Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34

“بابا آپ آجائیں نا بچوں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے تو آپکے بغیر ہم نہیں کر سکتے ویسے بھی ان دونوں کو آپ صحیح سمجھا سکتے ہیں ” جاوید صاحب سلیم صاحب کو کہہ رہے تھے جو انکے گھر آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے یہ کہہ کر کہ آج کل دکان پہ کام ہوتا ہے
“جاوید تم لوگ انکے باپ ہو وہ تمہارے باپ نہیں ہیں بات کرو ان سے بلکہ بات کیا کرنی ہے حکم سناؤ انکو بس ۔۔۔۔ کہو کہ شادی کروا رہے ہیں تم دونوں کی اپنا خرچہ خود اٹھاؤ اب “سلیم صاحب کی بات سن جاوید صاحب کو اب انکی ضد پہ غصہ آیا تھا
“بابا آپ بھی ہمارے باپ ہیں ہم آپکے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتے کوئی …. بس آپ آ رہے ہیں مجھے نہیں پتا ” اب کی بار جاوید صاحب نے ضد کر کے کہا تھا وہ سلیم صاحب جو اپنی دکان پہ بیٹھے تھے فون کو گھور کر دیکھا تھا بلکل ایسے جیسے جاوید صاحب دکھ رہے ہوں
“جاوید ۔۔۔ تم نافرمان ہی رہنا ۔۔۔ ظاہر ہے وہ بھی تم لوگوں کی ہی اولاد ہیں کیسے مانیں گے تمہاری بات جب تم میری نہیں مانتے تو آرہا ہوں میں کل ۔۔۔ بے غیرت اولاد ” سلیم صاحب نے اچھی خاصی کر دی تھی جبکہ جاوید صاحب نے بے بسی سے اپنے فون کو دیکھا تھا انکے ابا حضور آج بھی انکی زبان سے چھترول کر دیتے تھے
ان سے مشورہ لو یا کوئی فیصلہ کرنے کو کہو تو بھی انکو بےعزتی کرنی ہوتی تھی اور اگر انکو کسی فیصلے سے بے خبر رکھا جائے پھر تو نوبت اصلی والے چھترول تک آ سکتی تھی . اسلیے بہتر ان سب کو یہی لگتا تھا کہ انکو بات بتا کر بے عزتی کر وائی جائے
“ٹھیک ہے بابا آکر بتائیے گا اڈے سے لینے آئوں گا میں ” جاوید صاحب نے بغیر کوئی بحث کیے انہیں کہا تھا کیونکہ دکان پہ گاہک آ گئے تھے
“ہممم اچھا اللہ حافظ ” سلیم صاحب نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا
“اللہ حافظ”
—————————–
“السلام علیکم میری بلیک کافی !!!!! یار اسامہ اور نیلم کی باتیں ختم نہیں ہوتی اور ایک تم ہو جو مجھ سے بات ہی نہیں کرتی ” ارقم نے لائبہ کو فون کیا تھا اور اسکے کال اٹھاتے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا جبکہ دوسری طرف لائبہ کا دل کیا تھا اسکے منہ پہ کچھ دے مارے وہ جب اسکو بلیک کافی بولتا ہے
“وعلیکم السلام ….. “بمشکل خود کو کچھ کہنے سے روکا تھا اور صرف سلامتی بھیجنے پر ہی اکتفا کیا تھا
“تمہیں میری زرا قدر نہیں ہے نا دیکھ لینا جب میں انگلینڈ چلا جاؤں گا نا تو دیکھنا …..” وہ بولتے بولتے کچھ زیادہ ہی لمبی چھوڑ گیا تھا چپ وہ تب ہوا تھا جب اسے لائبہ کہ ہنسی سنائی دی تھی
“انگلینڈ جا کر کیا کرو گے تم آتا جاتا ہے نہیں تمہیں تو کیا وہاں جا کر تم صفائی کرو گے گلیوں کی ؟؟؟” لائبہ نے بھی اسے چڑانے میں کثر نہیں چھوڑی تھی اسنے مشکل سے ہنسی کنٹرول کی تھی
“تمہیں نا شرم چھوو کر بھی نہیں گزری اپنے منگیتر کو ایسا بول رہی ہو میں کک بنوں گا دیکھنا تم ۔۔۔۔۔۔ پھر تب تمہیں یہ اپنے الفاظ یاد آئیں گے ” وہ جو بیڈ پہ لیٹے لیٹے بات کر رہا تھا جوش میں آکر بیٹھ گیا تھا اور جو منہ میں آرہا تھا بول رہا تھا آج تک خود انڈا تک ابالا نہیں تھا اور یہاں صاحب بہادر چلے تھے کک بننے
“واہہہ رے ارقم تیرے خواب “
“تمہیں جیسے بہت شرم آتی ہے نا ۔۔۔۔۔ مجھے بلیک کافی کہتے ہو کہاں سے کالی ہوں میں اور یہ جو تم کک بننے چلے ہو نا آج تک مجھے تو بلیک کافی پلا نہیں سکے تو کیا بنو گے تم کک ” لائبہ بھی پھر کہاں پیچھے رہنے والی تھی اسکی باتوں پہ ارقم اب بیڈ سے کھڑا ہو گیا تھا بیچارہ جوش میں ہوش کھو رہا تھا جس کا اندازہ اسکو اب تھوڑی دیر بعد ہونے والا تھا
“تم صرف صبر کرو 15 منٹ ابھی تمہیں بلیک کافی بنا کر بھیجتا ہوں کیا یاد کروگی ” اسنے کہتے ساتھ ہی لائبہ کی بات سنے بغیر ہی فون کٹ کر دیا تھا اور آستینیں اوپر چڑھا کر کمرے سے باہر نکلا تھا
“ارے یار سردی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ ” پھر جلدی سے سویٹر کی آستینیں نیچے کی تھی اور اب کچن میں کھڑا دیکچوں کو دیکھ رہا تھا کہ بلیک کافی کس میں بنائی جائے
———————————————–
“حرا شائستہ خالہ آئی ہیں ” وہ جو اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی غازیان کی بات سن کر حیران ہوئی تھی پھر جلدی سے اٹھ کر سلیپر پہن کر باہر آئی تو لاؤنج میں حسن صاحب اور شائستہ بیگم کو بیٹھے دیکھ کر چونکی تھی لیکن پھر جا کر ان سے سلام کیا تھا جب حسن صاحب نے اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا اور اسکی پیشانی چومی تھی تو حرا پہ تو آج حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے
اس لمس کیلیے تو وہ ترستی تھی اس لمس جیسا کسی کا ہو ہی نہیں سکتا باپ کا لمس آج بھی اسے محفوظ ترین جگہ لگی تھی آنکھوں میں آئے آنسو زبردستی پیچھے دھکیلے تھے اور ان سے الگ ہو کر بیٹھی تھی آج وہ اتنی خوش تھی کہ اپنی خوشی وہ بیان نہیں کر سکتی تھی
حسن صاحب غازیان نے باتیں کر رہے تھے جبکہ عائشہ بیگم ابھی کپڑے دھو رہی تھں چھت پہ .
“میں چائے بنا کر لاتی ہوں ” وہ کہتی ہوئی اٹھ کر کچن میں گئی تھی جب شائستہ بیگم بھی اٹھ کر اسکے پیچھے آئی تھی ہاتھ میں کچھ شاپر تھے جو لاکر کچن کاؤنٹر پر رکھے تھے حرا بس انہیں دیکھ ہلکا سا مسکرائی تھی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا بات کرے
“مجھے معاف کر دو حرا ” وہ ابھی بات کرنے کا سوچ ہی رہی تھی جب شائستہ بیگم یکدم ہاتھ جوڑ کر اسکے سامنے کھڑی ہو گئی تھی وہ ایکدم پریشان ہو گئی
“آپ کیوں کر رہی ہیں ایسے مجھے نہیں ہے اب کوئی شکایت آپ سے ” حرا نے جلدی سے انکے ہاتھ پکڑے تھے اور انہیں کچن میں ہی رکھی کرسی پر بٹھایا تھا
“نہیں حرا مجھے معاف کر دو میں نے بہت غلط کیا تم سب کیساتھ سب سے زیادہ تمہارے ساتھ تمہیں تمہارے باپ سے ہی دور کر دیا ……. شاید اسی کی سزا دی ہے اللہ نے مجھے ” وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی اور حرا کو بھی ابکی بار انہیں دیکھ رونا آیا تھا جیسا بھی تھا لیکن زارون اسکا بھی بھائی تھا
“مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں یے شائستہ آنٹی آپ اب معافی مت مانگیں بڑی ہیں آپ میری اور میری تربیت مجھے یہ اجازت نہیں دیتی کہ آپ مجھ سے معافی مانگیں۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی شکایت تھی بھی تو اب نہیں رہی بس ” حرا نے انکے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا جبکہ انہوں نے اسے ایکدم گلے سے لگایا۔۔۔ عائشہ بیگم کچن کے اندر آئی تھی انکو دیکھ کر مسکرائی تھی
“ارے یہاں تو ماں بیٹی کا ایموشنل سین چل رہا ہے ” انہوں نے کہا تو شائستہ بیگم اٹھ کر ان سے ملی تھی جبکہ حرا بھی کھڑی ہو کر اب چولہے کی طرف بڑھی تھی
“تم چھوڑ دو حرا میں کرتی ہوں تم اپنی امی کیساتھ بیٹھو ” عائشہ بیگم کے امی کہنے پر ان دونوں کو ہی عجیب لگا تھا لیکن رشتہ تو تھا ہی . وہ دونوں بھی وہاں ہی بیٹھ گئی تھیں جب شائستہ بیگم نے چند شاپر اسکے ہاتھ میں دیے تھے تو حرا نے تھوڑا حیرت سے انہیں دیکھا تھا
“کچھ تحفے لائی ہوں تمہارے لیے ….. بس صدا خوش رہو اور سہاگن رہو اللہ نیک اور صالح اولاد دے ” شائستہ بیگم کے کہنے پر ان دونوں نے آمین کہا تھا . شائستہ بیگم کو آسیہ بیگم نے بتایا تھا حرا کے بارے میں تو انہیں یہی موقع صحیح لگا تھا کہ وہ حرا سے معافی مانگ لیں . ویسے بھی انسان کو جب اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے چاہے احساس کتنی ہی دیر سے ہو لیکن معافی مانگنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے
————————————————
اب یہ منظر ہے کچن کا جہاں پر چائے کی پتی گری ہوئی ہے ایک دیکچہ نیچے پڑا ہے ایک کالا ہو کر سنک میں پڑا ہے جبکہ جو چولہے پر رکھا ہے وہ بھی اب کالا ہو چکا ہے جبکہ اس میں رکھا پانی اب ابل ابل کر آدھا ہو چکا ہے . جبکہ پاس کھڑے ارقم صاحب گیم کھیلنے میں مصروف ہیں پاس کافی رکھی ہے جو اب عنقریب گرنے ہی والی ہے
مومنہ بیگم کو تو منہ ہی کھلا کا کھلا رہ گیا تھا وہ بیچاری تو صدمے میں ہی چلی گئی تھی کچن کا یہ حال دیکھ کر تو انکا دل کیا تھا وہ اسے گھر سے ہی نکال دیں
“ارقم !!!!!!” مومنہ بیگم کے چلانے کی آواز سن کر جو کافی کا ڈبہ تھا وہ بھی زمین بوس ہوا تھا ساتھ ہی ارقم کا موبائل بھی اسکے پاؤں پر بجا تھا
“ج جی ماما ” وہ یکدم نیچے جھکا تھا موبائل اٹھا کر دیکھا تھا سکرین سلامت دیکھ کر سکھ کا سانس لیا تھا لیکن پھر مومنہ بیگم کی نظریں دیکھ کر اسے احساس ہوا تھا کہ وہ دشمن کے ایریے میں ناصرف آچکا ہے بلکہ انکا نقصان بھی کر چکا ہے
“ارقم تم یہ کیا کر کیا رہے ہو یہ چاولوں والے دیکچے میں کیوں پانی ابال رہے ہو اگر کچھ کھانا ہی تھا تو منہ سے پھوٹ دیتے سارے برتن اور کچن کا ستیاناس کر دیا ہے ۔۔۔۔۔ کیا کر رہے تھے تم ” مومنہ بیگم چیختی ہوئی بولی تھی اور چولہا بند کر کے دیکچہ سنک میں رکھا تھا جو اب کالا ہو چکا تھا
“ماما وہ میں کافی بنا رہا تھا ” وہ کہتے ہوئے کچن سے باہر نکلا تھا لیکن زبردست قسم کا جوتا اسکی کمر پر بجا تھا تو اسے وہاں ہی رکنا پرا تھا
“چائے کی پتی سے کافی بنانا تمہارے باپ نے ایجاد کی ہے .اور چاولوں والے دیکچے کی جگہ باہر سے دیگ لا کر اس میں بناتے ..دو گھنٹے پہلے ہی وہ کچن صاف کر کے کپڑے دھونے چھت پر گئی تھی ” اب اتنی ٹھنڈ میں کپڑے دھو کر نیچے آکر کچن کا یہ حال انکا دماغ گھما رہا تھا انہوں نے کہا تو غصے میں تھا لیکن اپنے ارقم صاحب دماغ کا کم ہی استعمال کرتے ہیں
“ہیں ماما کیا سچ میں پاپا نے کافی بنائی تھی ” اسکے منہ سے یہ الفاظ نکلے تھے مومنہ بیگم جو جھاڑو دے رہی تھی وہی الٹا کر کے اسکی کمر پہ مارا تھا تو ابکی بار وہ اچھلا تھا
“ماما کیا کر رہی ہیں لگ رہی ہے مجھے “وہ دور ہٹ کر کھڑا ہوا تھا اور بولا تھا
“آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس ارقم جلدی سے یہ.کچن صاف کرو ورنہ تم گھر سے باہر نہیں نکلو گے اور رات کو میں ٹینڈے بناؤں گی ” اور اب کی بار سزا سن کر تو ارقم کے آنسو نکلتے نکلتے رہ گئے تھے جتنی معصوم شکل وہ بنا سکتا تھا بنا رہا تھا لیکن مجال ہے جو اسکی ماں کو رحم آیا ہو وہ اسکو سزا سنا کر اب کچن سے باہر چلی گئی تھی جبکہ اب وہ کچن میں فرش پر بکھرے چائے کی پتی اور کافی کو دیکھ رہا تھا جو اب پانی کے ساتھ گھل کر عجیب منظر پیش کر رہی تھیں پھر اسکی نظر کالے دیکچوں پر پڑی تھی تو صحیح معنوں میں رونا آیا تھا
“ٹھنڈے پانی سے دھونے پڑیں گے اب
کبھی بھی کک نہیں بنوں گا میں توبہ میری” خود سے کہتے ہوئے اب اسنے جھک کر جھاڑو اٹھایا تھا جس سے ابھی اسکی نوازش ہوئی تھی
——————————————————
“ہائے نہ عائشہ اے میں کی سنیا اے بہت جلدی نی اے حالیں تے حرا پڑدی سی . (ہائے عائشہ یہ میں کیا سن رہی ہوں ابھی تو حرا پڑھ رہی تھی نا) ” یہ تھی شینو بیگم جن کو بس کوئی خبر ملنی چاہیے جبکہ عائشہ بیگم کو حیرت وہی تھی کہ کیسی بندی ہے یہ پہلے بھی آکر یہی حرا کو باتیں سنا کر گئی تھی اور جب اللہ نے انہیں خوشخبری دی ہے تو بھی اسکی باتیں ہی بدل گئیں
“شینو اللہ کا حکم ہے اسنے ہمیں خوشیاں دی ہیں تم پہلے آکر حرا کو بول رہی تھی کہ تم چیک اپ کرواؤ اب تم کہہ رہی ہو حرا چھوٹی ہے۔۔۔۔۔۔ دوسروں کے گھروں میں تانک جھانک کرنا چھوڑ دو تم ” عائشہ بیگم کو آج صحیح معنوں میں اس پر غصہ آیا تھا تو اسے سنا بھی دی تھی جبکہ وہ اپنا سا منہ لیکر رہ گئی تھی پھر اسنے جلدی سے بات گھمائی تھی اور اٹھ کر چلی گئی تھی
اسی لیے کہتے ہیں کہ لوگ کبھی خوش نہیں ہو سکتے اسلیے انہیں خوش کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے
———————————————-
غازیان نے ارقم کی ویڈیو بنا کر اسامہ کو بھیجی تھی اور اب وہ دونوں ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے . غازیان نیچے آیا تھا حسن صاحب کو گیٹ تک چھوڑنے جب مومنہ بیگم کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا تھا وہ کچن میں ہے اور آگے جو منظر اسکو دیکھنے کو ملا تھا صحیح معنوں میں اسے ہنسی بھی آئی تھی اور ارقم پہ ترس بھی . جو برتنوں کو رگڑ رہا تھا آستینیں کہنیوں تک چڑھا کر شرٹ کیساتھ پینٹ بھی گیلی کر چکا تھا . اسنے کچھ بھی بولے بغیر ویڈیو بنائی تھی اور اب وہ اور اسامہ گلی کے نکڑ پر کھڑے ہنس رہے تھے
“کیا ہوا ایسے کیوں بلایا ہے ؟؟ وہ بھی اتنی ٹھنڈ میں ” ارقم چلتا ہوا انکے قریب آیا تھا تو دونوں اسکو دیکھ کر ایک دفعہ پھر ہنسے تھے
“کیا بھنگ ونگ تو نہیں پی لی کیوں اتنے دانت نکل رہے ہیں ” ارقم چڑا تھا اسے ویسے بھی غصہ تھا ایک تو ٹھنڈے پانی سے برتن دھو کر وہ بلکل فریز ہو رہا تھا اوپر سے یہ لوگ ڈرامے کر رہے تھے
“اہمم اہمم آج کل لڑکے بھی برتن دھوتے ہیں یار مجھے حیرت ہوتی ہے ” بات سب سے پہلے غازیان نے شروع کی تھی اور ارقم کو ایسا لگا تھا جیسے وہ جانتا ہے جو آج ہوا لیکن خود کو نارمل رکھا
“ہاں تو کیا ہوا جب لڑکے گند مچا سکتے ہیں تو ماں کی مدد کیلیے برتن دھونے میں کیا شرم ہے جب اپنے جانو مانو کیلیے اس سردی میں باہر جا کر ریچارج کروا سکتے ہو تو ماں کو برتن دھو کر دیتے ہوئے تم لوگوں کو حیرت ہوتی ہے ” خود کو بچانے کیلئے اسنے ان دونوں کو اچھی خاصی سنا دی تھی. باتیں بھی اسنے اچھی کی تھی جبکہ ان دونوں کی بولتی بند ہو چکی تھی
“یار ہم تو ویسے بات کر رہے ہیں تو کیوں غصہ ہو رہا ہے تو کونسا برتن دھوتا ہے ہے نا غازیان ..” اسامہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا تھا. اور غازیان کو دیکھ کر آنکھ دبائی تھی تو وہ بھی مسکراہٹ دبا گیا تھا
“ہاں اور اب میرے پاس بھی ایک خبر ہے تم دونوں کیلیے اب اچھی یا بری اسکا فیصلہ تم لوگ کرنا مجھے سمجھ نہیں آرہی”
اسنے نہایت ڈرامائی انداز میں کہا تھا وہ تینوں اس وقت بلکل لوفر لگ رہے تھے جو گلی میں کھڑے تھے
“ایسی کیا خبر ہے جلدی سے بتا ؟؟” غازیان کے پوچھنے پر اسنے گندی سی شکل بنا کر اسے دیکھا تھا
“ہمارے ابا حضور ہماری شادی کا سوچ رہے ہیں ” ارقم کے کہنے پہ اسنے حیرت سے اسے دیکھا تھا کیونکہ یہ تو خوشی کی خبر تھی
“ہاں تو اس میں بری خبر کی کیا بات ہے یہ تو اچھی بات ہے نا ” اسامہ نے اسکی عقل پہ ماتم کیا تھا بلکہ اسکی بات سن کر خود تو اسکے دل میں لڈو پھوٹے تھے
“جی بلکل میں نے بات کرتے ہوئے سنا تھا ابا کو ماما کیساتھ کہ شادی کے بعد یہ لوگ آدھا خرچہ خود اٹھائیں گے جیسے غازیان نوکری کرتا ہے ویسے ہی ہم بھی کریں گے ” اب کی بار ارقم نے صحیح خبر بتائی تھی جسے سن کر اسامہ نے غازیان کو گھورا تھا
“مجھے کیوں ایسے دیکھ رہے ہو یار میری کیا غلطی ہے ” غازیان معصوم بن کر پیچھے کھسکا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ بھاگتا ان دونوں نے اسے گلی کے بیچ میں دبوچ لیا تھا
“تیری غلطی ہے تجھے شوق چڑھا تھا بیوی کا خرچہ خود اٹھانے کا ہم سے نہیں ہوتی پڑھائی اور نوکری ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔ منحوس انسان اب ہماری جگہ بھی تو ہی کریگا نوکری ” وہ دونوں شادی کی خبر پہ خوش ہونی کی بجائے خرچے کی خبر پہ اس کو کوس رہے تھے .
“سچ میں دماغ سے پیدل ہیں یہ دونوں ” غازیان نے کڑھ کر سوچا تھا اور ان کی صلواتیں سن رہا تھا اسکے علاوہ کوئی چارہ جو نہیں تھا
—————————————
اگلے دن سلیم صاحب صبح ہی صبح جاوید صاحب کی طرف آگئے تھے اور اب ناشتے سے فارغ ہو کر سب اکٹھے بیٹھے تھے اور یہ طہ پایا تھا کہ اگلے مہینے اسامہ اور ارقم کی شادی ہو گی اور نکاح کے ساتھ رخصتی بھی
یہ خبر سن اسامہ اور ارقم خوش ہوئے تھے اور کمرے میں دونوں لڈیاں ڈال رہے تھے
“لیکن نوکری ۔۔۔۔۔۔ آفففففف آزادی ختم ” ارقم ایک دم سیدھا ہو کر کھڑا ہوا تھا اور نوکری کا سن دونوں نے اب پھر سے سنجیدہ ہو کر غازیان کی طرف دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بڑے پہلے نیلم اور پھر لائبہ کی طرف گئے تھے شادی کا کہنے دونوں گھر یہ بات سن حیران تھے لیکن رشتہ تو ہو ہی چکا تھا اب شادی میں دیری کیسی
اور پھر ایک مہینے بعد ان دونوں کی شادی ہے شادی میں ضرور آئیے گا…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *