128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

شام کے سائے چارو اور پھیل چکے تھے….
اماں شانزے حرم ونیزے سب ہی بیٹھے تھے.. جبکہ حرم چئیر پر آنکھیں بند کیے اب پوری طرح نیند میں اترنے لگی تھی..
حرم “اماں نے پکارہ… تو وہ سرخ آنکھوں سے چونک کر انھیں دیکھنے لگی..
تھک گئ یے میری بیٹی” وہ پیار سے بولیں… …
تو حرم نے منہ بنایا..
میں تھکتی تو نہیں ہو.. وہ آپ کا جنگلی بیٹا ہے.. ڈرا دھمکا کر پڑھنے بیجھتا ہے…
میں بھی فیل ہو گی.. پکا.. “وہ آنکھیں بند کیے نیندوں میں بولی تو… اماں سمیت وہ دونوں بھی مسکرا دیں…
ونیزے کی حرم سے اب تک کوئ بھی بات نہیں ہوئ تھی
کیونکہ… کوئ موقع نہیں بنا..
اچانک ہی اسکو کچھ یاد آیا..
حرم تم نے میڈیسن لی ہے” ونیزے بولی تو اماں اور شانزے نے چونک کر.. اسکی.. جانب دیکھا جبکہ حرم نیند میں بڑبڑاتی.. ہوئ.. اب.. ہاتھ چلا رہی تھی…
اور پھر وہ گھیری نیند میں اتر گئ…
بیٹا تم حرم کو جانتی ہو” اماں نے پوچھا تو… ونیزے نے اثبات میں سر ہلایا..
ہم ایک ساتھ پڑھتے تھے “
پھر تو تمھاری بھی پڑھائ کا کافی لوس ہو گیا ہو گا.. تم بھی دوبارہ جوئن کر لو “اماں نے مشورہ دیا تو ونیزے.. انکی طرف دیکھنے لگی…
میرے خیال سے شہروز کو اچھا نہیں لگے گا” ونیزے نے کہا تو اماں نے.. نفی کی..
نہیں وہ کچھ نہیں کہے گا…. تم بھی دوبارہ سے جاو… اور.. ویسے تو.. میرا مطلب.. تمھارے والدین جو سب کچھ ہو چکا ہے اسکے بارے میں جانتے ہیں” انھوں نے کچھ جھجھک کر پوچھا کہیں وہ برا نہ مان جائے…
نہیں آنٹی… میری ماں نہیں ہے.. اور بابا… وہ.. … نیویوک گئے ہیں…
معلوم نہیں وہ کب آئیں.. کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑے گا ونیزے.. کہاں ہے زندہ ہے یا مر گئ” نم آنکھوں سے وہ پھیکا سا ہنسی تو اماں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا.. جبکہ شانزے جو اسکے لیے کچھ اچھے خیالات بلکل نہیں رکھتی تھی.. اسکو بھی ونیزے پر ترس آیا…
یقینا اگر اسکی اچھی پرورش ہوتی تو.. اسکا مامضی.. اسکے لیے.. پشتاوا نہ ہوتا…
بھابھی کچھ نہیں ہوتا اب آپ یہاں ہیں اور ہمیں تو فرق پڑتا ہے.. “شانزے بولی تو ونیزے.. نے ڈبڈبائ آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا…
کیا تم نے مجھے معاف کر دیا” وہ بے تابی سے بولی تو شانزے… کو اسکا ایسا بولنا بلکل اچھا نہ لگا..
بھابھی.. میں بھلہ کون ہوتی ہوں آپکو معاف کرنے والی “اسنے ایک نظر اماں کی جانب دیکھ کر کہا جو دونوں کو دیکھ رہیں تھین..
میں نے تمھارے بھائی کے ساتھ اچھا نہیں کیا ضد اور غصے اسپر الزام لگایا.. اور..” وہ سسکی تو… شانزے…
آٹھ کر اسکے پاس آئ..
آپ مت روئیں.. آپکو اپنی غلطی کا احساس ہے.. اتنا بہت ہے.. “اسنے ونیزے کو گلے لگاتے ہوئے کہا.. تو ونیزے مسکرا فی.. یہ لوگ بہت اچھے تو.. وہ نہ جانے کیوں ان لوگوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی…
بہت برے ہی‌ آپ میر.. “حرم… اپنے ہونٹوں پر.. غصے سے ہاتھ پھیرتا اچانک… بولی تو.. وہ تینوں اسکیطرف متوجہ ہوئیں….
اور اسکی بات پر تینوں ہی.. جزبز ہوئیں.. اور اس سے پہلے.. وہ کچھ کہتی.. کہ شاہ میر اور شہروز کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئ..
اماں کو وہاں لون میں دیکھ کر وہ دوںوں ہی وہیں آ گئے اور سر جھکا کر سلام کیا..
شہروز نے ایک اچٹتی نظر ونیزے پر ڈالی.. جبکہ شاہ میر.. حرم… کو یہاں سوتا دیکھ وہ بھی اس وقت.. حیران ہوا.. اور اب اسکے تیور بگڑنے لگے تھے.. وہ جانتی تھی یہ اسکے آنے کا وقت ہے اور پھر بھی.. سوئ ہوئ تھی…
کیسا گزرا دن تم دونوں کا “اماں نے پوچھا تو.. دونوں نے انکی طرف دیکھا..
اٹس ہارڈ..” شاہ میر نے کہا.. اور حرم.. کی چئیر کی بیک ہر ہاتھ ٹیکا لیا…
ٹھیک تھا بس…. “شہروز نے جواب دیا.. اور شانزے کی چئیر پر بیٹھ گیا…
گڑیا .. پلیز کافی دے دو” شہروز نے شانزے سے کہا تو.. وہ سر پلاتی.. کچن کی جانب چلی گئ..
ونیزے خود میں چاہ کر بھی اٹھنے کی ہمت نہیں پا رہی تھی تبھی بیٹھی رہی جبکہ سر جھکا ہو تھا…
اور پھر اچانک اسے شاہ میر کا خیال آیا.. جو اب بھی حرم کے پاس کھڑا تھا…
آپ… آپ بیٹھ جائیں…” ونیزے… نے ایکدم اٹھ کر چئیر چھوڑی…
نو اٹس اوکے.. میں روم میں جاو گا..” اسنے.. بے تاثر لہجے میں کہا…
شہروز اور اماں دونوں نے دیکھا جبکہ ونیزے اگلا لفظ نکالنے قابل نہیں تھی…
بیٹھ جاو شاہ میر”اماں کو شاہ میر کا انداز برا لگا گھا.. تبھی بولیں….
تو شاہ میر بھلہ اماں کی بات ٹال سکتا تھا… وہ بیٹھ گیا.. جبکہ حرم کا اسطرح سوبا اسے اکورڈ لگ رہا تھا….
اماں شہروز سے گلاسری کے بارے میں بات کرنے لگی کیونکہ مہینہ ختم ہونے والا تھا اور گلاسری وہی لاتا تھا…
شہروز انکی بات سن رہا تھا…
شاہ میر کی بھی توجہ ادھر ہی تھی جبکہ ونیزے بھی سائیڈ پر کھڑی تھی…
میر “اچانک ہی حرم کی لجائ ہوئ آواز پر سب نے اسکیطرف دیکھا.. جبکہ شاہ میر کو پہلی بار اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہو رہا تھا…
اسکی آواز میں ایک عجیب تاثر تھا.. اور بس اس سے زیادہ وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا….
اسنے حرم کی تیوری چڑھا کر کلائ پکڑی.. اور.. کھینچ کر اسکو کھڑا کیا…
یہ رہا میر بولو کیا کام ہے… “وہ غصے سے بولا جبکہ.. اماں ارے ارے کہنے کا بھی اثر نہ ہوا… دوسری طرف.. ونیزے اور شہروز بیقوقت مسکرا رہے تھے…
حرم…. سرخ.. آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی.. جبکہ.. شاہ میر نے اسے ایک بار پھر جھنجھوڑا….
آپکے ساتھ مسئلہ کیا ہے..” حرم تو جیسے ہتھے سے اکھڑی…
میرا مسلہ تم ہو.. افسوس ہے مجھے تم سے شادی کی میں نے…” شاہ میر نے اسکو چیڑانے کے لیے. مزے سے کہا اور… چئیر پر بیٹھ گیا…
اوہ اب ہو رہا ہے افسوس… آپکو.. اب تو مجھ سے جان نہی‌ں چھٹتی آپکی کرتے رہیں افسوس “وہ غصے سے پیر پٹخ کر بولی…
جبکہ شاہ میر… نے اپنے مسکراتے لبوں کو.. انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے چھپا لیا…
اسے ہی نہیں چھوٹتی… اماں مجھے کرنی تھی آپ سے اس موضع پر بات….
میں چاہتا ہوں آپ میرے لیے ایک اچھی سی لڑکی ڈھونڈیں….
جو مجھے بیوی لگے.. چھوٹی بچی نہیں”اسنے ایک اور شوشا چھوڑا.. جبکہ شہروز سے اب ہنسی روکنا محال تھا…
واہ لالا واہ..” اسنے تالی بجائ.. جبکہ.. حرم جو اپنے روم کیطرف جا رہی تھی شاہ میر کی بات پر پلٹی.. اور دندناتی ہوئ اماں تک پہنچی..
میں کہہ رہی ہوں آپکو.. اگر اپنے ان کے لیے لڑکی ڈھونڈی تو.. میں اس لڑکی کو بھی اور انھیں بھی مار دوں گی” وہ برائے وہ لہجے میں غصے سے سرخ چہرہ لیے بولی..
ارے میرا بچہ” اماں نے حرم کو آٹھ کر گلے سے لگایا…
فضول بول رہا ہے.. بھلہ میری حرم سے زیادہ میری بھی کوئ ہو گی “انھوں نے پیار سے پچکارہ تو… حرم نے اثبات میں سر ہلایا.. جیسے بلکل متفق ہو انکی بات سے…
بس کرو اب.. جاو دونوں فریش ہو.. “اماں نے دونوں بیٹوں کو کہا.. اور وہ خد.. اندر کی جانب چل دیں..
ویسے لالا.. پلین آپکا اچھا ہے
. دوسری شادی کا مگر اماں “شہروز اٹھتے ہوئے افسوس سے بولا…
جبکہ حرم نے شہروز کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا…
لالا کی جان…. بھلہ پہلے اماں کو.. تمھارے لالا کی شادی کی خبر ہوئ تھی” شاہ میر شاید اچھے موڑ میں تھا تبھی حرم کی جان جلا چکا تھا….
یار آپکی تو بات ہی کیا.. ہے.. “وہ دونوں.. ایک دوسرے کے شانوں پر ہاتھ رکھے.. مزے سے.. دوسری شادی کی باتیں کرتے… وہاں سے.. اندر چلے گئے جبکہ حرم کا تو بس نہیں چل رہا تھا… شاہ میر میں گھس کے پھٹ جائے…
جبکہ ونیزے… کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے…
……………
شاہ میر کو حیرت تھی.. اتنا بولنے کے بعد بھی حرم نے رات سکون سے کیسے گزار لی تھی…
وہ آرام سے.. بغیر اس سے بولے سو چکی تھی…
اور آج سنڈے تھا.. تبھی.. شاہ میر سکون سے رف حولیے میں.. اپنے بستر میں گھس ہوا اتھا..
جبکہ حرم میڈیم سکون سے سوئ ہوئ تھیں جبکہ اسکے ہاتھ پاوں میر کے اوپر تھے.. اور میر ایل سی ڈی پر میچ دیکھ رہا تھا…
اچانک اسنے گھڑی کیطرف دیکھا.. 12 بج رہے تھے.. اور باہر سب کی آوازیں آ رہی تھیں….
اور اسکی بیگم اب تک سو رہی تھیں..
حرم. “شاہ میر نے… اسکو اٹھانا چاہا.. مگر حرم ٹس مس نہ ہوئ..
حرم اٹھ جاو…” شاہ میر نے اسکے چہرے پر بکھرے بال انگلیوں کی مدد سے ہٹائے…
کیوں”حرم نے ایک آنکھ کھول کر اسکیطرف دیکھا…
کیونکہ دن نکل چکا ہے.. اور سب جاگ چکے ہیں… اور مجھے بھوک لگی ہے… فریش ہو جاو.. پھر اکھٹے ناشتہ کرنے چلیں گے “شاہ میر نے… اسکی بند آنکھوں ہر پھونک ماری تو.. حرم. نے.. اسکے سینے پر مکے برسانا شروع کر دیے…
کیوں میرے ساتھ کیوں کریں گے.. اپنی بیوی لے کر آئیں اسکے ساتھ کرنا یہ سب.. مجھے کہیں نہیں جانا.. اور مین آپکے کمرے میں بھی کیوں ہوں.. جا رہی ہوں میں” حرم غصے سے بولتی اٹھی جبکہ شاہ میر بھی کمبل ہٹا کر اٹھا.. کیونکہ حرم نائٹ ڈریس میں تھی … کبھی وہ یوں ہی باہر نہ نکل جاتی…
ہیلو… بس بہت ہوا….
جب تک ہو بس گم ہی ہو میری بیوی.. اب مزید مین تمھارے چنچلے اٹھانے کے لوڈ میں بلکل نہیں ہوں تو بہتر ہے.. جاو فریش ہ وجاو… اور شاپنگ ہر چلی جانا آج… “شاہ میر نے اسکو باہر نکلنے سے روکا.. اور سختی سے کہا.. تو حرم نے.. ادا سے اپنے شانے پر سے بال ہٹائے..
آ گئے نہ لائن ہر.. ویسے جب تک کا مطلب بتائیں گے” اسنے ڈمغور سے شاہ میر کو دیکھا..
اور پھر ہی انگلی اٹھا کر اسکو وارن کیا..
ساری عمر… اوکے ساری عمر “اسنے کہا.. اور.. واشروم میں چلی گئ.. جبکہ شاہ میر. جو فریش تو ہو چکا تھا… اسپرا یک گھوری ڈال کر.. روم سے باہر نکل گیا…
نیچے سب ناشتے کی ٹیبل ہر اکھٹے تھے…
سوری میں لیٹ ہو گیا” شاہ میر نے سب سے معزرت کی…
جبکہ اماں نے اثبات میں سر ہلایا.. اور آج سب کو ونیزے ناشتہ سرو کر رہی تھی…
شاہ میر کے آگے پلیٹ رکھتے ہوئے وہ تھوڑا ہچکچائ..
شاہ میر سے اسے چماچھا خاصا ڈر لگتا تھا..
نہ جانے حرم کیسے اس سے اتنا فری تھی..
رکھ دو..” شاہ میر نے بالآخر خود ہی کہا.. تو ونیزے نے اسکو ناشتہ سرو کیا.. اور ابھی سب نے پہلا لقمہ توڑا ہی تھا کہ حرم آندھی طوفان کیطرح وہاں پہنچی.. وہ اتنی سپیڈ سے سیڑھیاں اتری.. کہ لاسٹ سیرمڑھی پر اچانک ہی.. اسکا.. جیسے سنس بند ہونے لگا.. اور وہ وہیں بیٹھتی چلی گئ..
شاہ میر وہیں ناشتہ چھوڑے استک پہنچا جبکہ.. وہ سب بھی اٹھ گئے…
م….. میر.. مجھے.. پین ہو رہا ہے.. “وہ اٹکتے ہوئے بمشکل بولی… تو شاہ میر… نے اسکو بانہوں میں بھر لیا..
حرم.. تمھین کس نے کہا تھا.. اسطرح اترو.” وہ غصے سے بھنا یا..
حالت دیکھو اسکی.. بس غصہ کرنا ہے “اماں نے اسے جھڑکا.. جبکہ.. شانزے.. اسکی ٹیبلٹس لے آئ..
مگر حرم.. کی کیفیت.. عجیب ہو رہی تھی.. اور اب…
وہ بے ہوشی میں جا رہی تھی.. شاہ میر نے اسکے سرد پڑتے گال دیکھو.. اور وہاں سے ہت کر اپنے ماتھے پر پھیلا پسینہ صاف کیا اور فواد کو کال کی…
اسے فورا پہنچنے کا حکم دے کر.. وہ اب بے ہوش پڑے حرم کے وجود کو بے بسی سے دیکھ رہا تھا.. یہ وہ لمہ تھا.. جب سب اسکے اختیار سے باہر ہو جاتا تھا… وہ.. چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتا تھا…
وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا..
جبکہ شہروز.. نے.. اسکی جانب دیکھا..
لالا ہم ہسپیٹل لے جا سکتے ہیں بھابھی کو.. آپکی ضد کی وجہ سے انھیں کچھ ہو گیا تو “شہروز نے پہلی بار اس سے انچی آواز میں بات کی تھی.. وہ خاموشی سے دانت بھینچے اسے دیکھنے لگا..
جبکہ وہ تینوں حرم کو یوں ایکدم بے سد ہوتا دیکھ رونے لگیں تھی..
تم تو چپ کرو پہلے ہی سب پریشان ہیں حوصلہ دینے کے بجائے.. رونے بیٹھ گئ ہو ..” شہروز نے سختی سے.. ونیزے کو کہا تو… وہ.. اسکی بات سمجھتے ہوئے… اماں اور شانزے کے لیے پانی لینے چلی گئ..
جبکہ فواد بھی پھنچ چکا تھا..
میں نے تمھیں ہزار بار کہا ہے.. انکی لائف کا رسک لے رہے ہو تم… انھیں… اسطرح پرانی میڈیسنز پر چلا کر” فواد نے حرم کو دیکھ کر بھڑک کر شاہ میر کو کہا…
زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے… اسے ہوش مین لاو.. ورنہ میں. اسکا گلہ فبا کر سری دمر کے لیے یہ آنکھیں؛ بند کر دوں گا” شاہ میر کی گرج… تھی… کہ سب خاموش ہو گئے..
ان کا ٹریٹمنٹ.. کسی سرجن سے ہونا چاہیے.. انھیں ہسپیٹل لے کر جانا ہو گا ابھی” فواد نے کہا تو.. شاہ میر نے. اسکو اور ش ہی روز کو اپنے راستے میں سے ہٹایا آ.. اور حرم کو دونوں بازوں میں بھر لیا…
حرم… مجھے نہیں چھوڑ سکتی تم…..” شاہ میر اسے خود میں بھینچے بڑبڑایا.. اور وہاں سے نکلا… جبکہ شہروز.. اور فواد بھی انکے پیچھے نکلے…
مگر روتی ہوئ.. شانزے پر فواد نے بڑی گھیری نظر ڈالی تھی…
……………………….
فیضان نے آج شاید مہینے بعد وہ نمبر ڈائل کیا….
جو کہ اس کی توقع کے عین مطابق. ریسیو نہیں کیا گیا…
جبکہ اسنے بیت ساری کالز دین.. تب بھی ریسیو نہ ہوا تو اسنے جھنجھلا کر… موبائل سائیڈ پر پٹخ دیا…
گھر کے ماحول میں عجیب کثافت یہ شاید منحوست کہنا زیادہ بہتر تھا…
وہ نہیں جانتا تھا.. یہاں یر کوئ دوسرے سے نگاہ کیوں چرا رہا ہے…
کیا بات ہے.. جو.. سب… کل لاونج میں بیٹھے ماضی کو یاد کر رہے تھے جبکہ اسکے آنے پر سب خاموش ہو گئے..
اسے اکتاہٹ ہو رہی تھی اس ماحول سے…
تبھی اسنے.. اپنے دوستوں کے ساتھ… شمالی علاقہ جات مین جانے کا ارادہ کیا… مگر وہ اس سے پہلے شانزے سے بات کرنا چاہتا تھا.. جو کہ ممکن نہ ہو سکا… مگر ایس انہیں تھا کہ ان گزرے دنوں میں اسنے اس لڑکی کو بھلہ دیا…
یہ تو نا ممکن تھا کہ وہ… اسکو بھلا دے….
حرم کے لیے پریشان وہ بھی تھا…
مگر جب سے اسے پتا چلا تھا کہ وہ راض انکل کے بیٹے کے پاس ہے.. جو اسکے لیے حیرت انگیز ہی تھا.. کہ انکا بیٹا کون سا بیٹا کہاں سے امآ گیا وہ بیٹا.. جو ان سے حد سے زیادہ نفرت کرتا ہے…
وہ کچھ سمھجا نہیں اور جب اسنے سب سے استفسار کیا تو ملنے والی خاموشی سے اسکا دماع اچھا خاصا تپ چکا تھا.. تبھی.. وہ یہاں سے جانا چاہتا اتھا… اسنے ایک بار پھر نمبر ڈائل کیا… جو کہ ریسیو نہ ہوا.. تو اسنے یک میسج سینڈ کیا..
فیضان تمھیں کبھی نہیں بھول سکتا….
آج کل پرسو.. کب تک کال نہیں اٹھاو گی ایک دن تمھین میرے پاس ہی آنا ہے “اسنے میسج سینڈ کیا… اور سکون سے لیٹ گیا…
…………
ڈاکٹر نے حرم کو کچھ دن اڈمیٹ کرنے کا کہا.. جبکہ اسکی طبعیت کے حساب سے ساری دوائ تبدیل کی…
سب ہی اسکے پاس تھے… جبکہ حرم کے ہاتھوں ہر ڈریپس لگی ہوئیں تھیں.. جس سے وہ جھنجھلا چکی تھی.. کچھ ہی گھنٹوں میں اسکا چہرہ بلکل کملا گیا تھا…
اماں ہم گھر چلتے ہیں”اسنے منہ بسورا…
چندا چلین گے جب تم ٹھیک ہو جاو گی اوکے” انھوں نے پیار سے کہا اور سیب کا ٹکڑا اسکے منہ میں دیا…
حرم… سکون سے لیٹ جاو… تمھارے ہلنے سے دریپ.. نہ ہل جائے پھر سوئیں لگ جائے گی”ونیزے نے حرم کو ٹوکا جو بار بار ہاتھ اٹھا کر دیکھ رہی تھی….
تم بھی ڈانٹ لو “اسنے رونی صورت بنائ.. تو شانزے اور ونیزے بیقوقت اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئیں..
خدا کے لیے رونا مت “
اور تبھی شاہ میر.. شہروز فواد تینوں.. سرجن اسفند کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے…
کیسی ہو بیٹا ڈاکٹر نے پیار سے پوچھا “
میں ٹھیک ہو…. مگر گھر جانا ہے.. مجھے بلکل یہ ہسپیٹل اچھا نہیں لگ رہا “حرم سے کہاں کچھ عقل مندی ک امید کی جا سکتی تھی.. سب اسکی بات پر مسکرا دیے..
بلکل آپ جلد یہ سے ڈسچارج ہو جائیں گی.. اور میں نے آپکے ہسبینڈ سے کہہ دیا ہے… وہ آپکو.. اب سیر و تفریح ہر لے جائیں گے. تاکہ آپ جلدی سے.. ٹھیک ہو جائیں گی” ڈاکٹر نے اسکی ہارٹ بیٹ چیک کرتے ہوئے کہا.. تو حرم.. کے دانت باہر نکل آئے اور اسنے شاہ میر کی. طرف دیکھا… جس کا چہرہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھا….
ڈاکٹر.. نردمس کو کچھ ہدایتیں کر کے… وہاں سے.. باہر نکلے تو شاہ میر بھی انکے ساتھ ہی نکالا…
جبکہ اسکے نکلتے ہی چادر میں چھپے ایک آدمی سے وہ زور سے ٹکرایا…
معزرت چاہتا یوں بیٹا. “اس آدمی نے… کہا.. مگر اپنا چہرہ مزید چھپا لیا…
شاہ میر نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا اور ڈاکٹر کی پکار پر.. انکے پیچھے گیا.. جبکہ اس آدمی نے مسکرا کر پہلے شاہ میر کو اور پھر… روم نمبر دیکھا. جبکہ اندر ہونے والی گفتگو بھی وہ سن چکا تھا….
اور وہاں سے پلٹ کر نکل گیا…
میر.. تمھیں زیادہ سے زیادہ اسے.. خوش رکھنا چاہیے.. “ڈاکٹر نے اسکی جانب دیکھ کر کہا
کیا وہ ٹھیک نہیں ہو سکتی” شاہ میر نے.. پوچھا تو.. وہ چئیر ہر بیٹھ گئے..
دیکھو شاہ میر.. بعض پیشنٹس.. کور کر جاتے ہیں مگر بعض اندرونی طور پر اتنے نازک ہوتے ہیں کہ… انکے بارے میں.. کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا.. میں تمھیں حرم کے بارے میں.. کچھ نہیں کہہ سکتا… مگر اسکو وخش رکھو.. صدمہ کوئ بھی.. اسکے لیے…. اتنا نقصان دے ہے کہ اسکی جان بھی جا سکتی ہے.. “
انھوں نے تفصیل سے کہا.. اور شاہ میر کا اترا ہو چہرہ دیکھا…
شاہ میر فواد کا دوست تھا.. اور اسی وجہ سے ان سے بھی اسکے اچھے تعلقات تھے.. اور اسکی نیچر کے بارے میں کون نہیں جانتا تھا…
تبھی انکو اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر حیرت ہوئ..
یعنی تم بہت پیار کرتے ہو اپنی بیگم سے “انھون نے کچھ شرارت سے پوچھا…
شاہ میر نے کوئ جواب نہین دیا.. تو وہ ہنس دیے…
یار لڑکی کی خاموشی اقرار ہوتی ہے.. لڑکے کو تو اقرار کرنا پڑتا ہے بر حال پریشان مت ہو…. سب ٹھیک ہو گا… ” انھوں نے اسے تسلی دی جبکہ شاہ میر… وہاں سے باہر نکل گیا…
……………….
جاری ہے