128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

حرم اسکی اپنی کلائ پر گرفت سے ہی گھبرا چکی تھی.. وہ بہت تیز قدم اٹھا رہ؛ تھا جبکہ حرم کو لگا.. وہ اس سے زیادہ اسکے پی چھے نہیں بھاگ سکتی…. م… میر”اسنے شاہ میر کو رکنا چاہا مگر وہ آندھی طوفان کیطرح اپنے کمرے می‌ داخل ہوا.. اور حرم کو دروازے کے ساتھ چیپکا کر.. وہ بلکل اسپر چھا گیا… دونوں ہاتھ اسکے ارد گرد دروازے پر رکھ کر شاہ میر اسے شدید گھور رہا تھا جبکہ حرم کی سانسیں ہی رک چکیں تھیں وہ مزید دروازے میں گھس جانا چاہتی تھی مگر افسوس.. دروازے میں وہ گھس نہیں پا رہی تھی.. مگر حرم میں اسکے اتنے بگڑے تیروں کو برداشت کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی تبھی… اسکی پلیں بھیگنے لگی.. اور شاہ میر نے اسکا منہ اپنی انگلیوں کی گرفت میں لے لیا.. شاہ میر کی گرفت سخت ہرگیز نہیں تھی.. مگر حرم کو.. اس وقت کچھ بھی سجاہی نہیں دے رہا تھا تبھی اسے شاہ میر کی گرفت فولادی ہی لگی..
ایک.. آنسو بھی نہ گیرے… ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا “وہ اسکے تھر تھر کانپتے.. گلابی لبوں کو دیکھتے ہوئے بولا… تو حرم کی آنکھ سے کنٹرول کے باوجود آنسو ٹوٹ گیا…. جبکہ شاہ میر.. نے اسکی سانسوں کو جنونی انداز میں قید کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ… اس سے برا حرم کے لیے حقیقت میں کوئ نہیں….
حرم.. اسکی جنونیت کے آگے.. چھوئ موئ ہو رہی تھی جبکہ کمرے کی معنی خیزی وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی…
حرم کو اپنی سانس بند ہوتی.. محسوس ہوئ تبھی اسنے ایک کمزور سے کوشش کی.. مگر شاہ میر.. نے جیسے نہ روکنے کی قسم کھائ تھی…
حرم کی ایک سے مسلسل آنسو ٹوٹ رہے.. تھے.. بالآخر شاہ میر نے اسکے نازک لبوں کو اپنی قید سے آزاد کیا…. اور… اسکا پہلے سے زمین میں لٹکا دوپٹہ.. کھنچ کر نیچے پھینک دیا….
اسکی آنکھوں میں الگ ہی تاثر تھا جو حرم کی روح فنا کر رہا تھا..
می… میر”حرم بقائیدہ بچوں کیطرح رونے لگی تھی.. مگر شاہ میر اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا.. وہ حرم.. کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ کر اسکا سر پیچھے کر کے.. اب اسکی گردن کو اپنی جنونیت کا نشانہ بنا رہا تھا…..
شاہ میر کے دانت… اپنی گردن پر جا بجا محسوس کر کے.. حرم کی مدھم سی سسکی نکلی.. جسے ش؛ ہ میر نے ہاتھ رکھ کر دبا.. دیا….
حرم سے اب قدموں پر کھڑا ہونا شدید موحال تھا…. وہ لہرا کر گیرتی کہ شاہ میر صاحب نے اس ناتواں جان پر رحم کھانے کی سوچی… اور اب وہ.. بچوں کیطرح روتی ہوئ حرم کو توجہ سے دیکھ رہا تھا…
اسک اچہرہ بلکل سرخ ہو رہا تھا… آنکھیں بھی رونے کے باعث سرخ تھیں.. جبکہ وجود کی کپکپاہٹ… ایسی تھی جیسے وہ؛؛ پنے سامنے کسی جن کو کھڑا دیکھ رہی وہ..
گردن پر جا بجا نشان…
شاہ میر… اپنا بدلہ لے کر اب پرسکون تھا…
صبح مارے گئے.. ہلکے سے خفگی بھرے تھپڑ.. کی سزا حرم کو کافی سے زیادہ مہنگی پڑی تھی… وہ شاہ میر کیطرف نہیں دیکھ رہی تھی.. دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو آنکھوں ہر رکھے وہ آواز کے ساتھ رو رہی تھی.. جبکہ شاہ میر کی توجہ اب بھی اسکے ہونٹوں پر تھی… جو گلابی سے.. سرخ ہو چکے تھے…
بار بار مجھے یہ احساس مت دلایا کرو میں نے ایک بچی سے شادی کر لی ہے”وہ بے زاریت سے بول؛.. تو حرم نے ہاتھ ہٹا کر.. اسکی جانب دیکھا….
کیوں کیا ہے آپ نے میرے ساتھ ایسا… ” وہ کافی غصے میں لگ رہی تھی… شاہ میر سے اپنا آپ چھڑوا کر وہ جھنجھلا کر اس سے دور ہوئ.. اور گردن میں ہونے والی ہلکی پھلکی سی تکلیف.. کو ہاتھ پھیر کر ختم کرنے لگی..
جبکہ شاہ میر.. صوفے پر… گیر کر… اپنا سر.. صوفے کی پشت سے لگا چکا تھا….
میر صاحب آپ سے پوچھ رہی ہوں… کہاں سے گھستہ ہے آپ میں یہ جنگی بھوت.. “وہ حد سے زیادہ غصے میں تھی….
تبھی اونچی او؛ ز میں اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوتی بولی…
تمھارا زائقہ اچھا ہے” میر کے الٹے ہی جواب پر وہ بلش.. کر گئ… جبکہ پلکوں پر عجب.. تھرتھرانے کا رقص جاری تھ آ….
اسکی بولتی تو اتنے میں ہی بند ہو چکی تھی..
تبھی.. میر اپنے چہرے پر چھلکنے والی مسکراہٹ کا گلہ گھونٹا.. پھر سے.. سر صوفے کی پشت پر لگا گیا….
اسکے دماغ میں اچانک ہی آبان.. کا تصور آیا تھا…
کچھ عجیب تھا وہ شخص میں….
جو شاید اسکی نظروں سے اوجھل تھا….
وہ ونیزے کے ساتھ اسکے انداز پر… کافی سے زیادہ حیران تھا..
کہیں سے بھی وہ اپنی بول چال سے… ڈاکٹر معلوم نہیں ہوت؛.. تھا.. کچھ تو راض تھا…
وہ اسی الجھن کو سوچتے ہوئے دماغ میں سب ریوائنڈ کرنے لگا…
حرم…نے اپنی حالت پر قابو پا کر سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا جو.. آنکھیں بند کیے صوفے پر تقریب لیٹا ہوا.. تھا..
اسنے کبھی نہیں سوچا تھا اسکی زندگی میں اتنا بھرپور مرد آئے گا….
جو حد سے زیادہ سڑو… اور کھڑوس ہو گا…
جو صرف اپنی مرضی کرنا جانتا ہو گا…
وہ جتنی ضدی تھی… یہ بات تو رضا صاحب سے زیادہ بہتر کوئ نہیں جانتا تھا.. مگر اسکی ضد اس شخص نے توڑ دی تھی…
کیونکہ وہ خود اتنا ضدی تھا.. کہ حرم… کچھ کر نہیں پاتی تھی…
مگر اسے… اتنی ڈھیر ساری برائیوں کے باوجود.. اس شخص سے محبت ہو جائے گی.. یہ تو حرم نے سوچا بھی نہیں تھا…
جو ل|کی اپنے گھر سے ایک دن دور نہ رہے وہ آج دو ہفتوں سے اس آدمی کے ساتھ تھی.. اور اس کے مختلف موسم دیکھ چکی تھی..
کبھی وہ رم جھم کیطرح اسپر برستا تھا…. تو کبھی طوفان کیطرح اسکو بکھیر دیتا تھا….
وہ عجیب تھا… دھوپ چھاو سا مزاج….
جبکہ.. چہرہ اسکا حرم کے سامنے.. ہمیشہ سنجیدہ ہی رہا تھا…
مگر وہ مسکراتا ہوا.. بھی بہت پیارا لگتا تھا …
حرم سکون سے اسپر تجزیے جر رہی تھی… جبکہ… شاہ میر اپنی ہی سوچوں میں گم تھا..
اچھی طرح اسکا ایک ایک نقش دیکھ کر جب حرم.. کو احساس ہوا شاہ میر کی اسپر واقع توجہ نہیں تو اسے غصہ سا.. آیا.. ابھی تو اسکو کھانے پر تلا تھا.. اور اب کچھ بتائے بغیر.. سکون ے پڑا.. ہے…
حرم نے دونوں ہاتھ کھولے… اور دھڑم بیڈ پر جا گیری… اور ساکت ہو گئ…
جبکہ شاہ میر ایکدم.. جیسے ہوش میں آیا.. تھا
حرم “وہ گھبراتا ہوا تیر کی تیزی سے.. حرم تک پہنچا… یہ دن میں دوسری بار… وہ بے ہوش ہوئ تھی.. شاہ میر.. کو سچویشن کافی خراب لگی..
حرم…” اسنے حرم کا چہرہ تھپتھپایا…
ایک پل میں ہی اسے خود پر بھی غصہ آیا.. کیا ضرورت تھی بھلہ.. اسے ٹیز کرنے کی…
اسنے اپنا موبائل نکالا.. اور فواد کو کال ملانا چاہی.. مگر اسکے موبائل پر پاسورڈ تھا.. اور یہ بات اسنے آج نوٹ کی تھی کیونکہ.. وہ صرف آنے والی کال اٹینڈ کر رہا تھا.. خود سے کال کرنے کی یہ معبا>ل کھولنے کی اسنے زہمت نہیں کی.. تھی.. وہ گھور کر.. ایک نظر حرم کو دیکھنے لگا..
یہ اسی لڑکی کی کارستانی.. تھی..
مگر کیا اسنے دوائ نہیں لی تھی جو ایکدم بےہوش ہو گئ..
اسنے حرم.. کا گال تھپتھپایا..
حرم.. چندا آنکھیں کھولو “اسنے.. اسکے گالوں ہر نرمی سے ہاتھ پھیرہ….
جبکہ حرم جو پانی ہنسی کنٹرول کرنے میں سرخ ہو رہی تھی ایک آنکھ کھول کر شاہ میر کیطرف دیکھنے لگی.. جس کے چہرے پر واضھ گھبراہٹ تھی اور اب گھبراہٹ کے ساتھ شاہ میر.. کے تیور بدلنے لگے… تھے…
یہ جو تمھاری حرکتیں ہیں نہ… “شاہ میر ابھی غصے سے بات مکمل کرتا.. کہ حرم نے… ہنستے ہوئے اسکی بات مکمل کی..
آپکی جان لے لے گی.. رائٹ” وہ ہنس رہی تھی شاہ میر نے.. واو کے انداز میں لبوں کو گول کیا. اور اسکے کان پر جھک.. کر…
کسی تمھاری جان میرے ہاتھوں لے لے گی.. “اسکی گردن پر انگلی چلاتے ہوئے.. وہ انگلی کے سفر.. کو حدود سے پار کرنے لگا.. جبکہ اسکی کان کی لو کو وہ کاٹ چکا تھا…
تمھیں میرے ساتھ… کیے گئے.. ہر فضول عمل کی سزا ملے گی….
یاد رکھنا… اور اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھو… ورنہ.. میرے ہاتھ بے قابو ہوتے دیر نہیں لگے گی… “وہ حرم کی بھاری ہوتی سانسو ں سے نظریں.. چرا رہا تھا
پاسورڈ بتاو…” اسنے آئ برو اچکا کر حرم کی جانب دیکھا جس کو دماغ بلکل مفلوج ہو چکا تھا…
حرم “شاہ میر نے سختی سے.. کہا… تو حرم ہوش میں آئ مگر پاسورڈ بتاتے ہوئے بھی اسے شرم آ رہا تھی…
م… میں… میں لگا دیتی ہوں”وہ سرخ ہوتی بولی….
لگاو” شاہ میر اسے مزید تنگ کیے.. شرافت سے بولا.. اور حرم کی کانپتی انگلیوں کی ٹائیپینگ پر دیکھا.. تو حرم جان.. کے نام کا پاسورڈ… شاہ میر… کو بلکل حیرت نہ ہوئ وہ بغیر کسی ریسپونس کے
اسکے پاس سے آٹھ گیا…
جبکہ حرم… شاید اب رات بھر اس سے بات کرنے قابل نہیں رہی تھی…. وہ سزا ہی ایسی دے جاتا تھا… کہ… وہ سدھ بدھ گوا دیتی تھی
……………….
شہروز آج ان نظروں میں گڑھ کر مر چک اتھا جو اسکی ماں بہن یہ بھائ نے اسپر ڈالی….
جبکہ لالا کے الفاظ اسکے دماغ پر ہتھوڑے کی مانند برس رہے تھے.. کسی نے اسے کچھ نہین کہا تھا.. سب لونج میں سے جا چکے تھے.. جبکہ وہ… لاونج کے صوفے پر سر تھامے.. جبکہ ونیزے… دوسرے صوفے پر بیٹھی مسلسل رو رہی تھی… شاید آج زندگی اسے سب سے بڑا سبق دے چکی تھی…
وہ شرمندگی کی شدید گھرائیوں میں تھی…
اب اور نہیں”شیروز ٹیمپر شدید لوز ہو چکا تھا…
وہ جان گیا تھا.. کہ ونیزے وہ لڑکی بلکل نہیں ہے.. جو اسکے ساتھ رہے.. اور… وہ تو ایسی لڑکی ہے جو صرف اسے نیچا دیکھا نے جے لیے.. ایک لڑکے کی قربت میں تھی…
یہ بات طے تھی… وہ.. آگ اور پانی تھے جو ایک جگہ نہیں رہ سکتے تھے.. شہروز کی نفرت پل کے پل میں اس سے بڑھ چکی تھی تبھی اسنے فون اٹھایا.. اور اپنے دوست کو کال ملائ..
ہاں ہارون.. انکل فری ہوں گے “اسنے… پوچھا.. آواز میں… ضبط.. تھا…
دوسری طرف سے کیا جواب ملا ونیزے نہیں جانتی تھی..
یار پلیز انکل سے ایک کام کرا دو.. مجھے ڈائورس پیپیر ریڈی کرنے ہیں” اسکی بات پر ونیزے کے وجود کو ایک اور جھٹکا.. لگا…
نہیں”اسکے لب تھرتھرائے…
وہ نہیں جانا چاہتی تھی کہیں… اب… مگر……
کیا یہ اسکی سزا تھی.. اتنی بڑی سزا….
ونیزے… کی ہچکیاں بند گئیں….
اوکے یار پرسو تک میرا کام لازمی کرا دینا… تھینکیو “اسنے کہہ کر کال کٹ کی….
اور اپنی جگہ سے اٹھا…
شہروز.. پلیز.. “ونیزے کے بولنے کی دیر تھی شہروز چیل کیطرح اسپر جھپٹا.. اور اسکا دوائیاں گال.. ہے در پے پڑنے والے.. پانچ تھپیڑوں سے سرخ کر دیا…
یہ زندگی میں پہلی بار اسکو کسی نے مارا.. تھا…
بتا دیا نہ تم نے کہ ہاں ہو تم ایک طوائف کی بیٹی…
وہ بولا.. تو ونیزے… سٹل رہ گئ…
یہ پہچان تو.. وہ خود پر سے کھرچ کر پھینک دینا چاہتی تھی…
ارے ونیزے بی بی.. طوائف کی بیٹی طوائف ہی ہوتی ہے.. میرے اس پاک.. گھر میں تمھاری جگہ نہیں ہے.. تم کوٹھے کو چمکاو….
ضرور تمھاری وہاں قیمت… ایسی ہو گی.. کے کوئ خرید نہ سکے مگر مجھے اس عزیت سے چھٹکارہ دو کہ تم میری بیوی ہو… “وہ دھاڑا.. جبکہ.. سائیڈ لیمپ اٹھا کر.. زمین پر دے مارا…
ونیزے کا وجود حرکت کرنا بھول گیا.. تھا…
تمھیں طلاق دے کر.. میں خود کو پرسکون کرنا چاہتا ہوں.. تم اس قابل نہیں ہو میری بیوی بنو….
اور یہ.. یہ لباس” اسنے اسکے کوٹ.. سے چھلکتی.. شرٹ.. کو اپنی مٹھی میں.. جکڑا.. ونیزے پتے کی طرح ہل گئ….
میڈیم مین پہننے کی بھی کیا ضرورت ہے….
اتار دو سب… ” اسنے اسکا.. کوٹ اتار کر دور اچھال دیا….
لیمپ کے گیرنے کی آواز پر.. اماں.. سمیت.. شاہ میر.. شانزے.. اور شاہ میر کی پیٹھ کے پیچھے چھپی حرم بھی لاونج کے دروازے پر آ گئے تھے.. مگر اندر.. ہوتے معاملے کو.. دیکھ کر وہ سب وہاں سے ہٹے…
حرم پوری فلم دیکھنی ہے.. بیبی”حرم جو ونیزے کو دیکھ کر.. حق و دق.. تھی… شاہ میر کی بات ہر سٹپتا گئ..
دیکھ تو وہ پہلے بھی چکی تھی مگر تب شاہ میر نے اسے حیران ہونے کا موقع نہ دیا…
شاہ میر اسکے بلش کرنے پر.. اپنے سر پر ہاتھ مار کر رہ گیا…
اور اسکا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ روم میں لے گیا…
ونیزے.. بغیر کوٹ کے سلیو لیس.. شرٹ میں کھڑی اب بھی ساکت تھی.. اسکے آنسو جیسے شہروز کے لفظوں میں گم ہو چکے تھے…
کاش میں تمھارا قتل کر دیتا.. “شہروز نے نفرت سے اسکے وجود کو دیکھا.. اور پیچھے دھکا دے کر.. وہ اسکے کوٹ پر.. اپنے جوتے کی دھول اڑاتا.. وہاں سے نکل گیا.. جبکہ ونیزے کو..
اسوقت…. اپنا آپ… ایک چٹیل میدان میں معلوم ہوا. جو ایک آندھی سے ریزہ ریزہ ہو چکا تھا…
وہ اپنے آپ کو غور سے دیکھنے لگی…
اور پھر سامنے لگے آئینے… پر دیکھ کر.. وہ خود کو نوچ نے لگی….
جبکہ.. اسکی سسکیوں اب چینخوں میں بدل رہیں تھیں..
اماں جو اپنے کمرے میں بے چینی سے ادھر ادھر ٹھل رہیں تھیں ان سے مزید.. یہ سب برداشت نہ ہوا…
غلطی سب سے ہوتی ہے.. اور اس کی آنکھیں بتا رہیں تھیں.. وہ اپنی غلطی ہر بری طرح نادم ہے….
تبھی وہ.. لونج میں آئیں.. اور ونیزے کا پاگل پن دیکھ کر اس تک پہنچی..
کیا کر رہی ہو یہ…” انھوں نے.. اسکو روکنا چاہا….
نہیں مجھے… مجھے مت روکیں.. میں طوائف نہیں.. ہوں…
نہیں ہوں میں….
وہ وہ ٹھیک کہتے ہیں.. مجھے.. مر جانا چاہیے.. اسطرح.. مجھ پر سے.. یہ داغ ہٹ جائے گا..” وہ پاگولں کیطرح.. اب بھی خود کو نوچتی چلا رہی تھی..
اماں.. نے پریشانی سے اردگرد دیکھا.. وہاں کوئ نہیں تھا..
ادھر دیکھو…
نہیں ہو تم طوائف.. تم میرے بیٹے.. شہروز کی بیوی ہو.. سمھجی…
غلطی تم سے ہوئ ہے.. تم معافی منگو.. اللہ سے.. وہ معاف کر دے گا…. اور جب اللہ معاف کر دے.. تو وہ بندے کے دل کو بھی نرم کر دیتا ہے.. اسطرح خود کو مارنے سے کچھ فائدہ نہیں”انھوں نے اسکے بالوں کو چہرے پر سے ہٹایا…
ونیزے نے نفی میں سر ہلایا…
وہ… طلاق.. دے گے” اپنے اندر کا.. سب سے بڑا خوف. اسنے انکے سامنے رکھا.. تو.. وہ.. اس لڑکی.. پر ایک پل کے لیے مسکرا دیں….
نہیں دے گا… اٹھو تم “اماں نے… اسکو اٹھایا…
ونیزے سے چلا نہیں جا رہا تھا… ہیل پہننے کی وجہ سے… اسکے آہوں میں موچ آ چکی تھی…
تبھی وہ لنگڑا کر چل رہی تھی…
اماں نے اسے بیڈ پر بیٹھایا…
ونیزے اب بھی رو رہی تھی.. اسکی آنکھ سے آنسو.. نہیں جا رہا تھا…
اٹھو یہ لباس تبدیل کر لو “انھوں نے ایک سفید رنگ کا اپنا لباس اسکے ہاتھ میں تھمایا.. تو وہ انکو دیکھ کر رہ گئیں..
اوہ کوئ خوبصورت عورت نہیں.. تھی.. مگر اسوقت اس عورت کے چہرے کا نور.. ونیزے.. کو اپنا آپ.. بدصورت ترین.. لگا..
اسنے اماں کے ہاتھ تھا. لیے. اور انپر سر رکھ کر. رونے لگی..
آپ بہت خوبصورت ہیں”وہ بولی تو.. اماں.. نے ایک قدم. اس سے دور کیا….
یہ بات انھیں صرف شاہ میر کہتا تھا.. اور ایک بار تو اسنے ایسا کلمہ.. لیا کہ… اماں نےا سے جھڑک دیا.. تب وہ منہ بسور.. کر رہ گیا.. مگر اب بھی وہ لاڈ میں انکی تعریفوں.. کے پل باندھتا تھا.. مگر وہ سب انھین ہمیشہ جھوٹ لگیں..
اور آج.. اس لڑکی کے منہ سے سن کر.. انکے دل کی کیفیت.. عجیب ہوئ…
مجھے آپکے جیسا بننا ہے.. آپکے جیسی خوبصورتی چاہیے مجھے بھی “ونیزے سسکی.. تو.. اماں… نے. ایک گھیرہ سانس لیا..
اچھا اٹھو….
اور جا کر لباس تبدیل کرو…” انھوں نے اسکو کہا تو.. وہ سر ہلاتی وہاں سے آٹھ کر واشروم میں آ گئ.. اپنا آپ اپنا حولیہ شہروز کے الفاظ سب یاد کر کے وہ ایک بار پھر بے اوسان رو دی..
