128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

” چاچو پلیز سوری “حرم پیچھلے چار دنوں سے رضا صاحب کو منانے کی کوشش کر رہی تھی جو زندگی میں پہلی بار اس سے ناراض ہوےتھے۔
“آپکا سوری بلکل قبول نہیں کیا جاے گا جانتی بھی ہیں ہم کتنے شرمندہ تھے بھائ صاحب کے سامنے کبھی آپ اسی جگہوں پر گئ ہیں جو اب چلتی بنی تھیں کیا شہر میں ہوٹل ختم ہو گئے تھے جو برتھڈے پارٹی کلب میں بنائ گئ ۔ ” اس سے بات کرتے ہوے تو انکے لہجے میں رس سا گھول جاتا کہ ڈانٹتے بھی تو محسوس نہ ہوتا ۔ کہ غصہ کر رہے ہیں ۔جبکہ حرم جو اپنی حرکت پر بہت شرمندہ تھی منمنا کر رہ گئ۔
“وہ ونیزے کے فرینڈز نے کہا کہ اس بار کلب میں سیلیبریٹ کریں گے تو ۔ہم” اور پھر وہ خودی خاموش ہو گئ اپنی بات جو بے وزن لگ رہی تھی
“حرم کب آے گی آپکی عقل ٹھکانے ہمیں تو ڈر ہے کوی نقصان ہی نہ کر لیں اپ اپنا اس بےواقوفیوں کی وجہ سے کمال کرتی ہیں ” اور بس اتنی کہنے کی دیرتھی بھل بھل آنسو اسکے رخساروں پربھینے لگے۔
“کیا ہو گیا ہے رضا” رضا صاحب کی بیوی زرینہ نے اسے شانوں سے تھا م کر سینے سے لگا لیا ۔وہ ان دونوں کے لیے ہی بہت عزیز تھی ۔ جیسے ان دونوں کی تو جان اس میں بستی تھی انتہائ بےوقوف ہونے کے ساتھ ساتھ حسن کی دولت سے ملامال تھی
بہت چھوٹی تھی جب ماں باپ کی پلین کریش میں ڈیتھ ہو گئ اسکے بعد حرم کی پرورش ان دونوں نے ہی کی کہ اپنی کوئ اولاد جو نہ تھی ۔
“اتنی دیر سے کہی توجا رہی ہوں اب نہیں جاو گی مان کے ہی نہیں دے رہے ہیں “وہ آنسووں کے درمیان بولی رضا صاحب کو اچانک ہی ڈھیر سا پیار آیا اسپر
پیار بھری نگاہ اسپر ڈالی اور اسکے برابر بیٹھ گئے۔
“اب وعدہ کرو کبھی اس”فیضان کے بچے اور ونیزے کی باتوں میں نہیں آو گئ”
“جی جی وعدہ ” وہ ایکدم جوش سے بولی۔
“گڈ گرل” انہوں نے محبت بھرا بوسہ اسکی پیشانی پر کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ونیزے یو لوکینگ گرجیس”
“آی نو دیٹ کچھ اور کہو” اسکے لہجے میں۔ بےزاری تھی۔ جیسے اسکی تعریف کے سب لفظ پرانے ہو گئے ہو ۔
“تم تم ہنی کسی بھی باشعور کا ایمان خراب کر سکتی ہو” عدیل تو جیسے جان دینے کے درپے تھا۔ شہروز جو انکی ٹیبل سے اگلی ٹیبل پر بیٹھا تھا ناگواری سے اسنے لڑکے کے بےہودہ ڈائلوگ سنے ۔
“یہ بھی جانتی ہوں کچھ اور بتاو” لڑکی کی بے زار آواز ابھری ۔
“ائ ایم سپیچ لیس” اور بلآخر لڑکے نے ہارمان لی کہ مزید وہ اسکے شعلہ صفت حسن کو خراج نہیں دے پا رہا تھا۔
“ہاہاہاہا” نسوانی قہقہ ابھرا ۔
“اچھی بات ہے ہار مان لی کیوں کہ جو انداز میں چاہتی ہوں وہ آج تک مجھے ملا نہیں بے زار ہوں میں تم لوگوں کے فضول ڈائیلوگز سے ” لڑکی کی بات پر اسکا دل کیا زور دارتماچا منہ پر مارے اور پوچھے بھلہ ایسےکبھی کیا تمھارے ساتھ کسی نے۔ وہ حیران تھا یہ لڑکی کس طرح اپنی ذات کو ان گھٹیاں لڑکوں میں ڈسکس کر رہی تھی ۔
راحیل نے آج اسے ڈنر پر انوائییٹ کیا تھا اور وہ تو پہنچ گیا تھا جبکہ راحیل غائب تھا۔
اور اب تو ان گھٹیاں لڑکی لڑکوں کی باتیں سن کر اسکا سردرد کرنے لگا تھا۔
وہ اٹھ کے جاتا کہ سامنے سے راحیل آگیا اسنے سکون کا سانس لیا۔
بئیرکی نازک بوتل بیچ میں گھومی تو اس بار بوتل کا رخ ونیزے کیطرف تھا
“نو مین” اسنے ایک ادا سے اپنے ڈارک ریڈش بلیک بالوں کو جھٹکا۔ جبکہ سب کے ہرے کے نعرے بلند ہوے ۔
تمہارا ڈئیر یہ ہے کہ اس سامنے ٹیبل پر جو لڑکا بیٹھا ہے اس کے ساتھ کل اپنی ڈیٹ فیکس کرو”
عدیل کے لاجواب ڈئیر نے سب کو پرجوش کر دیا۔ سب اسے چیئر اپ کرنے لگے۔
“نو پروبلم سوئیٹ ہارٹ بھلا کوئ ونیزے کو ریجیکٹ کر سکا ہے کبھی” وہ کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوی ۔ وہ سب اسے چیئرراپ کر رہے تھےاسکا رخ شہروز کی ٹیبل کی جانب تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شہروز نے کھانا کھانے کے دوران اپنے قریب کسی کی موجودگی محسوس کی تو منہ اٹھا کر اس چلتے پھیرتے
حسن۔ کے تحفے کو دیکھا۔
بلیک ٹائٹ جینز پر بلیک ہی ٹایٹ شرٹ جس کا کشادہ گلہ تھا اوپربلیک جیکٹ
جس کا ہوڈ اسنے سر پر لیا ہوا تھا اور شوولڈرز پر ریڈش بلیک بال لاپراوہی سے پھیلے ہوے تھے۔ وہ کوئ قیمتیی خزانہ لگ رہی تھی۔
راحیل منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ اسکی نظریں اسپرتھی جس نے ایک نگاہ غلط ڈال کر کھانا کھانا شروع کر دیا تھا۔ گویا نظرانداز ہی کیا۔
ونیزے اس ادا پر مسکراے بغیر نہ رہ سکی ۔
“نام کیا ہے تمہارا” بےتکلفانہ انداز میں پوچھا گیا۔
شہروز نے جواب دینا مناسب نہ سمھجا جبکہ عدیل نے اسکا نام بتایا۔
“اسکا نام شہروز ہے”
“خاصا روبدارنام ہے “اسکی دلچسپی بڑھی اوروہ انکے پاس بیٹھ گئ
شہروز اب بھی اسے نظرانداز کیے ہوے تھا۔
کیا آپ لوگوں کو مہمان کو ٹریٹ کرنے کے رولز نہیں آتے۔ کچھ افر بھی نہیں کیا آپ نے”
“اُہ پلیز آپ لیں نہ” عدیل نے شرمندہ ہو کر اسکے سامنے مختلف لوازمات کی ٹرے رکھی۔ مگر اسے بھلا کھانے میں کب ۔ دلچسپی تھی ۔
“مسٹر شہروز کیا میں آپ کی پلیٹ شئیر کر سکتی ہوں “وہ اپنا ہر گُر صرف اسے متوجہ کرنے کے لیے اپنا رہی تھی۔ مگر مقابل بھی شہروز خان تھا کوئ سڑک چھاپ عشق نہیں۔
“ِول یو پلیز شیٹ اپ” وہ بڑے ضبط سے بولا۔
“چاہتی کیا ہیں آپ” بلآخر وہ مدے پر آہی گیا۔
“آپ کے ساتھ کل ڈیٹ بس سیمپل” وہ سکون سے بولی۔
“آپ کا معیار اتنا نہیں ہے جبکہ شہروز خان صرف اپنے معیار کے لوگوں سے بات کرتا ہے۔”
وہ نخوت سے کہتا چئیر چھوڑ کر ہوٹل سے باہر ہی نکل گیا جبکہ عدیل بمشکل ہنسی روکتا بل پے کرکے اسکے پیچھے بھاگا۔ جبکہ ۔۔ وہ مسکرا اٹھی ۔
مین آف سٹون” ٹائٹل دے کر.. وہ خود بھی وہاں سے نکل گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔///////۔۔۔۔۔۔۔
“اسنے
