128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

Episode 21
تو تم نے یہ طریقہ سوچا مجھے منانے کا “آپ ہی آپ اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور وہ حرم کے نزدیک تر آ گیا…
حرم کی اینر وائس رو اب کہیں جا سوئ تھی….
جس کے باعث اسکے گال شرم سے سرخ پڑ رہے تھے…
اگر تم اس حولیے میں باہر نکلتی تو میں ضرور.. تمھیں شوٹ کر دیتا” اپنی بے پناہ جنونیت سے اسکے اوسان خطا کرتے.. وہ اسکے کانوں میں بھی رفتہ رفتہ بولنے لگا…
مگر شاہ میر کی بڑھتی جرتیں…
حرم کے لبوں پر قفل لگا چکا تھیں…
شاہ میر.. اسکے حسن کے آگے.. سب بھول چکا تھا… آج صبح کیے خود سے دعوے.. اپنا غصہ…
وہ لڑکی اسے ہار ماننے ہر اکسا رہی تھی….
اور یہ غلط تھا.. اگر وہ ہار مان لیتا….
تو حرم… کے لیے اسکو سہنا.. دنیا کا مشکل ترین کام ہو جاتا….
شاہ میر اسے ایک اور بار.. کمر میں ہاتھ ڈالے بیڈ پر لے آیا….
جبکہ… حرم.. کی جان… سوکھنے لگی… مگر شاہ میر..
اپنے عمل پر ڈٹا رہا…..
اور سب بھلائے.. وہ حرم کے وجود میں پناہ ڈھونڈنے لگا…
………………….
گولیوں کی آواز تیز تیز تیز ہوتی جا رہی تھی…..
جبکہ وہ تمام گولیاں شاہ میر کے سینے سے اس پار ہوتیں… وقت کے ساتھ ساتھ… اسکے مظبوط وجود کو ڈھے دے رہی تھیں….
گٹھن بھڑ رہی تھی…
جبکہ حرم کی چینخوں نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا…
وہ شخص کون تھا… حرم چھا کر بھی اسکا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی…
مگر اسکا قہقہ….
حرم کے کونوں میں سیسہ پگھلا گیا….
ایک اور بار… گولیوں کی تڑ تڑ.. نے…
شاہ میر کے وجود کو زمین بوس کیا…. وہ اندھے منہ گیرہ
وہ اس تک پہنچنا چاہتی تھی….
مگر اسکی کلائ.. پر.. ایک گرفت تھی…..
حرم نے اپنی کلائ کی طرف دیکھا….
گٹھن آمیز اندھیرے میں اسے اپنی شفاف کلائ پر لمبے لمبے نخونوں کی گرفت محسوس ہوئ.. جس سے ایک بار پھر اسکی چینخوں… نے…. حشر میچایا تھا…
وہ ہاتھ چھڑانا چاہتی تھی… مگر.. اسکا ہاتھ نہیں چھوٹ رہا تھا…
اسکی نظر شاہ میر کی لاش پر پڑی…
وہ شاہ میر کے پاس چاہنے کے باوجود نہ پہنچ پائ…
اور یوں وہ گندہ نخونوں والا ہاتھ شاہ میر سے حرم کو… دور لیتا گیا…..
میر….. “وہ ایکدم جھٹکا کھا کر اٹھی…
کمرے میں صرف نائٹ بلب کی روشنی تھی….
جبکہ… اچھے خاصے ڈھنڈے ماحول میں اس کا چہرہ… پسینے سے شرابور تھا…
اسنے تڑپ کر اپنے ساتھ لیٹے شاہ میر… کی جانب دیکھا.. اسکا دل گھبراہٹ کے مارے بند ہونے کے قریب.. تھا…
شاہ میر شرٹ لیس… بغیر بلنکٹ کے اسکی جانب کروٹ لیے ہوا.. کافی گھیری نیند میں تھا…..
حرم نے اسکو اٹھانا مناسب نہیں سمھجا…. اور خود اپنا حولیہ درست کرتی وہ… شاہ میر پر بلنکٹ ڈال کر… سائیڈ درار سے…
اپنی میڈیسن نکالنے لگی….
دوائ کو دیکھ کر… اسکے دماغ نے خواب کو اپنی بیماری کے ساتھ جوڑنا چاہا
تو کیا میں مرنے والی ہوں… “اپنے زہن کو سپیڈ سے چلاتے ہوئے وہ اتنا ہی سوچ پائ….
تو اسکی آنکھیں نم ہوگئیں…..
جبکہ لبوں سے سسکی آزاد ہوتی….
کہ اسنے ہتھیلی رکھ کر اسکو روکا…
مگر میں مرنا نہیں چاہتی…. اور میر کو گولیاں..” وہ پریشانی.. سے… اب رونے لگی تھی
تھوڑی دیر بعد اسنے اپنے آنسو صاف کیے.. گھبراہٹ سے اسے ایسا لگا.. وہ ابھی نہ مر جائے.. اسنے جلدی سے گولیاں منہ میں ڈالی اور…
پانی سے پی گئ….
مگر خواب کا اثر اب تک زائل نہیں ہوا.. تھا…
اب اسے اندھیرے سے بھی ڈر لگنے لگا.. تھا…
جبکہ گرفن پر میر کی جنونیت.. اب چبھن میں بدلنے لگی تھی…
اسنے آنسو صاف کر کے.. شاہ میر کو دیکھا…
کتنے سکون سے سو رہا تھا…
جبکہ اسکے خواب میں آ کر اسکا سونا مشکل کر چکا تھا…
وہ اپنی جگہ سے اٹھی.. اور روم میں لگی میرر وال کے پاس کھڑی ہو گئ..
دنیا اب بھی حرکت میں تھی روشنیاں ہل چل…
اب بھی جیسے سب تھا مگر اسکا دل.. اداس تھا…
حرم “شاہ میر کی پکار پر وہ پلٹی نہیں.. بلکہ.. اس آواز کو سن کر.. وہ مییر وال سے سر ٹکائے بری طرح رو دی…
شاہ میر ایکدم خود ہر سے بلنکٹ ہٹا کر اس تک پہنچا..
کیا ہو؛.. طبعیت ٹھیک ہے تمھاری” اسنے حرم کا روخ اپنی طرف کیا..
م.. مجھے ڈر لگ رہا ہے “شاہ میر کے سینے سے سر ٹکائے وہ بولی… تو شاہ میر نے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیر جیسے.. اسکو تسلی دینا چاہ رہا ہو…
میرے علاوہ کس سے ڈر کگ رہا ہے تمھیں”شاہ میر نے.. سنجیدگی سے پوچھا…
اپنی موت سے” حرم بولی تو شاہ میر… کو لگا جیسے اس بات نے اسکا دل مٹھی میں جکڑا ہو…
اے… کیسی باتیں کر رہی ہو… مجھے نہیں پسند میرا بیبی اتنی بڑی بڑی باتیں کرے “اسنے اسکے چہرے کو اپنے مقابل کیا اور اسکے آنسو صاف کیے…..
حرم اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی… اسکی آنکھوں میں حرم کی بات سے ایک عجیب احساس تھا….
میں ہوں نہ…. تمھارے ساتھ…
اب زیادہ مت سوچو… اور یہ تم نے مجھے اٹھا کر اپنا نقصان نی کیا…” وہ ایک آئ برو اچکا کر… بس ہلکا سا مسکرایا تھا….
حرم… بلش کر گئ جبکہ خواب کا اثر اسکے دماغ سے زائل ہوا تھا..
بہت چالاک ہو تم…. آج کی رات تم نے اکسایا ہے مجھے” وہ اسکے کان پر جھکا مدھم لہجے میں بولا تو.. حرم کا اسکیطرف دیکھنا محال ہوا.. اسنے گھ را کر.. اسکے سینے میں چہرہ چھپا لیا.. جبکہ.. شاہ میر…
کا دل کافی تیز رفتار میں دھڑک رہا تھا..
اچانک اسنے یسی بات کیوں کی تھی…
………………..
آج وہ وادیے کالام کی جانب.. گئے تھے…
شاہ میر کا موڈ بھی.. کل کی نسبت آج اچھا تھا…
اور وہ حرم کی ساری فرمائشیں اور نکھرے اٹھا رہا تھا جبکہ دوسری طرف شہروز اور ونیزے بھی ایک دوسرے کو نارمل ٹریٹ جر رہے تھے..
اماں اپنے بیٹوں کو دیکھ کر بہت خوش تھیں جبکہ شانزے فیضان کو وہاں بھی دیکھ چکی تھی اور وہ سوچ چکی تھی کہ اب اگر اس شخص نے کچھ کہا تو وہ لازمی شاہ میر سے اسکو دھلوا دے گی.. اتنا ہی عشق ہے…
اسکا.. تو زرا پتہ بھی تو چلے…
وہ اس بات کو صرف مزاق میں لے رہی تھی جبکہ یہ بات تو کوئ نہیں جانتا تھا فیضان کس قدر سیریس ہے اسکے لیے…..
جبکہ فیضان حرم کو دیکھ کر اچھا خاصا حیران تھا…
وہ تو اس طرح خوش تھی.. جیسے کوئ معملہ ہی نہ ہو.. اسے حرم پر غصہ بھی آیا….
چاچو چچی کی کیا حالت ہو چکی تھی اور… وہ.. کتنی خوش تھی….
رم جھم بارش برسی…
تو.. سب وہاں بنے چھوٹے موٹے ہٹس میں… جما ہو کر بارش انجوائے کرنے لگے…
شانزے جس ہٹ میں آئ.. اسی ہٹ میں فیضان بھی تھا…
وہ اس سے بات کرنے کی نیت سے… اسکے نزدیک ہوا…
ہیلو میڈیم”وہ ہلکی سی آواز میں بولا جبکہ… فون کان سے لگا لیا جس سے یہ معلوم ہو کہ وہ فون پر بات کر رہا تھا…
شانزے نے موڑ کر دیکھا…
کیسی ہیں محترمہ” فیضان نے.. مسکرا کر پوچھا جبکہ شانزے نے.. دوسری ہٹ میں کھڑے. شاہ میر کو دیکھا…
فیضان نے… اسکی نظروں کا مفہوم سمھجہ لیا تھا…
دیکھو…. یہ بات بت پر اپنے بھائیوں کی دھمکیاں نہ دو” فیضان نے تیوری چڑھا کر کھا…
جس دن تم پیٹو…. گے.. اس دن دماغ درست ہو جائے گا” شانزے.. بولی.. تو.. اسکا چہرہ سرخ ہو گیا تھا.. جبکہ…
فیضان کو اسکا چہرہ بڑا پیارا لگا…
اچھا ٹھیک ہے… ساری باتیں ترق کر کے… ایک بات کر رہا ہوں…
شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے”
فیضان نے… سیل ہٹا کر… بلکل سیریس… ہو کر اس سے کہا.. تو شانزے تو حیران رہ گئ…
جبکہ سامنے کھڑے شاہ میر کی اسی وقت… شانزے پر نظر پڑی… جو قسمت سے اس ہٹ میں اکیلی تھی… جبکہ اسکے ساتھ فیضان کو دیکھ کر اسکا میٹر گھوما.. یقیناً وہ اس سے کوئ بات کر رہا تھا…
ت… تم “شانزے کو اس سے اس بات کی امید نہیں تھا.. اسکا دل بری طرح دھڑکنے… لگا.. پہلی بار فیضان سے شرم سی محسوس ہوئ…
پیار کرتا ہوں تم سے….” فیضان نے مسکرا کر.. اسکا نکھرتا چہرہ دیکھا.. اور اس سے پہلے وہ اسکا ہاتھ پکڑتا…
زور دار مکہ اسکے جبڑے پر پڑا….
اسنے شاہ میر کیطرف دیکھا….
جس نے.. اسکا گریبان پکڑ کر اسے ہٹ سے باہر کھینچا…
لا لا” شانزے.. گھبرہ جر بولی.. تو شہروز.. بھی شاہ میر کیطرف بڑھا..
لالا کیا کر رہے ہیں چھوڑیں اسے..” شہروز نے سے ہٹانا چاہ آ.. جو فیضان کو.. دو تین گالیوں سے نوازتا…
پیٹے جا رہا تھا…
کس نے بھیجا ہے تجھے.. رضا نے نہ.. تیری جرت کیسے ہوئ میرے بہن سے بات کرنے کی” وہ چلایا…
جبکہ حرم جو.. ہونق تھی… فیضان کو پیٹتے دیکھ کر.. اچانک شاہ میر کیطرف دوڑی.. فیضان کا سر پھٹ چکا تھا.. اماں بھی وہیں آئ.. جبکہ وہ شاہ میر کو روک رہیں تھی..
لالا پلیز چھوڑ دیں” شانزے… نے روتے ہوئے اسے روکنا چاہا…
تو شاہ میر نے خون آشام نظروں سے شانزے کو گھورا…
جبکہ فیضان.. کہ لیے تو یہ خوش آئین تھی کہ وہ اسکے لیے روی…
اماں نے شانزے کو سختی سے پیچھے.. کھینچا…
شہروز نے.. شاہ میر کو.. بمشکل… ہٹایا….
