Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28

غازیان کو صبح ہی عائشہ بیگم نے کال کر کے بتایا تھا کہ وہ لوگ ایک دو دن اور وہاں رکنے والے تھے اس لیے وہ جب حرا کو گھر لایا تو گھر میں کوئی بھی نا تھا ۔۔۔ اور خالی گھر دیکھ حرا خوش ہوئی تھی کہ کم سے کم اس کے گھر والوں کو کچھ پتہ نہیں چلے گا اور ان کے آنے سے پہلے پہلے یہ سب ٹھیک کر دے گی
حرا لاؤنج میں کھڑی یہی سوچ رہی تھی کہ غازیان جو اس کے پیچھے کھڑا تھا بغیر اس سے کوئی بات کیے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
جبکہ حرا نے ایک گہراہ سانس خارج کیا تھا
“چل بیٹا لگ جا اپنے کام پہ ” حرا خود سے کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
اور دیکھا کہ غازیان بیڈ پہ بیٹھا کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا
“کون سے ہسپتال میں ہیں ؟؟؟؟ ۔۔۔۔ چلیں پھر میں آتا ہوں ” غازیان نے یہ کہ کر فون بند کر دیا تھا اور بیڈ سے اٹھا تھا
“کہاں جا رہے ہو ؟؟؟ سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟ ” ہسپتال کا نام سن کر حرا گھبرائی تھی
“ہاں تمہاری سوتن ہے ۔۔۔ اسی سے ملنے جا رہا ہوں ” غازیان غصے سے کہتا ہوا باتھ میں گھس گیا تھا جبکہ حرا اس کے الفاظ سے دھنگ رہ گئی تھی
“مطلب آپ نے مجھے ابھی تک معاف نہیں کیا غازیان ” حرا روتے بمشکل کہ پائی تھی جو کہ اس کے الفاظ غازیان باتھ سے نکلتا ہوا سن چکا تھا
“تمہارا کیا خیال ہے حرا ۔۔۔۔۔ تم نے جو مجھے کل سب کچھ سنایا تھا اس پہ میں تمہیں آسانی سے معاف کر دوں ؟؟؟؟ کیسے حرا ؟؟؟ ” غازیان نے اسے جھنجھوڑا
“مجھے معاف کر دو غازیان پلیز۔۔۔۔ میری غلطی ہے مجھے یقین آ گیا ہے تم پہ غازیان پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔ سوری میں آئندہ تم پہ کبھی شک نہیں کروں گی وعدہ ہے میرا ۔۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو غازیان ۔۔۔۔۔ مجھے خود سے الگ مت کرو ۔۔۔۔۔” حرا روتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی تھی اور یہاں غازیان کی بس ہوئی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی طرح حرا کو اپنے قریب کر لے۔۔۔۔ غازیان بے خیالی میں حرا کے گرد اپنی باہیں پھیلانے والا تھا کہ ایک دم رک کر اسے خود سے دور کیا تھا
” مجھے کچھ کام ہے آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ منان بھائی کو میری ضرورت ہے ۔۔۔ نیلم کو تیز بخار کی وجہ سے ہوش نہیں آ رہا ہسپتال آیڈمٹ ہے ” غازیان اسے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ حرا رو دی تھی ایک طرف اسے غازیان پہ رونا آ رہا تھا اور دوسری طرف نیلم کے ہسپتال میں ہونے کا سن کو پریشان ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منان نے غازیان کے ہمراہ گھر سے کچھ ضروری سامان منگوایا تھا ۔۔۔ صبح وہ جس افراتفری میں گھر سے نکلے تھے ساتھ سامان کے طور پہ کچھ بھی نا لا سکے تھے اور نیلم کو ہوش نہیں آ رہا تھا کمزوری کی وجہ سے اسے ڈریپس لگائی گئی تھی اور انڈر ابزرویشن رکھا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان کافی دیر تک ہسپتال میں رکا تھا منان کے ساتھ وہ رات نہیں رک سکتا تھا حرا کا گھر میں اکیلے ہونے کا سوچ وہ منان سے معزرت کرتا گھر آ گیا تھا اور لاؤنج میں داخل ہوا ہی تھا کہ اسے سامنے ہی حرا نظر آئی تھی جو کہ ڈائنیگ ٹیبل پہ کھانا لگا رہی تھی ۔۔۔۔۔ خوبصورت کڑھائی سے بھرا کالے رنگ کا شلوار قمیض پہنے ساتھ لال دوپٹہ جو کہ آدھا زمین کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔ ہلکا میک آپ کیے وہ سیدھا غازیان کے دل میں اتر رہی تھی لیکن اس نے اپنے جزباتوں کو قابو میں رکھنا چاہا تھا کیونکہ وہ حرا کو سمجھنے کا موقع دے رہا تھا تاکہ وہ آئندہ ایسا کچھ بھی نا کرے
غازیان کو آتا دیکھ حرا نے فوراً اس کو دیکھ کہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ سے اس کا استقبال کیا تھا جو کہ غازیان اگنور کر گیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا
“آجاؤ کھانا کھا لو ” اسے کمرے میں جاتا دیکھا وہ ایک دم بولی
“بھوک نہیں ہے ” غازیان نے مڑے بغیر کہا تھا جبکہ اس کا اس وقت بھوک سے برا حال تھا
“تمہاری ناراضگی مجھ سے ہے مجھ پہ نکالو ۔ کھانے کا کیا قصور ۔۔۔۔ آؤ اب ۔۔۔” حرا نے کہا تو آخر غازیان آ ہی گیا تھا کھانا کھانے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نا تھا
کھانا خاموشی میں کھایا گیا تھا کیونکہ کل سے دونوں نے کچھ بھی صحیح سے نہیں کھایا تھا اور اب وہ اتنے مزے کا کھانا خراب نہیں کرنا چاہتے تھے
کھانا کھانے کے بعد غازیان کمرے میں چلا گیا تھا جبکہ حرا برتن سمیٹنے کے بعد اب کمرے میں آئی تھی
جہاں غازیان نہا کر اپنے بال تولیے سے رگڑتا ہوا نکل رہا تھا اسے ایک نظر دیکھا اور اپنے بال سنوارنے لگا
حرا کمرے کا دروازہ بند کرتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی
“مجھے معاف کر دو غازیان پلیز ۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری بےرخی کی عادت نہیں ہے غازیان ۔۔۔۔” حرا نے غازیان کا ہاتھ پکڑ کر اب باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا
“سوچوں گا۔۔۔۔۔ ابھی مجھے نیند آ رہی ہے ” غازیان نے اپنا لہجہ نارمل رکھا تھا لیکن اس کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے وہ چاہتا تھا کہ حرا کو احساس ہو اپنی غلطی کا
“یاد ہے اس دن مجھے تم نے کہا تھا کہ میں ہر کسی سے اپنا حق مانگتی تھی اور تم سے نہیں۔۔۔۔۔ تو سن لو غازیان مصطفیٰ مجھے تم سے میرا حق چاہیے ۔۔۔۔۔۔” حرا نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سپاٹ لہجے میں کہا تھا
حرا کی بات سن غازیان کا دل ایک لمحے کیلیے بہت زور سے دھڑکا تھا لیکن اسنے یکدم اپنے تاثرات پہ قابو پایا تھا
“حرا غازیان مصطفیٰ تم نے میرا دل دکھایا ہے میرے کردار پہ انگلی اٹھائی ہے ایسے ہی تمہیں معاف کردوں اتنا آسان لگتا ہے ؟؟” غازیان نے دھیرے سے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا تھا اور اسکی آنکھوں میں دیکھ کر سخت لہجے میں بولا تھا
“میں اپنے کہے ہر الفاظ کی معافی مانگتی ہوں غازیان میں بس جیلس ہو گئی تھی ڈر گئی تھی مجھے لگا تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے اور اور پھر شینو خالہ نے کہا تھا کہ.کہ..” وہ بات کرتے کرتے ایک دم رکی تھی وہ کیسے غازیان کو یہ بات بتا دیتی جبکہ غازیان نے غور سے اسکو دیکھا تھا
“کیا کہا تھا شینو خالہ نے تمہیں؟؟ ” وہ اب گھوما تھا اور حرا کو دیوار کیساتھ لگایا تھا اور خود دیوار پہ ہاتھ رکھ کے اسکے سامنے کھڑا ہوا تھا
“وہ..وہ انہوں..نے کہا.تھا..کہ.ابھی .تک ..خوشخبری.کیوں.نہیں… ” اسنے بمشکل بات کی تھی جبکہ غازیان کے چہرے پہ شرارت بھری مسکراہٹ آئی تھی جو وہ مہارت سے چھپا گیا تھا وہ حرا سے اظہار کروانا چاہتا تھا
“اچھاااا.؟؟؟” اسنے اچھا کو لمبا کیا تھا جبکہ حرا نے بات جاری رکھی تھی
“میں تم سے پیار کرتی ہوں غازیان پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دو ” اسنے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا جبکہ وہ تو اس ادا پہ گھائل ہی ہو گیا تھا
“ایک بات بتاؤں..؟؟؟؟” غازیان اب سنجیدگی سے بولا تھا جبکہ حرا نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا . وہ یکدم اس سے پیچھے ہوا تھا حرا نے اسکو حیرت سے دیکھا جو اب الماری سے کچھ نکال کر اسکی طرف آیا پھر اسے پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھایا اور خود زمین پہ بیٹھا تھا اور پھر اسکے پاؤں پہ پائل پہنائی تھی پھر اٹھ کر اسکے پاس بیٹھا
“لوگ کچھ کہہ رہے تھے تھوڑی دیر پہلے ” اب کی بار وہ گھمبیر آواز میں بولا تھا تو حرا کا دل زور سے دھڑکا تھا
“وہ تو م میں.. “حرا کی زبان تو تالو سے چپک گئی تھی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھی
“میں اپنے حقوق بہت اچھی طرح سے ادا کرتا ہوں مسز غازیان….. “اسنے کہتے ہوئے حرا کی کنپٹی چومی تھی
“بھروسا، دعا ،وفا ،خواب ، من ،محبت
کتنے ناموں میں سمٹے ہو ، صرف ایک تم “
غازیان نے حرا کے کان میں سرگوشی کی تھی جبکہ حرا نے اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھے تھے اور پھر غازیان اس کو اپنے پیار کی بارش میں بھگوتا گیا تھا حرا نے بھی اپنا آپ غازیان کو سونپ دیا تھا وہ اس رشتے میں مزید کوئی غلط فہمی نہیں چاہتی تھی خوبصورت رات پل پل بیت رہی تھی اور غازیان محبت کا رس اسکے کانوں میں انڈیل رہا تھا
“اپنی سانسوں کے دامن میں چھپا لو مجھ کو
تیری روح میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے “
—————————–
خوبصورت رات اپنے اختتام کو پہنچی تھی
صبح کی کرنیں پردے سے ہوتی ہوئی حرا کے چہرے پہ پڑی تو وہ کسمسائی تھی اور خود کو ایک مضبوط حصار میں پایا تھا ۔۔۔۔۔۔ حرا ابھی غازیان کو سوتا دیکھ کر گزری رات سوچ ہی رہی تھی کہ اس کے چہرے پہ ایک دم خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی جو کہ غازیان سے مخفی نا رہ سکی تھی غازیان حرا کے جاگنے سے کافی پہلے جاگ چکا تھا اور اس کے لیے یہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین لمحہ تھا
“گڈمارنیگ میری جان میری زندگی !!!!!” غازیان نے حرا کی پیشانی چومتے ہوئے کہا تھا۔۔ غازیان کے اس طرح کہنے پہ حرا کا دل زور سے دھڑکا تھا آنکھیں شرم سے جھکی تھیں
۔۔۔۔ شرم کی وجہ سے حرا میں اتنی ہمت نا تھی کہ وہ غازیان سے نظریں ملا سکے ۔۔۔ حرا نے اٹھنا چاہا تھا لیکن غازیان نے اس کے گرد اپنا حصار اتنا سخت کر رکھا تھا کہ وہ ہل بھی نا پائی تھی
“میری زندگی میں آنے کے لیے بہت بہت شکریہ حرا غازیان !!!!!” غازیان جزبات سے چور لہجے میں بولا تھا اور کہتے ہی حرا کے چہرے پہ جھکا تھا ۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ حرا کا فون ایک دم بجا تھا
حرا نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور فوراً غازیان سے الگ ہو کر اس نے فون ہاتھ میں اٹھایا تھا جہاں لائبہ کی کال تھی۔۔۔۔ حرا کو فون اٹھاتا دیکھ غازیان کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے
“ایک تو ان میسنیوں کو چین نہیں ہے ” غازیان نے اس انداز میں کہا تھا کہ حرا کا ہنسی رکنا محال ہو رہا تھا بمشکل وہ بول پائی تھی
“ہاں بولو لائبہ ” حرا نے کہتے ہی اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھا تھا ہنسی روکنے کے لیے لیکن پھر ایک دم سنجیدہ ہوئی تھی
“اوہ شیٹ میں تو بھول ہی گئی تھی چل میں بھی آتی ہوں تو پہنچ ” حرا لائبہ سے کہتی ہوئی ایک دم کھڑی ہوئی تھی غازیان نے اس کو روکنا چاہا تھا لیکن وہ بچ نکلی تھی
“کیا کہ رہی تھی لائبہ ؟؟ کہاں جا رہی ہو تم ؟؟؟” غازیان خراب موڈ لیے بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
“نیلم گھر آ گئی ہے اس سے ملنے ” حرا یہ کہتے ہی بھاگتے ہوئے باتھ میں گھس گئی تھی مبادہ غازیان اسے پکڑ ہی نا لیتا جبکہ غازیان اس کی حرکت دیکھ مسکرایا تھا
“میری جھلی !!!!!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم کی طبیعت اب کچھ بہتر تھی اور ڈاکٹر نے اسے ایک دن ہسپتال میں رکھ کر ڈ سچارج کر دیا تھا ۔۔۔۔ آنکھوں میں ہلکے اور اجڑی حالت۔۔۔ سب اس کو دیکھ کر حیران تھے کہ آخر ایسا کیا ہو گیا ایک رات میں کہ نیلم اس حال کو تھی
نیلم کو گھر لا کر اسے اس کے کمرے میں لے جایا گیا تھا اور آدھے گھنٹے بعد لائبہ اور حرا بھی اس کے پاس آ گئی تھیں ۔۔۔ دونوں ہی اس کی حالت دیکھ پریشان ہوئی تھی یہ وہ نیلم تو نہیں تھی جو کل تک ہنس مکھ ان کے ساتھ شرارتیں کیا کرتی تھیں اور آج ۔۔۔۔ آج وہ بیڈ پہ لیٹی کوئی اور ہی لگ رہی تھی ۔۔۔
“کیا ہوا ہے نیلم ؟؟؟ یہ یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے ؟؟؟ کیا کوئی بات ہوئی ہے ؟؟؟” اس وقت کمرے میں صرف وہ تینوں تھیں تو لائبہ نے اس سے اس کی حالت کی وجہ پوچھی تو نیلم نے زور سے آنکھیں میچی تھی وہ انکو وجہ نہیں بتا سکتی تھی
“بتاؤ تو نیلم کیا ہوا ہے ؟؟؟ ارقم سے شادی نہیں کرنی تم نے ہم جانتے ہیں ۔۔۔۔ میں اسامہ سے بات کرتی ہوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا میری جان۔۔۔ اچھا کچھ بولو تو یار ” حرا نے اسے سمجھانا چاہا تھا لیکن نیلم اسامہ کا نام سن کر ایک دفعہ پھر سارے زخم ہرے ہوئے تھے
“اسکی ضرورت نہیں ہے حرا میں ارقم کے ساتھ خوش رہوں گی ویسے بھی مجھے بابا کے فیصلے سے کوئی اختلاف نہیں ہے میں انکار نہیں کر سکتی …..” نیلم کی بات پہ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا تھا لائبہ کو تو شاک لگا تھا اس نے ان دونوں سے نظریں چرائی تھیں
“نیلم یہ یہ کیا کہہ رہی ہو تم ؟؟؟. تم نے خود کہا تھا اور اب یہ سب ایک دن میں ایسا کیا ہو گیا ؟؟” حرا نے سوال پوچھا تھا جبکہ لائبہ کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہے
“وہ بس وقتی جزبات تھے حرا۔۔۔۔۔ میرے اسامہ کے لیے ایسے کوئی جزبات نہیں ہیں لائبہ اگر میں کہوں کہ میں ارقم سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور یہ میرے دل کی خواہش ہے تو … ” اسنے حرا کو بتاتے بتاتے لائبہ سے سوال کیا تھا جبکہ اب لائبہ کا دل کیا تھا وہ وہاں سے بھاگ جائے لیکن یہاں اسکی دوست اس سے کچھ مانگ رہی تھی وہ بمشکل ہونٹوں پر مسکراہٹ لائی تھی
“ہاں تو جیسے سب ہو رہا ہے تو چلنے دیتے ہیں نا .. م مجھے تو ویسے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا چاہے ارقم ہو یا پھر ااسامہ .. ” اسنے بمشکل اپنی بات ختم کی تھی ہونٹوں سے مسکراہٹ ایک پل کیلیے بھی جدا نہیں کی تھی لیکن آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی حرا پریشان سی دونوں کو دیکھ رہی تھی
“تم دونوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے جانتی بھی ہو کیا اول فول بول رہی ہو ؟؟؟ نیلم اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤ مجھے اور تم لائبہ کیا بول رہی ہو پتا بھی ہے تمہیں ؟؟” حرا نے غصے سے دونوں سے پوچھا تھا جبکہ نیلم اب ٹیک لگا کر بیٹھی تھی
“حرا اس میں دماغ خراب ہونیوالی کون سی بات ہے جو سچ تھا بتا دیا ہے اور لائبہ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے جب ہمارے والدین اس بات پہ راضی ہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے اور بس اب ہم کوئی بات نہیں کریں گے اس بارے میں…” نیلم نے تو جیسے بات ہی ختم کی تھی حرا کا دماغ ابھی تک ماؤف تھا وہ دونوں پتا نہیں کیا کر رہی تھی
“ہاں حرا نیلم صحیح کہہ رہی ہے نا ہم ایسے ہی خوش ہیں چلو اب میں چلتی ہوں امی انتظار کر رہی ہوں گی …. ” وہ جلدی سے اٹھی تھی اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ ایک دفعہ دل کھول کر رویے لیکن یہاں نہیں دوستیں ہو کر بھی وہ ایک دوسرے سے اپنے دکھ چھپا رہی تھی وہ بھی اسلیے تا کہ وہ دونوں دکھی نا ہوں
“اچھا میں بھی آتی ہوں…. تم بھی آرام کرو … “حرا نیلم سے کہتی ہوئی لائبہ کیساتھ کمرے سے باہر آئی تھی
“میری تباہیوں میں تیرا ہاتھ ہے مگر
میں سب سے کہہ رہی ہوں مقدر کی بات ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی !!!” منان مشال بیگم کے پاس کچن میں آیا تھا وہ جو نیلم کے لیے یخنی بنا رہی تھیں اب منان کی طرف متوجہ ہوئی تھیں
“ہاں بولو کیا بات ہے ؟”
“امی آپ لوگوں نے بس رشتہ ہی لے کر جانا تھا ایمن کی طرف ؟؟؟ شادی نہیں کرنی کیا میری ؟؟؟” منان نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو مشال بیگم مسکرا دی تھیں
“اچھا جی ؟؟؟؟ رشتہ کر دیا ہے بہت نہیں ہے۔۔ صبر کر جاؤ تھوڑا بہن کو ٹھیک ہونے دو پھر سوچتے ہیں کچھ تمہارا بھی ” مشال بیگم نے کہا
“امی اسے تو آپ رہنے ہی دیں نا ۔۔۔ پڑھتی تو وہ ہے نہیں۔۔۔۔ فائنل سر پہ ہیں۔۔۔ لی ہو گی کوئی ٹینشن اس نے اور سارا دن میرا خراب کیا اس نے کل کا ہسپتال میں گزار کے “
منان چڑ کر بولا تھا اسے کیا معلوم تھا کہ نیلم کی اصلی حالت کس وجہ سے ہوئی تھی
“شرم کرو بہن ہے تمہاری وہ۔۔۔۔ اور تمہارے ہی کہنے پہ اس کو آڈمیشن ڈلوایا تھا بھول گئے ” مشال بیگم نے کہا تو منان اپنے بال بگاڑتا ہوا کچن سے چلا گیا تھا اور سامنے ہی اسے نیلم کے کمرے سے حرا اور لائبہ نکلتی ہوئی نظر آئی تھیں
“نیلم سو گئی ؟؟” حرا کو دیکھ کر سوال پوچھا تھا
“نہیں بس آرام کر رہی ہے ہم بعد میں آتے ہیں ” حرا لائبہ کہ کر جانے لگی تھیں کہ منان نے حرا کو آواز دے کر روکا
“وہ حرا مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی ” منان کی آواز سن کر حرا چونکی تھی ۔۔
“جی کیا ؟ “
” وہ۔۔ وہ مجھے ایمن کا نمبر چاہیے تھا۔۔ اتنے دنوں سے وہ سکول بھی نہیں گئی ورنہ میں لے لیتا اس سے خود ہی ” منان نے معصومیت سے کہا تو حرا ہنس دی تھی جبکہ لائبہ حیران ہوئی تھی
“اچھا اور ہم اپنی بہن کا نمبر آپ کو کیوں دیں ؟؟؟؟” لائبہ نے مداخلت کی تھی
“ارےےےے میری ہونے والی بیوی ہے میں کیوں نا لوں اس کا نمبر ؟؟؟” اس نے رعب سے کہا تھا
“ہیں ہیں ؟؟؟ ہونے والی بیوی یہ کب ہوا؟؟؟” لائبہ نے حیرت سے حرا کی طرف دیکھا تھا
اور اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“جس دن تم لوگوں کے گھر ارقم اور اسامہ کا رشتہ لائے تھے اسی دن یہ لوگ بھی آئے تھے ایمن کا رشتہ لے کر اور۔۔۔۔۔ اور ہاں ہو گئی ” حرا نے خوشی سے کہا تو منان مسکرایا تھا جبکہ لائبہ بھی اب دل سے مسکرائی تھی
“ارے واہ بھائی چھپے رستم نکلے آپ تو ” لائبہ نے شرارت سے کہا تھا وہ منان کیلیے دل سے خوش ہوئی تھی
“اچھا اچھا چلو بس۔۔ اب مجھے نمبر دو اس کا ” منان نے سنجیدہ ہو کر کہا تو حرا نے پھر اسے ایمن کا نمبر دیا تھا اور پھر وہ دونوں گھر چلی گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارقم چل آ یار اسامہ کے گھر چلتے ہیں پھر وہاں سے منان بھائی کے ہاں چلیں گے .. ” غازیان نے ارقم سے کہا تھا جو لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا اسکی بات پہ اسکے ساتھ چل پڑا تھا
“میں نے تو پرسوں شام کے بعد سے اسکی شکل بھی نہیں دیکھی کل بھی میں منان بھائی کیساتھ تھا اسنے کال بھی نہیں کی نیلم کیلیے پریشان ہو گا .. ” غازیان نے ساتھ چلتے ہوئے ارقم سے کہا تھا جس نے اسکی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا تھا
“پھپھو آپکے سپوت کہاں ہیں آجکل باہر نہیں نکل رہے ؟؟؟”. گھر کے اندر داخل ہوتے ہی مریم بیگم نظر آئی تھی تو ارقم نے ان سے پوچھا تھا
“ہوں کمرے میں ہی ہے کہہ رہا تھا سر میں درد ہے .” مریم بیگم نے کپڑے استری کرتے ہوئے کہا تھا وہ خود بھی بیٹے کی حالت کی وجہ سے پریشان تھیں وجہ تو وہ جانتی تھیں لیکن کچھ کر بھی نہیں سکتی تھیں
“اچھا ہم دیکھ لیتے ہیں. ” غازیان کہتا ہوا اندر کی طرف بڑھا تھا جبکہ ارقم بھی اسکے پیچھے گیا تھا
“ارےےے نازک کلی کیا ہو گیا ہے ؟؟؟؟ وہ تو ٹھیک ہو کر آگئی ہے تو یہاں بیمار ہو گیا یے … ” ارقم نے جلدی سے اسکے پاس بیڈ پہ لیٹتے ہوئے کہا تھا وہ جو آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر لیٹا تھا ایکدم اٹھ کر بیٹھا تھا آنکھیں اور ناک سرخ تھی ارقم نے اسکی طرف شاید دھیان نہیں دیا تھا لیکن غازیان چونکا تھا
“نہیں یار بس سر میں زرا سا درد تھا اس وجہ سے ..” اسنے خود کو نارمل بنانے کی کوشش کی تھی شاید وہ کامیاب بھی ہوا تھا غازیان نے بھی اسکے پاس جگہ سنبھالی تھی
“اچھا یہ بتا پھپھو سے بات کی تو نے ….؟؟” ارقم نے رازداری سے پوچھا تھا تاکہ آواز پھپھو تک نا پہنچے لیکن اسامہ نے گہرا سانس لیا تھا اب ان سب کو اپنا فیصلہ سنانا تھا صرف بتانا بھی نہیں تھا بلکہ یقین دلانا تھا
“کون سی بات ..؟؟؟ “وہ بلکل انجان بنا تھا جبکہ ارقم اور غازیان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“اسامہ انجان مت بن میں تیرے اور نیلم کے رشتے کی بات کر رہا ہوں” ارقم نے ابکی بار بغیر لگی لپٹی کہا تھا
“میں لائبہ سے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں…” دونوں کی سماعتوں پہ دھماکہ ہوا تھا
“اسامہ کیا بول رہا ہے یار ؟؟” ارقم نے اب سنجیدہ ہو کر کہا تھا
“یار میں نے ہی امی سے کہا تھا کہ وہ لائبہ کے گھر جا کر رشتہ مانگیں بس تم لوگوں کو خود نہیں بتا سکا مجھے لگا کہ ارقم لائبہ کو پسند کرتا ہے لیکن اب میں اور یہ بات نہیں چھپا سکتا م میں لائبہ کو ہی اپنانا چاہتا ہوں نیلم میرے ٹائپ کی نہیں ہے … ” اسامہ نے دل پہ پتھر رکھ کر بات مکمل کی تھی جبکہ ارقم تو شاک کی حالت میں اسے دیکھ رہا تھا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
“تو سچ میں لائبہ . س ے پیار کرتا ہے .. ” اسنے سنجیدگی سے سوال کیا تھا جبکہ غازیان اسامہ کے چہرے کے اتر چڑھاؤ دیکھ رہا تھا
“ہاں لیکن اگر تو کہے گا تو میں منع کردوں گا ..” اسامہ شاید جانتا تھا ارقم کبھی منع نہیں کریگا اور شاید وہ صحیح بھی ہوا تھا
“ارے میں کیوں منع کروں گا تو جان ہے اپنی اور مجھے کیا ہے بھئی شادی ہی کرنی ہے نا کسی سے بھی کرلوں گا بس لڑکی ہونی چاہیے … ” ارقم نے ہمیشہ کی طرح یہ بات بھی مزاق میں اڑائی تھی اور خود ہی قہقہہ لگایا تھا . لیکن ہنسی کھوکھلی تھی
آگے بڑھ کر زور سے اسامہ کو جپھی ڈالی تھی اور گال پہ پیار کیا تھا جب اسامہ نے اسکو پیچھے کیا تھا
“پراں مر منحوس …” اسامہ نے بھی شوخی سے کہا تھا اسے لگا تھا ارقم کو منانا سب سے مشکل ہو گا لیکن یہاں تو وہ ایکدم مان گیا تھا اسے یہی لگا تھا کہ ارقم اور لائبہ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے جبکہ غازیان ابھی تک ان دونوں کی حرکتیں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
“تم دونوں یہ ڈرامہ کرنا بند کرو میرے سامنے .. یہ کوئی کھیل ہے جب چاہو لڑکی بدل کو ..کیا بکواس کر رہے ہو؟؟” غازیان نے غصے سے دونوں کو کہا تھا
“ارے جانم کوئی مزاق نہیں ہے.. اسامہ تو اسکو سمجھا یار مجھے کوئی کام یاد آیا میں آتا ہوں .” ارقم کہتا ہوا باہر کی طرف بڑھا تھا
“ارقم ارقم رکو میں کہہ رہا ہوں ..” غازیان اسے آوازیں دیتا رہ گیا لیکن اس نے قدموں کو اور تیز کر لیا تھا باہر نکل کر آنکھ کا کونا صاف کیا تھا اور یہ جا وہ جا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *