Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24
“کیااااا امی آپ سچ کہ رہی ہیں ؟؟؟منان بھائی اور ایمن آپی ؟؟؟؟؟” نیلم کو آج صبح ہی مشال بیگم نے منان کی خواہش بتائی تھی جس پہ نیلم پہلے تو چونکی لیکن پھر خوش ہوئی تھی اسے یقین نا آیا تھا کہ اس کا شریف سا بھائی یہ کارنامہ انجام دے گا
“ہاں اور آج ہم لوگ جا رہے ہیں رشتہ لے کر۔۔۔۔ “
“کیااا آج ؟؟؟ آج کیوں امی۔۔ آج میری ضروری کلاس ہے میں نہیں چھوڑ سکتی کلاس اور میں آپ لوگوں کو نہیں جانے دوں گی ایسے ۔۔۔ ایک ہی تو بہن ہوں میں اب میں ہی نا جاؤں ۔۔۔” نیلم منہ بسورتے ہوئے بولی تھی
“ارے لیکن میں تمہارے اس بے صبرے بھائی کا کیا کروں ۔۔۔۔ اسے جلدی ہے بہت کہ آج ہی جائیں ” مشال بیگم نے کہا تو نیلم کا جاندار قہقہہ گونجا تھا
“ہائے بیچارہ۔۔۔۔۔ چلیں جائیں معاف کیا ۔۔۔۔ آپ لوگ آج ہو آئیں لیکن اس کے بعد میں لازمی جاؤں گی اچھا ۔۔۔۔ ویسے بھی حرا تو میرے ساتھ ہی ہو گی یونی میں تو آپ لوگ چلیں جائیں پھر۔۔۔۔۔ لیکن میٹھائی لے کر آنا اچھا میرے حصے کی ” نیلم مسکراتے ہوئے کہ کر باہر نکل گئی تھی جبکہ مشال بیگم اس کے رویہ پہ مسکرائی تھیں
“اللہ میری بیٹی کے بھی نصیب کھولے۔۔۔۔ اور نیک گھر کی کرے امین ” مشال بیگم نے نیلم کے لیے دل سے دعا کی تھی انہیں کیا پتہ تھا کہ ان کی یہ دعا جلد پوری ہونے والی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ یونی پہنچے تو اسامہ کا تو مانو خوشی سے برا حال تھا ۔۔۔ ارقم اسے خوش ہوتا دیکھ حیران تھا
“کمینہ انسان۔۔۔۔ ہمارے سامنے نیلم کو پسند کرتا پھرتا ہے اور لائبہ کے ساتھ رشتے کی بات ہوئی تو خوشی دیکھو زرہ اس خبیث کی ” ارقم بڑ بڑایا تھا
“کیا کہ رہا ہے ؟؟؟؟” غازیان نے ارقم کو خود سے باتیں کرتا دیکھ پوچھا تھا
” میں اس ڈنگر کا سوچ رہا ہوں کہ اس میسنے کو ہوا کیا ہے آخر ؟؟؟” ارقم نے کہا تو غازیان چونکہ تھا اس کی بات سے
“کیوں کیا کیا اس نے ؟؟؟” غازیان کو ابھی تک نہیں بتایا گیا تھا
“تجھے نہیں پتہ ؟؟؟؟ ” ارقم نے غازیان سے پوچھا تو وہ سر نفی میں ہلا گیا تو ارقم نے کل کی ساری بات اس کے گوش گزار کر دی جس پہ اب غازیان بھی حیران تھا اور اسامہ کی طرف دیکھا تھا جو کہ مزے سے لیز کھا رہا تھا
دونوں کو خود کو گھورتا پا کر اسامہ پہلے تو نظر انداز کر گیا لیکن جب مسلسل وہ دونوں اسے گھورتے رہے تو اسامہ جھنجھلایا تھا
“کیا مسلہ ہے تم دونوں کو ؟؟؟” اسامہ چڑ کر بولا تھا
“تجھے زرہ شرم نہیں آتی اسامہ؟؟؟؟؟؟؟ تو ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟ تو ارقم کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟؟؟؟” غازیان نے سنجیدگی سے اسے کہا تو اسامہ نے حیرت سے ارقم کی طرف دیکھا تھا جو کہ معصوم شکل بنائے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
“یار ایسی معصوم شکل نا بنا میرا ہاسا نکل جائے گا ” اسامہ کہتے ہی ہنس پڑا تھا جبکہ غازیان اور ارقم کو وہ پاگل لگا تھا
“یار اب ایسے تو نا دیکھو مجھے لو ٹھونس لو یہ باقی کے چیپس تم لوگ ۔۔۔۔ پتہ ہے مجھے تم لوگوں سے کسی کا پیٹ بھرتا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔ کھا لے تو۔۔۔ یہ نا ہو میرا پیٹ خراب ہو جائے ” اسامہ کو لگا تھا کہ وہ اکیلا چپس کھا رہا تو تبھی غازیان نے اس پہ چوٹ کی تبھی اسامہ نے اپنا پیکٹ ارقم کے ہاتھ میں پکڑایا اور خود کلاس کی طرف چلا گیا تھا جبکہ ان دونوں کو اسامہ کے پاگل ہونے کا پورا پورا یقین ہو گیا تھا
“یار یہ سچ میں پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ ابھی تو صرف رشتہ لے جانے کی بات ہوئی ہے اور یہ صاحب پاگل ہو گئے ہیں۔۔۔ اگے کیا ہو گا اس گا۔۔۔۔۔۔ ہائےےےے میری لابو ۔۔۔۔ ” ارقم نے دکھ سے کہا تو غازیان اس کے حالت سے محضوظ ہوا تھا
“یار ویسے ۔۔۔۔۔۔ اسامہ اور لائبہ اچھے لگیں گے نا ساتھ ” غازیان نے ارقم کو چڑانا چاہا تھا اور ارقم کی طرف سنجیدگی سے دیکھا تھا لیکن ارقم کے خون خوار تاثرات سمجھ کر غازیان وہاں سے بھاگ نکلا تھا اور ارقم اس کے پیچھے پیچھے پوری یونی میں دونوں گھوم رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا نے کل شام کو ہی منان سے ہوئی بات کے بارے میں آسیہ بیگم کو بتایا تھا اور پہلے انہیں اعتماد میں لیا تھا پھر جا کر ایمن سے بات کرنے کا سوچا لیکن آسیہ بیگم کو اس رشتے سے کوئی اعتراض نا تھا منان اچھا لڑکا تھا جسے وہ اپنی ایمن کا خوشی خوشی رشتہ کر دیتی اور سب سے بڑی بات کہ وہ اسی محلے میں ان کے سامنے بھی ہوگی اور منان کی پسند کا سن کر انہیں سکون ملا تھا کہ ایمن سکھی رہے گی انشاءاللہ
حرا آسیہ بیگم سے بات کرنے کے بعد ایمن کے پاس آئی تھی اور اس سے منان کے بارے میں پوچھنا چاہا تھا
اب چونکہ منان اور اس کے گھر والوں کے آنے کا وقت ہو رہا تھا تو ایمن پریشان سی بیٹھی کل حرا کی کہی باتیں یاد کر رہی تھی
“آپی منان بھائی بہت اچھے ہیں آپ خوش رہو گی انشاءاللہ ۔۔۔۔۔ آپ کیوں ان سے بات نہیں کرتی اگر وہ کوئی غلط لڑکے ہوتے تو کبھی بھی آپ کے لیے رشتہ نا بھیجتے کبھی اپنی پسند کے بارے میں گھر بات نا کرتے ۔۔۔۔ لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا ایسا۔۔۔۔ میں روز ان کے ساتھ یونی جاتی ہوں کبھی بری عادت نہیں دیکھی میں نے ان میں ۔۔۔۔۔ آپ ایک بار ان پہ یقین تو کر کے دیکھیں آپی۔۔۔۔ ” حرا نے ایمن کو اچھا خاصا منان کے بارے میں اسے بتا کر مطمئن کیا تھا لیکن پھر بھی ایمن نا جانے کیوں ڈرتی تھی
