Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30

وہ سب یونی پہنچے تو انہوں نے ایک دوسرے سے بات تک نا کی تھی
نیلم اور اسامہ کی ایک بار نظریں ملی تھیں اور نیلم کی آنکھوں کی نیچے ہلکے اور کمزوری دیکھ اسامہ کے دل پہ بوجھ سا پڑا تھا اسے بہت برا لگ رہا تھا اسے اب اندازہ ہو رہا تھا کہ جو کچھ بھی اس نے نیلم سے کہا تھا وہ سب اسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔۔ بلکہ نیلم کو سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہیے تھا جبکہ نیلم نے صرف ایک نظر اسے دیکھ کر آنکھیں جھکا لی تھیں
“مجھے نیلم سے بات کرنی ہو گی ” اسامہ کلاس میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ اب وہ کسی نا کسی طرح نیلم سے بات ضرور کرے گا اور اسے اپنے دل کا حال بھی بتائے گا کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔ دو دن سے اگر نیلم بیمار تھی وہ اداس تھی تو اسامہ کا بھی برا حال تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے تیسے کر کے کلاس ختم ہوئی تو اسامہ نیلم کی طرف بڑھا ہی تھا کہ غازیان نے اسے روک دیا تھا
“کہاں جا رہا ہے ؟؟؟؟” اسامہ کو کہیں جاتا دیکھ غازیان نے پوچھا
“مجھے اس سے بات کرنی ہے غازیان۔۔۔ میں اسے ایسے دیکھ کر سکون میں نہیں ہوں۔۔۔ مجھے اسے اپنے دل کا حال بتانا ہے یار ….. وہ مجھے معاف کر دے گی نا مجھے پتا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا رشتے طے ہیں لیکن میں بس اسکو سب بتانا چاہتا ہوں وہ سمجھ جائیگی نا میری بات ” اسامہ نے غازیان کے گلے گلتے ہوئے پوچھا تھا جبکہ آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا وہ ان دنوں بلکل ایک چھوٹا بچہ بنا ہوا تھا جسکے بات بات پہ آنسو نکل آتے تھے
” وہ تجھے ضرور معاف کرے گی لیکن ابھی تو اس سے بات مت کر ۔۔۔۔۔ میں جاتا ہوں اس کے پاس ساری بات بتاتا ہوں پھر جائیں تو ” غازیان نے اسے روکنا چاہا تھا کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ معاملہ سلجھنے کے بجائے اور خراب ہو اس لیے اس نے خود جا کر نیلم کو سب کچھ بتانا مناسب سمجھا تھا ابھی یہ بھی تو کنفرم نہیں تھا کہ سلیم صاحب انکے والدین کو منا لیں گے یا نہیں ورنہ وہ اسامہ کو سلیم.صاحب کے آنے کا مقصد بتا دیتا
“لیکن یار !!! “
“بس۔۔۔ میں نے کہا نا میں کرتا ہوں بات اس سے۔۔۔ کلاس ویسے بھی آج ایک ہی تھی تم اور ارقم گھر جاؤ میں آتا ہوں ان تینوں کے ساتھ ” غازیان نے ارقم کو کیفے سے آتا دیکھ بات ختم کی
“کیا باتیں چل رہی تھیں ؟؟؟” ارقم نے اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے کہا
“کچھ نہیں تم دونوں گھر جاؤ میں آتا ہوں ” غازیان نے کہا
” کیوں بھئی ؟؟؟ سچ سچ بتا تیرا کوئی چکر شکر تو نہیں چل رہا نا ؟؟؟ کیوں بھیج رہا ہے تو ہمیں گھر ؟؟؟” ارقم نے تجسس سے پوچھا تھا
“او بھائی ۔۔ میں ہاتھ جوڑتا ہوں تیرے آگے۔۔۔۔ اب یہ بکواس حرا کے سامنے نا کر دینا تو پلیز ” غازیان نے سچ میں ہاتھ جوڑتے ہوئے اسے کہا تھا اور ارقم کو اس کی بےبسی دیکھ ہنسی آئی تھی پہلے بھی اسی کی زبان کی کھجلی کی وجہ سے مسئلہ ہوا تھا
“اچھا اچھا نہیں کہتا کچھ ۔۔۔ جا تجھے معااااااف کیااااااا ” ارقم نے گانا گاتے ہوئے کہا تو اسامہ بھی دھیرے سے مسکرایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارقم اور اسامہ کو بھیجنے کے بعد غازیان ان تینوں کی طرف آیا تھا اور حرا کو اشارے سے لائبہ کو لے جانے کا کہا تھا
“لائبہ چل نا کیفے میرے ساتھ۔۔ بہت بھوک لگی ہے ” حرا لائبہ کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے گئی تھی جبکہ نیلم اور غازیان صحن میں گھاس پہ خاموش بیٹھے تھے
“نیلم مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ” کافی دیر سوچنے کے بعد غازیان نے بات شروع کی
“ہاں بولو “
“نیلم ۔۔۔۔ اس دن تمہاری اور اسامہ کی جو بھی بات ہوئی تھی مجھے اس سب کا علم ہے “
“مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی” نیلم اسامہ کا نام سنتے ہی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“نیلم۔۔ جیسا تم سمجھ رہی ہو یا جو کچھ اسامہ نے کہا ویسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔تمہیں اصل بات نہیں پتہ ……..” غازیان نے نیلم کو کہا تو نیلم چونکی تھی اور پھر غازیان نے اسے ساری بات بتا دی تھی رشتے سے لے کر اسامہ کی مریم بیگم سے ہوئی بات سب کچھ اسے سچ سچ بتا دیا تھا جبکہ نیلم اب گھاس پہ بیٹھی تھی اور آنسو رواں ہوئے تھے
“دیکھو جب سے اس نے تمہیں کال پہ وہ سب کہا تھا اس دن کے بعد سے اسامہ بہت برے حال میں ہے ہم سے بھی اس نے سہی سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔وہ تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے نیلم۔۔۔۔ لیکن اپنے گھر والوں کی وجہ سے اس نے تم سے وہ سب کچھ کہا تھا۔۔۔۔ وہ تم سے بات کر کے اپنی بات کی تلافی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ تم اسے معاف کرو گی نا ؟؟؟؟” غازیان نے نیلم کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
“میرے معاف کر دینے سے کیا ہو گا غازیان ؟؟؟ جو جیسا چل رہا ہے چلنے دو میں نے بہت مشکل سے خود کو ارقم سے شادی کیلیے راضی کیا یے ۔۔۔۔ اسامہ سے کہنا میرے سامنے مت آئے بس میں نے اسے معاف کر دیا یے ..۔۔۔۔” نیلم نے انتہائی بے بسی سے کہا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسامہ ایک بار پھر اسکے سامنے آئے اور یہ دل ایک دفعہ پھر بے ایمانی کر جائے نیلم کیساتھ
“یار چلو منان بھائی ویٹ کر رہے ” لائبہ نے ایک دم آ کر کہا تو نیلم نے بھی اپنے آنسو اس سے چھپائے تھے اور اس کے ساتھ چلتی ہوئی گاڑی کی طرف آ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن صاحب ناشتہ کر رہے تھے تو انہیں پتہ چلا تھا کہ خان صاحب ان کے گھر آ گئے ہیں پیسے لینے اور خان صاحب کی جلدی دیکھ وہ ہنسے تھے ۔۔۔ انہیں یہ کیا معلوم تھا کہ یہ خوشی ان کی بس کچھ پل کی تھی
حسن صاحب کمرے میں گئے تو انہوں نے جیسے ہی بیگ کو اٹھایا تھا انہیں کل کے مقابلے میں بیگ ہلکا لگا تو فوراً بیگ کھول کر دیکھا تھا
پیسے آدھے سے زیادہ کم تھے پریشانی کی حالت میں وہ بیڈ ایک دم الماری کی طرف بڑھے تھے جہاں بیگ رکھا تھا وہاں دیکھا تھا کہ شاید وہاں مل جائیں لیکن وہاں نہیں تھے پریشانی سے وہ بیڈ پہ بیٹھے تھے
“یقینً میرے سونے کے بعد شائستہ نے پیسے نکال لیے ہوں گے ابھی پوچھتا ہوں اس سے ….. شائستہ شائستہ ” حسن صاحب نے کمرے کے دروازے میں کھڑے غصے سے انہیں پکارا تھا
“کیا ہوا ہے حسن ؟؟؟ ایسے کیوں بول رہے ہیں؟؟؟”
“سہی سہی بتاؤ میرے پیسے کہاں ہیں ؟؟”
غصے سے پھنکارے تھے
“کون سے پیسے حسن ؟؟”
“وہی پیسے جو تم نے کل اس بیگ سے نکالے ہیں۔۔ دیکھو تمہیں پیسے چاہیے نا میں دے دوں گا لیکن ابھی میں نے خان کو پیسے دینے ہیں مجھے وہ لوٹا دو ” پریشانی ان کے لہجے سے جھلک رہی تھی خان کاروبار کے معاملے میں انتہائی سخت تھا اسکی غندہ گردی مشہور تھی اسلیے اب حسن صاحب کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے
“آپ کیا بات کر رہے ہیں حسن ۔۔میں نے کوئی پیسے نہیں لیے آپ کے بیگ سے ۔۔۔ میرے پاس ہیں پیسے یہ دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” شائستہ بیگم انہیں لیے الماری کی طرف آئی تھی جہاں الماری کا خالی دراز ان کا منہ چڑا رہا تھا
“یہ یہ کیا۔۔۔۔۔ کل ہی تو میں نے رکھے تھے یہاں پیسے۔۔۔۔ اب کہاں گئے ” شائستہ بیگم بھی اب گھبرائی تھی
“حسن کہیں چوری ؟؟؟؟؟؟” شائستہ بیگم ابھی بات مکمل کرتی کہ ہارون کمرے میں آیا تھا
“بابا وہ خان انکل آپ کو بلا رہے ہیں کب سے …………. کیا ہوا ہے آپ دونوں ایسے پریشان کیوں ہیں ؟؟” ہارون پریشانی سے بولا تھا
“چوری ہو گئی ہے ہمارے گھر ۔۔۔۔ یہ بیگ بھی آدھا پیسوں کا رہ گیا ہے اور میری الماری سے بھی پیسے غائب ہیں ” شائستہ بیگم نے ہارون کو بتایا تو ہارون کو ایک پل نا لگا تھا یہ سمجھنے میں کہ یہ کام زارون کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ کل رات دیر سے زارون آیا تھا اور اس کے ہاتھ میں سکول بیگ تھا جس میں سے وہ پیکٹ نکال نکال کر نشہ کر رہا تھا
“بابا وہ۔۔۔۔۔” ہارون سے بات نا بنی تو اسنے ایک دم نظریں جھکائی تھئ جبکہ حسن صاحب کچھ اور ہی سمجھے تھے ہارون کو شرمندہ دیکھ حسن صاحب آگ بگولہ ہوئے تھے انہیں لگا تھا کہ ہارون نے وہ پیسے لیے
“بغیرے انسان۔۔۔۔ کیوں کی تو نے چوری۔۔۔۔ کیوں لیے اتنے سارے پیسے بغیر بتائے ۔۔۔۔ کیا کیا ان پیسوِں کا خبیث انسان ” حسن صاحب سہی غصے میں تھے کہ اپنے بیٹے کو گالیوں سے نواز رہے تھے جسے سن شائستہ بیگم بھی حیران ہوئی تھی
“حسن ۔۔۔۔۔یہ آپ کس طرح بات کر رہے ہیں اپنے بیٹے سے ؟؟؟” انہوں نے مداخلت کرنا چاہی تھی
“چپ کرو تم۔۔ ہماری ہی ڈھیل کا نتیجہ ہے یہ۔۔۔۔ بول بول کہاں ہیں وہ سارے پیسے ” ہارون کو خوب مارتے ہوئے انہوں نے سوال پوچھا تھا
“بابا میں نے نہیں زارون نے لیے ہیں وہ سب پیسے ….” اور یہ ایک اور بم ان پہ پھوٹا تھا ہارون نے بمشکل روتے ہوئے انہیں بتایا تھا
“کیا ؟؟ زارون نے ؟؟ لیکن کیوں ؟؟؟” شائستہ بیگم ایک دم بولی تھی جبکہ حسن صاحب نے اپنے ہاتھ اب روک لیے تھے
“امی وہ۔۔۔ وہ نشہ کرتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی مہنگے والا جس میں لاکھوں لگتے۔۔۔” ہارون کے الفاظ تھے کہ جسے سنتے حسن صاحب زمین پہ ڈھے گئے تھے
“دیکھ لیا۔۔۔ دیکھا لیا تم نے اپنے بیٹوں کے کارنامے۔۔۔۔۔۔ یہ ہے میری اولاد میرے بیٹے جسے میں نے اللہ سے اتنا مانگا تھااور یہ تربیت کی ان کی کہ یہ گل کھلائیں وہ۔۔۔۔ کہاں ہے تمہاری برتیت شائستہ ؟؟؟؟؟ یہ سیکھایا تم نے انہیں کہ بڑوں سے جھوٹ بولو، ان کے ساتھ بدتمیزی کرو اور تو اور نشہ بھی ؟؟؟؟ کہاں تھی تم ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ” حسن صاحب نے کرب سے شائستہ بیگم کو کہا تھا جبکہ وہ حسن صاحب نے ساتھ زمین پہ ہی بیٹھی ہوئی تھیں اور ہارون اپنی آنکھیں صاف کرتا ہوا نیچے چلا گیا تھا
ابھی لاؤنج میں داخل ہوا ہی تھا کہ ہارون نے خان صاحب سے ان کے اچانک بیمار ہو جانے کا بہانا بنایا تھا
“دیکھو بچے۔۔۔۔ یہ طریقے کاروبار میں نہیں چلتے۔۔۔۔ سیدھی طرح اپنے باپ سے بولو کہ مجھے میرے پیسے لوٹائے ورنہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں کیا کیا کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ آج کی محلت دے رہا ہوں۔۔۔ کل صبح مجھے میرے پچاس لاکھ مل جانے چاہیے۔۔۔۔ ورنہ کل میں نہیں بلکہ میرے آدمی آئیں گے ۔۔۔۔ چلتا ہوں ” خان غصے سے کہتا ہوا چلا گیا تھا جبکہ ہارون سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارقم اسامہ گھر پہنچے تو دیکھا کہ سامنے ہی سلیم صاحب ڈنڈا ہاتھ میں لیے غصے سے کھڑے تھے جبکہ یہ دونوں ایک طرف خوش تو دوسری طرف حیران تھے کیونکہ سلیم صاحب کچھ ہفتوں پہلے ہی گئے تھے واپس اور اتنی جلدی ان کی واپسی ناممکن بات تھی
“ارے واہ شہزادے تو ادھر ” ارقم چہکتا ہوا آگے بڑھا تھا
“وہی رکو۔۔۔۔ خبردار جو تم دونوں نے ایک قدم بھی بڑھایا تو۔۔۔ یہ ڈنڈا دیکھ رہے ہو نا۔۔۔ اس سے چھترول کرنی ہے میں نے۔۔۔۔۔ ” رعب دار آواز میں کہا گیا تھا جسے سن ارقم اسامہ چونکہ تھے اور ایک دوسرے کو دیکھا تھا
“ہوا کیا ہے شہزا۔۔۔۔۔” اسامہ نے بات کرنا چاہی تھی لیکن اسے ٹوک دیا گیا
“بس۔۔۔ خبردار آئندہ مجھے تم دونوں نے شہزادے بولا تو۔۔۔ دادا ہوں میں تم لوگوں کا دادا بولو “
“آپ تو ہمارے دوست ہو نا۔۔۔ ہمارے شہزادہ سلیم۔۔۔۔ کچھ تو رحم کر نا اپنے دوستوں پہ ۔۔۔ تھوڑا سا ترس ہی کھا لو ہم غریبوں پہ ” ارقم نے نظریں جھکائے ایک ادا سے کہا تھا
جہاں اسامہ کو اپنی ہنسی رکنا مشکل ہوئی وہاں سلیم صاحب نے ڈنڈا اٹھا کر ارقم کی ٹانگ پہ مارا تھا
“کمینے ہو تم دونوں پتہ ہے نا ۔۔۔۔ ” سوال اتنی معصومیت سے پوچھا گیا تھا جس پہ ارقم نے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے اپنے دانتوں کی نمائش کی تھی
“تم دونوں اگر مجھے اپنا سچ مچ کا دوست سمجھتے نا ۔۔۔۔ تو مجھے بہت پہلے بلا لیتے۔۔۔ کم سے کم بات یہاں تک تو نا پہنچتی۔۔۔۔۔ اسامہ یہ تم نے کیا کیا ہے ؟؟؟؟ اور ارقم تم ؟؟؟ اگر تمہیں کوئی دکھ درد ہے تو بچے مجھے بتاؤ نا۔۔۔ ایسی اونگ پٹانگ حرکتیں کر کے تم یہ سمجھانا چاہ رہے ہو ہمیں کہ تم نیلم سے شادی کرنے پہ خوش ہو۔۔۔۔۔ جبکہ تم دونوں کے دل کا حال میں بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ کون کسے پسند کرتا ہے اور کس حد تک ” سلیم صاحب نے اب پیار سے ان دونوں کو کہا تھا
“مجھے معاف ۔۔۔۔۔” اسامہ نے کچھ کہنا چاہا تھا
“نا نا نا۔۔۔ معافی مجھ سے نہیں معافی اس سے مانگو جسے تم نے اتنے دن تکلیف میں رکھا جسے تم نے وہ وہ باتیں کی جو کہ تمہیں نہیں کرنی چاہیے تھیں۔۔۔۔ ویسے تو بڑا یار دوست کہتے ہو۔۔۔ اور اب جب سچ میں میری ضرورت پڑی ہے تو تم دونوں نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔۔۔ یہ تو شکر ہے غازیان نے مجھے سب بتا کر بلوا لیا ورنہ نا جانے تم دونوں کیا کر بیٹھتے۔۔۔ ایک ساتھ چار زندگیاں برباد کر بیٹھتے “سلیم صاحب نےانہیں سمجھانا چاہا
“کیا یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ؟؟؟ کیا میری اور لائبہ کی شادی ہو سکتی ہے ؟؟؟” ارقم اب بولا تو ان دونوں نے اس کی طرف چونک کے دیکھا تھا
“شکر ہے تو بھی کچھ پھوٹا منہ سے کہ تجھے لائبہ سے شادی کرنی ہے۔۔۔۔ ” سلیم صاحب نے کہا تو اسامہ کو اندازہ ہوا تھا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ ارقم لائبہ کو پسند کرتا ہے لیکن پھر بھی ارقم کو اس نے کہا کہ وہ لائبہ سے شادی کرلے گا۔۔۔۔ اسامہ کو اپنے الفاظ یاد آئے تو اسے شرمندگی ہوئی تھی
“بتا نا ” ارقم سنجیدہ ہو کر بولا تھا
“بات کی ہے ہم نے حامد اور فاروق سے۔۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ لڑکیوں سے پوچھ کر بتائیں گے ۔۔۔۔۔” سلیم صاحب نے کہا تھا کہ تو ارقم نے سکھ کا سانس لیا تھا جبکہ اسامہ سوچ میں مبتلا تھا
نیلم سے جو جو باتیں وہ کر چکا تھا اسے بلکل بھی یقین نہیں تھا کہ نیلم اب اسامہ سے شادی کے لیے ہاں کرے گی ۔۔
سلیم صاحب کے پاس سے اٹھ کر اسامہ اپنے کمرے میں آ گیا تھا اور وضو کر کے نماز ادا کرنے لگا تھا اور آخر میں ڈھیر دعائیں لیے بیٹھا تھا جس میں صرف ایک شخص کے لیے دعائیں تھی اور وہ تھی
“نیلم “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم گھر آئی تو سیدھا اپنے کمرے میں گئی تھی اور ابھی وہ بیڈ پہ بیٹھی غازیان کی باتیں یاد کر ہی رہی تھی کہ مشال بیگم اس کے کمرے میں آئی تھیں
“آئیں امی ” نیلم فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی تو مشال بیگم اس کے ساتھ بیڈ پہ تک گئی تھیں
“نیلم مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔ مجھے سچ سچ بتانا ” مشال بیگم نے بات شروع کی تھیں جبکہ نیلم انہیں غور سے سن رہی تھی
“جی جی امی بولیں “
“نیلم کیا تم اسامہ کو پسند کرتی ہو؟؟؟؟ لیکن ہماری وجہ سے تم نے ارقم سے شادی کے لیے ہاں کیا تھا ؟ دیکھو مجھے سچ سچ بتانا ” مشال بیگم نے پیار سے پوچھا تھا تو نیلم تو پہلے حیران ہوئی تھی لیکن ان کا نرم لہجہ دیکھ نیلم نے سر اثبات میں ہلایا اور پھر ان سے لپٹ گئی تھی
“میری بچی۔۔۔ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا میں پہلے ہی انکار کر دیتی یہ تو اچھا ہوا آج صبح سلیم صاحب آئے تو انہوں نے بتایا ورنہ ہمیں تو پتہ بھی نا چلتا اور ہم تمہاری شادی ارقم سے کر بھی دیتے” مشال بیگم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا تو دیکھا کہ نیلم کی آنکھوں میں آنسو تھے
“چلو اب رونا کس بات کا ۔۔۔ اب تو میری بیٹی خوش ہے نا اسامہ سے شادی کے لیے ہاں کر دوں نا ” مشال بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو نیلم بھی دھیرے سے مسکرا دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائبہ جو نیلم کو اس کی بک لوٹانے اس کے پاس آ رہی تھی اندر کمرے سے مشال بیگم اور نیلم کی ساری باتیں وہ سن چکی تھی اور گویا لائبہ کا دل کیا تھا کہ وہ خوشی سے ناچ پڑے ۔۔۔۔
“شکر۔۔۔ اب ارقم میرااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔” لائبہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا اور پھر زبان دانتوں تلے دباتے اپنے سر پہ چپٹ لگائی تھی
“الوووو۔۔۔ کوئی سن لیتا تو ۔۔۔ کل دے دوں گی نیلم کو بک ” لائبہ خود سے کہتی مسکراتی ہوئی اپنے گھر چلی گئی تھی اور گھر جاتے ہی ارم بیگم نے اسے سلیم صاحب کی بات بتائی تو لائبہ نے بھی ہاں کر دی تھی
سلیم صاحب کو فاروق صاحب اور حامد صاحب نے رشتے کے لیے ہاں کر دی تھی اور اب سلیم صاحب نے سکھ کا سانس لیا تھا اور گھر میں باقی سب کو بھی اطلاح دے دی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی امی” منان مشال بیگم کو پکارتا ہوا لاؤنج میں داخل ہوا تھا
“کیا ہے ؟؟؟” مشال بیگم نے کہا
“امی آپ کو میرا کوئی خیال ہے کہ نہیں ؟؟؟ ” منان سنجیدہ ہو کر بولا تھا
“ارے ہوا کیا ہے بتاؤ تو “
“امی بس مجھے نہیں پتہ آپ کل جا رہی ہیں ایمن کے گھر شادی کی تاریخ لے کر بلکہ نہیں کل نہیں آج ۔۔۔ آپ لوگ آج شام کو جا رہے ہیں بس ۔۔۔ میں نے کہ دیا ہے۔۔۔۔ ” منان نے بلکل چھوٹے بچے کی سی فرمائش کی تھی جس پہ مشال بیگم مسکرا دی تھیں
“لیکن اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔۔۔۔ کل چلیں جائیں گے ۔۔۔ بیٹھو آرام سے تم “
“بس دیکھ لیں امی آپ۔۔۔۔ ابھی سے سوتیلوں والا رویہ ہو گیا ہے آپ کا ۔۔۔ وہ نیلم زیادہ چہیتی ہے آپ کی۔۔۔ میں تو جیسے کچھ لگتا ہی نہیں نا ۔۔۔۔۔ اکیلا چھوڑ دیا ہے مجھے صرف۔۔ دیکھنا ایک بار شادی ہو جائے پھر بات بھی نہیں کروں گا آپ لوگوں سے ” منان جزباتی ہو کر کیا کیا بول گیا تھا اس کا اندازہ اسے بعد میں ہوا
“اچھا۔۔۔ ہمیں اکیلا چھوڑنے کا پلین ہے آپ کا۔۔ اب تو بلکل بھی نہیں کرنی تمہاری شادی ” مشال بیگم نے شرارت سے کہا تو منان کی رونی سے صورت بن گئی تھی
“امیییییییییی نا تنگ کریں ناااااااااا ” منان بولا تو مشال بیگم نے اس کے سر پہ پیار کیا
“اچھا میری جان مجھے بات کرنے دو حامد صاحب سے پھر کرتی ہوں کچھ کہ منگنی کے بجائے بس نکاح کر دیں ہمارے بچے سے صبر نہیں ہو رہا ” مشال بیگم نے اس کے کان کھینچے تو وہ بھی مسکراتا ہوا ان کے گلے لگ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘شائستہ اس ناہنجار کو میں آج نہیں چھوڑوں گا یہ نہیں بچے گا میرے ہاتھوں تمہاری لاپرواہی ہے دوسروں کے بچوں پہ نظر رکھنے کیساتھ اگر اپنے بچوں پہ دھیان دیتی تو یہ سب نا ہوتا …” حسن صاحب بیگ سے پیسے گنتے ہوئے مسلسل غصے سے اونچا اونچا بول رہے تھے اوپر سے انہیں خان کی دھمکی سن کر اور ڈر لگ رہا تھا
“بس کریں حسن!!! بچے صرف میری زمہ داری نہیں ہیں آپ کا بھی کام بنتا تھا نا سارا الزام مجھ پر مت لگائیں.. “شائستہ بیگم بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھیں
بچے بگڑ تو گئے تھے لیکن وہ دونوں ابھی بھی ایک دوسرے کو زمہ داری کا احساس دلا رہے تھے
“اس میں صرف 20 لاکھ ہیں یا میرے خدا یہ لڑکا 30 لاکھ لیکر نکل گیا ہے میں اسکو نہیں چھوڑوں گا اسکو فون کرو صبح صبح کہاں نکل گیا بلاؤ اسکو جلدی ” وہ اب بھی چیختے ہوئے بولے تھے غصے اور ڈر سے وہ ہانپ رہے تھے بس یہی دعا کر رہے تھے کسی طرح زارون پیسے واپس لے آئے
“بابا بابا وہ ۔۔۔۔۔۔ زارون آیا تھا لیکن آپکی آواز سن کر واپس بھاگ گیا ہے .. ” ہارون بھاگتا ہوا کمرے میں آیا تھا جبکہ حسن صاحب باہر بھاگے تھے شائستہ بیگم بھی انکے پیچھے گئی تھیں
“زارون رک جاؤ ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا ۔۔۔۔۔۔
زارون زارون “
وہ سیڑھیاں اترتے اس سے پہلے ہی وہ بھاگ کر گیٹ پار کر گیا تھا اور جب وہ گیٹ سے باہر نکلے تو سنسان گلی انکا منہ چڑا رہی تھی وہ وہی سر تھام کر بیٹھ گئے تھے
زارون صبح صبح ہی فائق سے ملنے گیا تھا لیکن واپسی پہ اپنے باپ کی آواز سن کر وہ گھر سے بھاگ گیا تھا اسکے دماغ میں یہی تھا کہ اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ اسکی بہت بڑی بھول تھی
—————————–
صبح سے دوپہر ہونے کو آئی تھی لیکن زارون نے نا آنا تھا اور نا ہی وہ آیا وہ خود بھی اسے ڈھونڈ چکے تھے لیکن وہ نجانے کہاں چھپ کر بیٹھ گیا تھا اب بھی وہ ہر جگہ چھان کر واپس آئے تھے جہاں اسکے ملنے کی زرا سی بھی امید تھی دو دفعہ خان کا بھی فون آچکا تھا وہ پیسے کیلئے شور کر رہا تھا اور دھمکی دے رہا تھا کہ کل صبح تک اسے پیسے چاہییں ۔۔۔
“شائستہ .. تمہارے پاس جو زیور ہیں وہ کتنے کے ہوں گے .. ” حسن صاحب نے مسلہ کا حل سوچتے ہوئے نہایت امید سے شائستہ بیگم کی طرف دیکھا تھا اور ان سے پوچھا تھا
“کیوں اب آپ میرے زیورات کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں.”
“زیور تو پھر بن جائیں گے لیکن …” حسن صاحب نے پھر کچھ کہنا چاہا تھا
“لیکن ویکن بھول جائیں حسن زیور نہیں دوں گی آپکو میں آپ کسی اور سے ادھار لے لیں وہ زیور زیادہ امی اور بھائی نے لیکر دیا ہے مجھے اور آپ نے بھی جو لیکر دیا ہے وہ میں نہیں دوں گی آپ آسیہ سے مانگ لیں اسکے پاس ہوں گے پیسے ..”. وہ تو سرے سے مکر ہی گئی تھی حسن صاحب نے حیرت سے اپنی جیون ساتھی کو دیکھا تھا جس کے لئے انکی زندگی انکی عزت سے زیادہ اپنے زیور عزیز تھے وہ کہتی ہوئی اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گئیں تھیں جبکہ حسن صاحب دل گرفتہ وہی بیٹھے رہ گئے تھے
حسن صاحب کی آنکھوں کے سامنے وہ سارے منظر گھوم رہے تھے جب انکے حاالات صحیح نہیں تھے دوسری شادی سے پہلے تو جب جب بھی انہیں پیسوں کی ضرورت پڑتی تھی تو آسیہ دن رات ایک.کرکے سلائی کر کر کے پیسے جوڑ کر انہیں دیتی تھی اب انہیں قدر ہو رہی تھی
پھر انکی آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھومے تھے جب انکی بیٹیاں انکے پاؤں دباتی تھیں جب بھی وہ باہر سے گھر آتے تھے .. بیٹے تو کبھی پیسوں کے علاوہ ان کے پاس آئے ہی نہیں
اب انہیں قدر ہو رہی تھی اپنی بیوی کی بھی اور بیٹیوں کی بھی
انہوں نے دونوں ہاتھوں کی انگیوں سے اپنی آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا تھا اور اٹھ کھڑے ہوئے تھے . کچھ تو کرنا ہی تھا اب پیسوں کا …..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *