Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06

حسن صاحب صحیح غصے میں گھر میں داخل ہوئے اور سیدھا اپنی امی کے کمرے کی طرف گئے جہاں غزالہ بیگم ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آرام کرنے لیٹی تھی کہ کمرے کا دروازہ زور سے کھلا
“امی آپ کی جرات بھی کیسے ہوئی ۔ میرے بیٹے پہ ہاتھ اٹھانے کی ؟؟؟؟؟ یاد نہیں ہے آپ کو کہ کس طرح ہم نے دعائیں کر کر کہ اللہ سے بیٹا مانگا تھا اور اب آپ نے اپنے ہی پوتے پہ ہاتھ اٹھا دیا ۔۔۔۔ آپ نے پہلے بھی ہارون پہ ہاتھ اٹھایا تھا میں برداشت کر گیا تھا …شائستہ کے ساتھ بھی آپکا رویہ میں دیکھ رہا ہوں … اور اب میں ہر گز یہ برداشت نہیں کروں گا ؟؟؟؟” حسن تو جیسے وحشی ہی ہو گیا تھا شائستہ کی فون پہ بات سن کے کہ
“امی نے زارون پہ ہاتھ اٹھایا ہے حسن اور اس کا رو رو کر برا حال ہے ۔۔۔۔ اور تو اور اسے اب بخار بھی ہو گیا ہے حسن۔۔۔۔ نا جانے کون سا گناہ کیا تھا اس معصوم نے جو اس کو مارا ابھی تو میں نے ایک تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا پتا نہیں کتنا مارا ہو گا۔۔۔۔ حسن پلیز جلدی گھر آجاؤ ” شائستہ بیگم نے اسے ایک کی چار لگا کر کہا تھا گویا بدلا لے رہی ہوں غزالہ بیگم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حسن میری بات سنو ۔۔۔۔۔ ایساااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔ ” غزالہ بیگم کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ حسن ان کی الماری کی طرف بڑھا اور ان کا سارہ سامان ایک بیگ میں ڈالنے لگا
“بس کر دیں امی بس۔۔۔۔ اب اور نہیں ۔۔۔۔ آپ نے میری بیوی اور میرے بچوں کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔۔۔ اب آپ اس گھر میں نہیں رہ سکتی .. میں کرایا دے دیتا ہوں آپ گاؤں چلی جائیں ماسی کے پاس ” حسن نے انکی ایک بہن کا حوالہ دیا تھا جو گاؤں میں رہتی تھئ
“یہ کیا کہ رہے ہو حسن ؟؟؟ کیسے جائیں گی یہ” شائستہ جو شور کی آواز سے زارون کے کمرے سے باہر آئی تھی حسن کو غزالہ بیگم کا بیگ پیک کرتا دیکھ طنزیہ مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آئی اور پھر خود کو سنجیدہ کرتی ان تک آئی
“دیکھ رہی ہیں امی …. کتنی فکر ہے اسے آپ کی …. اور آپ آپ اسے غلط سمجھتی رہی۔۔۔ ” حسن نے اپنی امی کا ہاتھ پکڑا اور انہیں گھر کے دروازے پہ جا کھڑا کیا
“جائیں اب آپ تھوڑے دن کیلیے ” حسن کہتا ہوا شائستہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر چلا گیا جبکہ غزالہ بیگم نے حسن کو جاتا ہوا دیکھا اور وہ اس پورے قصے میں اپنی صفائی میں کچھ بھی نا بولی ۔۔۔۔۔ آخر بولتی بھی کیا۔۔ سب ان ہی کی تو دی ہوئی شہ تھی۔۔۔ نا یہ حسن کو اپنی بیٹیوں کی طرف سے بدظن کرتی اور نا اس کی شائستہ سے شادی کرواتی تو نا اس کے بیٹے ہوتے جنہیں ان کے ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار نے بگاڑ دیا تھا اور نا آج وہ یوں گھر سے بے دخل ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے چار بج رہے تھے جب ایمن سکول سے گھر آرہی تھی تو اسے راستے میں سڑک کے کنارے غزالہ بیگم بیٹھی ہوئی نظر آئی
اسے لگا کہ شاید یہ اس کی نظر کا دھوکا ہوگا لیکن جب وہ ان کے قریب جا کر رکی تو اسے یقین ہوا کہ یہ واقعی اس کی دادی ہی ہیں
“دادی آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں اور وہ بھی اکیلی اور یہ بیگ ؟؟؟؟ آپ کہی جا رہی ہیں؟؟؟” ایمن نے ڈرتے ڈرتے اپنی بات مکمل کی کیونکہ اسے لگا تھا کہ کہیں اس کی دادی اس طرح ان سے سوال کرنے پہ کہی اسے جھڑک ہی نا دیں
جانی پہچانی آواز سن کر غزالہ بیگم نے اوپر دیکھا تو انہیں ایمن کھڑی نظر آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن کے گھر سے نکلنے کے بعد وہ چلتے چلتے تھک ہار کر ناجانے کہاں پہنچ گئی تھی۔۔۔ آج دھوپ بھی بہت زیادہ تھی اور دھوپ کی تپش سے انہیں چکر آنے لگے تھے تو پاس ہی سڑک کے کنارے بیٹھ گئی تھی
“یا اللہ اب میں کہاں جاؤں !!! میرے واحد سہارے نے ہی مجھے اپنے گھر سے نکال دیا میں تن و تنہا رہ گئی ہوں اللہ ۔۔۔۔۔ میرے رہنے کو کوئی ٹھکانا نہیں ہے اللہ میں کہاں جاؤں۔۔۔۔ تو مجھے اٹھا لے۔۔۔ اس زلت بھری زندگی سے دور کر دے !!” غزالہ بیگم گرمی سے نڈھال روتے ہوئے بمشکل اللہ کو حاضر ناظر جان کر گویا ہوئی ۔۔۔۔۔ ابھی بمشکل پانچ منٹ بھی نا ہوئے ہوں گے کہ انہیں اپنے عقب سےآواز آئی اور اس انسان کو دیکھ کہ ان کے اندر ایک سکون کی لہر دوڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دادی بتائیں نااااا ” ایمن نے غزالہ بیگم کو مسلسل گھورتے ہوئے دیکھا تو اانہیں بولی
“کچھ نہیں میری بچی !!!! بس ایسے ہی ” اب وہ اس سے کیا کہتی کہ جس عورت کی وجہ سے انہیں گھر سے نکلوایا تھا آج اسی عورت نے انہیں بھی گھر سے بے دخل کر دیا تھا
“اچھا چلیں میرے ساتھ گھر !!!! بہت گرمی ہے باہر اور دھوپ بھی بہت تیز ہے !!!” ایمن نے اپنی دادی کی روئی روئی آنکھیں دیکھیں اور ان کے پاس پڑے بیگ کو دیکھا اور ان کے نرم پڑتے لہجے سے اس نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ ضرور کچھ نا کچھ گڑبڑ ہے تبھی دادی یوں باہر اس گرمی کے قہر میں بیٹھی ہیں ورنہ تو وہ اس ٹائم سوئی ہوتی تھیں
“نہیں ایمن تم جاؤ گھر میں ٹھیک ہوں ” غزالہ بیگم نے اسے کہا آخر کس منہ سے جاتی وہ آسیہ بیگم کے گھر ۔۔۔۔ان کے ساتھ اتنی زیادتیاں کی تھیں کہ اب اسی کے سہرے کیسے رہتی
“نہیں دادی مجھے کچھ نہیں سننا آپ کو چلنا پڑے گا میرے ساتھ ورنہ میں بھی یہی بیٹھ جاؤں گی آپ کے ساتھ ” ایمن کسی بھی حال میں اپنی دادی کو یوں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی چاہے کتنی بھی انہوں نے ان سب کو دکھ دیے تھے لیکن پھر بھی وہ تھی تو اس کی دادی نا
کافی دیر ایمن کھڑی ان کی منتیں کرتی رہی تو آخر ناچار انہیں ماننا پڑا اور ایمن کے ہمراہ آسیہ بیگم کے گھر آگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے 5 بج رہے تھے جب وہ تینوں ارقم کے گھر لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے اور صبح سے ان کا انتظار کر کر کے اب بے زار ہو گے تھے
“یار مجھے لگتا ہے وہ نہیں آئیں گے ” ارقم بے زاری سے بولا
“ہاں نا صبح سے انتظار کروایا ہوا ہے اب تو نیند آنے لگ گئ ہے لیکن انہوں نے نا آنے کی قسم کھا رکھی ہے ” غازیان نے کہا
“یار تجھے انہوں نے پکا کہا تھا کہ وہ آئیں گے شام کو ؟؟” اسامہ نے غازی سے سوال کیا تو اسے یاد آیا
” انہوں نے کہا تھا کہ مشکل ہے لیکن وہ کوشش ضرور کریں گے آنے کی ” غازی ہلکی آواز میں اپنی بات مکمل کرتا چپ ہوا جبکہ ارقم اور اسامہ کا غصے سے برا حال ہو چکا تھا غازی کی اس بات سے
“کمینے !!! ہم یہاں صبح سے ان کا انتظار کر رہے ہیں اور تو کہ رہا ہے کہ مشکل ہے کہ وہ آج آئیں !!!!! اگر وہ نا آئے.نا تو غازی اپنی خیر منا تو تیرا وہ حال کریں گے نا ہم کہ یاد رکھے گا تو ہمیشہ…… اب میں گھر جا رہا ہوں جب وہ آئے تو مجھے بلا لینا” اسامہ غصے سے کہتا ہوا باہر کی طرف بڑھا ابھی اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ باہر کھڑے شخص کو دیکھ کہ چونکا
“آپ ……..!!!”
…………………
ایمن دادی کو اپنے ساتھ لیے گھر آگئ تھی اور اس وقت گھر میں سب تھے سوائے حرا کے جو کہ حسب معمول اس وقت نیلم کے گھر تھی
آسیہ بیگم کچن میں چائے بنا رہی تھی کہ بیل بجی
وہ کچن سے نکل کر باہر دروازہ کھولنے گئی انہیں پتہ تھا کہ ایمن ہی ہو گی تو بغیر پوچھے دروازہ کھول دیا
“ایمن آج دیر سے ………!!!!” ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سامنے کھڑی غزالہ بیگم پہ انکی نظر پڑی
“السلام علیکم !!!” آسیہ نے انہیں سلام کیا … چاہے جتنے بھی ظلم انہوں نے ان سب کے ساتھ کیے تھے لیکن.تھی تو وہ اس کی ساس ہی نا بے شک انہوں نے کبھی اس کے ساتھ پیار سے بات نہیں کی تھی لیکن مانتی توہ وہ ان کو اپنی امی ہی تھی
“وعلیکم السلام !!” غزالہ بیگم نے دھیمی اور رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا
“آئیں دادی اندر چلیں !!!” ایمن نے کہا تو آسیہ بیگم حیرانی سے کبھی ان کو دیکھتی تو کبھی ایمن کو اور پھر ان کی نظر ایمن کے ہاتھ پہ پڑی جو کہ یقینً غزالہ بیگم کا بیگ تھا اور اس سے آسیہ بیگم کو کچھ کچھ سمجھ آگیا تھا کہ کچھ ہوا ضرور ہے
آسیہ بیگم دروازے کے ایک طرف ہوئی تو غزالہ بیگم اور ایمن گھر میں داخل ہوئی اور پھر آسیہ بیگم بھی دروازہ بند کرتی ان دونوں کے پیچھے گھر میں داخل ہوئی
“دادی آپ بیٹھیں میں پانی لاتی ہوں” ایمن انہیں صوفہ پہ بیٹھا کہ خود کچن میں چلی گئی اور آسیہ بیگم بھی کچن میں ایمن کے پیچھے پیچھے گئی
“ایمن یہ سب کیا ہے ؟؟؟ امی کہاں ملی تمہیں” آسیہ بیگم نے اس سے پوچھا
” مجھے خود نہیں پتہ امی !!!! میں تو سکول سے واپس گھر آرہی تھی تو یہ مجھے سڑک کے کنارے اکیلی بیٹھی ہوئی نظر آئی تو میں انہیں گھر لے آئی !!!! اب میں انکو وہاں چھوڑ کر تو نہیں آ سکتی تھی نا …میں نے صحیح کیا نا امی ؟؟؟” آخر میں ایمن نے ان کی رائے لینا چاہی
“ہاں میری بچی !!!! بلکل صحیح کیا ” آسیہ بیگم ایمن ماتھے پہ پیار کرتی کچن سے باہر آگئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ۔۔۔۔!!!” اسامہ شاک کی سی کیفیت میں بولا اسے بلکل بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ان کے سامنے کھڑے ہیں
“کون آیا ہے ؟؟؟ کیا وہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔” غازیان اور ارقم دونوں اسامہ کی طرف بڑھے اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھا
“ارے ایسے کیا دیکھ رہے ہو تم تینوں۔۔۔۔ اتنی دور سے مجھے افرا تفری میں بلایا ہے اور اب بت بن کر کھڑے ہو ” ان تینوں کو بلکل بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ سچ میں ان کے گھر میں ان کے سامنے کھڑے ہیں ۔۔۔۔ صبح سے ان کا انتظار کر کر کے اب جب ان کے آنے کی امید ختم ہو گئی تھی یہ تب آئے
“ارے ہمارا شہزادہ آیا ہے !!!!!! ” اسامہ کا سکتا ٹوٹا تو اونچا بولا اور ان کی طرف گرم جوشی سے بڑھا اور پھر غازیان اور ارقم بھی ان کے پاس آئے اور اب وہ چاروں گلے مل رہے تھے
“ارے کون آیا ہے جو اتنا شور مچایا ہوا ہے ” عائشہ بیگم جو ان تینوں کا شور سن کر نیچھے آئی سامنے کا منظر دیکھ کہ چونکی
“ارے ہمارے شہزادے سلیم آئے ہیں ….!!!!” غازی نے چہکتے ہوئے بولا اور یہ عائشہ بیگم کا جوتا اس تک پہنچا
“بد تمیز !!!! شرم کرو دادا ہیں تمہارے !!!
السلام علیکم ابا جان !!” عائشہ بیگم غازیان کی طرف اپنا جوتا اچھالتے ہوئے بولی اور پھر سلیم صاحب کو آکر سلام کیا
“وعلیکم السلام بچے !! کیسی ہو ؟؟؟ ” سلیم صاحب عائشہ بیگم کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
“جی ٹھیک ہوں لیکن اس نالائق نے تو میرا جینا حرام کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ ہر الٹی حرکت اس کی ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور دیکھا نہیں کیسے پکار رہا تھا یہ آپ کو …..” عائشہ بیگم غصے سے کہتے ہوئے اب غازیان کی طرف مڑی اور اس کا کان زور سے کھینچا
“ارے ارے دادا جان !!!! چھوڑائیں نا مجھے درد ہو رہا ہے ” غازیان نے مدد طلب نظروں سے اپنے دادا عرف شہزادہ سلیم کی طرف دیکھا تو باقی سب یہ منظر دیکھ کہ مسکرانے لگے
بچپن سے ہی اسامہ ارقم اور غازیان اپنے دادا سے بہت اٹیچڈ تھے ۔۔۔۔۔ ان کے دادا بھی چنچل سے ہی تھے اور ان سب کے ساتھ ہر وقت شرارتیں کرتے رہتے تھے۔۔۔ اور ان کی دوستی اتنی گہری تھی کہ یہ اپنے دادا کو شہزادہ سلیم کہ کر تنگ کرتے تھے لیکن صرف تب جب یہ چاروں ہوں ورنہ تو باقیوں کے سامنے انہیں جوتے ہی کھانے پڑتے تھے اس طرح کے الفاظ سن کر
اب مومنہ بیگم جو چھت سے دھلے کپڑے اتارنے گئی تھی اب وہ بھی نیچھے آکر سلیم صاحب کے پاس بیٹھ گئی
سب کو بہت حیرانگی ہوئی کہ یہ کیسے آگئے ان کی طرف کیونکہ جاوید اور مصطفیٰ بٹ صاحب ان کی تقریبً زور ہی منتیں کرتے تھے کہ وہ اب ان کے پاس آ کر رہا کریں۔۔۔۔
ان کی بیگم تو انہیں پانچ سال پہلے ہی چھوڑ کر چلی گئ تھی اور یہ اپنے ابائی گھر میں اب اکیلے رہتے تھے۔۔۔ کبھی ان کے گھر زیادہ دن رہنے نا آئے تھے۔۔۔ لیکن اب چونکہ ان کے یاروں نے انہیں بلایا تھا تو مشکل وقت میں اب ان کا ساتھ تو دینا تھا نا
مریم ، مصطفیٰ ، جاوید اور ابراہیم صاحب کو بھی انہوں نے اپنے پاس بلوا لیا تھا اور اب سب خوش گپیوں میں مصروف شام کی چائے پی رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا اور لائبہ دونوں نیلم کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ اس وقت یہ تینوں باہر صحن میں بیٹھ کر گپیں لگاتی تھیں لیکن کافی دیر نیلم کا انتظار کرتے کرتے یہ دونوں آخر اس کے گھر گئی اور مشال بیگم سے پتہ چلا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے تو وہ دونوں اس کے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ کھولا ہی تھا کہ نیلم سامنے بیڈ پہ اوندھی لیٹی ہوئی نظر آئی تھی ۔۔۔۔ لائبہ اور حرا اس کے پاس بیڈ پہ جا بیٹھیں اور اس کی طرف دیکھا جو کہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
“اس میسنی کو دیکھو زرا!!! ہم کب سے اس کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ میڈم سوئی ہوئی ہیں ” لائبہ چڑ کر بولی اور نیلم کو جنجھوڑا تھا
ان کے ہلانے پہ نیلم کسمسا کر سیدھی ہو کر لیٹی تو حرا کی اس کے چہرے کی طرف نظریں بڑھیں جہاں اس کے چہرے پہ آنسو کے نشان تھے اور آنکھیں بھی رونے کی وجہ سے سوجھ چکی تھی
حرا اور لائبہ نے پہلے نیلم کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کی طرف بےیقینی سے دیکھا کہ ایسا کیا ہوا جو نیلم روتے روتے سو گئی ؟؟؟
وہ دونوں تیزی سے اسکے بستر پہ ہی بیٹھی تھیں اور پریشانی سے اسے مخاطب کیا
“نیلم یار اٹھو !! بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟ تم کیوں روئی ہو؟؟؟” حرا نے اسے زور سے ہلایا اور نیلم کی نیند ٹوٹی تھی اور زرا سی آنکھیں کھولی تو لائبہ اور حرا کو خود پہ جھکا دیکھ ایک دم ڈری اور فوراً اٹھ کہ بیٹھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس فوری افتاد پہ حرا اور لائبہ بھی پیچھے ہوئی
“اوففففف ڈرا دیا تم دونوں نے مجھے ” نیلم اپنا سانس بحال کرتے ہوئے بولی
” یہ سب چھوڑ۔۔۔۔۔ یہ بتا تو کیوں روئی ہے ؟؟؟” لائبہ اب اصل مدعے پہ آئی
“کچھ نہیں ایسے ہی “
” ایسے ہی کچھ نہیں نا۔۔۔۔ ضرور کوئی بات ہے جس کی وجہ سے تو روئی ہے۔۔۔۔ ورنہ وہ لڑکی جو دوسروں کو رلائے خودی بیٹھی رو رہی ہو تو ۔۔۔۔۔۔ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی ” حرا کی بات پہ وہ تینوں مسکرائی
“چل بتا اب فوراً ” لائبہ نے کہا
” یار۔۔۔۔۔۔ آج صبح منان بھائی نے بابا سے میرے یونی اڈمیشن کی بات کی تھی !!!”
” نا کر۔۔۔۔۔۔ تو کیا انہوں نے منع کر دیا ” حرا اداس ہو کر بولی
“ہاں اور اس کے ساتھ ساتھ میرے لیے رشتہ بھی دیکھ لیا ہے ۔۔ کل لڑکا آئے گا مجھے دیکھنے ۔۔۔۔ وہ بھی پٹھان ننننن ۔۔۔۔۔ مجھے پڑھانے کے بجائے میری شادی کی جارہی ہے ۔۔۔۔ اور کہتے ہیں کہ شادی کے بعد پڑھنا اپنے شوہر سے پوچھ کر کیا پتہ تم اچھے نمبر لے لو تب ۔۔۔۔۔۔۔ مطلب حد ہو گئی ہے یار۔۔۔۔ پاس تو ہوگئی ہوں نا میں ۔۔۔۔ اب کیوں سب پیچھے پڑ گئے ہیں میری شادی کے۔۔۔۔انکار بھی نہیں کر سکتی میں ۔۔۔۔ اب کیا کروں !!” نیلم کہتی ہوئی چپ ہوئی
“تو اس میں ایسا کون سا مسئلہ ہے یار۔۔۔۔ آ تو لینے دو اسے ۔۔۔۔۔۔ہم دیکھ لیں گے ۔۔۔۔ ایسا حال کریں گے اس کا کہ وہ خود ہی انکار کرے گا اور تم پہ بات بھی نہیں آئی گی ۔۔۔۔۔!!!!” لائبہ کچھ سوچتے ہوئے بولی
“کیا تم سچ کہ رہی ہو ؟؟؟” حرا نے ایک ابرو اچکا کر اسے دیکھا جبکہ نیلم نے جوش سے لائبہ کا ہاتھ پکڑا
“کیا سچ میں….!!!”
“ہاں میری جان !!!! تم بس ٹینشن فری ہو جاؤ۔۔۔۔ ہم کرتے ہیں کچھ ” لائبہ نے کہا
“ایک کام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسامہ غازیان اور ارقم سے بات کرتے ہیں شاید وہ کوئی اس مسئلے کا حال ڈھونڈ سکیں یا ہماری مدد کر سکیں؟؟؟” حرا نے کہا تو ان دونوں نے سر اثبات میں ہلایا
“یسسس!!! تو گویا اب ہم ایک سیکریٹ مشن پہ ہیں !!!!” حرا نے سرگوشیانہ انداز میں کہا تو پورے کمرے میں اب تینوں کے قہقہہ گونجے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مناہل اور زرنش دونوں دوپہر میں سو گئی تھی اور اب جا کر مناہل کی آنکھ کھلی تھی
“اوففف اتنی دیر تک سوتے رہے ہم۔۔۔۔۔ زرنش زرنش اٹھو یار۔۔۔ امی نے ڈانٹنا ہے اب ہمیں اتنی دیر تک سوتے رہے ہم۔۔۔ ویسے وہ جگانے بھی نہیں آئی ہمیں۔۔۔۔۔” مناہل کی آنکھ کھلی تو اس نے ٹائم دیکھا اور پریشانی سے زرنش کو بھی اٹھایا لیکن آسیہ بیگم کا ان کو نا اٹھانا کچھ ہضم نا ہوا انہیں ۔۔۔ کیونکہ وہ انہیں دوپہر میں زیادہ سونے نہیں دیتی تھیں کہ رات کو نیند نہیں آئے گی۔۔۔۔۔
“ہاں آپی۔۔۔۔ اللہ خیر کرئے۔۔۔ باہر چل کہ دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔” زرنش بھی پریشان سی اٹھی تھی اور اب وہ دونوں کمرے سے باہر آئی ہی تھیں کہ لاؤنج میں صوفہ پہ بیٹھی غزالہ بیگم اور آسیہ بیگم نظر آئی جو کہ دونوں ٹی وی دیکھ رہی تھی
مناہل اور زرنش نے ان دونوں کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو دیکھا تھا کہ آخر غزالہ بیگم آج ان کے گھر کیسے آگئی اور آسیہ بیگم بھی ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی دونوں کھڑی سوچنے لگی
آسیہ بیگم کی ان دونوں پہ نظر پڑی جو کہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی ان کی آواز پہ چونکی
“ارے اٹھ گئی دونوں ؟؟؟ میں آنے ہی والی تھی کہ تم دونوں خودہی آگئی “
” السلام علیکم دادو ” دونوں نے غزالہ بیگم کو سلام کیا اور ان کے پاس آکر بیٹھ گئی تو غزالہ بیگم نے بھی خوشی خوشی انہیں گلے لگایا اور پیار کیا
” وعلیکم السلام میری بچیوں ” وہ خوشی سے بولی تو ان دونوں کو جو ڈر تھا پہلے کہ کہیں وہ غصہ نا کر دیں وہ ڈر اب ہوا ہو چکا تھا ان کا پیار بھرا لہجہ سن کر
“کیسی ہیں دادو آپ ؟؟” مناہل نے کہا
” میں ٹھیک ہوں بلکل تم لوگ سناؤ کیا چل رہا ہے آج کل ” غزالہ بیگم اب مکمل توجہ سے ان دونوں سے بات کر رہی تھی تو آسیہ بیگم نے بھی ان کے لہجے کو نوٹ کیا تھا کہ آخر اللہ نے ان کے دل میں رحم اور پیار ان سب کے لیے ڈال ہی دیا تھا
” نا جانے کب حسن کے دل میں بھی ہمارے لیے کچھ عزت اور پیار آئے گا ۔۔۔۔۔۔” آسیہ بیگم نے سوچا
” دادو آپ کو پتہ ہے آج نا میرا رزلٹ آیا تھا ۔۔۔۔۔ میں پاس ہو گئییییییی ” زرنش چہکتے ہوئے بولی تو غزالہ بیگم مسکرا دیں
“ارے واہ بہت بہت مبارک ہو میری بچی۔۔۔ مبارک ہو آسیہ ” غزالہ بیگم نے خوشی خوشی مبارک دی اور پھر آج صبح کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزرا تھا کہ جن بیٹوں کو اتنی منتوں سے مانگا تھا انہوں نے آج انہیں ہی اپنے گھر سے بے دخل کر دیا تھا جبکہ جن کو یہ کچھ سمجھتی ہی نہیں تھیں انہوں نے ہی اسے سہارا دیا تھا
سوچتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے
” ارے آپ رو کیوں رہی ہیں ؟؟؟” مناہل نے پوچھا
” کچھ نہیں بچے ۔۔۔۔ خوشی کے آنسو ہیں ۔۔۔۔۔ ارے آسیہ مٹھائی تو کھلاؤ ” غزالہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو آسیہ بیگم بھی مسکراتی ہوئی کچن سے مٹھائی لینے چلی گئی جبکہ غزالہ بیگم اب ان دونوں سے کپیں مار رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟؟؟؟ اب کیوں آئی ہیں ۔۔۔ کیا امی کو بے عزت کرنے میں کوئی کثر رہ گئی تھئ یا طعنے باقی رہ گئے ہیں دینے کیلیے ” حرا جو ابھی نیلم کے گھر سے آئی تھی اپنے گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس کی نظر سامنے صوفہ پہ لیٹی غزالہ بیگم پہ پڑی تو وہ ایمن کی پاس کچن میں گئی اور اس سے پوچھا
” حرا دادی ہیں ہماری تمیز سے بات کرو !!!! “
ایمن نے اسے اس طرح سے کہنے پہ ڈانٹا
“نہیں ہیں یہ ہماری دادی !!!! آج تک کیا ہی کیا ہے انہوں نے ہمارے لیے ۔۔۔۔ ہمیشہ ظلم ہی کیے ہیں ہم پہ اور اب ان کو ہماری یاد آگئی اور ہمارے گھر چلی آئی!!!!” حرا کا لہجہ سپاٹ تھا
“حرا۔۔۔۔!!!! میں لے کر آئی ہوں انہیں یہاں ۔۔۔۔۔ اب اگر کوئی ہمارے گھر آتا ہے تو اسے دھکے مار کر تو گھر سے نہیں نکالا جاتا نا ۔۔۔۔۔۔ دادی ہیں وہ ہماری ۔۔۔۔ ہمیں ان کی عزت کرنی چاہیں نا کہ بدتمیزی ۔۔۔۔ ہماری ماں نے ہماری ایسی تربیت تو نہیں کی کہ اب اپنے سے بڑوں کی بے عزتی کریں۔۔۔۔۔ پلیز باہر جا کر ان کے ساتھ بدتمیزی مت کرنا۔۔ ان کی طبیعت پہلے ہی بہت خراب ہے !!!” ایمن نے اسے سمجھانا چاہا تھا
“کب جائیں گی یہ واپس ؟؟؟ تب تک میں نیلم کی طرف ہوں !!” حرا کو لگا تھا کہ کچھ دیر کے لیے آئی ہوں گی پھر چلی جائیں گی تو کہتے ہوئے پلٹی ہی تھی کہ ایمن بولی
” اب یہ کہیں نہیں جائیں گی۔۔۔۔ یہی رہیں گی وہ ہمارے ساتھ …. تم نے اگر جانا ہے تو جاؤ مگر میں دادی کو ہرگز نہیں جانے دوں گی ” ایمن نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تو حرا پہ تو جیسے پہاڑ آگرا تھا
“آپییییییی!!!” اس نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا
“بس اب میں کوئی بحث نا سنو ” ایمن کہتی ہوئی کچن سے چلی گئی جبکہ حرا بھی اپنا پاؤں زور سے زمین پہ مارتی اپنے کمرے کی طرف رخ کیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *