Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08
وہ گال پہ.ہاتھ رکھے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی آنکھوں میں دکھ شکوہ غصہ کیا کچھ نا تھا . یکدم غزالہ بیگم کی آواز نے لاؤنج میں چھائے سکوت کو توڑا تھا
“حسن دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا جوان بیٹی پہ ہاتھ اٹھا رہے ہو ہوش کرو کچھ …” انہوں نے غصے سے کہا تھا جبکہ حرا نے نفرت سے دونوں ماں بیٹے کو دیکھا
“اماں رہنے دیں آپ . یہ کچھ زیادہ ہی بد تمیز اور خود سر ہو گئی ہے ……. آپ کو ان لوگوں نے گھر میں رکھا ہے اسی وجہ سے آپکو انکی غلطیاں نہیں نظر آ رہی ورنہ اصلیت تو آپ بھی جانتی ہیں !!” حسن صاحب نے غزالہ بیگم سے کہا تو انہوں نے شرمندگی سے سر جھکا دیا تھا . انکا بھرا ہوا زہر ہی تھا انکے بیٹے کے لہجے میں . تو پھر وہ کیا کہہ سکتی تھی .
آسیہ بیگم نے دکھ سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جسکی آنکھیں سرخ تھی لیکن آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں نکلا تھا
“حسن غلطی اسکی نہیں ہے …….. “غزالہ بیگم نے کچھ کہنا چاہا تھا جب حرا یکدم بھرائی آواز میں بولی تھی آنکھوں میں آنسو تو نہیں تھے لیکن لہجے میں آنسوؤں کی آمیزش تھی
“بس کر دیں آپ . یہ جھوٹی ہمدردی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے آپکو .. جانتی ہوں میں آپکو اور آپکے بیٹے کو بھی … ” وہ کہتی ہوئی تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ حسن صاحب نے غصے سے اسے دیکھا تھا
“دیکھ لیا تم نے یہ تربیت کی ہے . اسکی . کوئی آگے پڑھائی نہیں کرے گی یہ . باہر نکل کے منہ پہ کالک ہی ملے گی . اسلیے گھر میں ہی بیٹھے .. ” وہ غصے سے کہتے گھر سے باہر نکل گئے تھے جبکہ آسیہ بیگم نے سختی سے آنکھیں میچی تھی .
وہ شخص بات ایسے کر کے گیا تھا جیسے اپنی نہیں کسی دشمن کی بیٹی کے بارے میں کہہ رہا ہو .
کمرے کے اندر کھڑی حرا کی آنکھوں میں جیسے کسی نے مرچیں ڈال دی تھی . اسکا باپ کتنی غلیظ بات کر کے گیا تھا وہ وہی پلنگ کے ساتھ بیٹھ کر رو دی تھی
————–
صبح نو بجے شینو سبزی منڈی گئی تو اسے وہاں پینو نظر آئی
“ارے پینو تو یہاں !!” پینو سینو کی سہیلی تھی جو کہ ان سے اگلی گلی میں رہتی تھی اور دونوں کا ایک ہی کام ہوتا تھا ہر گھر میں آگ لگانا لیکن سب ان کی اس عادت کو بخوبی جانتے تھے
“ہاں یار!!! بس کچھ مصروفیات تھیں تھبی ” پینو نے راز داری سے کہا
“اچھا یہ بتا کیا خبر ہے ” شینو نے اس سے گلی کی تفصیل پوچھنا چاہی کہ آخر وہاں کیا چل رہا ہے
“اج کل کی تازہ ترین خبر تو یہ ہے کہ وہ جو اپنی صائمہ نہیں ہے سکھی سڑی سی۔۔۔۔”
“ہاں ہاں کیا کیا اس نے؟؟”
“بھاگ گئی اپنے عاشق کے ساتھ … توبہ توبہ “
“ہاوووو۔۔۔ یہ تو بہت برا ہوا لیکن بھاگی کس کے ساتھ ہے “
“ہاں نااا۔۔ وہی تو اس لیے ہی تو مصروف تھی کچھ دنوں سے اور خبر ملی کی وہ جو اپنا شکیل نہیں ہے وہ شکیل مکینک ۔۔۔”
“ہاں ؟”
“اسی کے ساتھ بھاگی ہے وہ “
“اوففف اللہ !!! کیسی اولاد ہے آج کل کی توبہ توبہ “
” خیر تو بتا ۔۔۔ تیرے ہاں کیا چل رہا ہے ؟” وہ دونوں سبزی خریدتی ہوئی اب گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی اور مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ بخیلیوں میں لگی ہوئی تھی
“بس مت پوچھ پینو ۔۔۔۔ وہ پتہ ہے ہماری گلی کی وہ چنچل نیلم اور اور وہ اسامہ ۔۔۔۔ ان دونوں کا چکر چل رہا ہے ہاں ۔۔۔ اللہ جھوٹ نا بلوائے دونوں آدھی آدھی رات تک باہر بیٹھے رہتے ہیں۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔۔۔دیکھ پینو تجھے تو پتہ ہے میں ایسی ویسی بات اپنے تک تو رکھنے سے رہی ۔۔۔ صبح ہوتے ہی دونوں کے گھر جا کر میں نے ان کے کالے کرتوت بتا دیے ان کے ماں باپ کو ۔۔۔لیکن دیکھو دونوں نہایت ڈھیٹ ۔۔۔۔ ڈانٹ کا کچھ اثر نا ہوا اور دونوں پھر رات کو بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ توبہ۔۔۔ نا جانے کیا کرتوت گھولنے والے ہیں اب یہ ” شینو نے تو جھوٹ بولنے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔۔ ایک کی چار لگا کر بات کرتی تھی
“چل میں اب چلتی ہوں گھر آگیا میرا “شینو کہتی ہوئی اپنی گلی کی طرف مڑی جبکہ پینو بھی اسے خداحافظ کہتی اپنی گلی کی طرف چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بجے سلیم صاحب نے ابراہیم، مصطفیٰ اور جاوید صاحب ، تینوں کو اپنے پاس بلایا تھا ارقم کے کمرے میں تاکہ کچھ ضروری بات کر سکیں۔۔۔۔
“کیا خیال ہے کیوں بلایا ہو گا انہوں نے ؟؟؟ وہ بھی ہم تینوں کو ؟؟” ابراہیم صاحب نے مصطفیٰ اور جاوید صاحب سے پوچھا تو ان دونوں نے لا علمی کا اظہار کیا اور لاؤنج میں بیٹھے ان تینوں نکموں کی طرف دیکھا جو کہ صوفے پہ بیٹھے کوئی فلم دیکھنے میں مصروف تھے جبکہ اصل میں ان کا دیحان ان تینوں والد محترم کی طرف تھا
“تم لوگوں کو کچھ اندازہ ؟؟؟؟” جاوید صاحب نے کہا تو ان تینوں نے نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھا
” کس بات کا اندازہ چاچو ؟؟؟” غازیان معصومیت سے بولا تو ان تیوں نے اپنے سر میں چمٹ لگائی
” ان نکموں کے پلے پڑنا ہی فضول ہے ” کہتے ہوئے تینوں ارقم کے کمرے کی طرف چل دیے جہاں سلیم صاحب ان کا انتظار کر رہے تھے جبکہ ان تینوں کو کمرے کے اندر جاتا دیکھ یہ تینوں بھی اٹھے اور کمرے کے پاس جا کر دروازے کے ساتھ کان لگا کر کھڑے ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کھوئے ملائے ، قلفی ملائے ، قلفی کھوئے آلی “
گلی میں قلفی والے کی آواز پہ نیلم کی آنکھ کھلی جو کہ پسینے میں شرابور ہوئی وی تھی بجلی تھی نہیں اور اوپر سے گرمی -وہ فوراً بیڈ سے اٹھی اور باہر ایک نظر گھر کو دیکھا تو سب اپنے اپنے کمروں میں تھے تو نیلم کو میدان صاف دکھا تو فوراً باہر بھاگی قلفی لینے
” بھائی ایک قلفی دینا ” نیلم اداس رویا رویا سا منہ بنا کر بولی کیونکہ جلدی جلدی میں آنے کی وجہ سے یہ پیسے لانا تو بھول ہی گئی تھی اور اب نیلم کی ایکٹینگ کا وقت تھا
“یہ لو باجی !!! بیس روپے دے دو ” قلفی والے نے قلفی پکڑا کر اس سے پیسے مانگے
“کیا بھائی !!! آج میرا رشتہ آرہا ہے اور میں بہت دکھی ہوں اور آپ مجھ سے پیسے مانگ رہے ہو ۔۔۔ تھوڑا تو احساس کر لو ۔۔۔ بہنوں کی طرح ہوں میں آپ کی اب آپ اپنی بہن کو ایک قلفی نہیں کھلا سکتے ہمیشہ میں آپ سے قلفی لیتی ہوں آج آخری قلفی کھلا دو پھر تو میں پیا دیس سدھار جاؤں گی؟؟؟؟ پوری رات نہیں سوئی میں اس دکھ سے کہ میرا رشتہ آرہا ہے آج اور پھر میں بیہا دی جاؤں گی۔۔۔ اور پھر میں نا جانے کہاں ہوں گی۔۔۔ ایک قلفی تو کھا ہی سکتی ہوں نا۔۔۔۔” نیلم نے قلفی والے کو سہی اموشنل کر دیا تھا اور اپنے بھی جھوٹے آنسو بہا دیے تھے اتنی معصومیت سے کہا تھا کہ وہ بیچارہ تو بھائیوں کی طرح دکھی ہی ہو گیا تھا
“اچھا اچھا بہنا رو مت تم پیسے نا دو میں چلتا ہے ہاں خوش رہو ” قلفی والا دکھی لہجے میں کہتا ہوا وہاں سے چل دیا اور نیلم دروازہ بند کرتی قہقہہ لگا کر ہنس دی اور مزے سے قلفی کھاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابراہیم ، مصطفیٰ اور جاوید صاحب تینوں صوفے پہ بیٹھے ہوئے تھے جبکہ سلیم صاحب کمرے میں ٹہل رہے تھے گویا بات شروع کرنے کے لیے الفاظ ڈھنونڈ رہے ہوں
“بابا آپ نے یوں ہمیں کیوں بلایا ؟؟ کیا بات ہے ؟ کوئی پریشانی ہے ؟ یا کچھ اور ؟ ” مصطفیٰ صاحب نے کمرے میں چھائی خاموشی کو توڑا
“چپ کرو ۔۔۔ میرے سامنے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ باپ ہوں تم لوگوں کا دو گھڑی خاموش رہ کر میری بات نہیں سن سکتے ۔۔۔ لیکن نہیں ساری باتیں تم لوگوں سے کروا لو ۔۔۔۔” سلیم صاحب نے مصنوعی رعب جھاڑتے ہوئے مصطفیٰ صاحب کی اچھی عزت افظائی کر چکے تھے جبکہ کمرے کے باہر کھڑے وہ تینوں ہنس پڑے
“سس سوری بابا ” انہوں نے شرمندہ ہو کر کہا
“خیر یہ بتاؤ کہ آگے کیا سوچا ہے ان تینوں کا ؟؟؟” سلیم صاحب اصل مدعے پہ آئے
“بابا وہ ہماری دکانیں سمبھالیں گے نا ” جاوید صاحب نے کہا
“جی بلکل بابا ۔۔۔ اب ہم انہیں اور پڑھانے سے تو رہے تو بہتر ہے کہ وہ اب کچھ کام دھندا کر لیں ” ابراہیم صاحب نے اب کہا تو سلیم صاحب نے آنکھیں چھوٹی کر کے ان تینوں کو دیکھا
“زرا تھوڑا پیچھے جاؤ تم لوگ ..” انہوں نے کہا جبکہ ان تینوں نے حیرانی سے اپنے باپ کو جبکہ ابراہیم صاحب نے اپنے تایا کو دیکھا کہتے وہ بھی انہیں بابا ہی تھے .. ان تینوں نے گردن گھما کر پیچے دیکھا ….
“بیوقوفوں !!!! میں کہہ رہا ہوں اپنا دماغ تھوڑا پیچھے لیکر جاؤ … ” وہ اب انکی بات سمجھے تھے اور انہیں پتا لگا تھا کہ اب انکی اچھی خاصی ہونیوالی ہے جبکہ باہر کھڑے وہ تینوں بمشکل ہنسی دبائے ہوئے تھے
“جی برخودار آپ بتائیں کتنے نمبر تھے آپکے میٹرک میں.. ” انکی توپوں کا رخ اب ابراہیم صاحب کی طرف تھا جو گربڑائے تھے
“بابا وہ اور دن تھے ….. ” انہوں نے جواب دینے کی بجائے خود کو بچانا چاہا تھا
“ابراہیم “. وہ زور لگا کر بولے تھے
“بابا انگلش میں فیل تھا .. ” انہوں نے گردن جھکا کر کہا تو باہر کھڑے تینوں کے منہ حیرت سے کھلے تھے
“جی مصطفیٰ صاحب آپ بتائیے …” نہایت عزت کیساتھ سلیم صاحب نے اپنے سپوت سے پوچھا تھا بلکہ طنز کیا تھا
“بابا وہ … آپ کیا پرانی باتیں لیکر بیٹھ گئے ہیں..” انہوں نے بھی اپنے باپ کو ٹالنا چاہا .. کیوں وہ گڑھے مردے اکھاڑ رہے تھے
“میرے ہاتھوں میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ تم لوگوں کو چار چھتر لگا سکتا ہوں. جو سوال پوچھا ہے وہ جواب دو .. ” انہوں نے غصے سے مصطفیٰ صاحب کو دیکھا تھا ..
“بابا ریاضی میں سپلی تھی . ” ان کے منہ بنا کر کہنے پہ جاوید صاحب اور ابراہیم صاحب نے ہنسی دبائی تھی .
سچ کہتے ہیں کہ اولاد ماں باپ کیلیے ہمیشہ چھوٹے ہی رہتے ہیں. وہ تینوں بھی اسوقت جوان اولاد کے باپ ہونے کے باوجود اپنے باپ کے سامنے دبک کر بیٹھے تھے .
“بابا مطالعہ پاکستان میں سپلی تھی..” سلیم صاحب کی نظریں جاوید صاحب پہ پڑی تو وہ یکدم انکے پوچھے بغیر ہی بولے تھے .. باہر کھڑے ان تینوں کے تو حیرت سے منہ کھلے تھے
“ہوں تو تم لوگوں کی ہی اولاد ہیں وہ نکمی نالائق . تم لوگ کیا سوچ رہے تھے وہ آئنسٹائن بنیں گے . ظاہر ہے اپنے باپ پہ ہی گئے ہیں …” انہوں نے تینوں کو کہا جبکہ باہر کھڑے تینوں کو اپنے نکمی نالائق کا لقب سن کر دکھ ہوا تھا . وہ انکے دوست ہو کر بھی انکو ڈانٹ رہے تھے تینوں نے منہ بنایا تھا
“ہممممممم۔۔۔۔۔ انہوں نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے ہنکار بھرا تھا
تو اگر کام ہی کروانا ہے تو کیوں نا وہ میری دکان سنبھال لیں ۔۔۔ میں تو اب دکان پہ جانے سے رہا مجھ سے تو کام نہیں ہوتا اب۔۔۔اور وہ جو لڑکا دکان پہ ہوتا ہے وہ بھی تنگ کرتا ہے … وہ تینوں میری دکان سمبھالیں اور رہیں میرے ساتھ ہی۔۔۔۔ بوڑھا ہو گیا ہوں سہارا رہے گا ۔۔۔۔۔!!!” سلیم صاحب نے بات کی تو یہ تینوں تو حیران ہوئے ہی ہوئے ساتھ ہی ساتھ دروازے کے ساتھ کان لگائے وہ تینوں بھی اپنے شہزادے کی بات سن کہ آگ بگولا ہوئے
” یہ کیا بکواس ہے ؟؟؟؟؟ یہ کیا کہ رہیں ہیں ؟؟؟ اب ہم اپنے اباؤں کی دکان چھوