Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18
ایک ماہ گزر چکا تھا اور غازیان بھی کافی حد تک ٹھیک ہو چکا تھا ۔۔۔ ہاتھ اور پاؤں سے پٹیاں اتر چکی تھی اور غازیان نے اب تھوڑا بہت چلنا بھی شروع کر دیا تھا
صبح حرا کی آنکھ کھلی تو غازیان شیشے کے سامنے کھڑا اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا
حرا نے ایک نظر اسے پھر سامنے دیوار پہ لگی گھڑی کو دیکھا جہاں آٹھ بجنے والے تھے وہ ایک دم اٹھ بیٹھی تھی
“ہائے اللہ !! مجھے دیر ہو گئی …” حرا کہتے ہوئے بیڈ سے اٹھی
“آرام سے آرام سے۔۔۔ اتنی بھی دیر نہیں ہوئی اب ” غازیان نے حرا سے کہا تھا جو کہ تیزی سے بیڈ سے اٹھی تھی
“تم تو مجھ سے بات ہی مت کرو نا۔۔۔” حرا اپنے کپڑے نکالتے ہوئے بولی تھی
“ہوووووو لیٹ تم اٹھی ہو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟؟؟”
“تمہارا ہی قصور ہے۔۔۔ خود تو جلدی اٹھ کر تیار ہو گئے ہو مجھے کیوں نہیں اٹھایا ؟؟؟ “
“یار وہ اصل میں ۔۔۔۔۔” غازیان حرا کر پاس آتے ہوئے بولا
“وہ کیا ہاں ؟؟؟” حرا غصے سے پھنکاری تھی
“وہ نا تم اتنی معصوم لگ رہی تھی نا سوتے میں تو بس تمہیں اٹھانے کا دل نہیں کیا ” غزیان حرا کے قریب آیا اور حرا کے چہرے پہ آتے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے اڑساتے ہوئے کہا
“کیا مطلب معصوم لگ رہی تھی ؟؟؟ ویسے نہیں لگتی کیا؟؟؟” حرا نے آنکھیں تیزی سے جھپکاتے مسکراتے ہوئے معصوم بننے کی ناکام کوشش کی تھی
“نہیں نا یار۔۔۔ ویسے تم جنگلی بلی لگتی ہو ۔۔” غزیان اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا
“یہ کیا تم مجھے ہر وقت آنکھ مارتے رہتے ہو۔۔ تمیز کرو کچھ ” اس نے اسے تمیز دلانی چاہی
“کیوں تمیز کروں بھئی ۔۔۔ بیوی ہو میری ۔۔۔ تمہیں آنکھ نا ماروں تو کیا لائبہ اور نیلم کو ماروں ؟؟؟” غازیان نے حرا کو تنگ کرنا چاہا
“دفع ہو جاؤ ۔۔ ایسا سوچنا بھی مت اور ۔۔۔ ہٹو نا آگے سے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے۔۔۔ خود تو تیار ہو گئے ہو اب مجھے بھی ہونے دو ” حرا نے غازیان کو پیچھے کرنا چاہا تھا لیکن غازیان نے اسکی حرکت ناکام کی تھی
“جلنے کی بووو آرہی ہے کہیں سے ” اس نے شرارت سے کہا حرا کا ہاتھ ہنوز اسی کے ہاتھ میں تھا
“نہیں مجھے تو نہیں آرہی ” حرا نے سونگھتے ہوئے بولا
“آرہی ہے نا یار تمہارے پاس سے ” غازیان نے کہا تو حرا کو سمجھ آئی تھی اور جیسے ہی اسنے غازیان کے پاس سے ہلنا چاہا تھا اسے اپنے اور غازیان کی نزدیکی کا احساس ہوا تو نظریں جھکا گئی
