128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

حرم کے مسلسل رونے سے شاہ میر اب عاجز آ چکا تھا…. کل رات ہونے والی حرکت کے بعد وہ غصے سے اب تک منہ پھلائے بیٹھی وہ… اب رونے لگی تھی جبکہ شاہ میر کو پولیس سٹیشن جانا تھا.. کیونکہ کمشنر صاحب کا فون مسلسل آ رہا تھا…
اور وہ کب سے اسے کھانا کھانے کے لیے فورس کر رہا تھا مگر حرم نے آج نہ ماننے کی قسم کھا لی تھی….
حرم میں تمھارا قتل کر دو گا مجھے زیچ نہ کرو”بلآخر وہ اسے گھورتا ہوا بولا جو فریش سی بیبی پنک لباس میں بہت پیاری لگ رہی تھی جبکہ ریشمی دوپٹہ بیڈ سے نیچے پڑا تھا…
آپ اتنے بدتمیز ہیں اکیلے چھوڑ کر جاتے ہیں مجھے.. میں اکیلی کیا کرو نہیں کرنا مجھے ناشتہ جانا ہے مجھے یہاں سے” وہ بھی بھنا کر بولی تو شاہ میر نے ناشتے کی ٹیبل سائیڈ پر رکھی صرف ایک طریقہ تھا حرم کو قابو کرنے کا… اور اسی نیت سے وہ حرم کیطرف بڑھا کہ حرم جو اسکے چہرے کی جانب ہی دیکھ رہی تھی بدک کر اس سے دور ہوئ… اور تیوری چڑھا کر اسکی جانب دیکھنے لگی.. جبکہ شاہ میر.. کو.. ایکدم ہی ہنسی آئ…
مگر واضح کیے بغیر.. اسنے چہرے کو بے تاثر اور تقریب سنجیدہ ہی رکھا…
حرم ادھر آو میرے پاس”وہ نرمی سے بولا… اور اسکی جانب ایک اور قدم اٹھایا..
بلکل نہیں میں جانتی ہوں.. آپ کیا کرنا چاہتے ہیں مگر ہر بار ایسا نہیں چلے گا… آپ کتنے چھیچھورے ہیں.. چھی” وہ منہ بنا کر بولی.. جبکہ جہاں جہاں شاہ میر کے قدم آٹھ رہے تھے وہ وہاں سے جھٹک سے غائب ہو جاتی…
حرم… مسلہ کیا ہے تمھارے ساتھ.. مجھے جلدی جانا ہے ڈیوٹی پر اور تمھاری وجہ سے مجھے پہلے بہت دیر ہو چکی یے” شاہ میر جھلایا
ہاں تو میں… رہنا ہی نہیں چاہتی یہاں… مجھے باہر جانا ہے” وہ صوفے کے پیچھے سے گھومی.. جبکہ شاہ میر مسلسل اسکے تعقب میں تھا…
ٹھیک ہے تو بھاگ جاو.. کافی کوشش تو کر چکی ہو.. “وہ بولا…. تو اس بھاگم بھاگ کے کھیل کا اجتتام ہوتا بھی اسے دیکھائ نہیں دیا حرم کافی الرٹ تھی.. اور اس سے دور رہنے کی حتلامکان کوشش کر رہی تھی… وہ جانتی تھی.. اسکی ایک ہی کوئ نہ کوئ حرکت. حرم کو بہکا دے گی جو کہ ابھی تو وہ نہیں چاہتی تھی.. کہ وہ.. اسکی قربت میں بہکتی رہ جائے اور وہا ایک بار پھر فرار ہو جائے یہ تو اچھا تھا اتنے دنوں میں.. حرم کو انداز ہو گیا تھا کہ.. شاہ میر اسے ناشتہ کارئے بغیر نہیں جاتا تھا….
وہ جو آپکے.. گندے… ڈوگز ہیں…. آپ نے خصوصی انھیں سکھایا ہے.. دیوار کے قریب بھی نہیں جانے دیتے… “
وہ بولی تو… غصہ کرنے میں دھیان ایسا.. بھکا کہ شاہ میر نے اسکی ہلکی سی چونک بھانپتے ہی… اسکا ہاتھ پکڑ کر.. اپنی جانب کھینچ کر اپنے چنگل میں قید کر لیا…
جبکہ حرم پھڑپھڑا کر رہ گئ.. اور بچوں کیطرح چیخنے لگی….
آ آ آ آ.. چھوڑیں مجھے چھوڑیں..”
شیٹ آپ “وہ غصے سے اسے جکڑ کر بولا… تو حرم اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی شاہ میر کچھ نہیں بولا جبکہ چند سیکنڈ میں حرم کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں…
کیسے ہیں آپ پہلے کہتے ہیں پیار کرو مجھ سے پھر اسطرح جھڑکتے ہیں زبردستی کرتے ہیں مجھ سے.. ٹھیک ہے.. میں کیوں رو آپکے سامنے آپکے جانے کے بعد میں خودکشی کر لوں گی اور یہ صاف بات ہے کہ دیا ہے میں نے “وہ آنسو صاف کرتی اکڑ کر بولی.. جبکہ شاہ میر نے آئ برو اچکائ…
اوکے ٹرائے کر کے دیکھو شاید اس بار کامیاب ہو جاو اور مجھ سے جان چھوٹ جائے” اسنے کہا.. جبکہ حرم اسکی بے بسی پر…. کچھ کہے بغیر مسکنے لگی….
رمتو شاہ میر نے اسے اپنے سینے سے جکڑ لیا… بلکل اسی طرح کہ حرم کو اپنی پسلیاں ٹوٹتی ہوئ محسوس ہوئیں…
جبکہ وہ یہیں نہیں روکا… اسکے بال کھینچ کر اسنے اسکا سر اوپر کیا… اور چہرہ اسکے چہرے کے بلکل قریب لے گیا….
جبکہ اسنے اپنی ایک انگلی حرم کے دل کے مقام پر رکھی….
تم کسی کا بھی ایمان خراب کر سکتی ہو…… “اسنے سنجیدگی سے کہا… جبکہ حرم اسکا چہرہ اتنا قریب دیکھ کر بلکل پھگل کر رہ گئ تھی.. دل الگ سے پسلیاں توڑ کر نکلنے کے لیے بے چین بیٹھا.. تھا…
مگر افسوس…. کہ میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں… الٹا تمھیں دیکھ کر مجھ میں نفرت کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے…. اپنے لیے نہیں.. ہاں مگر میری بہن…
جس کے حق کی محبت وہ تم پر نچھاور کرتا رہا…..
اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا… ہم لڑکے تھے ہمیں تو بھاڑ میں جانے دو.. مگر شانزے. اسکا کیا قصور تھا.
وہ ڈیزرو کرتی تھی… اس محبت کو جو اسے… کبھی نہیں ملی.. میری لاکھ کوشش کے باوجود….
اسکے اندر یہ احساس آج بھی ہے کہ اسکا باپ… کہاں ہے….
اور پتہ ہے… جب جب اپنی بہن کے بارے میں سوچتا ہوں تب تب… تم مجھے قابل نفرت لگتی ہو…..
کاش… تم اس لائق ہوتی کہ شاہ میر خان تم سے… اپنی بہن کی محرومیوں کا انتقام لیتا… مگر افسوس…
تم میرے انتقام سے بچ گئ.. مگر میری نفرت……
میری نفرت سے کبھی نہیں بچ پاو گی.. تمھیں قید رکھنا.. اور اپنی بیوی… واضح نہ کرنا ہی.. تمھاری سب سے بڑی توہین ہے کہ میں تمھیں اس قابل نہیں سمجھتا… کہ دنیا کی نظروں میں تم شاہ میر خان کی بیوی بنو….
مگر اس خوشفہمی میں کسی دن مت رہنا. کہ میں تم سے دور رہو گا…
مجھے اپنے حق وصول کرنے آتے ہیں….
کیونکہ.. میں تمھارا شوہر ہوں… اور جس.. دن میرا دل کرے گا.. اس دن.. تمھیں اپنی بیوی کے مقام پر لے آو گا…. “حرم سن کھڑی تھی جبکہ شاہ میر…. کی انگلی اسکے دل کے مقام سے ہٹ کر.. اب نیچے کی جانب سفر کر رہی تھی…
مگر حرم کے وجود میں جیسے احساس نام کی چیز نہیں تھی… وہ اسکی آنکھوں میں ایسے دیکھ رہی تھی.. جیسے…. دوبارہ شاید اسے دیکھنے کا موقع نہ ملے…
جبکہ شاہ میر کی نظریں اب اسپر سے ہٹ چکیں.. تھیں.. اور سفر کرتی اپنی انگلی پر تھی…
حرم کی سانسوں بھاری ہونے لگیں… جس کا احساس شاہ میر.. کو بخوبی.. ہو رہا تھا…
مگر… وہ اسکی جان یوں ہی بخشنے والا نہیں تھا….
شاہ میر نے ایک جھٹکے سے حرم کا روخ پلٹ دیا…
اگر تمھارا دل میرے قابل ہوتا تو.. میں…. تمھیں اپنی قربت سے نفرت جتاتا…. مگر تم.. کہیں سے بھی میرے قابل نہیں حرم نہ ہی ایسی ہو کہ میں تم سے محبت کرو…. خیر یہ لفظ میرے لفظوں میں شامل بھی نہیں…. “سفاکی سے بولتے ہوئے اسنے… حرم.. کی کمر کا جکڑ لیا… اور اسکی کمر سے… تراشیدہ بال ہٹائے.. تو گھیرے گلے کی ڈوریاں واضح ہوئیں…
جسے شاہ میر نے دانو توں سے کھول دیا…
حرم کا وجود اب بھی بے حرکت تھا….
مگر تمھیں مجھ سے محبت کرنی ہو گی… حرم…..
ہر حال میں….. اگر تم نے ایسا نہ کیا…..
تو یقین مانو… میں تمھیں مار دو گا “حرم کو اسکے پر ہدت لبوں کی گرمائش اپنی گردن کو جھلستی ہوئ مھسوس ہوئ.. جبکہ.. اب ایک جنون کی کیفیت میں.. وہ اسے… بکھیر رہا تھا……..
اور اس سے پہلے اسکا جنون اسے.. کسی اور ڈگر پر لے جاتا…
شاہ میر کا سیل فون بج اٹھا.. اور سیل کی آواز سنتے ہی… شاہ میر نے ایک جھٹکے سے حرم کو دھکا دیا… کہ وہ اندھے منہ بیڈ پر جا کر گیری…
شاہ میر نے اپنے لبوں پر ہاتھ پھیرہ….. جبکہ ایک نظر حرم کی پشت کو دیکھا… جو سرخ ہو رہی تھی…..
شاہ میر نے اپنا سر تھام لیا….
اور اگلی بات کیے بغیر وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا…
……………….
وہ اب آگے کے بارے میں سوچ رہی تھی مگر کچھ سجھائ ہی نہیں دے رہا تھا.. کیا کرے… وہ بدلہ لینا چاہتی تھی جو اسنے اچھے سے لے بھی لیا تھا مگر پورا ایک دن وہ اپنے گھر اور اپنے ماحول سے دور تھی…
ڈیڈ کو تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں پتا تھا.. اور مزے کی بات یہ تھی.. انھوں نے جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ کہاں پر ہے.. کیا کر رہی ہے…
ایک دن سے انکی بیٹی غائب تھی خیر یہ سب تو وہ بچپن سے دیکھتی آئ تھی عادی تھی وہ اس بےتوجگی کی…
مگر اب اسے یہاں سے بھاگنا تھا…
اور یہ بات تو شہروز خان پر وضح کرنی ہی تھی کہ وہ جب اسکی عزت بن کر… بےغیرتی کرتی ہے تو وہ اسکا کیا بغاڑ لے گا….
ونیزے نے… سوچا… اور بھاگنے کے لیے… وہ… تیار.. بیٹھی تھی…
شہروز نے اس دن کے بعد ایک نظر بھی اسکی جانب نہیں دیکھا تھا. اسکے دل میں عجیب سی بھڑاس تھی جسے.. وہ اسکی نظر میں آ کر نکالنا چاہتی تھی..
شاید وہ وخد بھی نہیں جانتی تھی کہ.. اسکا دل کس ڈگر پر.. چل پڑا تھا…
وہ اپنے مخصوص حولیے میں… آدھی رات کے وقت.. کمرے سے نکلی وہ نہیں جانتی تھی یہ کمرہ کس کا ہے….
مگر اسے اسوقت یہاں سے بھاگنا تھا… جبکہ شہروز…. کو باور کرانا تھا کہ وہ اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا…
لاونج سے دبے پاوں نکل کر وہ لون میں آئ….
تو ایک پراسرار مسکراہٹ اسکے چہرے پر تھی… جبکہ…
گھر کا دروازہ عبور کرتے وقت.. اسنے پلٹ کر بس ایک نظر پیچھے دیکھا تھا….
اب ان گالیوں کو اپنی عزت کے لیے سمبھال کر رکھنا شہروز خان.. کیونکہ اب.. اگر تم مجھے گالیاں دو گے تو.. وہ میری انا کو نہیں جھنجھوڑ یں گئیں… اسنے سوچا.. اور اسی طرح وہاں سے غائب ہو گئ
………
شہروز گھر لوٹا… اسوقت.. اس کے دماغ میں شاہ میر کی باتیں چل رہیں تھیں.. جبکہ اماں کی اور شانزے کی ناراضگی ناقابل برداشت تھی.. اسنے… ناراضگی کی وجہ.. کا دم نکالنے سے پہلے اماں.. اور شانزے کو منانے کا سوچا…
اور وہ اماں کے کمرے میں داخل ہوا.. مگر وہ بھول گیا تھا کافی سے زیادہ رات گزر چکی تھی.. اور… اماں سو رہیں تھیں…
کمرے میں اندھیرہ دیکھ.. کر وہ اماں کے بیڈ کے پاس آیا…
اور انکے پاوں پکڑ کر بیٹھ گیا…
شہروز “اماں کی آواز ابھری تو.. اسنے بڑی چاہت سے.. انکے قدموں کو چوم لیا….
مجھے معاف کر دیں اماں” وہ نا کردہ گناہ کی معافی مانگنے لگا….
تو اماں ایکدم آٹھ کر بیٹھ گئیں….
اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر تو شہروز نے سر اٹھا کر دیکھا….
کس گناہ کی معافی مانگ رہے ہو….
اسکو پسند کرنے کی…. یا… جو تم نے کیا نہیں.. وہ کرنے کی” انھوں نے سنجیدگی سے پوچھا…. تو.. شہروز حیرت سے انکی جانب دیکھنے لگا….
وہ.. دو ٹکے کی لڑکی آپکو کس نے کہا میں نے کسی دن اسے پسند کیا بھی تھا” اسنے.. تڑخ کر پوچھا تو.. اماں.. نے اسکی جانب دیکھا….
میں جانتی ہوں شہروز میرے بیٹے.. کسی.. بھی لڑکی کیطرف مائل نہیں ہوتے…
اور تمھاری اسکے نمبر پر کال…. وہ تمھاری پسندیدگی کی نشانی ہے” انھوں نے جیسے حقیقت بیان کی..
مطلب آپ جانتی تھیں میں نے وہ نہیں کیا جو… آپ سمھجی.. تو آپ نے میرا نکاح کویں کرایا…” وہ غصے سے ونیزے کے بارے میں سوچتے ہوئے بولا…
تو انھوں.. نے… اسکے ہاتھ اپنے پاوں پر سے اٹھائے…
ماں ہوں تمھاری…. ایک پل کے لیے لگا تھا….
کیونکہ اسنے ثابت ہی ایسا کیا… پھر.. سوچا. تم رضا خان کے تو بیٹے نہیں ہو… تم میرے بیٹے ہو….
عورت کی عزت تمھاری نس نس میں ہے… تو میری جان کیسے… میں.. وہ سب مان لیتی “انھوں نے.. پیار سے کہا.. اور اسکا سر اپنی گود میں رکھ لیا…
اماں اپنے میرا بوجھ ہلکا کر دیا” وہ پرسکون ہوا….
اب میں اس عورت کو ایک لمہہ اس گھر میں برداشت نہیں کرو گا…. “اور ایکدم غصے سے اٹھا….
شہروز طلاق کا تصور بھی نہیں کرنا…” انھوں نے… سختی سے کہا… تو شہروز. نے جھنجھلا کر انکی جانب دیکھا….
اور باہر نکل گیا…
جبکہ رکھ اپنے کمرے کی جانب تھا.. وہ ونیزے.. کو اچھے سے سبق سیکھانا چاہتا تھا….
مگر… جب کمرے کا دروازہ کھلا.. تو وہاں ونیزے کا وجود نہ پا کر.. وہ ایک پل کے لیے چونکا…
اور واشروم میں چیک کیا.. تو وہ وہاں بھی نہیں تھی…
کہاں دفع ہو گئ اب یہ “اسنے غرا کر سوچا…. اور ابھی وہ.. کمرے سے نکلتا.. کہ ٹیبل پر ایک پیپر دیکھا…
اسنے وہ پیپر اٹھایا…
بے غیرت کے تنے دینے والے مسٹر شہروز اپنی غیرت کی حفاظت بھی نہ کر سکے…
سد افسوس…. میرا انتقام پورا ہوا… اگلی بار تمھیں دیکھنا بلکل نہیں چاہو گی.. اور جتنی جلدی ہو سکے خود ہی طلاق دے دو.. “
اسنے نوٹ پڑھا…
اور غصے سے اس نوٹ کو کئ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا…
اب تم مجھ سے بچ کر دیکھاو” اسنے سوچا اور شانزے کے کمرے کی جانب بڑھا…
………….
جاری
ہے