128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

پے در پے پڑنے والے گھونسوں سے آبان جلد ہی.. زمین پر گیرہ..
حرم اسکو روکنا چاہتی تھی.. مگر اس وقت اس آدمی سے اسے شدید خوف محسوس ہو رہا تھا جو جلا کر خسکار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا…
لالا… چھوڑ دیں اس نیچ کو” شہروز نے اسے روکنا چاہا.. مگر شاہ میر روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا.. وہ اسے لاتوں مکوں اور تھپیڑوں سے بری طرح پیٹ رہا..
تو یہیں رک سالے.. یہ تیرے ہاتھ ہی تیرے تن سے جدا کر دوں گا” وہ… منہ سے نکلنے والے خون کو صاف کرتا… جو آبان کی تھوڑی بہت مزہمت سے.. اسکے منہ پر.. مکے پڑے تھے…
شاہ میر اسپر سے ہٹا…
اور… اپنے کمرے کی طرف ریوالور لینے گیا…
لالا ویٹ” شہروز کو سنگنی کا احساس بڑھتا دیکھا دیا..
آبان چلو یہاں سے جاو تم “رضا نے کہا تو اسنے نفی کی..
حرم کے بغیر کبھی نہیں.. “وہ ڈھٹائ سے بولا.. یہاں سے تو شاید وہ بچ جاتا مگر.. مراد دے کبھی نہ بچ پاتا….
شاہ میر نے گن لوڈ کی.. اور اس سے پہلے وہ اسپر تانتا…
نہیں میر “حرم گھبراتی ہوئ اسکے آگے آ گئ…
جہاں آبان کو اتنی چوٹیں.. لگنے کے بعد تقویت ملی.. وہیں…
شاہ میر… سلگتے کوئلوں پر گھسیٹا گیا تھا…
وہ ایک بار پھر کئ ٹکڑوں میں توڑ دیا گیا تھا…
اسکا ہاتھ اسکے پہلو میں کی گیر… گیا…
ریوالور دور اچھال کر.. وہ حرم کیطرف بڑھا.. اور بغیر لحاظ کے اسکے ممنہ پر کھنچ کر تھپڑ مارا..
شاید وہ یہ ڈیزرو کرتی تھی…
تھپڑ کی شدت سے حرم دور جا گیری…
یہ کیا حرکت ہے “رضا چلایا….
جبکہ زرینہ نے روتی ہوئ حرم کو تھاما….
یہ سلوک کرتے ہو تم اسکے ساتھ” رضا.. کے لیے… ناقابل برداشت تھا… حرم کو تکلیف میں دیکھنا…
اپنا گند سمیٹ اور دفع ہو یہاں سے “وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے حرم کی جانب اشارہ کرتا… بولا…
آبان کو ایک گو نا گو سکون ملا….
جبکہ حرم حیرت سے خود کو گند کہنا سن رہی تھی…
بیوی کی یہ عزت ہے یہ تربیت کی ہے تمھاری ماں نے” وہ کھا جانے والے انداز میں بولے.. تو.. شاہ میر نے ایک جھٹکے سے انکا گریبان پکڑا..
اگر یہ سفید چاندی جو تیرے سر میں اتر رہی ہے اسکا میں ایک پرسنٹ بھی لحاظ کر رہا ہوں.. تو.. امیہ میری ماں کی ہی تربیت ہے….
تیری تربیت یہ ہے…” اسنے حرم کی طرف اشارہ کیا.. جو اسکی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت ہی اجنبیت محسوس کر رہی تھی.. کوئ سناشائ کا رنگ نہیں تھا…
یہ تیری تربیت…. جو نہ محرموں کے سینے سے لگتی ہے… برحال…….. اب مزید… لمی بھی میں تجھے یہ تیری قوم کو برداشت نہیں کروں گا.. نکل جا یہاں سے “وہ دھاڑا.. اور انھیں پیچھے دھکا دیا…
انکل چلیں” چوٹ لگ چکی تھی.. آبان کو یہ ہی لمحہ مناسب لگا..
انکی آنکھیں میں.. ہلکی سی نمی چھلک آئ…
چلو حرم “زرینہ نے اسے اٹھایا…
ن… نہیں” وہ بولی….
میں کہیں نہیں جاو گی… “حرم بری طرح رو دی.. جبکہ آبان اب یہ ڈرامہ مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا..
چلوحرم.. یہ آدمی تمھارے قابل نہیں” آبان نے.. سختی سے اسکا ہاتھ پکڑا…
شاہ میر پیٹھ موڑ کر کھڑا تھا.. جبکہ اماں نم آنکھوں سے.. حرم کو روتا بلکتا دیکھ رہی تھیں..
وہ چاہ کر بھی اسے روک نہ سکیں….
سرا سر غلطی حرم کی تھی….
وہ بچی نہیں تھی جو کچھ سمھجہ نہ سکے…
آبان چھوڑ دو حرم کو” فیضان نے.. روکنا چاہا…
جبکہ اب کہ رضا نے.. فیضان کو گھورا…
جہاں میری بیٹی کی عزت ہو گی… میری بیٹی وہاں رہے گی” انھوں نے جتاتی نظریں اماں ہر ڈالیں…
اور… حرم جو.. اپنا آپ چھڑوانے کی تگ و دو میں تھی..
اسے وہ… کھینچ کر… وہاں سے لے گئے.. جبکہ فیضان کو.. اپنا معملہ.. اٹکتا.. ہوا محسوس ہوا….
اسنے ایک نظر شانزے پر ڈالی اور وہاں سے نکل گیا.. حرم کا دماغ تو وہ ٹھکانے لگائے گا اب.. اسے شدید غصہ آیا…
……………………….
دیکھ لیا آپ نے “انکے نکلتے ہی وہ بری طرح چلایا…
اماں اپنے بیٹے…. کی طرف بڑھیں جو برمری طرح ٹوتا تھا ایک بار پھر…
ونیزے دور کھری تھی جبکہ وہ تینوں میر کی تڑپ پر.. ترپ اٹھے تھے…
کیا میری زندگی میں دھوکہ بے وفائ لکھی گئ ہے” اسنے واس اٹھا کر دور پھینکا….
لالا”شہروز نے.. اسکو پکڑا… جبکہ اسنے اپنا آپ اسے سے جھٹک کر چھٹوایا….
مین کیوں بھول گیا.. وہ آدمی صرف مجھے شکست دینے کے لیے میری زندگی میں آتا ہے…
ہاں اماں… وہ بار بار مجھے ہراتا ہے کیوں”اسنے…. غصے سے اماں کے ہاتھ ہٹائے….
اور لاونج میں لگے میرر پر کھینچ کر مکہ مارا….
وہ مرتا کیون نہیں…. ” وہ دھاڑا….
ایک بے بس آنسو… اسکی آنکھ سے نکلا تھا جبکہ اماں.. ایسے تڑپ اٹھیں.. جیسے.. نہ جانے کیا ہو گیا ہو…
نہیں شاہ میر…” انھوں نے اسے تھاما…
شہروز… اور شانزے دونوں… بھیگی آنکھوں سے اپنے بھائ کو دیکھ رہے تھے.. جبکہ.. ونیزے بھی بھیگی پلکوں سے… اس بے بس شخص کو دیکھ رہی تھی….
ہاں آج اسکی آنکھ کا آنسو حرم سے محبت کی چینخ چینخ کر گواہی دے رہا تھا…
میرا بچہ.. نہیں” اماں نے اسکا. چھرہ.. تھاما… جس نے جو گٹھنوں کے بل گیرہ….
وہ ایک مظبوط… عمارت آج.. ایک لڑکی کے لیے ڈھے گئ تھی…
کیا نہیں اماں… کیا نہیں.. کیوں آیا وہ یہاں.. اور وہ…
اس سے صرف… اسکی محبت مانگی تھی… اور اسنے….
کیا میرے نصیب میں سکون نہیں” وہ انکی گود میں چیرہ چھپاتا…
بولا….
اماں نے شہروز کی جانب دیکھا.. جو سرخ آنکھوں سے اپنے بھائ کو دیکھ رہا تھا..
جبکہ شانزے اپنی سسکیاں دبا رہی تھیں….
…………………………..
مجھے افسوس ہے تم پر” فیضان… نے غصے سے.. اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھا.. جو رو رو کر سوج چکیں تھیں.. اسکا چہرہ بھی جگہ جگہ سے سرخ ہو رہا تھا.. جبکہ بکھرے بالوں اور بکھرے حولیے میں قابل رحم لگ رہی تھی مگر اس وقت وہ کہیں سے بھی رحم کے قابل نہیں تھی…
وہ تمھارا شوہر تھا… تم .. اسکے سامنے اس آبان کے گلے کگ گئ حرم تم پاگل ہو “فیضان کو اسکی خاموشی زیچ کر رہی تھی… وہ.. چلایا.. جبکہ حرم نے اسکی طرف دیکھا….
حرم گرو آپ مہربانی ہو گی تمھاری.. پلیز گرو آپ” وہ اسے جھنجھور گیا جس کی آنکھ سے ایک بار پھر آنسو ضرور ٹوٹا تھا.. مگر… وہ بولی کچھ نہیں تھی…
رات ہو گئ تھی.. وہ اس سے دور تھی…
سب سے ملنے کے بعد بھی وہ یہاں اہنون میں آ کر خوش نہیں تھی…
جبکہ سب اسکا حد سے زیادہ خیال رکھ رہے تھے کہیں اسکی طبعیت نہ بگڑ جائے… مگر عجیب تھا.. آج وہ شخص اسکے چنچلے اٹھانے کے لیے نہیں تھا… تو اسکا دل بھی جیسے پتھر ہو گیا تھا..
ہاں اسے خوش ہونا چاہیے تھا…
وہ پانچ ماہ بعد… اپنے گھر والوں میں تھی…
ان لوگوں میں…. جن کے ساتھ وہ رہی.. پلی بڑھی…
اس آدمی نے اسے کڈنیپ کیا تھا..
زبردستی اپنا قیدی بنایا..
وہ اسکی قید سے آزاد تھی.. پھر وہ خوش کیوں نہیں تھی…
اسنے دونوں.. ہاتھوں سے اپنے بال نوچ ڈالے…
یہ سب کیا ہے فیضی “وہ چلائ اسے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا…
رضا صاحب کے ساتھ شاہ میر کا رویہ…
اسکا اسکو کیڈنیپ کرنا……
چاچو کی بات پر اکھڑ جانا….
یہ سب کیا تھا یہ کیسا لینک تھا……
فیضان نے.. اسکے بہتے آنسوں کو افسوس سے دیکھا….
شاہ میر… رضا چاچو کی پرسٹ وایف کا بیٹا.. ہے…
وہ آنٹی.. رضا چاچو کی فرسٹ وایف ہیں….. “اسنے حرم… کو دھیمی آواز میں جیسے حقیقت بتائ..
حرم.. حیران آنکھوں سے.. اسکی صورت تکنے لگی جو رفتا رفتا اسے سب بتاتا چلا گیا…
جب اسنے اپنی مما کو شانزے کے بارے میں بتایا تھا.. تب انھوں نے.. رضا.. اور امان کے بارے میں اسکو ساری حقیقت بتا فی تھی.. انکے ساتھ کیا کیا ہوا….
اور کیسے.. انھیں.. گھر سے نکال دیا گیا…. اسی طرح فیضان نے بھی حرم کو بتایا….
تو حرم… سر تھام گئ…
اب اسے اسکے جنون کا اندازا… ہو رہا تھا…
اور اس چیزپر شدید افسوس کے وہ اسے سمھجہ نہ سکی…
مگر نہیں دیر نہیں ہوئ تھی…
وہ اسکا شوہر تھا.. وہی اسکا گھر تھا.. وہی سب کچھ تھا…
وہ اسکا عشق تھا…
ہاں وہ.. دیوانی تھی اسکے لیے….
اسنے بے دردی سے آنسو صاف کیے اور گھڑی کی صورت دیکھی…
جو رات کے دو بجا رہے تھے..
فیضان تم مجھے وہاں چھوڑ دو… پلیز”حرم نے… پاون میں چپل ڈالتے ہوئے.. کہا…
فیضان نے اسکی جانب دیکھا..
تمھیں لگتا ہے معملہ جتنا بگڑ چکا ہے اب وہاں کوئ تمھیں پوچھے گا.. تمھیں وہیں احتجاج کرنا چاہیے تھا… وہین تمھیں اسکے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا.. تمھیں نہیں آنا چاہیے تھا حرم” فیضان نے.. کہا تو.. اب اسکی آنکھ سے آنسو نکلتا ہوا..
شدید دکھا تھا..
میں نے کیا تھا” وہ منمنائ…
اسے احتجاج نہیں کہتے “فیضان نے گھورا….
یہاں آ کر تمھیں کیا ملہ..
یہ بدعاوں کا گر ہے حرم میرا یہاں دم گھٹتا ہے تو تم کیسے رہ سکتی ہوں… یہ گھر ان.. تین معصوم بچوں کی بدعاوں.. سے برباد ہو چکا ہے.. “وہ بولا تو حرم.. کا دل جیسے پھٹنے کے قریب تھا…
اسے شاہ میر کی شدت سے یاد آ رہی تھی…..
تم… تم چلو پلیز” وہ بولی… تو فیضان نے اسکو دیکھا…
پلیز فیضی.. مین.. اپنی غلطی سدھارنا چاہتی ہوں”وہ سسکی…
فیضان نے گھیرہ سانس لیا.. حالت اسکے سامنے تھے مگر وہ اب بھی.. میچورٹی نہین دیکھا رہی تھی..
وہ ایک امید کے تہت اٹھا..
حرم اور وہ بیقوقت گھر سے نکلے.. آبان ابھی ایک گھنٹے پہلے ہی گیا تھا..
اسنے حرم سے ڈھیر ساری باتیں کیں.. جن کا ہوں ہاں میں وہ جواب دیتی رہی تھی.. اسے افسوس بھی تھا اسکی وجہ سے اسنے کتنی مات کھائ تھی…
وہ دونوں اس سے پہلے باہر نکلتے.. کہ رضا.. صاحب.. کی آواز پر روکے..
کہاں جا رہیں ہیں آپ دونوں “انھون نے پوچھا.. تو.. حرم غصے سے پلٹی..
اپنے شوہر کے گھر.. کیا پا مجھے روکین گے…” اسنے انکی آنکھوں میں دیکھا..
حرم وہ آپکے قابل نہین ہے “انھیں عغصہ آیا شاہ میر کا ہاتھ اٹھانا انھیں بلکل اچھا نہین لگا تھا.. اور شاید وہ یہ بھول گئے تھے.. کہ وہ کتنی بار.. اس عورت پر ہاتھ اٹھاتے رہے تھے…
آپ بھی اماں کے قابل نہیں تھے.. تبھی اللہ نے.. انھیں آپ سے الگ کر دیا.
میرے میر کیا ہیں یہ میں اچھے سے جانتی ہوں.. اگلی بار آپ اس طرح بلکل نہیں بولیں گے “وہ بھرائ ہوئ آواز میں بولی تو انھیں خاموش کر گئ….
چلو فیضی” اسنے.. کہا تو.. وہ دونوں باہر نکل گئے جبکہ.. پیچھے رضا.. سر تھام کر بییٹھ گئے..
شاہ میر کا چہرہ.. انھوں میں لہرا گیا…
جبکہ ایک اور چہرہ… جس کی شبی بھی ان میں ملتی تھی… اور اسکے علاوہ ایک لڑکی بھی تھی…
وہ جب سے وہاں سے اے تھے بے چین تھے.. اور انکی بے چینی.. زرینہ خوب محسوس کر رہی تھی..
اور آج انھیں اپنے اندر موجود کمی.. کاٹ کھا رہی تھی…
…………….
اس وقت سب کو تمھاری ضرورت ہے..
اور جس طرح تم میری ماں بہن.. بھائ کا جیال رکھ رہی ہو میں شکر گزار ہوں تمھارا … “شہروز نے.. ونیزے کو دیکھا.. جو.. اماں کے کمرے مین انھیں دوائ دے کر.. آئ تھی جبکہ شانزے کو دودھ.. بھی دیا.. تھا..
مگر شاہ میر.. کا دروازہ بجانے کی کسی میں ہمت نہیں تھی…
شکر گزاری کی بات نہیں ہے… فیملی ہے.. میری بھی” وہ.. بولی.. اور کمرے مین بکھرا.. کباڑہ سمیٹنے لگی…
تم اتنی اچھی بن رہی ہو یہ ہو گئ ہو” شہروز نے اسکیمے بدلے برتاو کو حیرت سے محسوس کیا..
وہ لڑکی اندر سے اتنی حساس ہو گی.. اسکی سوچ میں بھی نہین. تھا..
مجھے نہیں پتا میں اچھی ہوں یہ نہیں.. مگر مین نے.. رشتے نہین دیکھے.. اور اب جب مجھے رشتے ملے . ہین تو میں.. کم عقلی کے باعث انھیں کھونا نہین چاہتی “وہ سنجیدگی سے جواب دیتی واشروم میں چلی گئ.. جبکہ شہروز خاموش ہو گیا…
آدھی رات سے زیادہ گزر چکی تھی.. نیند آنے کا نام نہین لے رہی تھی اسنے دکھتی آنکھوں.. کو.. اپنی پوروں سے دبایا..
سر دبا دوں…” ونیزے نے اسکیطرف دیکھ کر سوال کیا..
نہیں.. تم ریسٹ کرو “اسنے نفی کی.. تو ونیزے سانس. گرتی.. بید پر بیٹھ کر.. اسکا دمسر دبانے لگی.. جبکہ شہروز نے ہار مانتے ہوئے اسکی گود میں سر رکھ لیا…
جانتی ہو ونیزے… وہ بے چین ہیں.. تو ہم میں سے کسی کو سکون نہین ملے گا…
حرم بھابھی نے بہت غلط کیا…
28 سالون میں مین نے انھیں ان پانچ ماہ مین ہنستے مسکراتے دیکھا تھا.. مگر… وہ پھر سے.. بیک جر گیے ہین.. ” وہ… بولا.. جبکہ ونیزے خاموش رہی.. حقیقت میں حرم.. نے علط کیا تھا..
ایک سوال پوچھو” ونیزے نے کچھ سوچتے ہویے پوچھا…
ہم.. “شہروز اسکی انگلیوں کی حرکت سر مین محسوس کر رہا تھا..
وہ آدمی.. آپکے والد تھے” اسنے کچھ جھجھکتے ہوئے پوچھا…
ہاں… رضا.. خان… وہ باپ ہے ہمارا…
میری ماں.. اسکے جتنی خوبصورت نہیں تھی.. اسنے.. میری ماں کو.. گھر سے نکال دیا تھا…
جب ہم گھر سے نکلے تھے.. لال صرف پانچ سال کے تھے…
ونیزے.. پانچ سال کے بچے کے ہاتھں نے اینٹیں ڈھوئ…
سارا سارا دن… کیا… کسی ماں کا کلیجہ.. یہ برداشت کر لے گا…
صرف پانچ سال… دو سال کا تھا میں.. بولنا بھی نہیں جانتا تھا..
جبکہ ہماری بہن… کیسے ہوئ… ہم نہیں جانتے تھے.. بس ایک رات.. اماں کی چینخون سے ڈر کر ہم دونوں بھائ ایک کمرے میں دبک کے بیٹھے تھے…
ساری رات.. امان کی چینخیں.. ہمارے کانوں.. میں.. لرزتی.. رہیں.. میں اور لالا.. روتے رہے… بہت روے.. ہمین لگا ہماری اماں مر جائیں گی…
مگر پھر ایک عورت… جو امان کے ساتھ ہی تھیں..
صبح ہمیں ہماری بہن دیکھنے لگی..
میں.. تو کچھ نہیں جانتا تھا.. مگر لالا بتاتے ہیں.. ہم دونوں کو اسکی پیدایش کی بلکل خوشی نہیں تھی.. جبکہ… امان کے ساتھ.. روز.. ہم دونوں بھائ روتے رہے..
یہ تو.. اللہ کا شکر ہے ہمارے نانا… کی چھت تھی.. ورنہ “
پلیز شہروز” اس سے زیادہ ونیزے میں سننے کی ہ. ت نہیں تھی اسنے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھا.. اور.. اپنا ماتھا اس ہاتھ پر ٹکا دیا.. شہروز کی بھیگی پلکیں مزید بھیگ گئیں جبکہ.. ونیزے سسک رہی تھی…
دنیا بہت ظالم ہے.. “تھوڑی دیر بعد وہ اسکی آنکھوں پر لب رکھتی.. جیسے اسکے زخموں پر مرحم رکھ رہی تھی…
………………..
دروازے کی بل بجی.. تو ونیزے نے سر اٹھایا….
جبکہ شہروز بھی اٹھ جر بیٹھا..
اس سے پہلے آنے والا بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول جاتا.. وہ ایک جسے لگا کر اٹھا.. ونیزے بھی اسکے پیچھے گئیں.. جبکہ تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد امان تسبیح کر رہین تھین وہ بھی اس وقت بیل بجتی سب کر.. باہر نکل ایین.. ونیزے اور شہروز کو وہ دیکھ چکیں تھیں…
شہروز نے دروازہ کھولا.. تو حرم کو دیکھ.. کر.. اسے غصہ آیا مگر رشتے کا لحاظ آڑے آیا…
کیوں ای ہین آپ یہاں”اسنے اسے اندر آنے نہ دیا…
پلیز شہروز مجھے میر کے پاس جانا ہے” وہ بلکی..
چھوڑ کر بھی آپ ہی گئیں تھیں… “شہروز نے سختی سے اسے گھورا…
پلیز… مجھ سے غلطیی ہو گئ.. پلیز مجھے.. شاہ میر کے پاس جانے دو” وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگی.. جبکہ
شہروز.. آگے سے ہٹ گیا.. اسنے ایک نظر فیضان کو دیکھا.. حرم اسکے ہٹتے ہی اندر آ گئ…
حالانکہ فیضان کا لحاظ ہو کرنا نہیں چاہتا تھا.. مگر وہ اپنے لالا کو خوب جانتا تھا..
یہ لڑکی اپنے پاوں ہر کلہاڑا مار رہی تھی اب.. تبھی اسنے فیضان کو.. اندر آنے دیا..
حرم.. بھاگتی ہوئ اپنے کمرے کی جانب.. گئ.. کہ اسکی شال.. وہیں کھڑی اماں کے قدموں کے پاس رہ گئ…
اسنے اپنے روم کا دروازہ بجایا…
میر… میر دروازہ کھولیں.. میر مجھے کہیں نہیں جانا…..
میر مجھے… آپ کے پاس رہنا ہے.. میر.. مین کہین نہین جاو گی…
پلیز میر.. حرم صرف آپ سے محبت کرتی ہے.. میر. پلیز مجھے معاف کر دیںَ”
وہ بجاتے بجاتے… نیچے بیٹھ کر بری طرح رو دی… جبکہ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا….
حرم نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا…
جو سپاٹ چہرے سے.. اسکی جانب دیکھ رہا تھا…
اسے وہ پہلے روز والا شاہ میر لگ رہا تھا…
شاہ میر نے حرم کو ایک نظر دیکھا اور نیچے کھڑے سب پر نظر ڈالی…
شہروز…. چوکیدار سے کہہ دو آج کے بعد یہ لڑکی اس گھر کی دہلیز پار نہ کرے “اسنے.. سنجیدگی سے کہا…
نہیں میر” حرم تڑپی..
میر مجھے معاف کر دیں”اسنے شاہ میر کے پاوں پکڑنا چاہے…
جبکہ شاہ میر پیچھے ہٹا.. اور اسکے پاس سے ہٹتا… وہ وہاں سے گزر کے نیچے… آیا… اور.. سیدھا گھر سے باہر نکل گیا جبکہ شاہ میر… شاہ میر کی چینخو پکار سے حرم نے گھر سر پر اٹھا لیا تھا… ماں نے حرم پر.. ایک نظر ڈالی.. اور.. اندر چلی گئیں.. یہ لڑکی انکے بیٹے.. کو وخشی نہ دے سکی.. تو. انکے لیے بھی اہمیت نہیں رکھتی تھی…
شہروز.. تو پہلے ہی طدزن تھا.. وہاں سے نکل کر اپنے روم میں چلا گیا.. جبکہ..
ونیزے نے.. اسکے روتے سسکتے وجود پر نگاہ ڈالی..
فیضی لے جاو اسے.. “ونیزے نے کہا..
ایسے مت کہو.. ونیزے” حرم.. سسکی….
تھوڑا ٹائم دو حرم… زخم وقت بھرتے ہیں… “
پلیز مجھے یہیں رہنے دو” حرم نے.. ونیزے کا ہاتھ تھاما…
وہ شخص گھر نہیں آیے گا اگر تم یہاں رہی..
بس تمھیں یہ کہو گی.. جلد منا لو.. انھیں “وہ.. اسکا گال سہلا کر اپنے روم میں چلی گئ..
جبکہ حرم… کا بس نہیں چل رہا تھا.. بند ہو جائے وہ اس کمرے میں قید ہو جائے وہاں…
مگر.. وہ کبھی بھی.. شاہ میر کو نہیں چھوڑ سکتی تھی…
اسنے آنسو صاف کیے…
اور فیضی کی جانب دیکھا.. شاید وہ زندگی کی پہلی عقل مندی کتنے جا رہی تھی…
وہ.. فیضی…
صفدر… صفدر. کا پتہ ہے تمھیں پلیز… اسسے ربطہ کرو.. “
گاری میں بیٹھتے وہ اپنا سر تھام کر بولی.
. اس سے کیا.. ہو گا…” فیضان نے پوچھا…
مجھے شاہ پیلس جانا ہے.. مگر… وہاں نہیں جاو گی میں”وہ ضدی لہجے میں بولی… تو فیضان مسکرا دیا…
ایک جھٹکے نے کافی عقل مند کر دیا تمھیں” اسنے کہا مگر حرم نے جواب نہ دیا…
………………….
جاری ہے