128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

میں نے زندگی کو اپنے لیے ہمیشہ تلخ پایا ہے۔ شادی شدہ زندگی میں کوئ لمہہ میرے لیے حسین یاد ثابت نہیں ہوا۔ بعض اوقات ہم کسی سے حادثاتی طور پرٹکرا جاتے ہیں ۔ اور خواہش نا ہونے کے باوجود ہم انکی زندگی میں جبراً داخل کردے جاتے ہیں ۔
یہ بات ہی اذیت کے لیے کا فی ہے کہ جس سے ہم محبت کرتے ہیں اسکے لیے ناقابلِ برداشت ہیں ۔
میری شادی ہوی کچھ اسطرح تھی کہ میں اپنے بابا ک اکلوتی اور انتہائ سادہ شکل بیٹی تھی میرے چہرے کے نقوش بھی عام سے تھے اور رنگ بھی گندمی ۔ بابا ہارٹ پیشنٹ تھے ۔ اور کاروبار بھی بس گزارے لائق تھا اسی لیے بابا کا علاج گورمنٹ ہسپتال سے کرایا جا رہا تھا۔ اس رات بابا کی اچانک ہی طبعیت بگڑ گئ ۔میں ڈاکڑز کو بلانے دوڑئ تو کسی سے زور سے ٹکرائ ۔ تصادم بہت شدید تھا ۔ مگر میں بابا کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر بھکلائ ہوی تھی ۔ میں نے ایک نظر اس بھرپور وجاہت کے مالک شخص کو دیکھا ۔ جو مجھ سے انگلش میں بولا۔
“اس ایوری تھنگ اوکے “
“وہ وہ میرے بابا کوکچھ ہو جائے گا پلیز ڈاکڑ صاحب میرے بابا کو بچا لیں ۔ ” میں ہاتھوں میں چہراڈھانپے شدت سے رو دی ۔ حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا ۔ انھوں نے میری بات سنی اور اگلے لمہے وہ اس وارڈ کی جانب بڑھ گئے جہاں بابا خستہ حالت میں لیٹے لمبی لمبی سانسیں لے رہے تھے۔ ۔
جلد ہی وہاں کا منظر ہیبت ناک ہو گیا بابا کو وارڈ سے آئ سی یولے جا یا گیا ۔ میں دم سادے ساری کاروائ دیکھ رہی تھی۔
تقریباً ایک گھنٹہ میں نے خدا کے حضورگڑگڑا گڑگڑا کر بابا کی زندگی کے لیے دعائیں مانگی مگر خدا کو کچھ اور منظور تھا نرس میرے پاس آئ اور اندر بابا کے پاس لے گائ جہاں وہی ڈاکڑکھڑا تھا اور بابا کے نہیف ہاتھوں نے ان ہاتھوں کو مظبوطی سے تھام رکھا تھا ۔ بابا کی آنکھ سے آنسو کی ایک لڑی متواتر گر رہی تھی
میں تڑپ کر بابا کے قریب ہوئ ۔ تو میرے کانوں نے جو سنا اسپر پر میں شرمندگی کے مارے سر نہ اٹھا سکی ۔
بابا ڈاکڑ سے اپنی بیٹی کو تحفظ دینے کی التجا کر رہے تھے ۔
نہ جانے کب سے وہ آہوزاری کر رہے تھے۔ ڈاکڑ پہلے گڑبڑایا ۔ اسنے مجھے دیکھا اور بابا کو کچھ سمھجانے لگا کے بابا تڑپ اٹھے ۔ انچی آواز سے رونے لگے ۔
اور ڈاکڑ نے گھبرا کر خوشی کی نوید بابا کے ہاتھ میں تھما دی اور ۔ اور چند ہی لہمہوں میں میرے سارے جملہ حقوق کا مالک ہو گیا ۔
وہ وہاں رُکا نہیں پھر…. ماتھے پر لاتعداد شکنیں تھیں ۔
اس رات مجھے اپنے بابا سے پہلی بار شکوےتھے شکایتیں تھیں ۔ میں ایک لفظ بھی بولے بغیر ایک سائیڈ پرچپ چاپ بیٹھ گئ مجھے لگا بابا میری ناراضگی سے با خبر ہیں مجھے بلا کر سمھجائیں گے مگر پوری رات گزر گئ بابا نے مجھے نہیں بلایا ۔ ہوش تو میرے تب اڑے جب صبح ایک نرس نے ۔ مجھےبابا کی موت کی خبر سنائ ۔۔ میں پاگل سی ہو گئ ۔ چلا چلا کر پورا ہسپتال سر پر اٹھا لیا ۔ سب تاسف بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
اور پھر کب بابا کو انکے اصلی جگہ تک پہنچایا ۔ اور کب میں کسی کی ہمراہی میں اس محل نما گھر میں آئ مجھے کچھ پتا نہیں تھا پتہ تو تب چلا جب میری اوقات کا تعین کیا گیا۔
سارے گھر کا کام مجھ سے لیا جاتا میری ساس مجھ سے شدید نفرت کرتی تھی ۔ شوہر کو میں نے اس دن کے بعد دیکھا ہی نہیں ۔ میں سارےدن کام کے بعد کچن میں سوتی گھٹ گھٹ کے رونا مجھے اپنا مقدر لگ رہا تھا کھانا کھایا یہ نہیں کھایا کوئ مجھ سے نہیں پوچھتا تھا ۔ ۔
ایسی زندگی تو میں نے بابا کے ساتھ نہیں گزاری تھی ۔
بڑی بھواجیں بس مجھے دیکھ کر رہ جاتی کوئ کچھ نہ کہتا ہمدردی کے دو بول بھی نہیں ۔
اور پھر اس دن میں نے رضا احمد کو پورے چار ماہ بعد دیکھا ۔ وہ اول روز کی طرح منظر پر چھایا ہوا تھا ۔ اسکی چمکیلی آنکھوں سے مجھے پہلی بار محبت سی ہو گئ ۔ مگر اسکے لڑکھڑاتے قدم مجھے ڈرا گئے وہ ہوش میں نہیں تھے ۔ وہ میرے قریب آے ۔ تو ناگوار بو چار ۔ سو پھیل گئ ۔ میں ڈر کر پیچھے ہٹنے لگی کے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گیے ۔ ۔۔ اس رات میں بہت روی ۔۔ اس شخص پر نظرڈالی جو بے چینیاں میرے ہاتھوں میں دے کر سکون کی نیند سو رہا تھا میں جانتی تھی صبح ۔ مجھے یہ ہی شخص گلیاں دے گا میرے وجود سے گھن کھاے گا ۔۔ اور یہ سوچتے ہی میں اور شدت سے رو دیتی ۔صبح میری تواقع کے عین مطابق ہوا میری ساس نے بقائدہ مجھے لاتعداد تھپڑوں سے نوازا ۔
اور کچھ دن بعد اسی خبر ملی کے میرے اوسان خطا ہو گئے۔
میرے وجود میں ایک نئ زندگی جنم لے چکی تھی ۔ اور پھر بہت اذیتوں کے بعد وہ میرے ہاتھوں میں آگیا ۔وہ ہوبا ہو اپنے باپ پر گیا تھا بہت حسین بہت خوبصورت میں نے شکرانے کے نفل ادا کیے میں خوش تھی ۔ کسی نے بھی میرے بیٹے کو ۔نہیں دیکھا تھا ۔اسکے باپ نے بھی نہیں ۔ اور پھر میرا بیٹا بھی میرے ساتھ وہ تکلیفیں سہنے لگا میں اسکی نہنی سی جان کو بچا نہیں پا رہی تھی۔ اور جب وہ چار سال کا ہوا ۔تو میری ساس کو ایک بار پھر پوتے کی خبر ملی تو وہ بلبلا اٹھی ۔ مجھ سمیت اس بار میرا بیٹا بھی پیٹا ۔ اور وہ جو اس سب کا ذمہ دار تھا وہ ایسا بن گیا جیسے ۔۔۔ وہ کچھ جانتا ہی نہیں۔
تکلیفیں اور عزیتیں ایک بار پھر منہ کھولے کھڑی تھی ۔ اتنے امیر باپ کی اولاد دوسروں کے کپڑے پہن کر گزارا کر رہی تھی۔ حالانکہ دو بیٹے تھے ۔ مگر آنے والے وقت کا کوئ کچھ نہیں جانتا ۔
اور ایک دن ایسا ہی عام سا مشقت سے بھرپورتھا جب میں کام کر کے ہٹی تو کچن میں شاہ میر منہ پھولاے بیٹھا تھا جبکہ شہروز غائب تھا ۔
میں بھوکلہ کے اسکے تعقب میں دوڑی ۔ میں لاونج میں آی تو میری ساس شہروز کو بری طرح ڈانٹ اور مار رہی تھی جبکہ وہ سہما ہوا تھا ۔ لاونج میں موجود خوبصورت اورقمتی واس ٹوٹ چکا تھا ۔ مجھے اپنے پیچھے شاہ میر کا احساس ہوا جو غصے کا تیز تھا وہ فوراً دادی کے پاس پہنچا اور اپنے بھائ کو انکے شکنجے سے چھڑوایا ۔
اسکے اندازبلکل باپ والے تھے ۔ میں بت بنی سب دیکھ رہی تھی ۔ دادی نے شہروز کو چھوڑ کر شاہ میر کے گالوں کو تھپڑوں سے سرخ کر دیا۔ میری بزدلی میرے بچوں کو رول رہی تھی تقریباً سب ہی وہاں موجود تھے ان بچوں کا باپ بھی ۔ جو ایک نئ تحریر رقم کر چکا تھا ۔۔ شاہ میر نے اپنا آپ چھڑوانا چاہا تو دادی کے منہ پر اسکا ناخون لگا اور نہنہی سی خون کی بوند ابھری۔ اور میرے شوہر کی غیرت اچانک ہی جاگی اسنے اپنے ہی خون کو برئ طرح پیٹا گلیاں دیں احسان جتایا ۔
اور مجھ سمیت میرے دونوں بیٹوں کو بھی ماں کے ایک حکم پر اسنے گھر سے باہر نکال دیا۔
جبکہ وہ جانتا تھا ۔ ایک بار پھر میرے وجود میں اسکی نشانی تھی۔
۔۔۔۔۔۔ زندگی کے یہ تکلیف دہ سال میں کبھی نہیں بھول سکتی ۔
“مما “اسے اپنی چھوٹی بیٹی شانزے کی آواز آی تو وہ چونک سی گئ ۔ ماضی میں وہ ایسے گم ہوی کے حال کو ہی بھول گئ اسنے ڈائیری بند کی اور بیٹی کی طرف متوجہ ہوی۔ جسے شہروز چھپکلی سے ڈرا رہا تھا ۔ وہ دوڑتی ہوی کمرے میں آگئ ۔ اور زور زور سے چیخنے لگی جبکہ شہروز قہقہ لگاتے ہوے اسپر چھپکلی پھنک چکا تھا۔
“شہروز ” اسنے شہروز کو زور سے تھپڑ لگایا اور شانزے جو گلہ پھاڑ کر چیخ رہی تھی اسکے منہ پر ہاتھ رکہا ۔
“زے بس کرو نکلی ہے ” اور یہ کہتے ساتھ ہی شانزے حواسوں میں آی اور ایک بار پھر ان دونوں کی لڑائ شروع ہو گئ ۔ جبکہ وہ سر تھام کر رہ گئ۔
“آنے دو شاہ میر کو کراتی ہوں تم دونوں کا دماغ درست ۔” اسنے ان دونوں کو جس کی دھمکی دی تھی یقینی طور پرانکی زبان تعالو سے لگ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔////////////۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔//
“صفدر سب کیسا چل رہا ہے”
“یس سر سب پری پلین چل رہا ہے ۔ بس اپکا ہی ویٹ کر رہے تھے کہ کب آپ ریٹ ڈالنے کی اجازت دیں ۔” صفدر اسکا بہت اچھا دوست تھا کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اپنے شوق کی بنا پر پولیس فورس جوائن کی ہوی تھی ۔ مگر کام کے دوران وہ اس سے ہمیشہ ادب و آداب سے مخاطب ہوتا تھا۔
“ہمہ گڈ ۔۔۔سب ریڈی ہیں ۔ “
“یس سر “وہ اپنے آفس سے باہر نکلا تو صفدر بھی اسکے پیچھے تھا۔ پولیس یونیفارم میں اسکا کسرتی جسم جیسے چٹان کی مانند لگ رہا تھا ۔ چہرے کے نقوش میں گھلی وجاہت ۔ مقابل کے ہوش گواہ دے رہی تھی ۔ لڑکیاں تولڑکیاں مرد بھی اسکی وجاہت کو لمہہ بھر کے لیے بس دیکھتے رہ جاتے۔ اور سب سے زیادہ خطرناک چیز شاہ میر خان کا غصہ تھا ۔ جو سب کو اس سے دس دس فٹ دور رہنے پر مجبور کر دیتا۔
وہ آفس سے بہر نکلا اور ایک طائرانہ نظر سب پر ڈالی جو سب الرٹ کھڑے تھے۔
“اوکے کسی بھی قسم کی غلطی کی کوئ گنجائش نہیں ہے۔ جس نےغلطی کی وہ اپنے آنے والے حالات کا خود زمہ دار ہے ۔ امید کرتا ہوں آپ میں سے کوئ نہیں چاہے گا کہ ہماری اتنے ٹائم کی محنت کا ضیائع ہو۔ ” اسنے اپنی بات پوری کی ۔ اور باہر اپنی جیپ کی طرف بڑھ گیا۔ صفدر اسکے ساتھ تھا باقی سب بھی انسڑرکشن کو مدنظر رکھتے ہوے گاڑیوں کی طرف دوڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/////////۔۔۔۔۔۔
یہ شہر کا مشہور کلب تھا جہاں امیر ماں باپ کی بگڑی ہوی اولاد ریفرشمنٹ کے لیے جمع ہوتی تھی اور ریفریشمنٹ بسا اوقات تمام اخلاقی حٙدوں کو توڑ دیتی۔ یہ کلب کسی بڑے سمگلر کے انڈر چل رہا تھا جو۔ نوجوان نسل کو نشے کی عادت بڑی تیزی سے ڈال رہا تھا تقریباً ایک ماہ پہلے شاہ میر کے انڈر یہ کیس آیا تھا اور آج وہ اسے پاے تکمیل تک پہنچانے یہاں پہنچ گیا تھا۔
شاہ میر خان کی جیپ کلب کے باہر رکی ۔ وہ ایک جست لگا کر جیپ سے باہرنکلا ۔ اسکے بوٹوں کی آواز کسی بڑے طوفان کے آمد کی گواہ تھی۔
اسکی جیپ کے پیچھے تین گاڑیاں رکیں اور کچھ پولیس اہلکار اسکی ایک آنکھ کے اشارے پر اپنی اپنی پوزیشن سمبھال گے جبکہ کچھ اسکے ساتھ تھے جس میں صفدر بھی شامل تھا ۔ ڈھلتی رات کا سا سما تھا۔ اندر کا شوروغل باہر تک سنائ دے رہا تھا۔
“فالو می ” اسنے سر پر سے کیپ اتاری اور اپنے ٹارگٹ کی طرف قدم بڑھاے۔
داخلی دروازے پر موجود گارڈ اسکے ایک مکے سے ہی زمین
بوس ہو گئے ۔
وہ اندر داخل ہوے ۔ تو وہاں کا ماحول حسبِ تواقع تھا۔ شراب شباب۔ نسوانی قہقہوں میں ملتے مردانہ قہقہے ۔اخلاق سے گری حرکتں۔ جیسے زندگی ایک نیا ہی رنگ جی
رہی تھی۔
اسنے ایک خاموش نظر سب پر ڈالی اور ہاتھ اوپر کر کے ایک فائر چھوڑ دیا جو فانوس کو چیرتا ہوا گیا۔ فانوس کے ٹوٹنے کی آواز میں فائر کی آواز گھل کر وہاں سب کو خوف ذدہ کر گئ۔ وہ سب جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹے تھے۔ ان سب لوگوں۔ کو صفدر اور باقی احلکاروں نے قابو کر لیا جبکہ شاہ میر وہاں سائڈ پر بنے ساونڈ پروف کیبن کی طرف بڑھ گیا۔ اور پھر چند ہی لمہوں میں وہ وہاں کے اونر کو گریبان سے پکڑے باہر لے آیا۔ وہاں سب کو تو جیسے سانپ ہی سونگ گیا۔
“اریسٹ کر لوسب کو”
وہ صفدر کو ارڈر دیتا باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔////////۔۔۔///////۔۔۔۔۔۔۔۔۔///۔۔/۔۔۔//۔/
وہ چئیر پر بیٹھا۔ ان کو نظروں کے فوکس میں لیے ہوے تھا۔ وہ دو لڑکیاں اورایک لڑکا جن میں سےایک لڑکی حُسن کا شہکار چہرے پر خوف اور ہوائیاں لیے کھڑی تھی جبکہ دوسری لڑکی کے چہرے پر دنیا جہان کی بے زاری تھی ۔ اورلڑکا سنجیدہ سا کھڑا تھا ۔ باقی سب زمانتیں کرا کر جا چکے تھے.. ان سب کے ہی والدین کو بلایا گیا تھا.. جبکہ یہ تینوں اپنے گھر سے کسی کو بلانے کے لیے تیار نہیں تھے.
“اپنے باپ کو فون کرو” سرد آواز گونجی۔
“سر بلیو می ہمارا اس کیس سے کوئ تعلق نہیں ہے ۔”لڑکے نے اپنی سی آخری کوشش کرنی چاہی۔
“غلبًا تم رات یہی گزرنا چاہتے ہو نو پروبلم ان کو لاکپ میں ڈال دو اور جب تک کوئ والی وارث نہ آ جاے آزاد مت کرنا ۔ “اسنے اپنے ایک اہلکار کو تنبہی کی جس نے فورا گردن ہلائ اور اپنی گاڑی کی چابی اور والٹ اٹھایا ۔
“پلیز معاذ چاچو کو کال کرو ” وہ لڑکی اب بقائدہ رونے لگی تھی ۔ لڑکا گھبرا سا گیا اسنے کسی کو کال کر کے فورا پولیس اسٹیشن بلایا۔
وہ اکتاہٹ سے سارا تماشا دیکھ رہا تھا۔ صفدر کی بھی ساری توجہ ان تینوں پر تھی۔
اوراگلے پندرہ منٹ میں جو چہرہ اسکے سامنے تھا اسکو دیکھ کر ۔ اسکے عصابوں پر گویا بم پھٹا۔ وہ اس چہرے کے نقوشوں کو بس دیکھتا رہ گیا۔ نفرت کی چنگریاں وجود کو ۔
بھڑکا گئں ۔ جبڑے سختی سے بھنچ گئے جبکہ دماغ کی رگیں ایسے پھولیں کہ گویا ابھی پھٹ پڑیں گیں ۔ ہاں آج تیئس سال بعد اسنے رضا خان کو دیکھاتھا۔ ڈھلتی عمر نے انکے شانیں ضرور جھکا دیے تھے مگر چہرے پر رونک آج بھی ویسی تھی۔ اسنے بڑی مشکل سے اپنی بلبلاتی کفیت پر قابو پانے کی کوشش کی مگر بے سود
اسے شدید گھٹن کا احساس ہو رہا تھا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے بھاگ جاے اور جب برداشت جواب
دے گئ ضبط کے دھاگے ہاتھ سے چھوٹنے لگے وہ اچانک ہی کھڑا ہو گیا۔
“صفدر ہنڈل دس کیس” اتنا کہا اور کسی ہوا کے جھونکے کی طرح غائب ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک ٹی شرٹ اور جینز میں شہروز بلیک ہی گاگلز لگائے ۔ نک سک سے تیر ہو کر ڈائنینگ پر آیا جہاں کا ماحول اسے کچھ کھینچا کھینچا سا لگا ۔ اسنے ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو انہوں نے لاعلمی کا مظاہرہ کیا۔ وہ خود نہیں جانتی تھیں شاہ میر کو کیا ہو گیا ہے۔ رات خاصا لیٹ گھر آیا اوپر سے بکھرا بکھرا حولیہ ۔ انہیں پرشان کر گیا۔
انہوں نے لاکھ اسکی حالت کی وجہ پوچھی مگر وہ کچھ بول کے ہی نہیں دے رہا تھا ۔اور اب بھی اسکے منہ کو جیسے تالہ لگا ہوا تھا۔ شہروز نے شیری کی طرف دیکھا جو چپ چاپ کھانا کھا رہی تھی ۔ یعنی یہ معمہ اسے حل کرنا تھا۔ وہ شاہ میر کے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
“طبعیت ٹھیک ہے لالا” اسنے ٹوس پر جیم لگاتے پوچھا ۔
“ہوں ہاں مجھے بھلا کیا ہونا ہے”
“پھر بھی “وہ کون سا جان چھوڑ دینے والا تھا۔
” کچھ نہیں شہروز ناشتہ کرو خاموشی سے ” اسنے جان چھوڑانا چاہی۔
“لالا آپ جانتے ہیں آپ کتنے اہم ہیں ہمارے لیے ۔ اپکی پرشانی پر سارا گھر پرشان ہو اٹھتا ہے۔ اور آپ نے کبھی مجھ سے کوئ بات نہیں چھپائ پھر اب یہ گریز کیوں “
وہ اب بھی کچھ نہ بولا ۔ تو وہ اور اماں سمھجھ گئے یہ گریز شانزے کی وجہ سے ہے ۔کہ شانزے کو کبھی اسنے باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی۔
شانزے کی یونی وین آ چکی تھی ۔ وہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کر اٹھی۔ شاہ میراسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں میں شہروز کو خاموشی سے ناشتہ کرتے دیکھ کر شرارت ناچ گئ ۔ شایداس درودیوار میں رونک اسکے ہونے سے ہی تھی۔ ورنہ یہاں اترتی ویرانیاں اسکا دم گھوٹ دیتیں
“شہروز لالا آج آپ مجھے پوکٹ منی دیں گے “اسنے کہتے ساتھ ہی شہروز کے والٹ پر جھپٹا مارا ۔ اور ہزار کا نوٹ نکال لیا۔
شہروز کی تو آنکھیں ابل آئ ۔ اس بھتا خوری پر.
“چڑیل چھوڑو میرا پرس اور ہزار روپے دماغ درست ہے تمھارا۔ “شہروز نے اسکو گھوری لگائ جس کا کوئ اثر لیے بغیر وہ منہ بنا کر بولی۔
“لالا آپ انتہائ بھوکے ہیں۔ آپکی بیوی تو ماری ہی جاے گی اپکی کنجوسی پر”
“خبر دار جو تم نے میری ان دیکھی بیوئ کو بیچ میں گھسیٹہ “
“ہمہ بڑے آے بیوی کے حمایتی ۔ “وہ اسے منہ چڑاتی اماں اورشاہ میر کو پیار کرتی بھاگ گئ۔ شاہ میرکے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ دونوں ہی کچھ پرسکون ہوے۔
“بہت شرارتی ہو گئ ہے” لبوں کی تراش مہں چھپی مسکراہٹ اسیے مزید ہینڈسم بنا رہی تھی۔ آج شاید وہ ان ڈیوٹی نہیں تھا تبھی سکون سے بیٹھا تھا۔ ورنہ اتنی افرا تفری مچا دیتا کے وجیہ پرشان سی ہو جاتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔//////۔۔۔۔۔۔۔//////
وہ تینوں اسوقت اماں کے کمرے میں بیٹھے تھے۔ رضا خان سے ہوئ ملاقات اسنے منو عن ان دونوں کو سنا دی ۔ اماں خاموش بیٹھی تھیں ۔ تئیس سال بعد پھر سےاس آدمی کا ذکر ہو رہا تھا۔ جس کو انھوں نے اپنا سب مان لیا تھا۔ مگر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے نہ ہم جس پر اکتفا کر لیں وہی اسے ٹھوکر مارتا ہے ۔ کہ ہم بس بے بسی سے اسے دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ اماں کی خاموشی اور جھوکیں نگھایں شاہ میر کا رہا سہا سکون بھی غارت کر گئ ۔ بے چینی حد سے سوا ہو گئ ۔بس نہیں چلا اسے شوٹ کر کے ایک ہی لمہے میں اپنے سارے حساب برابر کر لے۔ مگر نہیں وہ اسے اسی چوٹ دینا چاہتا تھا۔ کہ وہ چلائے۔ پل پل جیے پل پل مارے ۔ موت کی خواہش کرے۔ وہ اسے بلکل ایسی اذیت سے دو چار کرنا چاہتا تھا جو اسکی ماں نے سہی یہ جو بے بسی کا وقت اسنے کاٹا۔
کہ روپیے روپیے کو وہ چارو ترسے ۔
“لالا ہمارا اس آدمی سے کوئ تعلق نہیں ہے ۔ تو ہم اس موضوع کو ڈسکس نہ ہی کرئں تو بہتر ہے۔ ہم کیوں اس شخص کا ذکر کر کے تکلیف میں مبتلہ ہوں کیا جو ماہ و سال ہم نے دربدر گزارے وہ کم تھے کہ ایک نئے سرے سے خود اذیتی کا دور شروع کر لیں”
شہروز نے اماں کو بانہوں میں بھرتے ہوے کہا۔ جن کی نگاہیں بیتے دنوں کی اذیت یاد کر کے بھر آئ تھیں ۔
“نہیں شہروز اتنے اچھے تم۔ ہو گے میں نہیں ۔ جب تک میں اسے اسکے انجام تک نہیں پہنچا دوں گا سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔ ” اسکے لہجے میں اتنی سختی تھی کہ وہ دونوں بس اسے دیکھتے ہی رہ گے کسی میں آگے کچھ بولنے کی ہمت ہی نہ ہوئ ۔
جبکہ وہ تن فن کرتا انکے درمیان سے اٹھ آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/////۔۔۔۔۔/////۔۔۔۔
” وہ دیکھ وہ دیکھ زبرداست یار” وقار نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر سامنے متوجہ کرایا جہاں ریڈ شلوار پر وائٹ شرٹ اور ریشمی دوپٹہ شانوں پر پھیلائے۔ کٹینگ بالوں کی پونی ٹیل بنائے شانزے اپنے ازلی لاپراہ انداز میں اپنی دوست کے ساتھ قہقہ لگاتی آرہی تھی ۔ وہ اتنی پیاری اور معصوم لگ رہی تھی کہ وہ تو ساکت ہی ہو گیا۔
“تو کیوں شہروز سر سے پیٹنا چاہتا ہے اس بلا کے آگے وہ جلاد کھڑا ہے جسے کوئ سر نیہیں کر سکتا صرف ہم دیکھ کر آہیں بھر سکتے ہیں “عادی نے جیسے انکے خیالات پر برف ڈال دی۔
جبکہ وہ اب بھی اسی کی طرف متوجہ تھا جو کسی ہوا کے جھنکے کی طرح اسکے سامنے سے گزر گئ تھی۔
” انجام کی پراوہ ہوتی تو میں عشق کرنا چھوڑ دیتا” اسنے لبوں میں دبی سگریٹ کو پھینک کر جوتے سے مسلہ سٹائل سے بنے بالوں کو ایک بار پھر ہاتھ مار کر درست کیا۔ ہیوی بائک پر لٹکا شلڈر بیگ کندھے پر ڈالا جس میں بمشکل ایک ہی کتاب تھی اور اسکے تعقب میں بھاگا۔ سر عمران کا لیکچر تھا اور وہ ہر حالت میں اسکے برابر جگہ چاہتا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ۔گلاس ڈور دھکیلتا کلاس روم میں داخل ہوا ایک نظر پورے روم پر دوڑائ ۔وہ اسے سیکنڈ رو میں کسی کتاب پر جھکی ملی ۔ وہ جانتا تھا فیزکس اسکے گروپ میں سے صرف اسی کا سبجیکٹ ہے تبھی اسکے ساتھ اسکی کوئ دوست نہیں تھی ۔ وہ ۔ مسکراتا ہوا جلدی سے عین اسکے برابر والی چئیر پربیٹھ گیا۔ پیچھے اسکے دوست جو لاسٹ بنچ پر بیٹھے تھے اسے بری بری گلیوں سے نواز رہے تھے کہ جب سے اسکے سر پر شانزے نامی بھوت چھڑا تھا بےچارہ ہر جگہ نمبر بنانے کی کوشش کرتا مگر سد افسوس کہ اب تک شانزے کی ایک نظرِکرم بھی اسپر نہیں پڑئ تھی۔
اسنے ایک اچٹتی نگاہ اپنے برابر میں بیٹھے لڑکے پر ڈالی جو اپنے بتیس دانت نہ جانے کیوں اسے دیکھا رہا تھا اور پھر اپنے کام میں مگن ہو گئ ۔ جبکہ مقابل کی ساری شوخی ہوا ہو گئ ۔دوستوں کی دبی دبی کھی کھی پر وہ کھا جانی والی نظر ان پر ڈال کر رہ گیا مگر ہار ماننا سیکھا کب تھا۔ سر عمران کلاس میں داخل ہوے تو ایکدم سناٹا چھا گیا۔
شانزے نے اپنے نوٹس کھول کر آگے رکھے اور پوری طرح اس۔ میں غرق ہو گئ ۔ فیضان نے اپنے پھونک نکلے بیگ میں ہاتھ ڈالہ جس میں سے ایک مکھی بھی نہیں نکلی تو نوٹس کیا نکلتے ۔ اسنے ہمت کر کے شانزے کو پکار ہی لیا۔
“میں آپ کے ساتھ نوٹس شئیر کر سکتا ہوں “
“ہر گیز نہیں “اسکا ٹکا سا جواب سارے ارمانوں پر پانی پھئر گیا۔
فیضان غصے سے اسے دیکھا اور اسکے نوٹس جھپٹ کر اپنے سامنے پھیلا لیے۔ شانزے کا تو اسکی جرت پردماغ خراب ہو گیا۔
“چھوڑو میرے نوٹس “اسنے ڈارک براون آنکھوں سے اسے گھورا جس کی صحت پر خاک اثرپڑنا تھا۔ اور پھر ایک طرف سے نوٹس شانزے کے قبضے میں تھے جبکہ دوسری طرف سے فیضان کے بے چارے اپنی قسمت کو رو رہے تھے ۔ سر عمران نے کلاس میں ڈسڑبنس محسوس کی ایک دو بار انہیں ٹوکا بھی جب کوئ فرق نہ پڑا تو انھوں نے ان دونوں کو کلاس سے اچھی خاصی عزت کر کے بےدخل کر دیا۔
وہ بھناتی ہوی باہر نکلی ۔
“یو اِڈیٹ تمہاری وجہ سے میرا امپورٹنٹ لیکچر مس ہو گیا” وہ تو اسکے اندازِتخاتب پر چکرا ہی گیا مگر ہنسی بھی آی پہلی بار اتنی عزت کرائ تھی۔
“دیکھئیں ۔۔۔۔۔۔ “ابھی وہ کچھ کہتا ہی کے وہ پھر سی چیخی ۔
“تم دیکھو مسڑ۔۔۔۔ ” اس بار اسنے جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اسکی بات کاٹی۔
“دیکھ تو رہا ہوں ” اور بڑی شرارت سے وہ اسے دیکھنے لگا جبکہ شانزے بات کا مطلب سمھجھ کر مزید تاو میں آگئ اور اسکے ہاتھ سے نوٹس جھپٹتی آگے چلی گئ
جبکہ اپنے پیچھے وہ اس چیپکو اجنبی کا قہقہ بڑی مشکل سے ہضم کر سکی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔////////۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے