128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

دو دن بعد اسے ڈسچارج مل گیا تھا….
اور شاہ میر نے اگلے ہی دن پوری فیملی کا سوات جانے کا پلین بنا لیا تھا….
سب ہی راضی تھے.. کیونکہ ڈاکٹر کی ہدایت جو انھوں نے حرم کے متعلق دی تھی… اس سے سب واقف تھے…
حرم ایکسئٹیڈ.. نہیں سپر ایکسئٹیڈ تھی اسے لگ رہا تھا وہ ایک مدت بعد گھر سے باہر نکلی ہے…
سب اپنی گاڑیوں میں روانہ ہوئے تھے.. شہروز ان تینوں کو جبکہ.. شاہ میر اور حرم اپنی گاڑی میں تھے…
سارے راستے حرم سوتی جاگتی رہی جبکہ شاہ میر مسلسل ڈرائیو کر رہا تھا….
ساتھ ساتھ وہ حرم کی فضول گوئ بھی سن رہا تھا…
وہاں پہنچتے ہی.. ہوٹل جو وہ پہلے ہی بوکڈ کرا چکا تھا….
سب.. اپنے اپنے رومز میں چلے گئے ونیزے اماں کے ضد کرنے پر شہروز کے روم میں گئ تھی جبکہ خوف سے اسکی جان سوکھ چکی تھی…
دوسری جانب شاہ میر ڈرائیو کر کے بہت تھک چکا اسنے شاور لیا.. جبکہ حرم… بڑی ساری میرر وال.. سے اسپر جگمگاتی روشنیوں کو دیکھ رہی تھی
وہ شاور لے کر نکلا تب بھی حرم وہیں کھڑی تھی…
حرم فریش ہو جاو “اسنے اپنا سیل فون چیک کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا..
میر.. ہم باہر چلتے ہیں” حرم.. اسکے پاس آ ئ اور اسکا ہاتھ پکڑا..
خدا کو مانوط… نا جانے کتنے گھنٹے کی ڈرائیو کر کے اب سکون ملا ہے اب میں تمھیں باہر لے جاو چپ چاپ فریش ہو اور سو جاو… میڈیسن بھی لینی ہے سونے سے پہلے” وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ پر سے ہٹاتا ہوا بولا تو حرم نے برا سا منہ بنایا…
آپ کتنے برے ہیں میر کیا ہو جائے گا اگر ہم دونوں تھوڑا سا گھوم آئیں” شاہ میر کو.. لیٹتے ہوئے دیکھ کر… اسنے کہا تو شاہ میر.. نے تکیوں کو اپنے منہ پر رکھ لیا..
لیٹ کر اسے اچھا خاصا سکون ملا تھا…
حرم سونے دو اب مت بولنا…” وہ تکیوں میں منہ دیے بولا تو حرم نے گھور کر اسکو دیکھا..
ٹھیک ہے.. میں جا رہی ہوں”وہ بولی اور اسکی جانب دیکھا جو ٹس مس نہ ہوا….
میں جا رہی ہوں اکیلی میر… “وہ بلند آواز میں بولی مگر… نتیجہ وہی.. وہ تو جیسے.. سو گیا تھا.. حرم کو غصہ آنے لگا..
کوئ بھی بات نہیں مانتا تھا یہ شخص اسکی….
وہ پاوں پٹختی ہوئ… دروازے تک پہنچی.. مگر.. دروازہ ڈیجی[ل تھا جو کہ کارڈ سے کھلتا تھا.. اسنے پلٹ کر.. کھا جانے والی نظروں سے شاہ میر کو دیکھا..
اسے معلوم تھا تبھی.. وہ اتنے سکون سے پڑا تھا….
حرم دوبارہ اس تک آئ…..
مممم….. میر…. “اسنے غصے سے تقریباً اسے جھنجھوڑ دیا جبکہ شاہ میر کا پارہ اب ہائ ہو چکا تھا…
تمھارا دماغ ٹھیک ہے…” وہ چلایا… جبکہ حرم اس سے دو قدم دور ہوئ….
وہ خوف ذدہ نظروں سے شاہ میر.. کو دیکھنے لگی…
جبکہ شاہ میر نے گھیرہ سانس بھرا…
عجیب سچویشن تھی.. وہ غصہ بھی نہیں نکال سکتا تھا اسپر…
حرم دیکھو میں تھک چکا ہوں مجھے ریسٹ کرنا ہے.. میں کل لے کر چلوں گا تمھیں جہاں کہو گی “اسنے نرمی سے کہا… تو حرم کو بھی حوصلہ ہوا.. نگر دماغ کا بھوت اب بھی نہیں اترا تھا….
میر میں بور ہو رہی ہوں مجھے ریسٹ نہیں کرنا میں اماں کے پاس چلی جاو گی آپ کارڈ دیں”
اسنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر.. اسکو بتایا.. اور کارڈ مانگنے کے لیے.. ہاتھ بڑھایا…
براو… یعنی تمھاری اس کم عقل میں میری بات نہیں آئے گی” وہ شانے اچکا کر تیوی چڑھائے بولا.. اور حرم کی کلائ… جو اسنے اسکی طرف بڑھائ ہوئ تھی ایک جھٹکے سے کھینچی…
حرم.. اس حملے کے لیے کہاں تیار تھی….
سیدھا اسکے سینے پر آ گیری….
م.. میر” اسنے شاہ میر کی سرخ نظروں کو دھڑکتے دل کے ساتھ دیکھا…
تم تو تجلی ہوئ نہیں ہو…. میری تھکاوٹ اتار دو پھر” شاہ میر گھمبیر مگر مدھم لہجے میں…. بولا… اور حرم کے بال… کان کے پیچھے.. کیے وہ اسکا سرخ پڑتا چہرہ بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا…..
آپ… میں… مجھے فریش ہونا ہے” حرم کا لہجہ لڑکھڑا سا گیا جبکہ شاہ میر… کے دماغ اسکی خوبصورتی.. اور معصومیت کے آگے مفلوج ہو کر رہ گیا تھا…
کیا ضرورت ہے… ” نرمی سے کہہ کر.. اسنے حرم کو اپنے مقابل لیٹا لیا…
حرم کے ہاتھ پاوں کانپنے لگے تھے جبکہ شاہ میر.. کو اسکے وجود سے اٹھتی خوشبو اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ مزید اپنے عمل پر اکسا رہی تھی….
اسنے حرم کی کمر میں ہاتھ ڈال.. کر اسے خود سے نزدیک کیا….
حرم کی سانسیں بھاری ہو رہی تھی…
ریلکس حرم “شاہ میر نے.. اسکو پیار سے کہا… کہیں.. اسکی طبعیت ہی نہ بگڑ جائے….
بہت نازک ہو تم” اسنے حرم کی گردن… پر پہلا وار کیا….
جس سے حرم کا وجود ساکت رہ گیا….
شاہ میر.. کو اسکی مزاہت محسوس نہ ہوئ.. تو اسکی ورافنگی…. دیوانگی میں بدلنے لگی….
می… میر “حرم کو اس سے خوف آیا…
شششش… زیادہ نہیں بولنا… اسنے اسکو روکا…
اور… ہمیشہ کی طرح حرم کی سانسوں کو اپنا قیدی کر لیا… …
اور حرم کے دونوں ہاتھ.. اپنی گردن کے گرد حائل کر.. کے.. وہ جیسے.. دنیا فہمیا سے غافل ہو گیا….
حرم اسکی شدتوں ہر سمیٹتی جا رہی تھی.. کہ لائٹ جو… کمرے میں ہلکی پھلکی چل رہی تھی وہ بھی چلی گئ..
شاہ میر جانتا تھا.. یہاں.. بارش کے باعث اکثر لائٹ چلی جاتی ہے..
حرم کو اندھیرے سے مزید گھبراہٹ ہوئ…
اور اسنے.. شاہ میر… کا ہاتھ زور سے تھانہ…
لائٹ چلی گئ میر… “وہ ڈر کر بولی…
اچھا ہوا.. میر کی جان” میر تو شاید اپنے حواسوں میں نہیں تھا..
جلد ہی اسنے.. حرم کے حواس بھی غائب کر دیے….
……………………..
لائٹ کیسے چلی گئ.. “شہروز کی جھنجھلائ ہوئ آواز کمرے میں نمودار ہوئ.. وہ ابھی فریش ہو کر نکلا تھا…
یہاں… اکثر بارش کے باعث لائٹ جاتی ہے… “ونیزے جو کھڑکی سے آتی.. ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہی تھی اچانک ہی مدھم لہجے میں بولی….
بڑی معلومات ہے کتنی بار آ چکی ہو… اور کس کس کے ساتھ…” شہروز نے ہتق امیزلہجے میں پوچھا جبکہ…. ونیزے کے مڑ کر دیکھنے پر.. اسے معلوم ہوا.. وہ ہنس رہا تھا….
اس وقت وہ لڑکی اس کی بات سے کتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوئ… یہ وہ خود یہ اسکا خدا جانتا تھا…
ونیزے خاموشی سے شہروز کو دیکھ رہی تھی… جبکہ شہروز بھی اسی کی آنکھوں میں اترتی جھیل جسے شاید وہ لڑکی بھنے سے روک چکی تھی وہ دیکھ رہا تھا..
اسنے کافی بھاری.. بات کی تھی.. حالانکہ وہ بات واضح نہیں تھی.. مگر اس کے اندر چھپا مفہوم ونیزے خوب سمھجتی تھی جبکہ شہروز بھی اپنی بات کی گھیرائ جانتا تھا…
تیز ہوا… کے جھونکے سے.. ونیزے جیسے ہوش میں آئ.. وہ اس سے معافی مانگ چکی تھی… وہ نہیں جانتی تھی اسنے اسے معاف کیا یہ نہیں مگر بات بات پر اسکی عزت کی دھجیاں اکھیڑ دیتا ایسا… ونیزے کے لیے.. برداشت کرنا محال تھا…
بہت ساروں کے ساتھ….. ” ونیزے سفاکی.. سے بولی.. اور ایک قدم شہروز کیطرف اٹھایا.. جبکہ شہروز نے گھور کر اسے دیکھا..
بکواس بند کرو اپنی”
کیوں کیا ہوا.. سچ بولوں تو بھی کڑوا.. لگتا ہے…. “ونیزے.. تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اسکی جانب بڑھتی جا رہی تھی جبکہ شہروز… پیچھے قدم لے رہا ہا تھا…
اور جاتے ہو جتنوں کے ساتھ روکی.. ادھر اسی ہوٹل میں روکی… “وہ مزید بولی.. اسکا لہجہ اسکی ٹون.. بتا رہی تھی… وہ
. اپنے آپے میں نہیں..
ونیزے آئ سیڈ کیپ کائٹ بہت.. بول چکی ہو…” شہروز نے برداشت کرتے ہوئے.. آگے بڑھ کر.. اسکا ہاتھ سختی سے جکڑا اسطرح کے ونیزے کو اپنے ہاتھ میں اسکی انگلیاں.. چبھتی محسوس ہوئ…
کیا ہوا… وہی تو بول رہی ہوں جیسا آپ سننا چاہتے ہیں….” ونیزے.. نے حیرت کا اظہار کیا.. تو شہروز نے غصے سے اسکا منہ جکڑ لیا….
ونیزے میری برداشت سسے باہر مت جاو.. ورنہ… “
ورنہ… ورنہ کیا… مار دیں گے… مار دیں.. لیکن سچ اب یہ ہی ہے.. مجھے افسوس ہے آپ جیسے پرسا کو.. مجھ جیسی.. ناپاک… غلط عورت…ملی”
شیٹ آپ ونیزے… “شہروز نے اسکی چلتی زبان کو اپنے تھپڑ سے بند کر دیا….
کیا شیٹ آپ… آپکی جرت بھی کیسے ہوئ مجھ سے یہ سول کرنے کی” ونیزے بھی پھٹ پڑی…..
شہروز خاموشی سے اسکے گال پر چھپی اپنی سرخ انگلیوں کو دیکھنے لگا….
کیوں خاموش ہوں اب…. شہروز بتائیں مجھے….
کون سا غیرت مند مرد اپنی بیوی سے یہ سوال کرتا ہے.. شرم آنی چاہیے آپکو” وہ حلق کے بل چلائ..
تو شہروز… نے جھپٹ کر اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا
کیونکہ ونیزے بی بی اپنی آنکھوں سے ان انگلیوں… کو کسی ~یر مرد کے لبوں کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے…
کیا میری غیرت مر چکی تھی…”
وہ پھنکارہ تو ونیزے بری طرح رو دی…
ہاں مر چکی تھی آپکی غیرت کیوں نہیں وہاں سب کے سامنے تھپڑ مار کر اپنے ساتھ
. لے آئے.. کیوں چھوڑ کر آئے وہاں مجھے.. آپ سے زیادہ تو آپ کے بھائ میں غیرت ہے.. کم از کم انھون نے.. مجھے.. بیچ چھورائے میں چھوڑا تو نہیں” وہ دوبادو بولی
تو شہروز نے… اسکو پیچھے بستر پہ ر دھکا دے دیا…
اچھا…. کیا توقعات ہیں.. گریٹ..” وہ غصے سے.. تالی بجا کر بولا…
زہر لگتے ہیں آپ مجھے “ونیزے.. بے بسی سے… چلائ.. تو شہروز… نے بھی اپنا موبائل.. جو وہ اٹھا کر چیک کرنے لگا.. تھا.. بیڈ پر اسکے پاس پھینکا…
اچھا تو کون اچھا لگتا ہے پھر تمھیں… “وہ بیڈ کر گیری ونیزے کے اوپر جھکا… تو ونیزے کی سیٹی جیسے گم ہو گئ..
بولو نہ ونیزے میڈیم کون اچھا لگاتا ہے.. وہ مرد جو تمھیں سہرائے.. وہ تو جہاں تک مجھے نالج کمہے تمھیں پسند نہیں کیوں کے بچپن سے ہی سہرائ جا رہی ہو رائٹ… تو کون اچھا لگتا ہے تمھیں”
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے… پوچھ رہا تھا.. ونیزے.. پانی بھری سرخ آنکھوں… کو اسکی انکھیوں میں گاڑے ہوئ… تھی…
آ……… پ” اسکے لفظ بے آواز… پھڑ پھڑائے…. شہروز…..
حیرت سے.. ان ہونٹوں کی ہلکی سی جنبش کو تکنے لگا…..
جبکہ ونیزے کی آنکھوں سے… زارو قطار آنسوں کی لڑی بندھ گئ…
جانتی ہو.. میں کتنا مشکل ثابت ہوں گا تمھارے کیے” وہ سر سراتے لہجے میں اسکی اڑتی چند لٹوں کو اپنے چہرے پر آوارگی سے حرکت کرتا محسوس کر رہا تھا…
ایک خمار سا.. اسکی خوشبو.. سے اسکے ذہن پر سوار ہونے لگا تھا….
آپ کے ساتھ کے لیے… مجھے ہر آزمائش قبول ہے” ونیزے پھر سے سسکتی ہوئ… مدھم آواز میں بولی… جبکہ شہروز… اسکے چہرے پر جھکنے لگا…
سوچ لو… پشتوا نہ ہو…. ان باتوں کا بعد میں”
اس سے پہلے ونیزے… اسکو کوی جواب دیتی… شہروز نے اسے اگلا لفظ بولنے قابل نہیں چھوڑا تھا
چند سیکینڈز بعد اسنے ونیزے.. کی آنکھوں سے نکلتے آنسوں کو غور سے دیکھا…
صبح پشتانا ابھی…. ان کی ضرورت نہیں” اسنے بے دردی سے اسکے آنسو صاف کیے… اور اسکے نازک وجود کو اپنے سخت گرفت میں جکڑ لیا……..
………………………..
صبح خوبصورت تھی…..
ان چارو کے لیے….
حرم نے تو شاہ میر سے.. کوئ بات نہیں کی تھی… اسے شاہ میر سے اول تو شرم ہی بہت آ رہی تھی.. جبکہ… دوسرا وہ اس سے اپنی جان میں ناراض بھی ہو چکی تھی جبکہ دوسری جانب شاہ میر کو ناجانے کیا ہوا.. تھا.. عجیب خاموشی نے اسکے ہونٹوں کو کفل لگا دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے یک لفظ پھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا…
اسکی خاموشی سب ہی محسوس کر چکے تھے…
جبکہ دوسری جانب… ونیزے.. بلکل خاموش تھی جبکہ شہروز کی شوخیوں کا کوئ لیول نہیں تاھ.. ونیزے سمھجہ نہیں پا رہی تھی وہ انسان وقع خوش ہے یہ… صرف بن رہا ہے….
اسکے علاوہ شہروز سیدھی زبان میں اسکی جان کو آیا ہوا تھا.. وہ اماں کے سامنے بھی اسے تنگ کرنے سے بعض نے آیا…
اور ناشتہ کرتے ہوئے…
ٹیبل کے نیچے سے.. اسکا ہاتھ تھام لینا… جس سے اسک اناشتہ کرنا محال تھا…
وہ ونیزے کو ہلکان کرنے کی ساری حرکتیں کر رہا تھا..
شاید وہ اسکا سٹیمنا چیک کر رہا تھا.. کہ وہ کس حد تک اپنی بات پر سچی ہے… مگر وہ تو اپنے دل اور ذہن کو اسکے ساتھ رہنے کے لیے پوری طرح آمادہ کر چکی تھی…
اس وقت وہ چشموں کے پاس کھڑے قدرتی حسن کو… دیکھ رہے تھے جبکہ شانزے اور اماں بھی انکے پاس ہی تھیں سب باتوں میں مگن تھے…
جبکہ شاہ میر ان سب سے دور خاموشی سے حرم کی پشت کو تک رہا تھا…
یہ اسنے کیا کیا تھا…
ایسا بھی کمزور نفس نہیں تھا اسکا…
وہ کم از کم اپنے سب سے بڑے دشمن کی چہتی کو.. اپنے دل کے مقام پر نہیں بیٹھا سکتا.. بھلے اسکا دل ہی زخمی کیوں نہ ہو جاو.. کیا ہوا.. اگر حرم.. کو اوہ تکلیف نہیں دے سکتا.. مگر وہ اپنا گزرا ہوا کل.. کسی صورت نہیں بھول سکتا تھا…
کیا ایسا ممکن ہے آپ اپنے اذیت میں گزرے ماہ سال کو.. فقت ایک لڑکی کی چند دنوں کی رفاقت سے بھول جائیں..
ہر گیز نہیں کسی صورت نہیں…
وہ حرم کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا.. مگر اسے اپنے ساتھ بھی نہیں رکھ سکتا تھا…
اگر اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا تھا تو.. ایسے.. اپنے یہ اسکے جزبات کے ساتھ یہ مزاق ضروری تھا…
اسنے غصے سے ایک درخت.. پر مکہ مارا….
نہیں رضا… تمھارا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا اور اپنے ہاتھوں سے تمھیں انجام تک پہنچا کر سکون ملے گا مجھے…
ورنہ میری روح یوں ہی بدسکون رہے گی.. “اسنے غضب ناک انداز میں سوچا…. اور ان سب کے پاس سے ہٹ گیا…
جبکہ… سامنے.. حرم کو اچانک ہی میر یاد آیا.. تو وہ.. امان کو کان میں کچھ کہہ کر.. میر کیطرف دوڑی…
میر.. روکین بھئ کہاں جا رہے ہیں” حرم نے پوری آواز میں چینخ کر اسے پکارہ تو کئ لوگ اسکی جانب متوجہ ہو٨ے جبکہ شاہ میر کا دل کیا.. ادھر ہی کسی پتھر پر سر مار کر سر پھوڑ لے اپنا…
جبکہ کسی شخص… نے حرم.. کو گھیری نظروں سے دیکھا….
اور.. اسکے نزدیک آنے لگا.. دوسری طرف سے شاہ میر دور کھڑا اسے گھور رہا تھا…
جبکہ حرم… سب کی نظروں سے کنفیوز ہوتی رو دینے کو تیار تھی….
………………….
جاری ہے