Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15
مغرب کے وقت وہ لوگ حرا کو رخصت کروا کے گھر لائے تھے
حرا کے بہت زیادہ رونے کی وجہ سے اس میں چلنے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی کمزوری محسوس ہو رہی تھی اس لیے عائشہ بیگم اسے گھر لاتے ساتھ ہی غازیان کے کمرے میں لے گئی تھیں تا کہ وہ کچھ دیر آرام کر لے ۔۔۔ ویسے بھی جو کچھ ہوا تھا اس میں فلحال تو کوئی خوشی یا کوئی رسم ہونے سے رہی تھی۔۔ عائشہ بیگم حرا کو کمرے میں چھوڑ کر باہر آ گئی تھیں جبکہ حرا بیڈ پہ بیٹھی آنکھیں موندھے سر بیڈ کراؤن سے ٹکا دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“واہ جگر کیا نصیب ہیں !!! اتنی جلدی نکاح ہو گیا تیرا اور رخصتی بھی واہ۔۔۔ اہممم اہممم۔۔ ” ارقم نے شرارت سے غازیان کو کہا تھا اسکے تاثرات ابھی بھی سخت تھے لیکن اسامہ اور ارقم کو لگا تھا وہ بس تھوڑا سا سنجیدہ ہے
“بکواس بند کر اپنی۔۔۔۔ میں کیسے یہ سب برداشت کر رہا ہوں یہ سب صرف میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔ پتا نہیں کیسے اسے میرے ساتھ باندھ دیا ہے بات کرنے کی تو تمیز ہے نہیں اس میں … اپنے باپ کا تو وہ فیصلہ مان نہیں سکتی میرے ساتھ کیا خاک گزارا کرے گی ” غازیان نے غصے سے کہتے ہوئے اپنا سر ہاتھوں میں گرا دیا تھا جبکہ وہ دونوں اسکی بات پہ حیران ہوئے تھے اور انہیں سمجھ میں آیا تھا کہ غازیان سہیل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا
“یار تو کیوں پریشان ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ اب تم دونوں کی شادی اسی طرح لکھی گئی تھی تو کیا مسئلہ ہے تجھے۔۔۔۔۔ کچھ ٹائم لگے گا لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ …. تو پریشان تو نا ہو۔۔۔۔۔ اور ہاں ۔۔۔۔یہ بتا کہ گفٹ کیا دے گا اسے ؟؟؟؟؟” اسامہ نے غازیان کو سمجھایا اور پھر آخر میں شرارت سے اسے کہا غازیان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
“تیرا دماغ خراب ہے ؟؟؟؟؟؟ مجھے کیا پتا تھا کہ آج ہی رخصتی بھی ہو جانی ہے ؟؟؟ اور میری یہ پسند کی شادی تھوڑی ہے جو گفٹ خریدتا اس کے لیے دماغ مت گھماؤ میرا تم لوگ … اور تم لوگوں نے بھی مجھے سکھا سا ہی وش کیا ہے حالانکہ آج میرا برتھ ڈے تھا امی نے تو وہ بھی نہیں کیا کیونکہ اب تم سب کیلیے وہ اہم ہوگئی ہے ….. میرا بس چلے تو ایک منٹ میں گھر سے نکال باہر کروں میں اسے . “
“بکواس بند کرو اپنی غازیان۔۔۔۔۔۔ خبردار جو اسے تم نے تنگ کیا تو ۔۔۔۔۔۔ اور ابھی کہ ابھی جاؤ اس کے لیے لے کر آؤ کچھ اچھا سا گولڈ کی کوئی رنگ اور یہ جو الٹی بکواس اسکو گھر سے نکالنے کی آج تم نے کی ہے نا آئندہ کی نا تو اپنا بوریا بستر اٹھا کر گھر سے نکل جانا خود ہی ” عائشہ بیگم جو کہ حرا کو کمرے میں چھوڑ کر اب لاؤنج میں آئی تھی غازیان کی ساری بات سن کر انہیں غصہ آیا تھا عجیب بدھو بیٹا تھا یہ انکا
“میرے پاس پیسے نہیں ہیں آپ کی چہیتی لے لیے گفٹ خریدنے کو “
“بکواس بند رکھو اپنی جاؤ جا کر میری الماری سے پیسے لے لو اور ابھی کہ ابھی جا رہے ہو تم اس کے لیے گفٹ لینے۔۔۔۔۔۔ ورنہ گھر مت آنا ۔۔۔۔۔ ” عائشہ بیگم نے اسے گھورتے ہوئے کہا تھا
جبکہ وہ تینوں حیران ہوئے تھے
“چچی وہ مزاق کر رہا ہے .کیا ہو گیا ہے آپکو” ارقم نے غازیان کی سائڈ لی تھی وہ دونوں جانتے تھے وہ تھوڑا اداس ہے اور غصے میں بھی
“انہیں کچھ نہیں ہوا میرا ہی دماغ خراب ہے جو ان کے منہ لگتا ہوں ہر وقت۔۔۔۔ تنگ آ گئے ہیں سب مجھ سے کسی بھی حال میں خوش نہیں ہیں یہ سب مجھ سے انکو تو اب وہ نواب زادی مل گئی ہیں بیٹا تو ہے نا عاکف انکا اب بیٹی بھی آگئی ہے میری تو نا پہلے کوئی ضرورت تھی اور اب تو بلکل بھی نہیں رہی …. اور اور یہ میرے دادا جی جو میری ہر بات مانتے تھے آج انہوں نے بھی میرا ساتھ نہیں دیا۔۔۔ مر ہی جاؤں تو اچھا ہے بس ۔۔۔۔۔” غازیان غصے میں بڑ بڑاتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا تھا جبکہ اسامہ اور ارقم نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا پھر سلیم صاحب کو دیکھا تھا جو کہ مزے سے بیٹھے ہوئے تھے لیکن غازیان کی آخری بات پہ ان کے دل کو کچھ ہوا تھا اور عائشہ بیگم نے بھی حیرت سے اسے جاتا دیکھا تھا
کبھی بھی غلط بول نہیں بولنے چاہیے کیا پتا کون سا قبولیت کا وقت ہو اور اپ کی کہی بات قبول ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔
“پاگل ہے یہ لڑکا کچھ بھی بولتا رہتا ہے حد ہے .. ” عائشہ بیگم کی آواز پہ وہ تینوں انکی طرف متوجہ ہوئے تھے
“مامی آپ نا ڈانٹا کریں نا اسے.. وہ تھوڑا غصے میں ہے اسکو لگتا ہے کہ کوئی اسکی قدر نہیں کرتا آپکو پتا ہے وہ کبھی کبھی ایسے کرتا ہے خود ہی عقل آجائے گی کچھ دنوں میں..” اسامہ نے اسکی سائڈ لی تھی تو عائشہ بیگم اسے دیکھ کر مسکرائی
“اچھا جی نہیں میں کہتی اسے کچھ اب . اور اگر اسکو باہر نا بھیجتی تو سرپرائز کیسے دیتے ہم اسے …” انہوں نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں انکے چہرے پہ حیرت ابھری تھی
“سرپرائز … ؟؟؟” وہ دونوں حیرت سے ایک ساتھ بولے تھے
“ہاں جی چلو آؤ تم دونوں میری مدد کرو آج آپکے دوست صاحب کے شکوے بھی دور کرنے ہیں حرا کو آرام کرنے دو ہم تھوڑئ سی ڈیکوریشن کر لیتے ہیں پہلے کچن میں آئو کیک دیکھو میں نے خود بیک کیا ہے اپنے شہزادے کیلیے…” وہ ہنستی ہوئی انہیں بتاتی کچن میں آئی تھی جبکہ وہ دونوں بھی انکے پیچھے آئے تھے جبکہ سلیم صاحب کچھ پریشان سے نیچھے چلے گئے تھے
“چچی آپ بھی نا .. ادھر اس ہٹلر کو لگ رہا تھا کہ آپکو اسکی برتھ ڈے یاد نہیں ہے کیسے منہ پھولایا ہوا تھا “
ارقم نے اسکی نقل کی تھی جبکہ وہ تینوں ہنسے تھے اور ساتھ میں تقدیر بھی ان پہ مسکرائی تھی . انسان کیا کیا سوچتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسامہ ارقم تم لوگ یہ باقی کا لاؤنج سجاؤ اور اسکے بعد نیچے سے جا کر سب کو بلا لاؤ میں حرا کے کمرے میں ہوں تھوڑی دیر تک … ” وہ ان دونوں سے کہتی ہوئی غازیان کے کمرے کی طرف گئی تھی
دروازہ ناک کرنے پر اندر سے کوئی جواب نہیں ملا تھا تو وہ اندر داخل ہوئی تو نظر حرا پر پڑی جو بیڈ پہ بیٹھی تھی نظرین اپنے ہاتھوں پہ ٹکائے گہری سوچ میں گم تھی شاید اسنے دروازے پہ ہوئی دستک سنی ہی نہیں تھی . دوپٹہ اب سر سے ہٹ کر کندھے پہ آگیا تھا اور آدھا زمین پہ تھا . انہیں دکھ ہوا تھا یہ کیسی دلہن تھی جو اس اجڑی حالت میں تھی
“حرا ” انہوں نے اسے پکارا تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی جیسے ڈری ہو. عائشہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“بیٹھ جاؤ بچے ایسے کیوں کھڑی ہو گئی ہو ؟؟؟” . وہ بولتی ہوئی اسی کے قریب جا کر بیٹھی تھی تو وہ بھی جھجکتی ہوئی انکے پاس بیٹھی پہلے پھر بھی محلے داری کی وجہ سے سلام دعا ہو جاتی تھی لیکن اب تو رشتہ بدلا تھا
“یہ کیا حالت بنا رکھی ہے حرا نئی نویلی دلہن ایسی ہوتی ہے .. ” انہوں نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے پوچھا تھا تو اسکی آنکھیں نم ہوئی
“خالہ کسی دلہن کی رخصتی بھی ایسے نہیں ہوتی جیسے میری ہوئی ہے ..” اسنے آہستہ سی آواز میں کہا تھا
“حرا جو جیسا ہونا تھا وہ ہو گیا اب کیوں اسکو سوچ کر دل خراب کرنا . اب تم نئے گھر میں آئی ہو میری بیٹی ہو اور میں اپنی بیٹی کے چہرے پہ اداسی نہیں دیکھوں گی ..مجھے تو بھئی اپنی بیٹی ہنستی مسکراتی ہوئی چاہیے … ” انہوں نے بہت نرمی سے اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا
“ارے کیا سارا پیار تم ماں بیٹی ہی کرو گی باپ کی کوئی جگہ نہیں ہے ..؟؟؟” مصطفی صاحب نے کمرے سے اندر آتے ہوئے کہا تھا جس پہ عائشہ بیگم کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی جبکہ حرا بھی زرا سا مسکرائی تھی … انہوں نے قریب آکر حرا کے سر پر ہاتھ رکھا تو حرا کو لگا تھا جیسے وہ ایک اسی لمس کیلیے تو ترستی رہی ہے کتنا شفقت بھرا لمس تھا بلکل باپ جیسا اس وقت اسے اپنا آپ بہت خوش قسمت لگا تھا
“ہماری بیٹی کی جو خواہش تھی وہ پوری ہوئی ہے اب ہم آپکی آنکھوں میں آنسو نا دیکھیں چلو اب مسکراؤ اور بیگم آپ زرا ہماری بیٹی لیکر باہر آئیں کھانا کھا لے یہ بس اب کوئی اور رونا دھونا نہیں .. ” وہ بھی بہت محبت سے کہتے باہر نکل گئے تھے جب کہ حرا کے رکے ہوئے آنسو نکلے تھے تو عائشہ بیگم نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا کافی دیر رو کر جب وہ چپ ہوئی تو عائشہ بیگم اسکے پاس سے اٹھی تھی اور اس کے بیگ سے ایک فراک نکال کر اسکے سامنے رکھا تھا ۔۔۔۔۔
“چلو بس اب کوئی نہیں رونا جلدی سے یہ پہن کر باہر آجاؤ . ورنہ میں جیسے غازیان کو جوتے لگاتی ہوں تمہیں بھی لگاؤں گی ..” انہوں نے اسے مصنوعی غصے سے کہا تو حرا کی نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی نکل گئی تھی اثبات میں سر ہلاتی وہ اٹھ کر باتھروم میں گئی تھی تو وہ بھی مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل آئی تھی
—————————
“اماں آرام سے بھی تو یہ بات کہہ سکتی تھی پتا نہیں کیوں اب تو ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں اور انہوں نے یہ بات کیوں نہیں بتائی مجھے کہ حرا کے ابو کوئی رشتہ لیکر آئے تھے لازمی یہ بھی حرا کا ہی کام ہو گا اسے ہی رشتہ پسند نہیں آیا ہو گا تو بس بنا لو مجھے بکرا .. پتا نہیں کس قسم کی لڑکی ہے …
اور اماں تو آج میرا برتھ ڈے تک بھول گئی ہیں اور میرا شہزادہ سلیم ۔۔۔ وہ بھی اب اس کا ہو گیا شاید واقعی میں میرے گھر والوں کو میری ضرورت ہی نہیں ہے “
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم سڑک پار کر رہا تھا ہر طرح کا منفی خیال اسکے زہن میں تھا آس پاس کی کوئی آواز اسے نہیں سنائی دے رہی تھی کہ شاید آس پاس کے لوگ اسے متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب تک اسے ہوش آتا تب تک ایک تیز رفتار ٹرک نے اسے دور اچھالا تھا اور اسکا زہن ماؤف ہونے لگا تھا
ٹانگ اور سر میں شدید درد اٹھا تھا اسے محسوس ہوا تھا جیسے اسکے سر سے خون بہہ رہا ہو سارے جسم سے ٹیسیں اٹھ رہی تھی
“اس سے تو اچھا ہے میں مر ہی جاؤں”
اسکے اپنے ہی الفاظ اسکے کانوں سے ٹکرائے تھے
“پھر مجھے اپنی ماں مت کہنا ” اور پھر عائشہ بیگم کی بات یاد آئی تھی اور اسکی آنکھیں بند ہو گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا کی رخصتی کے بعد گھر جیسے خاموش ہو گیا تھا سب کی آنکھیں نم تھیں جبکہ آسیہ بیگم کچھ حد تک پرسکون ہو گئی تھیں کیونکہ حسن صاحب کو ایک حرا سے ہی چڑ تھی وہ اب اپنے گھر کی ہو گئی تھی تو انہیں خوشی تھی کہ کم سے کم اب حرا تو خوش رہے گی نا اپنے گھر ورنہ یہاں تو وہ ہر وقت دکھی ہی رہتی تھی
آسیہ بیگم آج پرسکون سی نیند سوئی تھیں
—————————-
“ویسے چچی غازیان کیلیے اس دفعہ واقعی ہی سرپرائز ہو گا کیونکہ چاچو اسکےلیے بائیک بھی لے آئے ہیں اسکے تو وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ آپ اسے سرپرائز دینے کا سوچ رہی ہوں گی اور چاچو اسے بائیک دیں گے.” ارقم غبارے پھلاتا ہوا بولا تھا وہ بھی غازیان کیلیے خوش تھا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے ہی مصطفی صاحب ایک نئی بائیک غازیان کیلیے لیکر آئے تھے
“اور ہاں مامی!!! آپ نے ویسے ہی غازیان کی شادی جلدی کر دی ورنہ تو ہمارے یار کو آج بھی اپنی سالگرہ پر ڈھیر سارے غباروں سے سجاوٹ پسند ہے اسے تھوڑا بڑا تو ہونے دیتی آپ …” اسامہ کی بات پہ سب کے قہقہے گونجے تھے واقعی غازیان کو اپنی سالگرہ پر غباروں کی سجاوٹ پسند تھی
“رہنے دیں اسامہ بھائی اتنے تو بڑے ہو گئے ہیں غازی بھائی اب اور کیا بڑے ہوں گے اچھا ہے اب کم سے کم حرا بھابھی کے سامنے انہیں کم جوتے پڑیں گے .. ” عاکف کی بات پر سب کے پھر قہقہے گونجے تھے جبکہ عائشہ بیگم نے اسے گھورا تو اسنے کانوں کو ہاتھ لگائے تھے
“عائشہ حرا کہاں ہے ؟؟” مریم بیگم نے عائشہ سے پوچھا تھا
“بس کمرے میں ہے آرہی ہو گی …
اچھا اسامہ کال تو کرو اسکو کتنی دیر لگا دی یے خیر اب تو آ ہی رہا ہو گا میں جب تک کیک لیکر آتی ہوں ..” وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی تھیں جبکہ مریم بیگم اور مومنہ بیگم بھی کچن میں چلی گئی تھیں
“مامی غصے میں گیا ہے کیا پتا غصہ نکالنے کیلیے برگر کھانے منے کی دکان پہ ہی نا چلا گیا ہو….” اسامہ نے بات کی جبکہ ارقم اسے دیکھ کر ہنسا تھا
ابھی ارقم نے کچھ کہنے کیلیے منہ کھولا ہی تھا کہ اسامہ کا فون بجا
“ارے خود ہی کرلیا اسنے فون …” اسنے کہتے ہوئے موبائل کان سے لگایا تھا
“ارے کدھر رہ گیا ہے یار جلدی آ نا … ” اسنے فون کان سے لگاتے ساتھ کہا تھا
“یہ جن کا موبائل ہے انکا مین روڈ پہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے میں انکو ہسپتال لیکر آیا ہوں آپ مہربانی کریں جلدی آئیں …” آواز تھی یا پگھلا ہوا سیسہ اسامہ نے ساکت نظروں سے موبائل کانوں سے ہٹا کر دیکھا تھا
“کک کیاااااا ؟؟؟؟؟؟ کون سے ہسپتال میں… ؟؟”بمشکل اسکی آواز نکلی تھی اور لاؤنج میں ایک دم سناٹا چھا گیا تھا مصطفی صاحب اور باقی سب نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ کچن سے خواتین کی ابھی بھی بولنے کی آوازیں آرہی تھی
“کیا ہوا ہے اسامہ کون ہے ہسپتال میں.. ؟؟” سلیم صاحب نے سوال کیا تھا جو خدشہ دل میں آیا تھا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتے تھے۔۔۔۔ جب سے انہوں نے غازیان کی بات سنی تھی تب سے ہی ان کا دل گھبرا رہا تھا
“وہ وہ …… “
“اسامہ کہاں ہے وہ …. بتایا اسنے ؟؟”عائشہ بیگم کیک ٹیبل پر رکھتی ہوئی بولی تھی تو اسامہ کو ہوش آیا تھا کہ ابھی ہوش کھونے کا وقت نہیں ہے
“ماموں غازیان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ” لاؤنج میں بیٹھے سارے نفوس پر گویا دھماکا ہوا تھا حرا جو ابھی دروازے سے باہر نکلی تھی اسامہ کی بات سن کر وہی تھمی تھی جبکہ عائشہ بیگم نے حیرت سے اسامہ کو دیکھا تھا
“کون کون سے ہسپتال میں ہے وہ ؟؟؟ مصطفی صاحب کہتے ہوئے یکدم کھڑے ہوئے تھے اور ابراہیم ، جاوید اور سلیم صاحب بھی اٹھے تھے
“میں بھی ساتھ جاؤں گی۔۔۔۔۔یا اللہ میرا بچہ ٹھیک ہو ..” عائشہ بیگم روتے ہوئے دعا کرتی جلدی سے آگے بڑھی تھی .. دھڑام کی آواز پہ سب نے پیچھے دیکھا تھا جہاں حرا دروازے میں ہی گری تھی …
“آپ لوگ جائیں ہم حرا کو دیکھتے ہیں ” مومنہ بیگم نے ان سب سے کہا تھا تو وہ تیزی سے نیچے اترے تھے
“بس میرے بچے کو زیادہ نا لگی ہو… ” عائشہ بیگم کے لبوں پہ بس یہی دعا تھی
جبکہ مومنہ بیگم اور مریم بیگم نے حرا کو بیڈ پہ لٹایا تھا جو شاید شاک لگنے کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی تھوڑی دیر پہلے جہاں خوشیاں اور قہقہے اور شور تھا اب وہاں صرف سناٹے تھے۔۔۔ جن چہروں پر مسکراہٹیں تھی اب وہاں پہ صرف فکرمندی پریشانی اور آنسو تھے
——————————————
“ابھی ابھی جو ایکسیڈنٹ والا پیشنٹ آیا ہے وہ کہاں ہے؟؟؟” اسامہ نے جلدی سے ریسیپشن پر بیٹھے ایک لڑکے سے پوچھا تو اس نے اشارے سے دائیں طرف کا بتایا . وہ سب لوگ تقریبا بھاگتے ہوئے اس طرف بڑھے تھے
“آپ لیکر آئے تھے غازیان کو ؟؟ کہاں ہے وہ کیا زیادہ چوٹیں آئی ہیں اسکو .. ؟؟ کیسے ہوا تھا ایکسیڈنٹ ؟؟ارقم نے آگے بڑھ کر اس نوجوان سے سوال پوچھے تھے جسکا ریسپشن پہ لڑکے نے بتایا تھا کہ وہ غازیان کو لیکر آیا ہے
“جی ہاں کافی زیادہ چوٹ آئی ہے پتا نہیں کن سوچوں میں تھا کہ ٹرک نظر نہیں آیا اسکو ابھی ڈاکٹر اسکو اندر لیکر گئے ہیں آپ جا کر ڈاکٹر سے پوچھ لیں اور یہ کچھ چیزیں انکی میرے پاس تھی موبائل پتا نہیں کیسے بچ گیا جس سے میں نے آپکو کال کی تھی ..” وہ نوجوان انکو بتاتا چلا گیا تھا جب کہ وہاں موجود کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اندر جا کر ڈاکٹر سے پوچھیں کچھ ۔۔۔۔ عائشہ بیگم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھی لیکن زبان بلکل خاموش تھی اور مصطفی صاحب کی بھی آنکھیں ضبط سے سرخ تھیں
” آپ کا بہت بہت شکریہ آپ اسے لے کر آئے ہسپتال ” سلیم صاحب نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور پھر وہ ان سے مل کر ہسپتال سے چلا گیا تھا
“چلیں بھائی صاحب اندر چل کر ڈاکٹر سے مل لیتے ہیں ” ابراہیم صاحب نے مصطفی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا اتنے میں ہی ڈاکٹر کمرے سے باہر آیا جہاں پہ غازیان کو رکھا گیا تھا وہ سب اسکی طرف بڑھے
“آپ لوگ پیشنٹ کی فیملی ہیں؟؟” ڈاکٹر نے تائید چاہی تھی سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا تو ڈاکٹر نے گہرا سانس بھرا تھا
“دیکھیں ایکسیڈنٹ بہت شدید تھا ایک بازو اور ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور سر پہ بھی بہت چوٹ آئی ہے جسکی وجہ سے انہیں ہوش نہیں آرہا ابھی ہم کچھ کہہ نہیں سکتے اگر وہ ہوش میں آجاتے ہیں تو اچھی بات ہے اور اگر نہیں تو پھر آپ لوگ کسی بھی خبر کیلیے تیار رہیں چہرہ بچ گیا ہے لیکن پورے جسم پہ خراشیں ہیں. آپ لوگ دعا کریں. “
ڈاکٹر پیشہ وارانہ انداز میں کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا جبکہ وہ سب ابھی تک صدمے میں تھے تھوڑی دیر پہلے تو وہ ان کے سامنے تھا بلکل ٹھیک بولتا چالتا لیکن اب کیا ہو گیا تھا یکدم
“چچی سنبھالیں خود کو … ” عائشہ گرنے ہی والی تھی جب یکدم ارقم نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا تھا
“ارقم ک کیا ہو گیا .میرے غازی کو وہ تو بلکل ٹھیک تھا نا .کی کیسے کہہ سکتا ہے ڈاکٹر یہ سب .. یہ کیا ہو گیا . مصطفی آپ اسکو بولیں نا … وہ یہاں. کیا کر رہا ہے ” عائشہ بیگم رازوقطار روتے ہوئے سب کو بولی تھیں جب اسامہ نے آگے بڑھ کر انہیں بینچ پر بٹھایا تھا اور خود انکے قدموں میں بیٹھا تھا
“مامی اسے کچھ نہیں ہو گا آپ بس دعا کریں نا ابھی تو ہم نے ساتھ یونیورسٹی بھی جانا ہے …” اسامہ کی اپنی حالت ایسی تھی جیسے کسی بھی وقت رو پڑے گا لیکن مضبوط بن کر عائشہ بیگم کو سنبھال رہا تھا
“اسامہ !!! اسے شکایتیں تھیں نا مجھ سے تو آج میں نے اسکی ساری شکایتیں دور کرنی تھیں نا اب اتنا کون ناراض ہوتا ہے اپنی ماں سے کہ یہاں ہی آکر لیٹ گیا ہے…” انہیں رہ رہ کر غازیان کی ناراضی اور غصے میں اسکے بولے گئے الفاظ یاد آرہے تھے
“عائشہ سنبھالو خود کو دعا کرو اسکے لیے .. ” مصطفی صاحب نے انکے ساتھ بینچ پر بیٹھتے ہوئے تسلی دی تھی
“کیسے سنبھالو مصطفی وہ بار بار کہتا تھا میں مر جاؤں تو آپکو سکون آجائے گا کیسے کہہ سکتا ہے وہ یہ ۔۔۔۔۔ وہ کہتا تھا میں اس سے پیار نہیں کرتی مصطفی آپ اسکو بتائیں نا وہ میرا سب سے پیارا بیٹا ہے میں اس سے زیادہ پیار کرتی ہوں مصطفی اسکو کہیں نا مجھ سے ناراض نا ہو . میں تو اس پہ غصہ کرتی تھی کیونکہ وہ شرارتیں کرتا تھا لیکن مجھے اسکی شرارتیں بھی پسند ہیں وہ کیسے اسطرح کر سکتا ہے میرے ساتھ …. ” روتے روتے انہوں نے سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا رات کے اس پہر پورے کوریڈور میں بس انکی سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی انکی باتوں پہ سب کی آنکھیں نم ہو گئی تھی اسامہ اور ارقم کے رکے آنسو بھی جاری ہو گئے تھے کیسے وہ صبر کرتے ان کا جان سے پیارا دوست اندر تھا جو ہر وقت بولتا تھا آج بلکل چپ تھا جس کے قہقہوں سے پورا محلہ گونجتا تھا آج اس کی خاموشی عجیب ہی ماحول بنا رہی تھی وہ جو سب کو ہنساتا تھا آج خود خاموش ہو کر سب کو رلا دیا تھا
“جو قسمت میں لکھا تھا وہ ہو گیا عائشہ تم اسکے لیے دعا کرو بلکہ گھر جاؤ ہم سب ہیں یہاں پر حرا گھر میں ہے اسکو سنبھالو .. ” سلیم صاحب نے ان سے کہا تو انہوں نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا
“نہیں میں گھر جیسے چلی جاؤں اسے یہاں چھوڑ کر… ..میں نہیں جاؤں گی ” انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا
“عائشہ گھر میں ایک اور فرد بھی ہے جسکو آپ نے بیٹی کہا تھا اسے بھی ضرورت ہے . تم دونوں صبح آجانا یہاں لیکن ابھی اسکے پاس جاؤ …” انہوں نے ایک بار پھر سے کوشش کی تھی تو عائشہ بیگم کو حرا کو بے ہوش ہونا یاد آیا تھا تو وہ گھر جانے کیلیے تیار ہو گئی تھی
“ارقم اسامہ تم دونوں جاؤ تائی امی کو گھر چھوڑ آئو “جاوید صاحب نے ارقم سے کہا تو اسنے جلدی سے آنکھیں رگڑی تھیں اور ہسپتال سے انکو لیکر باہر نکلا تھا جبکہ اسامہ بھی انکے پیچھے آیا تھا.
جاری ہے
