128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

گھر کا ماحول دیکھ دیکھ کر حرم کا سانس جیسے گھٹ رہا تھا…
دو دن سے شادی کی تیاریاں ہوتی وہ.. گھر میں دیکھ کر سب کے سکون کو حیرت سے دیکھ رہی تھی…
آخر سب اتنا کیوں خوش تھے. اسکی خوشیوں کا انتقال ہو رہا تھا اور سب نارمل بیہو کر رہے تھے…
وہ اپنے کمرے میں بند ہو کر رہ گئ تھی..
اب بھی نیچے سے آنے والی آوازوں سے اسکا سر چکرا رہا تھا..
وہ بیڈ پر بیٹھی غصے سے کھول رہی تھی…
جبکہ شاہ میر.. کی بے اعتنائ پر رونا الگ آ رہا تھا.. رو رو کر اسنے اپنی آنکھوں پر ایسا ستم کیا تھا.. کہ.. وہ سوج کر مزید حسین ہو گئیں تھیں…
مگر وہ بے پرواہ لڑکی غصے سے شاہ میر کی کبرڈ کھولے… اسکے ہینگ ہوئے کپڑوں کو اٹھا اٹھا کر باہر پٹخ رہی تھی..
چاہتے ہی یہ تھے.. جان چھڑانا چاہتے تھے مجھ سے… بہت برے ہیں شاہ میر دنیا میں سب سے برے “وہ روتے ہوئے بے بسی سے چیخی…
حرم” باہر سے آنے والی زرینہ کی آواز پر اسنے دروازے کو گھور کر دیکھا…
مجھے نہیں کرنی بات جائیں اپ”حرم نے منہ بنا کر کہا…
بیٹا کھانا کھا لو”وہ پھر سے بولیں…
ارے شاہ میر آ گیا “اسکا دل دھڑکا… جبکہ.. شرٹ کو مٹھی مں مزید سختی سے بھینچ لیا…
باہر سے کافی آوازیں آ رہیں تھیں .. سب کی آوازوں میں وہ جانی پہچانی آواز بھی تھی جبکہ ایک لڑکی کی بھی آواز تھی.. اسنے تجسس کے مارے تھوڑا سا دروازہ کھولا…
تو سامنے ہی شاہ میر… کے ساتھ ایک خوبصورت سی لڑکی کھڑی تھی..
جبکہ شاہ میر مسکرا کر سب سے اسکا تعارف کرا رہا تھا..
وہاں رضا اور زرینہ کے علاوہ وہ بھی نہیں تھی.. وہاں صرف اسکی مکمل فیملی تھی تبھی وہ ہنس رہا تھا.. اسنے دروازہ بند کیا.. اور.. آنکھوں پر ہاتھوں کی مٹھیاں رکھ کر.. وہ رو دی..
شاید رونا اسکا بہترین مشغلہ تھا…
……….
تھک گیا ہے میرا بیٹا”اماں تو اسکو دیکھ کر واری صدقے تھیں…
جی ڈرائیو کر کے بے روڈ آئے ہیں تھک تو گیا ہوں” وہ سنجیدگی سے بولا…
میں تو کہہ رہی تھی میں کر لوں مگر اینگری مین سنتا کب ہے کسی کی “صنم نے فری ہوتے ہوئے.. اسکے بازو پر مکہ مارا.. تو شاہ میر نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا..
کنٹرول یور سیلف.. “وہ روڈلی کہہ کر وہاں سے ہٹا .. جبکہ وہ ڈھیٹ.. اماں کی طرف جھکی..
کیا کھا کر پیدا کیا تھا”وہ بڑے راز سے پوچھ رہی تھی.. جبکہ ونیزے اور شانزے اپنی ہنسی دبانے لگیں اماں جھیینپ کھا کر رہ گییں جبکہ شہروز شاہ میر کے کان مین کھسر پھسر الگ کر رہا تھا..
وہ شہروز کی بات سن کر سر ہلاتا.. اوپر اپنے کمرے کیطرف بڑھا.. حالانکہ وہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر اسکی وجہ سے وہ اپنے کمرے سے کیوں دور رہتا..
اسنے دروازہ کھولا.. تو نوک کرنے کے بجائے کی کا استعمال کیا. اور ڈائریکٹ کھول کر اندر داخل ہوا.. تو اپنے کپڑوں کی بے قدری دیکھ کر.. اسکا غصہ سوا نیزے پر پہنچا.. اور وہ ان شرٹس کو پھیلائے بیٹھی ہمیشہ کیطرح رو رہی تھی..
وٹ دا ہیل”وہ غصے سے بولا…
کیا حال کیا ہوا ہے یہ…” وہ اسکی جانب دیکھنے لگا جو نو ریسپونڈینگ کا بورڈ لگائیے ماتم بنا رہی تھی..