حرا کو ایسے شرماتا دیکھ غازیان مسکرایا کبھی کبھی یہ لڑکی واقعی اسکا دل دھڑکا دیتی تھی خاص کر جب وہ ایسے نظر جھکاتی تھی
“ہائےےے کیا لگتی تھی “
غازیان نے دھیرے سے اپنے لب اس کے ماتھے پہ رکھے تھے جبکہ حرا کا دل الگ ہی لے پر دھڑکا تھا حرا نے اپنی آنکھیں بند کی ہی تھیں کہ کمرے کا دروازہ زور زور سے بجا تھا۔۔ حرا اچھل کے پیچھے ہٹی تھی اور غازیان نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑا تھا ۔ حرا فوراً بھاگ کر باتھ میں چلی گئی تھی جبکہ غازیان دروازے کی طرف بڑھا تھا
“کمینے !!! اتنی دیر سے دروازہ بجا رہا ہوں ۔۔۔دیر ہو گئی ہے چلنا نہیں ہے ؟؟ اور اور یہ حرا کہا ہے” ارقم ان نے کمرے میں آتے ہوئے بولا
“ہائےےے کیا حال کر دیا ہے میرے کمرے کا اففففف۔۔۔ بھائی اب تیری ٹانگ ٹھیک ہو گئی ہے نا بس تو جا واپس اوپر اپنے کمرے میں۔۔۔ ہائےےے میرا کمرہ۔۔۔۔ اتنا یاد آتا ہے ” ارقم بیڈ پہ بیٹھے ہوئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا اور کمرے پہ چوٹ کی تھی جہاں بیڈ پہ صرف غازیان کے کپڑے پڑے تھے اور اسے کمرہ گندہ لگ رہا تھا
” اووو بھائی زبان پہ بریک لگا لے۔۔ مجھے بھی تو بولنے دے خبیث ” غازیان چڑ کے بولا
“ہاں ہاں پتہ ہے مجھے کیا بکواس کرنی ہے تجھے۔۔۔ تجھے نا اصل میں میرا کمرہ کچھ زیادہ ہی پسند آگیا ہے شاید ۔۔۔۔۔ آخر کمرہ کس کا ہے ” ارقم نے اپنے فرضی کالر جھاڑے تھے
“او بھائی ابھی میں سیڑھیاں نہیں چڑ سکتا “
“ہاں تو جہاں تک تیرے اوپر جانے کی بات ہے تو فکر نا کر حرا ہے نا تجھے گود میں اٹھا کر لے جائے گی اوپر۔۔۔ سوچ زرہ ” ارقم نے حرا کی طرف دیکھا جو باتھ سے باہر آرہی تھی اسے کہا تو تینوں نے وہ سین سوچا تھا کہ کیسے حرا غازیان کو اٹھا کر اوپر جا رہی ہو گی
“استغفراللہ!!” حرا کو تو سوچ کر ہی جھرجھری آئی تھی
“ہا ہا ہا ہا !!! واللہ کیا سین ہو گا نا وہ ” ارقم نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ دونوں بھی مسکرا دیے تھے
“اچھا چل اب دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ حرا جلدی سے تیار ہو کر آجاؤ ہم باہر ویٹ کرتے ” غازیان نے کہتے ہوئے ارقم کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے باہر آیا کہ اگر وہ وہاں اور بیٹھا تو ناجانے اور کیا کیا بول جائے
جبکہ حرا ان دونوں کو باہر جاتا دیکھ مسکرائی تھی
“پوری چیز ہے یہ ارقم بھی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منان کے ساتھ گاڑی میں آگے غازیان بیٹھا تھا جبکہ پیچھے تینوں لڑکیاں بیٹھی تھی اور ارقم اسامہ بایک پہ آئے تھے
اسامہ نے اتنے عرصے بعد آخر اپنی بائک کو صحیح کروا ہی لیا تھا جس پہ اسے کافی طنز بھی سننے کو ملے تھے سب سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد وہ سارے یونی پہنچے تھے اور منان کے ہمراہ چلتے ہوئے اپنے بی بی اے ڈپارٹمنٹ کی طرف گئے پھر اپنی کلاس میں جا کر کونے والی چیئرز پہ جا بیٹھے تھے
کلاس سٹارٹ ہوچکی تھی اور اب سب کا انٹرو چل رہا تھا
پہلے سر نے اپنا انٹرو دیا اور پھر باری باری سب سٹوڈنٹس کے بارے میں پوچھا تھا
“کلاس آج چونکہ آپ لوگوں کا پہلا دن ہے تو آج صرف انٹرو ہی ہو گا پڑھائی انشاءاللہ اگلی کلاس سے شروع ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ تو اب انٹرو تو ہو گیا ہے۔۔۔ اب آپ لوگ بتائیں کچھ ۔۔۔۔ یہ بتائیں کہ آپ لوگ کارٹون دیکھتے ہیں ؟؟” سر کا موڈ آج شاید گپیں لگانے کا تھا جو کہ ان چھے لوگوں کی طرح کے ہی لگ رہے تھے خوش شکل اور باتونی
“ہاں جی تو آپ اس سوال کا جواب دیں ” سر نے غزیان کی طرف اشارہ کیا تھا
“سر وہ میں ۔۔۔ کارٹون نہیں دیکھتا ۔۔۔۔ ” غازیان نے کہا تو پوری کلاس میں قہقہہ گونجا تھا سب اس کی بات پہ ہنسے تھے
“جھوٹا کہیں کا !!!! ہر وقت تو کارٹون دیکھ رہا ہوتا ہے اب دیکھ زرا کیسے معصوم شکل بنا کر کھڑا ہے۔۔۔۔ میسنا نا ہو تو ” نیلم نے اپنی طرف سے سرگوشی کی تھی لیکن آواز پوری کلاس میں گونجی تھی جبکہ حرا نے نیلم کو ناگواری سے دیکھا تھا
غازیان نے نیلم کو غصے سے آنکھیں دکھائیں تھی ۔۔۔
“پہلے دن ہی بےعزتی ” غازیان نے نیلم کو دیکھتے ہوئے بولا تو نیلم نے اسے چڑایا تھا
“الووووو۔۔۔۔ تم گھر چلو تمہیں بتاتا ہوں میں ” غزیان نے سوچا تھا کہ اب تو نیلم کی خیر نہیں
جبکہ سر نے غازیان کی بات سن کر اب باقیوں سے سوال کیا تھا اور پھر تھوڑی دیر بعد انہیں فری کر دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری کلاس بھی شروع ہو چکی تھی اور یہاں بھی ان.لوگوں نے اپنے نام اور کام ہی بتانے تھے ۔۔۔۔۔۔ ان چھ کے پاس بس نام ہی بتانے والے تھے کام اتنے اچھے تھے نہیں جو وہ فخر سے بتاتے لیکن خیر بتانے تو تھے ہی
وہ تینوں لڑکے اگلی ہی نشست پر بیٹھے تھے جبکہ لڑکیاں انکے پیچھے بیٹھی تھیں ابھی ان لوگوں نے باتیں شروع ہی کی تھی کہ ایک سر کلاس میں داخل ہوئے تھے شکل سے تو کافی اچھے تھے بالوں کی پونی بنائے ہلکی سی بیئرڈ …. ارقم کو انکے بال پہلی نظر میں بڑے پسند آئے تھے
سب سے پہلے تو انہوں نے اپنا انٹرو دیا تھا جس سے پتا چلا تھا کہ انکا نام افضال خان ہے اور اکاؤنٹنگ کے پروفیسر ہیں.
“ابے ارقم انکی تو شکل دیکھ کر مجھے گندی والی فیلنگز آرہی ہیں”. غازیان نے ارقم کے کان میں سرگوشی کی تھی جبکہ ارقم نے خاصا برا منہ بنا کر اسے دیکھا تھا کیونکہ وہ اسے اچھے لگے تھے اور اس غازیان کو بری فیلنگز آرہی تھی
“استغفراللہ غازی تجھے انکو دیکھ کر بھی فیلنگز آتی ہیں. ” ارقم صاحب کا دماغ کچھ زیادہ ہی چلا تھا
“بکواس نا کر…. مطلب لگ رہا ہے کہ کافی کھڑوس ہوں گے ….” اس نے اپنے کہے کی وضاحت کی تھی جبکہ ان دونوں کی کھسر پھسر سے اب سر انکی طرف متوجہ ہوئے تھے
“جی برخودار آپ … ” اشارہ ارقم کی طرف تھا جو ہڑبڑا کر انکی طرف متوجہ ہوا تھا اور اتنی پیاری مسکراہٹ انکی طرف اچھالی تھی جیسے بچھڑی ہوئی محبوبہ کو بندہ دیکھ کر اچھالے
“جی کافی پیاری مسکراہٹ ہے آپ کی اب کھڑے ہونے کی زحمت کریں اور اپنا تعارف کروائیں…” انکی ہی طرح کے سر ملے تھے غازیان نے واقعی صحیح کہا تھا کافی طنز بھرے انداز میں انہوں نے ارقم کو مخاطب کیا تھا جبکہ پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی گونجی تھی
ارقم جلدی سے کھڑا ہوا تھا
“ارقم نام ہے سر میرا ….. ” اور یہ ارقم صاحب کا انٹرو تھا سر کے پاس بھی شاید کافی وقت تھا جو مسلسل ارقم کو ہی دیکھ رہے تھے
“جی ارقم صاحب آگے ….. ” وہ گندہ پھنسا تھا
“تجھے اللہ پوچھے غازیان تو اگر باتیں نا کرتا نا تو سر مجھ سے اتنے سوال نا کرتے اب آگے کیا بتاؤں؟؟؟” دل ہی دل میں غازیان کو سلواتیں سنائی تھی
“سر اور بی بی اے کرنے آیا ہوں “ایک اور الٹا جواب
“اچھا مجھے لگا آپ یہاں میڈیکل پڑھنے آئے ہیں” ایک اور طنز اب کلاس میں سب کے قہقہے گونجے تھے
“ہی ہی ہی “. اس نے بھی دانت دکھائے تھے ڈھیٹ تو وہ شروع سے ہی تھے
“آپ بھی انکے ساتھ گفت و شنید کر رہے تھے زرا آپ دیں اپنا انٹرو ” اب توپوں کا رخ غازیان کی طرف تھا شاید انہیں اپنی کلاس میں بات کرنے والے پسند نہیں تھے
“جی سر ……
میرا نام غازیان مصطفی ہے ” نام کے علاوہ باقی کچھ تھا ہی نہیں بتانے کو
“دونوں دوست ہو؟؟ ” دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“جی سر یہ بھی ہے ہمارے ساتھ “. انہوں نے اپنے ساتھ ساتھ اسامہ کو بھی گھسیٹا تھا تو ناچار اسے بھی کھڑا ہونا پڑا تھا
“اسامہ سر…..” اسامہ نے جواب دیا تھا وہ جواب ایسے دے رہے تھے جیسے وہ کوئی جانی پہچانی ہستیاں ہوں اور سر انکا نام سن.کر ہی پہچان جائیں گے
“پہلی کلاس ہے میں یہ بات کلیئر کرتا چلوں کہ مجھے اپنی کلاس میں کوئی بھی شور شرابہ نہیں چاہیے آپ لوگ آپس میں کوئی بات نہیں کریں گے جو بات کرنی ہو گی مجھ سے کریں گے …. آئی سمجھ ؟؟”
“یس سر ” ساری کلاس نے جواب دیا تھا
“جی ارقم سمجھ آئی آپکو ؟؟” اب انہوں نے خاص ارقم کو متوجہ کیا تھا
“جی سر !!”. پیاری سی مسکان کے ساتھ جواب دیا تھا
“آپ مسکراتے بہت ہیں اچھا سمسٹر گزرے گا آپکے ساتھ …” اب انہوں نے طنز کیا تھا یا مزاق یہ بات ان میں سے کسی کو سمجھ نہیں آئی تھی پھر ان تینوں کو بیٹھا کر باقی کلاس کا انٹرو ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ ابھی کلاس سے باہر نکلے ہی تھے کہ نیلم ایک دم بولی
“یار بھوک لگی ہے کچھ کھا لیتے ہیں “
“ہاں یار لگی تو مجھے بھی ہے چلو ہم چل کر کھاتے ہیں تم تینوں بھی چل رہے ہو .؟؟” حرا نے ان تینوں سے بھی پوچھا تھا جنہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا
“اچھا ٹھیک ہے ایک اور کلاس ہے جب بھی شروع ہوئی بتا دینا ہمیں “بہت ہی کوئی مشکلوں سے وہ لوگ انسانوں کی طرح بول رہے تھے ورنہ تو اتنی دیر تک ان سب کی لڑائی ہو چکی ہوتی تھی
“ہم نوکر نہیں ہیں تمہارے۔۔۔۔ خودی آجانا ۔۔۔ بڑی آئی ۔۔۔ کلاس سٹارٹ ہو تو بتا دینا ۔۔۔۔ کہ ایسے رہی ہے جیسے کلاس لے کر ٹاپ کرے کی ” ارقم نے لائبہ کو جاتا دیکھ اس کی نکل اتارتے ہوئے کہا
“چھوڑ یار ۔۔۔چل یونی دیکھیں چل کر ” اسامہ نے اب ان کی توجہ یونی کی طرف دلائی تھی
“ہاں ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔ ” ارقم کہتے ہوئے چل پڑا تھا کہ غازیان کی آواز آئی
“کمینوں !!! میں اتنا نہیں چل سکتا ابھی۔۔۔۔ “
“ہاں تو تجھے کون چلنے کو کہ رہا ہے ۔۔۔ میں تو ارقم کو کہ رہا ہوں ۔۔۔ آپ شادی شدہ مرد ہیں کیا کریں گے یونی گھوم کے ؟؟؟؟ اسامہ نے غازیان کو تنگ کرتے ہوئے کہا تھا اور پھر ارقم کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا
“دفع ہو جاؤ خبیثو ” وہ چڑ کہ بولا تھا
“ہا ہا ہا !!! دفع ہی ہو رہے ہیں آپ بیٹھیے ادھر ہی ” ارقم نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا اور پھر وہ دونوں وہاں سے بھاگ نکلے تھے کہیں غازیان انہیں دو تین لگا ہی نا دیتا جبکہ غازیان پاس پڑے بینچ پہ بیٹھ گیا تھا جہاں سے کیفے باآسانی نظر آ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم تیز تیز چلتی ہوئی کیفے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اس کی زور دار ٹکر ہوئی تھی
“ستیاناس … سر توڑ دیا ہے میرا سب ہی اندھے ہو کر چلتے ہیں” بیگ اٹھاتے ہوئے وہ بغیر دیکھے بڑبڑائی تھی
“اہ سوری سوری ” مقابل میں ایک لڑکے کی آواز پہ نیلم نے مڑ کر اسے دیکھا تھا
“اٹس اوکے ” نیلم کہتی ہوئی کیفے میں گھس گئی تھی جبکہ اس لڑکے نے بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا
“نظرو کے راستے دل میں اتر گئی ہیں آپ تو ……بیوٹیفل” احد کی زبان سے ایک دم نکلا تو وہ خود کی اس حرکت پہ مسکرایا تھا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنی کلاس کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوئےےے ایک بات تو بتا ” ارقم کی زبان پہ کھجلی ہوئی تھی
“ہاں بول ” اسامہ نے سنجیدہ ہو کر کہا
“یہ ابھی تو نے غازیان کو کہا کہ وہ شادی شدہ ہے تو وہ وہیں رکے جبکہ ہم دونوں سنگل ہیں تو ہم یونی گھومیں گے اور لڑکیاں دیکھے گے لیکن جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بات ادھوری چھوڑی
“کہ ؟؟” اسامہ نے پوچھا
“یہی کہ دیکھا جائے تو تو سنگل تو نہیں ہے ” ارقم نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا تھا
“کیا مطلب ہے تیرا ؟؟؟ میں سنگل ہی ہوں ” اسامہ نے تصحیح کی
“ہاں پتہ ہے کتنا سنگل ہے تو۔۔۔۔۔۔ نیلم کو چھپ چھپ کے کون دیکھتا ہے ؟؟ ویسے میرا خیال ہے کہ نیلم بھی تجھے دیکھتی ہو گی ” ارقم کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا لیکن اسامہ کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے
“کیا ہوا ہے ؟ یہ چہرے پہ بارہ کیوں بج گئے ؟؟؟” ارقم نے اسامہ کو دیکھا اور پھر اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو نیلم سامنے کیفے کے باہر کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی تھی اور اسے کچھ کہ کر کیفے کے اندر چلی گئی جبکہ وہ لڑکا مسکرا رہا تھا
اسامہ کو یہ منظر دیکھ بہت غصہ آیا تھا جبکہ ارقم نے اسے تنگ کرنا چاہا تھا
“دیکھ بیٹا۔۔۔ میری مان تو اپنے گھر والوں سے بات کر لے ورنہ کوئی لے جائے گا اسے ” ارقم کی کہنے کی دیر تھی کہ اس کا گریبان اب اسامہ کے ہاتھوں میں تھا
“بکواس بند کر اپنی … آائندہ ایسا کچھ بولا نا پھر دیکھی ” اسامہ غصے سے بولا اور پھر ایک جھٹکے میں اس کے گریبان کو آزاد کرتا ہوا غازیان کی طرف چلا گیا تھا جبکہ ارقم اسے حیرت سے جاتا دیکھ رہا تھا
“عجیب حرکت تھی یہ “. ارقم کو بھی غصہ آیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منان کی چونکہ آج ایک ہی کلاس تھی تو وہ گھر چلا گیا تھا اور ان سب کو بتا دیا تھا کہ جب فری ہوں اسے کال کر کے بلا لیں
اسے یونی سے نکلے ابھی دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ اسے ایمن سڑک پہ کھڑی نظر آئی جو کہ غالباً ٹیکسی یا رکشہ کے لیے کھڑی تھی
منان نے اسے دیکھا اور پھر اس کے پاس جا کر گاڑی روکی تھی
ایمن اپنے پاس گاڑی رکتے دیکھ گھبرا گئی تھی لیکن پھر جب گاڑی کا شیشہ نیچھے کر کے منان کی آواز سنی تو کچھ گھبراہٹ کم ہوئی تھی
“ہلیو ایمن ” منان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
“جی السلام علیکم !!” ایمن نے احترامً سلام کیا
“”وعلیکم السلام !!! آپ یقیناً گھر جا رہی ہوں گی آئیں میں چھوڑ دیتا ہوں “
“نہیں میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔ آپ جائیں “
“ارے میں بھی گھر ہی جا رہا ہوں آئیں بیٹھیں ” منان نے کہتے ہوئے فرنٹ دور کھولا اور اسے بیٹھنے کا کہا تھا ۔۔۔۔ آخر ایمن بھی بیٹھ گئی تھی کیونکہ وہ سڑک پہ کھڑی تھی کوئی تماشہ نہیں چاہتی تھی ۔۔ ارد گرد کے لوگ انہیں دیکھ رہے تھے تو وہ چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
منان نے اس کے بیٹھتے ہی گاڑی چلائی اور وہ گھر کی طرف روانہ ہوئے تھے
“آپ کہاں سے آ رہی تھیں ؟؟؟؟” منان نے بات کرنا چاہی تھی جبکہ ایمن گھبرائی ہوئی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی اس کی بات پہ چونکی
“جی ۔۔۔ وہ میں سکول سے آرہی تھی “
“اوہ اچھا۔۔۔ تو آپ پڑھاتی ہیں سکول میں ؟؟” اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔ ایک ہی محلہ میں اتنے سالوں سے رہتے تھے لیکن منان نے کبھی ایمن کو نہیں دیکھا تھا اور نا ہی اس کے بارے میں کچھ پتہ تھا۔۔۔ وجہ ایمن کا گھر سے باہر نا نکلنا تھا وہ صرف سکول جانے کے لیے ہی گھر سے نکلتی تھی اور اس وقت منان یا تو گھر ہوتا تھا یا یونی میں ۔۔۔ آج اتفاقً وہ جلدی یونی سےآیا تو اسے ایمن راستے میں ملی
“جی ” ایمن بس اتنا ہی کہ سکی
“صحیح … کچھ کھائیں گی ؟؟ ” منان نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جو کہ گھبرائی بیٹھی تھی
“نہیں شکریہ “
“اوکے ” منان نے کہا اور پھر مزید وہ کچھ بھی نا بولا تھا چپ چاپ گاڑی چلاتا رہا
تھوڑی دیر بعد منان نے ایمن کے گھر کے سامنے گاڑی رکی تو وہ جلدی سے تھینکیو کہتی گاڑی سے اتری اور اپنے گھر گھس گئی جبکہ ایمن کی سپیڈ دیکھ کہ منان کا قہقہہ نکلا تھا
“کیا چیز ہے یہ ۔۔بھاگی ایسے ہے جیسے میں کھا جاتا اسے۔۔۔۔ ہمممم۔۔۔ کچھ کرنا پڑے گا ” منان مسکراتے ہوئے سوچنے لگا اور گاڑی اپنے گھر کے آگے پارک کر دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پینو جو شینو کے گھر اسے ملنے آ رہی تھی ایمن کو منان کی گاڑی سے اترتا دیکھ چونکی تھی
“ہائےےےے و ربا !!!!” پینو حیرت سے بولی تھی اور فوراً شینو کے گھر کی گھنٹی بجائی تھی
“کون ؟؟” شینو کی آواز ابری تھی
“کھول نی شینو !!”
“کی ہویا ؟؟؟” سینو پینو کو دیکھتے ہوئے بولی تھی جس کے پیٹ میں شدید درد تھا
“اندر چل دسنی آں ” پینو نے شینو کو اندر چل کر بیٹھنے کا کہا تھا تا کہ وہ جلدی جلدی بس ساری بات اس کے گوش گزار کر دے تا کہ ان کے پیٹ کا درد ٹھیک ہو سکے
“ہاں اب بتاؤ کیا ہوا ” شینو نے پوچھا
“ہائےےےےے !!! کیا بتاؤں ۔۔۔۔ زمانہ اتنا خراب ہو گیا ہے آج کل دا ۔۔۔۔ توبہ توبہ “
“ہن کس نو ویکھ لیتا تو ؟؟”
“او اے اپنے ایمن تے منان ۔۔۔۔ ایمن منان کی گاڑی سے اتر رہی تھی۔۔۔ نا جانے کہاں سے آئے ہیں ۔۔۔” یہ اور ان کا تجسس 
“ہائےےےےےےےے ” شینو نے دکھ سے کہا تھا
“بس اب ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔ ماں باپ نہیں کہتے کچھ تو ” اور بس پھر وہ دونوں تھی اور ان کے خود کرتا خیالات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں کافی دیر کیفے میں بیٹھی رہی تھیں خوب کھا پی کر فارغ ہوئی تو یاد آیا کہ آج ایک اور کلاس بھی ہے ان کی جو کے سٹارٹ ہونے والی ہو گی تو فوراً اٹھے تھے وہاں سے
ابھی کیفے سے نکلے ہی تھے کہ سینیئرز نے ان تینوں کو پکڑ لیا تھا
“ارے ارے کہاں جایا جا رہا ہے ۔۔۔۔ تم لوگوں کا آج یقیناً پہلا دن ہے نا ؟؟” اس گروپ میں سے ایک لڑکی نے ان تینوں کو کہا تھا
“اوے تیری پکڑے گئے ہم۔۔۔ اب نہیں بچنے والے ہم ان کی ریگینگ سے ” لائبہ نے ڈرتے ہوئے سرگوشی کی تھی
“کیا کھسر پھسر ہو رہی ہے۔۔۔ جو پوچھا ہے اس کا جواب دو” اب ایک لڑکے کی آواز ابھری تھی
“جج جی ہمارا پہلا دن ہے ” حرا نے فوراً کہا تھا
“ہمممم۔۔۔۔ تو چلو پھر ایک کام تو کر دو۔۔۔” لڑکی بولی تھی
“کیا کام ؟؟” نیلم نے کہا
“ارے ۔۔۔۔ وہ نا ہم بہت بور ہو رہے ہیں تو ہمارے ایک پارٹنر کے ساتھ دانس تو کر دو ” لڑکے نے نیلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
جس پہ ان تینوں کی آنکھیں حیرت سے کھلی تھی
“کیوں نہیں ابھی کر کے دیکھاتے ہیں ہم آپ کو ڈانس ۔۔۔ آپ کی بوریت ابھی ختم ہو جانی ہے ” ارقم اور اسامہ جو ان تینوں کو بلانے آ رہے تھے ۔۔۔ کیفے کے باہر بھیڑ دیکھ کہ اس طرف آئے تو سامنے ان تینوں کو کھڑا پایا تھا اور ان سینیئرز کی فرمائش سن کر ارقم نے آگے آتے ہوئے کہا تھا
“نہیں تم دونوں کو کس نے کہا ہے جس کو کہا ہے وہ کرے گا . ” ایک سینیئر بولا تھا.
جاری ہے
