128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

یہ سب تم جان بوجھ کر کر رہے ہو….. مگر تم یہ مت بھولو میں کس کی بیٹی ہوں ایک منٹ میں تمھیں اس گھر سے باہر نکلوا سکتی ہوں.. مسٹر میری شرافت کو.. شرافت سمھجو اور چلتے بنو خود ہی”ونیزے نے بگڑ کر اسکو اسکی حثیت یاد دلانا چاہی مگر مجال ہے شہروز نے اسکی کسی بھی بات کا اثر لیا ہو…. صوفے کی سائیڈ ٹیبل پر پڑے انٹیک سامان سے کھیلتے ہوئے وہ بولا.. تو ونیزے… اپنے قدموں سمیت کانپ گئ
ہاں میں جانتا ہوں تم اس آدمی کی بیٹی ہو جو بچپن سے ہی تمھیں بوجھ سمجھتا ہے. اور تمھاری ماں ایک طوائف تھی… تم ایک غلطی ہو تبھی کوئ تمھیں منہ نہیں لگتا سب جانتا ہوں میں “
وہ تو لاپرواہی سے بولا تھا.. مگر ونیزے کا وجود ساکت رہ گیا تھا.. یہ وہ باتیں تھیں.. جنھیں وہ خود سے بھی کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی… جبکہ اس شخص نے ایک لمہے میں اسکو اسکی اوقات باور کرا دی تھی.. مگر ونیزے سے یہ سب برداشت کرنا نہایت مشکل تھا……
وہ اسکی جانب بڑھی… شہروز چہرے پر مسکراہٹ سجائے… خباثت سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا…
جبکہ ونیزے نے کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے.. شہروز کا گی ان پکڑ لیا……
اسوقت اسکی آنکھیں سرخ… جبکہ چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا.. جبکہ آنکھوں سے چند آنسو ٹوٹنے کے لیے بےقرار تھے….
میں کسی پر بوجھ نہیں ہوں….
میری کوئ ماں نہیں ہے……. آج کے بعد دوبارہ یہ بات مت دھورانا مسٹر شہروز… ورنہ ونیزے تمھیں جان سے مار دے گی”وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی….
غصے سے چلائ… تبھی شہروز.. نے اسکے دونوں.. ہاتھ جو اسکے گریبان.. کو جکڑے ہوئے تھے پکڑ کر.. موڑ دیے….
ونیزے کو تکلیف تو بہت ہوئ.. مگر وہ اس آدمی کے سامنے کبھی کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی….
کیسی لگی.. بے بسی…. کہ جب آپکا کوئ قصور نہ ہو.. اور آپ… برے ٹھرائے جاو…… مزاہ آیا ونیزے میڈیم”شہروز اسکے کان کے قریب پھنکارہ جبکہ ونیزے نے اپنے بازو چھڑانے کی کوشش کی…
نہ نہ… لڑکیوں پر نازاکت جچتی ہے… یہ مرد مار والی حرکتیں مجھ پر مت آزماو…… ” اسنے ایک جھٹکے سے.. اس تڑپتی چڑیا کو آزاد کیا… اس سے پہلے ونیزے گیرتی.. شہروز نے خود ہی اسے سہارا دیا….
جبکہ ونیزے.. نے غصے سے آپنے بازو آزاد کرا لیے…
تم یہاں سے دفع ہو جاو.. ” وہ بدلحاظی سے چلائ….
جبکہ شہروز نو لفٹ کا بورڈ لگائے… ارد گرد دیکھنے لگا…. ویسے ان سب کمروں میں سے تمھارا کمرہ کون سا ہو سکتا ہے” وہ ایسے پوچھنے لگا جیسے ان کے تعلقات بہت اچھے ہوں….
ابھی بتاتی ہوں تمھیں… “ونیزے غصے سے دندناتی ہوئ…. باہر کی جانب نکلی…
واچمین… کارڈز “وہ لون میں زور سے چلائ..
جبکہ شہروز اندر شانے اچکا جر.. کمروں کی تلاشی لینے لگا…
کوئ بھی اس کی پکار پر.. نہیں آیا.. اسکا میٹر گھمنے لگا تھا…
باسٹرڈ”وہ ان سب پر ایک لفظ بھیجتی.. اندر آئ.. تو شہروز کو اپنے کمرے کے دروازے کے سامنے پایا..
رک جاو “وہ زور سے چینخی.. اور وہیں.. شہروز کو انداز ہو گیا کہ یہ کمرہ انھیں محترمہ کا ہے.. آج کی رات تو کم از کم وہ اس سفید چڑیل کا جینا حرام کر دینا چاہتا تھا آجر کو.. اسے بھی پتا چلے.. شہروز.. کیا بلا ہے…
وہ غڑاپ سے کمرے میں داخل ہوا.. جبکہ ونیزے.. اس اچھے شخص کی حرکتوں پر کھول کر رہ گئ.. وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب دوڑی…
اور جب وہ روم میں داخل ہوئ شہروز چارو جانب سکون سے دیکھ رہا تھا…
وہ شاید کوئ پنک روم تھا.. ہر چیز وہاں کی پنک تے ھی جبکہ کارٹونز سے بھری ہوئ تھی..
اسکے علاوہ دیواروں پر.. شاید.. اسکے فیورٹ.. ایکٹرز… کے پوسٹرز لگے تھے…
کمرہ کم عجائب گھر زیادہ ہے”شہروز.. نے منہ بنا کر کہا…
یہ کون تیس مار خان ہے..” وہ ایک پوسٹر کی جانب بڑھا…
وہ بارکلے ہارڈر.. کی تصویر کو توجہ سے دیکھنے لگا…
ہٹ جو ان کے پاس سے “
ہیں.. ان… مطلب.. وہ تمھارا شوہر.. جس سے تم نے زبردستی بیاہ رچایا…. اسکی خوبصورتی پر مر کر.. شاید.. یہ جو بھی… اسکو تو تڑاک سے بات کر رہی ہو اور اس پانی کم چائے سے… اتنی عزت… ہضم نہ ہوا کچھ جیر بہت برا ہے” اسنے…. ایک ہاتھ بڑھا کر پوسڑ کو دیوار سے کھینچا…. َاور دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا…
شہروز” ونیزے چلائ… اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا….
یہ پوسٹر کتنے دل سے.. بنوایا تھا اسنے….
اور ایک منٹ میں اسنے کئ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا….
یو…. “وہ دانت کچکا تی ہوئ اس تک بڑھی کہ شہروز جنپ لگا کر اسکے.. وائٹ اور پنک بیڈ پر چڑھ گیا…
اے.. سفید حسینہ… پلس… زبردستی کی بیوی…. دور رہو مجھ سے… نیت خراب کیسے بھگی ہوئ آئ ہو.. میرا کوئ ارادہ نہیں تم سے رومینس جھڑنے کا” وہ ہاتھ نچا کر بولا… ونیزے.. کی آنکھیں نم ہو گئیں.. اسکا پیارہ بیڈ شہروز کے جوتے کے نشان سے بھر چکا تھا… جگہ جگہ.. گندگی لگ گئ تھی.. شہروز ونیزے کو سن دیکھ کر نیچے اترا….
آیا نہ مزاہ…. میری زندگی حرام کر کے تم نے سوچا بھی کیسے.. کہ میں تمھیں سکون سے جینے دوں گا “وہ مزے سے بولا.. اور فروٹ باسکٹ سے انگور اٹھا کر.. اچھال اچھال کر
. منہ میں کیچ کر کے کھانے لگا.. ونیزے کی تکلیف اسے.. سکون دے رہی تھی جبکہ ونیزے مزید وہاں رک نہیں سکتی تھی.. وہ.. پلٹی.. شہروز نے آی برو اچکا کر اسکی جانب دیکھا…
لاس سے پہلے وہ باہر نکلتی.. شہروز نے دروازہ بند کر دیا..
کدھر… چلی ہو منہ اٹھا کر”وہ انگور چباتے ہوئے بولا…
شہروز.. مجھے جانے دو” ونیزے بڑی مشکل سے ضبط جرتے بولی.. اسکا دل چینخ چینخ کر رونے کو کر رہا تھا…
میں نے پکڑا کب ہے تمھیں”شہروز سکون سے اسکی نازک کمر دیکھتے ہوئے بولا.. جو.. کورٹ میں چھپی تھی…
کبھی انسانوں والے کپڑے بھی پہن لیا کرو”شہروز. ناگواری سے اسکی ڈریسنگ دیکھتے ہوئے بولا…
شیٹ آپ.. ہوتے کون ہو تم.. مجھے سمجھانے والے “ونیزے غصے سے کھولنے لگی…
انگورکھاو” وہ الٹا جواب دیتا اسکے منہ میں انگور ٹھنستا.. وہاں سے جوتے سمیت بیڈ پر لیٹ گیا…
آ جاو تم بھی موی دیکھیں گے تمھارے ٹائپ کی” وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے بولا تو… ونیزے.. حیرت ذدہ رہ گئ..
کیا مطلب ہے میری ٹائپ… “
مطلب چھچھوری رومانٹک… گندی “وہ مزے سے طنزیہ مسکرایا.. تو ونیزے نے سر تھام لیا….
وہ کم از کم شہروز کو ایسا ایکسپیکٹ نہیں کرتی تھی.. وہ اسے ہارڈ روڈ پرسن سمھجتی تھی مگر یہ تو اچھا خاصا ڈھیٹ چیپکو انسان تھا جو چند لمہوں میں اسے… جلا کر بھسم کر چکا تھا….
مگر وہ بھی ونیزے تھی….
…………….
حرم سو کر اٹھی تو… اٹھتے ساتھ ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی شاید اسنے کوئ اچھا خواب دیکھا تھا..
وہ اٹھی.. اور پرزور انگڑائ لے کر.. اسنے بالوں کو ایک جھٹکا دیا… تو اسے ہاتھ پر ڈریپ محسوس ہوئ.. جس پر اسنے منہ بنا لیا…
مگر وہ بہت اچھا فیل کر رہی تھی.. اچانک اسکی نظر سامنے اٹھی.. تو صوفے پر پاوں ہر پاوں جمائے.. ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے…
وہ آرام سے سو رہا تھا…
سوتے ہوئے حرم کو وہ جلاد بہت پیارا سا لگا… تو وہ اپنی جگہ سے اٹھی مگر یہ ڈریپ…. اسکی جانب دیکھ کر اسنے.. بغیر لحاظ کی… ڈریپ… ہٹائ.. تو اسے درد سا ہوا…. مگر اس وقت اسے شاہ میر کے پاس جانا تھا..
تبھی.. سائیڈ [یبل سے.. فرسٹ ایڈ لگاتے ہوئے.. وہ شاہ میر کے قریب.. آئ.. اور اسکو گھورنے لگی… اگر.. وہ یہاں.. اسکے ساتھ اسکے بازو میں… بیٹھتی.. تو.. یقیناً ان دونوں سے پیارا کپل کسی کا نہ ہوتا…
اور اب حرم کا افلاطونی دماغ حرکت میں آ چکا تھا.. اسنے… اپنے بالوں کا جوڑا بنایا… تو اسکے ہاتھ میں درد سا ہوا… جسے اگنور کر کے وہ آرام سے صوفے پر چڑھی… اور شاہ میر کا ہاتھ ٹچ.. کر کے دیکھا….
اسکے ٹچ کرنے سے ہی.. شاہ میر فورا الرٹ ہوا تھا…
مگر اسنے آنکھیں نہ کھولیں…
حرم کو جب یقین ہوا کہ وہ نہیں جاگ رہا تو… اسنے ارد گرد دیکھا.. مگر شاہ میر کا موبائل نظر نہیں آیا.. پھر اسکی پینٹ کی پوکٹ پر نظر پڑی اور اسنے بڑی مہارت سے موبائل باہر نکال لیا.. شاہ میر کو غصہ آنے لگا.. شاید وہ پھر اپنے چاچو کو فون کرنے والی تھی مگر اسنے فل وقت کسی بھی ایکشن سے خود کو بعض رکھا…
حرم نے اسکا موبائل کھولا… جس پر قسمت سے پاسورڈ نہیں تھا…
اسنے حیرت سے شاہ میر کو دیکھا… اور پھر…. اسکے دماغ میں ایک شرارت سوجی اور اسنے اپنے نام
حرم جان کا پاسورڈ شاہ میر کے موبائل پر لگا دیا… اور اس عمل سے وہ بے انتہا خوش ہوی تھی… اور اب اسنے احتیاط سے شاہ میر کا بازو اٹھایا…
اور اسکے بازو کے نیچے… خود بیٹھ کر اسنے.. اسکا بازو اپنی گردن کے پیچھے سے لے کر.. آگے اپنے اوپر گیرا لیا… اور اتنے میں ہی وہ اچھی خاصی ہلکان ہو چکی تھی….
اپنی جانب سے وہ اڈجیسٹمنٹ کر کے… اب.. شاہ میر کا موبائل کھول کر کیمرہ اون کر چکی تھی..
شاہ میر کا دل کر رہا تھا.. وہ اس لڑکی حرکات پر سر پیٹ لے.. وہ سکون سے ایسے ہی بیٹھا رہا.. ہاں البتہ… اسنے حرم پر اپنے بازوں کی گرفت کی تھی جسے وہ اپنی حرکات میں محسوس نہ کر سکی….
حرم کا جوڑا ڈھلک کر آگے آ چکا تھا اسنے اپنی آگے آئ لٹوں کو پیچھے کیا اور کیمرہ اون کر کے اپنی اور شاہ میر کی سیلفی لینے لگی…..
چند اپنی اور میر کی سیلفیاں کے کر اسنے سنیپ چیٹ ڈاون لوڈ کر کے .. سنیپ چیٹ کے فنی ایموجی شاہ میر کے فیس پر سیٹ کر کے.. بمشکل اپنی ہنسی روکی…
اور پھر مزید سیلفیاں لے کر.. وہ اب.. ایک سیلفی کو کور پیج ہر سیٹ کر رہی تھی کہ میر… جو اب تھک چکا تھا.. ایک طرف گردن کیے.. اسنے.. اپنی پوزیشن بدلی… اور حرم کیطرف دیکھا.. پھر اس تصویر کی جانب دیکھا جسے وہ.. بڑے مگن انداز میں ایڈجسٹ کر رہی تھی….
ہو گیا شوق پورا “وہ اچانک ہی اسکے کان میں بولا… تو حرم… ڈر گئ….
آف….” اسنے اپنا دل تھاما….
مجھے ڈرا دیا.. ابھی میرا دل بند ہو جاتا “اسنے کہا… اور جھجھک کر شاہ میر سے دور ہونے لگی….
ہیلو……… ” شاہ میر نے.. اسپر گرفت سخت کر لی… اور… حرم کو بازو میں بھر کر.. اپنی ٹانگوں پر بیٹھا لیا..
وہ جیسے ایک گڑیا.. کی مانند.. اسپر… بیٹھی سرخ.. چہرہ لیے کنفیوزڈ دیکھ رہی تھی..
اس دل میں شاہ میر ہے… ہے نہ” اسنے… حرم کے دل پر انگلی رکھی تو.. حرم کا وجود کانپ اٹھا…
امجیسے شاہ میر نے بھی محسوس کیا..
اور جب اس دل میں.. شاہ میر ہے.. تو کیسے یہ دل بند ہو سکتا ہے… آج کہ بعد ایسی بات مت کرنا ورنہ.. اس دل کو خود ہی نکال کر تمھاری ہتھیلی پر سجا دوں گا…” اسنے گھور کر حرم کو دیکھا.. تو حرم جو اسکی جادوئ باتوں میں کہو گئ تھی…
اسکی جانب چونک کر دیکھنے لگی…
آپ شروع سے ایسی.. خوف ناک باتیں کرتے ہیں..؟” اسنے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا….
تو شاہ میر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر…. اپنے سینے سے لگا لیا… وہ اسے چاہ کر بھی کہ نہ پایا کہ وہ پہلی لڑکی ہے.. جس نے شاہ میر خان کو ڈرا دیا تھا…..
یہ شاید وہ اپنے دل کی آواز کو دبا رہا تھا کہ وہ اسے کھونے سے ڈر رہا ہے…
مگر یہ بھی حقیقت ہے… کہ وہ ساری زندگی اسے خود کہ ساتھ نہیں جوڑ پاتا…
اسے اسے ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہی تھا…..
یہ معملہ اسکی غیرت کا تھا… یہ ان بچپن میں کیے وعدوں کی آواز تھی… یہ ان وعدوں کا مان تھا کہ.. وہ کسی صورت اسکے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا تھا…
یہ ان بے بس لمہوں کا تقاضہ تھا…. جن میں اسکے آنسو اسے اسکی کمزوری کا احساس دلاتے رہے…
یہ ان لمہوں کے لیے تھا….
جن میں اسے اپنے باپ کی ضرورت تھی…. جب دنیا.. اسکے ساتھ کھیل رہی تھی…..
وہ گزرے دن کبھی نہیں بھول سکتا تھا….
شاہ کر بھی اسکے گزرے لمہوں کا سایہ اسے خوش رہنے نہیں دیتا تھا…..
حرم.. اتنا نہیں بولتے.. “اسکی پشت پر نرمی سے… ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ.. جیسے اسے سمھجا رہا تھا.. مگر دماغ اور دل ایک عزیت کا شکار تھے….
کاش وہ ایک نارمل زندگی گزار سکتا…
کاش وہ اپنے ماضی سے نکل… سکتا….
کاش……
میر مجھے بھوک لگ رہی ہے” جبکہ دوسری طرف حرم شاہ میر کے اتنے نرم لہجے پر جیسے موم کی مانند پگھل چکی تھی…
اوکے چلو…. آج تمھیں اپنے ہاتھ کا ناشتہ کھیلاتا ہوں” شاہ میر… نے.. اسی طرح اسکو گود میں بھر لیا.. جبکہ حرم.. تو اسکی اس توجہ پر پھولے نہیں سما رہی تھی.. اسوقت وہ خود کو خوشقسمت ترین سمھجہ رہی تھی….
ابھی وہ روم سے باہر نکلتا کہ اسکا سیل فون بجنے لگا…
اوہ..” شاہ میر نے پلٹ کر صوفے پر دیکھا….
اور حرم کو نیچے اتار کر اسنے فون اٹھایا….
حرم اسکو شوق سے دیکھ رہی تھی….
جی اماں اسلام و علیکم” اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکان تھی ان سے بات کرتے ہوئے…
حرم حیرانگی سے شاہ میر کو دیکھنے لگی….
وہ عورت کیسی ہو گی جس سے… شاہ میر مسکرا کر بات کرے…
ہاں وہ اس سے نرم لہجے میں بات کرتا تھا اپنا حق جماتا تھا…
حق سے.. اسکو چھوتا بھی تھا مگر کبھی حرم نے اسکو خود سے بات کرتے ہوئے مسکراتے نہیں دیکھا…
وہ ایکدم جو آنکھوں میں شوق تھا بھج سا گیا.. حرم نے سر جھکا لیا.. اسکی آنکھیں نم ہو رہیں تھیں…
آپ کہیں تو میں ابھی آ جاتا ہوں.. اماں”شاہ میر نے ایک نظر حرم پر ڈال کر کہا جو سر جھکائے منہ بنائے کھڑی… تھی
نہیں تم رہو اپنے اہم کیس میں بیزی..” اماں نے خفگی سے کہا… تو شاہ میر نے.. سر جھکائے کھڑی حرم کو ہاتھ بڑھا کر اپنے نزدیک کر اپنے بازو میں بھر لیا….
نہیں میری کوئ مصروفیت آپ سے زیادہ قیمتی نہیں… آپ میرا ناشتے پر ویٹ کریں میں آتا ہوں” اسنے کہا تو اماں مسکرا دی اور ٹھیک ہے کہ کر فون بند کر دیا.. جبکہ شاہ میر نے گھیرہ سانس بھر کر حرم کو دیکھا..
سکینہ تمھیں ناشتہ کرا دے گی.. تم دوائ ٹائم پر لو گی.. اوکے” اسنے اسے کہا تو.. حرم اس سے دور ہوئ…
میر اماں کون ہیں”وہ افسردگی سے پوچھ رہی تھی…
میری ماں ہیں”شاہ میر کے لہجے میں زرا سختی سی گھل گئ تھی…
وہ کیسی ہیں” حرم نے ایک اور سوال کیا…
یہ تمھارا ٹاپک نہیں”میر نے کہا اور اسکے پس سے اٹھا…
میر پلیز مجھے بھی یہاں سے باہر جانا ہے بس ایک بار چاچو سے ملنا ہے “حرم نے نم لہجے میں التجا کی تو شاہ میر.. غصے سے پلٹا…
کیا تمھیں میری بات سمھجہ نہیں آتی تم.. یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی “وہ غصے سے بولا.. تو حرم اسکی صورت دیکھنے لگی….
میر میں یہاں سے بھاگ جاو گی “وہ بولی تو شاہ میر طنزیہ مسکرایا…
تم نے یہاں سے نکلنا چاہا تو میرے گارڈز تمھیں جان سے مر دیں گے ٹرائے کر کے دیکھ لو..
وہ سفاکی سے بولا.. تو حرم.. پھوٹ پھوٹ کر رو.. دی..
مگر اسنے اسے چپ نہیں کرایا.. اور واشروم میں بند ہو گیا….
………………………
انکل مجھے پتا چل گیا ہے خلحرم کہاں ہے.. اس زلیل پولیس والے نے کہاں چھپایا ہے اسے”ابان نے رضا صاحب کی جانب دیکھا.. جن کے وجود میں جیسے ایکدم جان بھری تھی…
تم سچ بول رہے ہو.”
جی انکل.. چلیں آپ میرے ساتھ.. آج وہ ایس پی… روے گا.. اور ہم حرم کو نکال لائے گے… اور اسکا… ٹرمننٹ لیٹر.. بھی ریڈی ہو چکا ہے.. اب اسکے گھر میں جب پہچے گا تب اسے انداز ہو گا کہ.. ہم کیا ہیں اور وہ کیا ہے.. سالا اپنی پولیس وردی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا” وہ نفرت سے بولا.. تو رضا.. صاحب خاموش ہو گئے.. شاید وہ یہ کہنے لائق بھی نہیں تھے کہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے… جیسا آبان کر چکا تھا…
چلیں انکل حرم ویٹ کر رہی ہے ہمارا” اسنے کہا.. اور فیضان کو پکارہ جو… ایک پل میں کمرے سے نکلا تھا…
اور وہ تینوں.. شاہ پیلس کی جانب چل دیے.
………………
جاری ہے