راستے میں سے صفدر کو پک کیا۔ اور منیسڑ حیدر یزدانی کی کوٹھی کے آگے گاڑی روکی ۔ وہ دونوں اندر داخل ہوے وہاں کا ماحول بہت لگزری تھا۔ خواتین مرد حضرات نوجوان جنریشن یہ تقریباً مکس گیدرنگ تھی ۔ وہ حیدر یزدانی سے ملا اور جسٹیس ریاض کی جانب مُڑ گیا۔ محفل اپنے اروج پر تھی ۔ ماحول بھی خاصا زبردست تھا ۔ وہ جسٹیس ریاض کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا کہ حیدر صاحب کی پکار پر پلٹا۔ اور انکی جانب چل پڑا جن کے ساتھ انکی بیٹی گرے میکسی میں چہرے کے نقوشوں کو میکپ سے مزید پر کشش بناے کھڑی تھی۔
“شاہ میر ہماری بیٹی سے ملو ونیزے حیدر یزدانی”
“اور بیٹے یہ ڈی ایس پی شاہ میر ہمارے ڈیپرٹمنٹ کے نڈر اور سنجیدہ سے کاریندے ہیں “
“ہیلو” لڑکی نے اپنا نازک مرمری ہاتھ اسکی طرف بڑھایا۔
جبکہ اسنے ایک ناگوار نظر اسپر اٹھائ ۔
“میں خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ “ونیزے کے چہرے پر سرخی سی پھیل۔ گئ جبکہ ۔حیدر یزدانی اسے اپنے کسی دوست کی جانب لے کر بڑھ گئے ۔ جو پیٹھ موڑے کھڑے تھے۔
“رضا ان سے ملو یہ ڈی ایس پی شاہ میر ہیں
اور شاہ میر یہ میرے بہترین دوست رضا خان ” شاہ میر خاموشی سے انکی طرف دیکھ رہا تھا ۔
جنہوں نے خوش اخلاقی سے اسکی جانب مصحافے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“کیسے ہو برخوردار” انکے اندازتخاتب پر اسکے وجود میں چنگاریاں سی بھرنے لگی ۔ کیوں بار بار اسکی قسمت اس ناپسندیدہ شخص سے ملوا رہی تھی۔ ا
ضبط کی حدیں بھی اب کہ پار ہونے لگی تھیں ۔ انکا ہاتھ اب بھی اسکی طرف بڑھا ہوا تھا۔
اسنے انکی جانب ہاتھ نہ بڑھایا۔
“مجھے ان الفاظوں سے کبھی کسی نے نہیں پکارا میں یہی چاہوں گا مجھے میرے نام سے پکارا جائے”
سرد آواز میں کہا گیا۔ وہ کچھ خفت ذدہ سے ہو گئے ۔ حیدر صاحب کو بھی اسکا انداز ناگوار گزرا جبکہ صفدر جو اسکے ساتھ ساتھ تھا ایک ملامتی نظر اسپر ڈال کر رہ گیا۔
“کیسے ہیں آپ مسڑ شاہ میر ” انہوں نے اب کہ اسکی منشا کے مطابق اسے پکارا ۔
” اللہ کا خاص کرم ہے رضا صاحب ورنہ لوگو ں نے تو سب بگاڑنے میں کوئ کثر نہیں چھوڑی تھی ۔ “وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔ اور دوسری جانب چل دیا۔ ماحول کی کثافت کم کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ وہاں سے ٹل جائے ۔
جبکہ رضا صاحب نہ سمھجی سے اسکی پیٹھ کو دیکھ رہے تھے۔ ذہن کی سکرین پر کسی اپنے کا جھپاکا سا ہوا ۔ وہ کچھ بے چین سے ہو گئے اسکے اندازچہرے کے نقوش شخصیت کی بے نیازی ان کے ذہن کو منتشر کر رہی تھی۔ پرتکلف ڈنر کا احتمام تھا ۔ حیدر صاحب نے سب کو کھانے کے لیے ایک ہال میں بلایا ۔ جہاں بوفے سسٹم تھا ۔ وہ اور صفدر کھانے کی جانب بڑھے وہ کچھ خاموش خاموش سا تھا ۔ صفدر نے اسکی پلیٹ میں کھانا نکال کر اسکے ہاتھ میں پلیٹ دی اور پھر خودبھی کھانا نکال کر وہ دونوں باتوں کے درمیان کھانا کھانے لگے ۔ رضا صاحب کی نظریں کافی دیر سے اسپر ٹکی ہوئ تھیں ۔ اور بلآخر وہ اپنے اندر اٹھتی بےچینی کے ہاتھ مجبور ہو کر وہ اسکی جانب بڑھے۔
“ایکسکیوزمی ” شاہ میر پیٹھ سے آتی آواز پر پلٹا۔ اور رضا کو دیکھ کر اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا ۔ چہرے کے نقوشوں میں بزاریت ناگواری کیا کیا نا گھل گیا۔
“جی فرمائیے “
انکی آنکھیں اسکی آنکھوں میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں جیسے کسی بات کا یقین چاہ رہی ہوں ۔
“اپکا نام شاہ میر رضا ” انکا لہجہ کانپ سا گیا دل کی کفیت ناقبلِ یقین سی ہو گئ ۔
کہنے کو تو یہ صرف الفاظ تھے مگر اسکے مظبوط اعصابوں پر ہتھوڑوں کی مانند برسے۔
اسنے کلیجہ چئیر دینے والی نظروں سے انہیں دیکھا۔ سرخ نگاہیں نم نگاہوں میں گاڑ دی ۔
اب کہ چھوپانے کا کیا فائدہ تھا جب وہ خود ہی اس تک پہنچ گئے تھے ۔ اور وہ تو چاہتا تھا ۔ کہ ان کے حصے میں بھی وہ اذیاتیں ڈال دے ۔ جو ان لوگوں نے سہی۔
“بدقسمتی سے” سلگتا ہوا لہجہ تھا۔ جبکہ رضا صاحب پورے وجود سے کانپ گئے جی چاہا رب کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں ۔ بے قصوروں کے ساتھ کیے ہوے معملے کی سزا انہوں نے اور انکی
ماں نے کیسے بھگتی تھی وہ وہی جانتے تھے ۔ کتنی نی انکے مل جانے کی رب کے حضور گڑگڑا گڑگڑا کے دعا مانگی تھی۔ وہ لڑکھڑا سے گئے مگر وہ سہارا نہ دے سکا۔ اور سفاقی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ وہ اسے روکنا چاہتے تھے۔ گلے سے لگانا چاہتے تھے ۔اپنے گناہوں کی معافی منگنا چاہتے تھے مگر زبان کو تو جیسے چپ کا قفل لگ گیا۔
جبکہ انکے برعکس مقابل کا بس نہیں چل رہا تھا سب تہس نہس کر دے۔ کب تک وہ اکیلا ہی یہ تکلیفیں برداشت کرتا ۔ اسنے سوچ لیا تھا ۔ رضا خان کے خاندان کے ایک ایک فرد کے اندر وہ وہی اذیتیں اتار دے گا جو اسکی ماں اور وہ آج تک سہتے آے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل سے اسے رونگ نمبر سے کال آ رہی تھیں ۔ اور جب جب بے وقت اسکا سیل بجتا ۔اور اماں کی نظریں اسپر اٹھتی وہ عجیب سا محسوس کرتی اب بھی کچھ دیر پہلے وہ اماں کے پاس بیٹھی تھی معمول سے ہٹ کر موسم میں آج خوشگوار سا تاثر تھا اچھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی شہروز وہ اور اماں باہر لان میں بیٹھے تھے ۔ اسکی اور شہروز کی بحث اروج پر تھی کہ اسکا سیل زور سے بجا۔ اسی رونگ نمبرسے کال آتی دیکھ کر اسنے کال کاٹ دی۔ دس منٹ بعد پھر سے فون بجنے لگا ۔ اسنے غصے سے سیل فون اُف ہی کر دیا۔
“جاو چائے بنا لاو اور اس کو زرا کم۔ ہی استعمال کیا کرو غیر ضروری اس کا استعمال مجھے پسند نہیں “اور بلآخر اماں نے اپنی ناگواری ظاہر کر دی ۔ شانزے کا غصے سے برا حال ہو گیا ۔
اسنے سیل فون اٹھا کر لاونج کے صوفے پر پٹخا۔ اماں اور شہروز کے لیے چائے بنا کر باہر لان میں دی اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئ۔