تو فیضان.. ہنسنے لاگ.. جبکہ ارد گرد.. بہت سے لوگ جمع تھے…
فیضی “حرم دوڑ کر اس تک پہنچی جبکہ ونیزے بھی…
تم.. تم ٹھیک ہو” حرم رونے لگی.. جبکہ ونیزے نے. اپنے دوپٹے سے اسکے سر کا خون صاف کیا…
ارے… تم رو کیوں رہی ہو… “فیضان… نے.. حرم.. کو پیار سے دیکھا چند لمہے والا غصہ اسکے آنسوں سے غائب ہو گیا..
سالے صاحب.. اچھے خاصے اڑیل ہیں مگر میرا بھی ابھی پتہ نہی‌ انھیں”وہ زور سے بولا جبکہ شاہ میر دندناتا ہوا اس تک پہنچا…
اسکی بات اسکے وجود میں شرارے لگا رہی.. تھی..
کھڑی ہو حرم.” اسنے حرم سے کہا…
آپ بھی اٹھیں”ساتھ ونیزے کو بھی کھا… تو ونیزے فیضان کو ٹیک کئیر کہ کر اٹھی.. جبکہ حرم نے اپنا ہاتھ چڑھایا..
بھائی ہے یہ میرا کیوں مارا ہے آپ نے “وہ غصے سے بولی جبکہ شاہ میر… نے اسکو گھورا.
ٹھیک ہے بہاڑ میں جاو..” شانزے کا ہاتھ تھام کر… وہ وہاں سے چلا گیا.. جبکہ…
شانزے نے مڑ کر ایک نظر.. فیضان کو دیکھا
جو اسی کیطرف دیکھ رہا تھا…
جاو حرم.. میں ٹھیک ہوں… مگر اپنا سیل فون نمبر دو مجھے تم نہیں جانتی چاچو چچی کا حال کیا ہے… وہ تمھیں بیت یاد کرتے ہیں دن رات تمھیں ڈھونڈنے مین لگے ہیں”فیضان نے جیسے اسے احساس دلایا..
میرے پاس فون نہیں” وہ بارش میں بھیگتی روتی بھی گئ…
میں تم سے ملنے او گا.. بس مجھے اڈریس بتاو.. اسلامہ آباد میں کاہں رہتی ہو تم “فیضان نے اتھتے ہوئے.. پوچھا…
شہروز اور.. ونیزے.. سمیت اماں بھی قریب آ گئیں تھیں..
جبکہ حرم یہاں بھی بے بس تھی وہ نہیں جانتی تھی جبکہ اماں نے اسے اڈریس بتایا…
شہروز نے اماں کو دیکھا…
اور وہ بھی تب فن کرتا وہاں سے نکلا…
تو فیک
فضان ہنس دیا.
. جاو تم” اسنے کہا اور حرم نہ چاہتے ہوئے بھیا نکے ساتھ ہو لی.. جبکہ پیچھے فیضان کمکے دوست اب آئے.. تھے اسکا رنگین منہ دیکھ کر.. اب وہاں ہلڑ بازی شروع ہو گئ تھی…
……………………
بغیر کوئ بھی بات کیے وہ دو دن میں امان سب کو لے کر واپس آ گیا تھا…
حرم سے اسنے کوئ بات نہیں کی تھی جبکہ وہ اسے منا منا کر تھک چکی تھی..
غلطی نہ ہونے کے باوجود معافیاں بھی مانگ رہی تھی..
جبکہ شانزے…
الگ کمرے میں بند ہو کر رہ گئ.. تھی..
اسکے دل کی کیفیت.. اس جگہ سرے سے بدل گئ تھی جب.. شاہ میر نے اسے سب کے سامنے پیٹا….
شاہ میر… ڈیوٹی سے گھر آیا…
تو گھر میں سناٹا تھا…
اسنے… اماں کے کمرے کا روخ کیا.. ونیزے اور حرم دونوں تھیں وہاں جبکہ شانزے اسکو دیکھ کر.. وہاں سے.. چلی گئ…
شاہ میر نے ضبط سے یہ منظر دیکھا..
اماں میں… میں آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں”اسنے کاہ تو.. ونیزے وہاں سے خاموشی سے چلی گئ.. جبکہ حرم منہ بنے بیٹھی تھی..
آواز نہیں آتی تمھارے کانوں میں” وہ غصے سے بولا…
یہ کس طرح بات کر رہے ہو “اماں نے ڈپٹا تو حرم مزید معصوم ہو گئ…
حرم جاو یہاں سے” شاہ میر نے کنٹرول کر کے کہا…
بلکل نہیں”وہ منہ پھلا کر بولی…
تو شاہ میر ضبط سے رہ گیا…
شانزے کے لیے فواد کا رشتہ آیا ہے…
اسنے چانک بم پھوڑا… “
جاری ہے