تم سے بات کر رہا ہوں”وہ دندناتا ہوا اس تک پہنچا..
کیوں” حرم نے اسکیطرف دیکھا تو ایک لمہے کے لیے شاہ میر کو اسکی سوجی آنکھوں پر ترس آیا.. اور پھر اگلے لمہے وہ ترس بے حسی میں بدل گیا..
اٹھاو سارا سامان سمیٹو ابھی “وہ.. بیڈ پر بیٹھا ..
کیوں مانو میں آپکی بات” حرم مڑی.. سد شکر وہ بول تو رہا تھا.. مگر.. حرم کہاں سمجھنے والی تھی کچھ..
دیکھو حرم مجھے تم سے کوئ بات نہیں کرنی تم میرا کمرہ درست حالت میں کرو اور جاو “وہ انگلی اٹھاتا.. بولا.. جبکہ حرم نے وہی انگلی تھام لی..
میر. میر پلیز شادی تو مت کریں”وہ سسکی… تو شاہ میر نے اسکی جانب دیکھا…
شہروز اسے بتا چکا تھا حرم کیا سوچے بیٹھی ہے.. اور اسے بھی اس بات میں کوی مزائقہ نہیں لگا کہ وہ یہ سوچے..
کیوں… “وہ بے تاثر انداز میں اسکو گھورتا اپنی انگلی چھڑوا کر اٹھا..
میر.. ہم.. مطلب اب تو ہمارا بچہ بھی ہے… اور مجھ سے جو غلطی ہوئ آپ اسکی.. سزا.. ایسے دے رہے ہیں .. آپ کوی اور سزا دے دیں .. مگر… ایسا مت کریں” وہ اسکے پیچھے چلتے چلتے بولی.. تو شاہ میر نے.. ڈریسنگ کے سامنے اسکا اور اپنا عکس دیکھا.. اسکا وجود پہلے کی نسبت بھرا بھرا تھا.. مگر حولیہ.. کافی.. بوسیدہ تھا..
حرم کیا تم نے نہانا چھوڑ دیا ہے” وہ برا سا منہ بنا کر بولا تو حرم کو شرمندگی سی ہوی.. حقیقتاً وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا جبکہ وہ اسکے سامنے ماسی بنی ہوئ تھی..
دیکھو… جاو یہاں سے” شاہ میر نے اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر ایک بار پھر اسے نکلنے کو کہا…
حرم.. کے ہونٹ باہر نکل آئے.. جبکہ اسکا وجود سسکیاں بھر رہا تھا.. شاہ میر نے اسکو ایک نطر دیکھا..
مجھے اب تمھارے لاڈ نہیں اٹھانے تو منہ بنانا بند کرو”
وہ.. اپنی شرت کے بٹن کھولتا… واشروم کیطرف بڑھا.. جبکہ حرم نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا..
پہلے بھی نہیں اٹھاے آپ نے کبھی..” وہ شکایتی نطروں سے اسے دیکھنے لگی..
شاہ میر.. اسکے اداس چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا..
میر پلیز مجھے اتنی بڑی سزا مت دیں”حرم نے اسکے.. سینے پر سر رکھا…. شاہ میر کا دل اسکے لمس پر زور سے دھڑکا.. اسنے حرم کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا.. کیونکہ اسکی آنکھوں میں آبان کے ساتھ ہوی حرکت لہرای تھی..
حرم کو بھی انداز ہو گیا.. وہ شرمندگی سے رونے لگی شاہ میر نے اسے دور جھٹک دیا..
میری غلطی ہے پلیز مجھے معاف کر دیں “اسنے پھر سے اسے واشروم جانے سے روکا..
شاہ میر سخت تیور لیے اسے دیکھنے لگا..
کیا مقصد ہے مجھے بار بار روکنے کا کیا چاہتی ہو کیا کرو میں تمھارے ساتھ” وہ اسکا منہ سختی سے پکڑ کر بولا..
حرم.. اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی..
سزا “اسنے ایک لفط میں بات سمیٹی..
رئلی.. تو تمھاری سزا میری دوسری شادی ہے “اسنے حرم کے دل ہر وار کیا..
اسکے علاوہ.. وہ اسکے چہرے پر.. اپنی نرم انگلیاں .. رکھ کر انھیں مدھم سی جنبش دیتی بولی جبکہ.. اسکی انگلی کی حرکت سے شاہ میر کے ہاتھ کی گرفت سخت ہوتی گی..
مگر اسنے اسکا ہاتھ نہ ہٹایا…
اسکے علاوہ.. مجھ سے دوری” اسنےجھٹکے سے اسے صوفے پر پھینکا..
کبھی نہیں ” حرم زور سے چیننخی.. وہ مان کیوں نہیں رہا تھا..
شاہ میر نے پلٹ کر اسے گھورا..
سب کو بتاو.. میں تم پرظلم کر رہا ہوں اور وہ تمھارا چھیتا چچا بھی یہیں مر رہا ہے.. فورا آ جائے گا اچھی بات ہے “وہ بد لحاظی سے بولا..
آپکو تمیز کیوں نہیں یے.. وہ باپ ہیں آپکے “حرم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے افسوس سے اسکو دیکھا..
دیکھا.. یہ.. یہ خو دوسروں کی اتنی اہمیت ہے تمھاری نطر میں … مجھے اس بات سے شدید چیڑ ہے…
حرم تو صرف میری تھی.. پھر کسی.. اور کے لیے کیوں ہو کر رہ گئ حرم” وہ.. غصے سے اسے جھنجھوڑتا.. اپنے قریب کر گیا..
حرم صرف میر کی ہے” حرم آنکھیں بند کیے.. مدھم آواز. میں بڑ بڑائ…
جبکہ شاہ میر کی نگاہ بھک کر.. اسکے لبوں پر پڑی.. جو وہ دانتوں تلے دے چکی تھی…
وہ اسپر استحقاق رکھتا تھا.. اور اسپر صرف اسکاحق تھا.. وہ جھکا.. جبکہ حرم کا وجود کانپ اٹھا.. اسکے لمس کی شدت.. اسکی برداشت سے باہر تھی…
ایک بار پھر شاہ میر خان کا جنون… وہ اسکی سانسوں کو قید کر کے.. اسپر واضح کر رہا تھا.. جبکہ حرم بے بس.. صوفے پر لیٹتی چلی گی..
شاہ میر.. اسکو.. اپنی گرفت میں جکڑے ہوئے تھا…
حرم کا سانس گھٹنے لگا.. مگر اس شخص سے رہائ ممکن نہ ہوئ.. اسنے اسکے بالوں.. میں اپنی بے چین انگلیاں چلائیں مگر شاہ میر… اپنی من مانی پر اترا ہوا تھا..
اور جب حرم کا وجود سرد پڑا.. تب شاہ میر کو ہوش آیا…
وہ اس سے الگ ہوا… اور کھڑے ہو کر.. حرم کے بکھرے وجود کو دیکھنے لگا..
بس اتنے سے ہار گئیں..
ابھی تو بہت سزا ہے تمھارے لیے. میرے پاس”
وہ بولا…
حرم نے ے اپنے ہونٹوں سے پھٹتی خون کی لکیر نم آنکھوں سے صاف کی
ہمارے بچے کی بھی کوئی اہمیت نہیں آپکی نظر میں” وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے بولی.
کیوں نہیں ہے.. بلکل ہے.. ہاں البتہ تمھاری کوئ ولیو نہیں ہے.. مجھے تم سے صرف اپنا بچہ چاہیے. “وہ.. اب دوبارہ واشروم کی جانب چل دیا..
سپنا ہے یہ آپکا.. آپ جیسے جنگلی سڑو.. کو میں اپنا بچہ دو گی “وہ پیچھے سے چلای.. آواز روندھی ہوی تھی..
دیکھ لوں گا تمھیں میں اچھے سے.. بہت کینچی کی طرح چل رہی ہے یہ زبان”وہ گھور کر دیکھتا باتھروم میں بند ہو گیا جبکہ حرم اپنا غصہ تکیے پر نکالتی.. رہ گی…
……………
شام ڈھل آئ تھی.. اماں آج اپنے بیٹے کے لیے کھانا خود بنا رہیں تھیں….
تبھی.. شانزے.. کو بھی ساتھ لگایا ہوا تھا… جبکہ صنم کا سپیکر بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا…
اور ونیزے بھی.. کمرے اور شہروز کی حرکتوں سے عاجز آ کر.. وہاں .. بیٹھی .. فروٹ چارٹ کھا رہی تھی… جبکہ حرم…
غیر حاضر تھی…
کیا میں کوی مدد کرو “زرینہ جھجھکتی ہوی وہاں آئ…
رضا نے اسے باہر نکلنے سے منع کیا تھا وہ چاہتے تھے.. وہ سکون سے.. آج کا دن گزار لے… اور انکا اس سے سامنا نہ ہو… تبھی وہ خود بھی باہر نہیں آے..
کیوں نہیں آنٹی.. یہ لیں .. کاٹیں سیلڈ” شانزے کی.. کام چوری کے باعث انکے ہاتھ میں پلیٹ دے کر ونیزے کے ساتھ بیٹھ گی..
شرم آنی چاہیے تمھیں” اماں نے اسے گھورا..
کچھ نہیں ہوتا بچی ہے.. “زرینہ نے مسکرا کر کھا.. اور سیلڈ کٹ کرنے لگی….
ہاں تو آنٹی میں کہہ رہی تھی.. کہ آپکا بیٹا بہت چالاک ہے.. اوپر سے اکڑو.. بھی “صنم.. ایک بار پھر شروع ہوی مگر اسکے.. اب والے ڈائیلوگ حرم سن چکی تھی..
وہ نہای دھوئ… پنک کلر کے ڈریس میں بھری بھری جسامت میں .. بہت خو صورت لگ رہی تھی اوپر سے سوجی سوجی آنکھیں …
اور انکے اوپر.. ابھی شاہ میر.. کم ستم ڈھا رہا تھا کہ.. صنم کی بات سن کر.. اسکا غصے سے.. چہرہ سرخ ہوا…
ہیلو تم ہوتی کون ہو میرے شوہر کو.. اکڑو کہنے والی اسے صرف اکڑو میں کہہ سکتی ہوں.. اور وہ تم سے کوئ شادی نہیں کرے گا.. نکال دو اسکا خیال اپنے زہن سے
. مری نہیں ہے اسکی بیوی ابھی “حرم بے قابو ہوتی اسپر جھپٹی .. صنم کی بولتی کو بریک لگا.. وہ اسے حیرت سے تکنے لگی…
جبکہ زرینہ نے شرمندگی سے اسے پکڑا.. اماں .. نے بھی حرم کے.. چلتے ہاتھ روکے..
حرم چندہ یہ کیا کر رہی ہو” اماں نے حیرانگی سے اسکو دیکھا…
اماں وہ اس سے شادی کر رہا ہے.. میں اس چڑیل کا گلہ دبا دوں گی.. اسے ہمارے بچے کا بھی احساس نہیں .. کیا یہ مجھ سے زیادہ پیاری ہے” وہ روتے ہوے.. معصومیت سے.. انکی طرف دیکھنے لگی..
اماں نے اپنا سر تھام لیا..
تمھیں یہ کس نے کہا.. ہے” اماں کو اب سب سمھجہ آ رہی تھی…
آپکے بیٹے نے “وہ چیڑی
کیا کہا ہے میں نے” اس سے پہلے اماں بولتی کے.. شاہ میر کی پکار.. پر سب الرٹ ہوئے.. وہ رف سے ٹراوزر شرٹ میں بڑھی ہوئ شیو کے ساتھ ہینڈسم لگ رہا تھا…
یہ ہی کہ آپ.. اس چڑیل سے شادی کر رہے ہیں” حرم نے کھا جانے والی نظروں سے صنم کو دیکھا..
ہیں سچ شاہ میر “صنم تو جھومتی .. اسکے کندھے سے چپکی…
شاہ میر نے.. اماں کے سامنے اسکی اوور اکٹینگ پر گھورا تو وہ ہنس کر رہ گی..
جبکہ حرم جل بھن کر بھسم ہو گی.. تھی..
وہ.. وہاں سے.. روتی.. ہوی.. بھاگ گئ..
آف کیوں تنگ کر رہے ہو شاہ میر اسے.. جانتے بھی ہو اسکی حالت پھر بھی “اماں نے شاہ میر کو گھورا.. ونیزے اور شانزے اپنی مسکراہٹ دباتیں سنجیدہ ہونا چاہا رہیں تھیں . اسنے سب کو دیکھا اور پھر زرینہ کو بھی.. جو پیٹ موڑے کھڑیں تھیں ..
خود سے سب سوچے جا رہی ہے میں نے کچھ نہیں کہا” اسنے لاپرواہی سے کہا..
شانزے گڑیا.. کافی بنا دو”اسنے شانزے کو کہا… اور باہر نکل گیا… ارادہ شہروز کے روم میں جانے کا تھا جو پہلے ہی نکل آیا…
اب وہ دونوں لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے…
جبکہ سامنے گیسٹ روم کے دروازے کے اس پار رضا صاحب.. چاہ کر بھی ان دونوں کے پاس.. جا نہ سکے…
حرم نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا.. نہ وہ کھانا کھانے آی تھی نہ کسی کی بات مان رہی تھی.. جبکہ اماں کی اب برداشت سے باہر ہو گیا تھا.. جب سب لاونج سے اٹھے تو اماں نے. شاہ میر کو اپنے روم میں آنے کا کہا..
جی اماں”وہ انکے روم میں آیا…
شاہ میر.. بس اتنا کہو گیں اگر میری بہو یہ میرے پوتا یا پوتی کو کچھ ہوا.. تو مجھ سے برا کوی نہیں ہو گا…
اپنا طریقہ اور رویہ درست کرو تم” اماں نے کہا.. تو.. وہ.. شانے اچکا گیا..
