128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

Episode 7
ونیزے کا وجود انگاروں پر لوٹ رہا تھا. اسے کسی کل چین نہیں تھا آج تین دن اس قصے کو گزر چکے تھے.. اور وہ ایسی نظر بند ہوئ تھی کہ اپنے ڈیڈ تک سے نہیں مل رہی تھی بس اپنے کمرے میں بند وہ جیسے.. شہروز خان کے لفظوں… میں خود کو گھول رہی تھی…
یہ اسکا قصور نہیں تھا کہ اسکی ماں نہیں تھی…
یہ اسکا قصور تھا کہ اسکا باپ… سیاستسیاست میں ہونے کے باعث اسپر ایک لمہہ بھی اپنا ضایع نہیں کرتا تھا…..
اسکا قصور نہیں تھا یہ.. کہ.. اسکے گھر میں آنے والی… مختلف خواتین ایسی ہی ہوتیں تھیں جن کو دیکھ کر.. وہ پل بڑھ کر بڑی ہوئ…..
اور پھر اسکی شخصیت ایسی بن گئ کہ.. وہ.. شخص.. سب کے سامنے اسے ذلیل و خوار کر گیا.. گالیاں دے گیا….
وہ اسے سب سے الگ لگا.. تھا.. ہاں اسکا اگنور کرنے والا انداز… اسےاسے.. جدا لگا.. اسکا دل شہروز خان کی پرسنالٹی سے متاثر ہو چکا تھا… مگر اسنے یہ اچھا نہیں کیا تھا….
اسنے اسکی تزلیل کر کے اچھا نہیں کیا…
سب کہ سامنے اسے گالیاں بک کر… اسنے ونیزے… کے دل و دماغ کو جیسے بھسم کر دیا تھا……
وہ بے ترتیب حولیے میں دو دن پرانے نائٹ ڈریس میں سرخ نم آنکھوں کے ساتھ بیڈ پر پڑی چھت کو گھور رہی تھی.. جبکہ اسکے دماغ میں صرف ایک شخص تھا اور وہ شہروز خان کے سوا کوئ نہیں تھا….
یہ بے غیرت… زلیل لڑکی ہی تمھاری زندگی کا حصہ بنے گی….
پرسا شہروز خان… “وہ آہستگی سے بڑبڑائ…
پھر دیکھتی.. ہوں تم کیسے… اپنی غیرت کی حفاظت کرتے ہو…..
آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹا… اوروہ ایک جھٹکا کھا کر اٹھی….
اور بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا….
آنکھوں سے لا تعداد آنسو گیرے تھے مگر اسکے چہرے پر ہلکا سا بھی تاثر نہیں تھا….
وہ چھپ کر نہیں رہ سکتی تھی…
اسنے صرف اتنا سوچا تھا.. آگے کیا ہونے والا تھا…
یہ تو شہروز خان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی…
………………..
آبان کو اشہد سے مل کر بھی مایوسی ہوئ تھی کہ… اشہد.. کے پاس سے ایسی کوئ بھی بات نہیں ملی تھی….
وہ جانتا ہی نہیں تھا کس نے اسے مارا.. تھا اور کیوں… جبکہ اسکے باپ نے… ایس پی…. کہ انڈر یہ کیس دیا ہوا تھا.. جس کی ایس پی کے نزدیک وہ پوچھ پڑتال کر رہا تھا…
آبان بلکل الجھ چکا تھا..
حرم کا ملنا اسکے لیے زندگی موت کا معاملہ تھا… اگر حرم.. نہ ملتی.. تو… تو اسکے ساتھ کیا ہوتا….
یہ سوچ کر ہی اسکی روح کانپ اٹھتی تھی…
جبکہ حرم.. کو نہ جانے آسمان کھا گیا تھا یہ زمین نگل گئ تھی….
وہ اس وقت خان ہاوس کے لون میں بیٹھا تھا حرم کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ اچانک ہی اسکا فون بجا.. اسنے نمبر دیکھا اور ایکدم الرٹ ہوا…
مگر فون اٹھانے.. کی ہمت خود میں نہیں پائ…
کیا مصیبت ہے یار “وہ جھنجھلا کر بولا.. تبھی کال بند ہو گئ….
اسنے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ پھر سے کال آنے لگی….
