Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20
شہر میں خوبصورت صبح اتری تھی بارش زورو شور سے جاری تھی شاید سردیوں کی پہلی بارش تھی اسلیے سردی بھی تھی
ہاں ایک فائدہ یہ ہوا تھا کہ بارش کی وجہ سے ڑیڑھی والوں کا شور نہیں تھا گلی میں ایک دم خاموشی تھی
حرا نے ابھی عائشہ بیگم کیساتھ مل کر ناشتہ بنایا تھا
“بھابھی!!! میرا بھی ناشتہ لے آئیں ” عاکف سکول کیلیے تیار ٹیبل پہ بیٹھتا ہوا بولا تھا مصطفی صاحب پہلے ہی ناشتہ کر رہے تھے ایک بندہ غائب تھا اور وہ غازیان
حرا نے ناشتہ ٹیبل پہ لا کر رکھا تھا لیکن غازیان کو نا دیکھ کر اسکو چڑ ہوئی تھی دو دفعہ وہ اسکو جگا چکی تھی
“امی آپ بھی بیٹھیں ناشتہ کریں..” غازیان کی دیکھا دیکھی وہ بھی اب ان دونوں کو امی اور بابا ہی بولتی تھی۔۔۔ وہ سب کو ناشتہ دیکر ایک دفعہ پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی ۔۔۔
کل رات کو ہی وہ دونوں اوپر اپنے کمرے میں آ گئے تھے ۔۔۔ کیونکہ جب سے ارقم نے سنا تھا کہ غازیان کو ڈاکٹر نے اب بلکل ٹھیک ہو جانے کا کہا تھا تب سے وہ اپنا کمرہ واپس لینے پہ تلا ہوا تھا اور آخر غازیان صاحب نے بھی بچارے پہ رحم کھا کر اسے اس کا کمرہ واپس دے دیا تھا
“غازی غازی اٹھ جاؤ گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہے ہو اٹھو … ” حرا اپنی ٹون میں بولی تھی اور آنکھیں بند کیے ہوئے ہی غازی کے منہ کے زاویے بگڑے تھے
“حرا اتنے مزے کا موسم ہے یار تم بھی انجوائے کرو اور آکر سوجاؤ .. ” تکیہ منہ پہ رکھے ہی اسنے حرا کو خوبصورت آئیڈیے سے نوازا تھا
” واہ جی واہ !!!! تم سے اسی چیز کی امید تھی مجھے ایسے کون انجوائے کرتا ہے موسم غازی ؟؟؟ اور ہمیں یونی بھی جانا ہے اٹھ جاؤ ورنہ میں تمہیں اٹھا کے پانی کے ٹب میں ڈال دوں گی ” حرا غصے سے بولتے بولتے کچھ زیادہ ہی بڑی دھمکی دے گئی تھی جسکا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا
غازی نے گردن اٹھا کر ایک ابرو اچکا کر غور سے اسے دیکھا تھا حرا کو اسکے دیکھنے پہ حیرت ہوئی تھی جو اسے سر سے پاؤں تک گھور رہا تھا
“سائز دیکھو اپنا اور میرا دیکھو اٹھا لو گی مجھے ….. ؟؟” سیریس انداز میں اسنے پوچھا تھا جبکہ حرا کا دل کیا تھا غازی کو واقعی اٹھا کر باہر پھینک دے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی
“خبر دار خبردار اگر تم واپس لیٹے تو …” اسے لیٹتا دیکھ حرا نے اسے خبردار کیا تھا لیکن وہ غازی ہی کیا جو سن لے
تھوڑی دیر بعد اسے ایسا لگا تھا جیسے وہ سمندر میں لہروں کے بیچ ہے گھبرا کے بستر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا بعد میں پتا چلا تھا کہ اسکی بیگم نے اسے صبح ہی صبح ٹھنڈ میں بستر پہ ہی نہلا دیا ہے
“یہ کیا حرکت تھی ؟؟؟”. اسنے غصے سے پوچھا تھا
“آہستہ بولو ورنہ بابا کو بتاؤں گی تم مجھے ڈانٹ رہے تھے ” اور یہ ایک اور دھمکی ملی تھی
“ہاں جیسے تمہیں میری ڈانٹ کا بہت اثر پڑتا ہے اور یہ مجھے دھمکی مت دیا کرو تم …”
“اچھا چھوڑو ایک بات تو بتاؤ .. ” غازی کی بات کاٹتے اسنے نہایت سنجیدگی سے غازی سے سوال پوچھا تھا وہ ایک دم اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا
“پوچھو…. ” اسکے ہاتھ سے کپڑے لیتے ہوئے پوچھا جو اسنے غازی کیلیے نکالے تھے
“یہ تم بچپن سے ہی اتنے ڈھیٹ تھے …؟؟” دانت نکال کر معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے سوال پوچھا گیا تھا نا چاہتے ہوئے غازیان کے ہونٹوں پہ مسکرایٹ پھیل گئی تھی
“شرم تو نہیں آتی شوہر کو ایسا کہتے ہوئے … ” غازیان نے مسکراتے ہوئے حرا کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے قریب کیا تھا
“نہیں بلکل بھی نہیں آتی اور اب اگر میرا یہ شوہر اگلے دس منٹ میں ناشتہ کیلیے باہر نا آیا نا تو مجھے اکیلے ناشتہ کرتے ہوئے بھی شرم نہیں آئیگی … ” حرا اسے کہتی ہوئی ایک جھٹکے سے اس کے آزاد ہوئی تھی اور ہنستی ہوئی کمرے سے باہر نکل.گئی تھی جبکہ وہ مسکراتے ہوئے کپڑے لیکر نہانے چلا گیا تھا
————————————
“امی آج میں اور حرا بائیک پہ ہی جائیں گے ویسے بھی اب میں ٹھیک ہوں تو چلا لوں گا” ناشتے کے بعد اسنے عائشہ بیگم کو بتایا تھا جو کچن میں سبزی کاٹ رہی تھی
“آج کیسے غازیان بارش بھی ہے بھیگ جاؤ گے تم دونوں . ایسا کرو منان کیساتھ گاڑی میں چلے جاؤ نا “
“نہیں امی بارش رک گئی ہے اور ہم لیٹ ہو گئے تھے تو اسلیے وہ سب چلے گئے ہوں گے ابھی تک یونی…. اب بائیک پہ ہی جائیں گے ہم ” اسنے ڈرتے ڈرتے بتایا تھا مبادا لیٹ ہونے پہ بے عزتی ہی نا ہو جائے
“ٹائم پہ تیار ہو جایا کرو غازیان بچی روز تمہیں جگاتے جگاتے تھک جاتی ہے ..”
“(ہوں انکی معصوم بچی . کیسی میسنی بنی رہتی ہے سبکے سامنے اور میں کچھ کہوں تو دھمکی دیتی ہے مجھے) .. “وہ خود سے ہی بڑبڑایا تھا
“کیا بول رہے ہو اونچا بولو .” اسکی بڑبڑاہٹ سن کر عائشہ بیگم نے اسکو کہا تھا
“کچھ نہیں اماں آئندہ جلدی تیار ہو جایا کروں گا اور حرا تم بھی آجاؤ یار میں بائیک نکالتا ہوں ” وہ ان دونوں سے کہتا ہوا نیچے اترا تھا جبکہ حرا بھی اسکے پیچھے آئی تھی سفید شلوار کیساتھ گلابی قمیض پہنے اور سفید ہی دوپٹہ سر پہ ٹکائے وہ بہت معصوم لگ رہی تھی ہاں آج ایک شال کا بھی اضافہ تھا جو اسنے ساتھ لپیٹ رکھی تھی
حرا کے بیٹھنے کے بعد اسنے بائیک آگے بڑھائی تھی
————————————————-
“مسٹر ارقم !!!”
“ی یس سر ..؟؟” وہ جو موبائل پہ ٹک ٹاک دیکھ رہا تھا سر افضال کی آواز پہ یکدم ہڑبڑا کر کھڑا ہوا تھا
“سمجھ آرہی ہے آپکو جو میں نے سمجھایا .؟؟” انہوں نے بوڑڈ پہ حل ہوئے سوال کی طرف اشارہ کر کے پوچھا تھا اور ارقم بچارے کو تو پتا بھی نہیں تھا کہ یہ ہوا کیا
“ن نہیں سر .” نہایت معصومیت سے سر جھکا کر جواب دیا تھا
“کہاں سے نہیں سمجھ آئی آپکو ؟؟” سر نے بھی شاید اسکی معصوم شکل دیکھ کر اپنا لہجہ نرم کیا تھا
“سر وہ….. شروع سے ہی نہیں آئی . ” اب وہ کیا کہتا اسلیے سچ بولنے میں ہی عافیت جانی جبکہ سر کے ماتھے پہ بل پڑے تھے
“تو آپ نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں ؟”
“سر وہ مجھے لگا کہ آپ جب سارا سمجھا لیں گے تو پوچھوں گا ایسے آپ ڈسٹرب ہوں گے “. کیا کیا بہانے ہوتے تھے ان سب دوستوں کے پاس ابھی بھی وہ شاید اپنے بہانے میں کامیاب ہوا تھا
“نہیں سٹوڈنٹس آپکو جہاں سے سمجھ نہیں آتی وہاں مجھے روک کر پوچھیں میں آپکو سمجھا دوں گا . … انڈرسٹینڈ !!” سر نے ساری کلاس کی طرف دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا تھا
“یس سر !!! ” سب سے اونچی آواز ارقم کی ہی نکلی تھی
“اوکے ارقم آپ یہاں فرنٹ پہ آکر بیٹھ جائیں .. یہاں سے صحیح سمجھ آئے گی ” اب سر نے ارقم کو مخاطب کر کے کہا تھا جو سب سے آخر میں اسامہ لوگوں کیساتھ بیٹھا تھا غازی اور حرا ابھی تک نہیں آئے تھے اسنے حیرت سے سر کو دیکھا تھا
“سر میں ….. ؟؟” نہایت ہی بونگا سوال پوچھا تھا جبکہ سر نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا تھا
“اس کلاس میں فلحال مجھے آپکا ہی نام مبارک یاد ہوا ہے اسلیے آپکو ہی کہہ رہا ہوں تشریف لے آئیں ” نہایت ہی ادب سے طنز کیا تھا جبکہ وہ بیچارا مجبوری میں سبکو چھوڑ کر سر کے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھا تھا
“مے آئی کم ان سر ؟؟” غازیان کی آواز پہ اب پوری کلاس اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی حرا بھی اسی کے پیچھے کھڑی تھی
“جی کیا نام ہے آپکا ؟؟ سر کو شاید انکا لیٹ آنا پسند نہیں آیا تھا اسی لیے دونوں سے سوال پوچھا تھا
“غازیان مصطفی “
“جی اور آپ ؟؟”
“حرا …” نام بتا کر بھی دونوں دروازے پہ ہی کھڑے تھے جبکہ ارقم کی تو بتیسی ہی اندر نہیں جارہی تھی شکر اسکو چھوڑ کر بھی کسی کی شامت آئی تھیی
“کلاس کا کیا ٹائم ہے ؟؟” سر نے سوال پوچھا
“سر 10 بجے ” غازیان نے جواب دیا
“اور اب کیا وقت ہورہا ہے ؟؟”
“11 بج رہے ہیں ” حرا بولی تھی
“آج پہلی دفعہ ہے اسلیے چھوڑ رہا ہوں آئندہ لیٹ آنے پہ کلاس سے باہر ہی رہنا پڑے گا آئیں بیٹھ جائیں “
وہ دونوں بھی سب سے پیچھے آکر اسامہ نیلم اورلائبہ کیساتھ ہی بیٹھ گئے تھے جبکہ ارقم بیچارا اتنا سا منہ لیکر رہ گیا تھا جو انکو اشارے کر رہا تھا کہ وہ اسکے ساتھ آکر بیٹھیں آگے
