128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

اماں “شہروز نے دروازہ کھول کر پکارہ… تو وہ جو شانزے سے.. بات کر رہیں تھیں اسکی بھکالئ ہوئ آواز پر ایکدم پریشان ہو اٹھیں..
کیا ہوا” شانزے بھی اٹھی
وہ ونیزے کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے “وہ بولا تو اماں باہر نکلیں..
کیا ہو گیا اللہ خیر” وہ شہروز کے کمرے کی جانب بڑھیں جبکہ شانزے نے شاہ میر کے کمرے کا رخ کیا..
لالا” شانزے کی آواز پر.. وہ جو حرم کو سسکیاں بھرتے دیکھ رہا تھا…
اسنے فورا دروازہ کھلا..
خیریت” شانزے کا فق چہرہ دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوا..
ونیزے بھابھی کو کچھ ہو گیا ہے” وہ بولی اور..
نیچے انکے روم کی جانب بڑھی…
جبکہ حرم بھی اپنے آنسوں پر دو لفظ بولتی شاہ میر سے پہلے نکلی تھی.. وہ سب شہروز کے کمرے میں اکھٹے تھے…
جبکہ ونیزے اب بھی قے کر رہی تھی…
اماں اسکی پشت پر ہاتھ پھیر رہیں تھیں.. ان سب کے چہرے فق تھے جبکہ اماں… اپنی مسکراہٹ دبا رہیں تھیں..
یہ ہوا کیا ہے “ونیزے کو بے حال ہوتا دیکھ.. شہروز نے اماں کیطرف دیکھا.. تو انھوں نے ونیزے کو احتیاط سے.. بستر پر لیٹایا..
شانزے جاو.. بھابھی کے لیے.. لیمو پانی لے کر آو..” اماں نے کہا جبکہ ونیزے نے.. بھیگی پلکوں سے منع کیا..
میرا دل نہیں کر رہا “وہ بری طرح روی..
ارے رونے کی کیا بات ہے… “اماں نے ونیزے کو پیار کیا…
اماں میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں” شاہ میر نے کہا…
تو انھوں نے اثبات مین سر ہلایا..
کیا ضرورت تھی فضول کھانے کی “شہروز نے آنکھیں نکالی جبکہ ونیزے اس وقت جخود کو بہت کمزور محسوس کر رہی تھی اسکی سسکیاں اور بڑھ گئیں..
شہروز” اماں نے بری طرح.. گھورا..
اب میں تمھاری کوئ بکواس برداشت نہیں کرو گی…
اب اسکی ایسی حالت نہیں ہے کہ تم بلاوجہ اسے سناو… جان جوڑ گئ ہے ایک اور اس کے ساتھ خیر سے.. اللہ نظرے بد سے بچائے” اماں تو نہال ہوئے جا رہی تھیں جبکہ وہ سب منہ کھولے کھڑے تھے حتی کہ ونیزے بھی انکا مفہوم سمجھنے سے قاصر تھی..
ارے بوندھو.. باپ بننے والے ہو..” ماں ہنسی… تو… شہروز کو تو جھٹکا لگا.. جبکہ ونیزے.. ساکت رہ گئ….
ہیں… س.. سچ اماں”وہ… خوشی سے بے یقین ہوا…
ہاں میرا بچہ… بہت مبارک ہو “انھوں نے سے سینے سے لگایا.. جبکہ.. شاہ میر.. حرم اور شانزے بھی حیرت سے.. اس خوش خبری کو سن رہے تھے…
مبارک ہو.. بھئ.. بڑے فاسٹ نکلے.. “شاہ میر نے اسے گلے لگاتے ہوئے دھیمی آواز میں چھیڑہ.. تو… وہ ہنس دیا..
آپ بھی سوچ لیں… ویسے میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا…” وہ خوشی سے جھوم اٹھا… اور ونیزے کا بے تاثر چہرہ دیکھا…
حرم بھی خوشی سے.. ابھی کچھ دیر پہلے.. والی بات بھلائے..
ونیزے کے پاس بید ہر تھی..
آہ گاڈ ونیزے… چھوٹا بیبی…” وہ اسکے گلے سے لگی.. تو ونیزے پھیکا سا ہنس دی..
