Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03
“پاس تو ہو گئی ہوں نا امی اب کیا کرتی .. اور کون سا بہت کوئی بڑے کالج میں پڑھی تھی جو اے گریڈ آتا اب ایسے تو مت کریں آپ .. اور میں یونیورسٹی کے ٹیسٹ کی اچھی تیاری کرلوں گی مل جائے گا داخلہ مجھے .. !!!” حرا آسیہ بیگم سے بولی تھی جو پیاز چھیل رہی تھی
“حرا , ایمن نے بھی اسے کاج سے پڑھا تھا .. ٹھیک.ہے پاس ہو گئی ہو لیکن تم جانتی ہو یونیورسٹی کی فیس زیادہ ہوتی ہے بچے میں کیسے دوں گی .. تمہیں گھر کے حالات پتا ہیں میں سلائی سے جو کماتی ہو اس سے گھر کا خرچہ نکلتا ہے اور جو ایمن کو تنخواہ ملتی ہے اس سے زرنش اور مناہل کی فیس پوری ہوتی ہے . تم خود بتاؤ کیسے جاؤ گی تم یونیورسٹی .. ؟؟؟” انہوں نے گھر کے حالات سامنے رکھے تھے . حرا سب کچھ جانتی بھی تھی لیکن پھر بھی یہ خواہش تھی اسکی …
“تو امی ایک عدد باپ بھی ہے ہمارا انکو بولیں کہ میری فیس دیں. بس کھانے کے ٹائم پہ آجاتے ہیں لیکن ہمیں خرچہ نہیں دے سکتے .. انکے دونوں بیٹے تو بڑے سکول میں پڑھتے ہیں نا .. ہمارے لیے انکے پاس پیسے نہیں ہیں…. !!!” حرا نے غصے سے ماں کو بولا تھا . یہ سچ بھی تھا وہ کبھی کبھار رات کے وقت آتے تھے اور کھانا کھا کر چلے جاتے ورنہ وہ تو شاید بھول ہی جاتے تھے کہ ان کی چار بیٹیاں بھی ہیں
“شرم کرو حرا . !!!! حد ہوتی ہے بد تمیزی کی ابو ہیں وہ تمہارے .. ایسے بات کرتے ہیں . پڑھ کر تم.کرو گی کیا بات کرنے کی تمیز تو ہے نہیں اور نہ ہی آئے گی تمہیں … “آسیہ بیگم نے ابھی بھی شوہر کا دفاع کیا تھا تو حرا کے آنسو نکلے تھے
“آپ تو رہنے دیں امی . آپکو میں ہی غلط لگتی ہوں.. آپ ان سے ہمارے حق میں بول سکتی ہیں لیکن نہیں آپ بس ہماری خواہشات دبائیں…..!!” وہ کہتی ہوئی کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ آسیہ بیگم نے آنکھوں سے آنسو صاف کیے تھے یہ انکی سب سے ضدی بیٹی تھی . ہمدردی پہ آتی تو سب سے ہمدرد لیکن اپنی ضد کے آگے وہ نہیں دیکھتی تھی کہ وہ کیا بول رہی ہے … ایمن بھی انکا جھگڑا سن کر نیچے آئی تھی وہ چھت پر کپڑے پھیلانے گئی تھی جب جلدی سے ان دونوں کی آواز سن کر نیچے آئی اور پھر نیچے ماں کو دکھی دیکھ کر انہیں حوصلہ دیا تھا . اور ایک نظر کمرے کے بند دروازے پر ڈالی تھی
—————————-
“آپی ،، حرا آپی اتنا زور سے بول رہی تھی امی کے آگے …” زرنش نے ایمن سے شکایت کی تھی
“زری چلو ..!!! جلدی سے کام.کرو آپ پھر ہم چھت پہ چلیں گے تھوڑی ہوا میں.. ایمی آپی دیکھ لیں گی حرا آپی کو …!!” مناہل نے زرنش کو کام کرواتے ہوئے کہا . مناہل ابھی گیارویں میں تھی جبکہ زرنش نویں جماعت میں تھی وہ اسی سکول میں پڑھتی تھی جہاں پہ ایمن پڑھاتی تھی
“تم دونوں پڑھو میں آتی ہوں..!!!”