کلاس ختم ہونے میں تھوڑا ہی ٹائم رہ گیا تھا جبکہ ارقم کا موبائل مسلسل وائبریٹ کر رہا تھا لیکن وہ چیک نہیں کر سکتا تھا کیونکہ پوری کلاس میں سر کی نظریں بار بار اس پر آکر رک رہی تھی اور وہ بیچارا یا تو انکو دیکھ کر مسکرا دیتا تھا یا سر ہلا دیتا تھا
سر لیکچر دیکر اپنی چیزیں سمیٹ رہے تھے تب ارقم نے جلدی سے اپنا موبائل چیک کیا تھا اور تب صدمے سے اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں جہاں انکے واٹس ایپ گروپ میں منے کے برگر کی تصویریں تھیں شاک کی بات یہ نہیں تھی کہ برگر کی تصویریں تھی بلکہ یہ تھی کہ وہ کھا کھا کر اسکو تصویریں بھیج رہے تھے اب اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا
“تم لوگوں نے میرے حصے کا بھی کھا لیا کیسے کوئی بے صبرے ہو تم سب کے سب .غازی میں تائی کو بتاؤں گا دیکھنا تم .. ” ساری کلاس کے سامنے وہ کھڑا ہو کر اونچی آواز میں بولا تھا جبکہ ساری کلاس کے قہقہے گونجے تھے جبکہ ان سب کی شاکی نظریں اپنے پیچھے محسوس کر کے اسنے زور سے آنکھیں میچی تھی اور زبان دانتوں تلے دبائی تھی
“ستیاناااس ارقم تیرا ….
س سوری سر …” آرام سے پیچھے مڑ کے اسنے سر کو سوری کیا تھا جو حیران سے اس عجیب مخلوق کو دیکھ رہے تھے جو اب انکے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا کچھ بولے بغیر ہی انہوں نے نفی میں سر ہلایا تھا اور کلاس سے باہر نکل گئے تھے لیکن غصے کی بجائے انکے ہونٹوں پہ دھیمی سی مسکراہٹ تھی
—————————————
“ارقم مان جا یار سوری نا ہم تو مزاق کر رہے تھے .. … “وہ کب سے منہ بنا کر بیٹھا ہوا تھا روٹھی ہوئی محبوبہ کی طرح اور وہ پانچوں اسکی منتیں کر رہے تھے
“نہیں کیوں مان جاؤں میں تم لوگوں کی وجہ سے آج وہ مجھے زندہ نگلنے والے تھے ہائے شکر میں بچ گیا تم لوگوں نے انکی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا کیسے گھور رہے تھے شکر میں بچ گیا .. ” اسکی ایکٹنگ عروج پہ تھی جبکہ وہ سب مجبوری میں اسے برداشت کر رہے تھے اسے ناراض بھی تو نہیں رکھ سکتے تھے
“اچھا تو تم بچ گئے نا اب اٹھو یہاں سے …. ” حرا نے اسے کہا تھا وہ کلاس کے سامنے نیچے زمین پہ بیٹھا ہوا تھا اور سب آتے جاتے اسے دیکھ رہے تھے اسی لیے وہ سب اسے منتیں کر رہے تھے کہ یہاں سے اٹھے
“چلو وہ تو میں مان بھی جاؤں تم لوگوں نے میرے لیے برگر بھی زرا سا چھوڑا یہ اتتتوووو سا برگر تھا خود تم لوگوں نے اتنا سارا کھایا ہائے یہ دیکھنے سے پہلے اسامہ گر کیوں نہیں گیا .. ” بات کرتے کرتے اسنے اسامہ کو کہہ دیا تھا ظاہر ہے خود کو تو وہ گرانے سے رہا جبکہ اسامہ کا حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
“ارقم ہم سب نے اتنا ہی کھایا ہے صرف تین برگر تھے وہ آدھے آدھے کھائے “. نیلم نے بھی اپنی سی کوشش کی تھی کہ وہ شاید اٹھ جائے لیکن نا جی ….. وہ اسی طرح منہ پھولا کر بیٹھ کر گیا تھا
“اچھا چلو بیٹھا رہے یہ ہم تو چلیں نا .. اسکو رہنے دو “. اسامہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا جبکہ اس بیچارے کا صدمے سے منہ ہی کھلا رہ گیا تھا .
“ہاں ہاں اب چھوڑ کے چلے جاؤ مجھے …. سوتیلا ہوں نا میں… نہیں آئوں گا یہاں ہی بیٹھا رہوں گا میں..” اسنے زور لگا کر کہا تھا جب لائبہ اسکے پاس آئی تھی
“اٹھو ارقم میں تمہیں شام میں برگر کھلا دوں گی ” لائبہ نے آخری حربہ آزمایا تھا جو شاید کام بھی کر گیا تھا
“کیا سچ میں … ؟؟” بتیس کے بتیس دانت نکال کر اسنے لائبہ سے پوچھا تھا اور لائبہ کا دل کیا تھا بیگ اسکے منہ پہ مار دے لیکن اسے بھی مجبوری سے مسکرانا پڑا تھا
“ہاں سچ میں چلو اٹھو ..” لائبہ نے ہاتھ دیکر اسے اٹھایا تھا اور پھر وہ بھی ان چاروں کے پیچھے چلے گئے تھے
——————————————
رات کو جب وہ لوگ کھانا کھا چکے تھے تب حرا کچن میں چلی گئی تھی جبکہ غازیان کمرے میں تھا
حرا جب کچن سنبھال کر کمرے میں آئی تو غازیان بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا حرا کو آتا دیکھ فوراً اٹھ بیٹھا تھا
“یار مجھے نیند نہیں آ رہی ” غازیان اداس ہوتے ہوئے بولا
“لیکن مجھے بہت زیادہ نیند آ رہی ہے اس لیے چپ کر کے سو جاؤ ” حرا بیڈ پہ لیٹتے ہوئی بولی تھی اور غازیان کی طرف اپنی پیٹھ کر دی تھی
“یار۔۔۔۔ چلو نا کچھ کھیلتے ہیں ” غازیان نے اس کا کندھا ہلایا تھا مبادہ وہ سو ہی نا جاتی
“کیا مسلہ ہے۔۔۔؟؟؟ تمہیں نیند نہیں آ رہی نا لیکن مجھے تو آ رہی ہے اور یہ کون سا وقت ہے گیم کھیلنے کا ” وہ جھنجھلا کر بولی تھی
“پلیز نا ۔۔۔۔۔ ” غازیان نے منت بھرے لہجے میں کہا تو وہ بھی آخر اس پہ ترس کھاتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی
“اچھا بتاؤ کیا کھیلنا ہے ؟؟؟”
“ٹروت آینڈ ڈیئر ” دانٹ نکالتے ہوئے بولا گیا تھا جبکہ حرا کا دل کیا تھا کہ وہ اپنا سر پیٹ لے
“اچھا بتاؤ کوئی کام یا کوئی سوال پوچھو ” غازیان نے کہا تھا
“اممممم۔۔۔ پکی بات ہے کہ وہ کام کرو گے یا اس سوال کا جواب دو گے ؟؟” حرا نے اس سے پوچھا تھا کہ کہیں یہ نا ہو کہ وہ کام یا سوال سن کر انکار ہی نا کر دے کہیں
“ہاں ہاں پکا۔۔۔ ہم سوال کا صحیح صحیح جواب بھی دیں گے اور دیا ہوا کوئی کام بھی کریں گے۔۔۔ “
“اوکے ڈن ” حرا خوشی سے بولی تھی
“چلو پوچھو۔۔۔۔۔ یا میں شروع کروں ؟؟” غازیان نے حرا کو سوچتا پا کر پوچھا تھا
“نہیں نہیں میں پوچھتی ہوں ۔۔۔ اچھا پھر غازیان صاحب آپ کے لیے ایک کام ہے “
“اللہ خیر بتائیے بیگم صاحبہ ” وہ گرم جوشی سے بولا تھا
“کام یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ میرے سر میں بہت درد ہے ۔۔ پلیز دبا دو ” حرا کے دیے گئے کام کا سن کر غازیان کا دل کیا تھا کہ وہ حرا کا گلا دبا دے۔۔۔
“یہ کام ہی رہ گیا تھا مجھے دینے کو ۔؟؟؟” وہ غصے سے بولا تھا جبکہ حرا کا قہقہہ گونجا تھا
“اب مکرنا نہیں ہے جی ۔۔۔ چلیے کریے کام ” حرا ہنسنے لگی تھی جبکہ غازیان بھی پھر آخر کیا کرتا۔۔۔ اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار تو چکا تھا اب کام بھی کرنا ہی تھا
غازیان نے جیسے ہی حرا کا سر دبانا شروع کیا تھا حرا نے پہلے تو اپنی آنکھیں بند کر دی تھیں لیکن پھر ایک جھجھک کے تہت اس نے ایک دم آنکھیں کھولی تھی
“بس ۔۔۔ ٹھیک ہے “
“ارے کیا ہوا سر دبانے تو دو ۔۔۔” غازیان حیران ہوا تھا کہ اسے کیا ہوا ایک دم لیکن حرا نا جانے کیوں اداس ہو گئی تھی ایک دم اس کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے جیسے اس نے فوراً چھپا لیا تھا
شاید آسیہ بیگم کی یاد ستائی تھی۔۔ اکثر وہی اس کا سر دبایا کرتی تھیں جب بھی اس کے سر میں درد ہوتا یا جب بھی اسے نیند نہیں آتی تھی آسیہ بیگم کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہی حرا پرسکون ہو جاتی تھی لیکن وقت ایک جیسا تو نہیں رہتا
“کیا ہوا ۔۔ کہاں کھو گئی ؟؟” اس نے حرا کے سامنے ہاتھ ہلا کر پوچھا تو وہ حال میں واپس آئی
“نہیں کچھ نہیں۔۔ چلو اب تمہاری باری “
“حرا کیا بات ہے یار۔۔۔ بتاؤ مجھے کیوں پریشان ہو تم۔۔۔ کیوں تم اپنے گھر والوں کا سوچ کر روتی ہو ؟؟ تمہارے بابا کا ایسا رویہ کیوں ہے تمہارے ساتھ؟؟ بتاؤ مجھے پلیز ۔۔۔ اپنے اندر کا سارا غبار نکال دو آج پلیز ۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم اکیلے میں بیٹھی روتی رہتی ہو۔۔۔ کیوں حرا کیوں ؟؟؟؟”آخر آج غازیان نے اس سے سارے سوال کر ہی ڈالے تھے جن کا جواب دینا حرا کے لیے مشکل تریں کام تھا
“غازیان ” حرا نے روتے ہوئے کہا تھا
“حرا بتاؤ مجھے پلیز۔۔۔” غازیان نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا تھا اسے دلاسہ دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سال پہلے
“مبارک ہو اماں !!! آپ کا تیسرا پوتا ہوا ہے ” حسن صاحب چہکتے ہوئے غزالہ بیگم کے پاس آئے تھے اور انہیں خوشخبری سنائی تھی
وہ لوگ اس ٹائم ہاسپٹل میں تھے جبکہ شائستہ بیگم اندر ورڈ میں تھیں اور ڈاکٹر نے بچے کا چیک آپ کیا تھا جس سے پتہ چلا تھا کہ پریمیچور دلیوری کی وجہ سے اس کے بچنے کے چانسس کم ہیں ۔۔۔ یہ بات ڈاکٹر نے شائستہ بیگم کو بتائی تھی اور انہوں نے اور کسی کو بھی یہ بات بتانے سے منع کیا تھا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ بات حسن کو یا غزالہ بیگم میں سے کسی کو بھی پتہ چلے وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو ہسپتال میں نہیں رکھنا چاہتی تھی اگر وہ کسی کو بتا دیتیں کہ بچہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ لوگ انہیں بچے کو ہسپتال میں رکھنے پر مجبور کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو وہ کیسے آسیہ کو جلاتی اسلیے وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد اسکو لیکر گھر جائیں
دو دن بعد وہ گھر آ گئی تھیں اور اس دن ان سے ملنے سب لوگ آ رہے تھے ۔۔۔ شائستہ بیگم جو کہ کمرے میں تھیں زویان کے ساتھ اسے بیڈ پہ چھوڑ کر خود تیار ہونے لگی تھیں جبکہ زویان کا رو رو کر برا حال تھا
حرا ان کے کمرے میں آئی تھی زویان کو روتا سن کر۔۔۔ کمرے میں آئی تو زویان رو رو کر خودی چپ ہو چکا تھا حرا نے جیسے ہی اسے اٹھایا اسے لیے باہر کی طرف بھاگی تھی
“ابا ابا۔۔۔ اسے دیکھیں یہ سانس نہیں لے رہا ” حرا ڈرتے روتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کی بات سن کر سب اکٹھے ہوئے تھے حسن صاحب بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے تھے اور حرا کی گود سے زویان کو لیا تھا
اتنی دیر میں شائستہ بیگم بھی کمرے سے باہر آئی تھی
“کیا ہوا ہے اتنا شور کیوں ہے اور اور یہ باہر کیسے آیا ؟؟؟” وہ لاتعلقی سے بولی تھیں
“شائستہ دیکھو نا یہ سانس نہیں لے رہا ابھی حرا لائی اسے باہر ” حسن صاحب کی آواز میں کپکپاہٹ تھی
“پٹاخخخ ” ایک آواز گونجی تھی لاؤنج میں جس سے سب نفوس حیران تھے
“تمہیں شرم نہیں آتی ؟؟؟ اتنی تکلیف تھی اپنے بھائی کے ہونے کی تو ہمیں کہتی نا ۔۔۔ مجھے مار دیتی۔۔۔ لیکن اس ننھی سی جان کو کیوں مارا تم نے ” شائستہ بیگم کے آیکٹینگ عروج پہ تھی
“یہ کیا کہ رہی ہو شائستہ ؟؟؟ حرا ایسا کیوں کرے گی ؟؟؟ ” آسیہ بیگم نے کہا تھا
“امی امی میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ وہ میں۔۔۔۔ ” حرا نے اپنی صفائی پیش کرنا چاہی تھی لیکن اس کی بات سننے والا تھا ہی کون ؟؟
“حسن آپ مان لیں یہ ہے ہی منحوس اسی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اسی نے میرے بچے کو میرا ہے .” شائستہ بیگم چیخ رہی تھی ایک پل کیلیے حسن صاحب نے بھی یقین کیا تھا لیکن پھر سر جھٹک دیا تھا
“شائستہ اسکی زندگی اتنی ہی تھی تم رو مت ہمارے دو بیٹے ہیں نا ہمارے ساتھ” . انہوں نے شائستہ بیگم کو حوصلہ دیا تھا
“حسن جلدی چلیں ڈاکٹر کے پاس ” وہ روتے ہوئے بولی تھیں اور پھر وہ دونوں ڈاکٹر کے پاس گئے تھے جہاں پتہ چلا تھا کہ زویان اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔۔۔ شائستہ بیگم کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔ اب وہ آنسو سچ تھے یا جھوٹے اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا
ایسے ہی وقت گزرتا رہا تھا اور سب نارمل ہو گیا تھا کہ ہارون اور زارون کی آٹھویں سالگرہ تھی جو کہ انہوں نے گھر میں منعقد کی تھی سب کو بلایا تھا
ہارون اوپر اپنے کمرے میں تھا جب اسے آواز دے کر نیچھے بلایا گیا تھا ابھی وہ سیڑھیاں اتر ہی رہا تھا کہ حرا اور آسیہ بیگم وغیرہ گھر میں داخل ہو رہی تھی اور اسی وقت ہارون سیڑھیوں سے گر گیا تھا پاؤں مڑنے کی وجہ سے لیکن اس واقعے کا قصور وار بھی شائستہ بیگم نے حرا کو ٹھہرایا تھا کہ
“میں نے کہا تھا نا یہ ہے ہی منحوس دیکھ لو اسے بھی گرا دیا زویان کو مار دیا تھا اس نے اب اسکو بھی گرا دیا “
حسن صاحب کو بھی اب انکی باتوں پہ یقین آنے لگ پڑا تھا
“تم لڑکی نکلو یہاں سے نکلو اس گھر سے شکل مت دکھانا آئندہ مجھے اپنی منحوس میرے بیٹوں کے پیچھے پڑی ہے”
چھوٹے ہونے کے باوجود یہ الفاظ اسکے دماغ میں بیٹھ گئے تھے اسکے باپ نے یہ الفاظ بولے تھے اور آج تک بولتا آرہا تھا
“حرا ہے ہی منحوس ۔۔۔ اس کے گھر میں آتے ہی میرا بچہ گر گیا ” شائستہ بیگم نے خوب جلی کٹی سنائی تھیں جن میں اب غزالہ بیگم اور حسن صاحب بھی شامل تھے
پہلے تو انہیں ان باتوں پہ یقین نا آیا تھا لیکن جب شائستہ بیگم کی باتیں سنی تھی انہیں بھی کہیں نا کہیں حرا ہی ان سب کی قصور وار لگی تھی
وہ دن تھا اور آج کا دن حسن صاحب نے کبھی بھی حرا کو ان سب سے ملنے نا دیا تھا
……………………
“میری دادی کو ہم لڑکیاں بلکل بھی پسند نہیں تھیں۔۔ انہیں صرف پوتا چاہیے تھا جو کہ میری امی نا دے سکیں تھی ۔۔۔ بس تب سے انہیں ہم سب بہنوں سے غیر تھا اور پھر انہوں نے ابا کی دوسری شادی کروا دی جن سے انہیں ایک نہیں بلکہ دو دو پوتے ملے۔۔۔ اس کے بعد سے انہوں نے ہمیں کچھ سمجھا ہی نہیں تھا غازیان۔۔۔۔ ہم بہنیں باپ اور دادی کے پیار سے ہمیشہ سے ہی نا واقف رہے ہیں ۔۔۔۔ ترستے تھے ہم ان کی ایک پیار بھری نظر کے لیے لیکن بے سود۔۔۔۔” اور پھر حرا نے سائستہ والا واقع غازیان کو سنایا تھا جس سے غازیان کو سخت غصہ آیا تھا لیکن حرا کے سامنے چھپا گیا تھا جبکہ حرا روتے ہوئے سب کچھ بتا رہی تھی
غازیان نے حرا کو اپنے کندھے سے لگایا تھا اسے دلاسہ دیا تھا اور اپنے اس کے پاس ہونے کا احساس دلایا تھا جبکہ حرا غازیان کے کندھے پہ سر رکھتے روتے روتے ہی سو گئی تھی
“مجھے معاف کر دینا حرا۔۔۔ میں نے تمہیں رلایا اس وقت لیکن یہ بہت ضروری تھا تمہارے لیے۔۔۔ ورنہ تم یہ سب سوچ سوچ کر کبھی آگے نا بڑھ سکتی ۔۔۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں بہت پیار دوں گا اور تمہاری عزت پہ آنچ تک نہیں آنے دوں گا۔۔۔ جن رشتوں کے لیے تم ترسی ہو نا تمہیں وہ سب لوٹاؤں گا “
غازیان حرا سے کہتا ہوا خود بھی نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا.
جاری ہے