جبکہ شانزے بھی مبارک بعد دے رہی تھی…
میں پھوپھو بننے والی ہوں” وہ چہکی… تو.. شہروز.. جو اس خوشی کو سما ہی نہیں پا رہا تھا.. اسکے بال بگاڑ گیا.. میں مٹھائ لاتا ہوں “وہ کہتے ساتھ دوڑا..
اماں اپنے مکمل گھر کو.. محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگی…
انکے بچوں کو تو یہ خوشیاں نصیب نہیں ہوئیں.. تو کیا ہوا…
انکے بچوں نے بچے.. تو اس خوشی ایکدسائٹمنٹ کو ڈیزرو کرتے تھے….
اتنی ہی دیر میں ڈاکٹر بھی آ گئیں اور وہی خوشخبری سنائ.. جبکہ سب مسکرا اٹھے…
یہ ویک.. ہیں سٹریس بھی لیتی ہیں…
مگر اب.. انکی کئیر کریں.. تا کہ بیبی ہیلتی ہو… اور.. باقی پروپر. پروپر چیک اپ… ہر منتھ کرایں”وہ کہہ کر.. چلی گئیں.. جبکہ.. اماں تو سٹریس اور کمزور والی بات پر.. پریشان ہو گئیں..
ونیزے بیٹے.. کیا ٹینشن ہے..” انھوں نے ونیزے.. کا ہاتھ تھاما.. جس کا دل بھرا ہوا تھا…
شاہ میر.. ان سب کو وہیں چھوڑے اپنے روم میں چلا گیا…
جبکہ ونیزے نے اماں کے ہاتھ ہر سر ٹکایا اور رونے لگی…
میں ڈیزرو نہیں کرتی” وہ سسکی…
یہ کیسی بات ہے… اتنے اہم رطبے پر خدا تمھیں فائز کر رہا ہے تم کیسی باتین کر رہی ہو” اماں نے ڈپٹا…
اماں.. میں… مجھے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا…
میں نے کبھی ماں کا پیار نہیں دیکھا.. میں اپنے بچے کو کیسے پیار دے سکتی ہوں… “وہ بولی.. تو اماں سر تھام گئیں اسکی فیلنگز بھی جائز تھیں..
اور سب سے بڑا خدشہ…
یہ کوئ محبت کی نشانی نہیں تھی..
وہ دل میں دبا گئ…
اسکے علاوہ کچھ” ماں نے اسک انگاہ چرانا دیکھا…
مگر وہ حرم اور شانزے کی وجہ سے…
کچھ نہ بولی.. چندہ آپ لوگ روم میں جاو.. میں ہون.. ونیزے کے پاس” اماں نے کہا.. تو شانزے آٹھ گئ.
. مگر اماں مجھے بیٹھنا ہے.. اب تو بیبی بھی ہے ہمارے درمیان “حرم نے چھک کر ونیزے کی بیلی کو ٹچ کیا.. تو ونیزے سرخ پڑ گئ…
میرا بچہ.. اتنا معصوم کیوں ہے.. “اماں ہنس دیں.. حرم انکی طرف دیکھنے لگی..
ابھی تم شاہ میر کے پاس جاو” امان نے ہنسی روکتے کہا تو حرم کو سب یاد آ گیا..
اسک اتو وہ سر پھاڑ دیتی مگر اسکے پاس نہ جاتی.. “وہ کچھ سوچتے ہوئے آٹھ گئ… کیا ڈر ہے بتاو مجھے” اسکے جانے کے بعد اما‌ نے ونیزے کی طرف دیکھا…
وہ…. وہ راضی نہیں ہیں مجھ سے… یہ محبت کی نشانی بلکل نہیں ہے…. تو وہ خوش کیسے ہو سکتے ہیں..
میں انکے لیے انچاھی لڑکی تھی جو الزام لگا کر انکی زندگی میں آئ…
وقتی جزبوں… کا صلہ ہے یہ….
یہ محبت نہیں ہے.. وہ پیار نہیں دیں گے…. “
اپنی بکواس بند کرو گی تم” شہروز کی دھاڑ پر اچانک اسکی زبان کو بریک لگا….
اماں نے مڑ کر دیکھا.. انھیں.. وہ وقت یاد آ گیا.. جبکہ شاہ میر کی پیدائش سے پہلے انکے فل میں یہ ہی.. وسوسے تھے جو حقیقت کا روپ دھار چکے تھے…
اماں آپ منہ میٹھا کریں”اسکو اگنور کیے… وہ اماں کی جانب متوجہ ہوا…
شہروز تم” اماں نے کچھ کہنا چاہا..
آپ میرے ساتھ آئیں.. “وہ انھیں باہر لے گیا جبکہ ونیزے کو ہر بات پر مہر لگاتی دیکھا دی..
یہ غلط ہوا تھا.. ابھی اس بچے کی گنجائش نہیں تھی انکے رشتے میں.. وہ اسکے دل میں اپنی جگہ بنا نہیں سکی تھی اپنی اولاد کی جگہ کیا بناتی…
شہروز.. وہ.. کیا کیا سوچ رہی ہے” اماں حیران تھیں..
آپ ٹنشن نہ لیں میں اسکا دماغ ٹھکانے لگا دو گا… اسکا” شہروز نے دانت کچکائے..
ڈاکٹر نے س٥ریس سے منعکیا ہے.. بچے کی ہیلتھ کے لیے.. تم اسے مزید پریشان نہیں کرو گے اسے انسکیورٹی ہو رہی ہے..
بات کرو اس سے اپنے ہونے کا مان بخشو.. یہ وہ وقت ہے جب عورت کو سب سے زیادہ اپنے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے..”
اماں اور کس طرح خیال رکھتا ہے بندہ.. اور ویسے بھی.. پہلی عورت نہین ہے جو ماں بنے گی.. نکھرے بلاوجہ.” اسنے خود ہی مٹھائ کھاتے کہا.. یہ احساس ہی بڑا مزے کا تھا وہ باپ بننے والا ہے..
اچھا… جب اتنی ہی لاپرواہی بتنی تھی تو ڈالا کیوں اسے اس جھنجھٹ میں “اماں غصے سے بھڑکیں.. جبکہ وہ شرمندہ ہو گیا..
کیسی باتیں کر رہیں ہیں آپ “
وہ ہی جو تمھارے بھیجے میں اتریں” اماں اسے سے مٹھائ کا ڈبہ لیتی چلی گئیں.. جبکہ وہ ونیزے کیطرف بڑھا..
کیا تماشہ لگایا ہوا ہے تم نے” وہ دندناتا ہوا اس تک پہنچا..
سچ بول رہی ہوں میں… کیوں ہوا ہے یہ اسے نہیں ہونا چاہیے..” وہ ہزیانی ہوئ.. تو شہروز کا میٹر گھوما..
میں تمھارا منہ توڑ دو گا اگر تم نے.. کوئ بکواس کی یہ میرا بچہ ہے اور جب میں اس کے آنے پر خوش ہوں تمھیں کیا تکلیف ہے “وہ.. بولا.. تو ونیزے تلخی سے ہنسی….
اسکی ماں.. سے.. محبت آپکو نہیں.. ایک ان چاہا وجود ہے.. اسکی ماں آپکے لیے.. اور…”
بہت خوب یہ تو تم نے ٹھیک کہا.. ان چاہا وجود ہو تم میرے لیے…
مگر.. میرا بچہ ان چاہا نہیں ہے.. مجھے تم سے کوئ کنسرن ہو یا نہ ہو.. اپنے بچے سے ضرور ہے…
اور یہ جو محبت کے قصے مجھے سنا رہی ہو..
تم نے خود کبھی کوشش نہیں کی…
آئندہ مین.. اپنے بیٹے کے لیے ایک لفظ بھی نہ سنو “
بیٹے” ونیزے بڑبڑائ..
ہاں بیٹے “وہ بولا.. اور واشروم میں بند ہو گیا…
بلواجہ.. وہ لڑکی.. اسکو غصہ دلا گئ تھی..
اور وہ جو فضول مفروضے سجائے بیٹھی تھی وہ بخشنے والا نہین تھا اسے..
یہ حقیقت تھی وہ اس سے محبت نہین کرتا تھا.. مگر یہ بھی حقیقت تھی وہ اس سے اب نفرت نہین کرتا تھا…
مگر اپنی آنے والی اولاد بی[آ یہ بیٹی..
اسے پہلی خیبر پر ہی اس سے محبت ہو گئ تھی..
کوئ بعید نہیں آ قریب یہ محبت.. اپنے بچے کی ماں سے بھی وہ کر بیٹھے.. اگر وہ لڑکی کوشش کرے تو…
……………
حرم… ٹیرس پر چلی گئ تھی جبکہ اپنے بالوں کو پونی کی گرفت سے آزاد کر دیا…
یہ ٹھنڈی ہوا اسے بہت اچھی لگ رہی تھی… جبکہ شفون کا ڈریس… اس کو سردی کا احساس دلا گیا…
اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا بال کافی بڑھ گئے تھے…
اسنے آدھے سر سے بال اٹھا کر.. ٹیھڑی مانگ نکالی.. اور دائیں کندھے پر بال ڈال لیے..
جبکہ شاہ میر جو کافی دیر سے اسکا روم میں ویٹ کرتا رہا.. اب..
اسے ڈھونڈتا ہوا یہاں آیا… تو.. اسکے حسن کے نظاروں سے.. خود پر قابو کافی مشکل لگا.. اوپر سے بھوک بھی لگ رہی تھی..
حرم چاند کی جانب دیکھ رہی تھی…
اصولا.. اس رطبے پر پہلے.. تمھیں فائز ہونا چاہیے تھا.. “اسنے پیچھے سے اسپر حصار بندھا جسے حرم نے ایک جھٹکے سے توڑا.. وہ اسکی بات ہر سرخ ہوئ تھی…
ارے” شاہ میر نے اپنی ہنسی دبائ.. اسکو منانا.. خاصا مشکل تھا…
اور وہ دل کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتا.. تو.. دو حرف بول چکا ہوتا..
دور رہیں”” حرم نے اسکو پکڑ کر.. دور سیڑھیوں کے پاس… لے جا کر کھڑا کیا اور خود دوبارہ گریل کے پاس آ گئ..
اب ٹھیک ہے.. “وہ مطمیین ہوئ..
جبکہ شاہ میر نے اپنے قہقے کا گلہ گھونٹا..
کیا شے ہے.. اسکی بیگم بھی ایک سیریس ڈیسنٹ.. یہ شاید ہان.. سڑو.. کو…
پری مل چکی تھی… اور اسکا دل بغاوت کرتا… اس پری کو… اپنی وید میں پھولوں کیطرح رکھنا چاہتا تھا..
مگر اظہار سے انکاری تھا..
اوکے حرم بہت ہو گیا نیچے چلتے ہیں”شاہ میر اپنے پرانے رویے پر آیا.. ویسے تو وہ قابو نہیں آنے والی تھی..
کتنی بڑی بیوقوف ہون میں.. ڈریس لے کر آئ.. بائیس ہزار کا…
جیولری خریدی… بیس ہزار کی….
ارٹیفیشل سونا نہیں لیا کبھی جان نہ چلی جائے..
ہیل شوز لیے دس ہزار کے…” شاہ میر کوو کھانسی کا پھندہ لگا.. جسے وہ حرم کے گھونے پر.. سوری کہتا.. کھانسی کا گلہ گھونٹ گیا…
فیشل لیا…. پندرہ ہزار میں خود کو مینٹن کرایا….
کس کے لیے..” اسنے بھنویں اچکائیں.. شاہ میر تو رقم گننے لگا.. کتنا اڑا چکی تھی وہ…
کس کے لیے “حرم.. زور سے بولی..
میرے لیے بھئ افکورس “اسنے سیلینڈر کیا.. بیوی.. کو چڑیل کہنا گناہ تھا.. یہ بات اسنے مان لی تھی آج…
اور.. میری تعریف کرنے کے بجائے.. سب کے سامنے کیا کہا مجھے آپ نے “حرم اسکے نزدیک چل کر آتی… بولی شاہ میر قدرے اندھیرے میں تھا…
وہ چاہتا یہ ہی تھا.. یہ ہرن…. جو آج.. اسکا کتنی محنت سے کمایا ہوا.. پیسہ اڑا چکی تھی…
شیر کا جال میں خود پھنسے.. پائ پائ کا حساب.. لینے والا تھا وہ اس. سے…
حرم.. میں کچھ اور کہنا چاہتا تھا” وہ.. جان بوجھ کر.. معصوم بنا تا کہ وہ اسکے مزید نزدیک آئے…
اور دو قدم مزید اسنے.. اندھیرے میں لیے…
کیا… کچھ اور کیا…” حرم.. اپنی کم عقلی کے باعث.. اندھیرے.. میں اسکے مقابل آئ.. کہ شاہ میر نے.. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسے ایک جھٹکے سے کین کی چییر پر پھینکا.. اور.. اس چئیر ہر پاوں رکھ کر.. اسکے جانے کا. راستہ بلاک.. کرتا… وہ.. اسکی سانسوں کو بے ہنگم کر گیا… اسے اپنی قید مین رکھ کر ہی اسے سکون ملتا تھا…
شاہ میر…. آہستہ اہستہ.. دوبارہ جنونی انداز میں اتر چکا تھا..
جبکہ حرم کے ہلتے احتجاج کرتے ہاتھ…
وہ.. چییر کے بازوں پر لگا چکا تھا…
اسکے عمل میں وقت کے ساتھ ساتھ شدت گھل رہی تھی…
اور جبکہ حرم کو لگا.. بس وہ مرنے والی ہے وہ…
پیچھے ہٹا.. دونوں کی سانسیں بری طرح اکھڑی ہوئ.. تھیں.. حرم غصے سے.. اسپر جھپٹی….
I kil u
وہ بھنائ….. جبکہ شاہ میر نے اسکے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں جکڑے.. اور اسکے… گلے سے دوپٹہ کھینچ کر.. پیچھے کیطرف باندھ دیے…
پولیس والے کو دھمکی.. کچھ اچھی نہیں.. “وہ… اسکی بھولی سے صورت کو نگاہوں میں بھرتا… گھمبیر لہجے مین بولا.. جبکہ چہرہ بلکل سنجیدہ تھا.. حرم کو اسکی اس حرکت پر بھی غصہ آیا..
ایس الگتا تھا.. میتھ کا سوال ہل کر رہا ہو.. اتنی سنجیدگی..
حرم گھور کر رہ گئ..
ہمم… تو… میری اتنی محنت کی کمی.. کو اڑنے کے جرم مین میں تم کو.. قید بمشقت کی سزا دیتا ہوں.. وہ بھی ساری رات… “وہ اسکی چئیر کے گرد گھوما…
کچھ کریں تو صیحی…
پھر بتاو گی.. اور کتنے بھوکے ہیں آپ..” وہ چیڑی…
مجھے نہیں پتہ تھا یہ منمنی.. شیرنی بن جائے گی.. “وہ حیران ہوا…
میررررررر” اس سے زیادہ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی… رو دینے کو ہوئ..
جبکہ شاہ میر… ہنستے ہوئے.. اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گیا….
ایک تو مجھے اس وقت اپنے بھائ سے شدید جیلسی ہو رہی ہے…
ہمیشہ ہر بڑا سٹیپ اس گھر میں مین لیتا ہون.. اور ایک تم ہو فرق بھی نہیں پڑ رہا..” وہ افسوس سے سر ہلاتا بولا…
آپ بہت برے ہیں” حرم کا آنسو ٹوٹا..
ہر وقت اپنی مرضی کرتے ہیں زبردستی کرتے ہیں…
حرم آپ سے پیار کتی ہے مگر آپ نہیں کرتے.. تعریف بھی نہیں کی.. آپ نے “وہ سسکتے ہوئے بولی..
جبکہ شاہ میر.. ہونٹوں پر انگلیاں ٹکائے… اسکو سن رہا تھا…
وہ اٹھا حرم کا مسکتے چہرے پر.. اپنے انگلیوں کی.. حرکت کرنے لگا.. جبکہ.. اسے اپنے عمل سے اسکی سانسیں بھاری ہوتی محسوس ہوئں..
کیا ہو تم.. ہرا دیتی ہو مجھے..” وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش.. پر شدت لٹاتا.. اب اسکی گردن پر وار کر رہا تھا…
اور.. ایک مخصوص جگہ پر… اپنے وار کا نشان چھوڑتا.. وہ اسکی سرخ آنسو بھری آنکھوں کو گھورنے لگا..
روم میں چلو ااس سے پہلے میں پاگل ہو جاو…” وہ حقیقت میں اسے پاگل کر رہی تھی..
جبکہ حرم.. اسکے آگے اب بولنے قابل نہیں تھی.. ہاں دماغ میں ایک بات ضرور کلک کر گئ…
اب اسکا میشن.. اسکے منہ سے اپنے لیے.. پیار کا اظہار سننا تھا..
شاہ میر نے.. اسکو.. ایسے ہی اٹھایا… اور بانہوں میں بھر کر اپنے روم کی جانب چل دیا.. جبکہ.. حرم.. نے آنکھیں بند کر لیں.. من مانی تو اب اسکی چلنی تھی…
………………….
حرم اٹھو یونیورسٹی کا ٹائم نکل رہا ہے.. “وہ اسے کوئ پانچ بار جھنجھوڑ چکا تھا..
مجھے نہین جانا” حرم چینخی.. شاہ میر نے.. اسکی ٹیبلیٹ نکالی…
جو صبح ناشتے سے پہلے دینی ہوتی تھی اور وہ خود دیتا تھا.. اسکے علاوہ اسکا.. چیکپ.. ڈیٹ بھی قریب آ رہا تھا.. اور اس بار وہ بے ہوش نہیں ہوئ تھی…
اسے خوشی تھی…
اسنے زبردستی اسے ٹیبلیٹ کھلائ.. جسے حرم کو نگلنا پڑا..
میر مین پڑھ کر کیا کرو گی.. “وہ. منہ بنا کر بولی..
شاور لو میرا بیبی جلدی سے” اسنے.. کہا. اور آج وہ فارمل کپڑوں میں تھا…
حرم “شاہ میر دھاڑا.. حرم کی آنکھیں پٹ سے کھلیں…
چلاتے رہتے ہیں ہر وقت” وہ رونے کو ہوئ.. اور اسپر کچن پھینکنے لگی..
پتہ نہیں سارا جسم کا پانی آنکھوں سے کیون نکال دیتی یے” وہ بڑبڑایا.. جبکہ حرم.. غصے سے تیار ہونے لگی..
مجھے ٹیسٹ یاد نہین ہے” وہ شاور لے کر نکلی..
وجہ” شاہ میر نے تیوری چڑھائی.
آپ”حرم نے گیلے.. بالوں میں برش پھیرہ
شاہ میر گھور کر رہ گیا…
تمیز سے اپنے ٹیسٹ صیھی دو تمھاری رپورٹ میں خود کلیکٹ کج رو گا “اسنے.. خود پر سپرے کیا.. حرم نے منہ بنایا…
میرا دل نہین لگتا پڑھائ میں”وہ پھیر سے رندھی آواز میں بولی…
تمھارا گلہ گھونٹ دو میں” شاہ میر.. جارہانہ طریقے سے اسکی کمر کو گرفت مین لے چکا تھا…
میں.. میں.. دو گی میرا مطلب اچھے نمبر آئیں گے” وہ کا پی..
گڈ”شاہ میر نے کہا.. اور
. اسکا ہاتھ تھام کر باہر آ گیا.. جبکہ حرم مسکتی رہ گئ…
اللہ ایسا شوہر کسی کو نہ دے” وہ بولی…
شاہ میر نے مسکراہٹ دبائ..
کنجوس اکڑو سڑو…” وہ پھر بولی..
زہر لگتے ہیں آپ مجھے “وہ پھر بولی..
حرم میں تمھیں دھکہ دے دو گا.. اگر اب یہ زبان چلی” شاہ میر نے سیڑھیوں.. کے پاس کرتے اسے.. ڈرایا.. تب اسکی گاڑی کو بریکیں لگیں..
