Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27
بہت ہی اداس رات اتری تھی چنچل محلہ میں۔۔۔۔۔ آسمان پہ تو شام سے ہی کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور اب گرج چمک رہے تھے باہر کے ماحول میں تو شور شرابہ تھا لیکن سب کے دلوں کا موسم بلکل گم سم تھا خاموش بلکل کسی کا دل ٹوٹا تھا اور کسی نے دل توڑا تھا
غازیان بھی اپنے کمرے میں بیڈ پہ سر جھکائے بیٹھا تھا اسے بلکل امید نہیں تھی کہ حرا کے دماغ میں یہ سب چل رہا ہو گا وہ اپنی سوچوں میں اتنی دور نکل آئی تھی کہ ایک دفعہ غازیان سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا بس خود ہی فرض کر کے اسے حقیقت مان لیا تھا اور یہی بات غازیان کو سب سے زیادہ تکلیف دے رہی تھی اگر اسے کوئی بات کھٹک بھی رہی تھی تو وہ غازیان سے پوچھ لیتی لیکن یوں شک نا کرتی-
“اففف پاگل لڑکی . !!!!” اب کہی جا کر اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اسے خیال آیا
“کیسی عظیم سوچ کی مالک ہے میری بیوی دل تو ابھی بھی کر رہا ہے جا کے رکھ کر لگاؤں اسکو کیا سے کیا سوچتی رہتی ہے ” غازی نے سوچا تھا
“اب ضرور باہر بیٹھ کے آنسو بہا رہی ہوں گی اور اس ارقم کو تو میں سیدھا کرتا ہوں نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے تو بکواس کرنے کی عادت ہے لیکن میری بیگم کا تو کوئی جواب ہی نہیں ہے .ہر ایک کی بات پہ یقین کرنا ہے لیکن شوہر پہ نہیں کرنا” وہ طنزیہ مسکراتا ہوا اٹھا تھا تا کہ باہر سے اسکو لیکر اندر آ سکے لیکن باہر لاؤنج میں اسکو نا پا کر ایک اور جھٹکا لگا تھا باقی کمروں میں بھی چیک.کر کے وہ نہیں ملی تھی اب غازیان کا دماغ گھوما تھا
” کیا وہ واقعی کہیں چلی تو نہیں گئی تھی ؟؟” وہ ابھی سیڑھیاں اترتا کہ ارقم اوپر آتا دکھائی دیا تھا
“تو کدھر جا رہا ہے اب ؟؟” ارقم نے اسے نیچے اترتا دیکھ پوچھا تھا
“نہیں ادھر ہی ہوں میں …. تو کیوں پوچھ رہا ہے ؟؟” غازیان نے اسکو بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا ویسے بھی میاں بیوی کا معاملہ تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی اور تک بات جائے
“ویسے ہی تائی لوگ تو پہلے بھی گھر نہیں تھے حرا بھی تھوڑی دیر پہلے مائکے نکل گئی مجھے لگا تو بھی اسکے پیچھے جا رہا ہے ..” ارقم اسکو بتا رہا تھا آخری بات اسنے شرارت سے کہی تھی جبکہ غازیان کو پھر غصہ آیا تھا
“ہوں اچھا تو چھوڑ کے آجاتا میں نہا رہا تھا ورنہ میں خود چھوڑ آتا کافی دنوں سے نہیں گئی تھی آج دل تھا اسکا دیر ہو رہی تھی اسلیے اکیلی ہی نکل گئی شاید ” غازیان نے اسکو پوچھا تھا ابھی بھی اسے فکر تھی کہ وہ گھر ہی گئی ہے یا کہی اور . اسلیے بہانے بہانے میں اس نے ارقم سے پوچھا تھا اب وہ دونوں چلتے چلتے غازیان کے کمرے میں آ گئے تھے
“ہاں ہاں میں چھوڑ آیا تھا موسم خراب ہو رہا تھا نا امی نے کہا چھوڑ آئوں “. ارقم کی بات پہ اسے سکون آیا تھا لیکن ایک بار پھر غصہ آیا تھا
“تو میڈم چھوڑ کر چلی بھی گئی یعنی مجھ پہ یقین نہیں آیا . تمہیں تو میں صبح پوچھتا ہوں نا . ” غازیان نے دل ہی دل میں سوچا تھا جبکہ ارقم اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ بخوبی دیکھ رہا تھا
“تو کیا سوچ رہا ہے سب ٹھیک ہے ؟؟. ؟؟؟” اب اسکی نظر زمین پر پڑی پائل پہ پڑی تھی جو آج شام ہی تو غازیان لیکر آیا تھا اب صحیح معنوں میں اسے کچھ برا ہونے کا احساس ہوا تھا
“ہا ہاںں سب ٹھیک ہی ہے . ” غازیان نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا
“غازیان سچ بتاؤ تمہارے اور حرا کے بیچ میں کیا ہوا ہے اور یہ گفٹ تم لیکر آئے تھے ایسے کیوں پڑا ہوا ہے اور حرا بھی روئی روئی لگ رہی تھی پوچھا تو کہہ رہی تھی کہ زکام ہے لیکن زکام لگ تو نہیں رہا تھا. ” ارقم نے بھی اسی کے پاس بیٹھتے ہوئے سوال پو چھا تھا غازیان بھی جانتا تھا اب بات جانے بغیر تو اسنے پیچھا چھوڑنا نہیں ہے تو غازیان نے اسے ساری بات بتا دی تھی جبکہ ارقم بھی سر پکڑ کر رہ گیا تھا
“میں نے تو صرف مزاق میں کہا تھا . ” ارقم نے غازیان کے سخت تاثرات دیکھ کر صفائی پیش کی تھی اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اپنا غصہ اسی پر نا نکال دے
“پتا ہے مجھے تیری زبان پہ کھجلی کبھی ختم نہیں ہوتی ہر وقت بکواس کرنی ہوتی ہے لیکن ان میڈم کو دیکھو زرا شاباش ہے بھئی اسکی سوچ پہ…… میں نے تو اسلیے نہیں بتایا تھا کہ اسکو سرپرائز دوں گا لیکن یہاں تو ….. ” غازیان کے پاس تو الفاظ ہی ختم ہو گئے تھے کہ وہ کیسے اور کس پہ اپنا غصہ نکالے . بات کرتے اٹھ کر پائل اٹھائی اور جیب میں ڈالی تھی
“غازیان دیکھ تو غصہ مت کر اور جا کے لے آ حرا کو جو غلط فہمی ہے وہ دور ہو جائے گی ایسے غصہ کرنے سے بات زیادہ بڑھے گی ” . ارقم نے اسے اب سنجیدگی سے بتایا تھا وہ واقعی پریشان ہوا تھا اسے حرا سے اتنی بے وقوفی کی امید نہیں تھی
“ہوں لے آئوں گا صبح تو جا جا کے سوجا . ” اسنے ارقم کو کہا تھا اور خود لیٹ گیا تھا
“اچھا ایسا کر ادھر ہی سوجا . ..” خود ہی اپنی بات کی تردید کر کے اسے ادھر ہی سونے کی پیشکش کی تھی
“جیسے تو نا کہتا تو میں چلا ہی جاتا … ” وہ اسکو سناتا بیڈ کی دوسری طرف جا کر لیٹ گیا تھا
“کمینہ …” غازیان نے گالی سے نوازا تھا
“شکریہ … ” وہ بھی کہتا ہوا منہ سر لپیٹ کے سوتا بنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حرا بچے آؤ اندر آؤ !!” آسیہ بیگم دروازے پر حرا کو دیکھ کر حیران ہوئی تھیں اور اسے اندر آنے کو بولا تھا انہیں اسکی آنکھیں اور چہرہ دیکھ کر کچھ کھٹکا تھا اور اس وقت اسکا غازیان کے بغیر آنا وہ پریشان ہوئی تھیں
“غازیان نہیں آیا ؟؟؟” انہوں نے اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے سوال پوچھا .
“نہیں وہ گھر پہ کوئی نہیں ہے تو نہیں آیا وہ .. ” حرا نے آہستہ آواز میں کہا تھا غزالہ بیگم پاس ہی بیٹھی تھی جبکہ ایمن زرنش اور مناہل کمرے میں تھیں
“تو حرا تم بھی نا آتی ایسے اسکو اکیلے چھوڑ کر آ گئی ہو پھر کبھی آجاتی .” غزالہ بیگم نے اسکو سمجھانا چاہا تھا لیکن حرا میڈم کا دماغ تو آجکل واقعی انکے گھٹنوں میں تھا وہ تو یہ بات سن ہتھے سے ہی اکھڑ گئی تھی
“اچھا تو میں واپس چلی جاتی ہوں اگر اس گھر میں میری جگہ نہیں ہے تو…… بچہ تو نہیں ہے وہ جو گھر میں ڈر جائے گا “. حرا کی زبان کو تو بریک ہی نہیں لگ رہا تھا ایک تو وہ پہلے ہی پریشان تھی اوپر سے غزالہ بیگم کی یہ بات اسے اور آگ لگا گئی تھی
“حرا تمیز سے بات کرو شوہر ہے وہ تمہارا کیسے بات کر رہی ہو اسکے بارے میں اور امی نے ویسے ہی بات کی ہے فضول ہنگامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے” آسیہ بیگم نے اسے جھڑکا تھا جس پہ وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی تھی
“اچھا میں اندر جارہی ہوں مناہل کے پاس . ” وہ کہتی ہوئی اٹھ کر اندر کی طرف بڑھی تھی جبکہ آسیہ بیگم نے غزالہ بیگم کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا تھا جیسے کہہ رہی ہوں
“یہ نہیں سدھر سکتی ” ابھی غزالہ بیگم کچھ کہتی کہ دروازے پہ پھر دستک ہوئی تھی
“السلام علیکم “. حسن صاحب نے اندر آتے ہوئے سلام کیا تھا پھر ہاتھ سے شاپر آسیہ بیگم کو پکڑاتے ہوئے اندر آکر غزالہ بیگم کے ساتھ بیٹھے تھے جبکہ آسیہ بیگم کچن کی طرف بڑھ گئی تھی
“آسیہ باہر آئو مجھے کچھ بات کرنی ہے تم دونوں سے “. وہ سنجیدہ آواز میں بولے تھے
تو وہ بھی باہر آکر بیٹھی تھیں
“تم لوگوں نے ایمن کا رشتہ طے کیا ہے ؟؟؟” انہوں نے سنجیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال پوچھا تھا جس پہ آسیہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“مجھے ایک بات بتاؤ تم لوگ مجھے کچھ سمجھتے ہو کہ نہیں بیٹی ہے وہ میری باہر کے لوگ مجھے مبارکباد دے رہے ہیں اسکے رشتے کی اور مجھے کچھ پتا ہی نہیں ہے واہ بھئی ” حسن صاحب غصے سے بولے تھے جبکہ انکی آواز سن کے وہ چاروں بھی کمرے سے نکلی تھی
“حسن شور مت مچاؤ میں نے رشتہ طے کیا تھا آسیہ نے مجھے منع کیا تھا کہ تمہارے بغیر کوئی فیصلہ نا کروں لیکن رشتہ بہت اچھا ہے بار بار ایسے رشتے نہیں آتے اور تم منان کے بارے میں اپنے طریقے سے پتا کروا لینا اگر تمہیں اس میں کوئی برائی نظر آئی تو ہم منع کر دیں گے “. غزالہ بیگم نے انکو رسانیت سے سمجھایا تھا تو وہ بھی متفق ہوئے تھے اس بات پہ چہرے کے تاثرات نرم پڑے تھے
“وہ بات تو ٹھیک ہے امی لیکن آپ لوگ مجھے بتا تو دیتے ….. وہ تو مجھے شینو مبارکباد دے رہی تھی ابھی اور مجھے پتا ہی نہیں تھا.. “وہ بھی اب نرم لہجے میں بولے تھے پھر انکی نظر دروازے پہ کھڑی ان چاروں پہ پڑی تھی حرا کا دل زور سے دھڑکا تھا اسے لگا تھا کہ شاید آج وہ اس سے ملیں گے اسے اپنے سینے سے لگائیں گے لیکن اسکی خوشی چند لمحے ہی کی تھی وہ آگے بڑھے تھے مناہل اور زرنش کے سر پہ ہاتھ رکھ کے ان کی نظر حرا پہ پڑی تھی حرا نے آہستہ آواز میں سلام کیا تھا جسکا جواب بھی انہوں نے دیا تھا یا نہیں لیکن وہ اسکو دیکھ کر ایمن کی طرف بڑھے تھے اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا پھر اسے لیکر صوفے پر بیٹھے تھے جبکہ زرنش اور مناہل بھی ان کے ساتھ بیٹھی تھیں
ایک مکمل فیملی لگ رہے تھے وہ سب اس وقت حسن صاحب آہستہ آواز میں ایمن سے کوئی بات کر رہے تھے جبکہ زرنش اور مناہل ہنس رہی تھیں .
آسیہ بیگم کی نظریں اسکی طرف اٹھی تھیں کتنی آس سے وہ ان سب کی طرف دیکھ رہی تھی پھر خود ہی مڑ کر اندر کی طرف بڑھ گئی تھی وہ باہر جا کر حسن صاحب کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی جبکہ آسیہ بیگم کا دل بھی اب حرا کیلیے اداس ہو گیا تھا وہ جلد از جلد حرا کے پاس جانا چاہ رہی تھیں انہیں لگ رہا تھا کہ کوئی اور بات بھی ہے اسی لیے وہ تھوڑی دیر ان سب کے پاس بیٹھ کر حرا کے پاس اندر کمرے میں آ گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حرا . !!” انہوں نے حرا کو پکارا تھا جو آنکھوں پہ ہاتھ رکھے سیدھی لیٹی تھی بازو سے ہی آنکھیں اس انداز میں رگڑی تھیں کہ آنسو صاف ہو جائیں اور آسیہ بیگم کو پتا نا چلے لیکن وہ تو ماں تھیں انہوں نے بخوبی حرا کی اس حرکت کو دیکھا تھا
“کیا ہوا ہے بچے کوئی لڑائی ہوئی ہے غازیان سے …؟؟؟” ان کے پوچھنے پہ وہ جو ضبط کر کے بیٹھی تھی ایک دم اٹھ کر بیٹھی اور سسکیوں سے رونا شروع کیا تھا جبکہ آسیہ بیگم نے بھی جلدی سے دروازہ بند کیا تھا اور اسکے پاس بیٹھی تھیں
“حرا کیا ہوا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو ؟؟. ” انہوں نے بمشکل اسے سنبھالتے اور اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا
“امی وہ وہ غازیان ….. مجھے ….. طلاق دے دے گا …” روتے روتے اس نے بات مکمل کی تھی جبکہ آسیہ بیگم نے شاک سے اسکی طرف دیکھا تھا
“اللہ نا کرے حرا کیا اول فول منہ سے نکال رہی ہو توبہ کرو کیا ہوا ہے مجھے بات تو بتاؤ.” انہیں تو حیرت کا جھٹکا ہی لگا تھا
پھر حرا نے انہیں ساری بات بتائی تھی جبکہ آسیہ بیگم اپنا سر پکڑ کر رہ گئی تھیں نجانے کیوں انکی یہ بیٹی اتنی بے وقوف تھی
“بس چپ کرو حرا ایک غلطی تو تم کر ہی چکی تھی جبکہ اسکو سلجھانے کی بجائے تم ادھر آ گئی ہو تمہیں میں نے ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ اتنا منفی نا سوچا کرو لیکن تم خود ہی اپنی زندگی خراب کرنے پہ تلی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا میاں بیوی کے رشتے میں اعتبار سب سے بڑی چیز ہے اگر اس میں کھوٹ آ گئی نا تو رشتہ ختم ہونے میں وقت نہیں لگے گا اگر تمہارے دماغ میں اسطرح کی کوئی بات آ بھی گئی تھی تو بجائے کہ تم غازیان پہ شک کرتی تم اسے بتا دیتی حرا ۔۔۔۔۔ مرد سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنی تربیت اور اپنے کردار پہ اٹھتی ہوئی انگلیاں نہیں برداشت کر سکتا .. ” انہوں نے حرا کو سمجھایا تھا اور یہ باتیں تو حرا کو پہلے ہی سمجھ آ گئی تھیں لیکن اب وہ غلطی تو کر چکی تھی
“امی مجھے پتہ ہے میں نے غلط کیا ہے لیکن اگر اسنے مجھے واقعی طلاق دے دی تو …. ” حرا نے ڈرتے ڈرتے آسیہ بیگم سے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا
“حرا اچھی بات نکالو منہ سے ابھی تم سو جاؤ میں خود صبح غازیان سے بات کروں گی تم بھی معافی مانگ لینا بہت شریف بچہ ہے ایسا قدم نہیں اٹھائے گا تم ابھی بس چپ کرو اور سو جاؤ…” انہوں نے اسے تسلی دی تھی دل میں کہیں ڈر بھی تھا لیکن وہ غازیان کو بھی جانتی تھی انکا دل کہہ رہا تھا کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ نہیں کریگا اسلیے اسے لیٹا کر وہ بھی ڈھیروں سوچیں لیکر کمرے سے باہر آ گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“محبت دکھ تو دیتی ہے
مگر اک بات کہتی ہے
کہ جسکو چاہا جاتا ہے
ضروری یہ نہیں ہوتا
کہ اسکو پا لیا جائے
کبھی اسکے بچھڑنے سے
محبت کم نہیں ہوتی
زرا سی دیر پہلے تک
یہی احساس ہوتا ہے
کہ کوئی جی نہیں سکتا
مگر پھر رفتہ رفتہ
حقیقت کھل ہی جاتی ہے
کہ
محبت وہ نہیں ہوتی
جسکو پا لیا جائے”
رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی لیکن نیلم کی آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے اسے اسامہ کے الفاظ سن کر بھی اس سے نفرت نہیں ہوئی تھی باہر بارش بھی مسلسل برس رہی تھی اور نیلم کی آنکھوں سے بھی برسات جاری تھی دل پہ بہت گہری چوٹ لگی تھی اسامہ کے لفظوں نے اسے اپنی ہی نظروں میں گرا دیا تھا اسنے تو آج اس سے اظہار محبت کیا تھا اور اسنے کیا کہا تھا کیا وہ اسے اتنی گری ہوئی لڑکی سمجھتا تھا
اتنی ٹھنڈ میں بھی وہ فرش پہ بیٹھی تھی کوئی احساس نہیں ہو رہا تھا اسکو بس کانوں میں اسکے الفاظ گونج رہے تھے جو اسکی اذیت کو اور بڑھا رہے تھے
اور دوسری طرف وہ بھی تو تکلیف کی انتہا پہ تھا نیند تو اسکی بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اسکے دل سے بھی خون رس رہا تھا چت لیٹا مسلسل چھت کی طرف دیکھ رہا تھا آنکھوں میں آنسو نہیں تھے لیکن دل کے اندر طوفان برپا تھا اسکو اندر ہی اندر ملامت کر رہا تھا بین کر رہا تھا شکوہ کر رہا تھا لیکن آج تو اسامہ ابراہیم پہ دل کی کوئی بات ہی اثر نہیں کر رہی تھی .
خود کے الفاظ ہی اسکے کانوں میں گونج رہے تھے کہ کیسے اسنے اپنی ہی محبت کی تزلیل کی تھی دل کر رہا تھا وہ ابھی اسکے پاس جائے اور اس سے اظہار محبت کرے اسے بتائے کہ وہ اس سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے شاید اس سے بھی زیادہ – لیکن محبت حساب تو لیتی ہے یہاں بھی بیچ میں اسکی ماں کے الفاظ آگئے تھے اور اسامہ ابراہیم نے اپنی محبت کو قربان کر دیا تھا وہ اپنی محبت کو تو قربان کر سکتا تھا لیکن اپنی ماں کی تربیت پہ حرف نہیں آنے دے سکتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر رونے کا اثر تھا کہ وہ اب بخار میں تپ رہی تھی شاید ٹھنڈ کی وجہ سے یا دل میں لگے زخموں کی وجہ سے
مشال بیگم اسکے پاس بیٹھی تھی لیکن وہ تو ہوش و حواس سے ہی بیگانہ تھی
“منان گاڑی نکالو اسکا بخار تو کسی صورت کم نہیں ہو رہا چہرہ دیکھو میری بچی کا کیسا زرد پڑ گیا ہے” مشال بیگم نے پریشانی سے منان کو کہا تھا جو نیلم کے پاس ہی بیٹھا تھا ان کی بات پہ کمرے سے باہر نکلا تھا اور غازیان کا نمبر ملایا تھا
“ہیلو غازیان آج میں اور نیلم یونی نہیں جائیں گے تو تم باقیوں کو بتا دو کہ وہ لوگ خود ہی چلے جائیں .” منان نے غازیان کو کال کر کے کہا تھا کیونکہ وہ لوگ بھی اسی کیساتھ جاتے تھے لڑکے تو پھر بھی بائیک پہ چلے جاتے تھے لیکن لڑکیاں اسی کیساتھ گاڑی پہ جاتی تھی اسلیے اسنے اسے اطلاع کر دی تھی تا کہ انکی چھٹی نا ہو
“کیوں منان بھائی سب خیریت ہے ؟؟؟؟” وہ تو ابھی اٹھا تھا اور حرا کے گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا جب کال آئی تھی
“نہیں وہ نیلم کی طبیعت بہت خراب ہے میں اسکو لیکر جا رہا ہوں تو پتا نہیں واپسی کب ہو …” اسنے جلدی جلدی سے غازیان کو بتایا تھا تو غازیان نے بھی اسکی عجلت محسوس کرتے ہوئے زیادہ سوال نہیں کیے تھے
“جی اچھا میں کہہ دیتا سبکو “. کہہ کر اسنے کال بند کر دی تھی اور پھر نیچے آکر ارقم کو بتایا تھا اور حرا کے گھر کی طرف چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا اپنے کمرے میں بیٹھی سوچوں میں گم تھی کہ ایک دم زرنش اس کے کمرے میں آئی تھی
“حرا آپی غازیان بھائی آئیں ہیں آپ کو لینے کے لیے ” زرنش اداس ہوتی اس کے پاس جا بیٹھی تھی
“کیا غازیان آیا ہے اور وہ بھی مجھے لینے ؟؟؟؟؟” حرا کو تو جیسے یقین ہی نا آیا تھا وہ جو سمجھ رہی تھی کہ غازیان اب کبھی اس کی شکل تک نا دیکھے گا اور اسے طلاق نامہ بھیجے گا۔۔ اس کے آنے کا سن کر خوش ہوئی تھی
“جی اور آپ صرف ایک رات کے لیے آئی تھی آپی۔۔۔۔ ابھی ہم نے سہی سے باتیں بھی نہیں کی تھیں اور اب آپ جا رہی ہو ” زرنش صحیح معنوں میں اداس ہوئی تھی جبکہ اس کی بات سن حرا مسکرائی تھی
“ارے میری جان میں کون سا کہیں دور جا رہی ہوں یہ سامنے ہی تو ہے میرا گھر۔۔۔ آجایا کرو نا جب بھی مناہل تنگ کرے تو ” حرا نے زرنش کا موڈ ٹھیک کرتے ہوئے کہا تھا جبکہ آخری بات اس نے شرارت سے بولی تھی کیونکہ مناہل کو اندر کمرے میں آتا دیکھ چکی تھی
“کیا آپی آپ بھی نا۔۔۔ میں نہیں بلکل یہ چڑیل مجھے تنگ کرتی ہے ” مناہل نے مزاق سے کہا تھا جبکہ زرنش معصوم سی اسے سچ سمجھ بیٹھی تھی
“ہاؤوووو دیکھیں آپی یہ کتنا جھوٹ بولتی ہے ۔۔۔ توبہ توبہہ۔۔۔۔۔ اللہ میاں گناہ دیتے ہیں جھوٹ بولنے والے کو۔۔۔۔ امی نے بتایا تھا مجھے ” وہ معصومیت سے بولی تو مناہل اور حرا دونوں مسکرا اٹھی تھی
“اچھا جی امی کی چمچی ” مناہل نے اس کے بال بگاڑتے ہوئے پھر اسے تنگ کیا جس پہ زرنش پھر سے چڑی تھی
“آپی دیکھیں نااااا ” زرنش روہانسی ہو کر بولی تھی
“اچھا اچھا سوری ۔۔۔ اب نہیں کرتی ” حرا کو گھورتا پا کر مناہل ایک دم بولی تھی ورنہ آج اس کی شامت آجانی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان کافی دیر سے لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا چونکہ غزالہ بیگم بھی پاس تھیں تو آسیہ بیگم اس سے کوئی بات نا کر سکی تھیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ میاں بیوی کا مسلہ کسی تیسرے تک پہنچے اور پھر ہزاروں باتیں بنیں تو انہیں تو غازیان سے بات کرنے کا ارادہ ترک کر کے حرا کو سمجھانے کا سوچا تھا
“پتہ نہیں کہاں رہ گئی یہ لڑکیاں ۔۔۔۔ زرنش مناہل کو بھیجا تھا کہ حرا کو لے کر آؤ اور دیکھو زرہ باتوں میں لگ گئی تینوں …. میں بلا کر لاتی ہوں ” آسیہ بیگم اسے کہتی ہوئی اندر چلی گئی تھی جبکہ غازیان غزالہ بیگم سے باتوں میں مصروف ہوگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار یہ پیکٹ تو ختم ہو گیا ہے اور مجھے اور چاہیے کسی بھی حال میں ” زارون کو ایک دفعہ پھر نشے کی سخت طلب ہو رہی تھی پورے جسم پہ جیسے چیونٹیاں رینگ رہی تھی
“تجھے پتہ ہے نا یہ کتنی مہنگی آتی ہے
۔۔۔۔۔۔ اتنے پیسے تو ہیں ہی ہمارے پاس لیکن اگر یہ ختم ہو گئے پھر اور امی سے مانگے تو جوتے پڑنے ہیں کے باقی پیسے کہاں گئے “ہارون نے صورتحال بتائی تھی لیکن زارون کو رتی برابر اثر نہیں پڑا
“ہم کر لیں گے کچھ نا کچھ۔۔۔ ابھی مجھے بس وہ چاہیے مجھے لا کر دوووووو ” زارون بے بسی سے بولا تھا
ہارون کو کچھ عقل تھی اس لیے وہ کم نشہ کرتا تھا اور اس سے کتراتا تھا لیکن مکمل طور پر وہ ایسا نا کر سکتا تھا جبکہ زارون رہا عقل سے پیدل اور اپنے لڑکا ہونے پہ مغرور انسان وہ حد سے زیارہ نشہ کرتا تھا اور اب اسے اس چیز کی لت لگ گئی تھی
“تو مجھے لا کر دے رہا ہے یا نہیں ۔۔۔ ؟؟؟؟” زارون ہارون کو غصے سے بولا تو وہ بلآخر فائق کے پاس چلا گیا تھا اور اس سے پچاس ہزار کے دو پیکٹ لے آیا تھا جسے دیکھ پہلے تو زارون خوش ہوا تھا لیکن اسے پھر سے ہارون پہ غصہ آیا تھا
“کمینے۔۔۔۔۔ یہ کیا لایا ہے تو ؟؟ بس اتنی سی ؟؟ “
“بس اتنی سی بھی پچاس ہزار کی لایا ہوں میں …. اور پیسے نہیں تھے میرے پاس ۔۔۔ اسی پہ گزارہ کر ” ہارون نے زارون کو کہا تھا اور پھر وہاں سے چلا گیا تھا جبکہ زارون اب مکمل طور پہ نشے میں تھا۔۔۔ دنیا و جہاں سے بےخبر۔۔۔ نا ماں کو فکر اور نا ہی باپ کو ۔۔۔۔ اولاد کیا کرتی پھر رہی ہے اس سے کوئی سروکار نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو انہیں حرا زرنش اور مناہل ہنسی مزاق کرتی ہوئی دیکھائی دی تھی جبکہ حرا کو بھی ان کے ساتھ ہنستا دیکھ انہوں نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری تھی اور ڈھیر دعائیں دی تھیں وہ بس حرا کی بے وقوفیوں سے سخت پریشان تھیں
“ارے تم دونوں کو میں نے بھیجا تھا کہ حرا کو بلاؤ لیکن نہیں بجائے اسے لانے کے خود ہی اس کے ساتھ بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔ چلو باہر سارے ” آسیہ بیگم رعب سے بولی تھیں جسے سن زرنش اور مناہل کمرے سے باہر نکل گئی تھی لیکن حرا ہنوز وہیں کھڑی رہی تھی
“چلو نا حرا غازیان کب سے انتظار کر رہا ہے۔۔۔۔ اسے اتنا انتظار مت کرواؤ ” آسیہ بیگم نے اسے کہا
“امی میں ڈرتی ہوں اس کے سامنے جانے سے۔۔۔۔ نا جانے اس کا کیا ردعمل ہو گا اب ۔۔۔ رات کی تو بات اور تھی لیکن اب۔۔۔ میں سامنا نہیں کر پاؤں گی اس کا ” حرا کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے تھے
“دیکھو حرا۔۔۔ رات کو جو بھی ہوا اسے بھول جاؤ اور اس کے رویہ سے کہیں سے بھی ایسا نہیں لگ رہا کہ تم دونوں کی کوئی لڑائی ہوئی یا کچھ بھی۔۔۔۔ پرانی باتیں چھوڑو اور اپنی آگے کی زندگی کا سوچو حرا۔۔۔ اپنا بسا بسایا گھر تم خود اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر دو گی یہ اول فول سوچ کر۔۔۔۔ لہزا گھر جاؤ اور اسے منانے کی کوشش کرو۔۔۔۔۔۔ چاہے اس کے لیے تمہیں کتنے ہی پاپڑ کیوں نا بیلنے پڑیں۔۔۔۔۔ اپنے شوہر کو مناؤ حرا ورنہ مرد زات کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا ۔۔۔۔۔ سمجھ رہی ہو نا میری بات کو ۔۔۔۔” آسیہ بیگم نے اسے سمجھایا تو حرا نے اپنے آنسوصاف کیے تھے اور خود سے عہد بھی کیا تھا کہ اب وہ غازیان سے ضرور معافی مانگے گی
آسیہ بیگم کے ہمراہ حرا جیسے ہی کمرے سے نکلی غازیان نے اس پر صرف ایک بار نظر دوڑائی تھی اور وہ اسے بہت زیادہ ویک لگی تھی
“یہاں آکر رونے کا شگل مناتی رہی ہو گی یقینً یہ ” غازیان سوچتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا
“اچھا دادو۔۔۔ اب ہمیں چلنا چاہیے “
“ارے بیٹا رکتے تو۔۔۔ کھانا کھا کر جاتے نا ۔۔” غزالہ بیگم نے روکنا چاہا تھا
“نہیں دادو پھر کبھی سہی۔۔۔ چلو حرا میں باہر ویٹ کر رہا ہوں۔۔” غازیان کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا جبکہ حرا سب سے ملی اور پھر آسیہ بیگم نے اسے ایک بار پھر سے اپنی باتیں اسے یاد دلائی تھیں تو وہ بھی مسکراتی ہوئی غازیان کے ہمراہ گھر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارقم کو جب پتہ چلا کہ نیلم ہسپتال گئی ہوئی ہے تو اس نے فوراً اسامہ کو اطلاع دی تھی لیکن وہ یہ کہاں جانتا تھا کہ اسی کی وجہ سے وہ آج ہسپتال کی شکل دیکھ رہی تھی
اسامہ نیلم کا سن کر پریشان ہوا تھا اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی آخر کو اسی نے اسے اس حال کو پہنچایا تھا ۔۔۔۔۔ نیلم نے تو اظہارِ محبت بھی کی تھی لیکن اس نے کیا کیا تھا۔۔۔۔ اس کا دل توڑا تھا اس کی محبت کی بےحرمتی کی تھی ۔۔۔۔۔ ناجانے اب وہ اسے معاف کر بھی پائے گی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیوں رو رہے ہو اب تم اسامہ ؟؟؟؟ خوش ہو جاؤ پہنچ گئی وہ تمہاری وجہ سے ہسپتال توڑ دیا تم نے اسکا دل کیسی محبت کرتے ہو تم اس سے جس نے اسے ہسپتال پہنچا دیا !!!!!” وہ خود کو کوس رہا تھا.
جاری ہے