کاش حرم تم مر جاتی اور تمھاری لحاش ہی میں اس بھڑیے کے حولے کر کے آزاد ہو جاتا.. تو میری جان تو نہ سولی پر لٹکی ہوتی” آبان نے غصے سے سوچا…. اور کال پھر سے بند ہو گئ…
اسنے دوبارہ کال آنے کا ویٹ ضرور کیا مگر دوبارہ کال نہ آئ تو.. وہ کچھ مطمئین ہو کر.. بیٹھ گیا…
اور دوبارہ ایس پی کی طرف اسکا دیھان گیا تو..اسنے شاہ میر کو کال ملا لی…..
بیل جا رہی.. تھی.. جبکہ ایک بیل پر شاہ میر اسکا فون اٹھا لیتا.. یہ ممکن نہ تھا.. تبھی دوسری اور تیسری بیل پر کال پیک کر لی گئ…
ایس پی صاحب.. اتنے اہم کیس.. میں جس میں آپکے سینیرز بھی مولویس ہیں… اسکو.. چھوڑ کر کل آپ چھوٹی ہر تھے اور آج.. بھی.. آپ نے کوئ ربطہ نہیں کیا…. “اسنے بھرپور طنزیہ… انداز میں.. شاہ میر.. سے گفتگو کا آغاز کیا جبکہ… دوسری طرف… شاہ میر جو.. اپنے یونیفارم میں گھر سے نکلنے والا تھا ایک نظر حرم کو دیکھ کر جو ویسے ہی سوئ ہوئ تھی..
سکینہ کو ہدایت دے کر.. اسکا خیال رکھنے کا گھر سے باہر نکلا…
تبھی آبان کی کال آی… اور اب شاہ میر کو اسکے اطنز ایک آنکھ نہ بھائے تھے….
مسٹر آبان کیا لڑکی کے باپ لگتے ہیں آپ.. “اسنے بھی سنجیدگی سے آبان سے پوچھا… تو آبان مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا..
نہیں مجھے لگا.. باپ یہ بھائ لگتے ہیں جو اتنا تلملا رہے ہیں میں نے نہیں بھگایا.. جو روزانہ مجھے فون کھڑکا کر.. ڈسٹرب کرتے ہیں…
جب مل جائے گی.. تو آپ لوگوں کے حوالے کر دی جائے گی.. دوبارہ میرے نمبر پر کال کرنے کی زہمت نہ کرنا.. صفدر کا نمبر سٹیشن سے لے لیں… “اسنے کھری کھری سنا کر.. فون بند جر دیا.. جبکہ آبان.. غصے سے موبائل پٹخ کر رہ گیا….
پہلے کم مصیبتیں تھیں.. جو حرم نے ایک اور مصیبت ڈال دی تھی اور اوپر سے یہ بددماغ ایس پی….
………………….
وہ پولیس سٹیشن پھنچا… تو اسے کافی وقت لگ گیا تھا…
کیونکہ وہ ایک چکر گھر کا لگا.. کر آیا تھا… اماں کو تسلی بھی دینی تھی.. ورنہ.. تین دن.. اسکی غیر حاضری پر وہ مزید پریشان ہو جاتیں..
جب وہ اسٹیشن پھنچا.. تو اپنے کیبن میں رضا خان کو دیکھ کر اسکا دل ہی نہیں کیا کہ دوبارہ کیبن میں جائے بھی…
مگر.. خود پر کنٹرول کرتا.. وہ.. اندر گیا.. اسوقت رضا خان کے سوا وہاں کوئ اور نہیں تھا..
صفدر نے اسے سلام کیا.. تو وہ جواب دیتا اپنی چئیر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا….
اور رضا خان کی جانب دیکھنے لگا جو اسی کیطرف دیکھ رہا تھا…
تم ہو با ہو میرے جیسے ہو… “مدھم سی… آواز پر… شاہ میر نے پھاڑ کھانے والے انداز میں انکی جانب دیکھا…
کھڑے ہو….” وہ بے قابو ہوتا.. بولا.. جبکہ صفدر سمیت.. رضا بھی شرمندہ ہو اٹھا ایکدم اسکی اس حرکت.. پر…
وہ رہا دروازہ.. دفع ہو جاو.. “وہ بلا لحاظ کے بولا…
باپ ہوں میں تمھارا..” رضا صاحب شکستہ لہجے میں بولے.. جبکہ شاہ میر کے اندر… طوفان اٹھ رہے تھے….
اوو اچھا مجھے لگا میرا باپ مر چکا ہے….
نہیں بلکے میرے دماغ میں سے باپ نام کا تحفظ.. میرے ہی باپ نے اکھڑاہے… توتو.. یہ ڈرامے بازی کی کیا تک ہے…” وہ بمشکل.. ایک ایک لفظ چبا کر بولا تو.. رضا خان نے.. اسکی جانب دیکھا…
میری غلطیاں…”
شیٹ آپ… “وہ دھاڑا…. کیوں وہ برداشت کرتا یہ سب.. کیا اسنے برداشت کرنے کا ٹھیکا لیا تھا…
اسکے دھاڑنے پر رضا صاحب بھی اٹھے….
کیا کیا.. ڈرامے بازی لگا رکھی ہے… یہاںیہاں کس لیے اپنی اس شکل کا مجھے دیدار کرانے آئے ہو.. تمھاری بیٹی بھاگی ہے.. نہ.. تو خودی آ جائے گی اپنے اس یار کے ساتھ کچھ دن عیاشی کر کے.. مجھے سکون کا سانس لینے دو.. اپنی شکل مے دیکھا یا کرو…. “وہ بے قابو ہونے لگا.. جبکہ…
کوئ بعید نہیں تھی.. وہ اپنے اندر چھپا برسوں کا ابال آج ہی رضا خان پر نکال دے تبھی صفدر نے اسکو تھاما..
سر.. پلیز کام ڈاون..” جبکہ شاہ میر نے جھٹک کر خود کو چھڑایا….
نفرت چھوٹا لفظ ہے…. جوجو مجھے تم سے ہے.. اسکا کوئ پیمانہ نہیں.. رضا….
اگر.. میرے بس میں ہوتا.. تو.. میں اس حقیقت کو کب کا مٹا چکا ہوتا کہ تم جیسا… نامعقول شخص میرا باپ ہے…”
وہ غصے سے گھورتے ہوئے انکی جانب دیکھنے لگا.. جن کی آنکھیں اشک بار تھیں…
میری.. حرم کو ڈھونڈ دو.. تمھیں اللہ کا واسطہ ہے….” بالآخر رضا خان کو ضبط جواب دے گیا.. اور… وہ پھر سے اسکے آگے حرم کے لیے بھیک مانگنے لگے جبکہ.. شاہ میر خان کو کے دل کو ایک بار پھر کسی نے عارے کے نیچے دے دیا تھا…
وہ بیٹا تھا….. انکا… انکے سامنے کھڑا تھا….
انکے وجود کہ حصہ جس جے حصے کی محبت.. بلکے اسے چھوڑ دو اسکے دو چھوٹے بہن بھائیوں کے حصے کی محبت وہ کسی اور کہ جھولی میں ڈال رہے تھے تو آج بھی انھیں اسکی پرواہ تھی…
نہ جانے کیوں شاہ میر خان نے غصہ دیکھا کر اپنے اندرونی جزباتوں کو انکے سامنے پا مال کیا…
وہ… انان سے پیٹھ پھیر گیا…
کہ اگر مزید انکے سامنے کھڑا ہوتا.. تو ضرور کچھ غلط کر بیٹھتا…
مل جائے گی….. ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے “اسنے آرام سے کہا…
رضا صاحب نے چونک کر اسکی جانب دیکھا جو پیٹھ موڑے کھڑا تھا…
صفدر اس آدمی کو اب میری اجازت کے بغیر.. یہاں مت آنے دینا” اسنے صفدر سے کہا.. اور.. صفدر رضا صاحب کو باہر لے گیا.. جبکہ رضا خان… کاکا دماغ ایکدم جیسے.. کسی اندھیرے کنویں سے بےدار ہوا تھا…..
جبکہ دوسری طرف شاہ میر خان نے جان بوجھ کر یہ پتہ پھینکا تھا.. چھپن چھپائ تو اسے بچپن سے ہی نہیں پسند تھی.. ڈنکے کی چوٹ پر کرنا تھا جو کرنا تھا…
………..
بی بی… یہیہ کپڑے صاحب کہ کر گئے تھے آپکو یہ لباس تبدیل کرا دوں… آپآپ پہلے یہ جوس لے لیں پھر.. یہ ڈریس بدل لیجیے گا “سکینہ نے سکون سے اسکی جانب دیکھا.. جو.. اپنا پیارا سا چہرہ پھلائے بیٹھی تھی…
کہاں ہیں تمھارے صاحب..” اسنے سوال کیا…
جی وہ تو. تھانے گئے ہیں… “سکینہ نے بتایا..
ایک تو دیو.. اوپر سے پولیس والا.. جانتی بھی ہو انھون نے رات کو کیا کیا تھا.. اور اب میں انکے لائے ہو٦ کپڑے پہنوں کبھی نہین.. چاچو کے پاس جانا ہے بات ختم “اسنے دو ٹوک انداز میں کہا..
بی بی حرم . بی بی.. آپ تو بہت پیاری ہیں.. مگر صاحب غصے کے بہت تیز ہیں اگر.. مین نے اپنا کام پورا نہ کیا.. تو… سیدھی بندوق ماریں گے… بی…بی.. پلیز یہ جوس پی لیں”سکینہ بے بسی سے بولی تو.. حرم نے اپنی.. چالاک بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھا…
اوکے ایک شرت پر…. وہ اٹھی. تو اسکی ساڑھی. جس کا پلو کبھی سمبھل آ ہی نہیں تھا.. نیچے قدموں کی سیر کرنے لگا.. جبکہ سکینہ تو اسکے حسن سے آنکھیں چرا گئ جیسے.. پروا بھی نہیں تھی…
مگر دو آنکھیں جو یہ نظارہ دیکھ رہیں تھیں…
ان میں.. غصے کی لہر.. ایک بار پھر اٹھی…
کیسی شرط بی بی “سکینہ نے.. کہا تو اسنے.. اسکی جانب دیکھا…
تم مجھے فون پر چاچو سے بات کرا دو.. پھر میں بھی تمھاری بات مان لوں گی… اور پھر تمھارے.. وہ اکڑو صاحب.. کو بھی پتا نہیں چلے گا..” حرم کی باچھیں اس شاندار پلینیگ پر کھل رہیں تھیں.. جبکہ سکینہ پرسوچ دیکھائ دے رہی تھی.. جبکہ.. دوسری جانب شاہ میر نے… سیل بند کیا.. اور… اپنااپنا والٹ اور گاڑی کی چابی اٹھا کر.. وہ فورا اسی پل وہاں سے نکلا صفدر اسکی جلد بازی پہ ر حیران تھا..
سر منیسٹر صاحب نے آنا ہے.. ضروری میٹنگ ہے آپکو یاد ہے نہ “اسنے کہا تو.. شاہ میر بغیر جواب دیے.. اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اسوقت حرم کے پاس پہنچنا زیادہ ضروری تھا.. ورنہ…
رضا خان کا شاہ پیلس تک پہنچنا اتنا بھی مشکل نہیں تھا اور ویسے بھی وہ پہلے ہی دانہ ڈال چکا تھا اسکے آگے…
حرم.. سکینہ کو جبکہ سکینہ حرم کو گھور رہی تھی ٹھیک ہے بی بی ام اپنا موبائل-فون آپکو دے گا.. مگر اس سے پہلے آپ اپنا لباس بدلے گا.. اور پھر کچھ کھائے گا.. “سکینہ نے کہا تو حرم نے ایک پل میں حامی بھر لی.. اسکی خوشی کی انتھا نہیں تھی کہ.. وہ چاچو سے بات کرے گی اور پھر اس ہینڈسم. دیو کے چنگل سے بھاگ جائے گی…
وہ جلدی سے سکینہ سے.. ڈریس لے کر واشروم چلی گئ.. مگر پہلے اسنے سکینہ کا دیا ہوا جوس پیا…
تا کہ سکینہ پر.. پکا امپریشن پڑ ج؛ ئے اور پھر فورا باتھروم میں بند ہو گئ..
جبکہ سکینہ.. نیچے چلی گئ..
اور جب وہ واپسی واشروم سے نکلی تو.. ٹروزر شرٹ میں خود کو عجوبہ ہی لگی.. کیونکہ اسنے کبھی پہنا نہیں تھا.. اور.. اوپر سے.. اس شرٹ کا گلہ کتنا بڑا تھا کہ کندھوں سے لڑھک رہا تھا…
جسے وہ بار بار اوپر کرتی…
اور دوپٹہ بھی تھا.. اسنے دوپٹہ تو بیڈ پر پھینکا.. اور.. گلے کی تھوڑی سے عقل چلا کر… ڈرویاںڈرویاں بند کیں…
اور اب وہ کچھ مناسب لباس لگ رہا تھا.. وہ جلدی جلدی.. برش پھیر کر بالوں میں نیچے آئ.. توسکینہ.. اسکے لیے ناشتہ لگا رہی تھی…
جبکہ سکینہ کا موبائل بھی وہیں پڑا تھا…
اسنے جھٹ پٹ پہلے موبائل اٹھا لیا…
اور جلدی سے نمبر ڈائل کیا…
ابھی وہ.. کان سے لگاتی ہی کہ.. کسی نے فون جھپٹ کر… اسکے کان سے دور کیا… اور ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پہ ر جڑ دیا جس کے باعث حرم سن ہو کر رہ گئ….
تمھاری کھال اتار لوں گا.. اگر… تمتم نے میرے ساتھ کوئ چلاکی کی بھی تو…. “وہ اتنے غصے سے چچینخا کہ حرم کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا… اوراور شااہ میر جو پہلے سے بھرا ہوا تھا.. اسنے. فون کو دیوار پر مار کر توڑ دیا.. جبکہ سکینہ کی جانب دیکھا جو.. خود کانپ رہی تھی…
اگلی بار چاہ پیلس میں دیکھائ نہ دینا.. ورنہ میرے کتوں کو تمھارا گوشت برا نہیں لگے گا..”وہ دھاڑا… توتو سکینہ تو بوتل کے جن کیطرح غائب ہو گئ.. جبکہ حرم اب بھی ویسے ہی کھڑی تھی..
شاہ میر نے اسکی جانب دیکھا…
جس کی آنکھ سے اب ٹپ ٹپ.. آنسو گیر رہے تھے.. جبکہ چہرے پر تھپڑ کا نشان.. بڑا واضح تھا…
اچانک ہی اسے سب یاد آیا… تو
جیسے شاہ میر خان کو کوئ ہوش میں لے آیا….
اسنے حرم پر کسی بھی قسم کے تشدد سے خود کو بری طرح رکا تھا.. مگر اچانک یہ کیا ہو گیا تھا اس سے..
اسنے گھیری سانس بھری… اوراور اسکی جانب دیکھا.. جو رخ موڑکر.. اوپر کمرے کی جانب جا رہی تھی..
اسے کچھ ہوا.. کہ نہ وہ اس سے لڑی.. اور نہ کوئ بات کی…
حرم “شاہ میر نے پکارہ تو.. حرم.. کے قدم رک گئے…
اسکے وجود میں ہلکی ہلکی سسکی سی تھی
جب میں منع کر چکا ہوں تو تم نے اس شخص کو فون کرنے کا سوچا بھی کیسے..” شاہ میر نے جیسے کچھ بات کرنا چاہی. اسکا لہجہ نارمل تھا کیونکہ معافی کا تو کوئ سکوپ ہی نہیں تھا…
آپکی قیدی ہوں.. قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے… اوراور مالک قیدیوں سے بات نہیں کرتے..” وہ کانپتی آواز میں.. اسکی بات سے الگ ہی بولی یہ شاید وہ جو اسکے دماغ میں چل رہا تھا…
ایسا کچھ نہیں ہے میں تمھیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اب تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی تو مطلب کہیں نہیں جا سکتی.. تو تم کیوں اس گھٹیا انسان کے پاس جانا چاہتی ہو..” وہ جھنجھلا کر بولا تو حرم پلٹی.. اسکی آنکھوں میں سرخی اور لاتعداد آنسو تھے.. جبکہ دوپٹہ گلے سے غائب تھا.. اور بال کھلے ہوئے.. وہ اسکے دیے ہوئے لباس میں بہت پیاری لگ رہی تھی.. مگر یہاں نوکر بھی ہوتے تھے.. اور اسکا دوپٹہ ہی غائب تھا.. شاہ میر.. کو خود کو.. ہر حال میں کنٹرول کرنا پڑا…
چلو اوپر “.اسنے کہا..
نہیں جانا مجھے” وہ تڑخ کر بولی…
تو اگلے ہی لمہے شاہ میر نے.. اسکو گود میں بھر لیا…
وہ چھوئ موئ سی.. اسکے سینے سے لگی تلملا رہی تھی..
زہر لگتے ہیں میر آپ.. مجھے.. بہت برے.. قاتل لوفر.. گندے.. اکڑو دیو… “وہ چلا رہی تھی.. جبکہ میر کے کان پر جوں بھی نہ رینگی…
اور… وہوہ اسے لیے کمرے میں آ گیا.. اور.. بیڈ کے نزدیک آ گیا…
آئندہ تمھیں کبھی نہیں مارو گا.. یہ آجری بار تھا” اسنے آہستگی سے.. اسکے گالوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا…
جبکہ اسکے دیکھنے کے انداز پر حرم کا دل دحرک اٹھا…
چھوڑیں مجھے” حرم نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے…
کہا تو میر.. نے اسے احتیاط سے بیڈ پر لیٹا دیا…
اور اسکے گالوں پر جھک کر.. وہ شاید کوئمرہم رکھ رہا تھا…
حرم تو ساکت رہ گئ.. جبکہ اسکے ہونٹوں کا سفر… گالوںگالوں سے ہوتے… اباب… لبوںلبوں کی جانب تھا.. اور ایک بار پھر سے اسکی سانسوں کو بھی اسنے قید جر لیا…
جبکہ حرم کے بازوں کو اپنی گردن کے گرد خود حائل کیا….
حرم بے دم.. اپنی دھڑکنوں کے شور کو سن رہی تھی..
وہ اپنی مرضی سے کچھ دیر میں دور ہوا.. تو حرم کی نگاہیں بند دیکھ کر.. اسے وہ خوبصورت مجسمی ضرور لگی مگر دل میں کسی بھی قسم کے کوئ جزبات نہ تھے…
آیندہ دوپٹے کا خیال رکھنا….
میری بیوی ہو تم.. رضا.. خان کی بھتیجی نہیں.. میرے نام.. میری پہچان اور میری پسند کو مت بھولو…. تمھیںتمھیں انھیں رنگوں میں ڈھلنا ہے.. جو مجھے چاہیے… “اسنے اسکے کانوں میں سحر پھونک دیا.. حرم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں.. تو شاہ میر نے اسکے ماتھے کا بوسی لیا… اوراور الٹے قدم پلٹ گیا.. جبکہ حرم.. اسکی خوشبو.. میں.. بہک چکی تھی…
………………..
بڑی بی بی.. یہ لڑکی آپ سے ملنا چاہتی ہے جی میں نے تو منع کیا تھا. کہ شاہ میر صاحب نے کسی کو بھی آنے جانے سے منع کیا تھا.. “
چوکیدار نے پریش؛ نی سے کہا.. تو اماں نے اس لڑکی کو دیکھا.. جو جینز اور کرتے مین… بالوںبالوں کا جوڑا بنائے خاصے برے حولیے میں تھی…
تم جاو” اماں نے چوکیدار کو بیجا اور ونیزے کی جانب دیکھا.. جس کی سرخ نگاہیں… اوراور چونکا دینے والا حسن.. بہت خوب تھا…
بیٹھ جاو بیٹا..
انھوں نے کہا…
تو ونیزے میں نفی میں سر ہلایا..
جی نہیں آنٹی…. مجھےمجھے بیٹھنا نہیں ہے جس لڑکی کی زندگی برباد ہو گئ ہو وہ بیٹھ کر کرے گی بھی کیا…. “بس اتنا کہتے ہی وہ ہچکیوں سے رونے لگی جبکہ اماں ایکدم پریشان ہو اٹھیں…
کیا ہو آ بیٹا…” انھیں کچھ سمھجہ نہیں.. آ رہا تھا…
کیا ہوا… آپکےآپکے بیٹے نے لوٹ لیا مجھے تباہ کر دی میری زندگی… میرےمیرے بدن پر یہ نشان.. دیکھیں… اوراور بتائیں مجھے…. کیا… آپآپ کے بیٹے سے محبت کا یہ سلوک ہونا چاہیے تھا میرے ساتھ” اسنے چلاتے ہوئے.. سرخ نشان اپنی گردن پر دکھائے تو.. اماں ششدر.. اسکی جانب دیکھنے لگی..
کیا بولے جا رہی ہیں آپ..” انھون نے حیرت سے پوچھا تو…
وہ انکے قدمون میں گیر گئ..
بہت محبت کرتی تھی مین شہروز سے مگر مین نہیں جانتی تھی وہ حوس کا پجاری ہے… “وہ بری طرح بلک رہی تھی جبکہ مقابل اپنے قدموں پر کانپ گئ…
……………………..
جاری ہے