جبکہ دوسری طرف.. ونیزے آج شہروز کو اٹھا رہی تھی نہ جانے وہ کس خوشی میں سو رہا تھا…
آٹھ جاییں.. پھر مجھے سنائیں گے اٹھایا نہیں”
ونیزے نے سنجیدگی سے کہا.. وہ چیڑچیڑی ہو رہی تھی..
ہان پہلے تو ہر بات کا بلیم تمھیں دیا ہے نہ” وہ اسکا ہاتھ کھنچتا.. اسکی کلائ… پر کس کر گیا.. ونیزے نے اپنا ہاتھ چھڑایا…
چھوڑیں مجھے “وہ ڈھیٹ چھوڑ کہاں رہا تھا..
ایسے ہی چھوڑ دو.. اب تو.. میری پسند کے مطابق ہو ہے یہ مال”وہ آنکھ مار کے بولا.. ونیزے..
حیرت سے منہ کھول گئ..
مال سے کای مراد ہے” وہ غصے ے بولی..
مطلب
. تمم” وہ مسکراہٹ روکنے لگا…
ونیزے.. گھورنے لگی..
اے بیوی.. ماں بننے والی ہو تو آنکھیں دیکھا رہی ہو…” اسنے.. ونیزے.. کی بیلی کیطرف دیکھا.. جبکہ ونیزے لالا سرخ ہو گئ..
بی بی بوائے” وہ.. اسکے بالوں.. سے کھیلتا ہوا بولا…
بی بی گرل” وہ.. غصے سے بولی…
آپ نہایت ٹیپیکل ہیں” اسنے.. کہا… تو شہروز شانے اچکا گیا..
وہ محض اسے تنگ کر رہا تھا…
اچھا آپ.. جھلس نہ جانا میرا بچہ کالا نہ ہو.. میرے جیسا ہو” وہ اٹھتے ہوئے بولا…
تو ونیزے.. کڑھ جر رہ گئ..
آپ کے جیسا.. ایک نمبر… کا….” اسسے پہلے. وہ کچھ بولتی.. شہروز نے… ونیزے کو.. سر ہالتے پکڑنا چاہا..
ہان بولو کیا کہہ رہی تھی “وہ غصے ے اس تک پہنچا..
شہروز.. جائیں کیا ہے آپکو.. جان کے پیچھے پڑ گیین ہیں” ونیزے چینخی..
نہ پڑتا تو.. آج ماں.. بننے کے ٹشن نہ دیکھا رہی ہوتی.. وہ ہی بیھگی بلی بنی ہوتی “وہ گھورت اسے کہتا.. چلا گیا.. جبکہ وہ سرخ سی.. باہر نکل گئ..
…………..
دکھائیں اماں میں کرتی ہوں”
ونیزے نے. انکے ہاتھ سے آملیٹ لیا…
ارے نہین جاو تم بیٹھو” انھون نے اسے کہا..
جاو حرم.. تم اماں کی ہیلپ کرو” شاہ میر نے.. اسے کہا.. جبکہ ونیزے.. جس کا سر ایکدم چکرایا تھا چییر پر بیٹھی.. شہروز بھی آ گیا..
ٹھیک ہو” اسنے پوچھا.. تو.. ونیزے.. نے اسکیطرف دیکھا..
جی” اسنے کہا…
آپ کے لیے ایک زہر وال ااملیٹ بناو گی دیکھنا اب” وہ سوچتے ہویے اٹھی..
اماں مین بناتی ہوں” اماں نے ہاتھ سے سامنا لیتے وہ بے شمار مسالے ٹھوکتے..
آدھا ناڈہ گیرا کر آدھا.. پین میں ڈال چکی تھی..
یہ آپکے صرے ہوئے بیٹے کے لیے” اسکا شیطانی دماغ حرکت کرنا نہیں چھوڑتا تھا…
ماں.. ہنس کر رہ گئیں..
کون کہے یہ انکی بڑی بہو تھی…
اس سے.. پہلے.. وہ اور.. کباڑا مچاتی کہ.. زور سے شاہ میر کی دھاڑ پر اچھل کر رہ گئ…
کس جرت سے میرے گھر کی دہلیز پر کی تم نے” وہ حلق کے بل چلایا..
امان.. باہر آئ.. اور ساکت رہ گئیں..
وہ وقت کو گننا نہیں چاہتی تھیں.. کتنے عرصے بعد انھیں دیکھا.. تھا… انکے پو مین انکی پسند تھی..
رضا نے اماں کی جانب.. نگاہ اٹھائ..
شاہ میر کا بس نہین چلا اس نگاہ.. کو کئ ٹکڑوں میں کر دے…
تو باہر نکل “وہ… پیسٹل نکالتا.. ان تک پہنچتا.. کہا امں کی پکار پر تھمہ…
رک جاو شاہ میر”
اماں.. “وہ دونوں ہی بے یقین ہوے کیونکہ شہروز کو بھی اس کی صورت گوارہ نہین تھی..
آبان ایک طرف.. اس فیملی ڈرامے.. سے اکتاتا.. حرم کو تلاشنے لگا.. جو شاہ میر کی دھاڑ سے.. اپنے دل کا سمبھل ے کی س٨ کر رہی تھی… مگر باہر نہیں آئ تھی..
شانزے بت بنی فیضان کو.. دیکھ رہی تھی جو اسی کو دیکھ رہا تھا.. یہ سب شاہ میر کو اسکے آپے سے باہر کف رہا تھا..
حرم.. ڈرتی ہوئ باہر نکلی..
رضا.. کے وجود مین جیسے نئ زندگی بھر گئ..
حرم.. حیران انھین دیکھنے لگی..
میری بچی “زرینہ نے تڑپ کر. بانہین وا کیں.. اور.. حرم.. کچھ نہ سمجھتے دوڑتی ہوئ انکی بانہوں میں سما گئ.. وہ بری طرح.. چار ماہ بعد ان سب کو دیکھ کر رو دی.. آبان.. کو سکون ملا.. اب وہ بہت قریب تھا.. اپنے عمل کے…
وہ زرینہ سے ہٹی.. اور رضا کے وجود کا حصہ بنی..
رضا اسکو باندھوں میں جکڑے.. رو دیے.. جیسے ہار گئے تھے وہ…
میری زندگی “انھوں نے اسکی پیشانی چومی….
حرم” آبان نے اسکو پکارہ.. تو… حرم اسکے بھی گلے سے لگ گئ.. آبان نے.. شاہ میر کی صورت دیکھتے محبت سے اسکی کمر پر ہاتھ پھیرہ.. آبان سے مل کر. وہ فیضان سے یوں ہی ملی…
تم ہمارے ساتھ چلو.. اب ان لوگوں کی قید میں نہین رہنا تم نے “آبان نے حرم.. کا چہرہ دونوں ہاتھ.ں میں تھاما…
نہیں ابان….” اس سے پہلے وہ بولتی…
آبان نے اسکے لبوں ہر انگلی رکھ دی.. وی ایسے ہی بے تکلیف تھے ایک دوسرے سے..
بس حرم اور نہیں…. چلو تم “آبان نے اسکا ہاتھ تھامہ…
شاہ میر… کو لگا.. اسکو کسی نے انگاروں پر.. لیٹا دیا ہو…
ہان اتنی ہی تکلیف ہوئ تھی اسے.. اس بےوفا…
نہیں.. بے غیرت. لڑکی کے یہ نظارے تکتے..
حرم تمھارا شوہر موجود ہے یہاں… آبان بھائی چھوڑ دیں اسے” فیضان کو یہ حرکت اچھی نہ لگی…
چل رہو تم انکل چلیں بس “آبان نے کہا…
اس سے پہلے حرم کچھ بولتی…
کانچ کے ٹیبل کی چھنکار… پورے لاونج مین گونجی…
شاہ میر نے لات مار کر اپنا غصہ اس ٹیبل پر اتار آ.. اور بھکے بھیڑے کیطرح اسپر جھپتا..
تیری جرت کیسے ہوی میری بیوی کو چھونے کی” وہ چلایا…
آبان اور رضا ساکت رہ گئے..
….
جاری ہے