Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248
Last updated: 20 September 2025
Deewani Yaar Di
By Tania Tahir
گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں… صنم کی ضد کے باعث… اماں شانزے کے ساتھ ساتھ صنم کی بھی تیاریان کر رہین تھیں.. جبکہ حرم… اپنی طبعیت جانتے ہوئے بھی… اچھل قود میں سب سے آگے ہو کر.. وہ دن میں .. تقریب.. دس بار شاہ میر سے ڈانٹ کھاتی تھی جبکہ ونیزے اپنی طبعیت سے ہی بہت بے زار تھی.. کیونکہ اسکو آخری مہینہ تھا.. جس کے باعث.. وہ کافی.. ڈسٹرب تھی..
اور شہروز کی بھی آج کل اسپر توجہ بہت کم ہو گئ تھی کیونکہ یونی میں پیپر ہونے کے باعث.. وہ اب زیادہ وقت وہیں دے رہا تھا…
حرم کا آخری پیپر تھا.. اور وہ جانتی تھی وہ دو تین میں تو فیل ہو ہی جائے گی تو وہ کیوں اتنی محنت کرے.. جب فیل ہی ہونا ہے…
شاہ میر کو وہ ہر بات.. اپنا بہت شاندار پیپر کی اطلاع دیتی رہی تاکہ وقتی ڈانٹ سے بچی رہے بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی…
تبھی وہ… شانزے کے ساتھ… شاپنگ پر گئ ہوئ تھی…
اور جب وہ گھر آئ تو… اسکا سانس بری طرح پھول رہا تھا…
آف بہت ہی بھوک لگ رہی ہے”وہ.. سمبھل کر بیٹھتی.. بولی تو شانزے اسکی طبعیت کے خیال سے اٹھی..
میں لاتی ہوں سنیکس..” شانزے آٹھ کر کچن میں گئ… تو حرم مزید پھیلی..
بیٹا خیال رکھو.. مجھے تمھاری یہ لاپرواہی بلکل ٹھیک نہیں لگتی..
کل بھی تم دو دو سٹیپ سیڑھی چڑھ کر اوپر بھاگی تھی…
اور شاہ میر سے کتنی ڈانت کھای.. میرا بچہ عقل پکڑو” اماں نے اسکے نکھرتے چہرے کو دیکھا جس پر ہلکی پھلکی پسینے کی بوندیں تھیں…
یار اماں پیز آپ بھی اپنے بیٹے کیطرح مجھے ڈانٹ رہی ہیں” وہ منہ بسور کر بولی…
بلکل ٹھیک ڈانٹ رہی ہیں دو دو بچے ہیں تمھارے بھئ خیال رکھو ”
صنم نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بڑے مدبرانہ طریقے سے اسے سمجھایا…
جبکہ حرم نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا…
وہ مائیوں کے سوٹ میں بیٹھی مسکرا رہی تھی.. اب بھی سب جان لینے کے باوجود وہ اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی…
ویسے تمھارے گھر میں تمھاری شادی کی جگہ نہیں تھی کیا”اسنے چڑے ہوئے انداز میں پوچھا تو.. صنم ایکدم خاموش ہو گئ…
ایکچلی میری مدر نہیں ہیں اور شاہ میر سے آنٹی کے بارے میں بہت سنا تھا.. تو میں نے اس سے اپنی شادی کا گفٹ مانگ لیا” وہ سنجیدگی سے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے بتانے لگی….
اماں نے حرم.. کو گھورا..
حرم ایسے نہیں کہتے” انھوں نے ٹوک دیا…
حرم نے برا سا منہ بنایا…
جبکہ شانزے اسکے سامنے کھانا لگا چکی تھی..
ونیزے بھی وہیں آ گئ…
اماں میری طبعیت بلکل ٹھیک نہیں.. ہے”وہ رو دینے کو تھی جبکہ کھڑا بھی بمشکل ہوا جا رہا تھا.. وہ چارو ایکدم اسکی طرف بڑھیں.. جو صوفے ہر بیٹھتی جا رہی تھی.. جبکہ اب اسکی سسکیاں ابھر رہی تھی..
ام….. ” اسکے لفظ ٹوٹے..
شانزے شہروز کو کال کرو جلدی “اماں نے اسے کہا.. اور ونیزے کے ہاتھ دہلانے لگی.. جو.. اب.. تکلیف.. سے اہیں بھر رہی تھی…
اسکی آہیں اسکی چینخوں میں بدلنے لگی… تو ان سب کے ہاتھ پاوں پھول گئے…
ونیزے چندہ… روکو”اماں سے وہ سنبھلی ہی نہیں جا رہی تھی…
کچھ ہی توقف کے بعد… شہروز… گھر میں داخل ہوا.. اور صورتحال سمجھتا ہوا… وہ دوڑ کر ان تک پہنچا…
شہروز” ونیزے نے اسکیطرف ہاتھ بڑھایا….
میں گاڑی نکالتا ہوں “اسنے کہا.. اور ونیزے کو بازون مین بھر کر.. وہ باہر کیطرف دوڑا… حرم سہمی ہوئ نظروں سے یہ نظر دیکھ رہی تھی کہ انقریب اسے بھی اس تکلیف سے گزرنا ہے.. اسکو رونا آنے لگا.. ونیزے کو حال کہ اماں.. شہروز.. لے گیے تھے.. جبکہ شانزے اب شاہ میر کو کل کر رہی تھی اور وہ اس سوچ میں تھی کہ.. وہ بلکل.. اس قسم کی تکلیف برداشت نہیں کرے گی….
……………..
کچھ ہی گھنٹوں.. بعد… نرس نے اماں کے ہاتھ میں.. ایک پیاری سی.. گڑیا کو تھمایا… جو روئ کیطرح سفید تھی… جبکہ شہروز.. جو ڈسپنسری کیطرف دوای کے لیے گیا ہوا تھا.. واپسی پر اماں.. کو بقائدہ روتا پا کر.. وہ وہین فق رہ گیا..
کہین.. ونیزے کو تو… کچھ نہین ہو.. یہ اسکا بچہ.. وہ.. پریشانی سے دوڑ کر ان تک پہنچا..
تبھی.. انکے.. ہاتھ میں چھپی کمبل میں قید.. بچی کو دیکھ کر… وہ حیران ہی رہ گیا…
حال کہ کے وہ جانتا تھا وہ کون ہے.. مگر اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا.. کہ وہ اسکی اولاد ہے..
اماں نے مسکرا کر.. اسکیطرف کیا… تبھی دور سے شہروز.. صنم اور شانزے بھی آتی دیکھائ دین.. جبکہ حرم غائب تھی…
شہروز ھیرت سے اس بچی کو دیکھتے جھکا.. اور اسکے.. چھوٹے چھوٹے ہاتھ.. چوم لیے..
ایک عجیب انوکھا احساس روھ میں سما گیا.. جبکہ خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی..
اماں یہ میری بیٹی ہے “وہ حیرت سے.. خوش ہوتے ہوئے پوچھنے لگا..
اماں نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا… تب تک وہ لوگ بھی پہنچ چکے تھے..
برسو بعد شاید ان سب کے گھر میں کوئ خوشی کا احساس ہوا تھا… کہ وہ سارے.. خوش تھے…
نہیں یہ میری بیٹی ہے” شاہ میر نے اسکے ہاتھ سے چین کر.. بچی کو پیار کیا…
اماں ہنس دیں…
ہا.. لالا نے تو پہلے ہی بک کر لی” شانزے ہنسی… تو.. وہ سب ہنس دیے..
ہاں نہ.. اب اتنی پیاری گڑیا کو. اس اناڑی کے حوالے تھوڑی کر سکتا “شاہ میر بچی کے چھوٹے چھوٹے گالوں پر ہاتھ پھیرتا بولا…
لالا پلیز مجھے بھی دیں”شانزے نے اس سے بچی کو لیا… تو شہروز ان لوگوں… کو بچی میں مگن دیکھ…
روم میں گیا.. جہاں ونیزے ابھی بھی غنودگی میں تھی…
ونیزے “شہروز اسکے پاس آیا.. اور ڈریپ میں جکڑا اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے چھوا….
ہم… ہمارا بچہ”اسکی آواز میں فکر تھی.. جبکہ آنکھوں پر غنودگی نے وجھل پردہ حائل کیا ہوا تھا…
ہمارے بیٹی ہوئ ہے “وہ اسکے.. کان کے پاس جھکتا…. اپنی محبت کی چھاپ چھڑتا… اسکو… پرسکون کر گیا..
ہلکی سی مسکراہٹ… ونیزے کے لبوں کو چھو گئ… اور اسکے بعد وہ مکمل غنودگی میں اتر گئ جبکہ شہروز اسکے چہرے پر پھیلتے سکون کو دیکھنے لگا..
اسے آج اپنے بولے گیے لفظوں پر پشتاوا تھا.. جو اسنے اسے اسکی ماں کے ساتھ ملایا…
آج اسے احساس ہو رہا تھا.. کہ کبھی بھی کسی انسان کو اسکے ظاہری حولیے سے جج نہیں کرتے…
نہ جانے اسکے پاس کتنا قیمتی دل ہو….
اور آج اسے.. فخر تھا.. کہ ونیزے اسکے لیے بہترین انتخاب تھا…
اور اس سے زیادہ.. نہ وہ کسی کو چھا سکتا تھا.. نہ کسی اور سے اسے اس قسم کی چاہت.. اور اتنی بڑی خوشی ملتی..
اسنے.. ونیزے.. کے چہرے پر موجود اطمینان.. کو دیکھ اسکے ماتھے کا بوسہ لیا…
I am blessed to have u.
وہ مدھم لہجے میں بول کر… باہر.. نکل آیا.. جبکہ کچھ ہی دیر میں ونیزے کو پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا…
…………….