سیل فون اون کیا اسی اجنبی کی کالز آئ ہوئی تھی اسنے بغیر کچھ سوچے سمھجے اسی نمبر پر کال ملا دی غصہ تو اتنا تھا کہ اسنے نقصانات کے بارے میں سوچا بھی نہیں ۔ نہ یہ سوچا کہ اگر گھر میں کسی کو پتا چل گیا تو کیا ہو گا۔
کال جا رہی تھی۔ اور کچھ ہی دیر میں فون اٹینڈ کر لیا گیا۔
“زاہے نصیب آپ نے ہمیں یاد کیا۔ فیضان اتنا خوش نصیب بھی ہو سکتا تھا”اسکی شوخ آواز اسے سخت زہر لگی ۔
“گدھے ۔ُالو کے پٹھے۔ پگل انسان آج کے بعد مجھے فون کیا تو تمھاری ساری ہڈیوں کا سوپ بنوا کے تمھہیں ہی پلا دوں گی سمھجے” وہ گرجی ۔۔۔ مگر کیا خوب انداز تھا گرجنے کا ۔ مقابل کا قہقہ بےساختہ تھا۔
“میرا مستقبل سیا ہ کیوں لگ رہا ہے مجھے” اسنے حیرانگی سے اسکے فقرے سنے اور جل۔ کر کال۔ ہی۔ کاٹ دی۔
“بکواس سنو زرا اس کم بخت کی پیچھے ہی پڑ گیا ہے” فیضان ہاتھ دھو کر اسکے پیچھے پڑ چکا تھا وہ جہاں جاتی وہ پہلے سے وہاں موجود ہوتا۔ وہ تنگ آ گئ تھی اسکی اُچھی حرکتوں سے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فل سپیڈ سے ڈرائیو کر رہی تھی پورے ایک ہفتے بعد آج اسے بلآخر چاچو کی طرف سے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ملی تھی۔ خوب دل لگا کر پہلے تو وہ تیار ہوئ گھر میں رہ رہ کر اسے اپنا آپ ڈل ااینڈ بور سا محسوس ہو رہا تھا حالانکہ صرف ایک ہفتے بمشکل گھر پر رکی تھی ۔مہرون جینز پر پنک شرٹ اور گلے میں بڑے سٹائل سے مفلر کو سیٹ کیے وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔ ااور سب سے پیاری بات اسکے ہونٹ پر موجود سیاہ تل…
اسکو بہت منفرد اور مزید خوبصورت بنا دیتا تھا۔ گاڑی میں لائٹ سا انگلش سونگ چل رہا تھا جسے وہ خوب انجوائے کر رہی تھی۔ اور وہ ایسی ہی تھی۔ زندگی کی تلخیوں سے دور ۔ اپنے ہی جہان میں مست ۔
اسنے شہرکے سب سے بڑے مول۔ کے آگے گاڑی روکی ۔ اور کیرنگ گھوماتی ہوی اندر کی جانب چلنے لگی ۔ پنک ہیل میں اسکی نازک سے پاوں بہت حسین لگ رہے تھے۔ اسکے چلنے کا انداز بھی ایک ادا لیے ہوے تھا۔ بہت سے لوگوں کی نظریں اسپر گڑہی تھی ۔ وہ جانتی تھی۔ وہ خوبصورت ہے ۔۔ اور بےوقوفانہ سوچ تو یہ تھی کے خوبصورتی کو ہر کوئ دیکھتا ہے ۔ چھوپانے سے بھلہ کیا فائدہ جبکہ اسکی یہی فضول سوچ زرینہ کو پریشان کیے رکھتی تھی۔
وہ سب سے پہلے ٹواے شاپ میں گئ ۔ اسیے جانور بہت پسند تھے ۔ اور اکثر وہ رضا صاحب سے ضد لگا لیتی کے مجھے گھر کے بیک یارڈ میں چھوٹا سا زو بنوا کر دیں ۔ جبکہ رضا صاحب سر پکڑ کر رہ جا تے ۔ وہ بہت عجیب تھی عام لڑکیوں سے ؑہہت مختلف ۔
اسنے وہاں سے ٹیڈی بیرز لیےکیوٹ سے نرم گداز روی کے ریبیٹ ۔۔۔ لیے اور پیمینٹ کر کے باہر نکل اب اسکا رخ شو شاپ کی جانب تھا۔ باتوں کا اتنا شوخ تھا کہ مدھم آواز میں وہ روئ کے خرگوش کے ساتھ مسلسل بولتی جا رہی تھی۔
وہ مختلف ریکس میں ہیل شوز دیکھ رہی تھی ۔ اور ساتھ چاکلیٹ بھی کھائ جا رہی تھی جبکہ خرگوش سے اسکی چوائس بھی پوچھی جا رہی تھی۔
جبکہ سیلز مین لڑکی کی بےوقوفانہ حرکتوں پر بمشکل اپنی ہنسی روکے ہوے تھا۔
اور بلآخر اسے ایک نازک سا بلیو کلر کا ہیل سینڈیل پسند آہی گیا۔ اسنے سیلز مین کو نکلنے کو کہا اور اپنی ہی دہن میں آگے چلنے لگی کے کسی سے زبردست ٹکرائ ۔
“اف خدا اس دوکان میں پہاڑ بھی ہیں ۔۔۔وہ اپنی پیشانی کو سہلاتی ہوئ بولی” اور نظریں اٹھائیں تو غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ وہی پولیس والا تھا جس نے انہیں بلاوجہ ہی جیل کی ہوا کھیلائ تھی جس کی وجہ سے وہ پیچھلے ایک ہفتے سے گھر میں بند تھی ۔ جبکہ جان سے پیارے چاچو بھی اس سے خفا ہوے تھے۔ یعنی شاہ میر خان ۔۔۔ اسکا بس نہیں چلا اسکو کچا چبا جاو مگرکچھ کچھ وہ اس سے خوفزدہ بھی تھی جو سردوسپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تمیز کیا گھر بھول آے ہو چلنے کی”
وہ اسے گھورتی ہوئ بولی جس کے چہرے پر بلا کی سختی تھی ۔۔جو شاید ہمیشہ ہی رہتی تھی۔
شاہ میر نے کچھ حیرانگی اور نفرت سے اسکیطرف دیکھا۔ دل تو کیا اس بدتمیزی پر اس پانچ فٹ کچھ انچ کی لڑکی کے منہ پر تھپڑ دے مارےمگر پبلیک پلیس پر وہ کوئ ہنگامہ نہیں چاہتا تھا تبھی عادت کے بر خلاف اسنے خاموشی سے نکلنا چاہا مگر حرم نے نکلنے نہیں دیا۔
“ایڈیٹ بھاگے کہاں جا رہے ہواب ۔۔۔ اس دن تو بہت بول رہے تھے اورمیرے چاچو کے آتے ہی دم دبا کر بھاگ نکلے۔ آے بڑے ڈی ایس پی ڈر پھوک ڈی ایس پی اور اب مجھےبھی جواب دےبغیربھاگ رہے ہو۔ دیکھ رہے ہو ریبیٹ ۔۔۔۔ ایسا بھی کوئ پولیس والا ہوتا ہے۔ ۔۔ بزدل کہیں کا۔ ۔۔۔۔۔ ہمہ” وہ نخوت سے بولی جا رہی تھی یہ سوچے بغیر کہ مقابل اسکی باتوں کا کتنا اثر لے رہا ہے۔
وہ اپنی بےوقوفی اورنا دنستگی میں ہی شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال چکی تھی۔
ارد گرد کے لوگ بھی انکی طرف متوجہ تھے اور اس کی جیسی کئ لڑکیاں حرم کی کارکردگی پر مسکرا رہی تھی۔ شاہ میر کے وجود میں اسکے الفاظ اور بزدلی کا تعنہ نیزے کی مانند لگ رہے تھے ۔ وہ زخمی نظروں سےاسے دیکھ رہا تھا۔ جبکہ اب حرم کو اس سے خوف آنےلگا ۔ وہ اسکے پاس سے ہٹ جانا چاہتی تھی کہ شاہ میر کے لوہے جیسے ہاتھوں میں اسکے نازک ہاتھ کانپ گے ۔
“تمھاری اس بکواس کا جواب بہت تکلیف دے ہو گا حرم خان شاہ میر کبھی اپنے دوشمنوں کو نہیں بخشتا ” اسنے ایک جھٹکےسے اسکی کلائ چھوڑی اور باہر نکل گیا ۔
“جاہل گوار” وہ نم آنکھوں سے اپنی کلائ سہلانے لگی۔
کلائ میں اسکی فولادی انگلیوں کے نشان پڑے تھے.. موٹے موٹے آنسو گال پر پھیسل گئے…
وہ آنسو رگڑتی.. باہر نکلی عقل تو بس اتنی ہی تھی یہ بھی نہیں سوچا اس اجنبی کو اسکا نام کیسے پتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے