Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode (Watching)
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
ارقم کو نوکری شروع کیے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا بہت بڑا دل کر کے اس نے نوکری ڈھونڈی تھی کیونکہ سلیم صاحب کا کہنا تھا کہ اگر ارقم اسامہ نوکری نہیں کریں گے تو ان کی شادیاں چار پانچ سال تک بھول جاؤ اور یہ وہ کیسے ہونے دے سکتے تھے
“جاب ہی ہے نا کر لیتے ہیں اس میں مشکل والی کیا بات ہے۔۔۔۔ اسامہ تو ایویں ڈر رہا ہے ہو جائے گا شہزادے فکر ہی نا کر ۔۔۔ آپ لوگ تیاریاں شروع کریں بس شادی کی ” یہ الفاظ تھے ارقم صاحب کے جن کو نوکری کرنا بہت آسان کام لگ رہا تھا لیکن اب جب اس کو ہفتہ ہو گیا تھا نوکری کرتے ہوئے اب اسے اپنے کہے الفاظ یاد آ رہے تھے
اسامہ کو ابراہیم صاحب نے اپنی دکان پہ بیٹھایا ہوا تھا کہ جب تک اچھی نوکری نہیں مل جاتی وہ ان کی دکان سنبھالے جبکہ ارقم کو کال سنٹر میں نوکری ملی تھی اور ایک ہفتہ کی ٹرینگ کے بعد آج اس کا پہلا دن تھا کالز اٹھانے کا
“السلام علیکم سر !!! جی میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟؟” ارقم بڑے مزے سے پہلی کال اٹھاتے ہوئے احترام سے بولا ۔۔۔ اگر اسے اس کے محلے والے دیکھ لیتے نا تو غش کھا کر گر جاتے کہ ارقم اور اتنا معصوم اور احترام کرنے والا ہو ہی نہیں سکتا
“میں تمہیں کہاں سے سر لگ رہی ہوں ” اگے سے کسی عورت کی آواز سنائی دی تو ارقم نے چونک کر پہلے دائیں اور پھر بائیں دیکھا تھا کہ کہیں کوئی سن تو نہیں رہا لیکن سب کو اپنا اپنا مصروف پا کر ارقم نے جواب دیا
“سوری میم۔۔۔۔۔ جی میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں “
“میں اب اتنی بھی بڑی نہیں ہوں کہ تم
مجھے میم جی کہ رہے ہو۔۔۔ تم سے چھوٹی ہی ہوں گی ” اس عورت نے کہا تو ارقم نے اپنی بمشکل ہنسی روکی تھی
“پتہ نہیں عورتوں کو کیوں چھوٹا بننے کا شوق ہوتا ہے اچھی خاصی بوڑھی آواز ہے ” ارقم سوچتا رہ گیا
“جی کیا مدد کر سکتا ہوں میں آپ کی ” ارقم نے پھر بولا
“کچھ نہیں ایسے ہی کال کی تھی ۔۔۔ اچھا لگا تم سے بات کر کے ۔۔۔۔ ” عورت نے یہ کہ کر فون بند کر دیا جبکہ ارقم نے خود کو قہقہہ لگانے سے روکا تھا
تھوڑی دیر بعد اسے ایک اور کال آئی
“السلام علیکم میں آپ کی کیسے مدد کر سکتا ہوں ” ارقم نے کہا
“جی مجھے آپ لوگوں کا میسج آیا تھا کہ جو بھی مسئلہ ہو آپ سے رابطہ کیا جائے ۔۔۔ کیا یہ سچ ہے؟” کسی آدمی کی آواز ابھری تھی
“جی جی سر بلکل ۔۔۔ آپ بتائیں کیا مسئلہ ہے ؟”
“یار میں کب سے باتھ روم میں ہوں ۔۔۔ پانی نہیں آ رہا کیا کروں ؟؟” آدمی کی بات سن کر ارقم نے اپنا سر پکڑا تھا
“سر اگر آپ کی سم میں مسئلہ مسائل ہیں تو وہ ہم حل کر سکتے ہیں ” ارقم بمشکل بولا
“کیسے بندے ہو یار مشورہ ہی دے دو۔۔ کب سے باتھروم میں ہوں ” وہ چڑ کر بولا
“سر آپ گھر میں کسی کو کال کر کے کہ دیں کہ موٹر چلا دو پھر پانی آجائے گا ” ارقم نے مشورہ دیا
“اچھا اور ایسے پانی آجائے گا ؟؟؟ “
“جی بلکل سر “
“چلو ٹھیک ہے شکریہ یار ” اس نے کہ کر کال بند کر دی تھی جبکہ ارقم کے کال بند کرتے ہی ایک اور کال آئی
“جی میں آپ کی کیسے مدد کر سکتا ہوں ؟؟” ارقم پھر سے بولا
“کیسے بندے ہو تم لوگ یار ۔۔۔۔ سارہ بیلنس کھا گئے ہو میرا ۔۔ میں نے گانے سننے تھے نیٹ سے ۔۔۔۔۔ اب تم سناؤ مجھے اچھے اچھے گانے ” سپیکر سے آواز ابھری تو ارقم چونکہ تھا کہ اب انہیں کیا اپنے گانے سناتا وہ۔۔۔ گھر میں جب بھی وہ گانے گاتا تھا سب اپنے کان بند کر لیتے تھے کہ اتنی بے سری آواز ہے تیری لیکن اب سب کے سامنے وہ کیا کرتا آخر اس نے گانا شروع کیا ہی تھا کہ کال ڈرآپ ہو گئی تھی
پاس بیٹھے سب ارقم کو گاتا دیکھ ہنس رہے تھے آخر ایک لڑکا اس کے پاس آیا
“بھائی آپ کی کال ڈرآپ ہو گئی ہے ” ارقم جو مزے سے آنکھیں بند کیے گانا گانے میں مگن تھا لڑکے کی آواز پہ چپ ہوا اور سنجیدہ ہو کر بیٹھا تھا
“ارے یہ کیا کال ڈرآپ ؟؟شکریہ بھائی ” ارقم اس لڑکے کا شکریہ ادا کرتا ہوا پھر سے کام میں مگن ہو گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں اور دن بہت تیزی سے گزر رہے تھے لیکن نیلم لائبہ کی شرارتیں اور مستیاں وہی کی وہی تھیں
ان کی مائیں ان دونوں کو سمجھاتی کہ اب تم دونوں کی شادی ہونے والی ہے یہ شرارتیں کم کر دو لیکن یہ دنیا انجائے اور شرارتیں کرنے ہی تو دنیا میں آئی تھیں
آج ان کی مہندی تھی نیلم لائبہ حرا کے ساتھ جا کر اپنے لیے ایک جیسا جوڑا لے کر آئی تھی پیلے رنگ کے غرارے کے ساتھ پیلی ہی شارٹ شرٹ پہنے ساتھ بالوں کی خوبصورت سی چوٹیہ بنائے ہرے رنگ کے ڈوپٹے کو سر پہ ٹکائے میک آپ سے بےنیاز دونوں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ابھی تیار ہو ہی رہی تھیں کہ ہارون حرا کے پاس آیا جو ان دونوں کو تیار کر رہی تھی
“آپی سب کچھ تیار ہے ۔۔۔ لیکن دیہان رہے میرا نام نہیں آنا چاہیے ورنہ اماں نے مجھے مار دینا ہے ” ہارون ان کو چٹخارے دار خبر سناتا ہوا بولا تو نیلم اور لائبہ ایک دم خوش ہوئی تھیں اور ہارون کو وہاں سے بھیجا تھا
“چلو چلیں جلدی ” حرا نے ان دونوں کو کہا
اور پھر وہ تینوں چھپ چھاتی کمرے سے باہر نکلی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جس کا گڈا سب سے اوپر جائیگا اسے باقی 500 دیں گی ڈیل کرو ” پہلی دلہنیں تھی جن کی نیچے شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں اور وہ شہزادیاں اوپر چھت پر پتنگ اڑانے کی تیاریاں کر رہی تھیں
“ارقم یہ تینوں پتنگ اڑا رہی ہیں …. یہ یہ حرا لائبہ اور نیلم ہیں نا ….. یہ پتنگ اڑائیں گی اب حد ہے ویسے زرا شرم نہیں آتی انکو ۔۔۔۔ اب انکو دیکھ کر میرا بھی دل کر رہا ہے اب لوگ کیا کہیں گے کہ دلہا پتنگ اڑا رہا ہے .” اسامہ اور ارقم چھت پر آئے تھے تب انکی نظر سامنے گھر کی چھت پر پڑی تھی تو ان تینوں کو پتنگ اڑاتا دیکھ انکو خود پر ترس آیا تھا کیونکہ یہ انکی بیویاں بننے والی تھیں
“اوےےے نیلم .. بات سنو .. ” اسامہ نے آواز دی تھی تو وہ تینوں اسکی طرف متوجہ ہوئی تھیں
“دیکھو دو گڈے ہمیں بھی دے دو یار بور ہو رہے ہیں غازیان بھی کام سے باہر گیا ہے دے دو یار ….. “ارقم نے ان سب کی منتیں کی تھی معصوم سی شکل بنا کر کہا تھا
“ہائے نی پینو ای تک نا . ہائے کے زمانہ آگیا جے . ویاہ ہون لگا فیر وی اناہ نوں سکون نئی ..” اور یہ ہوئی شینو کی انٹری گلی میں جبکہ وہ ان سب کو چھت سے ایک دوسرے کیساتھ باتیں کرتا دیکھ چکی تھی
“اوہہ ارقم شرم بیچ کھائی تو …. اے کیا کر رہے ہو ؟؟” وہ اب سیدھا ارقم سے بولی تھی
“کچھ نہیں خالہ بس زرا ہوا کھانے آیا تھا..” ارقم بچارے نے گندا سا منہ بنا کر کہا تھا جبکہ لڑکیاں نیچے بھاگ گئی تھیں ظاہر ہے بچنا بھی تو تھا نا ورنہ شینو پتا نہیں کیا نوا کٹا کھول لیتی
“نا ہوا کھانے کیلئے کڑیوں کا اوپر آنا ضروری تھا تم اکیلے کھا لیتے نا ” پینو نے ہاتھ نچا نچا کر کہا تھا جبکہ شینو نے زور و شور سے گردن ہلائی تھی
“ہائے نہ خالہ کیڑیاں کڑیاں ؟؟؟ یہاں تو صرف آپ دونوں ہیں اب آپ تو ہماری ماؤں جیسی ہیں توبہ توبہ کیسی سوچ ہے آپکی ہم تو آپکے بچے ہیں نا آپکو تاڑنے تھوڑی نا آئیں گے چھت پہ ” ارقم اور چپ کر جائے نا ممکن جبکہ اسکی بات سن کو اب شینو کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
“بے غیرت شرم کھا جا … میں ابھی تمہاری ماں کو بتاتی ہوں زرا جو تمیز ہو اس لڑکے میں ” وہ کہتی ہوئی تن فن کرتی نکل گئی تھی کیونکہ اب چھت پہ لڑکیاں نہیں تھیں ورنہ وہ ضرور اسے بتاتی کہ وہ کن لڑکیوں کی بات کر رہی تھی
باقی سب کی شام تو بہت خوبصورت گزری تھی سب نے بہت انجوائے کیا تھا لیکن ارقم کو ماں سے اچھی خاصی عزت افزائی سننے کو ملی تھی وجہ تھی شینو . جس نے مومنہ سے کہا تھا کہ ارقم نے اس سے بد تمیزی کی ہے . اب ارقم بچارہ بس انہیں دعائیں دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا معصوم بچارہ اسلئے دل میں جتنی دفعہ انہیں گرانے کی دعا کر سکتا تھا اسنے کی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارات کا دن بھی بہت اچھا گزرا تھا لڑکیاں دونوں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں لال رنگ کی چولی کے ساتھ لہنگا پہنے جس میں خوبصورتی سے کام کیا گیا تھا شاندار میک آپ کے ساتھ وہ غضب ڈھا رہی تھیں اور لڑکے بھی کسی سے کم نہیں لگ رہے تھے سب کچھ بہت اچھے سے جا رہا تھا
بارات کے آتے ہی نکاح کا دور شروع ہوا اور خوشی خوشی نیلم حامد سے نیلم اسامہ جبکہ لائبہ فاروق سے لائبہ ارقم بن گئی تھی
سب خوش تھے اگر شینو صاحبہ کی انٹری نا ہوتی انہوں نے پورے ہال میں اس بات پہ ہنگامہ کر دیا تھا کہ انہیں بریانی میں
“سہی والی بوٹی نہیں ملی “
ابھی وہ اور بھی شور ڈالتی اس سے پہلے ہی مومنہ بیگم نے انکے سامنے بڑا سا ڈونگا گوشت سے بھر کر رکھ دیا تھا
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے وہ رنگ میں بھنگ ضرور ڈالتے ہیں لیکن آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے خود کو بچا کر رکھنا چاہیے
———————————————————–
لائبہ کو ارقم کے کمرے میں لایا گیا تھا لائبہ گھبراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تھی اسے مومنہ بیگم نے بیڈ پہ بیٹھایا تھا
“لائبہ میں جانتی ہوں میرا بچہ بہت نالائق اور شرارتی ہے لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے تمہیں بہت خوش رکھے گا ۔۔۔ جب انسان پہ زمہ داری پڑتی ہے تو وہ زمہ دار بن جاتا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ارقم اپنی زمہ داری بہت اچھے سے سنبھال لے گا بس تھوڑا وقت دینا اسے ٹھیک ہے میری بچی ” مومنہ بیگم اسے سمجھاتے ہوئے بولی تو لائبہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا پھر مومنہ بیگم نے اس کے سر پہ پیار کیا اور روم سے چلی گئی تھیں
لائبہ نے کمرے کا جائزہ لیا تو جابجا اسے گلاب کے پھول نظر آئے تھے لائبہ خوبصورتی سے سجائے اس کمرے کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ارقم کمرے میں داخل ہوا تھا
لائبہ جھنپ کر رہ گئی تھی جب ارقم کمرے کا دروازہ لاک کرتا ہوا بیڈ تک آیا اور اس کے پاس ہی بیٹھا تھا
“السلام علیکم ” ارقم نے سلام کیا تو لائبہ نے حیرت سے ارقم کو دیکھا اور اس کا قہقہہ گونجا تھا
“کیا ہے یار کیوں ہنس رہی ہو۔۔۔ ” ارقم اس کو ہنستا دیکھ چڑ کر بولا تھا
” تم اور مجھے سلام ۔۔۔” لائبہ ہنستے ہوئے بمشکل بولی تو ارقم منہ بنا کر بیٹھ گیا تھا لائبہ نے اسے دیکھا تو اپنی ہنسی رکی
“اچھا یار۔۔۔ وعلیکم السلام ” لائبہ نے آخر مسکراتے ہوئے کہا تو ارقم بھی خوش ہوتا ہوا اس کی طرف مڑ کر بیٹھا تھا
“میرا گفٹ ” اس سے پہلے کہ ارقم لائبہ کی طرف بڑھتا لائبہ فوراً پیچھے ہو کر بولی تو ارقم منہ بناتا ہوا سائڈ ٹیبل کی طرف جھکا اور اس میں سے ایک ڈبہ نکالا اور لائبہ کی طرف بڑھایا تھا
“یہ لو ” ارقم نے اسے دیا تو لائبہ نے مسکراتے ہوئے وہ ڈبہ تھامہ تھا اور اسے کھولا جہاں خوبصورت ڈائمنڈ بریسلٹ تھا
لائبہ نے بریسلٹ کو دیکھا اور پھر ارقم کو
“سچ سچ بتاؤ یہ وہ نکڑ پہ جو 100 100 والی نئی دکان کھلی ہے وہاں سے لائے ہو نا یہ ۔۔۔ دیکھو سچ بتانا مجھے بلکل سچ ” لائبہ کی بات سن ارقم نے اسے چونک کہ دیکھا تھا
“حد کرتی ہو میری بلیک کاااااا ۔۔۔۔ نہیں لائبہ۔۔۔ دیکھو یہ میں اپنے پیسوں سے لایا ہوں اچھا۔۔۔۔ آفس سے پیسے ملے تھے اس کا میں یہ خرید لایا ہوں ۔۔۔ چچچچچ کتنی ناشکری ہو تم بھئی ” ارقم منہ بسورتے ہوئے بولا تھا
لائبہ نے اپنا سر پیٹا تھا یہ دونوں الگ ہی کوئی میاں بیوی تھے جو کہ اپنی شادی کی رات اس طرح لڑ رہے تھے
“اچھا سوری نا ۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ تم سچ میں اتنا مہنگا گفٹ لے آؤ گے میرے لیے ۔۔۔۔ اچھا بس کرو نا اب میری روٹھی محبوبہ ” لائبہ نے کہا تو ارقم نے لائبہ کی طرف دیکھا تھا اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے
“لگتا ہے آج تم نے دانت برش کئیے ہیں ۔۔۔ تبھی دانت دیکھا رہے ہو مجھے ” لائبہ نے شرارت سے کہا تو ارقم ایک دم سنجیدہ ہوا تھا اور پھر اس کا بازو پکڑے اسے اپنی طرف کھینچا تھا
لائبہ ارقم کو سنجیدہ دیکھ گھبرائی تھی اور ارقم کا اس طرح سے اسے اپنی اور کھینچنا اسے مزید کنفیوز کر گیا تھا
“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میری بلیک کافی ” ارقم نے اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکرایا اور اسے کہا تھا لائبہ ارقم کے اتنا قریب تھی کہ اسے کچھ کہ بھی نا کہ پائی تھی ورنہ اپنا بلیک کافی نام سن لائبہ تپتی تھی لیکن حالات ہی ایسے تھے کہ وہ کچھ بھی نا بول پائی
لائبہ کو خاموش پا کر ارقم لائبہ سے دور ہوا اسے ایک نظر دیکھا تو لائبہ نظریں جھکائی بیٹھی تھی ارقم اسے دیکھ مسکرایا پھر اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور اسے بیڈ پہ لٹایا اور اس پہ جھکتا چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم کمرے میں داخل ہوئی تو اس کا گلاب کی پتیوں نے استقبال کیا تھا پورے کمرے میں گلاب کے پھول اور دیے جل رہے تھے
گلاب کی خوشبو اور پورے کمرے میں دیوں کی روشنی ایک الگ ہی سحر بنا رہے تھے نیلم پھولوں پہ چلتی ہوئی بیڈ تک آئی تو بیڈ پہ بھی پھولوں سے دل بنا ہوا تھا نیلم اسے دیکھ مسکرائی تھی
اسامہ کمرے میں داخل ہوا دروازہ لاک کیا تو دیکھا کہ سامنے نیلم کھڑی کمرے کی سجاوٹ دیکھ رہی تھی کہ اسے اس کے آنے کا علم ہی نا ہوا تھا
اسامہ دھیمی چال چلتا ہوا نیلم کے پاس آیا اور اسے پیچھے سے ہگ کیا تھا
نیلم جو اپنے ہی دیہان میں کھڑی تھی ایک دم اسے خود پہ کسی کی گرفت محسوس ہوئی تو ایک دم چونکی تھی
“ریلیکس میری جان۔۔۔ میں ہوں۔۔ آپ کا محرم ” اسامہ نے نیلم کے کندھے پہ اپنی تھوڑی ٹکاتے ہوئے کہا تھا تو نیلم نے اپنی آنکھیں بند کی تھی اور مسکرائی تھی
ایک دم اسامہ اس سے الگ ہوا اور اپنی پوکٹ سے ڈبیہ نکالی تھی جس میں خوبصورت سا نیکلیس تھا جس پہ دل بنا ہوا تھا اور بیچ میں U اور N بڑی خوبصورتی سے لکھا گیا تھا
اسامہ نے نیکلس نیلم کو پہنایا تھا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا
“کیسا لگا ” اسامہ نے مسکراتے ہوئے نیلم سے پوچھا
“بہت خوبصورت ہے تھینکیو ” نیلم نیکلس کو دیکھ کر خوشی سے بولی
“لیکن تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے۔۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو ہمیشہ کی طرح ” اسامہ نے نیلم کی کمر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اپنے بے حد قریب کیا تھا
“میری زندگی میں شامل ہونے کا بہت بہت شکریہ ” اسامہ نے نیلم کی طرف دیکھ کے کہا تو نیلم شرم سے نظریں جھکا گئی تھی
اسامہ کو یہ پل دنیا کا حسین ترین منظر لگا تھا اور دعا کی تھی کہ یہ پل یہی تھم جائے
اسامہ نے نیلم کو بیڈ پہ لیٹایا اور اس کے ہونٹوں پہ جھکا تھا
“اجازت ہے ؟؟؟” اسامہ نے نیلم کو دیکھتے ہوئے کہا تو نیلم جو آنکھیں بند کیے لیٹی تھی ایک دم آنکھیں کھولی تھی جہاں اسامہ اس پہ جھکا اس کے جواب کا منتظر تھا
اسامہ کی نظریں بہت کچھ بیان کر رہی تھی نیلم اسے انکار نا کر پائی تھی اور اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا ۔۔۔ اسامہ کو اور کیا چاہیے تھا جب محبوب ہی آپ کی قربت پہ راضی ہو تو انسان کو فائدہ اٹھا لینا چاہیے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند ماہ بعد
“مبارک ہو آپ کی بیٹی ہوئی ہے ” ڈاکٹر نے آکر غازیان کو خوشخبری سنائی تو سب یہ خبر سن بہت خوش ہوئے تھے
یہ ان کے گھر کی پہلے لڑکی تھی ورنہ غازیان اور ارقم دونوں کی کوئی بہن نا تھی
حرا نے پیاری سی بیٹی کو جنم دیا تھا سب اس کے آنے سے بہت خوش تھے سوائے حرا کے
غازیان اپنی ننھی سی جان کو گود میں اٹھائے حرا کے پاس آیا جہاں حرا لیٹی آنسو بہا رہی تھی
“بہت بہت مبارک ہو میری جان ۔۔۔ دیکھو نا کتنی پیاری ہے یہ ماشاءاللہ ” غازیان نے اسے کہتے ہوئے اس کے چھوٹے سے ماتھے پہ اپنے ہونٹ رکھے تھے جس پہ وہ ایک دم رو پڑی تھی
عائشہ بیگم غازیان کے پاس آئی تھیں اور اسے ننھی سی جان کو اپنی گود میں لیا تھا اور اسے چپ کروانے لگی تھی جبکہ غازیان اب حرا کی طرف متواجہ ہوا تھا
“تم خوش نہیں ہو ؟؟؟” غازیان نے حرا کی طرف دیکھ کہ کہا تھا لیکن حرا کچھ بھی نا بولی تھی
“تمہیں پتہ ہے حرا ۔۔۔۔ دنیا کی خوش نصیب ماں ہوتی ہے وہ جس کی پہلی اولاد لڑکی ہوتی ہے۔۔۔ اللہ کی رحمت ہے یہ ۔۔۔ اس طرح مت رو پلیز ۔۔۔۔ دیکھو میری بیٹی بھی رو رہی ہے کہ ماما کیوں رو رہی ۔۔۔۔ چلو اٹھو فوراً اسے گود میں لو اپنے ۔۔ میں یہ بلکل نہیں برداشت کر سکتا کہ کوئی میری بیٹی کو رلائے ” غازیان نے حرا کو سمجھایا تھا اور پھر حرا کو ڈانٹا بھی تھا جس پہ حرا اب اس کی بات پہ ہنسی تھی
“ابھی تم نے ہی رلایا تھا اسے ” حرا نے مسکراتے ہوئے کہا تو غازیان نے اپنا سر کھجایا تھا جبکہ عائشہ بیگم ان دونوں کی نوک جوک سن مسکرا رہی تھیں
“اسے مجھے دے دیں ” حرا نے بمشکل بیٹھتے ہوئے عائشہ بیگم سے کہا تو عائشہ بیگم نے اسے حرا کی گود میں دیا تھا
حرا کی گود میں آتے ہی ننھی سی جان چپ ہو گئی تھی حرا اسے دیکھ مسکرائی تھی
ابھی تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ سب حرا سے ملنے ہسپتال پہنچ گئے تھے
ایمن نیلم اور لائبہ تینوں ایکسپیکٹ کر رہی تھی
جبکہ ایمن کے ہاں ٹوینز ہونے کی امید تھی سب بہت خوش تھے اور چنچل محلہ میں خوب رونق لگی ہوئی تھی
شادی ہو جانے کے بعد بھی ان سب کی عادتیں نا بدلی تھیں سب کی ویسی ہی شرارتیں تھیں
کبھی کھانا کھانے چھپ چھپیتے منہ برگر والے کے پاس پہنچ جاتے تو کبھی محلے میں میلا لگائے بیٹھے رہتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
