128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

شاہ میر میری بیٹی لوٹا دو یہ بات میں تم سے اب آخری بار کر رہا ہوں”رضا صاحب نے بگڑ کر اسکی ٹیبل پر ہاتھ مارا… تو وہ جو چئیر پر جھول رہا تھا.. انکی تپق جھلی دیکھ کر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا….
کمال ہے.. مجھے جب آپ نے نکالا اپنے گھر سے.. اسکے بعد پلٹ کر میں کبھی آپکے دروازے پر کچھ بھی مانگنے نہیں آیا…
مگر جب سے آپ مجھے ملے ہیں تب سے صرف مانگ ہی رہے ہیں یہ کوئ اچھی بات نہیں… “وہ مصنوعی برا مانتے ہوئے بولا.. تو.. رضا صاحب کو اسپر اچھا خاصا غصہ آ گیا…
ویسے میرے پاس تمھاری بیٹی نہیں…. تم بلاوجہ….”
بکواس بند کرو اپنی… تمھارے پاس ہی ہے حرم…. “انھوں نے اسکی بات کاٹ دی…. تو.. وہ کھل کر مسکرایا…
سمارٹ تو آپ ہیں ہی” اسنے کمپلیمنٹ دیا تو.. رضا صاحب کا بس نہیں چلا.. اسکی اس مسکراہٹ کو ہی ختم کر دیں…
اوکے اب یہ چھپن چھاپائ بند کرتے ہیں.. شیر ہے شاہ میر… کھل کر سامنے آئے گا…
ہاں.. وہ حرم نامی بلا میرے قبضے میں ہے….
کافی خوبصورت ہے تمھاری. ی. ی. ی بیٹی” اسنے تمھاری پر اچھا خاصا زور دیا تو.. رضا صاحب تلملا گئے…..
جبکہ آبان جو ابھی ابھی وہاں داخل ہوا تھا شاکڈ رہ گیا….
ویسے ابھی مجھے پتہ چلا ہے بےچارہ مریضہ ہے دل…. افسوس میرے اب کسی کام کی نہیں رہی.. تبھی خود ہی اسکے مرنے کا انتظار کر رہا ہوں… مر جائے تو اچھا ہے.. ورنہ… میرے قبضے سے آزاد تو کبھی نہیں ہو پائے گی “وہ سہولت سے نرم.. لہجے میں چئیر کو جھٹلاتے ہوئے… مزے سے بول رہا تھا.. جبکہ رضا صاحب آنکھیں پھاڑے… غم زدہ کھڑے تھے….
کس قدر بے حس ہو تم….” انکے منہ سے نکلا اور پھر جیسے وہ اپنا آپا کھو گئے…. اور اسپر چیل کی مانند جھپٹے…
میں تمھارا کام تمام کرا دوں گا…. سیدھی طرح میری بیٹی لوٹا دو…” وہ اسکا گریبان پکڑے خون آشام نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولے.. تو شاہ میر.. کا پارہ بھی ہائ ہو گیا….
اسنے ایک لات مار کر رضا کو خود سے دور کیا کہ وہ چئیر پر جا گیرے….
اور منظر اب یہ تھا.. کہ وہ اپنی خونجوار نظروں سے اب انکا گریبان پکڑے ایک پاوں انکی چئیر پر رکھے کھڑا تھا…
اب اتنی عمر نہیں تمھاری رضا صاحب کہ مجھ پر حاکمیت جتاو.. … کیونکہ.. مجھ پر سرداری… کی اب.. تمھاری وہ ولیو اور اوقات نہیں رہی… اگر تمھیں اپنی بیٹی زندہ چاہیے تو میرے ایک شرط.. مان لو… سیمپل “وہ سکون سے بولا….
جبکہ رضا صاحب… بھی فٹ بولے…
کیا کون سی شرط کیسی شرط”
وہ جو تمھاری بیگم ہے.. کیا بھلہ نام ہے…. ہاں زرینہ…
اسے دھکے دے کر.. نکال دو گھر سے….. بلکل اسی طرح… جس طرح میری ماں کو نکالا تھا… جس دن تم یہ کام کرو گے… تو میری اندر لگی آگ کچھ بھجے گی… باقی تمھاری موت بھجا دے گی.. اور میں بھی ایک نارمل زندگی گزار سکوں گا.. “اسنے صاف بات کی…
اور اس سے پہلے رضا صاحب کوئ جواب دیتے آبان…. دندناتا ہوا… اس تک پہنچا…..
اب پتا چلا… کہ تو کیا ہے….
میری حرم سیدھی طرح لوٹا دے… ورنہ.. تجھے کھڑے کھڑے….
نکلوا دوں گا” آبان سخت تیوروں سے اسکو گھورتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا….
میری حرم” شاہ میر بڑبڑایا.. اور اسکی جانب دیکھا…..
خون تو بہت کھول رہا تھا مگر وہ کوئ تاثر دیے بغیر کندھے اچکا گیا…
کھڑے کھڑے کیوں بیٹھے بیٹھے نکلوا.. دے…. لیکن تیری بہن تو تبھی ملے گی تجھے جب یہ آفمی میری شرط مانے گا” وہ سکون سے بیٹھ کر مزاہ لیتے ہوئے بولا…
بہت مزاہ آ رہا ہے نہ تجھے…. اب تیرا ٹاکرہ آبان سے پڑا ہے….” صفدر “آبان کی بکواس سب کر اسنے بے زاریت سے صفدر کو پکارہ..
یس سر” وہ فورا حاضر ہوا…
باہر نکالو.. انھیں…. اور دوبارہ…. کم از کم بھی ایک ہفتے سے پہلے یہ میرے پاس نظر نہ آئے….” اسنے.. کہا.. جبکہ صفدر نے اثبات میں سر ہلایا… اور ان دونوں کی جانب دیکھا.. آبان تو خود ہی تن فن کرتا نکل گیا جبکہ رضا.. صاحب اسپر ایک نظر ڈال کر باہر چلے گئے اسوقت وہ خود کو بہت کمزور محسوس کر رہے تھے….
………………
حرم خاموشی سے ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جبکہ… دماغ میں.. شاہ میر کی رات نفرت بھری باتیں گونجنے لگی…
وہ مجھے اس لائق کیوں نہیں سمجھتے… کہ وہ مجھ سے محبت کریں…. مجھ میں کیا کمی ہے… کیا میں بدصورت ہو گئ ہوں…
کیا ناھیں میری آنکھوں میں اپنا عکس نہیں نظر آتا… کیا انھوں نے نہیں دیکھا.. کہ وہ جیسا چاہتے ہیں میں ویسا کرتیں ہوں.. حتیٰ کہ میں نے اپنا لباس تک بدل ڈالا… “اسنے ایک نظر ورنج اور وائٹ کیپری شرٹ پر ڈالی جینز شرٹ کے علاوہ اسنے کبھی یہ لباس نہیں پہنا.. تھا…. اور جب سے وہ یہاں آی تھی ایسا ہی لباس زیب تن کراتا تھا وہ اسے.. مگر حرم نے تو کبھی آہنی مرضی چلانا بھی نہیں چاہی تھی.. وہ بس.. چاچو سے.. ملنا چاہتی تھی.. مگر انکے پاس رہنا نہیں.. ہاں وہ اب اسی کے ساتھ رہنا چاہتی تھی.. وہ جیسا بھی تھا….
اسے چند ہی دنوں میں بہت عزیز ہو گیا تھا….
مگر اسکی نفرت حرم کی آنکھیں.. بھیگ گئیں..
بی بی.. آپ رو کیوں رہی ہیں”اچانک ہی سکینہ کی آواز سن کر اسنے جھٹکا کہا کر.. اوپر کی جانب دیکھا.. وہ دو دن بعد نظر آئ تھی…
حرم اسقدر پرجوش ہوئ کہ… اچھل کر سکینہ کے گلے چیپک گئ.. جبکہ سکینہ حقابق رہ گئ….
تم کہا چلی گئ تھی.. میر بلکل اچھا ناشتہ نہیں بناتے…..” وہ نم لہجے میں منہ پھلا کر بولی… تو سکینہ کو اسپر کافی پیار آیا….
جی وہ.. صاحب نے دو دن.. کی چھٹی دے دی تھی..” اسنے تسلی سے بتایا.. حرم.. اس سے دور ہوئ.. اور.. مسکرا کر اسے دیکھنے لگی..
مجھے نہیں پتا تھا.. مجھے تمھارا. یہ چہرہ اتنا یاد آئے گا.. اب تم کہیں مت جانا.. اوکے” اسنے جیسے آرڈر دیا تو.. سکینہ تو اسکے اس انداز پر پھلے نہ سمائ.. جی ٹھیک ہے.. بی بی.. میں ناشتہ لاتی ہوں” اسنے.. حرم کے آگے سے سیب اٹھائے.. اور اندر بھاگ گئ.. جبکہ حرم کا دل جیسے پرسکون ہوا تھا…
اور پھر ناشتے کے دوران.. جب سکینہ.. صفائ کر رہی تھی حرم کی ٹیپ چل پڑی تھی.. وہ چکر چکر… بولے جا رہی تھی.. جبکہ سکینہ اسکے قصوں سے محظوظ ہو رہی تھی….
یہ جھاڑو ہے… “حرم نے جھاڑو ہاتھ میں لے کر پوچھا..
جی بی بی مگر آپ چھوڑ دیں… ہاتھ خراب ہو جائیں گے..” اسنے کہا.. تو حرم نے اسکی جانب دیکھا..
تمھارے نہیں ہوں گے “اسنے معصومیت سے پوچھا… تو سکینہ ایک پل اسے دیکھتی تہ گئ… پھر افسردہ سی مسکرا دی..
بی بی ہمارا تو کام ہے یہ”
اوکے تو آج میں تمھاری ہیلپ کرتی ہوں” اسنے پرجوش ہوتے ہوئے کہا تو… سکینہ… تو بھکلا گئ..
بی بی جی.. صاحب پھر نکال دیں گے… آپ چھوڑ دیں”
وہ بولی تو.. حرم نے برا سا منہ بنایا..
آہ ہ کڑوے کریلے….
دیو.. جنگلی…. اکڑو…. وہ میری کئیر کر کے تمھیں نکالیں گے… “وہ ہنسی… اور الٹا سیدھا جھاڑو چلانے لگی.. اور کرپٹ کے نیچے جھاڑو پھنسا جر.. نیچے کی دھول بھی نکال دی اور زور سے کھانسنے لگی….
بی بی… آپ ٹھیک ہیں” سکینہ پریشان ہو اٹھی وہ جانتی تھی کہ.. اسکے ساتھ کیا مسئلہ ہے…
حرم.. کی کھانسی بڑھتی جا رہی تھی….
جبکہ آنکھوں سے پانی بری طرح نکل رہا تھا…..
وہ اپنا گلہ تھامے کھانس رہی تھی… جبکہ سکینہ.. کچن میں پانی لینے بھاگی….
اسوقت حرم کی حالت.. وہ خود ہی جانتی تھی کہ.. اسکا دل عجیب کیفیت کا شکار تھا….
ایسا محسوس ہونے لگا جیسے سانس لینے میں بھی دشواری ہو…
اسکے دماغ و دل میں شاہ میر کا خیال تھا.. کہ لاونج کے مین دروازے سے وہ اندر آتا دیکھائ دیا.. حرم نے سرخ آنکھیں اسکی جانب اٹھائیں… جبکہ کھانس وہ ابھی بھی رہی تھی…
حرم “شاہ میر جو رضا.. کی وجہ سے موڈ خراب کر چکا تھا.. پہلے اماں کے پاس چلا گیا اور اسکے بعد وہ یہاں آیا… صرف ڈریس آپ ہونے کے لیے تھا…
کیونکہ اسے ایک لنچ پر جانا تھا…
مگر اندر آتے ہی حرم… کی سرخ آنکھیں اور نیلے پڑتے ہونٹ دیکھ کر… وہ گڑبڑا گیا.. اور بھاگ کر اس تک پہنچا…
حرم.. “اسنے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا.. حرم اب بھی دھول میں بیٹھی تھی جبکہ سکینہ کچن سے پانی لے آئ…
ایڈیٹ” شاہ میر بری طرح بگڑا…
اور حرم کو اٹھا کر وہ اپنے روم میں لے آیا.. دھول سے آٹھ کر وہ فریش جگہ پر آی.. تو… اسکی کھانسی تو رک گئ مگر سانس لینا اسکے لیے دشوار تھا… حرم.. بری طرح رونے لگی….
جبکہ اسکا سانس پھول رہا تھا.. اور وہ منہ کھول کر سانس لینا چاہ رہی تھی..
شاہ میر زندگی میں کبھی نہیں بھلایا تھا…
حرم… ادھر میری طرف دیکھو “بستر پر تڑپتی ہوئ.. حرم کو.. اسنے اپنی بانہوں میں بھر لیا.. کچھ ایسے.. کہ جیسے وہ کسی احساس سے خود بھی شدید خوف ذدہ ہو…
م….. مجھے.. سانس” حرم مسلسل روے جا رہی تھی….
میر نے اسکے لبوں سے پانی کا گلاس لگایا.. اور اسکے پسینے میں لدے چہرے سے.. بالوں کی چپکی لٹیں.. ہٹائ…
اسے شدید گڑبڑ کا اجمحساس ہو رہا تھا.. کیونکہ اسکی نظروں کے سامنے ہی حرم.. کی ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے…
حرم… میری طرف دیکھو…. تمھیں سانس آ رہی ہے… “حرم نیم غنودگی میں جانے لگی… جبکہ اسکا سر شاہ میر کے سینے سے لگا تھا…
حرم ادھر دیکھو..” حرم. نے.. بھیگی.. آنکھوں کو معمولی سا کھول کر دیکھا… شاہ میر کی آنکھیں خود سرخ تھیں… اور وہ سختی سے اسے جکڑے بیٹھا..
تھا… کچھ نہیں ہو گا تمھیں… “اسنے… حرم کے سر پر پیار کیا.. اور اپنی پوکٹ سے سیل نکال کر فواد کو کال کی اور اسے فورا پہنچنے کا کہا.. فواد بھی قریب ہی تھا.. پانچ منٹ میں اس تک پہنچا.. او جب وہ کمرے میں آیا تو آج سے پہلے اسنے شاہ میر کو اتنا پوزیسیو کسی کے لیے نہیں پایا…
کیا ہوا ہے بھابھی کو.. “فواد کے آنے کے بعد بھی شاہ میر نے اسے آزاد نہیں کیا جبکہ حرم اب بھی نیم بیہوشی میں.. تھی..
فواد اسکو فورا ٹھیک کرو..” وہ دھاڑا….
تو فواد اسکی کیفیت.. دیکھ کر حیران رہ گیا
تم چھوڑو انھیں “اسنے.. کہا تو شاہ میر نے حرم کا سر تکیے پر رکھا….
اور فواد نے اپنی ٹریٹمنٹ شروع کر دی.. شاہ میر… خاموشی سے.. جلالی نظریں حرم پر گاڑے کھڑا تھا جیسے دھمکا رہا ہو فورا ہوش میں آو.. مجھے تمھاری وہی.. آنکھیں دیکھنی ہیں…
بیس پچیس منٹ بعد فواد نے شاہ میر کی جانب دیکھا…
اب یہ نارمل ہیں…. بٹ یہ ٹھیک نہیں ہے شاہ میر انھیں میڈیسن پروپر نہیں دی جا رہی اور یہ ذہنی طور پر بھی ڈسٹرب ہیں تم اسب جانتے ہوئے بھی لاپرواہی برت رہے ہو اور یہ لاپرواہی بڑے نقصان”
اچھا بس” وہ اکھڑ کر بولا تو فواد خاموش ہو گیا…
جبکہ شاہ میر روم سے باہر نکلا فواد بھی اسکے پیچھے تھا…
سکینہ”شاہ میر نے پکارہ تو سکینہ فورا سامنے آئ.. حرم کس وقت کی دوائ نہیں لیتی.. ناشتے کی میں دے کر جاتا ہوں.. اور اسکے بعد کھانے کے بعد کی دوائ”
صاحب.. وہ.. وہ نہیں… لیتی.. بعض اوقات ضد لگا لیتی ہیں…
باہر جانے کی تو نہیں لیتی”سکینہ بولی تو شاہ میر…. کا بس نہیں چلا اسکا منہ توڑ دے مگر.. اس سے پہلے وہ کوئ ایکشن لیتا… فواد نے سکینہ کو بھگا دیا..
یہ تمھاری کوتائ ہے کہ تم اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھ سکتے دوسروں کا قصور نہیں” فواد غصے سے بولا… تو شاہ میر.. اسکو دیکھ کر رہ گیا.
. میں جانتا ہوں تم اپنا غصہ کن٤ول کر ہی نہیں سکتے….
جتنی تمھاری اٹینشن کی ضرورت ہے انھیں اتنی کسی کی بھی نہیں…
اپنے مجاز کو کم کرو کیونکہ تمھارے جیسے جن کے پلے میں. ایک معصوم چڑیا پھنس چکی ہے” فواد نے آخری فقرہ تیوری چڑھا کر بولا.. تو شاہ میر نے.. اسکی جانب دیکھا..
اب تم دفع ہو جاو..” اسنے غصے سے کہا..
بھلائ کا کوئ زمانہ نہیں ہے”فواد بربڑا تا ہوا.. نکل گیا جبکہ شاہ میر صوفے پر ڈھے گیا…
……………….
ونیزے لیٹ اٹھی… اور ایک پرزور انگڑائ لے کر.. وہ فریش ہونے چلی گئ..
بیس منٹ میں وہ پہلے کیطرح… خوبصورتی سے تیار ہو کر… اپنے روم سے نکلی تو…. عادی کو… کو باہر لاونج میں بیٹھا دیکھا.. کل ہی اسے پتا چلا تھا ڈیڈ نیویورک چلے گئے ہیں ویکیشنز کے لیے… تبھی وہ پرسکون تھی..
کیسے ہو عادی.. یہ فیضان.. اور حرم کا کچھ پتا چلا.. “ونیزے نے پوچھا تو عادی ہمیشہ کیطرح اسکے حسن میں جو کہو سا گیا تھا چونک کر اسکی جانب دیکھا…
یار حرم غائب ہے… آج چار دن ہو گئے ہیں…”
وٹ… یہ کیا بات ہوئ”ونیزے حیرت سے چلائ…
یہ ہی سچ ہے” عادی بھی پریشان تھا…
تو تم فیضان سے ملے انکل آنٹ تو بہت پریشان ہو گے”ونیزے حقیقت میں کافی پریشان ہو اٹھی تھی…
میں وہیں جا رہا ہوں تم بھی چلو “
اوکے”
اور پھر وہ دونوں فیضان کے گھر کی جانب چل دیے…
وہاں پہنچ کر ونیزے اندر گئ تو.. وہ سب لاونج میں ہی جمع تھے.. جبکہ آنٹی رو رہیں تھیں کیونکہ رضا صاحب نے سب کو بتا دیا تھا کہ حرم شاہ میر کے پاس ہے..
انکل میں اس ایس پی… کو… یہاں سے نکلوا دوں گا… اس کا پیچھا میرے بندے کر رہے ہیں مگر اب تک.. وہ کسی بھی مشقوق جگہ پر نہیں گیا. اور اسنے اپنے گھر میں حرم کو نہیں تھا ہوا.. یہ میںا چھے سے جانتا ہوں”
آبان مسلسل چلتے ہوئے بولے جا رہا تھا.. جبکہ وہاں سب کی آنکھیں نم تھی…
میں جانتا ہوں… کہ مجھے کیا کرنا ہے” رضا صاحب بولے اور اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ آبان نے انکی پشت کو گھورا..
میں بھی بخوبی جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے.. “وہ بڑبڑایا.. اور وہاں سے نکلتا کہ ونیزے کو اندر آتے دیکھا… اسکی گندی نظروں نے.. ونیزے کو اوپر سے نیچے تک دیکھا..
ہاٹ”اپنے جیسا ہی گندہ خطاب دیتا وہ اسکے کندھے سے کندھا ٹکراتا وہاں سے نکل گیا جبکہ ونیزے نے گھور کر اسکی طرف دیکھا.. اور آنٹی کیطرف بڑھی…. جن کی حالت قابل رحم تھی.
………
شہروز مجھے بلکل بھی گوارا نہیں ہے یہ بات کہ میرے بیٹے کی بیوی… کہیں اور رہے” اماں نے شہروز کی لاپرواہی پر.. اسکے سر پر چپت لگائ…
اماں وہ بھاگی ہے یار” شانزے کی نیل پینٹ اٹھا کر اماں کے پاوں کی انگلیوں پر لگاتے ہوئے وہ مگن انداز میں بولا..
تمھیں شرم آ رہی ہے “اماں نے غصے سے.. اپنے اپوں ہٹائے.. اور ہٹانے کے چکروں میں نیل پینٹ زمین پر گیرا.. اور وہیں شانزے چلائ..
لالا”
آف میری توبہ” شہروز نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے جبکہ اماں نے جھک کر چپل اٹھائ.. اور دوسری طرف شانزے کمرے سے بھاگ گئ جبکہ شہروز کو…. تو بعد میں پوچھنے کا سوچ لیا تھا..
شہروز زہر لگ رہی ہے تمھاری یہ حرکتیں مجھے “اماں کو کسی طور چین نہیں مل رہا تھا…
یار اماں.. اڑنے دو ایک بار ہی پر کاٹ ڈالووںگا” اسنے کہا تو اماں نے آنکھیں گھما کر دیکھا….
مجھے ایسا نہیں لگتا.. وہ تمھیں بھاری پڑنے والی ہے…. “اماں نے کہا تو شہروز انھیں دیکھ کر رہ گیا.
فور یور کائینڈ انفارمیشن ایک رات میں ہی میں پتا کروا چکا ہوں وہ.. یہاں سے کب نکلی کیسے اپنے گھر پہنچی.. اور اب اسکا باپ بھی گھر نہیں ہے سب پتا ہے مجھے” شہروز نے اطلاع دی..
اتنی کئیر.. واہ بیٹے”انھوں نے اسے تنگ کیا… جبکہ دبی دبی مسکراہٹ چہرے پر تھی…
اماں یار پلیز “وہ کہتے ہوئے اٹھا…
اور باہر نکل گیا جہاں شانزے پہلے ہی کھڑی تھی..
یہ تو پیسے دے دیں ورنہ.. اچھا نہیں ہو گا لالا” وہ بولی تو شہروز… نے ڈرنے کی اداکاری کی..
فقیرنی” اور پیسے دیتے ہوئے.. وہ اسے خطاب دے کر بھاگ لیا جبکہ وہ پاوں پٹخ کر رہ گئ
………………….
ونیزے گھر لوٹی…. تو لاونج کے صوفے پر شہروز کو دیکھ کر اسکی آنکھیں ابل آئیں
..
تم تم یہاں کیا کر رہے ہو”
وہ بولی تو شہروز. نے اسکی جانب دیکھا…
سسرال میں رہنے آیا ہوں.. بیگم…..” وہ مسکرا کر بولا تو.. ونیزے.. نے الجھ کر اسکو دیکھا..
اووووو میرا بیبی کیا ہوا…. بس آڈر گئ اتنے سے ہی”وہ اسکے نزدیک آتا بولا تو…
دور رہو مجھ سے.. اور یہ تم کس خوشی میں اتنا اوور ہو رہے ہو… تمھارا میرا اب کوئ تعلق نہیں”ونیزے نے کہا.. اور چہرہ موڑ لیا…
آہ.. سویٹ ہارٹ مگر. مین تو تمھیں اپنی بیوی مانتا ہوں نہ.. “شہروز اسکے مقابل کھڑا ہو گیا.. ونیزے نے.. اسکو گھورا…
یہ میرے ڈیڈ کا گھر ہے مسٹر شہروز “اسنے جتایا..
آہ. ہ. ہ سسر جی… ارے او.. سسر جی.. دماد صاحب آئے ہیں… زرا خاطر مدارت تو کیجیے”وہ اسے دیکھتا زور زور سے چلایا.. جبکہ ونیزے… اس ڈھیٹ کو… حیرانگی سے دیکھ رہی تھی….
……….. 8
جاری ہے