جتنی تکلیف اسکے عمل سے مجھے ہوئ تھی وہ خود تو اتنی برداشت کر لے…
شاہ میر.. تم جانتے ہو وہ کتنی نازک ہے پھر بھی”
آہ نازک.. گلہ دبا دوں اس نازاکت کا میرے ساتھ رہنا ہے.. تو.. سائیڈ پر رکھنی پڑے گی اسے یہ نازاکت “وہ منہ بنا کر کہتا.. لاپرواہ خود کو واضح کر رہا تھا..
اگر کوی نقصان ہوا تو اپنا حشر دیکھنا تم”وہ غصے سے بولیں .. تو وہ ہنس دیا..
کیا تڑی ہے” آگے بڑھ کر انکے ماتھے کا بوسہ… لے کر.. وہ بالوں میں ہاتھ چلاتا… اماں کے کمرے سے نکلا… کے.. سامنے گیسٹ روم کے دروازے سے رضا.. بھی اسی وقت باہر نکلے..
شاہ میر نے.. انکو دیکھ کر مٹھیاں بھینچ لی.. جبکہ.. ماتھے پر کئ بل پڑے…
رضا.. چپ چاپ اسکی طرف دیکھنے لگے…
جبکہ وہ انکو اگنور کرتا… وہاں سے اپنے روم میں آیا..
ہر بار اسکی مسکراہٹ کا گلہ اس آدمی کا سامنا گھونٹ دیتا تھا…

……
وہ اپنے روم میں داخل ہوا… تو حرم کو سائید ٹیبل… کے پاس بیڈ پر بیٹھے پایا.. جبکہ اسکا دوپٹہ صوفے پر پڑا تھا.. بکھرے بالوں میں .. بے ترتیب سا کیچر لگایا ہوا.. تھا جبکہ ہاتھوں میں لاتعداد چھوٹی بڑی ری گولیوں کو وہ گھور رہی تھی…
اور اس سے پہلے وہ گولیاں حلق سے پار کرتی.. شاہ میر نے اسکا ہاتھ پکڑا..
مارنا چاہتی ہو نہ میرے بچے کو “اسنے اسکے ہاتھ سے ساری ٹیبلیٹس لے لیں
حرم نے.. دکھتی آنکھوں سے اسکو دیکھا..
شاہ میر کو اسکی آنکھوں پر اس وقت شدید ترس آیا..
خود کو مرنے سے روک رہی ہوں” وہ بولی.. چہرے پر سنجیدگی تھی…
تمھیں تو میں خود مارو گا.. “وہ اسکی ہارٹ کی میڈیسن دیکھنے لگا جو ڈبل ڈوز پر چلی گئی تھی…
دوسری شادی کر کے مار ہی تو رہے ہیں”وہ بولی… اب تو آنسو بھی بہہ بہہ کر تھک چکے تھے…
تم نے ڈبل ڈوز کب سے لینا شروع کیا” شاہ میر اسکی بات کو اگنور کیے.. غصے سے میڈیسن الٹ پلٹ رہا تھا..
ڈاکٹر نے کہا ہے.. “وہ.. گھیری سانس لیتی پیچھے.. ٹیک لگا گئ.. جبکہ اسکی جگہ بھی اپنے برابر میں چھوڑی.. جہاں وہ بیٹھ کر.. اب ایک ایک میڈیسن کو دیکھ رہا تھا…
تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے… “اسنے تیوری چڑھا کر اسکو دیکھا…
میرے سامنے تو اتنی میڈیسنز نہیں تھیں تمھاری “وہ اسکی کنسرن کر رہا تھا..
حرم نے اسکی طرف دیکھا..
تو آپ دور کیوں گے مجھ سے “وہ منہ بنا کر بولی…
شاہ میر نے.. ایک سانس کھنچا..
شاید وہ اس لڑکی کو.. اپنی تمام عمر لگا کر.. بھی.. بڑا نہیں کر سکتا تھا..
اوپر سے اسکی.. یہ بیماری بار بار شاہ میر کو گٹھنے ٹیک دینے پر مجبور کرتی تھی..
کچھ کھاو پہلے پھر.. کھانا یہ..” اسنے نرمی سے کہا…
میر…” حرم نے اسکاہاتھ تھاما…
پلیز دوسری شادی نہ کریں”وہ.. سسکی.. شاہ میر.. کا دل کیا.. وہ اسی بیڈ میں سر مار لے..
اسکے اندر اتنی عقل بھی نہیں تھی کہ وہ آنکھیں کھول کر.. سب دیکھ لے کے کس کی شادی ہو رہی ہے کس سے ہو رہی ہے.. کون.. آیا ہے کون گیا ہے.. بس ایک بات پر ٹکی ہوی تھی جب سے وہ آیا تھا…
کھانا کھاو” شاہ میر نے… غصے سے کہا..
نہیں کھاو گی” حرم چیخی…
حرم… کیا چاہتی ہو کیوں مجھے غصہ دلا رہی ہو “وہ زیچ ہوا تھا..
لو اب تک تو آپ نے بڑا.. مجھ سے پیار کیا ہے” وہ بولی تو شاہ میر نے اپنی مسکراہٹ روکی سنجیدگی اب بھی قائم تھی جبکہ اسکی آنکھوں کے بدلتے تاثر سے.. حرم جھینپ گئ…
تمھیں میرے پیار سے کہاں فرق پڑتا ہے “وہ اسکے سامنے بیٹھتا… اسکے الجھے بکھرے بالوں میں کیچر نکال کر ہاتھ چلانے لگا…
بہت پڑتا ہے.. پلیز.. ایسے مت کریں میرے ساتھ.. میں غلط تھی.. مجھے نہیں پتہ تھا آبان بھائی ایسے ہیں ..
میں میں ان سب کو دیکھ کر اموشنل ہو گئ تھی” وہ.. اسکے ہاتھوں پر سر رکھے.
رونے لگی.. شاہ میر اسکی ہچکیاں سن رہا تھا…
مگر اسکے سینے سے چیپک جانا… میری یاداشت سے کیسے میٹاو گی” وہ ایک جھٹکے سے اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑے…
اسکا چہرہ اپنے نزدیک کرتا غرایا…
مجھے ہر سزا منظور ہے…
مجھ سے غلطی ہوی تھی.. منظور ہے.. آپکا ہر ستم سواے اسکے کے آپ.. میرے علاوہ کسی اور…
.. ششششش” شاہ میر نے اسکے ہلتے گلابی ہونٹوں ہر اپنی انگلی رکھی.. حرم اسکے لمس پر سرخ سی ہوی…
کتنی ہمت ہے میری دی ہوی سزا برداشت کرنے کی تم میں” وہ.. اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو.. آنکھوں کے زریعے دل میں اتار رہا تھا…
حرم نہ سمھجی سے اسکی جانب دیکھنے لگی….
I’m so wild…
And my love also وائلڈ…
کتنی برداشت ہے تم میں ” وہ سختی سے پوچھ رہا تھا.. حرم .. کے چہرے پر اسکی گرم سانسیں حرم کو ذہنی طور پر بلکل مفلوج کر چکیں تھیں…
میں صرف اتنا جانتی ہوں … م… شاہ.. میر.. صرف میرے ہیں… اور میں … کسی اور… ک.. کا ہونے نہیں دوں گی انھیں” وہ اٹکتے ہوے اسے خود پر جھکتا.. دیکھتے.. گھبراتی ہوی بولی…
ڈارلنگ…….
دیکھ لیتے ہیں کتنا اپنی بات پر قائم رہتی ہو..” وہ تیور بگاڑے.. اسکی جان پر…. اپنے جنون کی رمق چھوڑنے لگا…
… م…. میر”حرم اسکی شدت پر نڈھال ہونے لگی…
خاموش..” وہ… سختی سے کہتا.. سائیڈ لیمپ آف کر گیا تھا….
………….
شہروز…. مجھے گول گپے کھانے ہیں ..” ونیزے نے سوتے ہوئے شہروز کو… جھنجھوڑا..
شہروز ہڑبڑا کر اٹھا…
شہروز پلیز… گول گپے کھانے ہیں ” ونیزے نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں…
بھیجا ٹھیک ہے تمھارا.. یہ آدھی رات کو میرا کون سا سالہ رہیڑی لگا کر کھڑا ہے جو میں گول گپے کھیلاو.. منہ بند کرو سو جاو “وہ جھنجھلا تا ہوا.. بولا..
اور ونیزے کو اپنے پاس لیٹانا چاہا.. مگر ونیزے نے غصے سے.. اسکے پیٹ پر کھونی ماری..
آہ… موٹی.. جان سے مار دو گی تم مجھے” شہروز کراہیا..
اب اٹھ رہے ہیں یہ اور ڈرامے کرنے ہیں “
ونیزے نے.. منہ بنا کر دیکھا..
میری جان.. میری باربی موٹی ڈول… ..
اس وقت کہاں گول گپے بیکتے ہیں “وہ.. اسکو اپنی جانب کھینچ چکا تھا.. ونیزے.. نے.. موٹی کہنے پر.. اسکو گھورا..
یہ سب آپکی وجہ سے ہے…” وہ بولی..
بہت خوبصورت بھی تو ہے” وہ… اسکے چہرے پر پھونک مارتا.. مسکرایا..
مجھے.. پھنسانے کی کوشش مت کریں .. جاییں گول گپے لائیں “
ونیزے.. نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا.. جبکہ وہ اب چاکلیٹ کھانے میں مصروف د تھی.. شہروز اسکو گھورنے لگا..
محبت نے صیحی گدھا بنایا ہے “وہ بڑبڑایا.. تو ونیزے کو ہنسی ای..
زیادہ نہ ہنسنا… اوور لڑکی ورنہ مجھ سے برا کوی نہیں ہو گا”شہروز نے پلٹ کر گھورا.. ونیزے سمبھل کر بستر سے اتری اور اس تک ای..
چلیں دونوں چلتے ہیں “
وہ بولی تو شہروز نے شرٹ پہنتے ہوے اسے گھورا..
یعنی آج رات سونے کا پلین نہیں . تو ہم اس سے بہتر کوی کام کر سکتے ہیں”وہ معنی خیزی سے اسکی طرف بڑھا…
جبکہ ونیزے بدق کر دور ہوی..
گول گپے “اسنے آنکھیں نکالی…
آج جس کی بھی ریڑھی باہر کھڑی نظر ر ای.. میں کیس کر دوں گا اسپر”وہ غصے سے بولتا.. اس کا ہاتھ پکڑ کر.. باہر لے آیا….
کافی لمبے سفر کے بعد انھیں …
ایک ریسٹورنٹ اوپن نطر آیا..
چلیں .. چارٹ کھاتے ہیں “ونیزے چہکی…
شہروز.. بے بسی سے اسکو بیٹھنے کا کہہ کر خود.. اندر ریسٹورنٹ کی جانب بڑھا.. جبکہ ونیزے بے تابی سے اسکا انتظار کر رہی تھی کچھ ہی دیر میں وہ باہر آیا… ونیزے سامنے سے اسے آتا ہوا.. دیکھ رہی تھی.. کہ.. اسکے پاس…
ڈیڈ.. چلتے ہوئے آے.. ونیزے حیرت سے انکی صورت تکنے لگی…
کہاں .. غائب تھی تم.. اور.. یہ”وہ اسکے بھرے سے وجود کو.. غصے سے دیکھنے لگا..
شرم آنی چاہیے تمھیں .. شرم.. نکلی نہ اپنی ماں جیسی..” وہ پھنکارے.. ونیزے.. اس خطاب.. ہر مچل کر رہ گئ..
میں نکاح میں ہوں”وہ نم آنکھوں سے انکی طرف دیکھنے لگی..
بھاگ کر نکاح کر لیا.. میری عزت دو کوڑی کی کر دی.. کون ہے تمھارا شوہر..
میرا ستیٹس ہلا دیا تم نے لوگ مجھ سے تمھارے بارے میں سوال کر رہے…
بس کریں”وہ دروازہ کھول کر نکلی..
لوگوں نے تب سوال نہیں کیا جب آپ مجھے چھوڑ کر.. دوسرے ملک چلے گیے تھے…
تب لوگوں نے نہیں کہا آپ کی ایک بیٹی بھی ہے.. ڈیڈ.. جسے آپ اپنی عیاشی میں بھول چکے ہیں…
مجھے مزید آپ سے بات نہیں کرنی.. جائیں یہاں سے” وہ.. غصے سے بولی تو انھوں نے.. اسکاہاتھ سختی سے جکڑا ..
ہاتھ چھوڑیں..” شہروز کی سخت آواز عقب سے سنای دی..
بیٹی ہے یہ میری.. “انھون نے اس نوجون لڑکے کو دیکھا..
بیوی ہے یہ میری” وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غرایا..
اور اس کے ساتھ ایسا سلوک میں اسکے باپ کا بھی برداشت نہیں کرو گا.. جب وہ چاہے گی آپ سے مل لے گی.. اب راستہ چھوڑیں “اسنے دو لفطی کہا.. اور ونیزے کے لیے دروازہ کھولا.. ونیزے نے اپنے باپ کیطرف نگاہ اٹھاے بغیر.. گاڑی کی سیٹ سمبھالی.. اور گاری میں سوار ہو گی..
وہ ان سے کبھی نہیں ملنا چاہتی تھی.. وہ بھیگی پلکوں سے راستے کو دیکھ رہی تھی..
کیا تم ٹھیک ہو” شہروز نے اسکیطرف دیکھا..
ہم اپنے بچے کو بہت پیار کریں گے اسکے اندر کوی محرومی نہیں رہے گی.. ہنہ” وہ. اسکیطرف دیکھنے لگی..
بلکل.. بہت پیار.. نہ اسے باپ کی کمی محسوس ہو گی نہ.. ماں کی.. وہ ہمارا بچہ ہے ونیزے… “اسنے اسکاہاتھ.. لبوں سے لگایا.. ونیزے نے اسکے شانے پر سر رکھ لیا..
تم اپنے والد سے مل سکتی ہو مجھے اعتراض نہیں ں”شہروز نے کچھ توقف کے بعد کہا..
ابھی ضرورت نہیں وہ غصے میں کچھ غلط نہ کر دیں مجھے میرا بچہ بہت عزیز ہے “اسنے کہا تو شہروز نے سر ہلایا..
ارے تمھاری چارٹ”وہ یاد دلاتا بولا..
اب موڈ نہیں ” ونیزے نے منہ بنایا.. شہروز نے جھٹکے سے گاڑی روکی..
میری نیند برباد کر کے.. اتنی دور ڈرائیو کروا کر..
ہاہا شہروز سوری” ونیزے پیچھے دروازے کے ساتھ چیپکی.. جبکہ شہروز سیٹ.. پر گٹھنا موڑ کر اسکی سیٹ.. ہر جھکنے لگا…
. اب تم مجھے یہ کہہ رہی ہو مجھے بھوک نہیں”وہ اسکے چہرے کے نزدیک آیا.
. اچھا کھاتی ہو”ونیزے نے.. اسکا چہرہ دور کیا..
نہیں .. اب مجھے کھانے دو” اسنے.. گھمبیر لہجے میں کہا.. اور اسپر.. جھک کر اسکی سانسوں کو روک دیا…
………………
فیضان.. گھر کے اندر داخل ہوا.. تو لون میں ہی شاہ میر دیکھا…
اسنے ھلق تر کیا.. اب بھی اسکے گھوسے یاد تھے..
اسنے سلام کیا.. تو شاہ میر نے سے گھورا..
کیوں آے ہو”
اسنے تیوری چڑھا کر پوچھا.. تو فیکان.. نے اسکی جانب دیکھا..
وہ میں کہنا چاہتا تھا.. اگر آپ لوگوں کی اجازت ہو تو.. مما بابا رشتے کے لیے انا چاہتے ہیں” اسنے.. کہا تو شاہ میر نے گھیرہ سانس کھنچا..
اب تک وہین ہو تم “وہ بولا.. تو فیضان.. نے اسکو دیکھا..
لوک برو “شاہ میر نے گھورا…
میرا مطلب بھائی جان.. آپ اور کب تک میری شادی لٹکانا چاہتے ہیں …” اسنے پوچھا.. تو شہروز بھی وہیں آ گیا چھوٹی کا دن تھا…
شہروز یہ پوچھ رہا ہے میری شادی کب تک لٹکانی ہے” شاہ میر نے بازو چھڑواتے.. اسکی صورت دیکھی فیضان کو خطرہ صاف دیکھائ دیا…
شہروز بھی اسکیطرف بازو چڑھاتا دوڑا..
سالے تو نہیں بچتا آج.. “وہ بولا.. جبکہ فیکان.. بھکلا کر.. اندر کی جانب دوڑتا کہ ان دونوں کے قہقون نے اسے شرمندہ کر دیا…
وہ پھیکا سا ہنس دیا…
کیا جلاد سالے تھے” اسنے دل میں سوچا…
اگر ہماری بہن کو.. زرا بھی چوٹ ای.. تو تیرا یہ تلی.. جیسا دھڑ.. پھار کر پھینک دوں گا “
شہروز نے اسے ہنستے دیکھ دھمکایا…
میری بہن کو تمھارے سپرد کرنے کا مقصد یہ بلکل نہیں ہونا چاہیے.. کہ اسے زرا بھی تکلیف پہنچے…
اور.. میں اس گھر میں نہیں ن جانے دوں گا.. تم یہاں اسی سوسائٹی. میں گھر لو” شاہ میر سنجیدگی سے بولا..
اوکے فیضان نے.. مسکرا کر کہا.. تو.. اسنے ایک سانس کھنچا..
جاو بھی.. لے جاو.. اب.. بہنوی صاحب کو.. عزت سے گھر کے اندر” شاہ میر نے شہروز سے کہا..
جو حکم. “وہ اسکے شانے ہر ہاتھ پھیلاتا…
اسے اندر لے گیا.. جبکہ فیضان.. کو اب بھی وہ دونوں ٹھیک نہیں لگ رہے تھے..
شاہ میر.. اب فواد کے بارے میں سوچ رہا تھا..
فواد… مجھ سے ملو شام میں “اسنے اسے تیکس سینڈ کیا.. اور.. خود بھی اندر چل دیا.. جہاں.. وہ جانتا تھا اسکی بیگم اب بھی سونے کے شغل میں مصروف ہوں گی..
…………
جاری ہے