128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

دیوانی یار دی
ازقلم تانیہ طاہر
Episode 15
شاہ میر نے حرم سے شادی سے لے کر اب تک کی ساری بات.. ان دونوں کو بتا دی.. حرم کون ہے…
یہ جان کر اماں اور شہروز ایکدم خاموش ہو گئے.. جبکہ اب شاہ میر خاموشی سے ان دونوں کی صورت دیکھ رہا تھا..
شاہ میر تمھیں شرم آ رہی ہے کسی کمزور جان سے بدلہ لیتے ہوئے “بالآخر اماں ہی کچھ دیر بعد بولیں….
بدلہ لینا ہوتا تو اسے یہاں کبھی نہ لاتا” شاہ میر نے کہا… اور صوفے سے ٹیک لگا.. کر بیٹھ گیا….
شاہ میر مگر تمھارے ساتھ رہنے میں اسکی مرضی نہیں ہے اور میں یہ سب اپنے گھر میں بلکل بھی برداشت نہیں کرو ں گی کہ تم زبردستی کسی کو باندھ کر رکھو” وہ اب بقائیدہ غصے سے بولیں.. جبکہ شاہ میر کچھ بھی نہ بولا.. کرنا اسے وہی تھا جو وہ خود چاہتا تھا….
میں حرم کو اپنے ساتھ باندھ کر نہیں رکھو.. گا.. چھوڑ دو گا.. آپ فکر نہ کریں.. کیونکہ اپنے مجرموں کو میں تا عمر اپنے سامنے نہیں دیکھو سکتا” شاہ میر نے سرد لہجے میں سفاکی سے کہا…
جبکہ اماں اور شہروز دیکھ کر رہ گئے….
یہ کیا بول رہے ہیں آپ لالا… اس میں مجھے نہیں لگتا بھابھی کا کوی قصور ہے بھی” شہروز نے اسکی سوچ کی نفی کی…
ہے اسکا قصور کیوں نہیں نظر آ رہا تمھیں….
کیا وہ محبت جو وہ.. گھٹیا ذلیل انسان.. اسپر لوٹا رہا تھا اور ہم در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے کیا ہمیں ضرورت نہیں تھی اس محبت کی.. چلو بھاڑ میں گے میں اور تم…
مگر شانزے آج تک اپنے باپ کے نام پر سوالیہ نشان لیے گھوم رہی ہے….. کیا اسکا قصور تھا…. “شاہ میر اچانک ہی غصے سے دھاڑا……
مگر حرم یہ سب نہیں جانتی ہو گی” اماں نے کہا… تو شاہ میر سر جھٹک کر رہ گیا…
کچھ نہیں کر رہا میں اسکے ساتھ نہ لیں آپ لوگ فکر مگر وہ میری قید میں ہے اور رہے گی کم از کم تب تک جب تک رضا اسکی جدائی میں مر نہیں جاتا.. “وہ بولا.. تو لہجے میں شعلے اگل رہے تھے اماں نے اسکی جنونیت دیکھ کر دل تھام لیا….
اور اگر وہ تمھاری اس قید میں نہ رہے پھر” اماں کو بھی اب اسکی حرکت پر غصہ آ رہا تھا…
وہ چاہے یہ نا چاہے… وہ یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی “وہ پھر اپنی بات پر زور دے کر بولا…
چپ ہو جاو شاہ میر بہت ہو گیا.. ضروری نہیں ہے ہر بار مرد اپنی حاکمیت چلائے عورت پر.. اور جب تمھارا دل بھر جائے… تو تم چھوڑ دو کھیلونا سمھجہ لیا ہے.. کیا تم نے عورت کو… تمھاری بہن کو بھی کوئ یوں ہی اٹھا کر لے جائے پھر پھر کیا کرو گے… تم رضا کو اسکی سزا دے رہے ہو… اور کوئ تمھیں سزا دینے کھڑا ہو گیا تو کیا کرو گے شاہ میر .”
اماں کا بھی غصہ سوا نیزے پر پہنچ رہا تھا…
شاہ میر نے ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا.. جبکہ شہروز بھی شاہ میر سے متفق نہیں تھا…
جاو شہروز حرم کو بولا کر لاو” اماں نے شہروز کو کہا جبکہ شاہ میر بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا… وہ تو تھی بھی سرا سر احمق لڑکی.. اگر کچھ الٹا سیدھا بول دیتی.. تو یقیناً شاہ میر.. اسکا قتل کر دیتا….
مگر وہ ضبط سے بیٹھا رہا…
جبکہ دس منٹ بعد شانزے کے پیچھے چھپتی حرم.. اماں کے کمرے میں داخل ہوئ… اسے اس وقت بہت خوف آ رہا تھا….
سب سے ہی اسنے ایک نظر… شاہ میر کو دیکھا جو مٹھی بھینچے بیٹھا.. تھا مگر اسکی جانب نہیں دیکھ رہا تھا..
آو بیٹا “اماں نے حرم کو اپنی طرف بلایا… تو وہ جھجھکتی ہوئ انکے نزدیک آ گئ…
بیٹھ جاو” انھوں نے اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا.. حرم کا دل مارے گھبراہٹ کے بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا….
جبکہ ہاتھ پاوں بھی کانپ اٹھے تھے…
بیٹا جو میں پوچھ رہی ہوں بغیر ڈرے سچ سچ بتاو شاباش ڈرو مت” انھوں نے اسکو پیار سے دیکھا.. وہ بہت معصوم تھی اس بات کا تو انداز.. انھیں ہو چکا تھا.. حرم انگلیاں مروڑتے ہوے.. انکے بجائے شاہ میر کو دیکھنے لگی..
اسے رونا آ رہا تھا.. وہ کیوں… سر جھکائے.. اس سے لاتعلق بنا بیٹھا تھا…
کیا شاہ میر نے زبردستی نکاح کیا تھا تم سے” انھوں نے پہلا سوال کیا… جس پر حرم کی آنکھ سے آنسو ٹوٹا.. اور اسنے اثبات میں سر ہلایا…
شاہ میر نے ایک نظر شعلہ بار اسکی جانب دیکھ کر چہرہ موڑ لیا…
جبکہ اماں نے گھور کر شاہ میر کو دیکھا…
کیا تم شاہ میر کے ساتھ رہنا چاہتی ہو” اماں نے ایک اور سوال کیا جبکہ اب شاہ میر کی نگاہ اسکے چہرے پر اٹک گئ… جبکہ نہ جانے کیسے دھڑکنوں میں بے ہنگم شور شروع ہو گیا…
حرم نے بھی اسی وقت سر اٹھا کر شاہ میر کو دیکھا… دونوں کی نگاہیں.. ایک دوسرے سے الجھ چکیں تھیں…
شاہ میر بے تابی سے اسکے جواب کا منتظر تھا…
جی.. میں رہنا چاہتی ہوں…. اسنے مدھم آواز میں کہا… اس لمہے شاہ میر کے چہرے پر بڑی اطمینان بھری مسکراہٹ اٹھی اور اسی طرح شہروز اور شانزے بھی مسکرا دیے کیونکہ انکا بھائ خوش تھا… اماں بھی جہاں پرسکون ہوئیں.. وہاں حرم کی اگلی بات شاہ میر کو چنگاریاں لگانے کے لیے کافی تھی.
مگر میں اپنے چاچو کے پاس بھی رہنا چاہتی ہوں.. میں انھیں مس کرتیں.. ہو میں جانتی ہوں وہ پریشان ہوں گے… مجھے وہاں جانا ہے “حرم نے روتے ہوئے کہا.. تو اچانک ہی شاہ میر غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا..
بس ہو گئ بکواس پوری تمھاری… اپنے اس چھوٹے اور نہایت بیوقوف ذہن میں یہ بات بیٹھا لو کے تم.. میری قید میں ہو.. تمھیں مار تو دوں گا مگر.. اسکے پاس نہیں جانے دوں گا..” غصے سے حرم کا چہرہ جکڑے…. وہ بولا تو حرم پھوٹ پھوٹ کر رو دی.. جبکہ اماں نے شاہ میر کو پیچھے کر کے حرم کو سینے میں بھینچ لیا…
دفع ہو جاو شاہ میر یہاں سے” وہ بلند آواز میں چلائیں شاید یہ زندگی میں پہلی بار تھا جو وہ اس سے ایسے بولیں تھیں…..
شاہ میر نے ایک نظر انکو دیکھا.. اور اپنی بریڈز پر ہاتھ پھیرتا.. وہاں سے… نکلنے ہی لگا تھا کہ…
اسے الٹے قدموں واپس پلٹنا پڑا….
حرم…. شہروز دیکھو اسے کیا ہو رہا ہے” اماں کی پریشان آواز اور حرم کو انکی بانہوں میں بے ہوش دیکھ کر.. شاہ میر… کا سکتا ٹوٹا اور وہ پل میں اس تک پہنچا..
مائے گاڈ.. حرم ادھر دیکھو” وہ گٹھنوں کے بل بیٹھا.. مکمل اسکو اپنے بازوں میں قید کر چکا تھا.. حرم کا سر اسکے شانے پر ڈھلکا
شاہ میر اسے ہوا کیا ہے..” اماں بولیں تو اسنے ادھر ادھر دیکھا.. حرم نے شاید میڈیسن نہیں لیں تھیں اور اسکی وجہ سے ناشتہ بھی تو نہیں کیا تھا…
لالا میں گاڑی ریڈی کرتا ہوں آپ بھابھی کو لائیں” شہروز بولا تو شاہ میر نے نفی میں سر ہلایا… اور شانزے سے پانی کا گلاس مانگا…
حرم… چندا اٹھو آنکھیں کھولو” وہ بے بسی سمیت بڑے لاڈ سے بولا… جیسے اگلے لمہے حرم اپنی آنکھیں کھول دے گی.. سب جہاں حرم کے لیے پریشان تھے شاہ میر کے.. ایسے انداز پر حیران رہ گئے..
شاہ میر نے اپنی پور سے.. پانی حرم کے چہرے پر جھٹکا….
تو حرم کی پلکوں پر جنبش سی ہوی…
اسنے.. ہلکی سی آنکھیں کھول کر.. شاہ میر کو دیکھا….
اب غصہ نہیں کروں گا… ڈرا کیو‌ں دیتی ہو مجھے تم…..”شاہ میر نے جیسے خفگی سے اسکی جانب دیکھا… تو حرم… جسے اس وقت اپنا آپ بہت کمزور محسوس ہو رہا تھا… اسنے.. ہمت کر کے اپنا.. ہاتھ اٹھا یا اور شاہ میر کے گال پر جڑ دیا….
جہاں شاہ میر نے ضبط سے برداشت کیا.. وہیں.. وہ تینوں تو غش کھا کر رہے گئے… اگر اس کے گھر والے نہ کھڑے ہوتے تو لازمی وہ اپنی اصلیت پر اتر کر اسے اچھا سبق سیکھا دیتا.. مگر اس وقت اسے کنٹرول کرنا پڑا…
حرم نے اسے ایک نظر گھور کر دوبارہ آنکھیں بند کیں.. تو شاہ میر نے جلدی سے اسے بستر پر لیٹایا….
شانزے… کچھ کھانے کے لیے لاو.. “شاہ میر نے کہا تو وہ سر ہلاتی.. وہاں سے نکلی…
حرم ہارٹ پیشنٹ ہے” اماں اور شہروز کی جانب ایک نظر دیکھ کر اسنے حرم پر اگلی نظر ڈالی….
اور وہاں سے باہر نکل گیا…
اپنی آنکھوں کے سامنے ناشتہ کرا کر میڈیسن دے کر وہ جانے کا ارادہ رکھتا تھا… جبکہ تھپڑ تو… وہ اب بلکل نہیں بھولنے والا تھا…
پل………………..
ونیزے یونیورسٹی کے لیے نکلنے لگی… تو لون میں اترنے سے پہلے ہی اسے ایک گارڈ نے روک لیا….
کیا مسئلہ ہے “ونیزے نے کڑے تیوروں سے اسکیطرف دیکھا… جس کی اتنی جرت وہ ایک پل کو تو چونکی تھی…
میڈیم شہروز صاحب نے آپکو باہر جانے سے روکا ہے… آپ باہر نہیں جا سکتی” گارڈ بنا کسی تاثر کے سخت لہجے میں بولا تو ونیزے کی حیرت سے آنکھیں نکل آئیں….
یہ باسٹرڈ. سمھجے کیا ہو خود کو تم…. ہٹو راستے سے.. اور وہ کون ہوتا ہے مجھے روکنے والا” ونیزے کا دماغ بلکل اٹ ہو چکا تھا…
بھلہ ایک گارڈ اسے کیسے روک سکتا تھا.. اور اوپر سے وہ شہروز اسکا وخب پی کر ابھی صبح ہی گیا تھا….
میڈیم…. معافی چاہتا ہوں مگر باہر نہہیں جانے دا سکتا میں آپکو” گارڈ نے اپنی گن دیکھتے ہوئے.. کڑے تیروں سے کہا تو وہ ایک قدم پیچھے ہٹی اسے… شاید ہی کسی چیز سے اتن آڈر لگتا ہو جتنا اس بندوق نامی شے سے لگتا تھا وہ قدم پٹختی پیچھے ہٹی..
وہ شخص اسے اسکے ہی گھر میں قید کر رہا تھا… یہ سوچ سوچ کر ہی ونیزے کا دماغ آوٹ ہونے لگا.. اسنے غصے سے ٹیبل پر پڑا واس اٹھا کر.. زمین ہر پھینکا….
اور شہروز کو کال ملائ… جو فون اٹھانے کا نام نہیں لے رہا تھا.. اسنے پھر کال ملائ تو کال اٹھا لی گئ…
تم کتنے گٹھیا انسان ہو مجھے اسوقت انداز ہو گیا ہے.. مگر ایک بات یاد رکھنا مسٹر شہروز میں تمھاری قید میں آنے والی نہیں سمھجے… “وہ حلق کے بل چلائ جبکہ شہروز ہلکا سا ہنسا…
بہت شوق تھا میری بیوی بننے کا تو با بھگتو.. میڈیم میں ایسا ہی ہوں… اور تمھیں یوں ہی رہنا ہے میرے ساتھ” شہروز سکون سے بولا جبکہ ونیزے نے مٹھیاں بھینچی…
طلاق دو مجھے ابھی “وہ بولی تو شہروز کے ماتھے پر بھی بل پڑ گئے….
طلاق تمھیں….. کبھی نہیں سوچنا بھی مت.. یوں ہی سسک سسک کر.. رہو گی میرے ساتھ ہی… بھلے سے اس سسکنے میں مر جانا مگر مجھ سے اب آزاد نہیں ہو سکتی…” شہروز سخت لہجے میں بولا.. تو ونیزے نے غصے سے سر ہلایا…
ٹھیک ہے… تو تم دیکھو.. میں تمھارے ساتھ بلکے میں نہیں….
تمھاری بیوی….. تمھارے ساتھ اب کرتی کیا ہے…” اسنے کہہ کر کھٹاک سے فون بند کیا جبکہ شہروز ایک لمہے کے لیے سوچ میں پڑ گیا…
یہ لڑکی لازمی کچھ غلط کرنے والی تھی… اسنے سوچا اور یونی جانے کی تیاری کی کیونکہ اسے ایک تو سسکون تھا کہ باہر گارڈ ہے وہ کم از کم باہر تو نہیں جا سکتی…
جبکہ دوسری طرف ونیزے کا غصے سے چہرہ شدید سرخ تھا.. اسنے عادی کو کال کی جس نے فٹ کال پک کی..
کہاں ہو.. آج سارا دن تمھارے ساتھ گزارنا ہے مجھے.. “ونیزے بولی تو عادی تو مارے خوشی سے پھولے نہ سمایا..
ٹھیک ہے میں پیک کرنے آتا ہوں تمھیں” اسنے کہا..
نہیں میں خود آ رہی ہوں بس تم سوسائٹی کے باہر آ جاو “ونیزے کے کہنے کی دیر تھی عادی جھٹ راضی ہو گیا…
اور ونیزے نے کال بند کر کے اپنے روم کی راہ لی… جہاں کافی بڑی کھڑکی تھی جو سیدھا دوسری طرف سے روڈ پر کھلتی تھی… یہ رزکی ہو سکتا تھا جو وہ کرنے جا رہی تھی.. مگر ناممکن نہیں تبھی اسنے… ونڈو کے باہر ایک رسی کی مدد سے اترنا شروع کیا….
اور بالآخر وہ صیحی سلامت اترنے میں کامیاب ہو گئ.. نیچے اتر کر اسنے اپنے کوٹ پر سے نہ معلوم گرد کو فخریہ انداز میں جھڑا… اور مسکراتی ہوئ اپنے گاگلزا لگا کر وہ بڑے دھڑلے سے اپنے گھر کے آگے سے گزری….
اور سامنے سے آتے عادی کی گاڑی میں سوار ہو گئ…
تمھیں ونیزے سے پنگا بہت مہنگا پڑے گا ڈئیر غیرت مند “اسنے تلخی سے سوچا.. اور عادی سے باتیں کرنے لگی جس کا چہرہ خوشی سے سرخ ہوا جا رہ اتھا..
عادی یونی چلو… میتھس ڈیپارٹمنٹ کیطرف” اسنے شہروز کے ڈیپارٹمنٹ کا نام لیا… اور گاڑی میں میوزک پلے کر دیا….
………………..
ہیلو انکل کیسے ہیں آپ “آبان نے رضا صاحب کیطرف دیکھا جنھیں زرینہ چائے دے رہی تھی وہ دونوں ہی برسو کے بیمار لگتے تھے…
ٹھیک ہوں… “رضا صاحب نے کہا اور سارا دیھان چائے کی جانب دے دیا… انھیں اسوقت آبان کی آمد بلکل اچھی نہیں لگی تھی…
فیضان بھی اپنے روم سے نکل کر باہر آ گیا…
یہ اس ایس پی کے گھر کا ایڈریس ہے انکل اور مجھے یقین ہے اب حرم وہیں پر ہے” آبان نے انھیں اطلاع دی.. اور اپنا غصہ جو اسے رضا پر آ رہا تھا پی گیا..
آبان بھائ مجھے نہیں لگتا آپکی انفارمیشن ٹھیک ہے.. تو بہتر ہے ہمیں معملہ پولیس پر چھوڑ دینا چاہیے” فیضان نے رضا کے بولنے سے پہلے کہا.. تو آبان مسکرا دیا..
کیا تم اڈیٹ ہو یہ بن رہے ہو.. وہ شخص خود اپنے منہ سے اعتراف کر چکا ہے.. اور حرم کی کیا کنڈیشن ہے اس بات سے کون نہیں واقف اسے سٹوک بھی لگ سکتے ہیں.. اگر اسے ذہنی سکون نہ ملا اور پھر انجام یہ ہو گا کہ ہمیں حرم کی جان کے لالے پڑ جائیں گے مگر یہاں… تو سب ایسے سکون سے بیٹھے ہیں جیسے حرم سے جان چھڑانا چاہتے تھے “آبان اچانک ہی غصے سے بولا.. تو فیضان کو بھی اسپر رج کر غصہ آیا.. کہ آخر وہ اسکو سنانے والا کون تھا.. پیچھلے دو ہفتوں سے وہ یونی بھی نہیں جا رہا تھا اور اب اسے ذہنی سکون چاہیے تھا تبھی وہ آبان کو اگنور کر کے.. وہاں سے اٹھا اور یونی جانے کے لیے باہر نکلا.. آبان اسکے اٹیٹیوڈ پر ضبط کرتا رہ گیا.. جبکہ رضا.. صاحم جو آبان کی باتوں سے نئے سرے سے پریشان ہو اٹھے تھے…
اب کیا چاہتے ہو کیا کرنا چاہیے “وہ بولے تو آبان کو سکون ملا..
شکر ہے بڈھا لائن پر آیا..” اسنے دل میں سوچا اور آگے کے پلین سے.. انھیں واقف کرنے لگا… مگر یہ حرکت اسے کتنی بھاری پڑنے والی تھی یہ اسکی سوچ مین بھی نہیں تھا…
…………
ونیزے میتھس ڈیپارٹمنٹ کی کنٹین میں.. عادی کے ہاتھ مین ہاتھ ڈالے.. سکون سے گھوم رہی تھی.. وہ جانتی تھی شہروز یہیں کہیں ہے.. اور بالآخر وہ کنٹین میں جا کر بیٹھ گئ..
کیا پیو گی “عادی نے سن گلاسز اتارتے ہوئے ونیزے کے سرخ ہو ٹون کو دیکھا جو بے حد حسین لگ رہے تھے…
اورینج جوس… ون گلاس پلیز.. ہم شئیر کر لیں گے” اسنے ایک ادا سے اپنے بال جھٹکے اور.. شہروز کو کال ملائ….
جو شاید لیکچر میں تھا تبھی اسکی کال پیک نہ کی.. بر حال وہ بیٹھی تو اسی کے علاقے میں تھی چارو نچار اسے باہر نکلنا ہی تھا.. اور باہر نکلتے ساتھ اسکی کنٹین پر نظر لازمی پڑتی.. کیونکہ وہ بلکل سامنے بیٹھی تھی اس روم کے جہاں شہروز لیکچر لے رہا تھا…
عادی.. تو حیرت سے.. اسکو دیکھے گیا اور پھر مسکرا کر ایک گلاس ننگا لیا جس میں دو سٹرا تھے…
ونیزے نے ایک سیپ لیا..
کیا ہوا تم نہین لو گے “اسنے پوچھا تو عادی.. نے آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا کیونکہ وہ ونیزے کی نیک سیک عادت کو خوب جانتا تھا..
کیا مین تمھیں جوائن کر سکتا ہوں” اسنے پوچھا تو.. ونیزے نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا.. اور عادی نے بھی اسی گلاس میں ونیزے کو جوائن کر لیا جبکہ ونیزے نے.. ہلکہ سا قہقہ لگایا.. اور اپنی اور عادی کی تصویر کھنچنے لگی..
جبکہ اپنی کلاس سے باہر نکلتے شہروز کے لیے یہ منظر… ایسا تھا جیسے اسے بھرے بازار میں ذلیل کر دیا گیا ہو.. ہاں وہ جانتا تھا کہ ادھر کوئ بھی انکے رشتے کے بارے میں آگاہ نہین مگر اسکی غیرت یہ ہرگیز گوارہ نہیں کرتی تھی کہ اسکی ان چاہی ہی صیحی مگر اسکی بیوی.. کسی اور مرد کے ساتھ یوں عیاشی.. کرے وہ.. مٹھیاں بھینچ یہ نظارہ دیکھ رہا تھا جبکہ اب.. ونیزے کی بھی نظر اسپر پڑ چکی تھی.. ونیزے نے بنا بات کے ایک قہقہ لگایا… جو شہروز کو سرا سر خود پر محسوس ہوا.. اور وہ عادی کے لیپس پر لگا جوس.. اپنی انگلی کی پور سے صاف کرنے لگی…
شہروز کا ضبط جواب دے رہا تھا.. مگر.. وہ ونیزے کی خواہش.. پورا کرنے والا بلکل نہین تھا.. یہ عورت چاہتی ہی یہ ہی تھی کہ.. وہ اسے.. سب میں اٹھا کر لے جائے… اور سب پف انکا رشتہ واضح ہو.. مگر شہروز اسے اس قابل بلکل نہیں سمجھتا تھا.. اسنے اپنے سن گلاسز.. آنکھوں ہر لگائے.. اور وہاں سے نکلتا چلا گیا.. چونکہ اب کوئ لیکچر نہین تھا اور وہ بلکل فارغ.. تھا.. تبھی اسنے ونیزے کے گھر کی راہ لی تا کہ.. اس فارغ عورت کے حواس ٹھکانے لگائے..
کیونکہ وہ اپنی ان چاہی چیزوں مین بھی کسی کا شئیر برداشت نہیں کر سکتا تھا.. مگر اس گھٹیا لڑکی سے شہروز کو شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی…
……………
ونیزے نے اسے جاتے ہوئے دیکھا… تو.. جلدی سے سڑا سے اپنے لیپس کو چھوڑا… اور شہروز کی پشت دیکھنے لگی… کیا اس کے لیے یہ بات اتنی چھوٹی تھی..
ونیزے کو پہلے حیرت جبکہ اسکے بعد شدید غصہ آیا…
اور وہ بغیر کچھ کہے وہاں سے اٹھی اور عادی کی گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ بھی وہاں سے نکل گئ جبکہ عادی ارے ارے کرتا رہ گیا….
وہ بہت تیز ڈرائیو کر رہی تھی.. اب اسک دل کسی بھی چیز مین نہیں لگ رہا تھا..
کہ سپیڈ سے ڈرائیو کرنے کی وجہ سے وہ روڈ کراس کرتے آدمی سے ٹکرائ… …
اسنے ٹائیرز کو بریک دی.. اور جلدی سے باہر نکلی اس وقت اسکا دل بہت تیز سپیڈ میں دھڑک رہا تھا…
کم بخت… تجھے نہین چھوڑو گی.. میرے شوہر کو تو مارنا چاہتی تھی “وہ عورت ہلک کے بل چلائ.. تو ونیزے.. اس سے دور ہوئ..
دیکھیں آنٹی” وہ ابھی کچھ بولتی کہ اس عورت نے ونیزے یزدانی…
ہاں ونیزے یزدانی کے منہ پر تھپڑ دے مارا…
سالی.. آنٹی ہو گی تیری ماں.. تو مجھے آنٹی بولے گی.. تیری اس سوکھے بدن کے ٹکڑے کرا کر… بازاروں میں بیچ دوں گی” نہ جانے وہ کون تھی مگر جو بھی تھی.. ونیزے اسکی اس جرت ہر.. ہونق کھڑی تھی..
وہ نہین جانتی تھی اس وقت اسکی آنکھیں سرج ہو رہیں تھیں جن سے پانی خودبخود نکل رہا تھا…
بی بی… حوصلہ کرو… بچی ہے” آبان جو ٹریفک جام دیکھ کر با ر نکلا تھا یہ نظارہ اسنے شوق سے دیکھا.. اور پھر ونیزے.. کا ہاتھ تھام کر.. اسپر اپنی انگلیاں رگڑتے ہوئے.. وہ بولا تو ونیزے کرنٹ کہا کر اسکی اس حرکت پر دور ہوئ..
جبکہ آبان نے پھر سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا.. جبکہ ایکسیڈنٹ ہوئے بزرگ آدمی کو نہ اسکی بیوی دیکھ رہی تھی نہ کوی اور..
چپ چاپ کھڑی رہ…اگر تو چاہتی ہے پولیس کیس نہ بنے “آبان نے آنکھیں نکال کر ونیزے کو دھمکایا…
ونیزے.. کو اسوقت کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا…
ابے کوئ پولیس کو بلائے گا.. میرے شوہر کا قتل کیا ہے اسنے” وہ عورت پر سے بولی…
وہ.. وہ زندہ “ونیزے نے کچھ بولنا چاہا… مگر آبان.. نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے چل کرایا.. وہ شخص اس لڑکی کو چھو چھو کر عجیب حرکتیں کر رہا تھا…
ونیزے کو محسوس ہوا.. وہ اسے . غلط طریقے سے چھو رہا تھا.. اس وقت.. اسے شدت کا رونا آیا پہلی بار. وہ اس قسم کے لوگوں سے ٹکرائ.. تھی
کھڑی رہو کہا نہ چپ.. “آبان نے پھر سے کہا..
شیٹ آپ.. چھوڑو مجھے گھٹیا انسان” ونیزے چلا کر اس سے الگ ہوئ جبکہ آبان نے گھور کر اسے دیکھا…
بی بی یہ اسی قابل ہے پولیس کو بلاو.. بلکہ بلاو کیوں9 بندہ مارا ہے اس نے… اسے خود لے کر چلیں گے…
آبان نے غصے سے کہا حقیقتاً اسکا دل آ چکا تھا ونیزے پر اور وہ اسے بھلا پھسلا کر کم از کم آج کی رات.. اسکے ساتھ رہنا چاہتا تھا.. مگر یہ لڑکی… شاید اسکے قابو نہیں آنے والی تھی تبھی وہ.. ونیزے کے بازو پکڑے.. اس عورت کے ساتھ.. پولیس اسٹیشن کی جانب چل دیا.. ونیزے ہیلپ ہیلپ چلاتی رہی مگر کسی نے اسکی مدد نہ کی.. اور وہ اسے گاڑی میں ڈال کر نکل گئے…
…………..
وہ ابھی پولیس اسٹیشن سے نکلنے ہی والا تھا.. کہ.. ایک عورت اپنا سینہ پیٹتی ہوئ اندر داجل ہوئ.. اسنے ناگواری سے اس عورت کو دیکھا.. جبکہ اسکے پیچھے آبان اور آبان کے ہاتھ میں ونیزے کا ہاتھ دیکھ کر اسکا خون کھول گیا….
آبان مسکراتا ہوا اسکے نزدیک آیا….
صاب… مار دیا اس کم بخت نے مارے شوہر کو “وہ چینخی تو شاہ میر نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا.. اور پھر آبان کی جانب ایک نظر اسنے روتی ہوئ ونیزے پر بھی ڈالی..
صفدر چیک کرو.. آدمی زندہ ہے” اسنے بے لچک لہجے مین کہا..
جی سر زندہ ہے “صفدر نے بتایا…
ہسپیٹل لے جاو” اسنے کہا.. اور اس عورت کے ہاتھ میں پیسے رکھ کر اسے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا..
بڑے کھلاڑی ہو تم” آبان ونیزے کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا.. جبکہ وہیں اسکا ہاتھ شاہ میر نے جکڑ لیا..
ارے ارے… حرم سے دل بھر گیا جو.. اب یہاں چکر چلانا ہے.. اچھا چلو فٹی فٹی…. ” وہ خباثت سے ہنسا.. جبکہ ونیزے بری طرح رو دی.. یہ سب کیا ہو رہا تھا….
جبکہ شاہ میر کی آنکھوں سے اسے خوف بھی آ رہا تھا…
دفع ہو جا” شاہ میر نے بس اتن آہی کہا..
آہ میں ڈر گیا “آبان نے قہقہ لگایا…
تیرے منہ مجھے لگنا بھی نہیں.. او گا حرم کو لینے…” اسنے جیسے وارن کیا.. شاہ میر نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا…
تو آبان دانت پیس گ لگا..
اور ونیزے کیطرف دیکھا…
روتی ہوئ ل٤کی بہت اٹریکٹ کرتی ہے “وہ پھر اپنی خباثت ہر اترا.. شاہ میر نے اسک گریبان پکڑا… اور…
باہر دھکا دیا…..
اپنی ٹانگیں سلامت چاہیے تو.. اب مت یہاں نظر آنا” اسنے وارن کیا.. اور جبکہ آبان… اسے گھورتا ہوا.. وہ سے چلا گیا..
شاہ میر نے ونیزے کا ہاتھ اپنی فولادی گرفت میں جکڑا…
اور بغیر کچھ بولے…
اسے لیے… وہ گاڑی میں سوار ہوا.. بیس منٹ کا رستہ دس منت میں طے کر کے.. وہ.. اسی طرح دندناتا ہوا.. اندر آیا…
تو وہ سب.. چائے پی رہے تھے… جبکہ حرم شید انھین کچھ بتا رہی تھی.. شاہ میر کا غصے سے خون کھول رہا تھا.. اپنے بھائ کی لاپرواہی پر.. اسنے آگے بڑھ کر… شہروز کا گی ان جکڑا.. جو ابھی بات سمجھتا ہی کہ.. شاہ میر نے اسکے منہ پر مکہ جڑ دیا…
اگر غیرت مند مرد ہو.. تو اگلی بار یہ اس حولیے میں اس گھر کی دہلیز پار نہ کرے.. ورنہ مجھ سے برا کوی نہیں ہو گا… “ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے.. وہ چلایا…
سب ہونق کھڑے تھے جبکہ ونیزے … کا بس نہیں
چل رہا تھا وہ کہیں غائب ہو جائے اتنی توہین….
شاہ میر نے ونیزے کا ہاتھ جھٹکا.. اور حرم.. کی کلائ پکڑ.. کر اسے اوپر اپنے روم کی جانب.. لے گیا…
…………………..
جاری ہے