Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 14
Rate this Novel
Episode 14
دیوانی یار دی
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 14
پولیس اہلکاروں سمیت رضا اور آبان اندر آئے تو.. چارو طرف پولیس پھیل گئ.. جبکہ گھر کی تلاشی لی جانے لگی…
مگر چند ہی منٹوں میں انھیں معلوم ہو گیا کہ یہاں کوئ بھی نہیں ہے…
کمشنر صاحب… سمیت اب رضا آبان.. خود پورے گھر کی تلاشی لینے لگے مگر انھیں نہ وہاں کوئ ملنا تھا اور نہ ہی کوئ ملا.. تو آبان ہاتھ پر مکہ مار کر رہ گیا…
میری اطلاع غلط نہیں ہو سکتی “آبان غصے سے بولا تو کمشنر صاحب نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا..
مسٹر آبان آپ کو کیا لگتا ہے ہم فارغ ہیں.. جو آپکے نے پولیس کو مزاق بنا لیا ہے…” کمشنر صاحب کا غصہ دیکھ کر رضا بھی خاموش ہو گئے…
سر یہ نا ممکن ہے میری اطلاع کے مطابق اسنے حرم کو ادھر ہی چھپا رکھا تھا.. اور یہاں… محسوس بھی ہو رہا ہے.. کہ یہاں پر لوگ تھے” اسنے چیزوں اور ناشتے کی میز کو فوکس کرتے ہوئے کہا..
مسٹر آبان…. کسی کے گھر پر ریڈ دالنا وہ بھی بنا کسی قصور کے جانتے بھی ہیں آپ کیا بن سکتا ہے الٹا پولیس والے پکڑے جائیں.. اور شاہ میر کو میں اچھے سے جانتا ہوں…. وہ اپنے ملازموں تک کو پروٹیکٹ کرتا ہے..
اور اسے اچھے سے معلوم ہو گا یہاں یہ سب ہونے والا ہے.. مگر یہ سب باتیں الگ مجھے افسوس ہے کہ میں نے آپ لوگوں کی باتوں میں آ کر ایک اچھے خاصے.. آفیسر کو ٹرمیننٹ لیٹر بھیجا…. “وہ غصے سے بھنا رہے تھے جبکہ آبان اس چالاک انسان.. کا خیالوں میں ہی گلہ دبا چکا تھا کیونکہ حقیقت میں تو یہ نا ممکن تھا ہی…
رضا صاحب… اب یہ کام آپ پولیس پر چھوڑ دیں وہ انھیں خود ہی.. ڈھونڈ لے گی.. بلکہ.. یہ کیس اب.. میں خود شاہ میر کے حوالے کروں گا.. اور امید رکھتا ہوں اگلی بار آپ لوگ ہمارا وقت ضائع نہیں کریں گے “
انھوں نے کہا اور وہاں سے سب کو لے کر نکلے جبکہ آبان اور رضا.. بھی باہر نکلے جہاں فیضان منتظر نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا مگر حرم ان کے ساتھ نہیں تھی رضا صاحب کے شانے وقت کے ساتھ ساتھ ڈھلتے جا رہے تھے
………………..
شاہ میر نہ چاہتے ہوئے بھی حرم کو گھر لے آیا… وہ نہیں جانتا تھا اسوقت اسنے اماں کو کیا کہنا ہے….
مگر قسمت نے شاید اسے فل وقت ان سوالوں سے بچا لیا تھا….
وہ رات گئے گھر میں داخل ہوا.. تھا… حرم.. اسکے ساتھ چپکتی جا رہی تھی جبکہ آج شاہ میر کو حرم کا کوئ بھی انداز برا نہیں لگ رہا تھا… وہ حرم کے گرد بازوں پھیلا کر اسے.. اندر لایا تو لاونج میں کوئ نہیں تھا.. اسنے شکر ادا کیا.. کہ وہ بچ گیا…
کم از کم اس وقت کے سوالوں سے..
اور وہ ڈائرکٹ حرم کو اپنے روم میں لے آیا.. اور دروازہ بند کر دیا.. جبکہ حرم اتنا بڑا کمرہ دیکھ کر.. حیران تھی.. یہ کمرہ شاہ پیلس کے کمرے سے زیادہ خوبصورت تھا.. اور سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ اس میں میرر وال پر شاہ میر کی پوری وال جتنی تصویر بنی ہوئ تھی جو اس کمرے کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی….
یہ بہت خوبصورت ہے “حرم نے ہر چیز کو اشتیاق سے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ شاہ میر اسی کی جانب دروازے سے ٹیک لگائے دیکھ رہا تھا…
یہ احساس ہی اسکے لیے خوش آئند تھا کہ حرم اسکے پاس تھی جبکہ رضا خالی ہاتھ تھا…
اور یہ تو بہت ہی خوبصورت ہے” وہ شاہ میر کے سحر میں جکڑی.. میرر وال پر موجود اسکے چہرے کو چھونے لگی.. اور ہاتھ اسکے لبوں پر جا کر ٹک گئے وہ ایک ٹک.. شاہ میر کی تصویر کو جبکہ شاہ میر اسے دیکھ رہا تھا….
اور پھر دو چار قدم چل کر اموہ اسکے نزدیک آیا… حرم کو اپنی حرکت پر شرمندگی ہوئ.. تبھی وہ جھجھک کر دور ہونے لگی.. کہ شاہ میر نے وہیں اسکا ہاتھ پکڑ لیا…
اس چہرے پر سب سے زیادہ تمھیں کیا چیز اچھی لگی “اب وہ بھی اپنی تصویر کو دیکھ رہا تھا.. جبکہ حرم کے ہاتھ کانپنے لگے…
کیونکہ شاہ میر اسکے ساتھ بلکل چیپکا کھڑا تھا…
کیا یہ آنکھیں” اسنے حرم کی انگلی اپنی تصویر میں موجود آنکھوں پر رکھی حرم سے کچھ بھی بولا نہ گیا…
یا یہ ہونٹ” وہ اسکے کان پر جھک کر دھیمی آواز میں بولا… تو حرم کو اسکی گرم سانسوں سے آج شدید گھبراہٹ ہوئ…
بولو نہ حرم… “شاہ میر نے اسکی گردن پر سے بال.. ہٹائے… اور اسکی نازک گردن پر ستم ڈھانے لگا.. جبکہ حرم… پتے کی مانند کانپتی رہ گئ….
کیا میں تمھیں اچھا نہیں لگتا حرم” وہ ایک جھٹکے سے اسکا رخ اپنی جانب کر کے.. پوچھنے لگا.. جبکہ حرم کے دونوں بازو اب شاہ میر کی گرفت میں تھے اور وہ ایک جنون کی کیفیت میں پوچھ رہا تھا.. جبکہ دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب تھا..
میر…” حرم کو وہ بہت الگ لگ رہا تھا اسوقت.. اسے خوف آنے لگا..
کیوں حرم کیا تمھیں مجھ سے پیار نہیں” وہ اسکو دیوار سے لگاتے ہوئے بولا… اسکے عمل میں شدت تھی….
حرم کی آنکھیں بھیگ گئ وہ اسکا جنون برداشت کرنے کے بلکل بھی قابل نہیں تھی…
ہاں ہاں… میں کرتی ہوں میر سے پیار… ب… بہت… ز.. زیادہ پیار…م.. مگر” وہ سسکتی ہوئ بولی تو.. شاہ میر کے دل پر ایک ٹھنڈی پھوار پڑ گئ…
مگر…. حرم میں کبھی بھی تمھیں رضا کے پاس نہیں جانے دوں گا” وہ اسکے گلابی ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے بولا…
تو حرم کو بری طرح رونا آیا…
وعدہ کرو… “اچانک ہی شاہ میر نے اسکی کلائ تھام لی…
وعدہ کرو حرم مجھے چھوڑ کر نہیں جاو گی.. یقین مانو میں تمھیں… پھولوں کیطرح سجا کر رکھو گا.. “وہ بولا.. تو لہجہ عجیب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا…
میر… میں”وہ سسکی…
نہیں حرم مجھے وہ ہی سننا ہے.. جیسے سننے کے لیے میرے کان ترس چکے ہیں… “وہ اسکے نزدیک ہوتا ہوا بولا…
جبکہ حرم.. اسکی سرخ آنکھوں میں اپنی آنسو بھری آنکھیں ڈالے.. اسکو سمجھنا چاہ تہی تھی مگر یہ انسان اسکی سمھجہ میں نہیں آ رہا تھا…
آخر.. وہ پل میں ایسا.. اور پل میں.. اتنا.. کڑوا کیوں ہو جاتا تھا….
حرم نے آنسو صاف کیے اور شاہ میر… کا چہرہ تھام لیا….
میر…. “شاہ میر نے اسکی طرف دیکھا…
میر.. می آپ سے محبت کرتی ہوں… آپ سے وعدہ کرتی ہوں آپکو چھوڑ کر کبھی نہیں جاو گی…..
مگر….. میر آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے” حرم… کی آواز بھرا گئ.. جبکہ شاہ میر جیسے… چونک سا گیا… جیسے اسے کسی نے جھنجھوڑ کر جگایا تھا….
جبکہ حرم… رونے لگی تھی…
شاہ میر.. ایک بار پھر اپنے خول میں بند ہو آ.. اور حرم کو.. سینے سے لگا.. کر اسے چپ کرانے لگا…
تمھیں بھوک لگی ہے…” شاہ میر نے پوچھا تو حرم اسے دیکھ کر رہ گئ..
یعنی یہ حقیقت تھی… اور اسنے اسے اس کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمھجا تھا…
نہیں ہم نے ڈنر کیا تھا” وہ اپنے آنسو صاف کرتی اداس دل سے.. کہہ کر اسکے پاس سے ہٹ گئ…
تم… چینج کر لو.. “شاہ میر نے.. اسکی اداسی محسوس کر لی تھی…
جی “وہ بولا… تو حرم… نے اسکی جانب دیکھا..
مگر میرے پاس کپڑے نہیں” اسنے الجھ کر دیکھا تو.. شاہ میر اپنی وارڈ روپ کیطرف بڑھا.. اور… اپنی ٹی شرٹ.. اور جینز اسکے حوالے کی جیسے حرم عجیب نظروں سے دیکھنے لگی..
جاو چینج کر لو “اسنے اسکے گالوں.. کو پیار سے چھوا.. تو حرم ڈریسنگ روم میں طلی گئ.. جبکہ شاہ میر بھی پیچھے سے اپنے کپڑے لے کر.. واشروم میں چلا گیا…
حرم جب باہر آئ.. تو شاہ میر الریڈی بیڈ پر بیٹھا.. تھا.. جبکہ حرم کو اپنے حولیے کا بلکل بھی انداز نہ ہو آ.. وہ نازک سی شاہ میر کی شرٹ.. میں… کافی مزاہیہ لگ رہی تھی جبکہ جینز… کافی لمبی تھی.. حرم جلدی سے.. بیڈ پر بیٹھی.. تو شاہ میر.. ٹی شرٹ کے گلے سے نکلتے اسکے شالڈر سے نظریں چرانے لگا…
سو جاو حرم “شاہ میر نے کہا.. اسکے جزبات اسوقت کافی تیزی سے بدل رہے تھے جبکہ حرم اسکی بدلتی کیفیت سے انجان… کمبل اڑھ کرلیٹ چکی تھی….. شاہ میر بھی اسکے ساتھ.. اسی کمبل میں لیاٹ.. حرم.. اسکا چہرہ دیکھنے لگی جبکہ شاہ میر نے.. اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر.. اسکا سر اپنے بازو پر رکھا.. اور اسکو خود میں بھینچ کر سونے کی کوشش کرنے لگا..
………………………
شہروز شاہ میر نہیں آیا ابھی تک گھر “اماں نے شہروز کی جانب دیکھا.. تو.. وہ انکو دوائ دینے لگا…
وہ گھر ہر ہیں انکے روم کا دروازہ لوک ہے..” اسنے بتایا تو.. اماں کی آنکھیں بھیگ گییں
میرا بچہ… “وہ ایک بار پھر غمگین ہو رہیں تھیں..
پلیز اماں سب ٹھیک ہو جایے گا آپ جانتی ہیں لالا بہت سڑورنگ ہیں وہ سب خود مینیج کر لیں گے”
شہروز نے انھیں تسلی دی..
یہ ہی تو بات ہے وہ سب خود کرتا ہے” اماں نے کہا تو شہروز خاموش ہو گیا..
جاو اٹھاو اسے پتا نہیں کچھ کھایا بھی ہے یہ نہیں”اماں نے شہروز کو کہا تو وہ سر ہلاتا.. شاہ میر کے کمرے کی جانب چل دیا…
اسنے دروازہ نوک کیا تو… شاہ میر پہلی ہی دستک پر جاگ گیا…
ہاں بولو”اسنے آواز دی تو… حرم بھی کسمسا کر اٹھی.. اور… شاہ میر کیطرف دیکھتے ہوئے وہ جھٹکا کھا کر اٹھی…
اسے ڈر لگ رہا تھا…
لالا کافی دیر ہو گی ہے آٹھ جائیں” شہروز نے کہا تو شاہ میر نے اوکے کہا…
آتا ہوں تم جاو “اسنے کہا تو شہروز وہاں سے چل دیا جبکہ شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھا.. مگر حرم نے اسکا ہاتھ تھام لیا..
اب کیا ہو گا “اسنے ڈرتے ہوئے پوچھا..
کیا ہونا ہے… تم ڈریسپ ہو… پھر چلیں گے” وہ بولا تو حرم اسکے سکون پر حیران رہ گئ…
جبکہ شاہ میر اسکے گال تھپتھپا کر.. واشروم کی جانب چل دیا…
جب وہ باہر آیا حرم ویسے ہی بیٹھی تھی.. جبکہ شاہ میر کا فون بج رہا تھا…
کمشنر صاحب کی کال دیکھ کر… اسنے کال پیک کی.. اسے انداز تھا یہ کال ضرور آئے گی
یس “اسنے بس اتنا کہا..
شاہ میر پولیس سٹیشن.. کب آ رہے ہو” انھوں نے سوال کیا..
سر میں ٹرمیننٹ ہو چکا ہوں”اسنے جیسے انھیں جتایا.. تو کمشنر صاحب.. کو افسوس ہوا اپنی حرکت پر..
کیا مجھے تم سے معافی مانگنی چاہیے” انھوں نے کافی بڑی بات کر دی تھی جبکہ شاہ میر خاموش رہ گیا….
وہ کچھ نہیں بولا.. جبکہ مقابل بیٹھی حرم کو شرارت سوجھ رہی تھی اسکا اتنا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر…
وہ اپنی جگہ سے اٹھی.. اور.. شاہ میر… کے قد تک پہنچنے میں ویسے اسے کافی دقت ہوئ تھی مگر اپنا کام جاری رکھتے ہوئے اسنے.. شاہ میر کے کان میں اپنے بالوں کی لٹ.. کو پھیرہ تو وہ.. چونک کر ہوش میں آیا…
اسنے ھرم کو دیکھا.. جس کی بتیسی باہر آ چکی تھی..
نہیں سر اسکی ضرورت نہیں میں پہنچ جاتا ہوں”شاہ میر نے کمشنر صاحب کو جواب دیا جبکہ حرم.. مسلسل اسے ٹیز کیے جا رہی تھی.. شاہ میر کی پلکوں ہر پھونک مارتے ہوئے حرم کو بلکل احساس نہ ہوا.. کہ وہ اسکے کاندھے پر چڑھ رہی ہے…
دیٹس گریٹ” کمشنر صاحب کافی خوش تھے.. جبکہ شاہ میر نے کال کٹ کی.. اور حرم کو… بانہوں میں جکڑ لیا…
اگر تم اپنی نازک جان پر مجھے برداشت نہیں کرنا چاہتی تو.. تیر کیطرح سیدھی ہو جاو… ورنہ تمھیں پتہ نہیں ابھی میرا ” شاہ میر حرم کے گال پر کاٹتا ہوا بولا.. تو ھرم..
آ آ آ کر کے رہ گئ..
بیوقوف” وہ اسے کہتا.. ڈریس کے سامنے چلا گیا جبکہ حرم واشروم میں….
……………..
شاہ میر نیچے آیا تو… اماں شانزے.. اور شہروز… ٹیبل پر ہی تھے…
وہ تینوں شاہ میر.. کے ساتھ اترتی چھوٹی سی لڑکی جو شانزے کی عمر کی ہی تھی اسے دیکھ کر ہونق رہ گئے.. جبکہ شاہ میر.. کا چہرہ بلکل نارمل تھا.. جبکہ حرم گھبراہٹ کے مارے شاہ میر مین چھپنا چاہ رہی تھی اور شاہ میر اسے غصے سے گھور کر دیکھنے لگا..
اب شاہ میر کے ساتھ سب ہی اسے گھور رہے تھے
.
حرم کی جان ہوا ہونے لگی…
میں وہ “حرم.. کی آنکھیں بھیگ گئین..
جبکہ اب بقائیدہ اسکا رونہ سٹا رٹ ہو چکا تھا.. جبکہ…
خان ہاوس کی درو دیوار میں.. 23 سال میں پہلی بار شاہ میر خان کا قہقہ گونجا…
شہروز کو بھی ہنسی آ گئ.. جبکہ شانزے بھی ہنسنے لگی..
اور اماں ان سب کو گھور کر رہ گئیں..
کون ہے یہ اور یہ کیا حرکت تھی.. شرم آتی ہے تم سب کو “اماں غصے سے بولی..
وہ شاہ میر کے ساتھ اسے اسکے روم سے اترتا ہوا دیکھ کر.. بہت کچھ سمھجہ گئیں تھیں مگر انکے لیے یہ شاکڈ ہی کافی تھا.. کہ شاہ میر کسی لڑکی میں انٹرسٹیڈ ہے…
اب آپکی بہو اتنی کم عقل ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں” شاہ میر سکون سے چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا.. جبکہ حرم منہ بنا کر آنسو صاف کرنے لگی..
سچ لالا” شہروز اور شانزے چیخے تو..اسنے ان دونوں پر ایک گھوری.. ڈالی..
آہستہ… کیا ہو گیا.. “
مطلب آپ نے شادی کر لی… ” شہروز اور شانزے ایک ساتھ بولے…
تو “شاہ میر نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے…
یار… “شہروز.. ابھی کچھ بولتا ہی کہ اماں نے اسے ٹوک دیا..
خاموش ہو جاو تم.. اور تم “اماں نے شاہ میر کے کان پکڑے… تو حرم… کو جیسے سکون سا ملا…
کیا تم پوری بات مجھے بتاو گے.. یہ… میں تمھیں بتاو” انھوں نے غصے سے کہا.. تو شاہ میر نے پیار سے انکا ہاتھ پکڑ لیا…
سب بتا دیتا ہوں یار… ابھی اتنا سمھجہ لیں…
یہ آپکی بہو ہے… بس “
اسنے کہا اور ناشتہ کرنے لگا… جبکہ اماں.. تو سر 5ھان گئ.. جبکہ شہروز اور شانزے.. مارے خوشی کہ اپنی جگہ ہر بیٹھ ہی نہیں رہے تھے..
میں دوبارہ جوئنیگ دے رہا ہوں.. میری جاب کو کچھ نہیں ہوا” شاہ میر نے ایک اور خبر دی.. جس پر.. سب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا…
شانزے اور شہروز.. چمچے اور کانٹوں کے ساتھ تالیاں بجا کر اسکو مبارک بعد دینے لگے جبکہ اماں..
ماشاءاللہ ماشاءاللہ کہتی.. اسکی سر کی بلائیں لینے لگئیں… حرم حیرت سے.. ان سب کو دیکھنے لگی…
اور ان سب سے نظر ہٹ کر شاہ میر پر نظر گئ…
جس کے آج تیور ہی الگ تھے.. اسنے احرم کو آنکھ ماری…. تو.. حرم سٹپٹا کر رہ گئ… اور چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئ..
سب نے حرم کیطرف ایک بار پھر دیکھا.. جس سے وہ پھر سے کنفیوز ہو گئ…
جبکہ اماں نے اپنے تینوں بچوں.. کو اپنا تھپڑ دیکھا یا.. جس سے انکے سر جھک گئے.. اور اماں
حرم کو ناشتہ دینے لگیں…
لڑکی چھوٹی ضرور تھی مگر انھیں شاہ میر کے کسی اقدام سے کوئ اختلاف نہیں تھا.. وہ بس اسے خوش دیکھنا چاہتی تھیں..
اور یہ فیصلہ شاید اسکی زندگی کا پہلا فیصلہ تھا.. جس. کو اسنے اپنے لیے لیا.. ورنہ ہمیشہ اسنے اپنی فیملی کے لیے سب کیا تھا..
بھائ لو میرج”شہروز کی کھجلی ختم نہیں ہو رہی تھی.. جبکہ حرم.. سرخ سی پڑی..
تمھیں لگتا ہے لو کے کیس میں.. میرا پھنسنا ہو سکتا ہے….
ہاں البتہ.. تمھاری بھابھی.. ضرور پھنس گئیں.. ہیں.. میری طرف سے تو صرف انتقام ہے” اسنے چند لفظ بول کر.. سب سمیت حرم کو بھی… جیسے بے سکون کر دیا.. حرم.. اسکی صورت تکنے لگی.. جبکہ شاہ میر بھی اسی کی جانب دیکھ رہا تھا..
حرم کی آنکھیں.. آنسوں سے بھر گئیں….
اور وہ اسی طرح ناشتہ چھوڑ کر.. اپنے روم میں چلی گئ…
شاہ میر کو اپنی بات پر پہلی بار غصہ آیا اچھے بھلے ماحول کو.. اس کی حقیقت نے خراب کر دیا تھا..
اماں نے بھی ناشتہ چھوڑ دیا…
میرے کمرے میں آو دونوں.. انھوں نے شاہ میر اور شہروز کو کہا…
اور تم.. اپنی بھابھی کے پاس جاو “شانزے کو بھی کہ کر.. وہ اپنے کمرے کی جانب چل دی…
جبکہ شاہ میر اور شہروز بھی ناشتہ وہیں چھوڑ کر اٹھ گئے…
…………………
جاری ہے
