Deewani Yaar Di By Tania Tahir Readelle50248 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
اماں نے اثبات میں سر ہلایا….
ٹھیک اچھا لڑکا ہے…”
حرم بڑی توجہ سے یہ ساری بات سن رہی تھی جبکہ شادی کا ذکر سن کر ایکسئٹمنٹ بھی بہت تھی…..
اگر اسکی فیملی کل لنچ پر آ جائے تو آپکو کوئ اعتراض تو نہیں.. “شاہ میر نے اماں کی طرف دیکھا…
شانزے کی آنکھوں میں اس انسان کے لیے آنسو شاہ میر کو کسی طور برداشت نہیں تھے…
اور بھلے شانزے مر جاتی مگر اس گھر میں وہ اپنی بہن کبھی نہ دیتا….
اور اسے لگا.. شاید کسی بھی قسم کی اٹیچمنٹ کے بارے میں اماں جانتی ہوں گی اور اگر ایسا تھا.. تو وہ ضرور کچھ کہتی.. مگر اماں راضی تھیں…
تبھی اسنے سب کچھ بھاڑ میں جھونک دیا…
کیا وہ اپنی بہن کو بھی اس عزیت سے دوچار کرتا جس سے اسکی ماں گزری…
کبھی نہیں اور وہ تو ابھی بہت چھوٹی تھی.. سمھجہ نہیں سکتی تھی… ان لوگوں کی گیم کو….
مطلب ہمارے گھر میں شادی آ رہی ہے “حرم چھک کر بولی…
تو شاہ میر نے اسکیطرف… ایک نظر بھی نہ اٹھائ…
جبکہ اماں نے پایر سے اسکیطرف دیکھا…
نہیں مجھے کوئ اعتراض نہیں فواد اچھا لڑکا ہے… اور فیملی کو بھی ہم کافی ٹائم سے جانتے ہیں…. چ” اماں نے کہا تو شاہ میر نے اثبات میں سر ہلایا…
اسی وقت شہروز بھی اماں کے روم میں داخل ہوا.. اور سلام کیا…
دوسری طرف شاہ میر سے بھی سلام کیا.. اور حرم کو جھک کر آداب کیا تو وہ کھل کر مسکرائ…
ابھی وہ مسکرا کر بیٹھا ہی تھا.. کہ ونیزے.. روم ناک کر کے آئ..
سوری میں نے ڈسٹرب کیا…
اسنے معزرت کی.. شہروز نے.. اسکی طرف دیکھا.. وہ بہت جلد بدل رہی تھی… جیسے شہروز چاہتا تھا وہ وہ رنگ اپنا رہی تھی…
آپ کے لیے کافی لاو…. “ونیزے نے شہروز سے جھجھکتے ہوئے پوچھا…. کمرے میں سب لوگ اسکی جانب ہی دیکھ رہے تھے جس سے ونیزے اچھی اخصی کنفیوز بھی ہوئ جبکہ شہروز.. اسکے اسطرح پوچھنے پر.. کافی خوش ہوا تھا..
ہاں کافی دے دو.. اور یہ سامان رکھ دو… روم میں” اسنے.. کہا اور اسکے ہاتھ میں اپن اوالٹ.. کی چین.. اور.. کچھ فائلز تھمائ وہ سر ہلاتی.. ہلکی سی سمائل دے کر باہر چلی گئ.. حرم.. نے یہ منظر دیکھا.. اسے شدید شرمندگی کا احساس ہوا….
جبکہ اماں اسکا سر جھکانا دیکھ چکیں تھیں…
شاہ میر اور شہروز اپنی باتوں میں لگے تھے…
بیٹا… تمھارا بھی فرض ہے.. جب شاہ میر آئے تو اس سے چائے پانی کا پوچھو.. اور اسے.. پیری سی تیار ہو کر.. ریسیو کرو… “
اماں نے جھک کر مدھم آواز میں کہا…
سوری اماں.. آپکو برا لگا میں بلکل کئیر نہیں کرتی” وہ روہانسی ہوئ…
جبکہ اماں.. صرف ہنس سکی..
بیٹا رونے کی بات نہیں ہے اور نہ مجھے برا لگا… مگر.. تمھارے میر کو اچھا لگے گا “انھوں نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی اٹھی.. اب وہ بھی ایک اچھی بیوی بننا چاہتی تھی…
تبھی وہ باہر نی.. اب اسے ونیزے پر غصہ آیا.. بھلہ جو خود کر رہی تھی وہ؛ سے بھی تو بتا سکتی تھی..
وہ سیدھا کچن میں آئ…
تم کتنی بری ہو.. لگتا ہے دوستی بھول کر دیوانی بن گئ ہو “حرم.. منہ بنا کر بولی.. اور.. اسکے کافی کے ساتھ سنیکس بناتے ہاتھ.. دیکھنے لگی…
میں نے کیا کیا ہے..” ونیزے کو حیرت ہوئ…
تم اچھی بیوی بننے کے ٹیپس کہاں سے لیتی ہو… “حرم نے بھنوئیں.. سکیڑ کر اسکو دیکھا.. ونیزے کو ہنسی آ گئ..
جب آپکو کسی سے پیار ہو… تو آپ اسکا خیال خود سے بھی زیادہ رکھتے ہیں.. آپکو انکے چھوٹے چھوٹے کام کرنا اچھا لگتا ہے.. تو اس میں ٹیپس کہاں سے آئ”
مجھے لگا تمھارے پاس کوئ app ہے “حرم ہنس دی اپنی ہی بات پر..
کوئ حال نہیں حرم *ونیزے بھی ہنس دی..
ویسے کتنے مزے کی بات ہے.. ہم دونوں کی ایک ہی گھر میں شادی ہوئ.. واو”حرم کو آج اس بات کا احساس ہوا تھا…
ہمم… ” ونیزے نے ہنکارہ بھرا اور ڈش میں سامان رکھنے لگی…
اور اب فیضان بھی… ” ونیزے نے مصروف اندز میں کہا تو حرم ایک سنیک اٹھاتی نہ سمھجی سے بولی..
آف حرم…” وہ پہلے کیطرح زیچ ہوئ…
اتنا پیٹائ اسنے شانزے کے لیے کھائ.. تھی.. مجھے لگتا ہے وہ شانزے کو پسند کرتا ہے…
اور شاید شانزے بھی “ونیزے نے کہا تو حرم کا منہ کھل گیا..
اس کا مطلب میرا بندا میرے ہی بھائ کی لو سٹوری.. کے بیچ کی دیوار ہے “وہ حیرت سے بولی..
کیا بولے جا رہی ہو.. “ونیزے نے اسکو دیکھا..
یار.. شانزے کے لیے تو فواد کا رشتہ.. آیا ہے. وہ لوگ اسی پر ڈسکس کر رہے ہیں” حرم نے بتایا..
آہ” ونیزے کو افسوس ہوا…
میر بھائ کافی سخت ہیں”ونیزے نے کہا اور ٹرے اٹھا.. کر… اماں کے کمرے کی جانب بڑھ گئ…
جبکہ حرم.. تو پکا اسکی بات سے متفق تھی..
وہ سخت نہیں ماہا سخت تھا…
اماں کے کمرے میں ونیزے ناک کر کے آئ.. اماں تو ونیزے پر نہال ہو رہیں تھی…
ونیزے.. نے ٹرے رکھی تو شاہ میر اٹھنے لگا…
وہ… میں آپکے لیے بھی لائ ہو… “ونیزے کنفیوز سی بولی..
تو شاہ میر نے پیچھے کھڑی.. سنیکس کھاتی حرم کو دیکھا.. اس ایک نظر میں ہی حرم کو اسنے کئ.. ملعمتے دیں تھیں…
نہیں تھینکس میں… خود لے لوں گا” شاہ میر نے کہا.. تو ونیزے… کی پلکیں نم ہو گئیں.. شہروز کو پہلی بار شاہ میر پر غصہ آیا.. جبکہ اماں… ابھی کچھ کہتی ونیزے بول اٹھی..
ایم سوری.. لالا…. مجھ سے کافی غلطیاں” ونیزے نے ہاتھ جوڑنا چاہے.. جبکہ.. آنسو اسکے رخسار ہر تھے…
ارے یہ کیا کر رہی ہیں…. “شاہ میر تو حیران رہ گیا…
بہنیں بھائیوں گے آگے ہاتھ نہیں جوڑتیں…
میری چھوٹی عقل والی بیوی کو کچھ احساس ہو.. میں صرف اس لیے کہہ رہا تھا.. برحال…
میں بیٹھ جاتا ہوں پلیز آپ روے نہیں” وہ سہولت سے بولا.. جبکہ… ونیزے مسکرا دی…
اور شہروز.. بھی مسکرایا…
وہ سب کے دل میں جگہ بنا رہی تھی.. جبکہ حرم نے کڑھ کر شاہ میر کو دیکھا…
اور ماں نے نفی میں سر ہلایا.. ابھی اس لڑکی کو کچھ کہا تھا.. اور ب پھر ویسے ہی کھڑی تھی…
ونیزے نے.. ان دونوں کو سرو کیا…
گریٹ”شاہ میر نے کافی پی.. کر.. اپنی پاکٹ میں سے پانچ ہزار کا نوٹ نکالا…
اور ونیزے کیطرف کیا..
ونیزے کو حیرت ہوئ…
ایک بار وہ اپنی.. میڈ.. کے گھر… ایسے ہی چلی گئ.. تھی اور وہاں.. اسکی بھابھی.. کی کوئ رسم تھی جس کے بارے میں وہ نہیں جانتی تھی.. مگر اسکے کھانا سرو کرنے پر سب نے اسے پیسے دیے تو.. وہ اس عجیب و غریب رقم پر ہنس کر رہ گئ.. اور آج شاہ میر کے ہاتھ میں پیسے دیکھ..
وہ چپ سی کھری رہی..
بیٹا لے لو.. “اماں نے کہا تو… شہروز نے بھی اسے آنکھ سے اشارہ کیا.. جبکہ حرم تو جل کڑے کر رہ گئ..
ونیزے نے وہ پیسے تھام لیے. آج اسے وہ پیسے ان پیسوں سے کئ گناہ زیادہ لگے…
جو اس کا باپ اسکے اکاونٹ میں ڈلواتا.. تھا..
خوش رہیں” شاہ میر نے آٹھ کر آسکر سر پر ہاتھ رکھا.. اور ایک نظر حرم کو دیکھ. کر وہ کافی کا مگ.. لیے وہاں سے چلا گیا… ارادہ شانزے کے روم میں جانے کا تھا…
آپ نے تو کبھی نہ دیے مجھے” حرم شہروز پر بگڑی.. تو وہ تینوں ہنسے..
آپ نے کچھ کھلایا کب.. آپ کھلائیں تو آپ کے کنجوس شوہر سے زیادہ ہی دوں گا” شہروز مزے لے کر بولا…
حرم کو تنگ کرنے کی بات ہی الگ تھی.. وہ پل میں چیڑتی تھی..
ہمممم ہیں تو بہت کنجوس واقعی. “وہ… جلتی… دوبارہ سنیکس کھانے لگی.. جبکہ شاہ میر سے بدلے کا وہ سوچ چکی تھی شہروز بھی وہاں سے اٹھا.. اور زرا سا ونی، ے کیطرف جھکا..
آج بہت پیار آ رہا ہے.. آپ پر.. زرا.. اپنا دیدار نصیب کریں” وہ کہتا.. اٹھ گیا..
جبکہ ونیزے شرما سی گئ..
ایک نظر حرم اور اماں پر ڈالتی وہ بھی اسکے پیچھے ہو لی….
……………..
شاہ میر نے دروازہ کھلا … تو شانزے بیڈ پر بیٹھی تھی…
کیسی ہو گڑیا” وہ شانزے پر آیا اپنا غصہ خود ہی ختم کرتا.. اسکے پاس بیڈ پر پیٹھا….
ٹھیک ہوں لالا” شانزے.. اس سے بدتمیزی ہرگیز نہیں کر سکتی تھی…
اچھا مجھے تو لگا.. اس چھوٹی سی ناک پر…. کچھ بیٹھا ہے “
اسنے سکا چیرہ پکڑ کر.. اسکی ناک کو دیکھتے جائزہ لیا…
وہ بچپن سے اسکا غصہ یوں ہی ختم کرتا تھا…
اب دیکھو وہ میرے آنے سے بھاگ گیا ہے “اسکی ناک… کو دیکھتے اسنے ایسے اشارہ کیا جیسے کچھ اڑ کر گیا ہو..
شانزے ہنس دی.. اور اسکے سینے سے لگی..
جو آپ نے سمھجا ویسا کچھ نہیں ہے” اسنے… نم لہجے میں کہا…
میرا یقین تم توڑ بھی نہیں سکتی “شاہ میر… جانتا تھا.. اس وقت وہ اپنی بہن کو.. اپنی یقین کی بیڑیاں پھنا رہا ہے…
ج.. جی لالا”وہ اپنی خواہش کا گلہ گھنٹتی آنسو. اندر پی گئ…
ایک بار جو چیز ٹوت جائے وہ جڑ نہیں سکتی…
وہ لڑکا…. اس خاندان کا ہے… کہ میں تمھاری خواہچ کے باوجود تمھیں وہاں بیھا نہیں سکتا….
میں نہیں چاہتا.. شاہ میر اگر ریزہ ریزہ ہے.. تو میری بہن بھی ہو جائے..” وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا.. سوچنے لگا…
لالا” شانزے نے.. اپنے آنسو کا گلہ گھوناٹ اور اسکے سینے سے لگے لگے ہی بولی..
ہممم”اسنے ہنکارہ بھرا…
بابا.. کہاں ہیں…کون ہیں… کبھی آپ نے کسی کو اس بارے میں مجھ سے بات کرنے کیوں نہیں دی.. آپ یہ کیوں کہتے تھے… کہ میں ہی تمھارا باپ ہوں”
شانزے نے سوال کیا….
شاہ میر.. کے جبڑے بھینچ گئے…
کیا آپکو… کبھی ضرورت محسوس ہوئ”اسنے.. اسکا چہرہ اوپر کر کے سوال کیا…
نہیں پر.. مجھے جاننا “اسکے لب.. شاہ میر.. کے نفی میں سر ہلانے ہر رکے..
وہ شخص اس قابل ہی نہیں کے میں آپکو اس کے بارے میں کچھ بتاو.. بس آپ یہ سوچیں
آپکا لالا جو آپکے لیے فیصلہ لے گا وہ سب سے اچھا فیصلہ ہو گا “شاہ میر نے کہا.. تو شانزے کی آنکھوں میں فیضان.. کی امید بھری آنکھیں آ گئیں…
اسنے بے دردی سے.. ان آنکھوں کو جھٹکا…
آپکے لالا کو.. اس زکر سے تکلیف ہوتی.. ہے کیا آپ چاہو گی کہ میں تکلیف میں رہو” اسنے پوچھا…
تو شانزے نے نفی کی…
فواد کا رشتہ آیا ہے آپکے لیے… جانتی ہیں آپ فواد کو…
اماں اور میں.. شہروز بھی ہم راضی ہیں.. آپ ایک بارا سکی فیملی سے مل لیں پھر جواب دینا” اسنے کہا اور اسکے سر پر ہاتھ رکھ جر اٹھنے لگا…
لالا”شانزے نے پکارہ… مگر اسنے موڑ کر نہیں دیکھا جبکہ قدم رک چکے تھے..
آپ خوش ہیں”وہ بولی تو شاہ میر… کا ب سنہیں چلا فیضان کا قتل کر دے.. یہ آنکھیں یہ لہجہ…
بول نہیں چینخ رہا تھا اسکے حق میں…
ڈھونڈ رہا ہوں.. کہیں تو ملے گی خوشی “
اسنے کہا اور باہر نکل گیا جبکہ شانزے چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رو دی…
جبکہ اسکے موبائل بھی بجا تھا…
اسنے اٹھا کر دیکھا..
ان نون نمبر تھا.. نہ جانے کیوں اسے ایس الگا.. یہ نمبر اسک اہے..
وہ نہیں اٹھا سکتی تھی کال خود ہی رک گئ..
پھر کچھ دیر بعد آنے والے میسج کو پڑھ کر وہ مزید رو دی…
میرا انتظار کرنا میری محبت میں کھوٹ نہیں… جلد کی سب ٹھیک ہو جائے گا.. میں آو گا”اکا میسج پڑھ کر.. اسنے ڈیلیٹ کر دیا…
…………………..
صبح.. اپنے یونیفارم.. کو انپریس دیکھ کر اسکے تیور ایک بار پھر بگڑے جبکہ سوئ ہوئ حرم.. تو اسے اس دن.. سے بلکلا چھی نہیں لگ رہی تھی جب اسنے اس فیضان کو.. اسپر فوقیت دی..
اسنے سٹورروم کیطرف خود ہی قدم بڑھائے اور پریس کر کے جب وہ دوبارہ روم میں آیا…
تو.. حرم.. جاگ چکی تھی.. اور لائٹ کھلی ہونے کے باعث وہ اٹھنا چاہتی تھی مگر نیند شاید اسے ابھی اٹھنے نہیں دے رہی تھی اسنے چندھیائ آنکھوں سے شاہ میر کو دیکھا…
اور کل ہوا سب یاد آ گیا.. وہ رات بھی روم میں نہیں تھا…
آپ.. آپ روک جائیں یہیں”وہ بولی.. اور انگلی اٹھا کر اسکو روکا جو شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا..
کیا مسئلہ ہے” شاہ میر بگڑ کر بولا…
آپکے ساتھ کیا مسئلہ ہے.. کب سے… دولہا میاں بنے گھوم رہے ہیں”وہ اسکے قریب آئ اور ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی
شاہ میر نے اس کے نائٹ ڈریس پر ایک نگاہ ڈال کر نگاہ پھیر لی.. وہ ونیزے.. کے ساتھ شپینگ کر کے آئ تھی.. اور جب سے. ہی ایسی چیزیں پہن رہی تھی.. کہ وہ خود کو روک کر رہ جاتا…
بلاوجہ مت بولو.. یونی نہیں جانا تم نے” شاہ میر نے انکھین نکالیں..
جانا ہے..” حرم نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائ …تو وہ.. بمشکلا پنی مسکراہٹ روک کر.. منہ موڑ گیا..
پوری چیز تھی اسکی بیوی…
وہ ہر پل یہ مننے کو.. تیار تھا..
حرم.. اب تم جاو گی میرے پاس سے “وہ جھنجھلا کر بولا.. اسکی قربت اسکا ڈریس.. اسکو اب غصہ دلا رہی تھی..
میر.. “حرم نے کچھ ہمت جتاتے.. لاڈ سے.. اسکا بازو.. پکڑا…
سوری نہ… میری غلطی تو ہے ہی نہیں.. “وہ انگلی سے.. اسکی شرٹ کے بازون پر لکیر کھینچتی بولی…
شاہ میر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو نزدیک کیا…
بچی بننا چھوڑ دو.. ورنہ میں دوسری شادی.. ایک منٹ میں کر لوں گا.. ایک سمجھدار بیوی کی ضرورت ہے مجھے” وہ سنجیدگی سے.. اسے تپا گیا تھا…
نہایت… سڑو ہیں آپ.. اگر آپ کو ایک.. معصوم پری جیسی.. چنچل.. لڑکی مل گئ.. تو.. ناشکری کیے جا رہے ہیں”
چنچل پری… یہ زیادہ نہیں ہو گیا “ووہ حیران ہوا…
میر مجھے غصہ آ رہا ہے.” حرم نے.. اسکو دیکھا..
میں ڈر رہا ہوں”شاہ میر نے جھٹکے سے اسکو آزاد کرتے ہوئے مزاق بنایا…
آج تمھیں معاف کر رہا ہوں…
معلوم نہیں کیوں.. لائق نہیں ہو تم معافی کہ.. ویسے.. مگر آج کے بعد میری بات سے اوپر کسی دن نہ جانا… ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا…
اور.. یونی جاو.. تمیز سے اب… اسکے علاوہ میرے آنے.. پر تم.. مجھے فریش ملو…
اور گھر کے کام میں اماں کی ہیلپ بھی کر لینا….
منہ اٹھا کر کام چوروں کیطرح گھمتی رہتی ہو.. “وہ اسے لتاڑ رہا تھا.. حرم ہونٹ نکالے اسے دیکھنے لگی..
یہ تمھارا.. ہونٹ.. کات کے پھینک دو گا.. اب نہ نکلے” وہ.. غصے سے بولا.. تو حرم. نے اسکیطرف دیکھا جو… دوبارہ اپنی اٹئ بندھنے لگا تھا..
وحشی دریندے.. پلس اکڑو.. “وہ.. اسکو القابات سے نوازتی..
غڑپ سے اسکے موڑنے سے پہلے واشروم مین بھاگی..
رات کو بتاو گا… ان سب.. لفظوں کو جب حقیقت کے روپ میں دیکھو گی “وہ بھی بولا.. تو واشروم میں حرم کا دل بری طرح دھڑکا.. اور اسے کچھ یاد آیا..
ایک گفٹ تک اسنے اسے دیا نہیں تھا..
وہ.. منہ بناتی فریش ہونے لگی….
……………………
فواد اپنی فیملی کے ساتھ.. ملنے آیا تھا.. شہروز شاہ میر.. اماں سب بیٹھے تھے
جبکہ حرم نے ونیزے کا سر کھا لیا تھا.. یہ کیوں آیے ہیں تم نے تو کھا تھا..
فیضان اور شانزے.. ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں یہ سب کای درانہ ہے “
حرم خدا کے لیے سر نہ کھاو.. یہ تمھارے شوہر کا مسئلہ تھا.. میں کیا کرو” ونیزے… چیڑ کر بولی..
تو حرم نے اسکے شانے پر تھپڑ مارا…
اوور “وہ بولی… اور.. اسکے ہاتھ سے ٹرے لی…
سمبھل کر جانا.. اور کچھ مت بولنا” اسنے تنبھی بھی کی.. تو حرم.. جو آج ریڈ… کیپری شرٹ.. میں…
کھلے بالوں.. اور ہلکے سے کیے گئے.. ونیزے کے میکپ میں آج شاہ میر کا.. کے دل کے تار کو چھیڑ گئ تھی…
یہ میری بڑی بہو ہے “اماں نے حرم کو پیار سے دیکھا…
جو مدھم سا مسکرائ…
بہت پیاری ہے ماشاءاللہ کب کی آپ نے اپنے بیٹوں کی شادی” فواد کی والدہ نے پوچھا…
وہ بس.. دونوں بیٹوں کی… کسی وجہ کے تحت نکاح کرنا اپڑا…
انشاءاللہ ولیمہ… جلد ہی ہو گا “
انھوں نے مناسب لفظوں میں بات سمیٹی..
اچھا اچھا.. رشتے دار ہیں”
انھون نے پھر سے پوچھا..
جی” اماں نے مختصر جواب دیا..
بہت ہی پیاری ہے “فواد کی والدہ نے حرم کو پاس بیٹھا کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا.. حرم سرخ سی ہو گئ..
جبکہ فواد کا چھوٹا بھائ.. حرم کو ہی دیکھے جا رہا تھا.. شاہ میر نے ضبط سے یہ سارا منظر دیکھا..
حرم نے آٹھ کر سب کو چائے سرو کی…
اور اسکے چھوٹے بھائ.. کو جب کپ دیا تو اسنے حرم کی ملائم انگلیوں کو ٹچ کیا.. جو حرم.. تو محسوس نہ کر سکی.. مگر شاہ میر.. آگ بگولہ ہو گیا…
حرم “وہ اچانک زور سے بولا
جاو میرے لیے کافی لاو” اسنے فواد کے بھائ کو گھورتے ہوئے کہا…
تو حرم اسکے بلواجہ کافی کے ڈرامے سے عاجز آتی.. کافی لینے چلی گئ جبکہ شہروز اپنی ہنسی روک رہا تھا کیونکہ وہ یہ سب نظارہ کر چکا تھا
فواد کے گھر والوں کو شانزے بھی بہت پسند آئ تھی..
اور.. شاہ میر نے.. انکے.. رشتہ دالنے پر اماں کی اجازت سے.. اقار میں جواب دیا..
شانزے وہاں سے آٹھ کر اپنے روم میں آ گئ…
دل پر چھائ اداسی مزید بڑھ گئ.. اور اسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹا..
وہ روزانہ اسے کال کرتا تھا.. مگر وہ اسکی اکل اٹیند نہین کرتی تھی مگر آج نہ جانے کیا ہوا.. شانزے نے خود اسے کال ملا دی…
وہ دیکھنا چاہتی تھی.. اسے کہاں سکون میسر ہے.. اگر اسے اس شخص کی آواز سن کر بھی سکون نہ ملا..
تو.. اگلی بار وہ یہ غلطی جو اب کرنے جا رہی تھی کبھی نہ کرتی…
دوسری جانب سے فٹ کال اٹینڈ کی گئ..
جیسے وہ منتظر ہو..
زہے نصیب “وہ مسکرایا مگر اسکی آواز بھاری تھی جس سے.. شانزے کو مجمحسوس ہوا.. اسے شاید فلو تھا
کچھ بولو گی نہیں” فیضان کی آواز ابھری اسے خود میں سکون بھرتا محسوس ہوا…..
شانزے گڑیا.. “شاہ میر کی پکار پر وہ اچانک بھکلائ… اور سیل.. ہاتھ سے دور پھینکا..
ج.. جی لالا” فیضان کال پر ہونے کے باعث سب سن رہا تھا
گڑیا… آپ یہان کیوں آ گئ.. فواد کی مدر جا رہی ہیں ان سے مل لو.. “شانزے کا گھبرایا ہوا چہرہ ایک نظر دیکھ کر اسنے بات مکمل کی..
ج.. جی لال”اسنے کہا.. اور.. وہیں موبائل چھوڑ گئ.. جبکہ دوسری جانب وہ شخص بے چین ہو اٹھا.
. کون فواد”وہ بڑبڑایا.. اور ایک بار پھر اپنی ماں کے پاس.. وہ بیٹھا اسی موضوع پر بات کر رہا تھا…
یار اماں وہ راضا چاچو کی بیٹی ہے “
فیضان نے کہا درحقیقت.. اسکی ماں اپنے بھائ کی بیٹی لانا چاہتی تھی مگر یہ بات سن کر وہ حیران رہ گئ…
………….
دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے..
آبان.. بے چین.. ہوے جا رہا تھا.. اسکا ہر وار خالی تھا…
تبھی وہ دوبارہ رضا صاحب کے پاس… آیا..
انکل… ہم جانتے ہیں حرم کہاں ہے ایک بار مل تو سکتے ہیں اس سے یوں… آپ بھی اپنی صحت کیسے برباد کر رہے ہیں”
اسنے انکی گیرتی صحت کو دیکھا..
میں مان چکا ہوں… وہ اب مجھے نہیں ملے گی.. اور ویسے بھی.. وہ ٹھیک جگہ پر ہے..
فیضان ملا ہے اس سے..” انھوں نے بتایا.. تو.. آبان… کڑھ کر رہ گیا..
مگر انکل اگر آپ بھی مل لیں. تو.. طبعیت اچھی ہو جائے گی “
اسنے کچھ زور دیا…
رضا نے اپنی بڑھی آنکھیں اسپر ٹکائ.. اس سے پہلے وہ کچھ بولتے زرینہ نے کہا..
آبان بیٹا پ لے چلو ہمیں… “
گڈ آنٹی میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں”ابان ایکدم پر جوش ہو آ..
کھا جانے کی باتیں ہو رہی ہیں”
فیضان بھی وہیں آ گیا اسنے آبان سے سلام کرنا ضروری نہیں سمھجا..
حرم سے ملنے کے لیے” آبان نے جواب دیا.. تو فیضان نے اسکی جانب دیکھے بغیر.. چاچو کیطرف دیکھ جر مسکرایا..
یہ تو اچھی بات ہے.. چلتے ہیں میں بھی چلو گا.. بس آج نہیں.. کل.. کیونکہ آج مجھے کہیں جانا ہے” اسنے کہا تو رضا سمیت زرینہ مین جیسے نئ زندگی دوڑ گئ…..
…………
جاری ہے
