128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

اس سے پہلے وہ شخص اس تک پہنچتا… شاہ میر دندناتا ہوا حرم تک آیا تھا…
کیا تمھارا ہر جگہ اپنا یہ بچپنا ثابت کرنا ضروری ہے “وہ سرد لہجے میں بولا…
حرم کو.. اسک الہجہ اور چہرے کی سنجیدگی پہلے روز کی مانند لگی تو اسکی زبان آٹھ نہ سکی…
ن.. نہیں میں”
کوائیٹ….. اور اماں کے پاس جاو… اب وہاں سے.. ادھر ادھر گھومتی مجھے نہ دیکھنا… “اسنے کہا… اسکی آنکھوں میں جیسے پہچان کا عنصر غائب تھا….
میر “حرم کی آنکھیں بھیگ گئیں.. اسکے سفاک انداز پر…
مر گیا میر” وہ بڑبڑایا.. اور حرم کا ہاتھ پکڑ کر.. اسے.. اماں کے نزدیک لے گیا…
چھٹیاں منانے نہیں آیا ہوں کام بھی تھا میرا یہاں.. تو آپ… اسکو قابو میں رکھیں”اماں کے ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھماتے.. وہ وہاں سے… نکل گیا.. جبکہ وہ سب پیچھے اچانک بدلنے والے اس کے رویے پر پریشان تھے.. جبکہ حرم کی آنکھوں سے گیرنے والے آنسو کو اماں نے صاف کیا…
اماں ہوٹل چل لیں پلیز” اسنے کہا.. دل ایکدم اداس ویران ہو چکا تھا… ایک خوبصورت صبح کا آغاز وہ اتنے برے رویے سے کیوں کر رہا تھا….
وہ سمھجہ نہ سکی کچھ بھی….
اسکے کہنے ہر.. وہ سب ہوٹل کی جانب چل دیے… جبکہ…
دور کھڑا… شخص شاہ میر ہر پچو تاب کھا کر رہ گیا….
……………
حرم ہوٹل آتے ہی اپنے روم میں بند ہو چکی تھی جبکہ…
شانزے… وہیں ہوٹل کے گارڈن میں… دور کھیلتے بچوں کو دیکھ رہی تھی ونی، ے بھی اسکے ساتھ تھی… جبکہ اماں بھی اپنے کمرے میں چلی گئیں.. اور شہروز ان سے کچھ فاصلے پر…
کسی ملنے والے سے باتیں کرنے میں مگن تھا…
پاپکورن کھاو گی… “ونیزے نے مسکرا کر شانزے سے پوچھا جس نے اثبات میں سر ہلایا…
اور اپنے نزدیک آتی..فٹبال کو زمین پر سے اٹھا… لیا.. جبکہ ونیزے… کنٹین کیطرف چلی گئ….
میں نہیں دینے والی” وہ ایک بڑے پیارے چھوٹے سے بچےکو دیکھتی ہوئ بولی جو اسے گھور رہا تھا….
تم بولتے نہیں”شانزے نیچے بیٹھ کر اسکے گالوں میں پڑنے والے گڑھوں پر انگلی رکھ کر بولی… ساتھ اسے ہنسی بھی ای وہ بچہ کوئ ریسپونس نہیں دے رہا تھا…
اسنے پیار سے اسکے بڑے بڑے گال چومے… اور بال اسکے ہاتھ میں دے دی.. جو بچہ لے کر.. اپنی فیملی کیطرف بھاگا تو وہ مسکرا کر پلٹی.. اور بڑا زور سے کسی سے ٹکرائ..
آہ…. کیا مصیبت ہے “وہ اپنے ناک رگڑتے ہوئے بولی جبکہ فیضان حیرت سے شانزے کو تک رہا تھا…
آپ گاڈ.. مجھے نہیں پتا تھا ہماری ملاقات اتنی رومانٹک جگہ پر وہ بھی اتنے رومانٹک موسم میں ہو گی” فیضان چھکا… ہلکی ہلکی تم جھم شروع ہو چکی تھی جس کے باعث وہاں سے سب ہٹ کر.. اب ہوٹل کے اندر جانے لگے تھے.. جبکہ کچھ من چلے اب بھی باہر ہی تھے…
دماغ ٹھیک ہے” شانزے تپی….
پہچان تو وہ چکی تھی.. یہ وہی چیپکو ہے جو ایک ماہ پہلے اسکے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا تھا…
اب لگ رہا ہے… ٹھیک ہو جائے گا.. آپ سے جو ملاقات ہو چکی ہے” فیضان نے پورے دانت نکالے…
تم میرے بھائیوں کو نہیں جانتے یہ دانت… توڑ کر تمھاری ہتھیلی پر سجا دیں گے” شانزے.. طنزیہ مسکرائ.. اور برا سا منہ بنا کر.. وہاں سے جانے لگی..
ارے ایک منٹ.. یہ تم اکیلی… کیوں نہیں گھومتی پھیرتی ہو…
بھائیوں کو ساتھ لے لے کر.. چلیں خیر ہے.. میں کوئ ڈرتا ہوں سالوں سے”
کیا بکواس کر رہے ہو “سالوں لفظ پر شانزے نے.. اسکو گھورا جبکہ فیضان دمبھلا.. یہ تو پوری شیرنی تھی..
میرا مطلب باعزت محترم.. سالے.. میرا.. رشتے میں سالے… گالی تھوڑی نہ دی ہے.. “وہ اسکے گھورنے ہر اپنی بات کلیر کر کے بولا…
تم شکل دیکھی ہے اپنی” شانزے نے ماتھے پر بل ڈالے.. جبکہ فیضان…. کی مسکراہٹ ہی نہیں تھم رہی تھی..
ہاں ہو باہو تمھارے جیسی ہے… پکا.. ہمارے بچےےےے”
لالا…..” شانزے چلائ.. تو فیضان… کے رنگ فق ہوئے…
دیکھو… ایسے مت کرو.. اچھا نہیں لگتا سالے.. بہنوئ کو پیٹیں” وہ بغیر موڑے…
تقریباً اہوزاری کرنے لگا جبکہ پہلی بار شانزے. اسکی حرکت پر مسکرائ…
وہ ڈرا ہی اس طرح تھا…
ہڈییں سلامت چھاتے ہو تو.. اب شکل نہ دیکھنا… “
شانزے.. نے اب سختی سے کڑے تیوروں میں کہا….
اور وہاں سے گزر گئ.. جبکہ فیضان نے پلٹ… کر.. بالوں میں ہاتھ پھیر..
ہنسی تو پھنسی… شانزے میڈیم تمھارے لیے تو ہڈییں بھی ٹوٹوا لو…”
اسنے دور جاتی اسکی پشت کو دیکھا…
دوسری طرف سے آتے شاہ میر نے اسکے شانے پر ہاتھ پھیلایا.. تو فیضان کی آنکھیں بھی پھیلیں….
اور وہ… نہ محسوس طریقے سے انکی طرف چلنے لگا…
لالا اپنے بہت غصہ کیا ہے بھابھی پر” شانزے کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرای
آہ گاڈ.. “یہ اس جلاد کی بہن ہے “فیضان کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے.. اور اس سے پہلے شاہ میر پلٹتا فیضان خود ہی پلٹ کر تیزی سے وہاں سے بھاگا…..
یعنی حرم بھی ادھر ہی تھی…..” اسنے سوچا….
اور حرم سے ملنے کا ارادہ بندھا…
…………….
اکیلی یہاں کیا کر رہی ہو” شہروز نے اسکی پشت دیکھی جو وائٹ شرٹ پجامے میں دوپٹہ لیے.. بے حد حسین لگ رہی تھی کوئ بھی اسکے اس حسن سے ایمپریس ہو سکتا تھا….
وہ شانزے نے پاپکارن کھانے کا کھا تو.. میں لینے آ گی مگر یہاں تو لائن ہی بہت لمبی ہے” وہ جھنجھلائ ہوئ لگی…
اکیلی آنے کی کیا ضرورت تھی اسے بھی ساتھ لے آتی” شہروز نے ارد گرد دیکھا یہاں کافی رش تھا… تو ونیزے خاموش ہو گئ..
چلو رہنے دو… “اسنے اسکا ہاتھ پکڑا..
ارے اتنی مشکل سے دوسرا نمبر آیا ہے.. مجھے لینے دیں” وہ بولی اور.. پاپکورن والے کو پیسے دیے…. مگر اسنے کلچ چیک کیا.. جو خالی تھا… اسکا حیرت سے منہ کھلا.. اسکا کلچ کبھی بھی خالی نہیں ہوتا تھا…
بابا ایک کام تو بقائیدگی سے کرتے تھے وہ تھا اسکو.. پیسے پہچانا…
ونیزے نے شہروز کیطرف دیکھا جو یہ دیکھ کر بھی انجان بنا کھڑا تھا..
ہاں دو دو پیسے “اسنے کہا تو ونیزے.. نے… افسردگی سے اسکیطرف دیکھا…
ایک تو.. تم لڑکیوں کا بھی عجیب ہے.. کیش کرنے کے لیے.. ایسی ہو جائیں گی جیسے.. میمنا” وہ بولا.. اور اپنی اپکٹ سے پیسے نکال کر.. آدمی کو دیے
اور پپکارن کے تھیلے پکر کر وہ وہاں سے ابھی ہٹے ہی تھے…
ارے سر آپ یہاں” شہروز کی ایک سٹیڈنٹ… اچانک نمودار ہوئ..
اول تو شہروز کسی سے بات نہیں کرتا تھا.. مگر اچانک… اس لڑکی کی آمد سے.. اسنے خوش اخلاقی کے تمام ریکارڈ توڑنے کا سوچا…
ارے آپ… کیسی ہیں” درحقیقت وہ اسکا نام بھی نہیں جانتا تھا…
میں بلکل ٹھیک آہ گاڈ سر آپکو میں یاد ہوں سیریسلی.. مجھے بت حیرت ہو رہی ہے” وہ لڑکی گالوں پر ہاتھ رکھے حیرت کا اظہار کر رہی تھی جبکہ شہروز منہ میں پپکورن ڈالتا… بنچھیں کھیلائے… سر ہلا رہا تھا.. ونیزے نے اکتا کر.. یہ منظر دیکھا.. وہ خوب سمھجتی تھی….
سر پلییز… میں آپکو اپنی فیملی سے مولانا چاہتی ہو” وہ لڑکی اب زیادہ پھیل رہی تھی مگر شہروز تو گل فارم میں تھا…
آہ کیوں نہیں آپ جیسی ٹیلینٹڈ اور ہونہیہار طلبہ کے والدین سے میں ضرور ملنا چاہو گا” وہ بولا.. تو یہ سوچ.. کر کے… ونیزے فل جل رہی ہے وہ ونیزے کیطرف جھکا
.. بہت خوبصورت بھی ہے؛اسنے کاہ اور دو تین پپکورن میں میں ڈال لیں..
اوکے میں تھک گئ ہوں… روم میں ہوں…” ونیزے نے ادھر ادھر دیکھتے بے تاثر لہجے میں بس اتنا کہا.. اور وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئ….
جبکہ شہروز.. کو کھانسی لگی تھی.. ساری پپکورن میں سے باہر نکل گئیں.. جبکہ اسنے ونیزے کی پشت کو… خونی نظروں سے گھورا…
سر چلیں پھر” وہ لڑکی اسکا ہاتھ پکڑنے لگی..
شیٹ آپ” شہروز.. دبا دبا غرایا…
اور وہاں سے بغیر کچھ دیکھے وہ پلٹا.. اور دڑتے ہوئے.. ہوٹل کے اندر.. کی جانب چل دیا….
اب وہ کم از کم ونیزے کو نہیں چھوڑنے والا تھا..
بہت تھکی ہوئ ہو نہ بتاتا ہوں تمھاری تھکان کی تو ایسی کی تیسی” وہ دانت کچکا کر بولا اور رکھ اپنے روم کیطرف تھا…
……………….
حرم کا رو رو کر بڑا حال تھا.. کسی انسان کے نرم رویے کے بعد اسکا ایسا رویہ بھلہ.. وہ کیسے برداشت کر لیتی وہ بھی وہ شخص جس نے زبردستی اپنا آپ.. اسکے وجود.. اسکا دل و دماغ اسکی سانسوں میں اتارا تھا…
اور اب وہ ایسے بے گانہ ہو گیا تھا.. کتنی سختی سے بولا تھا…
حرم کے پاس کارڈ گھا.. وہ غصے سے اٹھی..
میں کیوں رو.. میرا جہاں دل کرے گا وہاں جاو گی “
وہ سوچتی ہوئ روم سے نکلی.. اور.. نیچے ریسیپشن حال میں ای… تو وہاں شاہ میر.. کی پیٹھ… نظر آئ.. وہ کسی لڑکی سے بات کر رہا تھا..
لڑکی بے حد خوبصورت تھی…
اسکی ڈریسنگ بھی موڈرن تھی…
اور سب سے پیاری بات اسکے گال ہر ڈیمپل پڑتے تھے….
ونیزے کے دماغ میں شاہ میر کی وہ بات آئ کہ میرے لیے لڑکی ڈھونڈیں جو مجھے بیوی لے کم از کم بچی نہیں..
یعنی ڈھونڈ لی آپ نے.. “وہ سسکتی ہوئ بولی..
دماغ تو اتنا ہی تھا….
اور منہ ہر ہاتھ رکھ کر پلٹی اسکا بس نہیں چل رہا تھا یوں ہی بچووں کیطرح.. رو دے…
وہ روم میں ای کیا کہیں جاتی ہر جگہ.. پایاا جاتا تھا وہ…
ہمم ہائٹ میری بھی چھوٹی تو نہیں” اسنے شیشے میں اپنا حولیہ دیکھا.. جب سے شاہ میر کا ساتھ میسر تھا.. وہ جینز شرٹ کو ترق کر چکی تھی…
اسنے اپنا قد ناپنا چاہا جو.. کپری شرٹ میں بلکل چھوٹا سا لگا…
اسنے اپنے دانت چبا ڈالے تو یہ ہے غصے کی وجہ…
اب میرا کیا ہو گا” اسنے سوچا.. اور بید پر اندھے منہ گیر کر بری طرح رو دی…
مگر وہی… چپ بھی خودی ہونا پڑا…
پہلے ٹیسٹ دیہاتی تھا.. اور اب اچانک موڈرن ہو گیا…” اسنے غصے سے اسکا تکیہ اٹھا کر پھینکا….
دل تو کر رہا ہے کچا چبا جاو… اس لڑکی کو.. مگر نہیں اسے پتا چلنا چاہیے.. حرم کتنی خوبصورت ہے اور شاہ میر صرف حرم کا دیوانہ ہے..
شاید اسنے نخون کترے….
اور جلدی سے آٹھ کر.. شاہ میر کی وارڈ روپ دیکھنے لگی….
وہاں تو سب بڑی بری شرٹیں تھی بٹ اٹس اوکے..
اسنے ایک وائٹ شرٹ کھینچی..
اب میں بھی موڈرن بن جاو گی.. جیسے آپ کو پسند میں ویسی ہی ہوں گی مگر.. آپکو کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی “وہ خود سے بہت کچھ سوچ چکی تھی…
ایک جینز تو بلیک کلر کی اسکے پاس بھی تھی.. کرتے کے ساتھ پہننے کے لیے اسنے وہی کھینچی…
اور ڈریسر کیطرف چلی گئ…
میکپ کے نام پر بس ایک سرخ لیپسٹک لگا کر… وہ بالوں کو… آڑھی مانگ دے کر.. ایک شانے پر آگے کیے….
بلکل پہلے جیسی لگ رہی تھی.. مگر افسوس اسکی ہیل نہیں تھی…
اسنے آئینے میں خود کو دیکھا.. اور.. ‘ٹھنوں تک جاتی شرٹ کا ایک کونا.. جینز کے اندر کر کے ایک باہر چھوڑ دیا… بازوں فولڈ کیے جبکہ اوپر سے دو بٹن کھولے وہ توبہ شکن بنی.. اب باہر نکلی تبھی.. شاہ میر بھی روم میں آیا.. حرم جو ڈریسر کا دروازہ بند کر رہی تھی… اسکی طرف موڑی تو بڑے اسٹائل سے اسکے آگے آئے بال.. چہرے سے ہٹے…
شاہ میر اپنی جگہ سٹل رہ گیا….
جبکہ اسکو… کو دیکھنا…. شاہ میر کا منہ کھلے حرم کو.. کانپنے پر مجبور کر گیا..
عجیب نشیلی شے تھی…
رات کا نشہ.. وہ غصہ کر کے جھٹک رہا تھا.. کہ وہ پھر سراپا امتحان بنی کھڑی تھی..
حرم.. شرما بند کرو بولد بنو “اسکے اندر کوئ بولا.. تو وہ ہوش میں ای.. ٹھیک کہتی ہو..” اسنے بربڑا کر جواب دیا…
اور اپنے کانپ اٹھے قدموں کو زور زور سے زمین پر جماتی.. وہ اس تک پہنچی…
تو شاہ میر کی ہائٹ سے کافی چھوٹی اسکی ہائٹ تھی…
اسنے افسوس کرنے پر مٹی ڈالی.. اور اسکی شرٹ.. کے بٹن کھولنے لگی..
شاہ میر تو اتنا دنگ ہوا.. کہ..
منہ سے ایک لفظ پھوٹ نہ پایا…
یہ کیا کر رہی ہو حرم “اسنے سوچا جبکہ اینر وائس اسے.. داد دے رہی تھی.. اچھا ہے اسے اپنا احساس کراو…
م… میر” اسکی کانپتی.. انگلیوں…
کی تھرتھراہٹ.. اپنے سینے پر محسوس کر کے.. شاہ میر کا ضبط جوب دے گیا.. اسنے.. حرم کی کمر میں ہاتھ ڈالا… اور.. اسکو.. گھوما کر دیوار پر چیپکا دیا.. اب وہ اسکے سرخ اناری لبوں کو دیکھ رہا تھا.. دل تو کر رہا تھا اس کی لیپسٹک خراب کر دے..
جبکہ دماغ کہہ رہا تھا.. پھر سے پشتانے کے لیے ریڈی رہو…
شاہ میر نے دل کی سنی.. اور اسپر جھک.. گیا…
اسطرح…. کے حرم سہم ہی گئ..
وہ ہمیشہ ایک جنون لیے ہوئے تھا…
وہ کچھ دیر بعد ہٹا….
اسکی لیپسٹک واقعی خراب تھی.. اس سے پہلے وہ کوئ اور عمل کرتا کیونکہ اوپر کے کھلے دو بٹن..
شاہ میر ہوش میں آیا….
یہ کیا بیہودہ حولیہ ہے “وہ غصے سے بولا…
حرم نے گھیرہ سانس لیا..
آپ کو ہی پسند ہے.. یہ” حرم نے بھی غصے سے کہا جبکہ رونا بھی آیا.. اب بھی غصہ نہیں گیا تھا..
میں نے کب کہا یہ”وہ بھنایا…
نہیں کہا باہر جو اس لڑکی سے چیپکے کھڑے تھے ایسی ہی تھی
وہ” وہ بولی تو آواز رندھ گئ تھی…
کیا بکواس ہے” شاہ میر حیران ہوا…
جبکہ اب حرم دونوں ہاتھوں سے چھرا چھپا کر رو دی…
آپ صبح سے ڈانٹے جا رہے ہیں… پھر… میں کیا کرو”
حرم اسکی تو شاہ میر نے اسکیطرف قدم بڑھائے…
…………………
جاری ہے