128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

اسکی آنکھ فون کی بیل ہر کھلی… ایک نظر حرم کو دیکھا
جو اب بھی ویسے ہی پڑی تھی…
اور کال پیک کی.
. اسلام و علیکم..”
وسلام شاہ میر کہاں ہو تم….” انھوں نے بے چینی سے سوال کیا…
اماں ایک کیس میں پھنس گیا ہوں بس وہ جب تک نہیں سلجھتا.. گھر آنا مشکل ہے.. “اسنے جواب دیا نظر اب بھی حرم پر تھی…
بیٹے….. آپ آ جاو کوئ اور سمبھال لے گا” انھوں نے کہا تو وہ مسکرا دیا..
وہ مسکراہٹ جو شاید ہی کسی نے دیکھی ہو.
اماں آپکا بیٹا ایس پی ہے.. اسکے علاوہ بھلا کون کیس سلجھا سکتا ہے خیر آپ فکر نہ کریں… میں جلد آو گا “اسنے انھیں تسلی دی… ہمم ماں کو ہی پریشان کرن بیوی آ جاےگی تو سب وقت کا حساب کتاب بھی ہو جائے گا” انھوں نے نروٹھے پن سے کہا تو…
اسنے پھر حرم کو دیکھا..
آپ کے سامنے کسی کی ولیو نہیں “اسنے جواب دیا تو.. اماں خاموش ہو گئیں…
شاہ میر… بیوی کی جگہ ماں اور ماں کی جگہ بیوی نہیں لے سکتی کسی بھی رشتے کے پلڑے میں زیادہ اتر جانا اچھا نہیں ہوتا…”
انھوں نے تنبھی کی تو وہ خاموش ہو گیا
خیال رکھو اپنا اور جلد از جلد گھر آنے کی کوشش کرنا “
اوکے” اسنے کہہ کر فون بند کیا اور پھر سے حرم کو دیکھا… اور اسکا بازو پکڑ کر ہلا ڈالا..” مگر دوسری طرف ہلکی سی بھی جنبش نہ ہوئ الٹا اسکے ہلانے سے وہ دوسری طرف گیر پڑی..
حرم” اسنے اسکے گال تھپتھپائے مگر بے سود حرم کا ملائم چہرہ زرد ہو رہا تھا جبکہ ہونٹ نیلے.. حرم کیا ہوا ہے تمھیں”اسنے ایک بار پھر اسے جھنجھوڑ دیا.. مگر حرم کے وجود میں حرکت نہ ہوئ…
اسے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا.. تو فورا فواد کو کال ملائ
… ہیلو فواد “
ہاں بولو”
کہاں ہو تم” اسکی آواز میں بے چینی تھی وہ بے چینی کی وجہ نہیں جانتا تھا وہ بس اتن جانتا تھا اسوقت حرم کوئ عام لڑکی نہیں شاہ میر خان کی بیوی ہے..
کیا ہوا” فواد بھی اسکی آواز کی بے چینی پر حیران ہوا…
تم ایک سیکنڈ میں شاہ پیلس پہنچو”اسنے آرڈر دیا..
خیریت” وہ جانتا تھا وہ ایسے ہی اپنے شاہ پیلس میں کسی کو نہیں بولاتا..
کیا پروبلم ہے سب فون پر بتاو” شاہ میر طبعیت کے عین مطابق چلایا تو فواد نے اچھا آتا ہوں کہ کر کال کاٹ دی
جبکہ شاہ میر نے حرم کے وجود پر ایک نظر ڈالی اسکی ساڑھی خاصی بے ترتیبی کا شکار تھی..
اور شاہ میر کو یہ بولڈنیس بلکل گورا نہیں تھی..
اسنے تیوری چڑھائے.. حرم پر چادر درست کی.. اور خود بھی صوفے پر سے شرٹ اٹھا کر پہنی جو وہ سونے سے پہلے اتار چکا تھا…
اور پھر دس منٹ میں فواد بھی آ گیا…
تو شاہ میر اسے فورا حرم کے پاس لے آیا…
یہ کون ہے “فواد کا منہ حرم کو دیکھ کر کھل گیا.. وہ شعلہ صفت لڑکی کسی کے بھی اوسان خطا کر سکتی تھی..
شاہ میر نے جبڑے بھینچ لیے.. اگر تم میرے دوست نہ ہوتے تو اپنی بیوی کو یوں دیکھنے پر تمھاری آنکھیں نکال لیتا…” وہ بھی بھینچی بھی بھینچی آواز میں بولا تو فواد ہڑبڑا گیا وہ جانتا تھا.. شاہ میر کی نیچر تبھی بغیر کچھ بولے اسنے حرم کا چیک اپ شروع کیا تو.. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہو گیا وہیں شاہ میر سمھجہ نہ سکا.. اسکے دل کو کیا ہو رہا ہے…
ہمیں بھابھی کو ہسپیٹل لے کر جانا ہے.. ابھی ارجینٹ “
اسنے شاہ میر کو کہا
کیوں صرف ایک وقت کا کھانا نہیں دیا میں نے اسے تو کیا مرنے والی ہو گئ ہے” شاہ میر ازلی لاپرواہی سے بولا..
شاہ میر مجھے انکے ساتھ کوئ اور مسئلہ لگ رہا ہے…
انکی ہارٹ بیٹ نہ ہونے کے برابر ہے “فواد نے کہا تو شاہ میر کو جھٹکا لگا…
کیسے… میرا مطلب ہوا کیا ہے “اسنے پوچھا تو فواد اسے گھور کر رہ گیا…
تمھیں کوئ کچھ کہہ سکتا ہے” فواد کو بھی اب غصہ آنے لگا…
برحال زندہ ہے یہ مرتی ہے.. ابھی اس گھر کے باہر نہیں جا سکتی” دلی طور پر وہ پریشان ہو اٹھا تھا مگر.. وہ باہر اسے کسی صورت نہیں لے جا سکتا تھا..
مگر کیوں” فواد نے اسے گھورا..
سوال جواب نہ کرو.. پتا لگاو اسے ہوا کیا ہے.. اور جو ٹریٹمنٹ کرنی ہے وہ ادھر ہی سٹارٹ کرو جس کو بلانا ہے بلاو.. مجھے میری بیوی بلکل ٹھیک چاہیے” وہ سنجیدگی سے ایک ایک لفظ پر زور دیتا بولا. تو فواد اسے دیکھ کر رہ گیا.. ایک سیکنڈ میں وہ لاپرواہی اور ایک سیکنڈ میں وہ کنسرن کر رہا تھا..
فواد کو ایک ڈاکٹر ہونے کی حثیت سے.. حرم کی زیادہ پرواہ تھی تبھی اسنے.. اپنے سے سنیر ڈاکڑز کو بلایا.. اور پھر چند گھنٹوں میں.. وہ روم ایک ہسپیٹل روم کی شکل دیکھنے لگا.. وہ سب سر جوڑے حرم کا علاج کرنے میں مصروف تھے جبکہ شاہ میر باہر جلے پیر کی بیلی کیطرح پھیر رہا تھا..
اتنی نزاکت “وہ بڑبڑا کر رہ گیا…
صفدر بھی آ جا رہا تھا.. اور وہ اسے منع کر چکا تھا کہ گھر پر کچھ نہیں بتانا…
مزید ایک ڈیڈ گھنٹے کے انتظار کے بعد.. فواد کے ساتھ دو اور ڈاکڑ باہر آئے جبکہ اندر حرم کے پاس نرس تھی…
مسٹر شاہ میر.. اٹس بیڈ نیوز فور یو.. مگر آپکو یہ بات پہلے معلوم نہیں تھی مجھے حیرت ہے… “فواد کے سینیر ڈاکٹر بولے تو.. وہ انکی جانب بے تاثر چہرہ لیے دیکھنے لگا…
آپکی وائف کا ہارٹ.. سائز نارمل سائز سے بڑا ہے..” ڈاکٹر کے الفاظ.. پہلی بار شاہ میر خان کو ہلا گئے…
حیرت کا ایک پہاڑ.. اسپر ٹوٹا تھا.. اور اسکے کانوں میں فیضان کے الفاظ گونجے..
کہ سر اسکا ملنا بہت ضروری ہے…”اور پھر اس ڈاکٹر آبان کا بے تاب ہونا….
اسے اب سمھجہ آیا تھا…
انکے لیے.. ڈیپرشن… ٹینشن یا ٹارچر یہ کوئ بھی ذہنی دباو یہ ایسی بات جو یہ دل پر لیں زہر کے مافق ہے… انکا دل حد سے زیادہ کمزور ہے… اور یہ کسی بھی قسم کی ٹینسن افورڈ کرنے کی کنڈیشن میں نہیں…
شایدانکا پہلے بھی علاج ہوتا رہا ہے… مگر اس وقت انکا ہارٹ بہت نازک حالت میں ہے.. اور آپ لوگوں کیطرف سے برتی گئ لاپرواہی.. انھیں موت کے قریب تر لے جائے گی.. اسوقت بھی وہ نئ زندگی جی رہی ہیں آپ یہ سمھجہ لیں… امید کرتا ہوں آپ اپنی بیوی کا خیال رکھیں گے “انھوں نے اسے تمام باتوں سے آگاہ کر کے آخر میں نصیحت کی.. شاہ میر خاموش کھڑا رہا تو فواد دونوں ڈاکٹرز کو لے کر اسکے پاس سے ہٹ گیا.. حرم کی حالت اب کہ بہتر تھی..
مگر شاہ میر خان… کے غصے.. کا اندازا اسوقت کوئ نہیں لگا سکتا تھا.. وہ ایک جگہ کھڑا.. بس اپنے جوتے کو گھورے جا رہا تھا… ہاں یہاں بھی رضا حیدر نے اسے مات دے دی تھی.. ایک بار پھر شکست کھانی پڑی تھی اسے.مگر یہ بات اسے گورا نہیں ہو رہی تھی.. یہ کیسی ستم ضرفی تھی کہ ہر بار وہ اس آدمی سے ہار جاتا تھا…
حرم کے زریعے رضا خان کو ٹارچر کرنے کا وہ پکا ارادہ کر چکا تھا.. مگر حرم کی بیماری….
اسکے لیے شاکینگ نیوز تھی…
سر. “صفدر نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا… تو اسنے بنا لحاظ کے گھوما کر تھپڑ صفدر کے منہ پر جڑ دیا…
اور لبوں پر انگی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا… صفدر اسکی اندرونی کیفیت سمھجہ رہا تھا.. اسکی سرخ آنکھیں اور ان میں سے گرتا.. پانی…. شاہ میر خان کو قابل رحم بنا رہا تھا…
……………
ہیلو.. “کافی دنوں سے اسکو میسیجیز آ رہے تھے اور اب میسیج کرنے والے نے اسکا ریسپونس نہ ملنے پر کال ملا لی..
نسوانی آواز وہ… زرا مرعوب سا ہو گیا آواز خاصی پر کشش سی تھی…
آپ کون..” اسنے سوال کیا… تو ونیزے جس کا ہنسی کنٹرول کرنے کے چکر میں چہرہ سرخ ہو رہا تھا… وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر رہ گئ…
میں… آپ چھوڑیں اس بات کو…. کیا ہم کچھ دیر بات کر سکتے ہیں” اسنے دانتوں تلے خوبصورت ہونٹ دبا کر.. شہروز کی حیران آواز کو مزید حیران بنا دیا…
اسے امید تھی وہ انکار کر دے گا… جبکہ دوسری طرف شہروز جو ابھی ابھی گھر آیا تھا.. اور خاصا تھک چکا تھا… عجیب پسکون سی آواز کو نہ جانے کیوں مزید سننے کی خواہش کر بیٹھا…
جی بولیں”ونیزے کو یہ بات حیرت انگیز کر گئ….
آپ سیریسلی مجھ سے بات کرنا چاہیں گے” وہ حیران ہوئ…
کیوں آپ سے بات کر کے میرا نقصان ہو جائے گا…
شہروز نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا.. اور پرسکون ہو کر بولا….
آوازکی میٹھاس ہر لفظ کے ساتھ اسکے کانوں میں رس گھول رہی تھی…
مجھے تعجب ہے..” وہ ایک انداز سے بولی…
وہ کیوں کیا آپ مجھے جانتی ہیں”وہ حیران ہوا…
ام م م آپ یہ سمھجہ لیں میں آپ سے مرعوب ہوں”اسکے انداز ادا پر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا..
اور وہ کیوں ایسا کیا ہے مجھ میں” شہروز اٹھ کر بیٹھ گیا جبکہ ونیزے کے لیے یہ سب گفتگو خلاف تواقع تھی….
آپ الگ ہیں” وہ دل کی بات بولی… تو شہروز نے آی برو اچکائ…
مجھے نہیں لگتا ہم کبھی ملیں ہیں” وہ سوچ میں پڑ گیا آخر یہ ہے کون… کیونکہ اسکے سٹوڈنٹس میں اتنی ہمت بلکل نہیں تھی کہ وہ ایسی حرکت کریں.. اور اسکا دماغ آپنی سٹوڈنٹس کی آواز ایک سیکنڈ میں پہچان لیتا.. مگر وہ تھی کون…
میں نے کب کہا آپ ملیں ہیں” ونیزے نے اسے مزید الجھا دیا…
اوکے تو اب کال کا مقصد” شہروز مدے پر آیا… اور میرا نمبر کہاں سے ملا… ” اسنے سوال کیا تو ونیزے کی متاثر کن ہنسی سپیکر پر گونجی شہروز کے ہارٹ نے ایک بیٹ مس کی.. وہ حیران تھا یہ ہو کیا رہا ہے..
بہت محنت کی ہے صاحب” وہ مزے سے بولی….
جبکہ شہروز اسکے بولنے کے انداز سے مزید ایمپریس ہوا…
لگتا تو نہیں”وہ مسکرایا…
مان جائیں… آپ تک پہنچنا آسان تو نہیں تھا.. نہ امید تھی “ونیزے مسکرائ اور دو نظر آتے چاند کو دیکھنے لگی…. ٹھنڈی ہوا اسے کسی اور ہی جہان میں لے گئ…
امید کس بات کی”شہروز پھر سے لیٹ گیا.. عجیب بے چینی سی تھی.. یہ اچانک ہی معمہ اسکے سامنے آیا تھا.. اور خاصا ایمپریسیو تھا…
کہ آپ جیسے نواب لوگ ہم سے بات کریں گے” وہ ایک بار پھر چونک گیا..
میں حیران ہوں”شہروز نے دل کی بات کی…
مت ہوئیں سو جائیں… اب ڈسٹرب نہیں کرو گی” ونیزے نے گھڑی دیکھی.. اور کال کاٹنی چاہی.. وہ صرف ایک پرینک بنا رہی تھی…
جس کی اسے ون پرسنٹ امید نہیں تھی وہ کامیاب ہو جائے گی…
ڈسٹرب تو کر دیا ہے “شہروز اچانک ہی بولا تو.. ونیزے نے آنکھیں کھول کر سکرین کو دیکھا….
مگر…. “وہ الجھی…. اور اب اسے شہروز کی حرکت پر غصہ آیا یعنی وہ بھی ایک عام مرد تھا…
ونیزے نے اکتا کر جان چھڑانی چاہی..
میں بند کر رہی ہوں”شہروز نے جواب نہ دیا اور ونیزے نے منہ بنا کر فون بند کر دیا…
کبھی کسی کو پہلی ملاقات میں جج نہیں کرتے ونیزے ایڈیٹ”اسنے خود کو ملامت کی… اور سائیڈ پر سیل اچھال دیا جبکہ دوسری جانب شہروز اس آواز کے خمار میں بے سد سا تھا…
…………………
رضا میں مر جاو گی اگر حرم نہ ملی تو… کیا کر رہیں ہیں آپ سب… کہاں ہے میری بچی” زرینہ نے ایک ادھم اٹھایا ہوا تھا.. جبکہ آبان کو ایس پی پر شدید غصہ تھا.. درحقیقت وہ حرم کا ڈاکٹر تھا.. اور بہت جلد اس گھر میں اپنی جگہ بنا چکا تھا.. اور اس حد تک کہ سب اسے فیملی ممبر کیطرح ٹریٹ کرتے تھے…
اور فیضان تو اسے اپنا بڑا بھائ سمجھتا تھا.. اور وہ بھی ان سب کو اسی انداز سے ٹریٹ کرتا تھا.. کیونکہ اسکے ماں باپ کا انتقال ہو چکا تھا.. اور اسے ایک فیملی کی ضرورت تھی اور خان ہاوس سے اسے بہت پیار ملا تھا…
ایس پی آج اپنی ڈیوٹی پر نہیں ہے… یہ سب ہو کیا رہا ہے کچھ سمھج نہیں آ رہا “آبان.. بولا تو زرینہ پھر سے رونے لگی…
رضا میری بچی کو لے آئیں…” وہ بے حال ہو رہی تھیں…
جبکہ رضا صاحب خود ایک ہی دن میں کملا گئے تھے…
ابھی سب ہی اپنی اپنی سوچیں میں مگن تھے کہ… آبان کے سیل پر فون کال آنے لگی…..
آبان نے سیل پر ایس پی کا نمبر دیکھا اور کال پیک کی…
ڈیڈ بوڈی ملی ہے ایک… شناخت کے لیے سیٹی ہسپیٹل چلے جاو.. صفدر ساتھ ہی ہو گا.. “دو ٹوک بات کر کے اسنے کال کاٹ دی جبکہ آبان کے وجود میں جیسے چنگاریاں بھر گئیں اسکا بس نہیں چلا کہ.. ایس پی کو جان سے مار دے….
کیا ہوا بیٹا..” اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر… سب اسکی جانب متوجہ ہوے.
ایس پی کی کال تھی.. سیٹی ہسپیٹل میں ڈیڈ باڈی ملی ہے… “وہ ضبط سے اٹک اٹک کر بولا.. تو زرینہ کی چینخیں نکل گئیں… جبکہ رضا صاحب… بھی اتنے مظبوط مرد ہو کر بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دیے….
حالات ایسے تھے کہ.. وہ سب ہی.. بے اوسان ہو رہے تھے.. جبکہ فیضان.. کی آنکھوں میں حرم کا چہرہ گھومنے لگا.. دو آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹے…
آبان.. ماتھے پر بل ڈالے واہاں سے نکلا… اسکے پیچھے وہ سب بھی دوڑے…
گاڑیاں سیٹی ہسپیٹل کے سامنے روکیں تو… وہ دوڑتے ہوئے اندر گئے وہیں صفدر بھی کھڑا تھا جبکہ ڈیڈ باڈی.. پر کپڑا ڈھنکا ہوا تھا… آبان نے ایک جھٹکے سے.. ڈیڈ باڈی پر سے کپڑا کھینچا تو.. وہ اگلی نظر نہ دیکھ سکا.. لڑکی کا چہرہ بری طرح جھلسا ہوا تھا….
تم اسکی شناخت کرانے آئے ہو “وہ بری طرح صفدر پر جھپٹا…
.. ہمہم اپنا کام کر رہیں ہیں سر.. آپ خود پر قابو رکھیں… جس طرح ہمیں رپورٹ ملے گی اسی طرح کام ہو گا…” صفدر نے ٹکا سا جواب دیا.. تو آبان… بھنا کر رہ گیا…
بھائ حرم نے ساڑھی پہنی تھی اس دن پیلے رنگ کی “فیضان کچھ یاد آنے پر بولا تو.. سب کی نظر اس لڑکی کے کپڑوں پر گئ.. اور جیسے سکھ کے سانس آئے کیونکہ وہ لڑکی جینز شرٹ میں تھی…
نہیں یہ وہ نہیں ہے “رضا صاحب… بولے تو… صفدر سر ہلا کر اپنی ٹیم کے ساتھ انھیں دو لفظ تسلی کے بول کر.. وہاں سے نکل گیا.. جبکہ آبان… کا دماغ اسوقت تیزی سے حرکت کر رہا تھا…
فیضان.. اس رات تم نے.. اسکے ساتھ اسکے ایک فرینڈ کی بات کی تھی وہ.. ہاں وہ کہاں پر ہے…” آبان اچانک ہی بولا وہ سب اپنی گاڑیوں کیطرف بڑھ رہے تھے..
بھائ وہ.. اسکے تو.. ہاتھ ٹوٹ گئے تھے… وہ اب اپنے گھر پر ہی ہوتا ہے..” اسنے بتایا.. تو.. آبان نے فیضان کی جانب دیکھا..
اسی رات “
جی بھائ فیضان بول کر گاڑی میں بیٹھ گیا…
مجھے ملنا ہے اس سے کل چلو گے میرے ساتھ “آبان گاڑی کی ونڈو پر جھک کر بولا تو فیضان نے سر ہلایا…
…………………….
حرم جب سے ہوش میں آی تھی.. کھانا ہی نہیں کھا رہی تھی جبکہ شاہ میر کے عتاب سے بچنے کے لیے.. سکینہ اسکی ہتھ جوڑیاں بھی کر چکی تھی…
بی بی کھا لیں صاحب ام کو نہیں چھوڑے گا” وہ رونے کو ہو رہی تھی..
اچھا ہے نہ چھوڑیں جب میں نے کھانا مانگا تھا دیا تھا تم نے.. اب اپنی باری آئ تو میں بی بی بن گئ.. چلاک عورت” وہ اپنے مخصوص انداز میں بولی…
بی بی ام معافی مانگتا ہے.. “سکینہ نے ہاتھ جوڑے… تو حرم نے منہ پھیر لیا..
میرا دل بہت سخت ہے.. “وہ اترا کر بولی..
میں نے چاچو کے پاس جانا ہے.. تبھی معاف کروں گی جب انکے پاس لے جاو گی” وہ بولی تو سکینہ کا بس نہیں چلا اپنے بال نوچ لے…
بی بی ام کیا کر سکتا ہے”
تم جا سکتا ہے “وہ غصے سے بولی تو سکینہ کا منہ ہی اتر گیا.. جبکہ حرم نے سامنے دیکھا تو شاہ میر ہاتھ پر ہاتھ باندھے.. دیوار سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا.