128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

حرم کے دیکھنے پر وہ اندر داخل ہوا تو حرم کی سانس وہیں کہیں اٹک گئ اسکے چہرے پر نا جانے کیوں اتنی سختی ہوتی تھی کہ.. حرم ہر بار خوف ذدہ ہو جاتی… وہ اندر داخل ہوا تو…
سکینہ جو.. حرم کے پاس بیٹھی تھی وہ اٹھی.. شاہ میر نے.. اسکے ہاتھ سے سوپ کا باول لیا…
اور اسکو جانے کا اشارہ کیا…
جبکہ سکینہ اس جان بخشی پر شکر ادا کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئ.. شاہ میر… حرم کے دائیں طرف بلکل نزدیک ہو کر بیٹھا تو حرم بدک کر اس سے دور ہوئ اسنے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا….
بیک ٹو یور پوزیشن “سنجیدگی سے کہا گیا…
جبکہ حرم بڑی بڑی آنکھیں پھیلائے اسے اسی طرح بیٹھی دیکھ رہی تھی…..
تمھیں سنائ نہیں دیتا..” شاہ میر نے زیچ ہو کر پوچھا.. تو اسکی بڑی بڑی آنکھیں بھیگ گئیں…
ڈاکٹر کے الفاظ شاہ میر کے کانوں میں گونجے… تو…
اسکو نا چاہتے ہوئے بھی خود کو نارمل کرنا پڑا….
اوکے کم ہئیر” وہ بڑے حوصلے سے اپنی عادت کے برخلاف بولا… تو حرم نے نفی میں سر ہلایا…
مجھے پھر سے گولی دیکھاو گے تم.. کیونکہ تم مجھے مارنا چاہتے ہو…” حرم نے اپنے اندر کا خوف لفظوں میں بیاں کیا… تو شاہ میر نے باول سائیڈ پر رکھا…
اور کھڑا ہو… گیا
حرم اب بھی اسے اسی طرح دیکھ رہی تھی…..
شاہ میر نے ایک ہاتھ بڑھا کر اسکو اپنی جانب کھینچا تو وہ کسی کچی ڈال کیطرح… اسکے وجود کا حصہ بنی… وہ آنکھیں پھاڑے.. اسکی جانب دیکھ رہی تھی جس کی آنکھیں چہرہ بلکل بے تاثر تھا… سپاٹ تھا
اور ابھی… وہ اس دھچکے سے ہی نہیں نکلی تھی کہ شاہ میر… کو خود پر جھکتا دیکھ… وہ بری طرح خوف ذدہ ہوئ.. مگر مقابل کو اسکے خوف ذدہ ہونے سے مجال ہے کوئ فرق پڑا ہو.. وہ اسپر جھکا اسکی سانسوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا…
یہ سب.. حرم کے لیے تو شدید غیر متوقع تھا.. کہ اسکا وجود پتے کی مونند کانپ رہا تھا.. جبکہ دوسری طرف…
اتنے کمزور لمہے میں بھی شاہ میر کے وجود میں حرم کے لیے کوئ خاص بات نہ ابھری…..
لمہوں کی معنی خیزی بڑھتی گئ… جبکہ حرم کی سانسیں… بری طرح اکھڑیں… اسنے.. شاہ میر کو خود پر سے دور کرنا چاہا مگر یہ کیا.. وہ.. تو.. ہٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا…
حرم بے چینی سے اسکی کمر پر مکے برسا رہی تھی.. جبکہ شاہ میر… نے اسے ایک جھٹکے سے اسی پوزیشن میں گھمایا.. اور بیڈ پر پھینک.. کر… وہ اب.. حرم کو کھانستے ہوئے دیکھ رہا تھا.. جبکہ وہ خود.. بلکل نارمل.. کھڑا تھا…..
حرم کی آنکھوں سے پانی جبکہ خفت سے چہرہ سرخ پڑ چکا تھا…..
اگلی بار تم مت کہنا… مجھے وہ لوگ بلکل پسند نہیں… جو میری بات کے خلاف جائیں.. تم یہ سمھجہ سکتی ہو.. کہ تم بچ گئ ہو مجھ سے…. ورنہ اپنے دشمنوں کو شاہ میر خان نہ کبھی بھولتا ہے.. اور نہ چھوڑتا ہے…. “اسنے سختی سے حرم کو استفسار کیا.. تو.. وہ.. اچانک ہی اٹھی…
کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا.. کون سی دشمنی پال لی ہے میں نے آپ سے.. مجھ نازک جان نے تو کبھی… مکھی بھی نہیں ماری.. تو آپکی کون سی بھینس کھول لی تھی جو دشمنی دشمنی کیے جا رہیں ہیں” وہ ایک سانس میں بولتی اب اسے اپنی نشیلی آنکھوں سے گھور رہی تھی جبکہ… شاہ میر اب بھی ویسے ہی کھڑا تھا..
زیادہ بولنا صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا…. اگلی بار میرے سامنے بولنے سے پرہیز کرنا” اسنے ٹکا سا جواب دیا.. اور دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا…. جبکہ حرم کو اپنی شدید بے عزتی محسوس ہوئ….
جا نا ہے مجھے یہاں سے… کیوں قید کر رکھا ہے مجھے” وہ پھر سے بولی اب کے اسکی آواز میں ایک چیخ تھی.. جبکہ.. لہجہ پر نم.. اور آنکھوں میں پانی.. شاہ میر نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا… اور دوبارہ سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال لیا….
حرم ایک بار پھر… کانپی… اسکے وجود کی کپکپاہٹ.. شاہ میر کو اپنے ہاتھوں میں محسوس ہوئ.. جبکہ.. اسنے.. اس کو نوٹس کیے بغیر حرم کو اپنے نزدیک کر لیا….
اور اسکی آنکھ کے آنسوں کو. اپنی پور پر چن لیا….
مت رو… اب شاہ میر خان نہیں چاہتا کہ تم رو….
یہ شاید کسی وجہ نے.. مجھے جکڑ لیا ہے…. برحال ایک بات یاد رکھنا… تم اس گھر کے باہر میری قیدی ہو.. اور رہو گی.. تاعمر….. جب تک تمھارا وجود سانس بھر رہا ہے…. ہاں البتہ… اس گھر میں تم میری قیدی نہیں تم جہاں چاہو رہ سکتی ہو.. جا سکتی ہو….
مگر.. تم نے اگر بھاگنے کی کوشش کی… تو.. اس گھر میں…
میرے دو سپیشل گارڈ بھی ہیں.. مجھے یقین ہے تم انکا کھانا نہیں بننا چاہو گی “وہ بلکل نارمل انداز میں.. اسکو اپنی بانہوں میں جکڑے.. ایسے بات کر رہا تھا.. جیسے.. بہت کوئ راز شئیر کر رہا ہو.. جبکہ حرم کا سرخ چہرہ تھا جبکہ.. شاہ میر کی قربت کی بنا پر.. اسکی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا….
مگر.. وہ کیا بولے جا رہا تھا. اسکا دماغ چکرا گیا..
مگر مجھے یہاں نہیں رہنا….
مجھے.. مجھے چاچو کے پاس جانا ہے “وہ گلوگیر لہجے میں بولی…
اسکے پاس جانے سے بہتر ہے.. میں تمھیں… اوپر اللہ کے پاس بھیج دوں… کیا خیال ہے یقین مانو.. مجھے تمھاری یہ نازک ہیرنی جیسی گردن پر بے رحمی سے چہری پھیرتے ہوئے بلکل ترس نہیں آئے گا..” وہ آنکھیں نکال کر بولا… اور حسب توقع حرم… خوف ذدہ سی اسے دیکھی گئ…
شاہ میر نے اسکو چھوڑا… تو.. وہ جلدی جلدی… اس سے دور ہوتی.. بیڈ کرون کے ساتھ چیپک کر بیٹھ گئ….
اسے شدید رونا آ رہا تھا..
رونا مت” شاہ میر پھر سے نے تنبھی کی…
رونا مت.. بھاگنا مت.. باہر مت جانا…مسلہ کیا ہے آپکا… کب سے ڈرائے جا رہیں کسی جن کیطرح” بالآخر.. وہ جھنجھلا کر بولی تو.. شاہ میر نے اسکی جانب.. سوپ کی چمچ بڑھائ…
وہ زیچ ہوتی اسے دیکھنے لگی…
کتنا ڈھیٹ انسان تھا….
تم سیف ہو پھر کس بات پر رو رہی ہو…”
سیف… اسےاسے سیف کہتے ہیں”حرم کو حیرت ہی ہوئ….
او ہو… بھول گیا تھا.. اسے تو قید کہتے ہیں مگر. افسوس اب تم قید میں ہو… “اسنے ایک بار پھر اسے ڈرا دیا…
مجھے نہیں کھانا…” حرم نے منہ پھیر لیا…
شاہ میر نے ضبط سے اسے دیکھا… اسکا ٹیمپر لوز ہو رہا تھا مگر وہ کر نہیں سکتا تھا..
حرم… شاباش کھاو.. “وہ نرمی سے بولا….
نہیں کھانا” وہ چینخی…
جانا ہے مجھے… جانیں دیں مجھے “وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر رو دی.. جبکہ.. شاہ میر کو چند گھنٹے میں ہی… حرم نے لوہے کے چنے چبوا دیے….تھے
……………………
شہروز غیر متوقع طور پر.. اس لڑکی کی کال کے انتظار میں تھا… اور یونیورسٹی سے آنے کے بعد جب اسنے… ہمت کر کے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کال ملائ تو.. نمبر آف جا رہا تھا.. وہ سمھجا نہیں….
تبھی دوبارہ ٹرائ کیا… اور جب دوبارہ بھی وہ جواب ملا.. تو اسنے بیڈ کی جانب.. سیل اچھال دیا… اب اسے خود پر… افسوس کے ساتھ ساتھ شدید غصہ آ رہا تھا.. کہ وہ صرف ایک آواز سے متاثر ہو کر اپنی ہی نظر میں اپنا امیج خراب کر چکا تھا…
غصے سے اسکے دماغ کی رگیں پھلنے لگیں…
تو وہ جبڑے بھینچ خاموشی سے شاور لینے چلا گیا.. شاور لے کر.. آیا تو دماغ ریلیکس ہونے کے بجائے مزید الجھ گیا…
دل میں اٹھتے حیران کن.. جزباتوں کو سلا کر.. اسنے دماغ سے خود کو آئندہ.. ایسی حرکت سے باز رکھنے کی تنبیھی کی… مگر.. وہ آواز جیسے کانوں میں… گونج رہی تھی…
اسنے زیچ ہو کر… اپنا دماغ دوسری طرف لگایا.. ابھی کچھ ہی دیر میں اسنے پھر سے یونیورسٹی جانا تھا… ایک کام کے سلسلے میں تبھی.. وہ نیچے بغیر مزید کچھ سوچے… اماں کے پاس آ گیا…
جو کہ لنچ کا انتظام کر رہیں تھیں انکے ساتھ.. شانزے بھی اپنی ٹر ٹر چلتی زبان سے کام کر رہی تھی…
شہروز خاموشی سے بیٹھ گیا.. اور لنچ کر کے… وہ وہاں سے اٹھ بھی گیا..
چونکہ اماں اور شانزے.. اماں کی کسی فرینڈ کی بیٹی کی شادی میں جانے کے موضوع میں اتنی مگن تھیں کہ وہ اسکی خاموشی کو محسوس نہ کر سکیں….
وہ کیجیول حولیے میں گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر پورچ تک آیا.. اور گاڑی میں بیٹھ کر ایک بار پھر سے یونی کے راستے پر گاڑی ڈال دی.
……………
ونیزے… اور اسکے تمام دوست.. آج کنٹین پر بیٹھے تھے.. اور باتوں میں اس حد تک مگن تھے کہ انھیں وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا… مگر ایونیگ کلاسزز شروع ہو گئیں تھیں تبھی یونیورسٹی کی گھما گھمی میں رتی بھی فرق نہ آیا تھا…
یار.. فیضان… اور حرم اتنے دنوں سے غائب ہیں آ ہی نہیں رہے…. “عدیل بولا تو.. ونیزے نے.. پیپسی کا گھونٹ بھرا..
ہاں دونوں ہی میری کال پیک نہیں کر رہے.. بر حال میں نے بھی پھر ڈسٹرب نہیں کیا… بلاوجہ کسی کو ڈسٹرب کرنا برا لگتا ہے” ونیزے نے تفصیلی جواب دیا تو.. سب نے اثبات میں سر ہلایا کیونکہ سب ہی اسکی نیچر کے بارے میں اچھے سے جانتے تھے…
یار وہ دیکھو آ گیا ڈیشنگ ہیرو سیریسلی اگر میں اس بندے کے ڈیپارٹمنٹ میں ہوتی.. تو.. یہ میرا فرسٹ اینڈ لاسٹ کرش ہوتا” عمیرہ نے.. شہروز کو دور سے دیکھتے ہوئے کہا…
ونیزے نے بھی ایک نظر شہروز کو دیکھا اور منہ پھیر لیا.
بیٹا.. اسنے ونیزے کو گھانس نہیں ڈالی تھی.. تیری کیا ولیو تھی پھر” عدیل نے.. مزاق اڑانے والے انداز میں کہا تو.. ونیزے نے غصے سے اسے گھورا…
فور یور کائینڈ انفرمیشن مسٹر عدیل… یہ تو میری آواز پر ہی فلیٹ ہے….
اور خاص بات اس میں ایسی کوئ کالٹی نہیں جیسی ہم سمھجے تھے… ہیہی از.. ٹیپیکل مین لائک یو..” اسنے اترا کر کہا تو سب نے کوس میں اووو کیا…
مجھے یقین نہیں بھئ..” عدیل نے اسکی بات کی نفی کی تو ونیزے ہنس دی… اوکےاوکے.. آو پھر.. ایک شرط لگا لو.. …. اگر اس بندے کا ویسا ریسپونس نہ ہوا جیسا… میں بتا رہی ہوں تو… میری طرف سے رات بیکیوٹ میں دعوت .. اور اگر ویسا ہی ہوا.. یو نو چھچھورا….” وہ زور سے ہنسی… جبکہ سب ہی ساتھ ساتھ ہنس دیے…
تو تمھیں یہاں مرغا بننا پڑے گا..” ونیزے نے جیسے ہی کہا ویسے ہی ایک شور چارو طرف مچ گیا…
اور عدیل جو کہ شہروز کو اچھے سے جانتا تھا.. اسنے.. بھی شرط قبول کر لی… تبھی ونیزے نے فون نکالا.. اور شہروز کا نمبر ڈائل کیا….
……………………….
شہروز جو اپنے ڈیپارٹمنٹ کیطرف جا رہا تھا…. کنٹین کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنے نام کی پکار پر اسکے قدم رکے.. اور اسنے پلٹ کر کچھ ترچھی نظروں سے.. دور بیٹھے اس گروپ کو دیکھا.. جس میں وہ لڑکی بھی تھی.. ہوٹل والی..
جسے وہ اچھے سے پہچان گیا تھا…
اور اسکے بعد.. ابھی وہ آگے ایک قدم بھی بڑھاتا.. کہ ان الفاظوں نے.. اسکے قدم جکڑ لیے..
یہ شخص تو میری صرف آواز پر ہی فدہ ہے…
چھچھورہ….
اور بھی کئ جملے جو کھڑے کھڑے شہروز کو شعلہ بار کر چکے تھے…. وہ اسی طرح پیٹھ موڑے کھڑا تھا….
کہ اسکا سیل بجنے لگا….
اسنے نمبر دیکھا وہی نمبر تھا…
اسپر کوئ شرط لگائے یہ بات.. اسکے وجود.. کو تلملا رہی تھی…
اسنے کال پیک کی.. جبکہ دوسری طرف ونیزے کی باچھیں کھل گئیں…
اور اسنے موبائل کو سپیکر پر ڈال دیا…
ہیلو… “شہروز کو سپیکر پر وہی دلکش آواز سنائ دی.. اور اسکی گرفت فون پر سخت ہو گئ.. کہ ایک پوری رات.. وہ اس.. اس لڑکی کی آواز کے نشے میں گم تھا…
اسکا بس نہیں چل رہا تھا اپنا ہی قتل کر لے اس اوچھی حرکت پر…
ہیلو..” کڑک آواز میں بول کر اسنے اپنے قدم پلٹے اور چھوٹے چھوٹے قدم اس طرف بھرنے لگا جہاں.. وہ سب.. ایک ہجوم لگائے ہوئے تھے تبھی.. کوئ اور انھیں دیکھائ نہیں دیا..
پہچانا.. آپ نے” ونیزے ایک ادا سے بولی…
ہاں پہچان لیا…. ایک ذلیل بے غیرت لڑکی بول رہی ہے.. جس کی کوئ عزت نہیں اور وہ دوسروں کی عزت خوار کرنے پر تولی ہے”
شہروز سے اپنا غصہ قابو نہ ہوا.. اور وہ جو.. اچھے خاصے.. ٹھنڈے مزاج کا شخص تھا.. اپنا ٹیمپر لوز کرتے پہلی بار.. اتنا اونچا دھاڑا جبکہ…
دوسری طرف.. وہاں موت کا سا سناٹا چاہ گیا..
ایک ایسی لڑکی جس کے باپ بھائ کی غیرت سو چکی ہے… مردوں کو لجانے کا کام کرتی ہے.. کیونکہ اسکی تربیت… ہی اچھی نہیں… “اسنے ایک اور.. وار کیا. اور اب وہ اس گروپ کے بلکل نزدیک پہنچ گیا تھا….
اسنے ایک لڑکے کی شرٹ… کو پیچھے سے جکڑا اور اسے دور کیا…
ونیزے نے سرخ نگاہیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا.. اسکی آنکھ سے.. پہلی بار آنسو ٹوٹا تھا…
تم ایک خراب ترین عورت ہو.. اور تمھاری آواز پر میں مرو گا.. تم شکل دیکھی ہے اپنی… تمھارا یہ کردار تمھیں نہایت بدصورت بناتا ہے… آئندہ” اسنے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارا سب حق و دق دور دور ہو گئے… جبکہ ونیزے اب بھی اسی پوزیشن میں تھی…
آئندہ…. کسی بھی مرد کو لجہانے سے پہلے اپنی یہ اوقات مت بھولنا …” اسنے انگلی اٹھا کر کہا.. اور تن فن کرتا وہاں سے غائب ہو گیا جبکہ… ونیزے….. کا چہرہ اسطرح سرخ تھا.. جیسے خون چھلک آیا ہو….
اتنی ہتک…. وہ جیسے زمین میں گڑھ نے کے قریب تھی..
ایک جھٹکے سے اپنا موبائل اٹھا کر.. وہ وہاں سے آندھی طوفان کیطرح نکلی…
…………………….
رات ہو چکی تھی حرم کے پاس.. کھانا وہ وقت پر بھیج رہا تھا.. اور وہ بھی آخر کب تک بھوکی رہتی… اسنے بھاگنے کا ارادہ کرتے ہوئے سکون سے پہلے کھانا کھایا
.. اگر یہ جنگلی دیو مجھے جانے نہیں دے رہا تھا.. حرم اتنی بریو ہے کہ وہ خود بھاگ جائے ہممم”اسنے شاہ میر کے بارے میں.. نخوت سے سوچا.
تو شاہ میر کا عکس.. اسکی آنکھوں میں لہرا گیا…
ہے تو ڈیشینگ..” اسنے ایک پل کو سوچا..
مگر نہیں حرم… وہ اچھا انسان نہیں ہے مارنا چاہتا ہے.. تمھیں.. اور اور چاچو سے جلتا بھی تو ہے.. گندہ “اسنے منہ بنا کر سوچا…
اور کمرے سے باہر جھانکا… اسکی طبعیت نڈھال اب بھی ضرور تھی… مگر کھانا کھانے کے بعد وہ بہت بہتر محسوس کر رہی تھی.. اور تبھی اسکے چھوٹے سے دماغ میں یہ طوفانی آئیڈیا آیا تھا…
کمرے سے باہر جھانکا تو وہاں کوئ نہیں تھا….
وہ جلدی جلدی دو تین سیڑھیاں اتری تو اتنے میں ہی اسکے سانس پھول گئے اور وہ وہیں بیٹھ گئ…
یہ بھی عجیب مصیبت ہے…
بچپن سے اسکے سا تھ جو مسلہ تھا وہ جانتی تھی.. مگر اپنے لاابالی پن کی وجہ سے اسنے کبھی اس مسلے پر غور نہیں کیا.. اور. ویسے بھی اسکا خیال رکھنے والے اتنے لوگ تھے کہ اسے کبھی ضرورت نہیں پڑی اپنا خیال رکھنے کی.. تبھی ابھی وہ جھنجھلائ تھی پھر ہمت کرتی.. وہ باہر.. لاونج کے دروازے کیطرف دوڑی.. اسوقت دوڑنا اسکے لیے بلکل مناسب نہیں تھا.. مگر وہ.. اپنی اکھڑتی سانسوں کو اگنور کرتی بھاگ جانا چاہتی تھی…
وہ لون میں آی.. تو ساڑھی میں بری طرح الجھ کر اس سے پہلے گیرتی… کہ کسی نے اسے مظبوطی سے جکڑ لیا.. اسطرح کے اسے اپنی کمر ٹوٹتی ہوئ محسوس ہوئ.. اور وہ بنا کچھ سوچے.. آنکھیں بند کیے چیخنے لگی….
آ. آ. آ. آ. آ”
شیٹ آپ” شاہ میر.. اس عجیب و غریب لڑکی کی حرکتوں سے اب بلکل اکتا چکا تھا…
تبھی غصے سے دھاڑا تو.. حرم گھبرہ ہی گئ.. اسکی آنکھوں میں خوف سا بھر گیا…
تبھی شاہ میر کو خود کو نارمل کرنا پڑا..
ان دونوں کی چیخ و پکار پر کئ نوکر باہر نکل آئے اور لون کی تمام لائیٹس جلا دیں.. جبکہ شاہ میر نے کھا جانے والی نظروں سے سب سمیت صفدر کو دیکھا.. کیونکہ حرم کی ساڑھی.. کا پلو شاہ میر کے جوتوں پر تھا… صفدر نے ہڑبڑا کر.. سب کو وہاں سے بھگانے کے بعد خود بھی وہاں سے غائب ہو گیا… اور لائیٹس بھی پہلے کیطرح بھج چکیں تھیں..
وہی چاند کی چاندنی اور ٹھنڈی فضا میں وہ دونوں کھڑے تھے.. شاہ میر اسکو جکڑے جبکہ وہ سہمی سہمی سی…
چھوڑیں مجھے “حرم کو ہی اپنی پوزیشن کا خیال آیا…
اوکے” شاہ میر نے اسکو چھوڑا اور دو قدم دور ہوا تو.. حرم.. زمین پر گیر گئ.. کیونکہ شاہ میر اسکو زمین سے اوپر اٹھائے کھڑا تھا…
آپ کتنے برے ہیں.. “وہ بھیگی پلکوں کی باڑ سے اسے دیکھنے لگی تو شاہ میر گٹھنوں کے بل اسکے پاس بیٹھا…
میں تمھاری سوچ سے زیادہ برا ہوں… یہ تو قسمت نے.. مجھ پر ظلم اور تم پر مہربانی کر دی” اسنے.. ساڑھی کا پلو.. اٹھا کر حرم کے وجود کو ڈھانپا اور اسکے چہرے پر ڈھلک آئے بالوں کو پیچھے کیا…
کتنی بے ترتیب ہو تم” اسنے کچھ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھا…
تو حرم نے.. اپنا آپ اس سے دور کر لیا…
بھاگ رہی تھی تم رائٹ”اسنے سوال کیا تو حرم… نے اسکی جانب گھور کر دیکھا….
ہاں بھاگ رہی تھی.. اور میں بھاگ بھی جاتی.. اگر آپ جن کیطرح نازل نہ ہو جاتے.. “وہ نروٹھے انداز سے بولی تو شاہ میر نے بھنوے اچکائ
گڈ.. چلو جاو بھاگو… “وہ سکون سے گراس پر بیٹھ کر اسے آفر کرنے لگا…
آپ.. آپ… میں تو قیدی ہوں آپ کی “اسنے سولیہ نظروں سے اسے دیکھا..
ام ہو.. اگر آج تم بھاگ گئ تو میری قید سے تم آزاد” اسنے سکون سے کہا.. اور لائٹر سے سگریٹ جلا کر لبوں میں دبائ…
وہ کش پر کش بھرتا اسکو دیکھنے لگا.. جو اپنے ہوش ربا حولیے سے بے پرواہ.. اٹھی.. اور.. ادھر ادھر دیکھنے لگی… اسنے دروازے کیطرف دیکھا…
ام ہو.. بھاگنے والا کبھی بھی مین گیٹ کا انتخاب نہیں کرتا.. “وہ بولا.. تو.. حرم گھور کر رہ گئ..
اکڑو..” اسنے منہ میں بڑبڑایا مگر بڑبڑاہٹ اتنی تھی کہ شاہ میر آرام سے سن سکے..
اسنے سامنے دیوار سے نیچے ٹپنے کا سوچا. اور اس جانب چل پڑی برحال وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی..
یہ مشکل ضرور تھا.. مگر نا ممکن. نہیں…
تبھی وہ چلتی گئ…
اور شاہ میر نے موبائل پر صفدر کو صرف ایک میسیج کیا.. اور دوبارہ سے.. سگریٹ پیتا اسکی جانب دیکھنے لگا.. جو کیاریوں میں سے گزر کر اب دیوار کے نزدیک پہنچ گئ تھی…
اور ابھی وہ پاس پڑے سٹینڈ پر قدم رکھ کر اوپر چڑھتی.. کہ بل ڈاگز کی.. تیز آوازیں اسکے اوسان خطا کر گئیں.. اسنے پلٹ کے.. اسکے نزدیک دوڑ کر آتے گندے کالے کتوں کو دیکھا جن کی زبان.. لٹک رہی تھی.. اور.. وہ شاید حرم سے بھی سائز میں بڑے تھے..
وہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گئ.. اس سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا…
جبکہ شاہ میر سامنے بیٹھا سکون سے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا.. اور اپنی گولڈ لیف کو انجوائے کر رہا تھا…
جیسے ہی کتے حرم کے نزدیک آئے.. حرم کے پاوں میں جیسے بجلیاں دوڑ گئیں.. وہ سپیڈ سے ساڑھی.. سمبھالتی… شاہ میر کیطرف دوڑی جبکہ.. اسکی چینخیں پورے شاہ پیلس… میں گونج رہیں تھیں….
شاہ میر اپنی جگہ سے ٹس مس نہیں ہوا.. جبکہ.. وہ کتنے حرم کے پیچھے پیچھے تھے.. حرم جلدی سے شاہ میر کی پیٹھ سے چیپک کر.. بیٹھی اور اتنی سختی سے چاہ میر کو جکڑ لیا…
اسکا وجود کی کپکپاہٹ شاہ میر کو.. محسوس ہو رہی تھی…
اس اندھیرے میں اسکے لب.. مدھم سا مسکرائے.. اور پھر وہ مسکراہٹ.. بے تاثر چہرے میں بدل گئ…
بچائیں مجھے بچائیں.. “وہ اب بھی چیخ رہی تھی آنکھیں بند تھیں جبکہ.. کتوں کے بھونکنے کی آواز رک چکی تھی…
اور وہ شاہ میر کے آگے سر جھکائے کھڑے.. اپنے مالک کا پیار لے رہے تھے جو انکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا…
میں نے کہا تھا نہ میرے پاس سپیشل گارڈز بھی ہیں…
بھاگنے کا مت سوچنا… “شاہ میر بولا.. تو حرم… اسکے شانے پر سر رکھ کر رونے لگی… شاہ میر نے. روخ موڑ کر اسکی بھیگی آنکھوں کو دیکھا..
وہ چاہ کر بھی اسے سکون نہیں دے پا رہا تھا…
اسکے مزاج کی سختی.. ہلکی سی.. حرم پر پڑ رہی تھی…
مگر وہ کوئ نقصان بھی نہیں چاہتا تھا.. تبھی.. حرم کے وجود کو.. اپنے سینے میں جکڑ لیا..
رو مت. “
آپ بہت ظالم ہیں” وہ اب بھی رو رہی تھی…
میں کچھ نہیں کر سکتا… اس خطاب کو لے کر.. “وہ بولا.. تو حرم.. نے خوف ذدہ نگاہ کتوں ہر ڈالی جو اسے ہی گھور رہے تھے..
یہ بھی آپکے جیسے ہیں دور کریں انھیں” وہ بولی اور مزید اس میں گھسنا چاہا…
تم دوستی کر لو.. شاید تمھاری بھاگنے میں مدد کریں.. “شاہ میر نے سکون سے کہا تو حرم نے اسکی جانب دیکھا
آپ چاہتے ہیں میں مر جاو.. “وہ بولی اور پھر سے رونے لگی..
آف…” شاہ میر.. نے اسکے سر.. کو تھپتھپایا.. اتنے میں صفدر بھی کتوں کو لے جا چکا تھا…
اور پھر وہ وہیں بیٹھا رہا.. یہاں تک کہ.. وہ اس کے سینے سے لگی لگی.. سو گئ…
شاہ میر نے اسکی تیز سانسوں کی گرمائش اپنے سینے پر محسوس کی… تواسکو… گود میں اٹھا کر.. وہ اندر کی جانب چل دیا.. اور اپنے روم میں لا کر بیڈ پر لیٹا کر وہ خود بھی اسکے ساتھ لیٹ گیا….
لیٹنے سے پہلے وہ اپنی شرٹ اتار چکا تھا.. وہ ایسے ہی لیٹا چھت کو گھور رہا تھا…
اسکے دماغ میں اسوقت کچھ نہیں تھا کسی کے بھی مطلق…
اچانک اسے.. ایک نرم ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس ہوا.. اسنے جھک کر دیکھا.. حرم اسپر ہاتھ کے ساتھ ساتھ اب ٹانگیں بھی پھیلا چکی تھی….
جبکہ چہرہ.. اسکے بازو میں گھسانے کی بھر پور کوشش تھی…
اور اس سے پہلے وہ سر مار مار کر اسکے بازو میں سراخ کرتی.. اسنے اسکے سر کے نیچے بازو ڈال کر.. اسے خود کے سینے سے لگا لیا اور اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا… جبکہ حرم جیسے اب.. شانت ہو چکی تھی.. اور اسکی قربت نے رضا خان کا چہرہ شاہ میر کی آنکھوں کی پتلیوں میں اتار دیا تھا…
…………………….
جاری ہے