لباس تبدیل کر کے….. وہ بیس منٹ میں باہر آئ.. تو.. اس سے دوپٹہ سمبھل ہی نہیں رہا تھا.. مگر اسنے.. پوری طرح سختی سے اپنے ہاتھوں میں جکڑا ہوا تھا..
اماں مسکرا کر اسکے نزدیک ہوئیں… اور.. دوپٹہ اسکے شانوں پی ر پھیلا کر اسکے بال درست کیے..
تم بہت پیاری.. لگ رہی ہو “اماں نے اسکی گوری رنگت.. اور کھڑے نقوش.. کو غور سے دیکھا..
ونیزے. کو یہ الفاظ. تیر کیطرح لگے…
وہ بدصورت تھی.. اور جو اب اسے پیارا کہتا.. یہ صرف ادپر طنز تھا.. اور یہ طنز وہ ہر پل ڈیزرو کرتی تھی…
وہ کچھ نہ بولی.. بس بھیگی پلکوں سے انھیں دیکھنے لگی…
وضو کیا ہے تم نے “اماں نے اسکی حالت دیکھ کر بات تبدیل کی…
وہ.. انکی جانب دیکھنے لگی.. اور شرمندگی سے سسکی..
مجھے نہیں آتا…. “
اماں نے ایک لمہے اسکی صورت دیکھی…
جو رو رہی تھی.. اور رونے کے باعتلث اسکی آنکھیں سوج کر اور بھی پیاری لگ رہیں تھیں…
کوئ بات نہیں میں سیکھا دیتی ہوں… “
امان نے کہا.. اور اسے واشروم میں لے کر چل دیں.
………………………
شاہ میر حرم… شانزے… جبکہ شہروز بھی ناشتے کی ٹیبل پر تھے جبکہ اماں… اور ونیزے جس کا ذکر گھر میں کوئ نہیں کرنا چاہتا تھا.. وہ نہین تھی سب خاموشی سے اماں کا ویٹ کر رہے تھے..
م.. میر” حرم میر کے کان میں تقریب گھستے ہوئے بولی…
میر نے. اس سے فاصلہ بنا کر گھورا تو وہ منہ بسور کر رہ گئ…
بھوک لگی ہے..” وہ بھرائ ہوی آواز مین بولی تو میر اسکی شکل.. حیرت سے دیکھنے لگا.. یہ لڑکی پل میں آنسو کیسے نکال لیتی تھی…
صبر کرو “میر نے کہا.. تو حرم.. نا دانستگی مین.. چمچ بجانے لگی.. شہروز اور شانزے نے اسکی جانب دیکھا. جبکہ شاہ میر تو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا…
ابھی وہ رونا سٹارٹ کرتی… کہ وہ تینوں ہنس پڑے.. جبکہ ماحول کی کثافت.. کافی کم ہو گی..
سو کیوٹ بھابھی” شانزے نے.. اسکے گال ہر چتکی کاٹی جو سرخ ہو رہی تھی.. شاہ میر نے پیار سے اپنی بہن کو دیکھا…
بھابھی آپ.. کہاں تک پڑھی ہین میرے خیال سے آپکی سڈدی تو ابھی کنٹینیو ہو گی.. تو آپ میرے کالج کو جائن کر لیں” شانزے نے.. حرم کو مشورہ دیا.. جبکہ حرم کے گلے میں پڑھائ.. اٹک گئ…
یونی جانا اسکے لیے شروع دن سے محال تھا.. اللہ اللہ کر کے جان چھٹی تھی..
ن.. نہیں.. وہ اب میری شادی.. ہو گئ ہے نہ” حرم نے جیسے اسے بتایا.. شاہ میر.. سب سمجھتے ہوئے آئ برو اچکا کر اسکی صورت تکنے لگا.. جبکہ شہروز نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے چہرہ پھیر لیا..
اچھا….. ہو گئ تمھاری شادی” شاہ میر.. نے سنجیدگی سے پوچھا.. ھرم کی پلکین پھیر سے بھیگنے لگی..
لالا پلیز یار.. یہ.. اکڑو پولیس والا بن کر ہماری بھابھی کو ٹریٹ نہ کریں” شہروز بالآخر بولا.. تو شاہ میر.. نے داد دینے والے انداز مین گلی بجائ…
کل سے تم یونی جا رہی ہو… انڈرسٹوڈ”شاہ میر نے سختی سے کہا.. حرم سر جھکا گئ… جبکہ ناراضگی سے وہ ٹھیڑی نظرو‌ سے میر کو دیکھ رہی تھی…
شانزے اور شہروز کے پاس ہنسنے کے سوا کوئ چارا نہیں تھا..
شہروز… تم خود.. دونوں کو پیک اینڈ دروپ دو گے.. اور میں کوئ کوتاہی برداشت نہیں کروں گا” اسنے.. جیسے اسے وارن کیا…
تو شہروز نے سر ہلایا.. تبھی اماں کے کمرے سے.. ونیزے.. اور اماں نکلیں…
ونیزے کا حولیہ حرم.. منہ کھولے دیکھ رہی تھی.. جبکہ ان تینوں کو نے ایک نظر اماں کو دیکھ کر سلام کیا.. اور سر جھکا لیے..
حرم نے.. اماں کو دیکھا.. جو ونیزے کے شانے پر ہاتھ رکھے.. اسے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا رہین تھیں.. نو سو چائے کھا جر بیلی حج کو چلی.. “شہروز نے نفرت سے.. کہا.. جو ٹیبل پر موجود.. شاہ میر اور.. ونیزے نے سنا.. ونیزے کا دل.. بھر آیا.. جبکہ پلیکں بھیگ گئیں تھیں..
اسے ان تینون کا سلام کتنا اچھا لگا.. تبھی کچھ دیر بعد کنفیوز سی ہوتی.. اسنے بھی.. ایکدم سلام جھاڑا…
تو.. سب کی نظر اسپر اٹھی.. جن سے ایکدم وہ گھبرا گئ تھی…
اس سے پہلے وہ رونا شروع کرتی.. اماں مسکراتی ہوئیں اسکے نزدیک گئ…
اور اسکے سر کا بوسہ.. لیا.. کیسی ہو ڈول… “انھوں نے لاڈ سے پوچھا تو.. حرم کا سانس بھال ہوا…
اور اسنے خوشی سے سر اثبات میں ہلایا…
میری بیٹی سب سے پیاری ہے” اماں نے حرم کے گال پر ایک بار پھر پیار کیا اور جگہ پر بیٹھ گئی..
دیکھا بچو “حرم بے ساختہ بولی…
تو ناشتہ کرتے ان تینوں کے قہقے… خان ہاوس کی درودیوار میں گونج گئے…
جبکہ حرم نے منہ بسور لیا.. اماں بھی ہنس دیں….
ناشتہ کرو خاموشی سے.. جب سے میری بہنیں آئیں ہیں ہنسنا بند نہی.ں ہو رہا تم سب کا” امان نے ناراضگی سے.. کہا تو شہروز نے اعتراض کیا..
اماں بہنوں نہیں بہو… بھابھی بہت کیوٹ ہیں” اسنے حرم کی طرف دیکھا نظروں میں عزت ہی عزت تھی…
ونیزے سے کچھ بھی کھایا نہیں جا رہا تھا.. اسے.. حرم کی قسمت پر رشک آنے لگا..
شہروز ناشتہ کرو “امان نے کہا تو وہ جاموشی سے ناشتہ کرنے لگا.. جبکہ حرم اپنی تعریفون پر.. پھولے نہیں سما رہی تھی..
اور شاہ میر کو اسوقت وہ بہت پیاری لگ رہی تھی..
اگر سب یہان نہیں ہوتے اور وہ شاہ پیلس میں ہوتا تو ضرور اسکے پیارے لگنے پر اسے… بڑی.. پیاری سزا دیتا…
………………