128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

پیاس سے اس شخص کے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے جبکہ بے حساب بھوک نے اسکی جان کو بے جان کر رکھا تھا….
پانی”ہلکے سے لفظ بڑبڑاے مگر اسے محسوس ہوا.. یہاں اسکو سننے والا کوئ نہیں اندھیرے.. سے اسکا سر درد بڑھنے لگا.. تھا.. وہ جھنجھلا گیا وہ تو اسلامہ آباد ایئرپورٹ پر.. کراچی جا رہا تھا.. تو وہ یہاں کیسے تھا..
اسنے جھنجھلا کر اپنیے رسیوں مین جکڑے بازوں کو آزاد کرنا چاہا.. مگر.. بازو.. آزاد نہ ہوے الٹا اسے شدید درد ہوا…
کوئ ہے “وہ غصے سے چینخا…
کیا مصیبت ہے پانی دو مجھے” وہ اپنا خشک گلہ تر کرتا…
بولا تو آواز ٹوٹ سی گئ…
اب بھی کوئ جواب نہ ملا تو وہ زور زور سے چئیر جھلا کر ہمت کرتا اپنی آنکھیں.. کھول کر.. اس اندھیرے مین کچھ ٹٹولنے لگا…
کوئ ہے “وہ پھر سے چینخا….
فکر مت کرو.. تمھاری موت تمھارے پاس ہے “سرد بے لچک آواز اپنے عقب سے سن کر.. وہ اس آواز کو فورا.. پہچان گیا….
…گالی…… “وہ بری طرح اسکی آواز پہچان کر گالیاں بکنے لگا.. کہ… شاہ میر کے پڑنے والے مکے نے اسکے الفاظ منہ میں ہی توڑ دیے….
میرے باپ کو… قید کرنے والا تو کون ہوتا ہے “وہ اسکا جبڑا پکڑتا پھنکارہ جبکہ آبان.. حیرت سے اسے دیکھنا چاہتا تھا.. مگر افسوس.. اندھیرے کے باعث وہ دیکھ نہ سکا…
باپ” وہ بربڑایا.. اور پھر زور سے ہنسنے لگا.. جبکہ شاہ میر نے اس اندھیرے مین سگریٹ کے شعلے کو.. ہوا.. دی…
اندھیرے مین ہلکی سی روشنی… آبان اب بھی ہنس رہا تھا..
وہ باپ جس نے تجھے تیری ماں کو.. سب کو.. نکال دیا گھر سے.. کمال محبت ہے بیوی کے بجایے باپ کو… پوچھ رہا ہے “وہ پھر سےہنیسنے لگا.. جبکہ اپنی ہنسی مین وہ اپنے گال کے پاس آتا.. وہ شعلہ دیکھ نہ سکا.. مگر.. جب وہ شعلہ اسکے ہونٹوں کو لگا تو وہ بری طرح تڑپا.. اپنا منہ جھٹکنا چاہا مگر.. شاہ میر نے اسکا جبڑہ پکڑ کر.. اسکے ہونٹوں کو بری طرح جھلسا دیا….
پھر اسی طرح.. وہ اسکے گالوں… مین بھی اس شعلے سے کئ چھید کر چکا تھا. .
جبکہ آبان کی تڑپ دیکھنے لائق تھی..
اور اچانک.. روشنی جلی.. تو.. چہرے پر… جلن کے احساس کے ساتھ آنکھوں میں بھی چبھن ہوئ…
یہ تیرا مسلہ نہیں.. اسنے میرے ساتھ کیا کیا… کیونکہ بدلے کے بغیر میں کسی کو چھوڑتا بھی نہیں..
تیرا مسلی یہ ہے.. کہ تو.. اسکو قید کرنے ولا کون تھا… “شاہ میر نے وہی سگریٹ منہ میں لے کر تسلی سے استفسار کیا تو اب آبان اسکامزاق نہ بنا سکا…
وہ جان گیا تھا میں حرم کو بیچنا چاہتا ہوں” وہ اٹک اٹک کر بولا.. کیونکہ اسکی آنکھوں سے.. جلن کے باعث متواتر آنسو بہہ رہے تھے…
اچھا…. “شاہ میر نے.. سگریٹ کا دھواں اسکے چہرے پر چھوڑ.. کھانسی سے اسکے گلے پر کانٹے پڑنے لگے…
تجھے کیا لگتا ہے… میری بیوی کو تو بیچ دیتا.. اور میں ہاتھ پر ہاتھ باندھے بیٹھا ہوتا” اسنے اب بھی سکون سے پوچھا….
آبان ڈھیٹائ سے مسکرایا…..
کمال ہے.. جس بیوی کے سر پر موت سوار ہے جس کے اگلے پل کا نہیں پتہ اس سے اتنی عشقی…. ویسے… اب بھی موقع ہے…
ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی دوں گا.. اس بیمار میں کیا…………
ٹھا ٹھا ٹھا…”
فضول بول رہا تھا… “شاہ میر نے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلہ…. اور سامنے پھٹی آنکھوں سے اسکو گھورتے وجود کو دیکھا..
اسکے منہ سے خون فوارے کیطرح بہہ رہا تھا.. جبکہ.. گردن سے نکلتی گولی نے.. کرسی میں بھی تین سراخ کیے تھے….
…………
وہ آج دو ہفتوں بعد گھر آیا.. تھا خان ہاوس.. کے سامنے گاڑی روکنے پر.. اسے معلوم تھا.. آج اندر.. اسکے ماں باپ.. پیچھلے دو ہفتوں سے ایک چھت تلے ہیں…
وہ جانتا تھا اسکی ماں.. اس سے خفا ہو گی..
وہ جانتا تھا.. وہ اس شخص کو ایک پل بھی مزید اس گھر مین اپنی موجودگی مین برداشت نہیں کرے گا…
وہ جانتا تھا.. اسکا بھائ شدید غصے مین ہو گا.. جبکہ اسکی بہن..
شاید جان چکی ہو گی.. کہ اسکا باپ کون ہے….
وہ یہ بھی جانتا تھا….
وہ بے وفا بھی اس چھت کے نیچے ہو گی آج… جس چھت کے نیچے.. اسنے نے زبردستی.. شاہ میر کو خود سے محبت کرنا سیکھائ…
اپنے وجود مین ہمت مجتمع کرتا.. وہ گاڑی سے نکلا…
اور اندر کی جانب چل دیا..
ان سب کو رضا ہاوس سے نکال کر خان ہاوس مین رکھنے کی وجہ بس اتنی تھی کہ.. وہ.. جو اپنے غصے اور جلد بازی کے باعث.. ان دونوں کو مار چکا ہے
.. کہیں انکے پیچھلے… آٹھ کر نہ آ جائیں… جبکہ خان ہاوس کی ایک ایک دیوار… بولٹ پروف.. اور شدید سیکورٹی کے زیر اثر تھی…
وہ یہ ہی سوچتا اندر بڑھنے لگا…
تو اسے لاونج میں کائ نہ دیکھا.. حالانکہ.. دوپہر کا وقت تھا.. اور اسکی ماں انکے آنے کے بعد.. اپنے روم میں جاتی تھیں.. اسکے علاوہ… وہ ہمیشہ لونج مین موجود ایک خوبصورت تخت پر.. یہ اپنے گھر پر استحقاق سے چلتی پھرتی نظر آتی تھیں…
اسکے دل جیسے پہلے ہی مٹھی میں جکڑ چکا تھا…
وہ اماں کے کمرے کی جانب بڑھا…
اور ہلکی سی دستک دے کر…
وہ اندر داخل ہوا…
تو.. شانزے اور اماں.. دونوں کمرے میں دیکھیں…. .
اسنے اماں کی جانب دیکھا.. جنھوں نے ایک نظر اٹھا کر اسکو نہیں دیکھا.. تھا.. جبکہ شانزے بھی.. اپنی جگہ سے نہ ہلی..
وہ کیسے بتاتا.. وہ سب سمبھال سمبھال کر تھک چکا تھا…
اور اب.. انکی ناراضگی وہ کبھی برداشت نہ کرتا…
وہ.. ہارے ہوئے قدموں سے ان تک پہنچا.. اور.. انکی ٹانگوں کے پاس بیٹھ گیا…
زمین پر…
اماں کے وجود نے.. ہلکی سی جنبش کی….
وہ جانتی تھیں…. اسکی اندرونی کیفیت کو…
مگر.. وہ اس کو مخاطب نہیں کرنا چاہتی تھیں…
آپکی یہ خاموشی میرے حوصلے توڑ دے گی “وہ انکی گود میں سر چھپاتا… بولا.. تو ونکے دل کو کچھ ہوا…..
آپ مجھے برا بھلہ کہیں کچھ بھی کہیں مگر اسطرح خاموش نت ہوں” مدھم آواز میں بولتا.. وہ انکی پلکیں نم کر گیا…..
کیوں کہو گی میں تمھیں برا بھلہ “اماں نے بالآخر اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرہ…..
اسنے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا مگر بولا کچھ نہیں…
جو تمھیں ٹھیک لگا تم نے وہ کیا….. جو ااگے تمھیں ٹھیک لگے تم وہ کرو “وہ نرم لہجے میں بولیں… رو اسنے انکے ہاتھ تھام لیے…
میں نے… اس شخص کو یہاں رکھ کر آپکو تکلیف پہنچائ ہے…
وہ صرف ایک مجبوری کے تحت تھا.. مگر اب ایسی کوئ مجبوری نہیں….
میں مزید اسے.. یہاں رہنے ہی نہیں دو گا” وہ انھیں جیسے یقین فلا رہا تھا….
اماں کے لب مسکرا دیے..
جانتے ہو اس وقت ایک چھوٹے سے بچے لگ رہے ہو.. جس کا دل کچھ اور کہہ رہا ہے.. اور زبان ماں کے خوف سے کچھ اور بول رہی ہے” انھوں نے اسکے روشن چہرے کو دیکھا… وہ خاموشی سے انھیں دیکھنے لگا…
اگر میرا بیٹا.. رضا خان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے.. یہ اسکی موجودگی میں پرسکون ہے…
وہ بے چینی… جو.. شاہ میر کا وجود بچپن سے برداشت کر رہا ہے.. اگر.. وہ سب… ختم ہوتا کے.. تو مجھے کوئ اعتراض نہیں…
تم جو چاہو کرو…. “اماں کے کہنے کی دیر تھی.. وہ چہرے… پر.. آیا پسینہ.. صاف کرتا.. ان سے دور ہوا….
یہ ناممکن ہے….” اسنے بس اتنا کہا.. اور کھڑا ہو گیا….
اور ایک نظر شانزے کو دیکھا….
وہ اسی کیطرف دیکھ رہی تھی….
وہ نہیں جانتا تھا دو ہفتوں میں کیا کیا ہوا تھا…
وہ باہر نکلا.. تو اماں بھی اسکے پیچھے ہی نکلیں..
شاہ میر…. سوچ سمھجہ کر.. کرنا جو بھی کرو” اماں نے کہا تو… اسنے… بغیر کچھ کہے.. گیسٹ روم کا دروازہ کھولا…
وہ بستر پر… پڑے کافی بیمار لگ رہے تھے…
اب تمھاری مدت ختم ہو گئ ہے جاو یہاں سے” اسنے سختی سے کہا… رضا نے اسکی جانب دیکھا.. ان دو ہفتوں میں وہ یہی گیسٹ روم مین پڑا تھا… اسکی حالت بلکل اچھی نہ تھی…
جبکہ زرینہ کی بھی ہمت نہ تھی ونیزے ہی انکو.. کھانا دے جاتی.. وہ دونوں طپ سے ہو گئے تھے… کہنے کے لیے کچھ بچا بھی تو نہیں تھا
وہ نم آنکھوں سے اسکی جانب دیکھ رہے تھے.. جو آنکھیں چرائے کھڑا تھا….
شام تک تمھارا وجود مجھے اس گھر مین نظر نہ آئے.. “وہ کہتے ساتھ ہی پلٹا.. اماں دروازے کی باہر.. کھڑیں.. اس شخص… کو آج بے بس دیکھ رہیں تھیں جو.. کبھی… اپنی انا غرور میں انھیں روند گیا تھا.. انکے بچوں کو روند گیا تھا.. آج انکے ہی گھر پر پڑا.. وہ بے بس لاچار تھا….
م… معاف کر… دو مج.. مجھے” بولتے ہوئے انکا آنسو گالوں پر لڑھک آیا تھا… جبکہ زرینہ اب بھی سر جھکائے بیٹی تھی…
معاف” وہ پلٹا…
معاف کر دوں……
جانتے بھی ہو یہ لفظ کیا ہے….. اس لفظ کی اہمیت بھی جانتے ہو … جانتے ہو یہ چار لفظ ہماری گزشتہ.. زندگی میں موجود کانٹوں کو کبھی نہیں ختم کر سکتے.. اسی… لیے.. اپنا منہ بند کرو.. اور چلے جاو یہاں سے… اور ہاں.. اپنی چہیتی کو بھی لیتے جانا “وہ غرایا… اور باہر نکل گیا…
شاہ میر….. ” رضا کی بے بس آواز ابھری مگر اسنے پلٹ
نہیں دیکھا…
جبکہ اب رضا صاحب کی نگاہ… اماں پر اٹھی.. سرخ بے بس آنسوں سے تر آنکھیں اماں کا دل دہلا گئیں
جبکہ رضا کے کانپتے ہاتھ جڑتے دیکھ کر…. ان سے وہان کھاڑ ہونا… بہت مشکل تھا…
وہ دل پر ہاتھ رکھ کر پلٹ گئیں….
اس شخص کو ایسے دیکھنا…
انکے لیے مشکل تھا…. ہمیشہ اسکو چھایا ہوا پایا تھا.. اور آج….
وہ نرم دل کی خاتون تھیں… فورا شاہ میر کے پیچھے لپکیں.
. کہاں ہے وہ”اسنے حرم کے بارے میں پوچھا…
اسکی طبعیت ٹھیک نہیں ہے شاہ میر… تم کیا کرنے والے ہو”
شانزے بھی لاونج میں کھڑی تھی.. جبکہ شہروز جو ابھی ابھی آیا تھا بغیر شاہ میر کو دیکھے وہاں سے گزر کر اپنے روم میں چلا گیا…
اس آدمی کے لیے وہ اپنے رشتے نہیں کہو سکتا تھا اسنے کرب سے شہروز کی بے رخی دیکھی….
اور بس وہ پھر سب بھول گیا….
وہ دندناتا ہوا.. دوبارہ رضا کے کمرے کی جانب پلٹا.. دھاڑ سے دروازہ کھولا….
زرینہ رضا کے پاس بیٹھی تھی….
شاہ میر رک جاو”اماں نے اونچی آواز میں اسے روکا.. جبکہ اسکے دماغ مین ایک منظر لہرایا…
اسنے.. رضا کی… کمزور.. بازوں کو جکڑا….
اور ایک جھٹکے سے اٹھایا…
بیٹا ان کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ہم چلے جائیں گے” زرینہ… بولی… جبکہ شاہ میر تو جیسے بھرہ ہو گیا….
اسنے کھنچتے ہوئے.. رضا کو کمرے سے نکلا…
زرینہ بھی اسکے پیچھے ہی نکلیں…
شاہ میر مین کہتی ہوں چھوڑو ہاتھ” اماں چینخی… اور اسی چینخوپکار پر شہروز بھی باہر نکل آیا… اور ونیزے بھی….
جبکہ شاہ میر کے کمرے کا دروازہ کھلا.. تھا…
اور جب حرم نے یہ منظر دیکھا… تو.. وہ شاہ کر بھی خود کو روک نہ پائ.. اور دوڑتی ہوئ.. وہ وہاں سے نکلی..
رضا اسکے بازو میں اپنی بازو دیکھ کر.. بہت پیچھے گزرے ایک منظر کو یاد کرنے لگے…
اسی طرح اس عورت کو… انھوں نے گھر سے بے دخل کیا تھا….
تمھارے لیے میں اپنے رشتوں کو نہیں کہو سکتا….
اور تمھارا وجود اس گھر میں کس قدر عزیت کا باعث ہے مجھے گزرے ایک گھنٹے مین انداز ہو گیا.. “اسنے ایک جھٹکے سے گھر سے باہر.. رضا کو دھکا دیا جو زمین پر گیرے…
شاہ میر….” اماں کے لب پھڑ پھڑاے.. جبکہ زرینہ روتی ہوئیں رضا تک پہنچی..
ابھی کوئ کچھ کرتا ہی کہ.. حرم بھی زمیں پر پڑے.. رضا تک پہنچی…
گیرنے کے باعث رضا کی کہونی بری طرح چھلی تھی…
آپ ٹھیک ہیں” حرم کی آواز کانپ گئ.. جبکہ رضا کی آنکھیں بھیگی.. ہوئ سی.. اماں کے چہرے پر تھیں….
چاچو پلیز بتائیں.. آپ ٹھیک ادھر دیکھیں آپکو چوٹ لگی ہے” وہ بری طرح رو رہی تھی..
جبکہ زرینہ بھی…
لالا یہ کیا کیا ہے آپ نے “سب سے.. پہلے اس جانب سے آواز آئ.. جہاں سے اسکا وہم و گمان بھی نہیں تھا…
شانزے.. نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی…
چپ ہو جاو شانزے “شہروز نے شاہ میر کی آنکھوں.. مین گزرے وقت کی کرچیاں دیکھ اسے ٹوک دیا…
ہمیں معاف کر دیں… “زرینہ نے.. ان سب کے سامنے ہاتھ جوڑے..
ہم چلین جائیں گے کہاں سے “وہ سسکی…
تو اماں کا کلیجہ انکی بے بسی پر منہ کو آیا….
رضا… صاحب ہمت کرتے اٹھے…
اور اماں کی جانب بڑھے..
بغیر کچھ کہے وہ انکے آگے ہاتھ جوڑ چکے تھے..
گزرا وقت میں لوٹا نہیں سکتا….
میں محسوس کر سکتا ہوں… تمھاری تکلیف کو…
آج وہی تکلیف ہوی ہے مجھے… مگر برا نہیں لگا…
جب جب اسکی طرف دیکھتا ہوں اپنا آپ دیکھائ دیتا ہے….
ایسا لگتا ہے…. وقت پلٹ آیا… اور ایک اور رضا کھڑا ہو گیا ہے…
میں گنہگار ہوں تمھارا….
میں جانتا ہوں معافی کے لفظ…. تمھاری اس تکلیف کو.. جو تم نے ایک شوہر کے بغیر کاٹی کم نہیں کر سکتے… مگر پھر بھی.. آج تمھارے در پر کھڑا تم سے معافی مانگ رہا ہون..
میرا بوجھ ہلکا کر دو… میری ماں بھی تڑپ تڑپ کر مار گئ…
تمھاری بدعا ہمیں برباد کر گئ. نمم”وہ سسکے…
میں نے کبھی بدعا نہیں دی” انکے لب بے ساختہ ہلے….
میں چاہ کر بھی تمھیں یہ نہیں کہہ سکتا.. کہ.. میں اپنی اولاد کے ساتھ رہنا چاہتا.. ہوں انھیں محسوس کرنا چاہتا ہوں…
نہیں.. اب مجھے.. اپنی مرضی نہیں چلانی.. تم مجھے معاف کر دو.. میرے وجود پر پڑے.. اس وزن کو دور کر دو…
میں تمھارا احسان مند رہو گا “
وہ نہیں جانتیں تھیں وقت اسطرح بدلے کا.. اس پھرپور مرد کا رونا.. بس اپنی حاکمیت چلاتے انھوں نے انھیں دیکھا تھا.. اور آج.. قسمت نے وہی چوٹ.. انکو ماری.. تھی..
میں.. میں نے آپکو معاف کیا” انکے سسکتے اپنے قدموں میں پرڑے وجود.. کو.. وہ دیکھتی بولیں..
میرا اللہ بھی آپکو معاف کر دے…” وہ مدھم آواز میں بولیں..
اماں”شاہ میر چلایا.. یہ سب کیا ہو رہا تھا.. اتنی عزیتوں کے بعد.. یہ سب… صرف چند گھنٹوں میں…
شاہ میر.. ” اماں اپنے آنسو صاف کرتیں.. سختی سے بولیں…
مزید مین تمھاری کوئ بدتمیزی برداشت نہیں کروں گی.. میں نہیں چاہتی ایک اور رضا جنم لے… اپنی خدسری اور طاقت کے سبب…
اور قسمت.. ایک اور رضا.. کو.. توڑ دے… نہیں چاہتی میں ایسا… میرے اللہ نے ہمیں سب کچھ دے دیا شاہ میر.. ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں میرے بچے.. “انھوں نے اسکا چہرہ تھاما…
معاف کر دینے.. والے سے تو اللہ بھی راضی ہوتا ہے…”
میرا ان سے ایسا کوئ تعلق نہین کے میں معافیان.. تلافیاں کراو…
اور شاید یہ آپکا.. پہلا حکم ہے جو میں اپنی آخری سانس تک نہین مانو گا.. “
وہ انکے ہاتھ ہٹا کر خفگی سے دیکھتا.. وہاں سے چلا گیا…
جبکہ امان جانتی تھیں.. شاہ میر کو شاید منانے میں عرصہ لگ جائے.. وہ اپنی بات سے ہلتا جو نہین تھا..
.. انھوں نے شہروز کو دیکھا..
کیا تم بھی.. ماں کی نافرمانی کرو گے” اماں کی آواز پر اسنے سر اٹھایا….
جو تکلیف ہمیں ملیں.. انکے ہوتے ہوئے… وہ بھلا دینا ممکن نہیں.. آج بھی وہ پل یاد کر کے.. روح کانپ اٹتی ہے…
میرا ان سے ایسا کوئ جزباتی رشتہ نہیں….. تو معاف کر دینا.. یہ نہ کرنا… کوئ معنی نہیں رکھتا…” وہ.. مدھم لہجے مین کہہ کر وہاں سے ہٹا… تو ونیزے بھی اسکے پیچھے گئ.. وہ جانتی تھی اسے اسکی ضرورت ہے….
جبکہ اب اماں شانزے کو دیکھ رہین تھین.. جو سرج آنکھوں سے کانپ رہی تھی…
باپ کو کبھی نہ اسنے دیکھا.. نہ کبھی.. اسکا لمس محسوس کیا…
اسے سمھجہ نہیں آ رہا تھا کیا کرے..
رضا.. دونوں بیٹوں کا فیصلہ سن چکے تھے.. جبکہ.. اس چھوٹی سے لڑکی کو دیکھ کر انکی انکھین.. اپنے ظلم پر پھر سے بھیگی تھیں..
وہ اس کے پاس چلتے ہوئے آیے… شانزے نے انکی جانب دیکھا.. اسکے حلق میں آنسو پھنس چکے تھے…
رضا صاحب.. نے.. اسکے ہاتھوں کو تھاما… اور اپنے لبوں کو لگا.. کر بری طرح سسکے…
کہ وہاں کھڑے.. سب.. اشک بار ہو گئے.. جبکہ شانزے بھی ہچکیاں لے رہی تھی…
میری بیٹی.. “وہ اب اسکے ماتھے کا بوسہ لے رہے.. تھے…. اور بس اسکا ضبط جواب دے گیا.. وہ انکے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی.. جبکہ رضا.. بھی اسکے شانے پر سر رکھ کر رو رہے تھے..
کاش وہ ظلم نہ کرتے.. تو آج زندگی مین اتنی بے چینی نہ ہوتی…
ہاں البتہ.. انھیں اپنے بچوں سے زیادہ اس عورت… کی بڑائ.. پر حیرت تھی.. اتنے زخم صرف اس شخص کے ہاتھون کھا کر وہ آج اسے معاف کر گئ تھی..
…………
4 ماہ بعد…….
آٹھ ماہ مین وقت نے.. کافی کروٹیں لے لین تھیں..
شاہ میر تو اس دن کے بعد سے کبھی خان ہاوس آیا ہی نہیں…
اسکی پوسٹنگ لاہور مین ہو گئ تھی.. یہ اسنے کروا لی تھی…
یہ بات کوئ نہین جانتا تھا.. ہان البتہ پیچھے بہت کچھ بدل چکا تھا..
رضا.. صاحب.. شانزے کی ضد پر.. انکے ساتھ پیچھلے آٹھ ماہ سے رہ رہے تھے.. اور جتنا سکون جتنی انسیت.. جتنی اپنائیت انھین یہان میسر تھی اتنی رضا.. ہاوس میں کبھی نہ ملی تھی…
فواد.. بھی اپنی فیملی.. کے ساتھ اکثر یہاں آ جاتے.. جبکہ زرینہ…
جو کہ رضا ہاوس میں رہنا چاہتی تھی..
اس وجہ پر کہ.. وہ اب. رضا کو.. انکی پہلی بیوی کے پاس.. چھوڑ دینا چاہتی تھیں.. مگر اماں کو.. اس بات کا علم ہوا تو.. انھوں نے… سہولت سے… اپنے اور رضا کے رشتے کے درمیان حائل دیواروں کے بارے مین انھیں آگاہ کر دیا..
میرا اور تمھارے شوہر کا.. تعلق کبھی اس نوعیت کا نہین رہا جس میں ہماری مرضی شامل ہو…
اور آج تم میرے لیے اپنے شوہر کو چھوڑو…. یہ.. کم ازکم مجھے منظور نہیں.. مین ایسے ہی اپنے بچون جے ساتھ خوش ہو‌.. وہ یہاں ہے.. یہ نہیں میرے لیے برابر ہے.. میں شوہر کی حیثیت سے انھیں.. قبول نہین کر رہی.. اپنے بچوں کے باپ کی حیثیت سے قبول کر چکی ہوں”انھوں نے کہا تو زرینہ اس عورت کے حصلے ہر حیران رہ گئیں…
اور اسکے بعد.. زرینہ بھی.. وہین رہ رہین تھیں.. شانزے تو… رضا.. کے ساتھ چیپک ہی گی.. تھی جبکہ رضا.. بھی جیسے نئے سرے سے تازہ دم ہو گئے تھے..
اسکے علاوہ.. شہروز جو شروع شروع مین.. ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا ان آٹھ ماہ میں بس اتنا فرق آیا تھا.. کہ…
وہ اب انکی بات کا جواب دے دیتا.. یہ وہ جہان بیٹھے ہوتے وہاں سے آٹھ کر غائب. نہ ہوتا..
اور یہ بھی رضا.. کی انکی زندگی مین انولمنٹ سے ہوا.. تھا.. کہ وہ خود اسکی بے رخی کے باوجود… اس سے بات کرتے رہے…
جبکہ اماں .. کا احترام… انکی آنکھوں میں دیکھتا تھا…
اماں ان سے کم ہی مخاطب ہوتیں تھیں.. مگر.. وہ جب بھی.. بولتے تو ایک مشکور.. سا انداز ہوتا…
ان آٹھ ماہ میں کئ بار.. شہروز.. جب جب اپنے لالا کو یاد کر کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا… ونیزے ہر دم اسکے ساتھ اسکا بازو بن کر کھڑی رہی.. جبکہ وہ.. کبھی اسکے شانے پر.. یہ کبھی اسکے وجود.. پر.. اپنی تکلیف.. اور غم نکالتا رہا..
جس سے. ان دونوں کے درمیان ایک کھوکھلا رشتہ.. آج کافی مظبوطی اختیار کر گیا تھا.. کچھ اسطرح.. کہ. جو ونیزے کی خواہش تھی. کہ شہروز.. اس سے محبت کرے تو.. آج.. وہ ہی الفاظ جو اسکے کان. سننا چاہتے تھے.. وہ اسے پل پل بولنے لگا.. تھا. اور اس مین سراسر ونیزے کا اپنا ہاتھ اور اپنی محنت تھی جس کا صلہ اسکے رب نے اسے بڑا خوبصورت دیا تھا…
اسکا صبر.. اس بے پرواہ شخص کو اسکا کر چکا تھا…
جبکہ دوسری طرف ایک حرم تھی…
جس کی شوجی شرارتی سب مانند پڑ گئیں تھیں…
وہ سب سے معافی مانگ کر.. دوبارہ الان امقام ان سب کی نظروں میں حاصل ضرور کر چکی تھی مگر.. وہ جس کو دن رات یاد کر کر کے.. اسکی آنکھیں سوج جاتین تھین.. وہ ایسا ناراض ہوا تھا.. کہ پلٹ کر آیا ہی نہین..
جبکہ وہ جانتی تھی.. وہ امان.. اور شہروز سے رابطے مین ہے اور یہ بات اسے ونیزے نے بتایا گھی..
وہ تو وہ خبر سن کر بھی نہین پلٹا.. تھا.. جو وہ اپنے بھائ.. سے پہلے سننے چاہتا تھا…
ہاں حرم… پانچ کی سے… اسکی نشانی.. کو خود مین سینچے پھیر رہی تھی.. مگر.. اسکی یاد اسکے.. دل کو.. اکثر… بے حد کمزور کر دیتی.. کہ.. اسکی میڈیسن.. ڈبل ڈوز پر چلین گئیں تھین..
ویکلی.. اسکا چیکپ ضروری ہو چکا تھا…
جبکہ ڈاکٹر صاف لفظوں مین کہ چکے تھے اگر.. وہ اپنا خیال نہین رکھے گی.. تو.. اسکے بچے کو بھی اسکی طبعیت نقصان پہنچا سکتی ہے…
مگر حرم کی لاپرواہی.. اب بھی عروج پر تھی….
…………..
آٹھ ماہ سے اس گھر کی دہلیز پار نہین کی تھی اسنے.. صرف اس شخص کی وجہ سے.. وہ اپنی مان کو نہیں دیکھ پایا.. تھا..
اسکا ٹرانسفر ہو چکا تھا..
اور وہ لاہور مین ہی اٹھ ماہ سے تھا..
یہاں پر اسکے ساتھ صنم بھی تھی اور انکے آپسی تعلقات کافی سے زیادہ اچھے ہو گئے تھے…
اس وقت بھی وہ سیل میں موجود… حرم کی پیک کو دیکھ رہا تھا.. جو لاشعوری طور پر وہ کھول چکا تھا..
اس سے وہ اب بھی خفا تھا.. وہ لڑکی.. بے وفا تھی.. اور یہ بات اسکے زہن پف چیپک چکی تھی…
مگر اپنی اولاد کی خبر سن کر.. اسکے لب مسکراے ضرور تھے.. مگر وہ واپس کبھی نہیں جانا چاہتا تھا…
تم دیکھ رہے ہو ڈیڈ کے کام “صنم.. دھار دروازہ کھول کر اندر ای.. شاہ میر نے ناگواری سے اسے دیکھا. جبکہ صنم.. نے پوری بتیسی کی نمائش کی..
چھپ چھپ کر کیون دیکھ رہے ہو.. چلے جاو اسلامہ اناد ک کر دیکھنا” وہ ہنسی.. تو شاہ میر.. نے اسکو گھورا..
تم کتنا فضول بولتی ہو.. “
اسنے سیل بند کیا.. اٹھ ماہ مین اسکی شخصیت مزید پرکشش.. ہو چکی تھی…
کاش تم سینگل ہوتے “صنم نے آہ بھری..
تم پھر شروع ہو گئ” شاہ میر نے تیوری چڑھائے…
تو صنم مسکرا دی.. اوہ مین تو بتانا بھول گئ..
تم دیکھ رہے ہو ڈیڈ کے کام” صنم.. اب کچھ کچھ اردو بول لتی تھی مگر اب بھی وہ انگریزی مین بات کر رہی تھی..
بھی.. مین نہین دیکھ رہا بتاو گی تو پتہ چلے گا “وہ چیڑا..
او ہان” صنم پھر ہنس دی…
میرے لیے رشتے ڈھوند رہے ہین” وہ حیران ہوی.. خود ہی جیسے.. وہ بھی بھرپور ھیرت کا اظہار کرے گا..
اس میں کیا بڑی بات ہے.. مین تمھین بتا چکا ہون.. تمھارے لیے بیست اوپشن ہے میرے پاس”
وہ لاپرواہی سے بولا..
ویسے تمھین شرم آنی چاہیے اپنے ملازم کے ساتھ مجھے اٹیچ کرتے ہویے.. کیا ساری زندگی.. وہ پر ان نہین رہے گا کہ اسکی بیوی اسکے مالک پر فدا تھی” صنم نے گھورا کیونکہ وہ اکثر صفدر کی پسندیدگی کے بارے میں اسے بتاتا تھا..
اول تو وہ میرا ملازم نہیں دوست ہے…
دوسرا اس مین کوی براہ نہین.. تیسرا دماغ تمھارا خراب ہے.. اور کسی کا نہیں” وہ چئیر سے اٹھا…
صنم نے منہ بنایا…
شادی اسلامہ آباد مین کرو پھر “وہ اسکی بات مانتے ہویے بولی تو شاہ میر. نے اسکی جانب دیکھا…
خوشگوار حیرت بھی ہوئ.. مگر چہرہ وہی بے تابر رہا…
جہان تمھارا دل کرے “اسنے کہا اور اسٹیسن سے نکلنے لگا..
اوو ہیلو.. کوئ اچھی جگہ بتاو اسلامہ آباد کی “صنم نئے سرے سے اسکے پیچھے پڑی تھی..
تم صفدر سے پوچھ لینا “شاہ میر گاڑی کھول کر بی[ھا.. صنم بھی فٹ چڑھی شاہ میر نے سرد سانس کھینچی…
نہین اسکی تو جیب مین جالی کرا لو گی تمھارا بھی تو.. کوی کونٹیبیشن ہونا چاہیے “وہ بولی تو شاہ میر. نے گاگلز نکال کر لگایے اور گاڑی سٹارٹ کی..
کی اچاہتی ہو پھر تم “وہ جان چھرانے والے انداز مین بولا..
مین چاہتی ہون میری شادی تمھارے گھر ہو “صنم نے کہا تو وہ.. اسکی جانب دیکھے بغیر.. سپید بھرا گیا..
ٹھیک ہے تم غصہ کر لو مگر مین نے کہ دیا ہے “اسنے منہ بنایا.. شاہ میر کو م، زید غصہ آیا..
میرا گھر نہین چڑیا گھر ہے” وہ غصے سے بولا.. تم تو رہتے نہین.. ہو پھر تکلیف کیا ہے” وہ بھی بولی..
کس نے کہا مین نہین رہتا..” شاہ میر نے غصے سے تیوری چڑھا..
اچھا پھر ٹھیک ہے تم بھی چلو میری شادی تو اٹینڈ کرو گے نہ” وہ معصومیت سے بولی.. تو شاہ میر نے گاڑی روکی..
پلیز یہ مت کہنا دفع ہو جاو” صنم نے ہاتھ جورے جبکہ.. وہ اس ڈھیٹ لرکی کو دیکھ کر رہ گیا…
پلیز شاہ میر.. میری آخری خواہش پوری کر دو تم تو میرے دوست ہو “وہ معصومیت سے کہہ رہی تھی..
مین تمھارا دوست نہین ہون مگر.. ٹھیک ہے.. چلی جانا مین امان کو کہ دو گا “اسنے پھر سے گاڑی سٹارٹ کی..
اور تم “اسنے پوچھا..
مین بھی تمھیں دفع کرنے آ جاو گا.. اب خاموش رہو..” وہ چیر کر بولا.. تو صنم کی پوری مسکراہٹ کھلی
یہ ہوئ نہ بات” اسنے کہا شاہ میر نے گھورا…
تو وہ منہ پر انگلی رکھ کر رہ گئ…
…………
شاہ میر آ رہا ہے شہروز “اماں نے اطلاع دی اسوقت سب ہی ڈائنیگ پر موجود تھے..
حرم کا کھانا کھاتا ہاتھ روکا…
جی جانتا ہون… شادی کے سلسلے مین “اسنے کہا.. تو اماں نے سر ہلایا مگر وہ خوش تھیں.. جبکہ حرم تو فق چہرہ لیے ان سب کیطرف دیکھ رہی تھی..
شادی کے سلسلے مین مطلب “
بچے کھانا کھاو “اماں نے کہا تو.. وہ بھیگی پلکون سے انھیں دیکھنے لگی..
شاہ میر شادی کر رہے ہیں” وہ روتے ہویے بولی.. امان تو ھیران رہ گئیں . جبکہ شہروز کو ہنسی ای.. یہ بات وہ ضرور شاہ میر کو بتاتا..
بیٹا آپکی طبعیت تھیک نہین کھانا کھاو بعد مین اس بارے مین بات کرنا “رکا نے اس کے مسلسل رونے پر پریشانی سے کھا..
نہین.. وہ مین جانتی ہون وہ مجھے چھور دین گے دیکھ لیجیے گا.. میرے بچے کی بھی کوی ولیو نہین ہے” وہ روتی ہوی اتھی اور اوپر بھاگ گی..
دھیان سے ھرم “زرینہ پیچھے سے بولی…
کیا یہ سچ ہے..” رکا نے شہروز کیطرف دیکھا..
فریند کی شادی ہے.. اس سلسلے مین آ رہے ہین” اسنے سنجیدگی سے کہا.. تو وہاں سب نے سکھ کا سانس لیا..
موتو. کتنا کھانا ہے “شہروز نے ونیزے کے کان مین جھک کر کھا جو بے پرواہ.. کھا رہی تھی.. اٹھوان مہینہ تھا تو وہ کافی صحت مند ہو چکی تھی.. اوپر سے شہروز کا پیار.. زندگی خوبصورت لگ رہی تھی..
مین موٹو نہین ہون..” ونیزے منہ مین چمچ بھرتے بولی..
واللہ جھوت ساف ساف “شہروز حیران ہوا..
یہ سب آپ نے کیا ہے “ونیزے نے منہ بنایا..
بڑا پیارا کیا ہے” شہروز نے اسکا ہاتھ تھام لیا..
چھوڑیں سب متوجہ ہوں گے “وہ گڑبڑای…
……………..
جاری ہے