Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
اماں یہ آپ کیا کر رہی ہیں… “وہ غصے سے آگ بگولا ہوا…
کیا براہ ہے شاہ میر” انھوں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے تہمل سے جواب دیا….
برای برای کیا اس سے کم ہے کہ.. وہ اس گھٹیا آدمی کے خاندان سے ہے” وہ… نفرت سے پھنکارہ…
تم بھی تو اسکی گھٹیا آدمی کے خاندان سے ہو” اماں نے جیسے اسے لاجواب کیا…
بس کریں پلیز.. کچھ بھی نہیں لگتا میں اس آدمی کا کبھی بھی نہیں لگتا “وہ سختی سے بولا….
میں یہ نہیں کہو گی تم اس آدمی سے… محبت کرنے لگ جاو بس اتنا کہو گی.. کہ.. اس لڑکے مین تمھاری بہن کی مرضی شامل ہے “اماں نے اسے باور کرایا..
وہ ابھی چھوٹی ہے اپنا اچھا برا نہیں جانتی “شاہ میر نے جیسے نگاہ چرائ…
اچھا….
تم نے شادی کی اچانک.. چھپا کر رکھا اپنی بیوی کو….
کیا تم نے ٹھیک کیا تھا….
شہروز نے… بھلے.. خود نہیں کی مگر… اسنے جو غلطی کی آج کل کے لڑکوں کے لیے تو وہ عام بات ہے…
کیا میری تربیت عام تھی… جو.. اسنے اس لڑکی سے ایک رات.. ایک منٹ بھی بات کی…
ایک نا محرم سے.
آج اگر.. تمھاری بہن نے خود کے لیے کسی کو پسند کر لیا…
اور بات یہاں تک پہنچ گئ.. کہ وہ.. خود اعتراف کرے…
تو… کیا تمھیں خود نہیں آ رہا اس بات سے..
بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں.. کی فکر.. ہوتی ہے.. جب باپ بنو گے پتہ چل جائے گا….
لڑکیوں کو جلد عقل نہیں آتی…
وہ جلد بازی میں کافی غلطیاں کر جاتیں ہیں…
اگر تمھاری بہن بھی بھاگ گئ….
تو……
تمھاری بہن کے ساتھ اسنے غصے میں کچھ کر دیا تو…..
اور میں تو یہ بھی نہیں جانتی کہ تمھاری چوائس.. میری بیٹی کے لیے کیسی ہے….
کیا فواد اسے خوشیاں دے سکتا ہے…
ہم کچھ نہیں جانتے.. میں صرف دعا کر سکتی ہو ں.. شاہ میر.. اگر فیضان.. اس گھر کو چھوڑ دے… تو مجھے اس میں کوئ… قباہت نہیں… “
اماں نے رسانیت سے اسکے سامنے.. ساری بات کھولی.. کئ باتوں پر اسکا خون کھلا تھا مگر…
وہ.. بلکل درست کہہ رہی تھیں….
یہ سوچ کر.. وہ خاموش ہوا…
………….
سر…. میم ٹھیک کہہ رہی تھیں.. وہ آدمی وہان نہیں رہتا..
اور جس.. گھر کا اپنے کہا تھا.. وہ اب تک وہاں نہیں آیا ہے.. اور نہ اس گھر سے کوئ نکلا ہے… اور نہ گیا ہے.. اندر…
البتہ سامنے والے گھر کی سی سی ٹی وی سے پتہ چلا ہے کہ.. وہ شخص.. صبح گیارہ بارہ کے درمیان وہاں سے نکلا تھا.. اب تک.. چھتیس گھنٹے گزر چکے ہین.. وہاں نہ کوئ آیا ہے نہ گیا.. “
صفدر نے اسے ساری تفصیلات سے آگاہ کیا.. تو وہ سوچ میں پڑ گیا…
کیا مطلب تھا اس بات کا.. کے وہاں کوئ آیا یہ گیا نہیں…
حال کہ.. وہاں.. رہنے والے مقینوں کی تعداد کوئ.. ایک دو نہین تھی.. پھر…
پھر ایسا کیا ہوا…
وہ… پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگا…
ہیلو” ابھی وہ سوچتا ہی کہ.. صنم بغیر دروازہ بجائے.. اندر داخل ہوئ…
کیسے ہیں” اسنے بے تکلفی سے کہا.. جبکہ شاہ میر.. نے کوئ تاثر نہین دیا…
یہ مسٹر تو.. بد لحاظ ہیں غالباً آپکو میرے حال چال کا جواب دینا چاہیے تھا “وہ صفدر کوگھورتی چئیر گھسیٹ کر بیٹھی.. اور سامنے موجود فائل کو دیکھا..
تو مسکرا دی…
یعنی جاسوس ہر جاسوس.. گڈ”وہ… سر ہلاتی بولی…
تو شاہ میر اب بھی… خاموش رہا درحقیقت.. اب وہ.. رضا کے گھر کے اندر جا کر.. باقی تفصیلات جاننا چاہتا تھا.. اسکی سکس سینس گڑبڑ کا پتہ دے رہی تھی…
ویسے… یہ کیس میرا بھی ہے اور ساری.. معلومات.. دیکھنے کے بعد مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ.. ہمیں.. آپ کے بتائے ہوئے گھر کو.. اندر سے دیکھنا چاہیے.. مجھے یہ آدمی ٹھیک نہیں لگتا.. پتہ تو چلے اس گھر سے اسکا تعلق کیا ہے.. اور جو بھی تعلق ہے.. تو اس گھر کے مکین کہاں غائب ہیں.. “وہ ساری فائل سٹڈی کرنے کے بعد بولی… تو شاہ میر نے اثبات میں سر ہلایا…
مس صنم آپ اور.. صفدر.. رات اس گھر… کے اندر کی صورتحال سے مجھے آگاہ کریں گے” اسنے آرڈر دیا…
کیو آپکو مہندی لگی ہے “صنم نے.. اسکی طرف دیکھا..
کیپ کوائٹ” اسکی حاضر جوابی.. شاہ میر کو ایک آنکھ نہ بھائ..
اب بھی ساتھ چلین گے شہر لگتے ہیں مجھے وہ آفیسرز جو صرف آرڈرز کریں.. باقی گدھے ہیں جو انکا حکم مانیں” ووہ غصے سے بولی.. جبکہ شاہ میر نے ایک نظر.. صفدر کو دیکھا…
جو سر جھکائے کھڑا تھا…
میں ساتھ چلو گا.. مگر اس کا مطلب ہرگیز یہ مت سمھجے گا کہ میں آپکی. اس کی چی جیسی زبان.. کے جھانسے مین آیا ہوں.. مجھے یقین نہیں ابھی آپکے کام پر” اسنے.. اسکے مسکراتے لب سکڑتے.. دیکھے.. اور..
شانے اچکا کر.. باہر نکل گیا…
آف” صنم نے.. ہاتھ کے اشارے سے اسکو قتل کر دیا تھا.. جبکہ صفدر کی مسکراہٹ گھری ہوئ…
اور وہ بھی انکے پیچھے ہو لیا…
شاہ میر کا ارادہ.. اماں کے پاس جانے کا تھا….
اور وہ وہاں جانے سے پہلے.. اماں… سے ملنے چل دیا…
اس سے پہلے وہ اپنی گاڑی میں پہنچتا…
صنم بھی گاڑی میں سوار ہوئ…
مجھے اپنے گھر جانا ہے “شاہ میر نے ضبط سے کہا..
ہاں تو” وہ لاپرواہی ہوئ…
تو یہ کہ باہر نکلو.. اور کیب سے سفر کرو ورنہ صفدر بھی موجود ہے. “وہ پھر بد لحاظی ہر اترا..
اتار کر دیکھاو” صنم دو بادو ہوئ…
جبکہ شاہ میر غصے سے… دروازہ کھول کر باہر نکلا.. اور ایک جھٹکے سے.. دروازہ بند کیا…
صنم اسی کی جانب دیکھ رہی تھی…
وہ صفدر کے پاس آیا…
تم اس گاڑی میں جاو “اسنے کہا.. تو صفدر گاڑی سے باہر نکل گیا..
میں شاہ پیلس میں ہوں.. وہاں سے.. ڈائریکٹ رائٹ بارہ کے بعد… رضا ہاوس کے باہر ملنا” اسنے.. کہا تو صفدر.. کا رنگ فق ہوا…
سر شاہ پیلس”وہ بولا…
کیوں کیا ہے” وہ روڈ ہوا..
نہ.. نہیں”صفدر نے جلدی سے نفی کی…
میری مرضی کے خلاف کچھ ہوا.. شاہ پیلس میں.. تو تمھاری.. گردن تن سے جدا کرنے میں .. پل لگاو گا “اسنے.. اسکی آنکھوں میں جھک کر.. کہا… تو صفدر… حیران رہ گیا.. اس انسان… سے کبھی کچھ.. نہیں…
چھپ سکتا تھا وہ کیسے بھول گیا تھا…
صفدر کو دھکا دے کر.. وہ گاڑی میں سوار ہوا…
تو صفدر نے وہاں چھپی. چھوٹی سی جان.. پر.. آج فاتحہ پڑھ دیا…
جبکہ وہ گاڑی زن سے اڑا لے گیا تھا…
………………
شاہ پیلس کے سامنے گاری روک کر.. وہ اندر کی جانب بڑھا کہ اماں کا فون رینگ کرنے لگا.. اسکے لب مسکراتے…
کیسی ہیں.. طبعیت ٹھیک ہے “وہ بولا…
خیریت.. آج مزاج کچھ درست لگ رہے ہیں” اماں نے… اسکی پرسکون آواز.. پر زرا حیرت کا اظہار..
کرتے ہوئے.. چھیڑہ..
وہ شاہ پیلس مین ہے “اسنے اپنے سکون کی وجہ بتائ…
کون حرم..” اماں نے… ایکدم پوچھا…
ہاں.. “وہ سنجیدگی سے بولا…
تم کیسے جانتے ہو ملے ہو اسسے ” اماں کے سوال پر.. اسنے اوپر اپنے کمرے کو دیکھا…
وہ میرے گھر میں… چھپ کر مجھ سے چھپ نہیں سکتی “شاہ میر کے لہجے میں آپ ہی سختی گھلی..
شاہ میر.. زرا نرمی رکھنا. “اماں اسکی طبعیت کے پیش نظر بولیں…
وہ رضا کے پاس نہیں.. میرے پاس ہے.. مجھے اس بات کا سکون ضرور ہے.. مگر اسکی بے وفائ کو.. اسکی موت بھی نہین بھلا سکتی “وہ.. بولا…. اور سیڑھیان چڑھنے لگا…
وہ بیمار ہے “اماں نے..اسے یاد دلایا…
بھار میں گئ ایسی بیماری” وہ… ناگواری سے بولا.. اور جھٹ سے دروازہ.. کھول دیا… مگر خالی کمرہ… اسے ایک پل کو.. بس ایک پل کو حیرت ہوئ تھی…
اسے یہی ہونا چاہیے تھا….
اسنے.. خود پر قابو پاتے… اسکو محسوس کرنا چاہا.. مگر.. واشروم مین بھی اسکا وجود نہ پا کر… اسنے.. بالآخر پکارہ…
حرم” مگر جاوب نادر…
حرم” وہ چلایا..
مگر اب بھی جواب… کوی نہیں تھا…
شیٹ”اب.. اسکے وجود کو جیسے پتنگے لگے تھے…
اسنے موبائیل نکالا.. اور.. صفدر کا نمبر ڈائل کیا..
کہاں مر رہے ہو.. حرم کہاں ہے” وہ دھاڑا…
سر.. وہ وہیں ہیں آپکے روم میں ہیں”وہ.. بولا.. تو شاہ میر کی گرفت موبائیل پر سخت ہوی..
صفدر اگر وہ نہ ملی.. تو جان سے مار دوں گا تمھیں “اسکی گراہٹ…پر.. صفدر نے فون بند کر دیا…
وہ خود پریشان تھا آخر حرم کہاں گئ.. وہ وہیں تھی…
حرم” شاہ میر کی دھاڑ… میں ایک اس تھی جیسے وہ کہیں سے نمودار ہو جائے گی…
اور وہ اسے اپنے سینے مین جکڑ.. کر تڑپا دے گا… ہان بری طرح.. اسکو تکلیف یا خوشی دینے کا.. صرف شاہ میر کو حق تھا…
وہ دندناتا ہوا.. وہاں سے نکلا…
جبکہ ایک بار پھر کال ملا کر اسنے صفدر کی روح فنا کر دی تھی…
………………
میں کب سے ویٹ کر رہی ہوں یہاں کیا سمھجتے ہو تم سب خود کو… مجھے.. کہہ کر خود سب غائب ہو گئے.. “صنم چلائ جبکہ صفدر…
اور شاہ میر.. اسی طرف آ رہے تھے…
سب کو پتہ چل چکا تھا.. حرم غائب ہے…
جبکہ اماں.. پریشانی.. سے.. داسکے ملنے کی دعا گو تھیں..
اور باقی سب بھی اسکے ناراض ہونے کے باوجود بھی.. اس کے مل جانے کی دعا کرتے…
حرم کو تلاش کر رہے تھے…
مگر ھرم تو.. ایسے غئب تھی جیسے اب کبھی نہیں ملے گی….
جبکہ دوسری طرف شاہ میر جلے پاوں گی بلی بن چکا تھا…
اور.. اسکے غصے کی زد مین.. فیضان. جو.. اپنے دوست کے فلیٹ میں.. پرانے زخم بھر رہا تھا.. شاہ میر کے گھوسون.. نے نئے زخم دیے تھے اسے…
حرم کہان ہے بول “وہ فیضان… کو گریبان سے پکرے جھنجھوڑ گیا تھا..
مین نہیں جانتا مین نے اسے وہاں چھوڑا تھا تمھارے گھر پر” فیضان کے حیران کن جواب نے.. اسکے قدمون تلے زمین کھنچی تھی..
اور.. اب اسے پکا یقین ہو طلا تھا.. حرم آبان کی دسترس مین ہے..
کیوں اس سے لاپرواہی برتی اسنے کیوں..
وہ… اپنا غصہ.. فیضان پر نکالتا وہا سے نکلا…
اور اب رضا ہاوس پر.. چھپ کے.. وار کرنے کے بجائے وہ ڈائریکٹ گاڑی.. رضا ہاوس کے سامنے روک چکا تھا..
یہ پاگل ہے کیا آدمی “صنم جو دور ایک درخت کی اوت مین کھڑی تھی…
غصے سے ماتھا پیت گئ..
جبکہ وہ اکیلا… بغیر.. کچھ سوچے سمھجے.. رضا ہاوس کے دروازے پر دو تین لاتیں مارنے لگا.. چوکیدار نے.. دروازہ کھولا…
تو وہ اس بوڑھے چوکیدار کو دیکھے بغیر… اندر بڑھا
.. حرم” اسکی غراہٹ… اندر بند دو نفوسون نے سنی تھی…
لاغر لاچار نفوس شاید اب.. سوچے بیٹھے تھے.. کہ انکی زندگی یون ہی ختم ہو جائے گی جبکہ…
اب شاہ میر کی پکار سن کر… نئے سرے سے جیسے توانائ بھری تھی…
حرم.. کہاں ہو.. باہر او” وہ.. چلایا.. مگر یہاں بھی حرم کا جواب نہیں تھا..
سر یہاں تالہ لگا ہے” صفدر نے ایک تالے کو دیکھ کر کہا..
توڑو اسے “وہ.. بولا..
تو.. صنم نے ٹوک دیا..
میں کھولتی ہوں.. ” وہ بولی.. اور.. ان دونوں کو پیچھے کر کے.. اپنے بیگ مین موجود کچھ اوزارون کا استعمال کرتی دروازہ کھول چکی تھی..
جبکہ شاہ میر وہاں بندھے.. لوگوں کو دیکھ کر باہر ہی رک گیا….
جبکہ صنم اور رضا دور کر ان تک پہنچے..
کیا آپ ٹھیک ہیں” صنم نے اس عورت سے پوچھا جو بمشکل آنکھیں کھول پا رہی تھی…
جبکہ.. آدمی.. باہر… کھڑے شخص کو سٹل.. سرخ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا…
رضا کے منہ سے ٹیپ ہٹتی ہی.. وہ پثمردہ آواز میں بولا..
وہ.. حرم.. کو بیچنا چاہتا ہے..” انھوں نے آج میری بیٹی نہیں کہا..
بچا لو… اسے… ب.. بیٹے” وہ جھجھکتے ہوئے بولے.. اور کمزوری اور بے بسی کے باعث وہ بری طرح رو دیے.. ہاں وہ ایک مرد آج ہار کر.. رو دیا تھا.. اسے.. ان دو دنون مین.. خود ہر اترتی عزیت سے دوسرون کو دی گئ عزیت کا احساس ہوا تھا..اور آج شاہ میر کو یہاں دیکھ کر انھیں اندازا ہوا.. کہ حرم.. اسکے پاس بھی نہیں ورنہ وہ یہاں کبھی نہ آتا..
شاہ میر.. نے بس یہ ہی فقرہ سنا تھا کہ وہ اسے بیچنا چاہتا ہے…
انھیں… خان ہاوس لے جاو “اسنے صفدر کو کہا.. اور…
باہر نکل گیا.. اسکا دم گھٹ رہا تھا.. انکا رون آ.. حرم کی گمشدگی…
وہ پاگل ہو رہا تھا…
کہاں ہو حرم” اسنے دل میں پکارہ…
………………….
یہ چیز… بہت مست ہے.. مجھے نہیں لگتا تھا تو اسے میرے تک پہنچا دے گا.. انعام کا حقدار ہے تو تو “کسی کی آواز.. اسکے ہوش میں آتے دماغ.. پر ہتھوڑوں کیطرح برسی…
اسے بس اتنا یاد تھا.. کہ.. وہ شاہ میر کو یاد کرتے کرتے وہیں.. اس جگہ ہر.. سو گئ تھی.. اور اب اسکا زہن جاگا.. تو.. اسکو.. ذہنی تھکاوٹ کا احساس بری طرح ہوا.. مگر اسنے آنکھیں نہ کھولیں.. وہ آوازوں کو سمجھنا چاہ رہی تھی.. مگر دماغ ایکٹیو نہین ہوا.. نہ جانے کون سا نشہ آور ٹیکا وہ اسکے لگا چکا تھا کہ.. حرم پھر سے بے ہوش ہو گئ
انعام نہیں چاہیے مجھے.. یہ مین نے دے دی.. اب میری جان چھوڑو.. اور اگلی بار.. مجھ سے ربطہ نہ کرنا “آبان.. غصے سے بولا..
اور وہاں سے نکلتا کہ مراد کے آدمیوں نے اسے پکڑا…
ارے کہاں بھاگتے ہو.. شہزادے…
لڑکی مجھ تک پہنچ گ٨.. مجھے خوشی ہوئ.. مگر کیا گارنٹی ہے پولیس کے دو تھپڑ تجھ سے میرا پتہ نہ اگلوائیں.. اور ہمارے پورے تعلقات بھی تو ہیں.. آخر کو مل کر لڑکیوں کا کاروبار کیا ہے ہم نے “تم سے نہیں کیا میں نے..
جس سے کرتا ہوں.. کافی ہے.. دوبارہ اپنی شکل مت دیکھا آ” آبان چیڑ کر بولا..
بڑا پھڑک رہا ہے “مراد ہنس دیا…
جبکہ آبان.. نہ سمھجی سے اسے دیکھنے لگا..
چل جا..” مراد نے حرم کے… وجود پر اپنی غلیظ نظریں اتاریں…
اور اسکے ملائم ہاتھون ہر اُنگلیاں چلاتا بولا..
آبان نے نفرت سے اسکیطرف دیکھا.. اور وہاں سے نکلتا چلا گیا…
وہ یہ شہر ہی چھوڑ دینا چاہتا تھا.. کیونکہ وہ جانتا تھا.. شاہ میر اسے زندہ نہیں چھوڑے گا.. جان کی خاطر تو اسنے ھرم کو اپنی پسندیدگی کے باعث بیچا تھا…
برحال. اب حرم میں اسکی دلچسپی تھی بھی نہیں…
اسنے.. شاہ پیلس حرم کو جس طرح نکالا تھا یہ تو وہ ہی جانتا تھا…
موقع اچھا جان کر.. شاہ میر کی چوک سے فائدہ اٹھاتا.. وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا.. اب اسکا ارادہ کراچی.. جانے کا تھا.. اور وہ ان سے کچھ ہی دنون مین وی بیرون ملک چلا جاتا اور اس جھنجھٹ سے جان چھوٹتی مگر وہ یہ نہین جانتا تھا.. کہ..
تمام ترتیب دیے ہوئے پلین کبھی کامیاب نہین ہوتے.. برای کا خاتمہ تو لکھا ہے…
اور اسکی جڑ نے میٹنا ہی ہے..
…………….. …
اسلامہ آباد ایئرپورٹ پر..
خافیا… سیول… تمام پولیس اہلکار کھڑے تھے جبکہ بائے روڈکا راسطہ بھی.. وہ… بند کروا چکا تھا.. اسے ھرم چاہیے تھی.. جبکہ ابن کی لاش.. کو ٹھکانے وہ خود لگاتا…
تمام اہلکار.. کیونکہ سیول ڈریسیس میں تھے تبھی آبان پہچان نہ سکا… جبکہ وہ… تیزی سے.. چیک پوسٹ کیطرف بڑھا. مگر اس سے پہلے ایک آدمی سے ٹکرا گیا…
اس آدمی سے تکرانے پر… ہی.. اسے عجیب سی بو کا احساس ہوا.. اور وہ اس آدمی کے ہاتھون میں جھول گیا.. ہاں وہ ایک مظبوط مرد جو.. کسی کی عزت کو…
کہاں چھوڑ آیا تھا.. بس.. ایک بو کی مار تھا…
……………..
اسکے تعقب میں لگی.. خوفیا پولیس…
جلد ہی مراد تک بھی پہنچ چکی تھی جبکہ اس پولیس.. کے ساتھ… شاہ میر بھی تھا… مراد نے پولیس ہارن سنے تو.. وہ آبان.. کے نام لیتا دھاڑا… وہ اسکے ساتھ دھوکہ کر گیا تھا…
جبکہ حرم… کیطرف دیکھ کر اسنے اپنے بندوں سے اسکا نازک وجود اٹھایا… اتنے انتظار کے بعد ملی تھی وہ اسے نہین چھوڑ سکتا تھا…
مگر اس سے پہلے وہ سب وہان سے فرار ہوتے.. شاہ میر.. لوہے کا بڑا سارا دروازہ لاتین مار جر توڑ چکا تھا….
اور… حرم کے… بے بس لاچار.. وجود کو کسی کی بانہون مین دیکھ وہ اپنا آپا کہو چکا تھا….
اس ملازم.. کو بری طرح… پیٹ کر ادموھا کرنے کے بعد وہ.. مراد پرر فایر کھول چکا تھا..
رک جاو چشاہ میر “کمشنر صاحب نے.. اس جنونی انسان.. ہر بندھ باندھنا چاہا..
جبکہ وہ.. ھرم کو جکڑے.. بغیر انکی سنے.. مراد کا انکاونٹر کر چکا تھا…
تیری اتنی اوقات نہین.. تو شاہ میر کی بیوی کو خریے” وہ اسکے مردہ وجود… پر لعنت بھیجتا.. حرم کو بانہون مین جکڑے.. وہان سے دندناتا ہوا نکلا جبکہ.. باقی.. سب.. لوگون کو پولیس ہرابت مین لے لیا گیا تھا..
صنم اس آدمی کے.. ٹشن چند لمہے دیکھ کر رہ گئ..
مگر شادی شدہ.. اسے دیکھ کر.. اسکے دل میں ایک چبھن سی تھی…
نہ جانے کیوں
………………
جاری ہے