وہ اٹھ کر کمرے میں آئی تھی جہاں حرا منہ بنائے اپنے کپڑے طے کر کے رکھ رہی تھی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی
“حرا … ایسے کیوں بات کرتی ہو امی سے . کتنا برا لگا ہے انہیں وہ کتنا کچھ کرتی ہیں ہمارے لیے اور پھر بھی تم ایسا کہہ کر آئی ہو .؟؟”
“تو کیا کروں میں آپی . وہ کیوں نہیں کچھ کہتی ابو کے سامنے کیوں ہمارے حق میں نہیں بولتی اور پھر جب میں کچھ کہتی ہوں تو وہ کہتی ہیں میں بد تمیز ہوں . اور ابو انہیں ہم دکھتے ہی نہیں ہیں آج سب لوگوں کے ابو تھے سب کے ابو نے ڈانٹا کہ انکے نمبر کم کیوں ہیں ہمارے ابو کہاں تھے اس وقت . بچپن سے یہی ہو رہا ہے انہیں کچھ نہیں پتا ہوتا کہ ہم کیا کر رہے ہیں.. بس وہ شائستہ بیگم نے کان بھر دیے تو آجائیں گے ہم سے لڑنے اور ہم پہ پابندیاں لگانے …. ” وہ کپڑے اسی طرح پھینکتی بیڈ پر بیٹھی تو ایمن اسکے پاس آئی وہ جانتی تھی کہ وہ سچ کہہ رہی ہے لیکن ایمن کو عادت ہو گئی تھی بچپن سے باپ کے بغیر ہی تو رہ رہی تھی اسلیے اسے زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا لیکن حرا اسے ہر بار بہت دکھ ہوتا تھا جب بھی وہ کسی کو بھی انکے والد کیساتھ دیکھتی تو حسن صاحب کو یاد کرتی تھی پہلے پہلے تو وہ کوشش کرتی تھی انکے پاس جانیکی لیکن وہ ہمیشہ دھتکار دیتے اور اب نتیجہ یہ تھا وہ بہت منہ پھٹ ہو گئی تھی
“حرا امی کوشش تو کرتی ہیں ہماری ہر خواہش پوری کرنیکی . اور ابو کو جانتی ہو تم بچپن سے تو پھر کیوں ہر بار آنسو بہاتی ہو… تم یہ بھی تو دیکھو کہ امی کیسے ماں باپ دونوں بن کر پال رہی ہیں ہمیں اور تم نے پڑھنا ہی ہے تو کالج میں پڑھ لو نا دیکھو بی کام کرنے کے بعد یونیورسٹی میں چلی جانا تب تک میں بھی کچھ پیسے جمع کرلوں گی… تم.پلیز امی کو دکھی مت کرو حرا . اگر وہ ہمارے لیے خوش ہوتی ہیں تو انہیں ہونے دو میں نہیں چاہتی کہ ہم انہیں یہ کہیں کہ ہماری خواہشات نہیں پوری کر رہی …. تم انہیں دکھی کر کے کونسی خواہش پوری کرنا چاہتی ہو ؟؟؟؟ یہ ضرور سوچنا حرا کہ انکو دکھی کر کے خوش تو تم بھی نہیں رہو گی …” وہ اسے سمجھاتی اٹھ کر باہر آگئی تھی اور حرا کو اب اپنے الفاظ کا احساس ہوا تھا وہ ہمیشہ حسن صاحب کی وجہ سے اپنی ماں کو دکھی کر دیتی تھی وہ ایک دفعہ پھر بے بسی سے رو دی تھی ….
————————
“نیلم میں کہہ رہی ہوں روٹی گول بناؤ…. دنیا جہاں کی الٹی حرکتیں کرتے ہوئے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن گھر کے کام.کرتے ہوئے تمہاری طبیعت خراب ہو جاتی ہے . خبر دار خبردار تم مجھے آئندہ کے بعد باہر گلی میں نظر آئی اور ہاں صبح شرافت سے خود اٹھ جانا اور آسیہ بہن کے پاس جا کر سلائی سیکھنا …” مشال بیگم مسلسل نیلم کے سر پر کھڑی بول رہی تھئ جو بیچاری کب سے گول روٹی بنانے کے جتن کر رہی تھی ..
“امی اکلوتی بیٹی ہوں آپکی .. زرا رحم نہیں آتا آپکو مجھ پر ظلم کرتے ہوئے ..” اس نے معصوم سی شکل بنا کر مشال بیگم کو کہا
“ہاں ہاں میں بہت ظالم اور تم میری نکمی, نالائق اولاد . ” انہوں نے اسے لتاڑا
“امی نالائق تو نہیں ہوں سب سے زیادہ نمبر آئے ہیں …” اسنے بیلن چھوڑتے ہوئے مشال بیگم کی طرف مڑ کر خوشی سے انہیں بتایا
“نیلم !!! بہت زیادہ نمبر نہیں آگئے تمہارے . اور روٹی جل رہی ہے ..۔۔۔ چولھے پہ دیحان دو مجھے مت دیکھو … ” ابکی بار انہوں نے بیلن اٹھایا تھا تو نیلم جلدی سے روٹی کی طرف متوجہ ہوئی تھی … اسکے بعد بولنے کی کوشش نہیں کی تھی نیلم نے … جانتی تھی اسکی اماں نے اسکی عمر کا لحاظ کیے بغیر جڑ دینی ہیں اسے ….
رزلٹ کیا آیا تھا گویا سبکی زندگی میں مشکلات آئی تھی اور ساتھ میں بے عزتی کا طوفان آیا تھا . خیر لڑکوں کو تو صبح سے پتا چلنا تھا کہ کیا ہونے والا ہے انکے ساتھ
—————————————
“بیگم یہ آپ کے لاڈ صاحب کہاں ہیں ؟؟؟ مصطفیٰ صاحب نے عائشہ بیگم سے غازیان کے بارے میں پوچھا جو کہ ابھی تک نہیں اٹھا تھا۔۔ صبح کے 8 بج چکے تھے اور وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔۔ عاکف سکول جا چکا تھا اور غازیان صاحب ابھی تک اپنے کمرے سے باہر نہیں آئے تھے
“جی وہ شاید سویا ہوا ہے۔۔۔ میں گئی تھی اسے جگانے لیکن کمرہ بند تھا ” عائشہ بیگم نے کہا
“دیکھو بیگم !!! یہ اس کے چالے مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگتے ۔۔۔۔ عذابوں سے کالج سے پاس ہوا ہے اور اب اس کی نیندیں ہی ختم نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ آخر کرنا کیا چاہتا ہے یہ زندگی میں ؟؟؟ کیا ایسے ہی لوفر بنا گھومتا رہے گا ؟؟ کیونکہ اس کے مارکس اس قابل تو ہیں نہیں کہ اسے کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ ملے اور ویسے بھی اب میں اس پہ اپنی محنت کی کمائی اور ضائع نہیں کر سکتا۔۔۔۔ جاؤ اسے اٹھاؤ چلے وہ میرے ساتھ دکان پہ ” مصطفیٰ صاحب دو ٹاک الفاظ میں بولے اور غازیان جو ناشتہ کرنے کی غرض سے ناشتہ کی ٹیبل پہ آ رہا تھا اپنے ابا جان کی ساری باتیں وہ سن چکا تھا اور اسے حیرت ہوئی اور اپنے آپ کو دکان پہ بیٹھا ہوا سوچا ۔۔۔۔۔۔
مصطفیٰ صاحب کی جوتیوں کی دکان تھی اور غازیان بھی اپنے آپ کو وہی بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ کسے دکان پہ بیٹھے گا اور گاہکوں کو ڈیل کرئے گا ۔۔۔۔
“ارے بھائی صاحب اسکے لیے جوتا دکھائیں”
“نہیں یہ نہیں وہ والئ سینڈل دکھائیں”
“غازئ صحیح طرح سے دیکھو کسٹمرز کو کیا کر رہے ہو”
“انکل یہ والئ سینڈل کتنے کی ہے ؟؟”
“اففف توبہ استغفار”
سب سوچتے ہوئے غازیان نے جھرجھری لی اور سر جھٹکتا ہوا ان کے پاس آیا
“ابا میں نے دکان پہ نہیں بیٹھنا !!!” غازیان آتے ہی بولا
“زرا شرم نہیں ہے تم میں ۔۔۔آتے ہی پہلے سلام کرتے ہیں لیکن نہیں تمہیں تو اپنی پڑی ہے ” مصطفیٰ صاحب غصے سے بولے
“السلام علیکم ابا !! السلام علیکم اماں !!” غازیان اپنے ابا کو غصہ میں ہوتے دیکھ فوراً ادب سے بولا
“وعلیکم السلام !!! اور ہاں !!! جلدی سے ناشتہ کرو اور میرے ساتھ چلو دکان پہ۔۔۔۔ ” مصطفیٰ صاحب کہتے ہوئے اٹھے
“لیکن ابا ۔۔۔۔۔” غازیان نے کچھ کہنا چاہا لیکن انہوں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بولے سے منع کیا اور اپنے کمرے میں چلے گئے
“اماں ۔۔۔” غازیان نے معصوم سی شکل بنا کر اماں کی طرف دیکھا کہ شاید وہی کچھ مدد کر دیں
“مجھے ایسے نا دیکھ!!! بلکل صحیح کہ کر گئے ہیں وہ۔۔۔۔ ایک نمبر کا لوفر ہو گیا ہے تو۔۔۔ جا دکان پہ اب ۔۔۔ ہر وقت گھر میں ویلا بیٹھا رہتا ہے ” عائشہ بیگم بھی اسے سناتی ہوئی کچن میں چلی گئی اور وہ بیچارہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا
“مجھ معصوم پہ ظلم کر کے کیا ملے گا آپ دونوں کو ….. ” وہ معصوم سئ شکل بنا کر بولا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی آج دوپہر میں بریانی تو بنا دیں !! اتنے عرصے سے نہیں کھائی ” نیلم جو لاؤنج میں صوفہ پہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی پیار سے اپنی اماں کو بولی
“کوئی ضرورت نہیں ہے بریانی پکانے کی۔۔۔ امی آج میرا دل ہے کڑاہی کھانے پہ تو آپ نا چکن کڑاہی بنا دیں” منان جو لاؤنج میں داخل ہو رہا تھا نیلم کی بات سن چکا تھا تو اسے ٹوکا
“نہیں کیوں بھائی ؟؟؟ میں نے بریانی ہی کھانی ہے ۔۔۔اماں آپ بریانی بنائیں نا پلیز !!” نیلم اب اٹھ کہ بیٹھی تھی اور اپنی اماں سے منت بھرے لہجے میں بولی
“جی نہیں ہمیشہ تمہاری ہی پسند کا کھانا بنتا ہے ۔۔ آج مجھے کڑاہی کھانی ہے اماں آپ بنائیں گی نا کڑاہی ؟؟” منان نے معصوم سی شکل بنا کر اپنی اماں کو دیکھا اور صوفہ پہ اماں کے پاس آکر بیٹھ گیا
“ہاؤووو!!! میری پسند کا کب بنا ہے یہ کل ہی تو اماں نے بھنڈی بنائی تھی ۔۔۔ مجھے تو نہیں پسند وہ …. اماں آپ بریانی بنائیں ناااااا” نیلم اب کہ بے چارگی سے بولی
” جی نہیں اماں آپ ۔۔۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے کہ منان کی بات مکمل ہوتی مشال بیگم غصے سے بولی
“بس بھی کر دو دونوں !!! کب سے میرا مغز کھائے جا رہے ہو۔۔۔ اماں یہ بنائیں اماں وہ بنائیں ۔۔۔۔۔۔ حد ہے یہاں ولیمہ ہو رہا ہے نا جو میں یہ سب بناؤں ۔۔۔۔ گھر میں چکن ہے نہیں فرمایشیں دیکھو زرہ ان دونوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آلو بناؤں گی چپ کر کے کھا لینا دونوں !! مجھے یہ فضول کی بحث نہیں چاہیئے “
مشال بیگم دو ٹوک الفاظ میں کہتے ہوئے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
“کیاااااا آلوووووو!!” اماں کی بات سن کر دونوں حیران ہوئے اور ایک دوسرے کو دکھ سے دیکھا پھر ایک ساتھ بولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسامہ میں کہ رہی ہوں اٹھ جا اب تو ورنہ مار کھائے گا مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھ جااااااا !!” مریم بیگم جو پیچھلے آدھے گھنٹے سے اسامہ کو جگانے کی کوشش کر رہی تھی اب تھک کہ بولی
“کیا ہے اماں !!! سونے دیں نااااا!! ” اسامہ چڑ کے بولا
“میرے آگے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے ۔۔۔ اٹھو فوراً اور دکان پہ جاؤ “
“ہیں ں؟؟؟ کیا ؟؟ کہاں جاؤں ؟؟؟ ” اسامہ نا سمجھی سے بولا
“میں نے کہا فوراً اٹھو اور دکان پہ جاؤ۔۔ بس بہت آرام کر لیا تم نے اور بہت پڑھائی کر لی تم نے۔۔۔ جو کارنامہ کرنا تھا نا تم نے کر چکے ہو اب چپ کر کے اپنے ابا کے ساتھ دکان پہ بیٹھا کرو ” مریم بیگم دو ٹوک الفاظ میں بولی اور ان کی یہ سب کہنے کی دیر تھی کہ اسامہ فوراً اٹھ کے بیٹھا
“اماں یہ ظلم نا کر مجھ پہ۔۔۔ مجھ سے نہیں بیٹھا جائے گا ابا کے کریانے کی دکان پہ۔۔۔ مجھے ابھی پڑھنا ہے اور اچھی نوکری کرنی ہے ” اسامہ اپنی اماں کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا
“دیکھو اگر تم نے کچھ کرنا تھا نا تو تم اچھے نمبروں سے پاس ہو کر دیکھاتے نا ہمیں “
” ارے آپ تو ایسے کہ رہی ہیں جیسے میں فیل ہو گیا ہوں۔۔۔۔ پاس تو ہو گیا ہوں ناااااا اور آپ لوگوں کو کیا چاہیئے ؟؟” اسامہ چڑ کے بولا
“ہمیں یہ چاہیئے کہ تم اب چپ کر کے دکان پہ بیٹھو اور اب تو تم یہ پڑھائی کے اور یونیورسٹی کے خواب اپنے زہن سے نکال دو کیونکہ یہ تو اب ہونا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔” مریم بیگم اسے کہتے ہوئے کمرے سے جانے لگی
“اور ہاں جلدی آؤ اب باہر میں کھانا ڈال کے دیتی ہوں وہ لیتے ہوئے جانا ” وہ کہتی کمرے سے باہر چلی گئی
“کیا مصیبت ہے ” اسامہ جھنجھلاتے ہوئے بولا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارقم !!! ارقم !!!” جاوید صاحب ارقم کو آوازیں دیتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئے جہاں ارقم مزے سے بیٹھا ٹی وی دیکھنے اور چپس کھانے میں مصروف تھا اپنے ابا کی آواز پہ چونکا
“جج جی ابا !!” ارقم ڈرتے ہوئے بولا کیونکہ جاوید صاحب غصے میں لگ رہے تھے مطلب کل والا غصہ ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا
“تمہارے پاس پانچ منٹ ہیں جلدی سے تیار ہو کر آؤ اور چلو میرے ساتھ دکان پہ ” جاوید صاحب دو ٹوک الفاظ میں بولے
“کیاااااا اباااااا دکان پہ ؟؟؟ میں میں کیسے ؟؟مطلب میں کیا کروں گا وہاں ؟؟” ارقم نے حیرانگی سے اپنے ابا کو دیکھا کیونکہ ان کے ابا حضور درزی تھے اور ارقم کو سوئی میں دھاگہ تک ڈالنا نہیں آتا تھا دکان پہ جا کر کیا کرتا
“بیٹا کبھی دکان کی شکل دیکھی ہو تو آتا ہو نا کچھ۔۔۔۔ آج سے چلو میرے ساتھ سب سیکھا دوں گا۔۔۔۔ “
“لیکن ابا !!!” ارقم نے انہیں سمجھانا چاہا لیکن وہ کچھ بھی سنے بغیر باہر نکل گئے
“میں باہر انتظار کر رہا ہوں جلدی آؤ”
ابا کی بات سن کر ارقم بھاگتا ہوا کچن میں اپنی اماں کے پاس آیا
“اماں اماں !! دیکھیں نا ابا مجھے بھی درزی بنانا چاہتے ہیں ” ارقم اداس ہو کر بولا
“تو تم نے کیا ڈاکٹر بننا ہے جو ایسے بول رہے ہو ؟؟؟ اگر کوئی ڈھنگ کا کام کرنا تھا نا تو پڑھائی بھی کرتے اور اچھے نمبر بھی لیتے۔۔۔ دو نمبروں سے پاس ہوئے ہو تم ارقم دو نمبروں سے۔۔۔۔ اور اب بھی تم میں پڑھائی کا بھوت سوار ہے ؟؟؟ چپ کر کے اپنے ابا کے ساتھ جاؤ کوئی بحث نہیں چاہیئے مجھے “
مومنہ بیگم نے اسے کھری کھری سنائی اور ارقم تو جیسے سکتے میں ہی آگیا تھا
“اکلوتا بیٹا ہوں میں آپ لوگوں کا ۔۔۔ ایسا کریں گے اب آپ لوگ میرے ساتھ ؟؟؟” ارقم نے معصوم سی شکل بنا کر کہا
“تمہیں بہت احساس ہے نا اپنے اکلوتے ہونے کا ؟؟ اتنا ہی تھا نا تو کل گلی میں سب کے سامنے یوں شرمندہ نا ہوتے ہم دونوں !!! چپ کر کے اب جاؤ تمہارے ابا باہر انتظار کر رہے ہوں گے تمہارا” مومنہ بیگم نے تو اسے فل ہری جھنڈی دیکھائی تھی
“ہاہ ہائے اماں .!!!! نا شکری نا کر !!! باقیوں نے کونسا ٹاپ کیا ہے اگر میں فیل ہوتا تو شرمندگی ہوتی نا آپکو …” وہ کہاں چپ رہنے والا تھا
“اچھا نا ماں میری پیاری امی … اب میں خوب پڑھ کر ڈاکٹر بنوں گا …!!” ارقم شاید دکان پہ جانے کا سن.کر سٹک گیا تھا
“واہ بیٹا واہ شکر ہے میں تھوڑی بہت پڑھی لکھی ہوں ورنہ تم نے تو مجھے بھی الو بنانا تھا … یہ آئی کام کرنے کے بعد کون سے تمہارے باپ کی یونیورسٹی میں ڈاکٹر بناتے ہیں…. ؟؟؟؟” اتنی عزت افزائی کے بعد ارقم صاحب کی بھی عقل تھکانے آئی تھی اور وہ جو تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا تھا وہ انکئ اماں نے پورا کر دیا تھا

“اب تو ارقم بیٹا درزی بننے کے لیے تیار ہو جا !!” ارقم نے ایک لمبا سانس خارج کیا اور باہر نکلا ہی تھا کہ اسے غازیان سڑھیاں اترتا ہوا نظر آیا جس کا منہ بھی لٹکا ہوا تھا ارقم کو اس وقت غازیان کو دیکھ کہ حیرت ہوئی ورنہ وہ تو اس وقت سویا ہوا ہوتا تھا
“اوئے کیا بات ہے غازی ؟؟ تو اتنی جلدی اٹھ گیا اور یہ منہ کو لٹکایا ہوا ہے ؟؟ سب خیریت ہے ؟؟ ” ارقم نے سوال کیا
” کہاں یار میں ابا کے ساتھ جا رہا ہوں دکان پہ ” غازیان اداس ہو کر بولا
“تو کہاں جا رہا ہے ؟؟” اب غازیان نے اس سے سوال کیا
” میں بھی ابا کے ساتھ جا رہا ہوں دکان پہ ” ارقم نے بھی اسی کے انداز سے بولا
“کیا یار ہم پاس ہو گئے ہیں یہ بہت نہیں ہے کہ یہ ہمارے مارکس لے کے بیٹھ گئے ہیں۔۔ یہ شکر نہیں کر رہے کہ ہم کم سے کم فیل تو نہیں ہوئے نا !!!” ارقم چڑ کے بولا
” ہاں اوپر سے اب دکان پہ بھی لے کے جا رہے ہیں ” غازیان اور ارقم کی بلکل رونے والی حالت تھی
“اب آ بھی جاؤ دونوں ” مصطفیٰ صاحب اور جاوید صاحب جو کب سے دونوں کا انتظار کر رہے تھے اب تھک کہ بولے
“چل بیسٹ اوف لک ” دونوں ایک دوسرے کو کہتے گلے لگے ایسے جیسے کسی محاذ پہ جا رہے ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنچل محلہ کے پاس ہی ایک چھوٹا سا بازار تھا جہاں ان سب کی دکانیں تھیں ۔۔ پہلے ابراہیم صاحب کی کریانے کی دکان آتی پھر تھوڑے فاصلہ پہ جاوید صاحب کی دکان آتی اور ساتھ ہی مصطفیٰ صاحب کی جوتیوں کی دکان آتی تھی
وہ چاروں پیدل دکان کی طرف جا رہے تھے کہ جیسے ہی وہ ابراہیم صاحب کی دکان کے پاس پہنچھے غازیان کی نظر اسامہ پہ پڑی جو کہ گاہکوں کو ڈیل کر رہا تھا
“اوئے ارقم وہ دیکھ اسامہ !!” غازیان نے ارقم کو اسامہ کی طرف متوجہ کیا تو ارقم نے اپنی آنکھیں ملی اور دوبارہ اسامہ کی طرف دیکھا
“اوئے ہاں یہ تو اسامہ ہی ہے۔۔۔ چل چلتے ہیں ” کہتے ہی دونوں اس کے پاس آئے
“کمینے تو آج دکان پہ کیسے ؟؟؟” دونوں ایک ساتھ بولے
“بس یار مت پوچھ۔۔۔۔۔ ابا زبردستی لائے مجھے ….. روز آنا ہے اب” اسامہ بے چارگی سے بولا
“یہاں بھی کچھ ایسا ہی حال ہے ” غازیان نے کہا
“کیا مطلب ؟؟” اسامہ نا سمجھی سے بولا
“مطلب یہ کہ ہم بھی آج سے دکان پہ جائیں گے ” ارقم اداس ہو کر بولا لیکن اسامہ کا قہقہہ نکلا
“اب تو درزی بنے گا ” اسامہ شرارت سے بولا
“دفع ہو کمینے !!! میں کوئی نہیں بن رہا درزی سوئی میں دھاگہ تک تو ڈالنا نہیں آتا کپڑے کیا خاک سیوؤں گا میں ” ارقم چڑ کر بولا
“یار اس کا کوئی نا کوئی حل نکالتے ہیں ایسے نہیں چلے گا ” اسامہ سمجھداری سے بولا
“ہاں آج کا دن تو جیسے تیسے کر کے گزارتے پھر رات میں سوچتے کچھ کہ کیا کرنا ہے اب ہمیں ” غازیان کہتا ہوا اپنی دکان کی طرف چل پڑا تو ارقم بھی اس کے پیچھے پیچھے گیا جبکہ اسامہ اب اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا دن ان تینوں کے لیے بہت بھاری تھا وقت گزر ہی نہیں رہا تھا اور ان تینوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بس جلدی سے شام ہو اور یہ تینوں گھر بھاگیں.
جاری ہے