“آپی جو بھی بات یا مسلہ ہے آپ مجھے بتائیں نا پلیز۔۔۔۔” حرا نے ایمن سے انکار کی وجہ پوچھنا چاہی تھی
“حرا میں ڈرتی ہوں کہیں منان بھی اگر ابا کی طرح نکلا تو ؟؟ اگر میری بھی بیٹی ہوئی اور اگر اس نے اسے نا اپنایا تو ؟؟؟ میں کدھر جاؤں گی حرا ۔۔ امی نے تو صبر کر لیا لیکن میں کیا کروں گی ؟؟؟ میں ڈرتی ہوں حرا اگر وہ بھی غلط نکلا تو ؟؟؟؟ آخر کو ہے تو وہ بھی ایک لڑکا نا ۔۔۔۔ اگر اس نے مجھے قبول نا کیا تو ؟؟؟؟؟؟ اس لیے میں شادی نہیں کرنا چاہتی منان سے کیا کسی سے بھی نہیں۔۔۔۔۔ میں یہ سب برداشت نہیں کر پاؤں گی حرا امی کی طرح بہادر نہیں ہوں میں ” ایمن نے روتے ہوئے کہا اور حرا کے گلے لگی تو حرا کے بھی آنسو نکلے تھے آخر کو ان کے سامنے حسن صاحب کی ہی مثال تھی
“دیکھیں آپی ضروری تو نہیں نا کہ ہر مرد ایک جیسا ہو۔۔۔ آپ لائبہ کے پاپا کو ہی دیکھ لیں وہ کتنا پیار کرتے ہیں اپنی بیٹیوں سے ۔۔۔ اور جہاں تک منان بھائی کی بات ہے مجھے نہیں لگتا کہ منان بھائی کی اس طرح کی سوچ ہو گی ۔۔۔۔۔ اور اولاد تو اللہ کی دین ہوتی ہے نا ۔۔۔۔۔۔ جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے اللہ وہی کرتا ہے۔۔۔۔ ہمیں نا امید ہو کر ایسے تھوڑی بیٹھنا چاہیے۔۔۔ اور جہاں تک شادی کی بات ہے وہ تو آپ کو منان بھائی سے کرنا ہی ہو گی۔۔۔ دیکھے بھالے ہیں اگر کچھ کہا نا انہوں نے آپ کو تو بتانا ہمیں ہم سیدھا کر دیں گے انہیں ” حرا نے ایمن کو سمجھایا اور پھر آخر میں شرارت سے کہا تھا جس پہ ایمن مسکرا دی تھی
کل کی باتیں یاد کرتی ایمن مسکرائی تھی اور تبھی آسیہ بیگم کمرے میں آئی تھی اس کے پاس
“ارے واہ اکیلے میں مسکرایا جا رہا ہے ” آسیہ بیگم نے اسے تنگ کیا تھا
“کچھ نہیں امی وہ۔۔”
“اچھا اچھا بس ۔۔۔۔ ساری باتیں چھوڑو اور چلو باہر آگئے ہیں مہمان آجاؤ شاباش ” آسیہ بیگم اسے کہتی اس کے سر پہ پیار کرتی باہر چلی گئی تھی جبکہ ایمن بھی خود کو کمپوز کرتی اپنا ڈوپٹہ سر پہ ٹکایا اور باہر آ گئی تھی جہاں کوئی اس کے آنے کا شدت سے انتظار کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمن باہر لاؤنج میں آئی اور سب کو سلام کرتی مشال بیگم کے پاس جا بیٹھی تھی جبکہ منان سے نظریں ملانے کی ہمت اس نے نہیں کی تھی اور منان صاحب تھے کہ اس سے نظریں ہٹا نہیں پا رہے تھے
“بہن آپ لوگوں کو ہمارے یہاں آنے کا مقصد تو پتہ ہی ہو گا ۔۔۔۔ ہم آپ کی بیٹی ایمن کو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ اور آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اسے کوئی بھی تکلیف میں نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ ایمن میری بیٹی بن کر ہمارے گھر میں آئے گی۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے آپ لوگ ہمیں مایوس نہیں ہونے دیں گے ” حامد صاحب نے احترامً آسیہ بیگم اور غزالہ بیگم سے رشتہ مانگا تھا اور آسیہ بیگم کو اور چاہیے بھی کیا تھا ۔۔۔۔ گھر بیٹھے اتنا اچھا رشتہ وہ چاہ کر بھی اسے گنوانا نہیں چاہتی تھی
“جی ہمیں منظور ہے ۔۔۔۔ آج سے ایمن آپ کی ہوئی ” آسیہ بیگم نے پہلے غزالہ بیگم کی طرف دیکھا تھا اور پھر ایمن کی طرف دیکھا تو اس رشتے کے لیے ہاں کر دی تھی جبکہ ایمن کا دل زور زور سے دھڑکا تھا
“بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔۔۔ بس ہم اسے جلد سے جلد اپنے گھر لے جانے آئیں گے ” مشال بیگم نے میٹھائی اٹھائی تھی اور پھر باری باری سب کا منہ میٹھا کروایا تھا
ایمن اس سارے قصے میں کچھ بھی نا بولی تھی اسے کہنے لائق چھوڑا ہی کہاں تھا منان نے ۔۔۔۔ اس کے انکار کے باوجود منان نے رشتہ بھیجا تھا تو وہ انکار نا کر سکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کے یونی سے آنے کے بعد سارے اکٹھے پہلے لائبہ کے گھر گئے تھے
لائبہ تو سب کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی
“یہ کیا تم سب یہاں؟؟؟؟” لائبہ جو عام سے ڈریس میں لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھی سب بڑوں کو اپنے گھر میں آتا دیکھ چونکی تھی
ارم بیگم نے اسے بتایا بھی تھا کہ شام میں کچھ لوگ آ رہے ہیں لیکن لائبہ کو یہ اندازہ نا تھا کہ وہ مہمان یہ سب ہوں گے اور وہ بھی اتنی جلدی آ گئے
لائبہ نے سب بڑوں کو سلام کیا اور پھر حرا کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی
“کمینی مجھے بتا ہی دیتی کہ تم لوگ آ رہے ہو۔۔۔ میں تیار ہو جاتی کچھ۔۔۔” لائبہ شرماتے ہوئے بولی تھی اسے یہ اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ سب بڑے آئے تو رشتہ لے کر ہیں لیکن ارقم کا نہیں اسامہ کا۔۔
جو کہ اب تھوڑی ہی دیر میں راز فاش ہونے والا تھا
“یار مجھے خود نہیں پتہ تھا۔۔ یونی سے واپس آئی تو بتایا امی نے ۔۔۔۔ اور پتہ کیا۔۔۔ اب یہاں سے ہم نیلم کی طرف بھی جائیں گے ” حرا نے لائبہ پہ ایک اور بم پھوڑا تھا
“کیااا سچییی۔۔۔ واہ یار کتنا اچھا ہوا نا ” لائبہ کی خوشی دیدنی تھی بے شک وہ ارقم کو پہلے پسند نہیں کرتی تھی لیکن جب سے ان کی یونی شروع ہوئی تھی اسے ارقم سے ایک الگ ہی لگاؤ ہوا تھا ۔۔۔۔ لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ ارقم نہیں بلکہ اسامہ اس کی قسمت میں لکھا تھا
سب بڑے لاؤنج میں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ بچے ایک طرف کونے میں بیٹھے تھے جہاں سے سب بڑوں کی آوازیں باآسانی ان تک پہنچ رہی تھیں
“فاروق صاحب ہم یہاں آپ کے پاس بہت امید سے آئے ہیں۔۔۔۔ امید ہے آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے ۔۔۔۔ ” ابراہیم صاحب نے بات شروع کی تھی
“جی جی ابراہیم صاحب بتائے کیا بات کرنی ہے ” فاروق صاحب کو کچھ کچھ سمجھ آ رہی تھی
“دیکھیے ہم یہاں آپ کی بیٹی لائبہ کا رشتہ مانگنے آئے ہیں اپنے بیٹے کے لیے “
ابراہیم صاحب نے جب رشتہ مانگا تو اسامہ چونکہ تھا
“یہ ابا کیا کر رہے ہیں۔۔۔ جاوید ماموں کو تو بولنے دیے۔۔۔ یہ ان کی لائنز ہیں ” اسامہ حیران تھا
“جی نہیں بیٹا یہ آپ کے ابا حضور کی ہی لائنز ہیں ” ارقم نے اسے چوٹ کی تھی
“کیااا ؟؟؟ لیکن لائبہ کا تو تیرے ساتھ ” اسامہ اتنا کہ کر چپ ہوا تھا جب مریم بیگم ایک دم بولی تھی
“ارم مجھے لائبہ بہت پسند ہے اپنے بیٹے اسامہ کے لیے۔۔۔۔میں اسے اپنے گھر کی بہو بنانا چاہیتی ہوں ” مریم بیگم کی بات سن کر گویا اسامہ پہ پہاڑ آ گرا تھا
“یہ یہ کیا کہ رہی ہیں امی ؟؟؟؟؟” اسامہ صدمے سے بولا تو غازیان اور ارقم چونکہ تھے
“تو اتنا حیران کیوں ہو رہا ہے ؟؟؟؟ تو نے ہی ہاں کی تھی کہ اپنے اور لائبہ کے لیے ” غازیان نے کہا
“نہیں یار۔۔۔۔ مجھے لگا تھا امی نیلم کا کہنے آئی ہیں۔۔لائبہ کا تو میں نے سوچا تک نہیں کبھی ” اسامہ نے کہا تو ارقم کی جیسے جان میں جان آئی تھی
“اللہ تیرا شکر۔۔۔ لائبہ صرف میری ہے ” ارقم کے منہ سے بےاختیار نکلا تھا اور جب سامنے دیکھا تو اسامہ اور غازیان اسے ہی گھور رہے تھے
“شرم کر۔۔۔ ابھی میرا مسلہ تو سلجھاؤ پہلے ۔۔۔۔ تجھے اپنی پڑی ہے ” اسامہ چڑ کر بولا تھا
“یار اب کیا ہو سکتا ہے دیکھ ادھر میٹھائی بھی بٹ گئی ہے ” غازیان نے ان کی توجہ اب لاؤنج کی طرف دلوائی تھی تو اسامہ اور ارقم نے ایک دوسرے کو دکھ سے دیکھ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ کے کانوں میں جب یہ بات پڑی کہ اس کے لیے رشتہ ارقم کا نہیں بلکل اسامہ کا آیا ہے لائبہ کا تو مانو غصے سے برا حال تھا
“بیڑا تر جائے تیرا ارقم۔۔۔۔۔۔ تم پہلے نہیں بول سکتے تھے اپنے گھر والوں کو۔۔۔ اسامہ نے بھیج دیا پہلے۔۔۔ ویسے اب نیلو کا کیا ہو گا حرا وہ تو اسامہ کو پسند کرتی ہے نا ۔۔۔ مجھے کچا چبا جائے گی یہ سن کر ” لائبہ پریشانی سے حرا کو بولی تھی جس پہ حرا کا قہقہہ گونجا تھا
“تو کیوں ہنس رہی ہے یار ۔۔۔۔ بہت عجیب سچویشن ہے ” لائبہ کمرے میں اپنے بیڈ پہ بیٹھی تھی اور اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا
“ویسے ابھی تھوڑی دیر بعد یہی حال نیلم کا بھی ہونے والا ہے ” حرا نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟” لائبہ نے چونک کر حرا کو دیکھا
“مطلب یہ کہ اب ہم نیلم کی طرف جائیں گے ارقم کا رشتہ لے کر ” حرا نے کہ کر اب لائبہ کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھے تھے جہاں پریشانی کے بجائے اب غصہ تھ
“کمینہ۔۔۔ میسنا کہیں کا۔۔۔ ارقم تمہیں تو میں نے نہیں چھوڑنا اب۔۔۔۔ مزاق میرے ساتھ اور رشتہ بھیج دیا نیلم کے گھر۔۔۔ اچھا نہیں کیا تم نے ” لائبہ بڑ بڑائی تھی
“کیا کہ رہی ہو ؟؟؟” حرا کو کچھ سمجھ نا آئی تھی
“کچھ نہیں اب دیکھو بس تم میں کیا کرتی ہوں ” لائبہ نے کہا تو حرا مسکرائی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ کے گھر سے فارغ ہو کر اب نیلم کے گھر جانے والے تھے کہ ارقم نے ایک اپنی سی کوشش کی تھی کہ شاید مومنہ بیگم سمجھ جائیں اس کی بات اور رشتہ نا لے کر جائیں اس کا نیلم کے لیے اس لیے وہ بڑے مزے سے آیا تھا مومنہ بیگم کے پاس
“امی۔۔۔ چلیں نا گھر چلتے ہیں پھر کبھی چلے جائیں گے اس کی طرف کہیں بھاگی تھوڑی جا رہی ہے وہ۔۔۔ بعد میں جائیں گے صحیح ہے ؟؟؟” ارقم نے معصوم سی شکل بنائے مومنہ بیگم کو کہا تھا جبکہ مومنہ بیگم کو اس کے کہنے پہ ہنسی آئی تھی
“بیٹا جی یہ کوئی گڈاگڑیا کا کھیل نہیں ۔۔۔۔ ان کو اپنے آنے کا کہ چکے ہیں ہم۔۔۔ ہم آخر وقت پہ انکار نہیں کر سکتے اور تمہیں کیا مسلہ ہے ۔۔۔ بہت تھکے ہوئے ہو نا تو جاؤ گھر اور سو جاؤ ویسے بھی تمہارا جانا ضروری نہیں ہے ” مومنہ بیگم نے اسے اچھا خاصا جھڑک دیا تھا جس پہ ارقم نے گھور کر اب اسامہ اور غازیان کو دیکھا تھا جو کہ اسے ہی دیکھ رہے تھے
“اچھا ہم نہیں جا رہے اب ادھر آپ لوگ جائیں ” ارقم مومنہ بیگم سے کہ کر اسامہ اور غازیان کے ساتھ گھر آ گیا تھا وہاں جانے کی کسی کی بھی ہمت نا تھی
“کیا یار میں کتنا خوش تھا کہ میری شادی نیلم سے ہو گی ” اسامہ اپنے بیڈ پہ اداس بیٹھتا کہنے لگا
“ہمممممم کچھ تو کرنا پڑے گا ” غازیان کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا
“ایک آئڈیا ہے میرے پاس ” ارقم خوش ہوتے ہوئے بولا تو اسامہ اور غازیان نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا کہ ارقم صاحب کے آئیڈیے کبھی سہی ثابت نا ہوئے تھے لیکن ایک بار سننے میں کیا حرج
“جی فرمائیں ” دونوں ایک ساتھ منہ کے زاویے بگاڑتے بولے تھے
“وہ نا میں کیا سوچ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔” ارقم نے بات ادھوری چھوڑ کر ان دونوں کو باری باری دیکھا
“کہ ؟؟؟؟؟” دونوں یک دم بولے
“کیوں نا ہم نیلم اور لائبہ سے بات کریں کیا پتہ وہ بھی ہمیں پسند کرتی ہوں اور اس رشتے سے خوش نا ہوں .؟ کیسا ” ارقم اپنا آئیڈیا بتاتے ہی ایسا خوش ہوا تھا کہ اپنے سارے دانتوں کی نمائش کرتا اسامہ اور غازیان کی طرف اپنے ہاتھ کیے تھے جبکہ وہ دونوں اس کا آئیڈیا سنتے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے
“کمینوں تالی ہی مار دو کب سے ہاتھ پھیلایا ہوا ہے ” ارقم انہیں کہتا ہوا خود ہی ان کے ہاتھ اگے کرتا زبردستی تالی ماری تھی
ارقم صاحب کے بھی انوکھے ہی کام ہوتے تھے
“ہمممممم ویسے آئیڈیا کچھ اچھا تو ہے لیکن کیا لڑکیاں اتنی آسانی سے ہمیں بتا دیں گی کہ وہ ہمیں پسند کرتی ہیں ؟؟؟ اور اگر ایسا نا ہوا تو ؟؟؟؟؟” اسامہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا جس پہ ارقم اور غازیان سوچ میں پڑے تھے
“میں حرا سے بات کر کے دیکھتا ہوں۔۔۔ اسے پتہ ہو گا لازمی اگر ایسا کچھ ہوا تو “غازیان نے کہا تو ان دونوں کو جیسے اپنا مسلہ حل ہوتا ہوا دکھائی دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب بڑے جب نیلم کے گھر پہنچے تو نیلم کو باہر لاؤنج میں نا آنے دیا گیا تھا وہ اور حرا دونوں اندر کمرے میں تھیں اور حرا نیلم کو اپنے آنے کی وجہ بتا رہی تھی
نیلم شرمانے لگی تھی
“ارے واہ اسامہ ۔۔۔۔ اتنے بہادر نکلے تم کہ مجھ سے بات کیے بغیر ہی تم نے رشتہ بھیج دیا واہ اللہ جی واہ ” نیلم اوپر دیکھ اللہ کو پکار رہی تھی جبکہ حرا نیلم کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھی
“یہ اتنی خوشی کس بات کی ہو رہی ہے۔۔ خیریت تو ہے نا جناب ارقم سے شادی کی اتنی خوشی ” نیلم جو خوش بیٹھی اسامہ کا رشتہ آنے کا سمجھ رہی تھی حرا نے اس پہ پانی پھیر دیا تھا جسے سن کر اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی
“یہ کیسا مزاق ہے حرا ؟؟؟؟فضول مزاق مت کرو . ” نیلم کو ابھی حرا کے اس بے تکے مزاق پہ غصہ آیا تھا اسے لگا تھا کہ حرا مزاق کر رہی ہے
“یہ مزاق بلکل بھی نہیں ہے نیلم ۔۔ ہم یہاں ارقم کا رشتہ لے کر آئے ہیں تمہارے لیے۔۔۔ اسامہ اور لائبہ کا ابھی پکا کر کےآئے ” حرا نے تو گویا دو دو بم گرائے تھے نیلم پہ
“نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اسامہ اسامہ کا رشتہ لائبہ سے۔۔۔۔ یہ یہ میں نہیں ہونے دوں گی حرا۔۔۔ میں میں پسند کرتی ہوں اسامہ کو۔۔۔ وہ کیسے لائبہ کو ؟؟؟ نہیں نہیں حرا۔۔۔ ہمیں کچھ کرنا ہو گا پلیز۔۔۔۔ پلیز میری مدد کرو حرا ” نیلم بڑبڑائی تھی آنکھوں میں ایکدم یی مرچیں سی لگی تھی اور بھر ایک ایک کر کے آنسو بہہ نکلے تھے
“شش بس بس نیلم۔۔۔۔۔ ہم کچھ کرتے ہیں ۔۔۔ لائبہ ارقم کو پسند کرتی ہے ۔۔۔ وہ نہیں کرنا چاہتی اسامہ سے شادی ۔۔۔۔۔ تو ہمیں ٹھنڈے دماغ سے اس کا حل سوچنا ہے نیلم ریلیکس میری جان بس چپ سب ٹھیک ہو جائیگا ” حرا نے نیلم کو خود کے ساتھ لگاتے ہوئے تسلی دی تھی تو حرا کے الفاظ سن کر نیلم بھی کچھ پرسکون ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم کے گھر بھی رشتہ ڈالا گیا تھا اور رشتہ قبول بھی کر دیا گیا تھا آخر کو دیکھے بھالے لڑکے تھے اور سب سے بڑی بات کہ ان کی بیٹیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گی ۔۔۔۔۔۔ زیادہ مطمئن وہ لوگ اس بات سے تھے کہ لڑلے انہیں پسند بھی کرتے تھے اور لڑکیاں بھی انہیں بچپن سے جانتی تھی تو انکار کی تو گونجائش ہی نہیں تھی اس لیے لڑکیوں سے پوچھے بغیر ہی رشتے کے لیے ہاں کر دی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائستہ بیگم اور ہارون زارون تینوں لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دم شائستہ بیگم کو ان کی دوست زارا کی کال آئی
“ہاں زارا کیسی ہو ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔ اچھا چلو ٹھیک ہے اوکے بائے ” شائستہ بیگم نے چہکتے ہوئے فون بند کیا تھا جبکہ ہارون زارون کو تجسس ہوا تھا
“کس کی کال تھی امی ؟؟؟؟” زارون نے پوچھا تھا
“وہ میری دوست ہے نا زارا ۔۔۔۔ اس کے گھر آج پارٹی ہے۔۔۔ ہائےےے اتنے عرصے سے کوئی پارٹی اٹینڈ نہیں کی تھی آج تو مزہ آجائے گا ” شائستہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا اور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی تھیں
“امی کیا آج ہم بھی چلیں آپ کے ساتھ ؟؟؟” زارون نے کہا
“نہیں تم لوگوں کا کیا کام ہے ادھر ؟؟؟ کیا کرو گے جا کر ایویں میرا ہی پارٹی خراب کرو گے کہ گھر چلیں ہم بور ہو رہے ہیں ” شائستہ بیگم منہ مسورتے ہوئے بولی
“امی نہیں کہیں گے ہم کچھ بھی پکا۔۔۔ پلیز لے جائیں نا آخر ہم بھی تو دیکھیں آپ کی پارٹی ” ہارون نے منت کی
“اور اور وہ نا امی وہاں تو زارا آنٹی کا بیٹا بھی تو ہو گا نا وہ ۔۔۔۔ فائق بھائی ” زارون نے فوراً وہاں جانے کا جواز رکھا تو آخر شائستہ بیگم بھی مان گئی تھی جس پہ وہ دونوں خوش ہوئے تھے اور پھر اپنے اپنے کمروں میں تیار ہونے چلے گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا جب گھر آئی تو اسے غازیان کہیں بھی نظر نا آیا تھا۔۔۔ حرا کچھ پریشان بھی ہوئی تھی کہ آخر غازیان کہاں گیا اتنی دیر سے وہ غائب تھا ۔۔۔۔ اور اب تو رات ہو گئی تھی
“شاید وہ ارقم اسامہ کے ساتھ ہو ؟؟؟ لیکن
ارقم تو مجھے دکان پہ جاتا ہوا دکھا تھا پھر وہ کہاں ؟؟؟؟ ” حرا اپنے بیڈ پہ بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ ایک دم اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور غازیان کو اندر آتا ہوا پایا
“کہاں تھے تم ؟؟؟” حرا بیڈ سے اٹھتی ہوئی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی
حرا کے اس انداز پہ غازیان مسکرایا تھا
“بیگم صاحبہ آپ ہمیں یاد کر رہی تھیں ؟؟؟” غازیان بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولا تھا
“ہاں تم کہاں تھے مجھے بات کرنی تھی تم سے” حرا غازیان کی بات سمجھے بغیر بولی تھی
“وہ میں اپنے دوست سے ملنے گیا تھا تم کہو کیا بات ہے ؟ ” غازیان کے کہنے کی دیر تھی کہ حرا کو ایک دم لڑکی کا خیال آیا تھا
کاش وہ اس سے پوچھ سکتی.
جاری ہے
