انھوں نے استفسار کیا.. تو دونوں نے گردن ہلائ..
وہ اماں آپکو برا نہ لگے مین اپنے لیے شاپنگ کرنا چاہتی ہوں… “ونیزے نے پوچھا..
اوو ہاں مجھے بھی کرنی ہے” حرم بھی بولی..
اماں ہنس دی..
جاو.. ان دونوں کے آنے سے پہلے آ جانا..” اماں نے کہا.. تو وہ اثبات میں سر ہلاتی.. اٹھ.. گئیں…
…………..
کافی دیر بعدشاپنگ کر کے.. وہ اپنی مرضی کا سامان لائ تھیں.. اور دونوں کے والٹ خالی تھے…
اپنے اپنے رومز میں جا کر…
ونیزے نے… تائم دیکھا.. وہ آنے والا تھا.. اسنے سرخ رنگ کا لباس نکالا.. یہ ریشمی سوٹ تھا..
جس بہت خوبصورت تھا اور اسکی گوری رنگت پر تو.. کمال لگ رہا تھا… جبکہ دوپٹہ بھی اسنے.. لیا. اور میکپ لائٹ سا کر کے ڈارک ریڈ کلر کی لیپسٹک لگا کر وہ جھجھکتی ہوئ نکلی تو سامنے بلیک ڈریس میں.. حرم کو پونی ٹیل.. اور گردن میں دوپٹہ پھنسائے..
اور ڈارک براون کلر کی لیپسٹک میں دیکھ ھیران ہوئ..
وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی.. دونوں اپنی جگہ.. بہت پیاری لگ رہیں تھیں..
لو آج میرے دونون لالا.. گئے کام سے “شانزے ہنسی…
جبکہ وہ دونوں بلش کر گئیں…
دونوں کی گاڑی کا ہارن سن… کر…
وہ دونوں اسطرح گھبرائ.. جیسے نا جانے کیا ہو گیا ہو..
حرم تو بلکے اپنے روم میں بھاگنے لگی.. کہ اماں نے پکڑ لیا..
اسکا اچھے سے استقبال کرو…
اماں نے کہا اور خود شانزے کو لے کر روم میں چلی گئیں
وہ دونوں بات کرتے ہوئے اندر آئے تو.. سامنے کا نظارہ کر کے.. دونوں کے منہ کھل گئے.. شاہ میر تو جلد ہی اپنی حالت پر قابو پا گیا.. جبکہ شہروز تو اب بھی یون ہی کھڑا تھا..
یہ چڑیل کیون بنی ہوئ ہو “شاہ میر نے حیرت سے کہا..
حرم کی آنکھیں بھیگ گئیں…
شہروز اور ونیزے کو بھی.. شاہ میر کا اسطرح کہنا اچھا نہیں لگا…
شاہ میر کو.. کچھ احساس ہوا…
حرم.. اٹھ کر.. وہاں سے چلی گئ.. جبکہ
ونیزے نے شہروز سے… بیگ لیا…
شاہ میر کچھ خفیف سا ہوتا.. اسکے پیچھے گیا…
لالا نے اچھا نہیں کیا “شہروز اسکے کان پر جھک کر بولا..
بولا تو آپ نے بھی کچھ نہیں…” ونیزے ہلکا سا مسکرائ..
یعنی میں بھی تمھیں چڑیل کہو “شہروز حیران ہو آ…
مین حرم نہیں ہوں شہروز” ونیزے نے آنکھیں نکالی…
بیک ٹو.. پریسیس ونیزے… واو “
شہروز ہنسا….
مگر آپ کو وہ پسند نہیں تھی… وہ خود ہی اسکے نزدیک ہوا… ا
اسکی بولڈنس.. نہ کہ وہ ونیزے “شہروز نے تصیحی کی…
یو لک سو بیوٹیفل… لائک واو.. یہ چینج تم پر بہت سوت کرتا ہے..
مطلب میرا دل کر رہا ہے.. بیوی کو کندھے پر ڈال کر. روم میں لے جاو.. کیا خیال ہے..” اسکے گرد گھومتا بولا..
کھانا کھائیں پہلے “اسنے نگاہ چرائ…
نو بھوک نہیں.. اڑا دی تم نے” وہ اسے واقعی کندھے ہر ڈالے کمرے مین لے گیا.. جبکہ ونیزے تو….
لال لباس میں لالا سرخ تھی..
پلیز چھوڑیں..” وہ منمنائ…
ایسے کیسے چھوڑ دو پیسہ لگایا ہے تم پر “وہ ہنسا اور صبح والی بات کا طنز کیا…
جبکہ ونیزے اس سے پہلے ہنستی کے اسے زور کا چکر آیا…
تم ٹھیک ہو.. “شہروز نے سے تھاما…
ج.. جی” وہ مبتلائے دل سے بولی..
مگر اس سے کھڑا نہ ہوا گیا.. اور وہ…
قے روکتی.. واشروم میں بھاگی جبکہ شہروز اچھا خاصا بھکلا گیا.. اسکو ایک نظر دیکھ کر وہ اماں کے پاس دوڑا..
…………………..
جاری ہے
