128.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

تم غلط کہہ رہی ہو میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا.. “انھوں نے صاف انکار کیا اور اپنے قدم پیچھے لیے تو ونیزے نے انکی جانب دیکھا…
کوئ لڑکی اپنی پرسائ پر ایسا الزام نہیں لگاتی… مجمجھے لگا.. آپ میرے بارے میں انصاف سے فیصلہ لیں گی مگر افسوس….
آپکو.. ایک معصوم لڑکی پر ہوئے ظلم سے زیادہ اپنے بیٹے کی پرسائ کی فکر ہے…. “وہ سنجیدگی سے بولتی آنسو صاف کرتی اٹھی… اماںاماں.. کا وجود جیسے آندھیوں کی زد میں تھا…
انھیں یقین نہیں آ رہا تھا.. کہ وہ لڑکی سچ بول رہی ہے مگر یہ بھی بات بجا تھی کہ کوئ بھی لڑکی اپنی ناموسی اپنے منہ سے کبھی نہیں کرتی….
اماں صوفے پر ڈھے سی گئ جبکہ ونیزے ایک نظر انکو دیکھ کر.. پلٹنے لگی کہ.. انھوں نے اسکو پکارہ..
رک جاو “ونیزے نے ترچھی نظروں سے اسکی جانب دیکھا….
رک جاو….. کیاکیا ثبوت ہے تمھارے پاس کہ یہ سب میرے بیٹے نے کیا” انھوں نے ایک آخری امید کے تحت اسکی جانب دیکھا.. جس کی سرخ آنکھیں انھیں پر تھی…
نہیں کوئ ثبوت نہیں میرے پاس کوئ ثبوت بھی ایک ماں کا اپنے بیٹے پر سے یقین نہیں اٹھا سکتا” اسکی آواز رندھ گئ جبکہ اماں کا پل دو پل میں… جیسےجیسے وجود.. ہل سا گیا….
میرے پاس اس ثبوت کے سوا کچھ نہیں کہ.. لاسٹ کال آپکے بیٹے نے اپنے نمبر سے مجھے کی تھی….
اور اسکے بعد میں نے انھیں کی… اوراور انھوں نے مجھے اپنے اس گہنوونے ارادے کا شکار کیا…” اسنے نم آنکھوں سے موبائل کھول کر اماں کے سامنے شہروز کا نمبر کھلا.. تو.. انھوں نے ایک نظر.. نمبر کی جانب دیکھا اور بس….. وہیں انکا اعتبار اسپر سے آٹھ گیا…
انکی آنکھیں بھیگ گئیں جبکہ طبعیت عجیب سی ہو رہی تھی… ونیزےونیزے خاموشی سے انکے چہرے کے زاویے دیکھ رہی تھی جبکہ… اماںاماں نے کانپتی آواز میں شانزے کو پکارہ…
ش.. شانزے “وہ جو.. دروازے کی اوٹ کی بھیگی سرخ آنکھیں لیے کھڑی تھی باہر نکلی.. اور سر جھکا کر کھڑی ہو گئ.. ونیزے نے ایک نظر شانزے کو دیکھا.. اور دوبارہ.. اماں کی جانب دیکھا..
اسے کچھ فیصلہ ہوتا دیکھائ دے رہا تھا…
شاہ میر.. شہروز دونوں کو بولاو ابھی” انھوں نے حکم. صادر کیا تو شانزے نے سب سے پہلے شاہ میر کو کال ملائ….
اور اسکو اماں کا پیغام دے کر… اسنےاسنے شہروز کو کل ملائ… اوراور اسے بھی اماں کا پیغام دے کر فون بند کر دیا….
اسکے بعد وہاں چارو جانب سناٹا چاہ گیا اور پھر تقریب بیس منٹ بعد وہاں آگے پیچھے گھر میں دو گاڑیاں روکیں.. وہ دونوں ایک دوسرے کو حیرانگی سے دیکھنے لگے آخر معاملہ کیا تھا جو اماں نے اسطرح ان دونوں کو بلایا تھا…
شاہ میر.. اسکو ایک نظر دیکھ کر فورا اندر دوڑا… نہنہ جانے کیا ہوا تھا کہیں اماں کو تو کچھ…. بس یہ ہی بات سوہان روح تھی…
جیسے ہی وہ دونوں لاونج میں داخل ہوے تو اماں کو صوفے پر جبکہ شانزے کو کو انکے پاس کھڑا دیکھ.. شاہ میر انکے نزدیک پل میں پہنچا اسنے کسی اور کو وہاں دیکھنے کی زہمت نہ کی جبکہ شہروز ونیزے کو یہاں دیکھ کر حیران رہ گیا..
اماں آپ ایسے کیوں بیٹھیں ہیں سب ٹھیک ہے نہ “اسنے انکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا جبکہ انکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹا…
میرا مان ٹوٹا ہے… ہارہار گی ہوں میں بس اتن اہوا ہے..” وہ بولیں اور شہروز کی جانب دیکھا.. جو معملہ سمھجنا چاہ رہا تھا…
اور.. اسنے ایک قدم ونیزے کی جانب بڑھایا…
تم یہاں کیا کر رہی “وہ غصے سے بولا تو شاہ میر نے.. اب ونیزے کی طرف دیکھا…
بتا دیا ہے میں نے سب سچ تمھاری ماں کو.. “اسنے کہا تو شہروز نے غصے سے اسکا بازو جکڑ لیا…
کیا بکواس کی ہے تم نے… جب میں معملہ وہیں ختم کر آیا تھا تو.. یہاں مرنے کی کیا ضرورت تھی “شہروز کچھ اور جبکہ ونیزے کچھ اور اور اماں کچھ اور سمھجی تھی.. اور شہروز کی یہ ہی بیوقوفی ہر بات پر موہر لگا گئ.. اور اماں نے شہروز کی جانب دیکھا…
چھوڑ دو اسکا ہاتھ” وہ بلند آواز میں بولیں.. تو وہاں سب خاموش بلکے دنگ رہ گئے انکی ماں بڑے دھیمے لہجے والی خاتون تھیں کبھی انھوں نے اونچی آواز سے بات نہیں کی تھی اور اب…
شاہ میر خاموشی سے معملہ دیکھ رہا تھا.. جبکہ شانزے رو رہی تھی اور ونیزے کے چہرے کا اطمینان قابل دید تھا…
اماں… “شہروز اس سے پہلے اور کچھ بولتا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور اسکے نزدیک گئیں…
اور پھر سب سے غیر متوقع حرکت ہوئ جس کا کسی کو انداز نہیں تھا.. اور نہ آج سے پہلے ایسا کبھی ہوا…
اماں کا ہاتھ اٹھا اور شہروز کے گال پر اپنی انگلیوں کا نشان چھوڑگیا..
وہ ورطہ حیرت میں گم تھا جبکہ شانزے نے روتے ہوئے منہ پر جہاں ہاتھ رکھا وہیں ونیزے بھی اپنے اس اقدام پر ڈگمگائ تھی.. جبکہ شاہ میر یوں ہی کھڑا تھا…
کیا بتانا چاہتے ہو…. کیکیا کہو گے اب تم اپنے منہ سے اس بات کا اعتراف کر کے تم نے مجھے مار دیا شہروز… مجھےمجھے مار دیا… مجھےنہیںمجھے ہیں پتا تھا تم اپنے باپ سے بھی زیادہ گئے گزرے ہو.. اسنے.. مجھے اپنے نکاح میں لے کر برباد کیا اور تم نے کسی کو محبت کے جال میں پھنسا کر برباد کر دیا.. یہ منحوس کام کرتے ہوئے تمھارے ہاتھ نہیں کانپے… کہکہ تمھاری ایک جوان بہن بھی ہے.. “اماں روتے ہوئے.. اسے.. ایک کے بعد ایک تھپڑ مار رہیں تھیں.. جبکہ شہروز…
انھیں کچھ کہنا چاہتا تھا… جس کو وہ سننے کے لیے تیار نہ تھیں….
اماں” بالآخر.. شہ میر نے آگے بڑھ کر انکو تھام لیا اور وہ اسکے سینے سے لگ کر.. بری طرح رو دیں….
یہ سب کیا ہو گیا شاہ میر. . یہ میرا شہروز نہیں ہے”
وہ انکو سینے سے لگائے شہروز کو… خوخون آشام نظروں سے گھور رہا تھا…
بھائ.. اماں غلط سمھجہ رہی ہیں… اوریہ…. دو کوڑی کی لڑکی… جوٹجوٹ…” وہ بے قابو ہوتا… ونیزےونیزے پر جھپٹا… کہ.. شاہ میر نے.. اسکو گریبان سے پکڑ لیا….
اور پیچھے کر کے ونیزے کی جانب انھیں نظروں سے دیکھا وہ اس لڑکی کو پہچان چکا تھا…
صرف تم سے ایک سوال پوچھو گا… کیکیا ثبوت ہے تمھارے پاس کہ میرے بھائ کا تعلق تم سے زرا سا بھی تھا. . “اسنے ونیزے کیطرف دیکھا.. جو شاہ میر.. سے خود خوف ذدہ ہو چکی تھی.. کانپتے ہاتھوں سے اسنے.. وہ ثبوت شاہ میر کے سامنے کر دیا.. جبکہ اب وہ جانتی تھی کہ… یہیہ شخص سب کچھ سمھجہ جائے گا.. اور لازمی اسکو سلاخوں کے پیچھے پھینک دے گا…..
شاہ میر نے ونیزے کے نمبر پر شہروز کی کالز دیکھیں تو.. وہ اگلے لمہے شہروز کی جانب پلٹا….
تم اتنے نیچ ہو… مجھےمجھے تو… تمھیںتمھیں بھائ سمجھتے ہوئے بھی گھن آ رہی ہے “وہ غرایا تو شہروز اس بے اعتباری پر غم ذدہ ہو کر رہ گیا…
لالا…”
بکواس بند کرو اپنی…… اور…. ابھی اس لڑکی کو اپنی عزت بنا کر.. کفارہ ادا کرو… اساس ایک غلطی کا.. جو تم سے ہوئ”شاہ میر کے لہجے اور بات میں… جیسے مختلف انداز تھا جیسے وہ اسے.. اس دن کی گئ دو کالز… کوکو غلطی گردان کر.. اس سے کفارہ ادا کروا رہا تھا….
میں ایسا بلکل نہیں کرو گا” شہروز بھی ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا….
ٹھیک ہے… نکل جاو میرے گھر سے “شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا….
اور پیٹھ موڑ لی…..
لالا آپ سب جانتے ہوئے بھی اس لڑکی کی حمایت کر رہے ہیں.. یہ لڑکی چاہتی ہی یہ تھی.. اور آپ”شہروز تلملا ہی گیا.. بھلہ اپنوں کے بغیر وہ ایک دن بھی گزار سکتا تھا…
شہروز خان….. تمھارا نفس اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے تھا….
اگر.. اس لڑکی کے پاس… ایک ثبوت بھی تمھاری جانب سے اٹھائے گے اقدام کا نہ ہوتا.. تو… پھر میں اسے اچھے سے بتاتا کہ شاہ میر خان کے بھائ پر انگلی اٹھانے کا انجام ہوتا کیا ہے… “
وہ بلند آواز میں بولا.. تو شہروز.. نے پھاڑ خانے والے انداز میں ونیزے کو دیکھا جو اطمینان سے کھڑی تھی….
میں شادی بلکل نہیں کرو گا” وہ بولا.. تو اماں نے.. اسکی جانب دیکھا…
تو ہمارے ساتھ یہ رہے گی تم نہیں… تمھارا گناہ… آخر کو.. ہمیں ہی چھپانا ہے… “
اماں آپکو غلط سمھجہ رہی ہیں.. یہ دوغلی جھوٹی لڑکی….
بس بس شہروز بس کر دو :خر کتنی اسے گالیاں سے کر اپنا پلڑا بھاری کرو گے.. آخر کو مرد ہو نہ.. اور مرد عورت سے زیادہ مظبوط ہے تو اپنی طاقت کی بنا پر وہ کچھ بھی کرتا پھیرے…
یہ کوئ قنون نہیں ہے.. اور اگر دنیا میں یہ ہوتا بھی رہا ہے.. تو میرے گھر میں نہیں ہو گا…
ابھی.. کہ ابھی تمھیں.. اس لڑکی وک اپنی عزت بنانا ہو گا.. ا
تا کہ تمھیں احساس ہو عزتیں لوٹنا… آسانآسان ہوتا ہے عزت بنانا.. کیا ہو تا ہے “
انھوں نے حتمی فیصلہ کر کے.. شاہ میر کی جانب دیکھا.. جس نے صفدر کو کال کی….
……………………….
تین لفظ بول کر شہروز… بلکلبلکل خاموش ہو کر بیٹھا تھا… جبکہ.. اماں اس سے بغیر بات کیے…
ونیزے اور شانزے کو اپنے ساتھ لے گئیں تھیں…
شاہ میر.. اسکے سامنے ہی صوفے پر بیٹھا تھا…
مبارک ہو تمھیں نکاح”وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا… توتو.. شہروز نے سرخ آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا…
میرے ساتھ زیادتی کی ہے آپ نے لالا..” وہ بولا تو.. کانچ سی تٹوتٹ پھوٹ تھی لہجے میں..
نہیں.. میرے یار…… زیادتیزیادتی تو اس لڑکی کے ساتھ ہو گی اب….
بتاو اسے شہروز خان پر الزام کا انجام….. پتا تو چلے اسے….
کہ.. جو الزام اسنے تم پر لگایا… وہ حقیقت میں ہوتا کیا ہے….
میں… تمھیںتمھیں ہرا نہیں سکتا… اگراگر تم نے وہ غلطی کی بھی ہوتی میں تب بھی.. تمھارے ساتھ ہوتا.. مگر مجھے اس لڑکی کی آنکھوں میں غرور.. کا نشہ توڑنا تھا…
اسے لگ رہا ہے.. وہ جیت گئ….
مگر تم اسے بتاو گے ہار کیا ہوتی ہے….
یہ دنیا ہمارے سے کھیلنے کے لیے نہیں بنی.. یار…..
اس دنیا کو… اپنی طاقت کے نظارے کرانا ضروری ہیں….
تم اس کی بات کو حقیقت کا رنگ دو……..
اماں کو میں سمبھال لوں گا… بسبس تم. بات کر لینا ان سے…
باقی اس لڑکی پر ابھی کچھ مت کھولنا….
مجھے امید ہے تم سب سمھجہ رہے ہو…. “
وہ سکون سے اسے سب سمھج آتا گیا جبکہ شہروز. سب سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر…
اب قدرے ریلکس تھا….
شانزے نے بھی سب دیکھا.. وہ بھی مجھے غلط سمھجے گی” شہروز نے افسوس سے کہا…
تمھیں پتا ہے… شہروزشہروز… جبجب میں آٹھ سال کا تھا… تو…
ایک دن ہمارے گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں تھا… جبکہ ہم چارو.. ایک دن کے بھوکے تھے.. اور کسی مین بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ… کوئکوئ ایک اور دن.. مزید بھوکے رہ کر گزارے.. میں گھر سے ایسے ہی نکل گیا…
تو.. ہمارے گھر کے سامنے ایک بڑی سی بیلڈینگ تھی.. جس میں کافی مزدور کام کر رہے تھے…
میں نے انکو دیکھا…
اور وہاں.. ایک آدمی جو چئیر پر بیٹھا تھا… اسکےاسکے پاس چلا گیا..
میں اتنا کمزور محسوس کر رہا تھا.. کہ وہاں اسکے پاس جا کر رونے لگا…
آج وہ بے بسی کے آنسو یاد کر کے میرا.. خون کھل اٹھتا ہے….
وہ آدمی مجھے دیکھ.. کر ہنسنے لگا….
ایک اور غریب.. “اسنے بڑے تنفر سے کہا….
اور بغیر کچھ سنے.. مجھے.. کام پر لگا دیا شاید.. وہ جانتا تھا میری مجبوری…
میں نے.. پورے دن وہاں کام کیا….
اور جب رات گھر آیا.. تو اماں دروازے پر بے حال بیٹھیں تھیں…
کتنی ہی غربت تھی مگر وہ ہم میں سے کسی کو کھونا نہیں چاہتی تھیں…
مجھے دیکھ کر.. وہ.. جتنا خوش ہوئیں.. اتنا خوش تم دونوں میرے ہاتھ میں.. کھانے کا چند سامان دیکھ کر ہوئے…
اور پھر.. جب ہم کھانے بیٹھے تو…. تم جلدی سے کھا گئے.. اپنی روٹی… “وہ ہنسا… آنکھیںآنکھیں سرخ.. جبکہ فل بلکل بھر چکا تھا.. جیسے وہ اپنے ماضی کو بوجھ نکال دینا چاہتا تھا…
اماں نے تمھیں اپنی روٹی دے دی…
اور تم وہ بھی کھا گئے..” شہروز.. کی آنکھ سے آنسو ٹوٹا…. توتو شاہ میر نے وہ آنسو صاف کیا…
مگر تمھاری.. بھوک ختم نہ ہوئ…. اور تم رونے لگے.. اماں بے چین ہو کر خود بھی رو دیں.. جبکہ میں اس بات پر.. افسوس کر رہا تھا کہ میں کیوں اتنی جلدی کھا گیا….
تب شانزے نے.. تمھیں اپنی روٹی دی… اور تمھیں چپ کرایا….. “ہم ایک دوسرے کے لیے ہیں… ایکایک دوسرے کے غم خوشی کے ساتھی…
یہ دنیا… ہمیں الگ نہیں کر سکتی….
نہ وہ تمھیں غلط سمھجے گی… اوراور نہ اماں.. بس مجھے یقین ہے تم سب ٹھیک کر دو گے…” اسنے شہروز کو سینے سے لگایا… اوراور اسکے شانے پتھپتھاپائے.. تو وہ اثبات میں سر ہلانے لگا…
……………………..
کہاں ہیں وہ…..یہ کیا بات ہوئ.. کوئ اپنے قیدی کو یوں چھوڑ کر جاتا ہے.. میں بھاگ بھی سکتی ہیں” حرم نے منہ بنا کر سکینہ کی جانب دیکھا تو سکینہ… ایکایک گھیرہ سانس بھر کر رہ گئ..
حرم بی بی پھر آپ اب تک بھاگی کیوں نہیں” وہ عاجز آ کر بولی تو.. حرم.. نے.. غصے سے.. اسکے بازو میں چٹکی کاٹ دی….
تم جانتی بھی ہو.. وہ میرے شوہر ہیں… “وہ بولی تو… سکنیہسکنیہ ہاتھ سہلا کر… سمھجنےسمھجے والے انداز میں سر ہلانے لگی.. تو بی بی یہ تو پھر آپکا گھھر ہوا.. اور اپنے گھر میں کھانے سے منہ کون موڑتا ہے..” سکینہ نے اسے ٹریپ کیا…
تو.. وہ کچھ سوچتے ہوئے سر ہلانے لگی….
ٹھیک ہے میں کھانا کھا لیتی ہوں.. مگر میں اب بور ہو رہی ہوں.. تو میں کیا کرو پھر” حرم نے… سکینہ کیطرف دیکھا…
بی بی آپ ٹی وی دیکھ لیں.. “سکینہ نے مشورہ دیا…
ہاں یہ ٹھیک ہے.. تم اتنی بھی بری نہیں ہو.. اچھی ہو… چلوچلو پھر.. “وہ. کمرے سے نکلی اور بھاگتی ہوئ صوفے پر بیٹھ گئ….
جبکہ سکینہ نے اسکے آگے کھانا چن دیا…
ویسے سکینہ تم خاصی ڈھیٹ بھی ہو… “اسنے آرام سے چارمنگ کھاتے ہوئے کھا..
سکینہ تو عش عش کر اٹھی…
جی بی بی کیوں. “اسنے پوچھا.. تو.. حرم ہنس دی..
انھوں نے تمھیں نکال دیا تھا تم پھر آ گئ”وہ اب کھل کر ہنسنے لگی …
جی اسے نکالنا تو نہیں کہتے” سکینہ کچھ شرمندہ بھی ہوئ… اچھااچھا ٹھیک ہے… “حرم نے کہا… اوراور سکینہ کے گریبان پر نظر گئ جہاں اسکا موبائل تھا…
کتنی گندی ہو تم”حرم زور سے چینخی جبکہ سکینہ اچھل پڑی یہ کون سی بلا لے آئے تھے شاہ میر صاحب…
کیا ہوا جی…” وہ نا سمھجی سے بولی..
یہ تم نے کہاں موبائل لگایا ہوا ہے.. نکالو اسے” وہ بولی جبکہ اسکے ذہن نے ایک بار پھر.. طوفانی آئڈیا سوچ لیا تھا…
یہ سے فرار ہونے کا…
سکینہ نے منہ بناتے ہوئے موبائل نکال کر اسکے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا.. اور..
حرم کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھنے لگی…
حرم سکون سے کھانا کھا رہی تھی.. جبکہ سکینہ نے.. سامنے لگی ایل ای ڈی کھول لی…
ایل ای ڈی پر… انانگلش مویز کا ایک امبار تھا.. جو سکینہ کے سر پر سے گزر رہا تھا…
جبکہ حرم بھی… کچھ نظر ڈال لیتی مگر اسکی ساری توجہ.. سکینہ کے موبائل پر تھی…
سکینہ مجھے پانی دے دو “حرم نے کہا… توتو سکینہ نے پانی کے جگ کو دیکھا..
میرا مطلب ٹھنڈا..” وہ بولی تو سکینہ آٹھ کر.. کچن کی جانب چل دی… توتو حرم نے جلدی سے موبائل اٹھا کر… چاچو کا نمبر ڈائل کیا تو.. اسکے ہاتھ بھی ایک لمہے کو کانپے…
جبکہ نمبر ڈائل کرتے ہی… آپریٹر کی آواز ابھری….
جو.. صاف واضح لفظوں میں.. کہ رہی تھی کہ آپکے موبائل میں رقم نہیں.. اسنے موبائل کو شدت سے گھورا…
اور دوبارہ ٹیبل پر پٹخ کر… اسنے سامنے سے آتی سکینہ کو گھورا…
تو سکینہ نے بغیر توجہ دیے… پانی اسکے سامنے رکھ دیا…
اور دوبارہ ریمورٹ لے کر.. وہ ایل ای ڈی میں مصروف ہو گئ.. جبکہ حرم کی پلکیں بھیگ گئیں…
اور اسنے غصے سے… پانی اٹھا کر پینے لگی…
بہت بری ہو تم سکینہ… “اسنے سوچا.. اور… پلپلکیں صاف کرتی… وہوہ دوبارہ کھانا کھانے لگی….
جبکہ.. سکینہ نے.. ایک رومانٹک.. انگلش مووی کے سین پر.. چینل روک لیا…
سکینہ بہت دلچسپی.. سے.. دیکھ رہی تھی.. جبکہ اب حرم کی بھی اتوجہ اس جانب چلی گئ.. اور وہ.. منہ کھولے… سامنےسامنے چلتے نظاروں کا ملاحظہ کرنے لگی….
چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ لاونج میں شاہ میر کی گرجدار آوازگونجی….
سکینہ “
اسکی آواز سنتے ہی سکینہ جیسے کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئ…
جبکہ حرم کا تو دماغ ابھی تک اسی لڑکی لڑکے کے گرد گھوم رہا تھا.
جو خاصا بولڈ سین تھا اور وہ دیکھ چکی تھی….
یہ کیا بکواس لگائے بیٹھی ہو” وہ دھاڑا.. جبکہ سکینہ.. کی گھگھی بندھ گئ…
حرم.. کا نوالہ ابھی تک وہیں.. تھا جبکہ شاہ میر نے.. سکینہ.. کو بری طرح جھاڑ دیا…
اپنی حد میں رہو تم… حدینحدین پار کرنے کی ضرورت نہیں..”
وہ غصے سے بولا تو.. سکینہ… اساس سے معافی مانگنے لگی….
صاب معاف کر دیں ام.. تو بس..”
کیا تم بس….. انسانیتانسانیت سے گیر گئ ہو لگتا ہے مجھے.. نکلو یہاں سے اب “وہ چلایا تو.. وہ وہاں سے غائب ہو گئ.. جبکہ اب لاونج میں شاہ میر اور حرم تھے…
شاہ میر دندناتا ہوا اس تک پہنچا…
اور حرم کا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنی جانب کھینچا..
بہت شوق ہے تمھیں.. ایسے سین دیکھنے کا” اسنے تیوری چڑھا کر پوچھا…
ن… نہیں.. میر وہ تو… سکینہ “حرم شرمندہ سی ہو گئ..
کیا سکینہ…. “وہ غصے سے بولا….
اتنا ہی شوق چڑھا ہے.. تو چلو کمرے میں اچھے سے نظارے.. دیکھا دو گا تمھیں” وہ بولا.. تو حرم کی پلکیں بھیگ گئیں….
میں تو…. میں نے تو نہیں دیکھا”حرم نے منمنا کر کھا…
آج کے بعد میں تمھیں ٹی وی پر ایسی کوئ چیز دیکھتے ہوئے نہ دیکھو…
جو تمھیں پوچھنا ہے.. جو جاننا ہے.. میرے پاس آ جانا.. اگلی بار خواہش… نہیں ہو گی کہیں اور جانے کی”وہ بولا.. اور اسکا.. چیرہ.. مزید قریب کر لیا….
حرم کے لب کانپ رہے تھے جبکہ… پلکیں مزید بھیگ گئیں….
خوبصورت ہو تم…. اوراور میں چاہتا ہوں.. خوبصورت ہی رہو…
اور تمھاری نگاہ میں…. صرف. میں اترنا چاہیے ہوں.. اور کوئ نہیں…
تمھارے دل میں بھی شاہ میر کا قبضہ ہونا چاہیے…
نہ کے تم… اپنےاپنے اس ڈلیل چاچا سے… ملنےملنے یا بات کرنے کا بہانا ڈھونڈو… “
وہ.. دھیمی ہر سوز آواز میں بتا گیا.. جبکہ حرم.. آنکھیں اٹھا کر اسکی صورت دیکھنے لگی…
کرو گی نہ پیار مجھ سے…” وہ اسکے گالوں پر انگلیاں چلاتا ہوا.. اسکی آنکھوں میں جادو.. اتارنے لگا…
حرم.. نے بھاری سانس بھرا…
اسکے لیے اس شخص کے سامنے کھڑا.. ہونا سوہان روح تھا..
بتاو حرم…” شاہ میر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے مزید قریب.. کر لیا….
جبکہ حرم پتے کی مانند کانپ رہی تھی…
اسکا دل چیخ کر اقرار کرنا چاہتا تھا.. مگر زبان تھی کہ ہل ہی نہیں رہی تھی…
.. م….. میر” اسکے لب پھڑپھڑائے…
میں صرف وہ سننا چاہو گا… جو.. میرے کان سننا چاہتے ہیں”
اسنے… اپنا کان حرم کے لبوں پر رکھ دیا.. جبکہ حرم کی روح فنا ہونے کے قریب تھی….
ک…. کروں گی… “
بہت کرو گی نہ” وہ کسی احساس کے تحت پوچھ رہا تھا جبکہ حرم نے اسکے سینے میں منہ چھپا لیا….
اسکے ملائم چہرے کی حدت.. شاہ میر…. کےکے دل میں پہلی بار پرسکون بارش کی پھوار کی مانند پڑی…
…………….
جاری ہے