Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23
غازیان اسلم سے ملا تھا اور آج سے ہی اس نے جاب شروع کر دی تھی اور اس کے دس سٹوڈنٹس تھے جنہیں اسے پڑھانا تھا ۔اکیڈمی اچھی تھی اسلیے اسکی تنخواہ بھی اچھی تھی ۔۔۔۔ دو گھنٹے کی کلاس لینے کے بعد وہ اب گھر کے لیے نکلا تھا
“حرا کو بھی لے جاتا ہوں ۔۔۔ یا ایسا کرتا ہوں آج رہنے دیتا ہوں اسے وہیں ۔۔ اتنے دنوں کے بعد وہ گئی ہے گھر تھوڑا وقت گزار لے گی ان کے ساتھ۔۔۔۔ صبح لے آؤں گا ۔۔۔ لیکن اگر انکل آ گئے تو ؟؟ نہیں ابھی ہی تو نارمل کیا ہے اسے میں نے۔۔۔ پھر نا کہیں آمنا سامنا ہو جائے اس کا ۔۔۔۔ ” غازیان اسی کشمکش میں سوچتا ہوا اب اپنے محلے میں داخل ہوا تھا
اس کی اکیڈمی پاس ہی بڑے محلے میں تھی پیدل باآسانی آنا جانا ہو جاتا تھا
حرا کے گھر کے باہر آ کر رکا تو اسی وقت نیلم اور لائبہ اپنے گھر جانے کے لیے حرا کے گھر سے نکل رہی تھیں۔۔۔ حرا کی نظر غزیان پہ پڑی تو وہ اسے دیکھ کہ مسکرا رہا تھا
“اہمم اہممم ۔۔۔ ہم بھی ہیں یہاں پر جیجو ” نیلم نے غزیان کو حرا کو مسکراتے دیکھ شرارت سے کہا
“ہاں کیسی ہو دونوں ؟؟” غزیان نے چونکتے ہوئے کہا
“ہم دونوں تو ٹھیک ہیں لیکن آپ ٹھیک نہیں لگ رہے ” لائبہ نے ہنستے ہوئے کہا تو غازیان نے مسکراتے ہوئے اپنے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا
نیلم اور لائبہ دونوں مسکراتی ہوئی اپنے گھر چلی گئی تھی جبکہ غزیان اب حرا کی طرف آیا تھا
“اگئے تم ” حرا نے کہا
“ہاں یار آگیا۔۔۔ چلو گھر چلتے ہیں ۔۔۔۔”
“اندر تو آؤ “
“نہیں میں بہت تھک گیا ہوں۔۔۔ اب ریسٹ کروں گا پلیز چلو نا گھر ” غازیان کا آج بہت بزی دن گزرا تھا اور اب اسے اپنے بیڈ کی شدید ضرورت تھی
“اچھا میں مل کر آتی ہوں سب سے۔۔۔” حرا اسے کہتے ہوئے اندر چلی گئی تھی جبکہ آنکھوں میں آنسو تھے
(ظاہر ہے تھکے گے ہی پتا نہیں کہاں کہاں سے گھوم کر آ رہے ہو گے)
دس منٹ بعد وہ باہر آئی تو وہ اور غزیان آپنے گھر چلے گئے تھے
گھر آتے ہی غزیان تو سو گیا تھا جبکہ حرا بیڈ پہ بیٹھی بس اسے ہی دیکھ رہی تھی سوچیں ایک دفعہ پھر کھلتی گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شہزادے کچھ کر نا یار ” سلیم صاحب کو اپنے واپس اپنے گھر گئے دو ہفتے ہو چکے تھے اور اب اسامہ اپنے کمرے میں بیٹھا ان سے وڈیو کال پہ بات کر رہا تھا
“کیا کروں میں۔۔۔ ” فون سے سلیم صاحب کی آواز ابھری تھی
“شہزادے امی سے بات کر نا میری اور نیلم کی شادی کی ۔۔۔۔ دیکھو اب غازیان کی بھی تو ہو گئی ہے نا ۔۔۔ کافی حد تک سدھر گیا ہے وہ ” اسامہ نے شرارت سے کہا تو سلیم صاحب ہنس دیے تھے
“ہا ہا تو مطلب آپ کو بھی سدھرنا ہے ۔۔۔۔۔ صبر رکھو کرتا ہوں کچھ۔۔۔ بات کرتا ہوں مریم سے اگر وہ مان گئی تو دیکھتے ہیں پھر کیا ہوتا ہے ۔۔۔ تم ابھی اپنی پڑھائی پہ توجہ دو .. جو اللہ نے چاہا وہی ہو گا ” سلیم صاحب نے کہا تھا
“شہزادے میں بھی ہوں ادھر میرا بھی کچھ سوچ لو ۔۔۔۔ مجھ معصوم سے کہا دشمنی ” ارقم ایک دم کمرے میں آیا اور آتے ہی اپنا دکھڑا رویا تھا جس پہ اسامہ تو پہلے ہڑبڑایا تھا لیکن پھر اس کی باتوں پہ ہنس دیا تھا
“پہلے اس ڈنگر کا کرنے دے کچھ پھر تیرا بھی سوچتے ” سلیم صاحب نے شرارت سے کہا تھا
“مجھے مانگ کہ لائے تھے نا ۔۔۔۔ دیکھا مجھے پتہ تھا میں سوتیلا ہوں تبھی میری شادی کا بعد میں سوچا جائے گا ۔۔۔ اس خبیث غازیان کی تو پہلے کر دی اور اب اس کمینے کا بھی سوچا جا رہا میں معصوم کہاں ہوں ؟؟؟؟؟” ارقم نے شروع ہی ہو گیا تھا
“ارے میرے پیارے بندر تو فکر نا کر ۔۔۔۔ ہم دونوں اکٹھے شادی کریں گے پکا ” اسامہ نے اسے دلاسہ دیا تھا جس پہ ارقم نے اپنے بتیس دانتوں کی نمائش کی تھی جس پہ اسامہ اور سلیم صاحب کا قہقہہ گونجا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ لوگ یونی پہنچے تو انہیں سامنے سے احد اتا ہوا دیکھائی دیا تھا جو کہ انہیں کی طرف آ رہا تھا
“السلام علیکم نیلم کیسی ہیں آپ ؟؟” احد نے آتے ہی سب کو سلام کیا تھا اور نیلم سے بات کی تھی
“جی ٹھیک ہوں ۔۔ شکریہ آپ کیسے ہیں ” نیلم نے جواب دیا تھا اسے یہ لڑکا صحیح لگا تھا
“نیلم وہ اس دن تم جو کتاب ڈھونڈ رہی تھیں نا وہ مجھے مل گئی ہے ۔۔۔ آؤ دکھاتا ہوں تمہیں ” احد نے کچھ دن پہلے والی بات کی تھی جب نیلم لائبریری میں کوئی بک ڈھونڈ رہی تھی اور احد دور بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا جو کہ بک ڈھونڈنے میں مگن تھی اور نا ملنے پہ پھر اسنے احد کو بتایا تھا جو اس کے پاس آیا تھا
“سچیییییی !!!! تھینکیو سو مچ احد ۔۔۔۔ پلیز وہ مجھے دے دو ۔۔۔۔۔ میں تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی ” نیلم تو خوش ہی ہو گئی تھی اور پھر سب کو کلاس میں ملنے کا کہ کر احد کے ساتھ چلی گئی تھی جبکہ وہاں کھڑے سب نیلم کی اس حرکت پہ حیران تھے
“یار یہ نیلم کو کیا ہو گیا ہے ؟؟؟ آج کل کچھ زیادہ ہی احد سے بات کرنا شروع ہو گئی ہے یہ ” حرا نے لائبہ سے کہا تھا
“ہاں یار عجیب تو مجھے بھی لگتا لیکن جب اسے کوئی مسئلہ نہیں تو کیا کر سکتے ہم ۔۔” لائبہ نے کہا لیکن اسے یہ معلوم نا تھا کہ اسامہ پیچھے ہی کھڑا ان کی ساری بات سن چکا تھا اور سامنے نیلم کو بھی احد کے ہمراہ جاتے ہوئے دیکھ اس کا غصے سے برا حال تھا
“اس احد کو تو میں نے نہیں چھوڑنا۔” اسامہ نے غصے سے کہا تو غازیان اور ارقم نے اسے دیکھا جو کہ غصہ ضبط کیے کھڑا تھا
“چھوڑ یار۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہونا۔ نیلم بس ویسے ہی بات کرتی ہو گی ۔۔ ” غازیان نے اسے سمجھانا چاہا تھا
“ایسے کیسے کچھ نہیں ہے ؟؟؟؟ وہ احد کے ساتھ جا رہی ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ بلکل بھی اچھا لڑکا نہیں ہے ۔۔۔۔امیر باپ کی بگڑی اولاد ہے۔۔۔ اور اسے بہت بار کلب سےنکلتا بھی پایا گیا ہے۔۔۔۔ میں کیسے نیلم کو اس کے ساتھ جانے دوں ؟؟؟؟ جب میں اس کے بارے میں سب جانتا ہوں ” اسامہ نے احد کی حقیقت بتائی تو غازیان اور ارقم چونکے تھے
“واہ جی واہ۔۔۔۔ ساری انفو لے رکھی ہے بھئی ” ارقم نے شرارت سےکہا تھا
“تم دونوں رکو یہی میں اسے لے کر آتا ہوں “
“اچھا ٹھیک ہے ہم بھی آتے ہیں ساتھ۔۔۔” اسے اکیلا نہیں بھیج سکتے تھے کیا معلوم لڑ کر ہی نا آجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفیٰ صاحب جب صبح اپنی دکان پہ پہنچے تو انہیں پتہ چلا کہ دکان پہ مال کافی کم پڑا تھا تو وہ سیدھا اپنے گودام میں گئے تھے تا کہ اور جوتے وغیرہ لا سکیں۔۔۔ ابھی گودام میں پہنچے ہی تھے کی میڑر سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے نظر آئے تھے اور آگ لگ چکی.تھی ۔۔۔۔ کافی سارے ڈبوں کو آگ لگ چکی تھی وجہ شارٹ سرکٹ تھا جس سے کافی نقصان ان کا ہوا تھا لیکن اللہ کا شکر تھا کہ جلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیا تھا وہ بھی وہاں چلے گئے تھے ورنہ.کسے پتا چلتا کہ آگ لگی ہے اور سب کچھ ہی.جل جاتا لیکن اللہ نے ان پہ کرم کیا تھا لیکن پھر بھی نقصان تو کافی ہوا تھا
مصطفیٰ صاحب تو سر پکڑے بیٹھ گئے تھے زیادہ تر مال کی رقم ادا نہیں کی گئی تھی اور اب سارا مال آگ کی نظر ہو چکا تھا
“یا اللہ اب میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔ کیسے اتنی بڑی رقم لوٹاوں گا ان لوگوں کو جن سے میں نے یہ سارا مال لیا تھا ۔۔۔۔۔ یا اللہ تو میری مدد فرما ” مصطفیٰ صاحب نے پریشانی میں اللہ کو پکارا تھا
گھر میں بھی سب کو اطلاح ہو چکی تھی
“اتنا بڑا نقصان مصطفیٰ۔۔۔۔ کیسے ادا کریں گے اتنی بڑی رقم۔۔۔” عائشہ بیگم پریشانی سے بولی تھیں
“کیا کروں میں عائشہ ۔۔۔۔ ان لوگوں کو بھی پتہ چل چکا ہے اس سب کا پھر بھی وہ مجھے بار بار فون کر کے اپنی رقم مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیسے ادا کروں گا میں ” گھر میں پریشانی کا سا ماحول تھا ۔۔۔ بچے بھی یونی سے گھر آ چکے تھے اور محلے کے سب بڑے اب ان کے گھر جمع تھے
“آپ فکر نا کریں بھائی صاحب آپ ہمیں رقم بتائیں۔۔۔ مل بانٹ کر رقم ادا کر دیتے ہیں ” حامد صاحب نے مشورہ دیا تھا
“ارے نہیں حامد۔۔۔ رقم اتنی چھوٹی نہیں ۔۔۔ لاکھوں کی بات ہے ۔۔۔ ویسے بھی میں تم.لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چااہتا
“کوئی بات نہیں یار۔۔۔ گھر والی بات ہے ہم رقم مل بانٹ کر ارینج کر دیتے ہیں۔۔۔ کم سے کم تم ان لوگوں کے تو منہ بند کرو نا جو ابھی تک سو بار فون کر چکے ہیں ” فاروق صاحب نے بھی کہا تو آخر جاوید صاحب اور ابراہیم صاحب بھی ضد کی تو مصفطیٰ صاحب نے پھر نا چار ان لوگوں کی بات مانی اور پھر سب نے اپنے اپنے پاس موجود رقم کا انتظام کر کے مصطفیٰ صاحب کی مدد کی تھی
چاہے گھر چھوٹے تھے لیکن دل سب کے بڑے تھے ایک پہ مشکل آئی تھئ تو سب نے مل.کر اسے مشکل سے نکالا بھی تھا اور یہی ان.لوگوں کی خاصیت تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا کی کال آئی تھی مجھے صبح ” فاروق صاحب اور حامد صاحب کے جانے کے بعد اب گھر میں سب بڑے اکٹھے جاوید صاحب کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مریم بیگم نے ایک دم کہا تھا
“اچھا کوئی خاص بات ؟؟؟” ابراہیم صاحب بولے
“جی وہ کہ رہے تھے کہ اب ہمیں اسامہ اور ارقم کا بھی کچھ سوچنا چاہیے ” مریم بیگم نے کہا تو سب نے اکتفا کیا تھا
“ہاں کہ تو صحیح رہے ہیں ۔۔۔۔ ڈھونڈو پھر لڑکیاں ان دونوں کے لیے ۔۔۔۔۔ ” ابراہیم صاحب نے کہا
” ویسے تو ابھی یہ دونوں اس لائق ہوئے نہیں کہ ابھی ان کی شادی کی جائے لیکن جب غازی سدھر گیا ہے تو کیا پتہ یہ بھی انسان بن جائیں ” مصطفیٰ صاحب نے ان پہ چوٹ کی تھی جس پہ سب گھر والوں کے قہقہہ گونجے تھے
“ویسے لڑکیاں ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ یہ اپنی نیلم اور لائبہ ہیں نا۔۔۔ بچپن سے جانتے ہیں اچھی ہیں اور تو اور ہمارے بیٹوں کی شرارتوں میں بھی شامل ہوتی ہیں تو امید ہے کوئی مسلہ نہیں ہونا ” مومنہ بیگم نے کہا
“ہاں کہ تو ٹھیک رہی ہو ویسے بھی مجھے وہ دونوں ہی پسند ہیں اپنے بچوں کے لیے۔۔۔۔ پھر کیا کہتے ہیں سب چلیں کل راشتہ لے کر ؟؟؟؟؟” عائشہ بیگم نے مسکراتے ہوئے سب کی رائے مانگی تو سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان کمرے میں آیا تو حرا اسے کمرے میں آتا دیکھ فوراً باتھ کی طرف بڑھی تھی لیکن غازیان اس کا ارادہ بھانپ کہ فوراً سے اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکنا چاہا
“چھوڑو میرا ہاتھ” حرا نے کہا تھا
“کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے؟؟؟ میں کل سے نوٹ کر رہا ہوں تم مجھ سے کترا رہی ہو۔۔ آخر ہوا کیا ہے ؟؟؟” غازیان نے حرا کو خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
“کک کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔۔ جانے دو مجھے ” حرا بمشکل بولی تھی
“ناراض ہو ؟؟ ” غازیان نے پھر سوال کیا تو حرا بلکل خاموش تھی کچھ نا بولی
“ہممم میں سمجھ گیا۔۔۔ ادھر دیکھو میری طرف ” غازیان نے حرا کا رخ اپنی طرف کر کے اس کی تھوڑی اونچی کی تو حرا نے بھی بمشکل اپنی لال آنکھوں سے غازیان کی طرف دیکھا تھا
ایک پل کو تو دونوں ہی اس لمحے میں کھوئے تھے غازیان کا دل غلطی کرنے پہ اکسا رہا تھا اور وہ بے خود سا اس کی آنکھوں پہ جھکا اور اس کی آنکھوں پہ باری باری اپنے لب رکھے تھے۔۔۔ حرا نے اپنی آنکھیں بند کی تھی اس لمحے کو محسوس کرنا چاہتی تھی لیکن کب تک ؟؟؟؟؟ یکدم حرا کے دماغ میں غازی کی باتیں گونجی تھی لمحے کی خوبصورتی پل میں برباد ہوئی تھی
“کیوں اتنا ظلم کرتی ہو اپنی ان خوبصورت آنکھوں پہ ؟؟؟؟ غازیان جزبات سے چور لہجے میں بولا
“تم کتنا دل پھینک انسان ہو …..( بیوی کے ہوتے ہوئے بھی تم دوسری لڑکی سے ملنے گئے کل کیوں غازیان) ؟؟؟” حرا نے پہلی بات غازیان کو کہی تھئ جبکہ آخری جملہ دل میں کہا تھا غازیان کو کہنے کی اس میں ہمت نا تھی
حرا کی بات سن کر غازیان مسکرا اٹھا تھا
“میں نے کون سا دل پھنک والا کام کیا ہے ؟؟؟ اپنی بیوی سے ہی تو رومینس کر رہا ہوں تمہیں کیا مسئلہ ہے ؟؟؟؟ کچھ کرنے ہی نہیں دیتی تم ” غازیان نے شرارت سے کہا تو حرا نے حیرت سے آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھا تھا جیسے کہ رہی ہو
“میں نے کب منع کیا ؟؟؟؟ “
“اچھا ایسی بات ہے ؟؟؟ ابھی دیکھ لیتے ہیں ” غازیان نے جیسے حرا کی بات سمجھ لی تھی اور پھر حرا کے چہرے پہ جھکا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا کمرے کا دروازہ زور سے نوک ہوا تھا۔۔۔ غازیان زور زور سے دروازہ بجنے سے ہڑبڑا گیا تھا جبکہ حرا اچھل کر پیچھے ہوئی تھی
اور کمرے میں ایک دم ارقم داخل ہوا تھا اور ارقم کو دیکھ کر غازیان کا دل کیا تھا کہ گلدان اسکے سر پہ پھینک دے
“ارے تو ابھی تک یہاں کیا کر رہا ہے ؟؟؟ گیا نہیں تو؟؟؟؟” ارقم نے اندر آتے ہوئے کہا تو غازیان لاعلمی سے بولا
“کہاں جانا تھا مجھے ؟؟؟” غازیان تو بھول ہی گیا تھا
“ارےےےےے حرا کی سوتن سے ملنے ” ارقم نے حرا کی طرف دیکھ شرارت سے کہا تو حرا نے ارقم کو حیرانگی سے دیکھا تھا ارقم کی مزاق بھی اسے سچ لگا تھا
کیااااااااا سوتن ؟؟؟؟؟؟” حرا بس اتنا ہی کہ پائی تھی اور پھر غازیان کی طرف دیکھا تھا
“یہ پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔۔ تو جا میں آتا ہوں ” غازیان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جیسے ارقم کی بات کو بلکل ہی نظرانداز کر گیا ہو لیکن حرا کا کیا جو نا جانے کیا کیا سوچ بیٹھی تھی
“اچھا میں چلتا ہوں کچھ دیر میں آ جاؤں گا پکا ” ارقم کو کمرے سے بھیجنے کے بعد غازیان حرا کے قریب گیا اور اس کے ماتھے پہ بوسا دییکر اسے اللہ حافظ کہتا کمرے سے چلا گیا تھا جبکہ حرا کے اب رونے کا وقت پھر سے شروع ہوا تھا اور اپنے بے خودی پہ افسوس کہ وہ کیوں غازیان کے قریب آنے پہ احتجاج نہیں کر سکی تھی
ابھی سوچوں کے انبار کھلے ہی تھے کہ اس کا فون بجا تھا
اور فون پہ اننون نمبر دیکھ حرا سوچ میں پڑ گئی کہ یہ کس کا نمبر ہو سکتا ہے ؟؟ اآخر اس نے فون کان سے لگایا اور سلام کر کے چپ ہوئی
“السلام علیکم !!!”
“وعلیکم السلام حرا !!! میں منان بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ نیلم سے تمہارا نمبر لیا میں نے۔۔۔ ایک ضروری بات کرنا تھی ” منان کی آواز ابھری تو حرا شش وپنج میں رہ گئی کہ آخر منان کو اس سے کیا کام ؟؟؟؟ اپنی سوچوں سے نکل کر حرا اب منان کی بات سننے میں مصروف تھی
“جی بھائی کیا بات کرنی ہے آپ کو ؟؟؟ ہم یونی میں بات کر لیتے ” حرا کو سمجھ نا آئی کہ کیا بولے
“نہیں نہیں۔۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ بات کسی کو بھی پتہ چلے۔۔۔۔ یہ صرف ہم دونوں تک رہنی چاہیے ٹھیک ہے ؟؟؟”
“جی ٹھیک ہے ۔۔۔ آپ بات تو بتائیں ” حرا اب اپنے بیڈ پہ آرام سے آ کر بیٹھی تھی
“وہ اصل میں حرا میں۔۔۔۔۔۔ ایمن سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ” اور یہ گرا بم حرا پہ کہ وہ ایک دم چیخی
“کیاااااااااا ؟ “حرا کے ہاتھ سے ایک دم فون گیا۔۔۔ کافی دیر فون کو گھورتی رہی اسے یقین نا آیا تھا
“ہیلو ہیلو حرا ۔۔۔۔۔ ” کافی دیر حرا کی آواز نا سن کر منان نے اسے پکارا
“جج جی بھائی ” حرا نے خود کو سنبھالا تھا اور پھر سے بات شروع کی
“حرا میں سچ میں ایمن سے شادی کرنا چاہتا ہوں اسے سچے دل سے اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں نے اپنے گھر میں بھی بات کر لی ہے سب راضی ہیں اور ہم جلد رشتہ بھی لائیں گے ” منان اسے ساری بات بتا رہا تھا
“تو آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں “
“میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ایمن سے بات کرو اور اسے میرے لیے مناؤ۔۔۔۔ میں نے اس سےبات کی تھی کہ میں رشتہ بھیجنا چاہتا ہوں تمہارے گھر تو وہ کہتی ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی اور مجھے جھڑک کہ چلی گئی۔۔۔۔ اسے سمجھاؤ نا پلیز۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ جب ہم آئیں تو وہ انکار کرے۔۔۔ میری پیاری بہن میری ہلپ کر نا پلیز “منان نے منت کی تھی جبکہ حرا تو اس بات سے ہی حیران تھی کہ ایمن نے منان سے بات کی اور تو اور اسےجھڑکا تھا۔۔۔ یہ بات اس کے لیے یقین کرنا مشکل تھی
“تم سن رہی ہو نا ۔۔۔۔ حرا میری مدد کرو گی نا ” منان نے بھی معصومیت سے کہا تو آخر حرا مسکرا دی تھی
“کیوں نہیں بھائی۔۔۔ میں بات کرتی ہوں اس سے ۔۔۔۔۔۔ آخر کو میرے بھائی نے مجھے پہلی بار کوئی کام کہا ہے تو کرنا تو پڑے گا ” حرا نے کہا تو منان بھی مسکرا دیا تھا
“شکریہ پیاری بہن “
“نو نیڈ ” حرا پیار سے کہتی کال کاٹ دی تھی اور اب آسیہ بیگم اور ایمن سے بات کرنے کا سوچ رہی تھی بھلا ہو منان کا جس نے حرا کے دماغ سے الٹی باتیں نکالی تھی ورنہ پتا نہیں کب تک انکے رونے کا شغل جاری رہتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسامہ اپنے کمرے میں بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ َوہ خود ہی جا کر مریم بیگم سے نیلم کے لیے بات کرے ابھی وہ اٹھا ہی تھا کہ مریم بیگم اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں
“ارے امی آپ ۔۔۔۔میں آپ ہی کے پاس آ رہا تھا ” اسامہ نے انہیں کمرے میں آتا دیکھ کہا تو وہ مسکرا دی تھیں
“اچھا جی کیا بات کرنی تھی ؟؟؟” مریم بیگم نے اس سے پوچھا تو اسامہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پہ بیٹھایا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا
“پہلے آپ بتائیں آپ کو کیا کام تھا ؟؟؟؟” اسامہ نے ان کی کمرے میں آنے کی وجہ پوچھی
“ہممممم۔۔۔۔ بات تو ہے اور تمہاری ہی ہے ۔۔۔۔ اور مجھے پتہ ہے کہ میرا بیٹا وہ بات سن کر خوشی سے اچھل پڑے گا ” مریم بیگم نے شرارت سے کہا تو اسامہ مسکرا دیا تھا
“اچھا بتائیں نا اب ” اس سے صبر ہی نہیں ہو رہا تھا کہیں نا کہیں وہ بات سمجھ بھی رہا تھا کیونکہ سلیم صاحب نے اسے کہا تھا کہ وہ مریم بیگم سے بات کریں گے تو یقیناً وہ یہی بات کرنے آئی تھیں
“ہم لوگ تمہارا رشتہ لینے جا رہے ہیں کل ….. اور مجھے پورا پورا یقین ہے کہ وہ لڑکی تمہاری بھی پسند ہے ۔۔۔۔ آخر کو بچپن سے ساتھ ہو سکول کالج اور اب یونیورسٹی میں ” مریم بیگم نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا تو اسامہ کے سامنے نیلم کا سراپا لہرایا تھا یقیناً وہ نیلم کی ہی بات کر رہی تھی۔۔۔
“کیااااااااا سچیییی امییی۔۔۔۔۔ آپ سچ کہ رہی ہیں نا۔۔۔ “مریم بیگم کی بات سن کر وہ واقعی اچھل پڑا تھا ساتھ مریم بیگم کو بھی اٹھایا تھا اور اب کمرے کا منظر یہ تھا کہ وہ دونوں ماں بیٹا کمرے میں خوشی سے جھوم رہے تھے مریم بیگم.کو بھی تسلی ہو گئی تھی کہ اسامہ کو کوئی اعتراض نہیں یے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مومنہ بیگم ارقم کے پاس اس کے کمرے میں آئی تھیں وہ جو موبائل میں کوئی گیم کھیل رہا تھا انہیں اندر آتا دیکھ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا
“آئیں امی ” ایک نظر انہیں دیکھ کہ کہا اور پھر سے موبائل میں گم ہو گیا
“ارقم مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ” مومنہ بیگم نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا
“جی امی سن رہا ہوں بولیں ” گیم میں مگن انداز میں بولا
“اؤئے اؤئے مجھے بچاؤ۔۔۔ کوئی مار رہا مجھے ” ارقم گیم کھیلتے ہوئے بولا
“نہیں پہلے تم یہ فون رکھو نا پھر بات کروں گی میں “
“کیا یار !!!!! آؤٹ ہو گیا ہوں میں۔۔۔ آپ کو بھی ابھی آنا تھا اچھا خاصا کھیل رہا تھا۔۔۔۔۔ اچھا خیر بتائیں کیا بات ہے ” ارقم جھنجھلاتے ہوئے بولا
“شرم تو نہیں آتی نا ماں کو ایسے کہتے ہوئے۔۔۔ بد تمیز” مومنہ بیگم نے اسے ایک چپت لگائی تو وہ اپنے دانتوں. کی نمائش کرنے لگا
“اندر کرو دانت یہ ” مومنہ بیگم نے کہا تو وہ سنجیدہ ہوا
“ہاں جی اب بتائیں ” ارقم نے کہا
“ہم سب کل تمہارا اور اسامہ کا رشتہ لے کر جا رہے ہیں لائبہ اور نیلم کے لیے ” اور پھر مومنہ بیگم نے ارقم کو دوپہر میں ہوئی ساری بات بتا دی تھی جس پہ ارقم چونکا تھا
“کیاااااا ؟؟؟ یہ کیا کہ رہی ہیں آپ ؟؟؟ اسامہ کیسے مان سکتا ہے ؟؟؟؟ وہ تو …… آپ جھوٹ بول رہی ہیں ہیں نا ؟؟؟؟ مجھے تنگ کر رہی ہیں نا ؟؟؟؟ ” ارقم اسامہ کے اس رشتے سے راضی ہونے پہ حیران تھا
“میں بلکل سچ کہ رہی ہوں ابھی مریم کا فون آیا تھا مجھے اسامہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے اس رشتے سے اور اب تم بھی چپ رہو اچھا ۔۔۔۔ ہم بس جا رہے ہیں کل مجھے کوئی جھگڑا نہیں چاہیے ۔” مومنہ بیگم ارقم کو حیران چھوڑ کر کمرے سے چلی گئی تھیں جبکہ ارقم صدمے کی سی کیفیت میں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کا منظر
“بھئی سچ پوچھو تو مجھے لائبہ بہت پسند ہے اپنے اسامہ کے لیے ۔۔۔۔ میں تو اسے ہی اپنی بہو بناؤ گی اچھا ابراہیم صاحب ؟؟؟” مریم بیگم نے اپنی مرضی ابراہیم صاحب کو بتائی تو وہ مسکرا دیے تھے
“ارے بیگم سب لڑکیاں ہی پیاری ہوتی ہیں آپ کسی کو بھی پسند کر کے اسامہ کی دلہن بنا دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ” ابراہیم صاحب نےکہا تو سب مسکرا دیے تھے
“تو بس پھر ڈن ہو گیا۔۔۔ ہم کل پہلے نیلم کی طرف جائیں گے ارقم کا رشتہ لے کر اور پھر لائبہ کے گھر جائیں گے اسامہ کا رشتہ لے کر ” مومنہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب مسکرائے تھے اور سب نے ان کے ہاں میں ہاں ملائی تھی.
جاری ہے
