Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 30
Rate this Novel
Episode 30
کیسے ہو شاہ میر” فواد نے اس سے مصحفہ کیا…
ٹھیک ہوں…. “اسنے جواب دیا.. اور فواد کی شکل دیکھنے لگا.. جو کچھ تزبزب کا شکار تھا اور وہ جانتا تھا وہ کیوں ہے..
وہ مجھے کچھ کہنا تھا تم سے “فواد نے بات کا آغاز کیا…
ہمم تمھاری موم رشتہ لانے والی تھی اسی سلسلے میں میں نے تمھیں بلایا ہے.. “شاہ میر نے سنجیدگی سے اسے گھیرہ…
وہ ایکچلی شاہ میر.. وہ رشتہ نہین لائیں گی سوری یار میں تمھاری بہن سے شادی نہیں کر سکتا.. مجھے یقین ہے کہ اسے مجھ سے بہتر رشتہ ملے گا” فواد بات سمبھالتے ہوے مناسب لفظوں میں بولا…
تو شاہ میر نے اسکی جانب دیکھا چہرے پر کوی تاثر نہیں تھا..
ڈھونڈ لیا ہے… مجھے تم اسکے قابل لگے بھی نہیں” وہ سیدھے لفظوں میں بغیر لحاظ کے بولا…
فواد منہ کھولے اسکی صورت تکتا رہ گیا…
تمھیں کیا لگا میں اندھا ہوں جو تم پر نظر نہین رکھ سکتا… خیر… تم نے.. سہولت سے بات کی.. تبھی ہماری دوستی ابھی بھی قائم ہے ورنہ تمھارے ٹکڑے کرنے میں زیادہ وقت نہ لگتا…”
وہ بولا تو فواد کا سانس بھال ہوا….
سیریسلی تم سے الجھنے کا میرا ارادہ بھی نہیں تھا” اسنے اسکی طرف دیکھا جس کے لبوں کی تراش میں مسکراتی تھی…
تم الجھ کر.. اپنا انکاونٹر کروانا بھی نہیں چاہو گے پتہ ہے مجھے”
اسکی گھوری پر فود بھی ہنس دیا…
………….
بھابھی یہ آپکا ٹیسٹ ہے.. اور پیپیرز سیکنڈ سمسٹر کے سٹارٹ منڈے سے ہیں”شانزے نے اسکے آگے پیپر بڑھایا حرم نے ایک ترچھی نظر فائل کو دیکھتے شاہ میر پر ڈالی اور جھپٹ کر اس سے ٹیسٹ چھین کر وہ تکیے کے نیچے چھپا گئ..
شانزے نے اپنی ہنسی روکی..
تم پیپرز دو گی” حرم نے پوچھا..
جی بھابھی”اسنے اطلاع دی…
لڑکی تمھاری شادی ہو رہی ہے اور اب بھی “فیضان کے پیرنٹس رشتہ ڈال گئے تھے جسے شاہ میر نے منظوری بھی دے دی تھی اور اب صنم کی شادی کے ساتھ ہی شانزے اور فیضان کی بھی شادی ہو رہی تھی…
وہ تو ایک ماہ بعد ہے” شانزے مدھم آواز میں بولی شرم الگ ائ…
ہاں تو “حرم نے آنکھیں نکالی..
بھابھی مگر اپنی پڑھائی کیوں چھوڑوں.. “شانزے اب بھی سمھجہ نہ سکی..
کیا مسلہ ہے” بالآخر شاہ میر نے پوچھ ہی لیا..
کچ.. کچھ نہیں”حرم گھبرائ وہ اچھے سے جانتی تھی اسکا ٹیسٹ کیسا ہو گا.. اور پیپرز کی تیاری تو وہ اپنی لو سٹوری میں بھول بھال گئ تھی….
بھابھی.. میں آپکو سلیبس سینڈ کر دوں گی” شانزے کہہ کر وہاں سے چلی گئ جبکہ حرم شاہ میر کی نظروں سے چھپنے کے لیے بے تاب تھی…
جب سے میں آیا ہوں میں نے تمھیں کتابوں کو ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا اب پیپرز کی تیاری کیسے کرو گی” شاہ میر نے تکیے کے نیچے چھپے پیپر پر ایک نگاہ ڈالی..
وہ میر…. مجھ سے پڑھا نہیں جاتا… طبعیت ہی نڈھال رہتی ہے” وہ سر پر ہاتھ رکھتی.. آواز میں تھکاوٹ کا تاثر ڈالے بولی..
اتنا سب تو تم ٹھونستی رہتی ہو کہ میں پریشان ہوں تم کھا کھا کر پھٹ نہ جاو. اور ابھی تمھاری تھکاوٹ نہیں اتر رہی” وہ تیور بگاڑ کر بولا…
تو حرم تو رو دینے کو ہوئ…
آپ میرے کھانے پر نظر رکھتے ہیں آپکو شرم آنی چاہیے میں خود تو نہیں کھاتی…
آپکی وجہ سے ہوا.. ہے یہ سب وہ بھی ٹوئنز… جانتے بھی ہیں خود تو دو دن سے سکون کی نیند سو رہے ہیں اور میں الٹیاں کر کر کے تھک چکی ہوں” وہ غصے سے بولی.. ابھی شاہ میر کے آنے کے بعد جب اسکی طبعیت کچھ دن پہلے بگڑی تو وہ اسے خود ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا.. اب وہ اسے تنہا کبھی نہیں چھوڑ سکتا تھا.. اسکی ڈبل ڈوز سے اسے خوف آ گیا تھا.. اور جب ڈاکٹر نے الٹرساونڈ میں دو بیٹوں کی انھیں اطلاع دی تو… شاہ میر.. کی تو پہلی بار خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا جبکہ.. حرم تو خود کو دیکھ کر رہ گئی دو بچے بیقوقت…
وہ کیسے.. کرے گی سب..
شاہ میر دو دن پہلے ملنے والی خوشی کو یاد کر کے. مسکرا دیا..
ہاں سارا میرا قصور ہے.. بھئ مان رہا ہوں”وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود کے قریب کر گیا..
…… میر مجھے پیپرز نہیں دینے” وہ اسکا موڈ اچھا دیکھ کر اپنی بات منوانے لگی..
بلکل نہیں حرم تمھیں اپنی ڈگری پوری کرنی ہے ہر حال میں اوکے. “اسنے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا..
یہ کیا ہے” اسنے حرم کو چھوڑ کر اب وہ پیپر کھینچا… جس کو دیکھ کر شاہ میر.. کے ماتھے پر نمایاں .. بل تھے.. جبکہ حرم وہاں سے کھسکنے کے لیے تیار تھی…
رک جاو”وہ غصے سے بولا..
کیا ہے یہ” اسنے ٹیسٹ سامنے لہرایا جہاں پر سرخ لائن سے کاٹے لگے ہوئے تھے..
وہ میر.. میں” حرم شرمندگی سے سر نہ اٹھا سکی…
آف افسوس ہے مجھے…” وہ شدید غصے سے اسے دیکھ رہا تھا…
چلو.. باہر نہیں جانا تم نے.. اٹھاو اپنی بکس.. اور تیاری کرو پیپر کی” شاہ میر نے اسے دھیان سے بستر پر بیٹھایا.. حرم نے شکواہ کن نگاہوں سے اسے دیکھا..
ٹھیک ہے.. اب.. آپ مجھ سے بات کر کے.. دیکھانا. “وہ نم آنکھوں سے کتابوں… کو دیکھتی… اب.. پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی.. جبکہ شاہ میر نے اسکے پھولے چہرے کو پیار سے دیکھا. اور اسکا ٹیسٹ دیکھ کر.. وہ ایک سرد سانس کھینچ گیا..
امید ہے میرا کوئی بچہ ذہنی طور پر تم پر نہ جائے ورنہ میں انقریب پاگل ہو جاو گا” وہ بڑبڑایا…
حرم نے.. پین کی کیپ اسکی پشت پر ماری…
اکڑو” وہ بولی.. تو شاہ میر… نفی میں سر ہلاتا.. باہر نکل گیا…
ارادہ.. اماں کے پاس جانے کا تھا مگر بیچ میں ہی.. صنم کا سامنا ہو گیا…
کیسے ہو ہیرو “صنم نے اسکے شانے پر… ہاتھ مارا…
قابو میں رکھو اپنے ہاتھوں کو “شاہ میر نے ناگواری سے کہا…
دیکھو وہ تمھارا جو ملازم ہے.. نہایت.. شرمندہ قسم کا انسان ہے.. تھوڑی سی بات کرو ایسے شرماتا ہے.. جیسے.. خدا نہ خاستا کیا ہو گیا ہو… “
تو… تمھیں بھی تھوڑی لڑکیوں والی نزاکتوں کا استعمال کرنا چاہیے مجھے یقین ہے. تمھارے اندر دو چار مرد ضرور چھپے ہیں” وہ.. مدھم سا ہنس کر اسپر طنز کر چکا تھا… .. صنم. کا بس چلتا تو وہ ضرور اسکے بال نوچتی…جبکہ کمرے کے دروازے سے جھانکتی حرم یہ منظر.. غصے سے دیکھ چکی تھی.. مجھے پڑھائی میں لگا کر.. یہ آدمی.. کیا کرتا پھر رہا ہے” وہ غصے سے سوچتی.. دوبارہ بیڈ پر بیٹھی …. یہ بات تو کلیر ہو گئ تھی کہ وہ صنم سے شادی نہیں کر رہا تھا.. اور جب اسے یہ بات پتہ چلی تبھی سکون ملا تھا ورنہ شاہ میر تو صاف لفظوں میں کچھ کہنے کے لیے تیار نہ تھا
…………..
یہ سارے سامان کی لیسٹ ہے بیٹا میں نہیں چاہتی اس شادی میں کوی کمی ہو..” اماں نے اسے.. لیسٹ تھمائ…
آپ فکر نہ کریں.. “شاہ میر.. نے کہا.. تو شہروز اس لسٹ کو.. پڑھتے پڑھتے.. آنکھیں پھار کر انھیں دیکھنے لگا..
لڑکیاں اتنا سب کچھ لے کر جاتی ہے “وہ حیران ہوا..
ہاں کیوں کیا ہوا…” اماں نے پوچھا..
یہ میری بیوی تو کچھ نہیں لای”وہ منہ بنا کر بولا..
تم دونوں کی شادی بھی تو خاصے انوکھے انداز میں ہوی ہے” اماں ہنسی.. جبکہ.. شاہ میر بھی ہنس دیا..
ابھی وہ مزید بات کرتے کے دروازہ بجا..
اجاو”اماں کو لگا شانزے ہے مگر کمرے میں رضا صاحب کو آتے دیکھ.. وہ سیدھی ہو کر بیٹھیں جبکہ شاہ میر.. شہروز کی مسکراہٹ سیمٹی…
وہ میں… شانزے کی شادی… میرا مطلب… “وہ کنفیوز سے ہوے… تو اماں اس پل کو یاد کرنے لگیں جب وہ کہنے سے پہلے بلکل یہ نہیں سوچتے تھے کہ دوسرے کے دل پر کیا گزرے گی…
اور آج…
انھوں نے. وقت کو بہترین سبق سیکھانے والا مان لیا تھا…
کیوں نہیں شانزے آپکی بیٹی ہے.. سب تیاریوں میں اپکا ہونا ضروری ہے” اماں نے کہا تو.وہ. سائیڈ پر صوفے پر بیٹھے جبکہ.. شہروز اور اماں بیڈ پر.. اور شاہ میر بیڈ کے بلکل ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھا تھا..
اماں.. اسکے علاوہ.. کچھ اور چیز ہو تو آپ مجھے بتا دیجیے گا…
پوسٹنگ میں نے اپنی لاہور سے.. اسلامہ آباد میں دوبارہ کرا لی ہے…” اسنے انفارم کرنے کے ساتھ انھیں .. سب بتایا.. اور اٹھنے لگا.. رضا نے اپنی آمد پر اسکا اٹھنا دیکھا.. تو انھیں دکھ ہوا…
وہ انکا بیٹا تھا..
اور ان سے کتنا دور…
شاہ میر بیٹھ جاو” اماں نے اسے اٹھنے سے ٹوکا…
مگر مجھے نہیں لگتا اب میرا یہاں کوئی کام ہے “شاہ میر روڈلی بولا…
شاہ میر “رضا نے اسے پکارہ.. تو… وہ جبڑے بھینچ کر رہ گیا.. اسکی سانسیں غصے سے پھولیں…
میں تم سے”
معافی کا نام مت لینا… “وہ انگلی اٹھا کر وارن کرنے لگا…
بیٹا میں اپنی غلطیوں “
میں نے کہا.. مجھے کچھ نہیں سننا….. کیا کرو میں اس معافی کہ…
کیا میرا بچپن لوٹ آیے گا.. کیا. وہ دور جس میں بچے صرف کتابوں اور کھلونے سے کھیلتے ہیں میں نے اس عمر میں اینٹیں اٹھائیں…
کہ میرے ہاتھ کے زخم.. مجھے اگلے دن کام کرتے ہوئے بری طرح رولا دیتے تھے…
کیا جب جب. میں نے ایک بچے کو اسکے باپ کے ساتھ دیکھا….
کیا اس وقت کی تکلیف…
یہ اس وقت کی تکلیف جب.. میں نے کھانے کے لیے کسی کے آگے ہاتھ پھیلاے اور اس آدمی نے میرے منہ ہر تھپڑ مار کر دھتکار دیا.. کیا وہ تکلیفیں میں اس ایک لفط معافی سے بھلا دوں سمھجہ کیا رکھا ہے مجھے..
پاگل ہوں برداشت برداشت برداشت.. یہ برداشت… کر کر کے میرا دم گھٹ جاے گا کسی دن..
سکون سے جینے کیوں نہیں دے رہے مجھے… “وہ دھاڑا..
شاہ..”
بس کریں اماں آپکے ضرف کا مقابلہ میں نہیں کر سکتا…
راتوں کو جاگ جاگ کر. اس مقام تک پہنچا ہوں سکون کی نیند.. نہیں سویا صرف اس لیے کہ میرے بہن بھائی میری ماں.. گھر جانے پر.. انکی آس نہ ٹوٹے ایک روٹی کا تو سوال تھا.. ایک روٹی .. کرتے یہ ہم سے نفرت مگر زمانے کے سامنے تو نہ پھینکتے “اس وقت سب خاموش نم آنکھوں سے اسکے اندر کی بھڑاس سن رہے تھے
ونیزے شانزے زرینہ صنم.. جبکہ اب حرم بھی وہاں آ چکی تھی…
اور… اسکی آنکھیں بھیگ کر. اب سرخ ہو رہیں تھیں ..
میں انسان نہیں ہو کیا… کیوں نہیں سمھجتا کوی.. کہ اگر میری سب کو ضرورت ہے تو مجھے بھی کسی کی ضرورت ہو سکتی ہے…
نہیں یہ کوئ نہیں سمجھنا چاہتا… “وہ. اماں کی جانب دیکھتا.. سرخ آنکھوں سے بولا…
میں تمھیں تکلیف نہیں دوں گا.
اب میرا بیٹا تکلیف نہیں برداشت کرے.. گا…
میں چلا جاو گا.. یہاں سے…” رضا نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھنا چاہا.. مگر شاہ میر نے ہاتھ ہٹا لیا…
صرف مجھ سے دور رہو.. باقی جہاں مرضی رہو مجھے فرق نہیں پڑتا.. اور میں نہیں جانتا.. میرا کتنا ضرف ہے.. مگر.. میرا کوی تعلق ہے ہی نہیں تم سے… نہ میں تمھیں اپنا باپ مانتا اور نہ مرتے دم تک مانو گا… “وہ انگلی اٹھاتا…. اسکو اپنا اخری فیصلہ سنا چکا تھا…
اماں کچھ نہیں بولیں.. شاید اسکے اندر کے زخم وقت بھرتا….
بلکہ سب ہی جاموش ہو کر رہ گیے تھے..
گھر کا ماحول اچانک ہی.. سوگوار سا ہو گیا تھا.. شانزے بلکل نہیں چاہتی تھی وہ واپس جائیں جبکہ رضا.. اب شاہ میر کو کوئ ایک خوشی اپنی ذات سے دینا چاہتے تھے..
ڈیڈ پلیز مت جائیں” شانزے نے انھیں روکا
آپ نے تو میرے پاس ہی آنا ہے.. فکر مت کرو” وہ اسے مسکرا کر بولے…
جبکہ شانزے نے ایک نظر اپنے بھائی کے کمرے.. کو دیکھا…
فکر مت کرو.. سب ٹھیک ہو جاے گا.. میں کوشش کرتا رہو گا کہ اسکے دل سے.. تلخ یادوں کو مٹا دو “انھوں نے. اسے پیار کیا.. اور پھر شانزے کے نہ چاہتے ہوئے بھی.. وہ.. اپنے گھر واپس چلے گئے شاید اسی میں بہتری تھی…
………………
شاہ میر دو دن سے گھر کے ماحول کو دیکھ رہا تھا… جبکہ شانزے کی خاموشی کو بھی محسوس کر رہا تھا.. مگر.. اسنے کسی کو کچھ نہیں کہا..
وہ.. گھر آیا… تو آج اسے کافی تھکاوٹ ہو رہی تھی..
وہ اماں کے پاس گیا اور ان سے مل کر.. وہ اپنے روم میں آیا.. تو حرم کو پڑھتے ہوے دیکھا.. .
دو دن سے.. مجھے لگ نہیں رہا یہاں میرے کمرے میں حرم میڈیم رہتی ہیں”وہ بولا.. تو لہجے میں صاف طنز تھا..
آپ ابھی کہیں پڑھو مت.. میں کتابیں پھینک دو گی وعدہ” حرم چہک کر بولی..
تم ناراض تو نہیں مجھ سے “وہ اسکے پاس آتا.. اسکے بالوں کو سنوارتے ہوے تھکے ہوے لہجے میں بولا
بلکل نہیں” حرم سب سمجھتے ہوئے.. اسکا ہاتھ تھام…گئ
میں بھول نہیں سکتا کچھ بھی اسکی بکس سائیڈ پر کر کے وہ اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا…
ایک بات کہو میر “حرم نے مسکرا کر اسکی مونچھوں کو چھیڑہ
ہممم”اسنے جیسے اجازت دی..
آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں نہ” اسنے پوچھا.. تو شاہ میر نے.. مسکراہٹ چھپای
حرم ہمارے ٹوئنز ہیں تمھیں اب بھی ڈاوٹ ہے”
ہا……. “حرم کا منہ کھلا.
بہت ہی برے ہیں آپ” اسنے مکہ اسکے سینے پر مارا…
ارے.. آپ سے بات کر رہی تھی میں” حرم نے سنجیدگی سے کہا تو شاہ میر بھی خاموش ہوا.
میر جب تک آپ اپنے دل سے اس بات کو نکال باہر نہیں پھینکیں گے آپکو سکون نہیں ملے گا… آپ چھوڑ دیں جو جیسا ہے اسے رہنے دیں آپ خود کو پرسکون کر لیں…
آپ کی وجہ سے آپکے بہن بھائی آپکی ماں بھی ان سے دور رہے…”
کوئی نہیں چاہتا اسکے ساتھ رہنا” شاہ میر نے.. سختی سے کہا..
شانزے تو چاہتی ہے نہ” حرم نے اسکی صورت دیکھی.. جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا…
وہیں بھیج رہا ہوں اسے..” شاہ میر نے آنکھیں کھولی..
میر…. خود کو ہمارے آنے والے کل کو…. پرسکون کریں جو گزر گیا.. جو آپ نے کیا اسکا اجر آپکو مل جائے گا…. آپ کوشش تو کریں”
وہ بڑی عقل مندی کا مظاہر کر رہی تھی شاہ میر نے.. اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر… اسکو نزدیک کیا جو بمشکل ہی ہو پا رہی تھی..
مجھے مل گیا ہے اجر….. وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے اسکی نوز کے ساتھ اپنی نوز ٹکراتا.. ایک مدہوشی میں بولا.. تو حرم کو گوناگوں سکون ملا…
تو پھر… کوشش کریں کہ “اس سے پہلے وہ بولتی شاہ میر.. اسکے پاس سے ہٹا.. اور.. سائیڈ پر لیٹ کر اسے اپنے ساتھ لیٹا لیا…
دیکھ لیں گے. تمھارے چاچا کو بھی. بار بار نہ کہو.. آئ وانٹ مائے وائف جو آج کافی عقل مندی کی باتیں کر گی ہے” وہ مسکراتا.. ہوا… نرمی سے.. اسکی سانسوں کو قید کر گیا..
یہ پہلی بار تھا کہ حرم کو اسکے عمل میں شدت محسوس نہیں ہوی..
ارے” کچھ لمہے بعد وہ جھٹکا کہا کر اس سے الگ ہوئ
کیا ہوا.. “شاہ میر نے ناگواری سے دیکھا.
میرا پیپر ہے میر.. اور سیریسلی مجھے تیاری نہیں ہے.. الٹا بھوک الگ لگ رہی ہے”وہ روہانسی ہوئ..
بھوک کا علاج تو میں کر دوں گا.. مگر.. یہ پیپر” وہ اٹھ کر بیٹھا.. اور دیکھنے لگا..
چلو میں تیاری کراتا ہوں” اسنے کمپیوٹر کی بک کھولی..
ایک لفظ نہیں آتا مجھے” وہ منہ بنانے لگی..
تو اب تم مجھے کرپشن پر اکسا رہی ہو”شاہ میر کچھ سوچتے ہوے بولا…
حرم کی تو باچھیں کھلیں..
کیا بات کر رہے ہیں”
مگر میرا زمیر نہیں مانے گا. تو تم تیاری کرو “
یار پلیز آج رات کے لیے سلا دیں آپ اپنے زمیر کو “وہ.. اسکاہاتھ تھامتے ایکسائٹیڈ لگ رہی تھی..
اچھا تم پیپر نہ دو “شاہ میر نہ اسے گھورتے ہوئے کہا..
بلکل نہیں.. سچی بڑا مزا آیے گا.. ایک کرپٹ.. پی سی “
حرم کا جوش عروج پر تھا..
تمھاری تو…. اسنے اسے بالوں سے پکڑ کر کھینچا… جو.. اسکے سینے سے آ لگی..
سوچ لیں مسٹر شاہ میر آپکا فائدہ ہو سکتا ہے.. “وہ اتراتی ہوی.. اسکی انکھوں کی طلب کو زبان دینے لگی..
تم کتنی تیز ہو… “شاہ میر کو.. حیرت ہوئ..
جبکہ حرم نے فرضی کالر جھاڑے.. تو شاہ میر… نفی میں سر ہلانے لگا..
تو کل آپ مجھے چیٹینگ کرا رہے ہیں آف.. بلا ٹلی”حرم نے پاوں پسارتے ہوئے…
سکون سے بکس کو سائیڈ پر کیا…
آہ… کتنا شرمندہ ہوں میں یہ سوچ کر ہی”شاہ میر کو دکھ ہوا..
آپ.. نہ توبہ کے نفل پڑھ کر سونا” حرم نے اسے مشورہ دیا…
سونا… اچھا بتاو تمھیں .. سونا کی بچی.. کھانا لا رہا ہو…
کھانا کھا کر.. ساری رات جاگو گی تم… “وہ.. آنکھوں سے وارن کرتا.. باہر نکل… گیا.. جبکہ.. حرم.. کا بس نہیں چلا.. بیڈ پر اچھلنا شروع کر دے.. مگر اپنے بچوں کا خیال آڑے آ گیا..
………………
جاری ہے..
