Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31
“مجھے نیلم سے ملنا ہے ابھی …….. “اسامہ نے ایک بار پھر اونچی آواز میں کہا تھا
“کیااااا ؟؟؟؟” ارقم اور غازیان حیرت سے بولے تھے ۔۔۔ غازیان نے ارقم کو بھی ساری بات بتا دی تھی اور سلیم صاحب نے انہیں رشتے کا بھی کہ دیا تھا کہ اب اسامہ نیلم اور ارقم لائبہ کی شادی ہونی ہے اور اب وہ تینوں اسامہ کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے
ارقم کے چہرے سے خوشی صاف چھلک رہی تھی لیکن اسامہ کی بات سن وہ سنجیدہ ہوا تھا
“کیا بار بار کیا کیا کر رہے ہو کچھ سمجھ نہیں آرہا یا دماغ کرائے پہ دے آئے ہو میں نے کہا میں نیلم سے ملنا ہے مجھے اس سے بات کرنی ہے ” اب کی بار وہ سخت جھنجھلا کر بولا تھا
“ابے اوہہ میسنے…. دماغ ہمارا نہیں تمہارا خراب ہو گیا ہے ابھی تو ملے گا نیلم سے….. اوہہ بھئی معاف رکھ ہم نہیں مرنا چاہتے اپنی اماؤں کے ہاتھوں … ” ارقم نے بھی حساب برابر کیا تھا
“یار دیکھو پلیز سمجھنے کی کوشش کرو غازیان کچھ کر نا یار پلیز تو حرا کو بول غازیان تو لائبہ سے بات کر ۔۔۔ تھوڑی سی ملاقات کروا دو پلیز یار دوست کیلیے اتنا نہیں کر سکتے؟؟؟ کیسے دوست ہو یار ۔۔۔۔ دوغلے کمینے ….” اسامہ نے اب ان دونوں کو بلیک میل کیا تھا
“اچھا اچھا ہم کچھ کرتے ہیں …”غازیان مان گیا تھا اور ارقم نے بھی مجبوری میں حامی بھر ہی لی تھی
“لیکن ایک بات ہے۔۔۔۔ میں قسم سے نہیں چھتر کھاؤں گا اماں سے پہلے بتا رہا ہوں میں نے بتا دینا ہے یہ سب تم دونوں کا پلان تھا .۔۔۔” ارقم نے خود کو معصوم بنایا تھا
“تو ڈرپوک چپ کر ڈرا مت تم لوگوں کو کچھ نہیں ہونا اماں نے میرا شادی شدہ ہونے کا لحاظ بھی نہیں کرنا جوتے لگا دینے ہیں مجھے ….” غازیان نے بھی اپنا ڈر بتایا تھا اسے تو واقعی عائشہ بیگم کے جوتے پڑ جاتے تھے
“اچھا اچھا تو منہ نا بنا ہم کرتے ہیں کچھ….. ” اسامہ کو گھورتا دیکھ وہ دونوں ایک ساتھ بولے تھے پھر اسکے کمرے سے باہر نکلے تھے ابھی ملاقات بھی تو ارینج کرانی تھی ان دونوں کی
———————————
“اسامہ پاگل ہو گیا ہے غازیان سب کو پڑنی ہیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔ ویسے بھی صرف کل ہی چھٹی ہے پرسو بات کر لے نا وہ نیلم سے ایک دن کا صبر نہیں کر سکتا ؟؟” حرا کو بھی غازیان کی بات سن کر حیرت ہوئی تھی اور سب سے زیادہ اسامہ پہ . جسکو زیادہ ہی جلدی ہو رہی تھی
“یار حرا … ” غازی نے حرا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا تھا
“دیکھو وہ نیلم کا دل دکھا چکا ہے اسے اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہیے اور یہ کام وہ جتنی جلدی کرے اتنا صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی کوئی نہیں دیکھے گا ہم پہرہ دیں گے نا تم بس کسی طرح نیلم کو چھت پر بلاؤ لیکن اسے پتا نا چلے ٹھیک ..” اسنے حرا کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے نرمی سے کہا تھا جبکہ حرا بھی اسکی بات سن کر سوچ میں پڑی تھی پھر سر اثبات میں ہلاتی ہوئی اٹھی
“اچھا ٹھیک ہے جب میں بیل دوں گی تب اسامہ کو تم ہمارے گھر کی چھت سے نیلم کے گھر کی چھت پہ بھیجو گے ۔۔۔. ہماری چھت پہ تم پہرہ دو گے نیلم والی پہ میں اور لائبہ کو اسکے گھر کھڑا کر دیں گے نا تا کہ اگر کوئی چھت پہ آئے تو وہ انکو روک سکیں … “حرا نے اسے سارا پلان بتایا تھا جبکہ غازیان نے اسے ستائشی نظروں سے دیکھا تھا
“واہہہ میری شیرنی الٹے کاموں میں کیسا دماغ چلتا ہے تمہارا .. پڑھائی میں بھی اتنا ہی چلانا اب آگے پیپرز ہونے والے ہیں .. ” غازیان نے شرارت سے اسے کہا تو حرا نے خفگی سے منہ بنایا تھا ..
“تم نے خود کہا تھا…… اب میں نے بلکل مدد نہیں کرنی پھر بیٹھے رہنا تم اور اسامہ”
حرا نروٹھے پن سے بولی
“اچھا اچھا میں تو مزاق کر رہا تھا تم اپنا انعام تو لے لو زرا اتنا دماغ چلایا ہے . ” غازیان نے سنجیدہ ہو کر کہا تھا لیکن آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی
“جی نہیں بلکل بھی نہیں کوئی انعام نہیں چاہیے مجھے “. وہ غازیان کی شرارت سمجھتے ہوئے جلدی سے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“ارے لے لو لڑکی کیسی نا شکری ہو …” غازیان اسے کہتا کھڑا ہوا تھا لیکن وہ اس سے پہلے ہی بھاگ کر کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ غازیان ہنسا تھا
“جلدی سے اسامہ کے پاس جاؤ انعام بعد میں دیکھیں گے ” حرا نے دروازے سے ہی سر نکال کر غازیان سے کہا تھا جو اسکی بات سن کر قہقہہ لگا کر ہنسا تھا پھر فون نکال کر اسامہ اور ارقم کو میسج کیا تھا
————————————————–
“نیلم تم چلو نا چھت پہ اب کیوں منہ پہ بارہ بجا کر بیٹھی ہو سب کچھ سیٹ تو ہو گیا ہے” حرا کب سے نیلم کو چھت پہ چلنے کا کہہ رہی تھی لیکن وہ مان کے ہی نہیں دے رہی تھی
“ٹھیک ہے میرا منہ اب کیا کروں اٹھ کر ناچوں میں . ” نیلم بھی اب حرا کی ضد پہ چڑ گئی تھی ایک تو ٹھنڈ تھی اوپر سے اسے چھت پہ جانے کی سوجھ رہی تھی
“اچھا نا اٹھو میری بات کی اہمیت ہی کیا ہے جو تم مانو گی ” حرا نے اب دوستوں والا حربہ آزمایا تھا جانتی تھی وہ ایسے ہی مانے گی
” لو جی … بس شروع کر دو بلیک میلنگ… کرنا کیا ہے چھت پہ جا کر ٹھنڈ میں …..؟” نیلم نے آخر بے بس ہو کر ہار مانتے ہوئے کہا تھا اور اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی
“گڈا اڑائیں گے “. اور اب کی بار حرا کی بات پہ سچ میں اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا اسلیے نہیں کی اسے پتنگ اڑانا نہیں آتا تھا بلکہ اسلیے کہ آج کافی عرصے بعد حرا کے منہ سے سن کر اسے خوشی ہوئی تھی
“قسم سے یار چل اڑاتے ہیں لائبہ کو بھی بلا لیں گے کتنا مزا آئے گا ” نیلم جلدی سے کہتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھی تو حرا نے غازیان کو میسج کیا تھا اور لائبہ کو بھی پوزیشن سنبھالنے کا کہا تھا اور خود اوپر نیلم کے پاس چلی گئی تھی
“اوئے حرا یہ گڈے لا کر کون دے گا ہمیں؟؟”. نیلم نے پریشانی سے کہا تھا
“اوہہ ہاں تو رک زرا میں غازیان کو کہتی ہوں اور لائبہ کو بھی بلا کر لاتی ہوں ” حرا اسے کہتی ہوئی نیچے بھاگی تھی جبکہ جاتے ہوئے اسامہ کو بیسٹ آف لک کہنا نہیں بھولی تھی جو چھت پھلانگ کر نیلم کی چھت پہ آیا تھا اب حال کچھ یوں تھا کہ ارقم اور غازیان حرا لوگوں کی چھت پہ پہرہ دے رہے تھے . لائبہ اپنے گھر کی چھت پہ جبکہ حرا نیلم کے گھر پہ پہرہ دے رہی تھی
———————————————
“ویسے غازیان تو میری بھی ایسے لائبہ سے ملاقات کروائے گا نا ” ارقم نے سرگوشی سے غازیان سے پوچھا تھا جب غازیان نے گندی سی شکل بنا کر اسے دیکھا تھا
“اب ایسے نا دیکھ مجھے جیسے خراب مولیاں کھا لی ہوں “. ارقم نے غازیان کی شکل دیکھ کر کہا تھا
“تو اتنا گندا ہے نا دل کرتا ہے کسی دن تجھے اور تیری اس زبان کو صرف مار مار کر دھوؤں تا کہ تو اچھی بات کرے اور تیری زبان کی کھجلی بھی کم ہو ..” غازیان نے بھی اسے سنائی تھی وہ بات ہی ایسی کرتا تھا بندے کے دل پھپڑے سب کچھ ہی خراب ہو جاتا تھا
“میں نے کبھی گندی بات نہیں کی میں تو اچھا بچہ ہوں نا …. امی بھی کہتی ہیں…” ارقم نے بلکل بچوں کی سی طرح کہا تھا جبکہ غازیان کا دل کیا تھا اسکی اس فضول ایکٹنگ پہ اسکا سر دیوار پہ مار دے
“جی اچھے بچےکو اسی لیے صبح چچی سے ڈانٹ پڑ رہی تھی نا کہ کپڑوں پہ چائے گرائی تھی .. ….. کوچو کوچو کوچو میرا اچھا بچہ … ” غازیان نے بھی اسے بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے آخر میں اسکے گال کھینچے تھے جو ناراضگی کی وجہ سے پھولے ہوئے تھے
“تو کیا پھاپھے کٹنی آنٹیوں کی طرح دوسروں کی باتیں سنتا رہتا ہے .میسنے زرا شرم نہیں آتی تجھے .” ارقم اپنی شرمندگی بھلانےکیلیے غازیان پہ چڑ دوڑا تھا
“میں تجھے رکھ کر لگاؤں گا ایک… جو مجھے پھاپھے کٹنی کہا تو …”
“ہاں ہاں اب تو ظاہر ہے مارو گے ہی بھائی کو … اسامہ جو زیادہ عزیز ہے تمہیں اسکی ملاقات کرواؤ لیکن میری نہیں کروا سکتے میں بھی شہزادے کو بتاؤں گا اب “. ارقم نے دھمکی دی تھی جبکہ غازیان کی آنکھیں کھلی تھی جانتا تھا اس بیوقوف سے یہ امید بھی کی جا سکتی ہے اسلیے اسنے لڑائی ختم کرنے میں ہی عافیت جانی تھی
“دیکھ ارقم ابھی یہاں دھیان دے نا فلحال تمہارا بھی کریں گے نا کچھ … تو تو بھائی ہے اپنا ..” غازیان نے بلکل سنجیدگی سے کہا تھا خود ہی اپنی ایکٹنگ پہ خود کو اندر ہی اندر داد بھی دی تھی
“اچھا ٹھیک ہے . ” جبکہ ارقم نے منہ بنا کر کہا تھا غازیان کیلیے یہی شکر تھا کہ وہ اور اسکا سر کھپائے بغیر چپ ہو گیا ہے .
————————————————
نیلم چھت سے نیچے گلی میں جھانک رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا تھا وہ یکدم پیچھے مڑی تھی اور اپنے پیچھے اسامہ کو دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا دل نے اس دشمن جان کو دیکھ کر پھر شور مچایا تھا آنکھیں اسے جی بھر کر دیکھنے کو بے تاب ہوئی تھی لیکن اسنے اپنی نگاہ جھکا لی تھی
اسامہ کے الفاظ زہر بن کر اسکے کانوں میں گونجے تھے آنسو ایک دفعہ پھر اسکی آنکھوں میں امڈ آئے تھے جبکہ اسنے اسامہ کو اپنے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے دیکھا تھا
“آئم سوری ” پھر اسکی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تو
نیلم نے اسے دیکھا تھا
جو گھٹنوں کے بل بیٹھا کان پکڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا
“اسامہ !!! تم جاؤ یہاں. سے .م.مزید تماشا مت کرو .. کسی نے دیکھ لیا تو اسے میں ہی غلط لگوں گی کک کہ میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے ویسے ب بھی کیچڑ تو تم اچھال ہی چکے ہو میرے کردار ۔۔۔۔۔۔ ” نیلم نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہو گئی تھی اسامہ
کی باتوں نے اسکا دل ہی اتنا دکھایا تھاجبکہ اسامہ نے سختی سے آنکھیں میچی تھی پھر اٹھ کر اسکے سامنے کھڑا ہوا تھا
“اس میں ایک لفظ بھی سچائی نہیں تھی نیلم میں قسم کھا کر کہتا ہوں وہ سب بس جھوٹ تھا میں نے اپنے دل کے ٹکڑے کر کے وہ الفاظ ادا کیے تھے نیلم میں نہیں چاہتا تھا تم مجھ سے پیار کرو ۔۔۔۔۔۔۔ بس بے وقوف ہوں نا گدھا ہوں نا ایک نمبر کا. لیکن پلیز معاف کردو نیلم تمہارے کردار کا گواہ میں ہوں میں جانتا ہوں تم بہت اچھی ہو بس غلطی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اسامہ
جب بولنے پہ آیا تو بولتا ہی گیا تھا جبکہ نیلم بھی اسے سن رہی تھی دل تو پہلے بھی اسکے خلاف نہیں تھا اور اب تو بس اسکی باتیں سن کر کانوں میں دھڑک رہا تھا
“اسامہ تمہیں مجھے ساری بات بتا دینی چاہیے تھی۔۔۔۔ میں کچھ بھی نا کہتی بس پیچھے ہٹ جاتی خود ہی ” نیلم جب بولی تو خود ہی زبان سے شکوہ نکلا تھا
“بس یہی غلطی ہوئی نیلم اگر میں تمہیں بتا دیتا تو تم میری حالت سمجھ جاتی لیکن بس نہیں دماغ کام کیا نا …” اسامہ انتہائی بے بسی سے بولا تھا
“پلیز معاف کر دو ” اسنے ایک دفعہ پھر اپنے کان پکڑے معصومیت سے کہا تو نیلم کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی جسے وہ جلدی ہی چھپا گئی
“لیکن تم نے تو مجھے کہا تھا تم مجھ سے پیار نہیں کرتے !!!! “نیلم نے اسے اسی کے الفاظ یاد دلائے تھے جب اسامہ نے زور سے سر پہ ہاتھ مارا تھا پھر اسکے چہرے پہ دیکھا تھا جبکہ نیلم اسکے اسطرح دیکھنے پہ نظریں جھکا گئی تھی
“وہ جو مجھ میں محبت بن کر رہتا ہے
وہ جو مجھ میں دھڑکن بن کر دھڑکتا ہے
وہ جو شخص ٹھنڈی ہوا سا ہے
وہ جو میری روح میں بسا ہے
وہ جسکی کھنکھناتی ہنسی مجھے زندگی بخشتی یے
وہ جسکو میں رب سے ہر دعا میں مانگتا ہوں
وہ اک شخص بہت خاص ہے میرے لیے
ہاں مانتا ہوں کہ نہیں کیا میں نے اظہار محبت
لیکن
اس شخص کا عکس میری آنکھوں میں بستا ہے “
“میری آنکھوں میں دیکھو نیلم کیا اب بھی تمہیں لگتا ہے کہ زبان سے کہنا ضروری ہے ” وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اسکا دل دھڑکا گیا تھا جبکہ اسنے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا وہ محبت سے چور نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا نیلم نے جلدی سے سر نفی میں ہلایا تھا اسامہ کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ پھیلی تھی اس سے پہلے کہ اسامہ اسے کچھ کہتا یکدم حرا اوپر آئی تھی
“سوری یار بہت دیر ہوگئی ہے۔۔۔۔۔۔ نیلم کو اسکی امی بلا رہی ہیں وہ تو خود ہی اوپر آنیوالی تھی میں نے واپس بھیجا باقی باتیں پھر کر لینا. نیلم تم جلدی آؤ “حرا تیز تیز بولتی نیلم کا ہاتھ پکڑ کر نیچے لے گئی تھی جبکہ اسامہ جو کوئی بات کہنے لگا تھا اسکا منہ کھلا ہی رہ گیا تو وہ بھی جلدی جلدی دوسری طرف بڑھا تھا جہاں غازیان اور ارقم اسکا انتظار کر رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم اور حرا مسکراتی ہوئی نیچے آئی تو دیکھا کہ مشال بیگم سامنے کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی
“کیا کر رہی تھیں اوپر ؟؟؟” مشال بیگم نے پوچھا
“کک کچھ نہیں امی ۔۔۔۔ بس ایسے ہی ۔۔ آپ بتائیں کوئی کام تھا ؟؟” مشال بیگم کے یوں سوال کرنے سے نیلم ایک دم سنجیدہ ہوئی تھی
“اچھا اچھا کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے بس یہ بتانا تھا کہ ہم ایمن کی طرف چل رہے ہیں کچھ دیر میں نکاح کی تاریخ طہ کرنے ۔۔۔ جلدی سے تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔ اور حرا تم آسیہ بیگم کو بتا آؤ ہماری آمد کا ۔۔۔ اور خاص طور پہ انہیں یہ بھی کہنا کہ کوئی تردد کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم بس تاریخ لینے آ رہے ہیں ” مشال بیگم مسکراتی ہوئی بولی تو حرا اور نیلم بھی خوش ہوئی تھی اس بات سے
“واہ امی منان بھائی کا نکاح۔۔۔۔ بہت مزہ آنے والا ہے ۔۔” نیلم مزے سے کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل دی تھی جبکہ حرا آسیہ بیگم کے پاس چلی گئی تھی انہیں خوشخبری سنانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں ۔۔۔ میں بہت پریشان ہوں ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں اتنے پیسوں کا انتظام کیسے کروں گا میں ۔۔۔۔ ” حسن صاحب جو تھوڑی دیر پہلے ہی غزالہ بیگم اور آسیہ بیگم کے پاس آئے تھے انہیں ساری کہانی بتا دی تھی
“حسن اگر میری مانو تو اپنی ایک دکان بیچ دو۔۔۔۔ کم سے کم تمہارے پاس باقی دو دکانیں تو ہو گی نا۔۔۔۔ اس کا قرضہ اتارو کچھ نا کچھ کر کے اور آئندہ ایسی حرکت مت کرنا ” غزالہ بیگم نے انہیں مشورہ دیا تھا
“نہیں اماں میں اپنی دکان کیسے ۔۔۔۔۔۔” حسن صاحب ابھی بات کر ہی رہے تھے کہ حرا خوشی سے بھاگتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی تھی
” امی امی ” حرا چہکتے ہوئے بولی تھی لیکن لاؤنج میں آتے ہی اس کی نظر حسن صاحب پہ پڑی تو ایک دم سنجیدہ ہوئی تھی
“السلام علیکم ” حرا نے سلام کیا تو حسن صاحب نے دل میں اس کا جواب دیا تھا
“وعلیکم السلام میری بچی ” غزالہ بیگم نے کہا
“آؤ نا حرا اندر ۔۔۔۔ ” آسیہ بیگم نے اسے بت بنے کھڑے دیکھ کہا
“نہیں امی۔۔۔ میں بس چلتی ہوں۔۔۔ آپ کو یہی کہنے آئی تھی کہ مشال خالہ نے کہا ہے کہ وہ لوگ ابھی کچھ دیر میں آئیں گے یہاں ایمن اور منان بھائی کے نکاح کی تاریخ رکھنے ” حرا نے کہا تو آسیہ بیگم خوش ہوئی تھیں لیکن اپنے شوہر کی پریشانی کی وجہ سے پل میں اداس ہوئی اور حسن صاحب کی طرف دیکھا تھا جو کہ انہیں ہی دیکھ رہے تھے
“تم فکر مت کرو۔۔۔ ان لوگوں کے آنے کی تیاری کرو۔۔۔” حسن صاحب نے زبردستی چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا
“میں چلتی ہوں ” حرا کہ کر مڑی ہی تھی کہ اسے آواز آئی
“کہاں جا رہی ہو ؟؟؟؟ اپنی ماں کی مدد کرواؤ جا کر کچن میں … اور مجھے ایک گلاس پانی بھی دو ” حسن صاحب کی آواز آئی تو حرا تو سکتے میں تھی ہی غزالہ بیگم اور آسیہ بیگم کا بھی یہی حال تھا
حرا کی آ نکھوں میں آنسو آئے جو وہ فوراً چھپا گئی اور بھاگتی ہوئی کچن میں چلی گئی تھی
“پریشان نہیں ہوں حسن۔۔۔ کوئی نا کوئی حل ضرور نکل آئے گا ۔۔۔۔ ” آسیہ بیگم نے انہیں کہا
“ہممم تم جاؤ اب تیاری کرو جا کر مہمان آتے ہی ہوں گے ” حسن صاحب نے کہا تو آسیہ بیگم بھی کچن میں چلی گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا کچن سے فارغ ہو کر ایمن کے پاس کمرے میں آئی اور اسے منان کے گھر والوں کے آنے کا بتایا تو ایمن تو ایک پل کے لیے سن ہو گئی تھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی جلدی نکاح ؟؟؟؟
“کیا ہوا جی۔۔۔۔ منان بھائی کی یاد آ رہی ہے ؟؟” حرا نے اسے گم سم دیکھ شرارت سے کہا تو وہ بوکھلائی
“ارے نن نہیں تو …. ” ایمن کو سمجھ نا آئی کہ کیا کہے جبکہ حرا مسکرائی
“ایک بات بتاؤں ۔۔۔ ؟؟” حرا نے ایمن کو بیڈ پہ بیٹھایا اور کہا
“ہاں کہو کیا بات ہے “
“پتہ ہے آج میں بہت خوش ہوں ۔۔۔ آج پہلی بار بابا نے مجھے پکارا اور تو اور مجھ سے پانی بھی مانگا ” حرا نے کہا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے
“کیا ؟؟؟ سچی ؟؟ اللہ تیرا شکر ” ایمن بھی اس بات سے خوش ہوئی تھی
“جب میں نے پانی دیا تو میں انہی کو دیکھ رہی تھی لیکن وہ سنجیدہ تھے اور بس میرے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا وہ مجھے دیکھا بھی نہیں۔۔۔۔ لیکن پتہ کیا ایمن ۔۔۔۔۔ میرے لیے اتنا بھی بہت ہے کہ کم سے کم انہوں نے مجھے پکارا اور پانی بھی مانگا۔۔۔ وہ جو پہلے مجھے حقارت سمجھتے تھے وہ مجھے آج ان کی آنکھوں سے کہیں بھی مجھے محسوس نہیں ہوا ۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ایمن ” حرا کہتے ہوئے ایمن کے گلے لگ گئی ایمن کی بھی آنکھیں نم ہوئی تھیں
“اچھا خیر ۔۔ اب تم اٹھو اور جا کر تیار ہو جاؤ شاید منان بھائی بھی آئیں تو ملاقات کا اگر کہ دیا انہوں نے تو تم اچھی طرح تیار ہو جاؤ ٹھیک ؟؟؟” حرا ایمن سے الگ ہو کر پھر شرارت کی
“دفع ہو جاؤ خبردار ایسا کیا بھی تو ” ایمن اس کے اس طرح کہنے سے گھبرائی تھی
“اچھا اچھا مزاق کر رہی ہوں ۔۔۔ اب جاؤ بھی جلدی وہ لوگ آنے والے ہوں گے ” حرا نے ایمن کو تیار ہونے کا کہا اور پھر غازیان کو فون کر کے ساری کہانی بتائی جسے سن اسے بھی کچھ اطمینان ہوا تھا کہ شکر حسن صاحب مکمل طور پہ نا سہی لیکن کچھ کچھ حرا کے ساتھ ٹھیک ہو رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کمینے۔۔ خود تو ملاقات کر آیا ہے۔۔۔ میرا بھی کچھ سوچ لو یارا ۔۔۔۔ ایک بار بھی بات نہیں ہوئی میری لائبہ سے ” ارقم نے اسامہ کو خوش دیکھ اپنا رونا رویا
“منحوس انسان۔۔۔ یہ موبائل کس کام کے لیے رکھا ہوا ہے تو نے۔۔۔ فون کر اور ڈھیر ساری باتیں کر کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔۔۔ سچی ” اسامہ نے سرگوشیانہ طور پہ ارقم کو پتے کی بات بتائی
“اہ ہاںں ں !!! یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ” ارقم نے اپنی عقل کا ماتم کیا
“جی کیوں کہ آپ ہیں ہی الوو۔۔۔۔ دماغ تھوڑی چلے گا تیرا ” غازیان جو کب سے ان دونوں کی بحث سن رہا تھا اب بولا تو ارقم منہ بنا کر بیٹھ گیا تھا جبکہ ان دونوں کا قہقہہ گونجا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منان اور اس کے گھر والے سب آسیہ بیگم کے گھر لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے غازیان کو بھی فون کر کے آسیہ بیگم نے بلوا لیا تھا جبکہ ایمن ابھی تک باہر نہیں آئی تھی وجہ منان کی موجودگی تھی اسے عجیب لگ رہا تھا اس کے سامنے جانا تو وہ کمرے میں ہی بیٹھی رہی تھی جبکہ منان اسے دیکھنے کے لیے بےچین ہو رہا تھا
حسن صاحب آج منان اور اس کے گھر والوں سے ملے تھے اور ان سے کافی باتیں بھی کی تھی اور انہیں منان اور اس کے گھر والوں میں کوئی برائی نا دکھی تھی
بلکہ ایمن کو دل میں دعا دی تھی
جبکہ غازیان خاموش بیٹھا رہا تھا
“ہاں تو حسن صاحب چونکہ بچوں کا رشتہ تو پکا ہو ہی چکا ہے تو اب ہم چاہتے ہیں کہ ان دونوں کی منگنی کے بجائے ہم نکاح ہی کر دیتے ہیں اگلے ہفتہ ؟؟ ۔۔۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں ؟؟” حامد صاحب نے کہا تو حسن صاحب مسکرائے تھے
“جی جی کیوں نہیں ایمن اب آپ لوگوں کی ہی امانت ہے نکاح کر دیتے ہیں دونوں کا ” حسن صاحب نے کہا تو سب ایک دم خوش ہوئے تھے جبکہ ایمن جو کہ حرا کے ہمراہ لاؤنج میں داخل ہو رہی تھی اور حسن صاحب کے آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہی ساکت کھڑی ہو گئی
“کیا ہو گیا ہے۔۔۔ چلو بھئی ” حرا نے کہا تو لاؤنج میں سب نے حرا اور ایمن کی طرف دیکھا تھا
“ارے میری بیٹی آئی ہے ” مشال بیگم اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھی تھی اور اس کے گلے لگی تھی
“السلام علیکم ” ایمن نے سب کو سلام کیا تو سب نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔۔ مشال بیگم نے اسے لا کر منان کے پاس بیٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ ٹک گئی اور حرا غازیان کے ساتھ جا کر بیٹھی
“نکاح تو ایک ہفتہ بعد ہے لیکن منان یہ انگوٹھی ایمن کو پہنا دو ” مشال بیگم نے اپنے بیگ میں سے ایک ڈبیہ نکالی اور اس میں خوبصورت ہیرے کی انگوٹھی نکال کر منان کو تھمائی
ایمن تو ویسے ہی منان کے ساتھ بیٹھنے پہ پزل ہوئی وی تھی اور اب انگوٹھی بھی اسی کی ہاتھ سے پہننا۔۔۔ ایمن کے ہاتھ کانپے تھے
منان نے مشال بیگم کے ہاتھ سے انگوٹھی لی اور ایمن کے آگے اپنا ہاتھ کیا جو کہ ایمن نے ایک نظر اسے دیکھ کر اسے اپنا ہاتھ تھما دیا تھا ۔۔ ایمن کے ہاتھ کی لرزش منان نے بخوبی محسوس کی تھی اور مسکراتے ہوئے اس کو انگوٹھی پہنائی
سب خوشی سے انہیں مبارک باد دے رہے تھے اور مسکراتے ہوئے دن کا احتتام ہوا تھا.
جاری ہے
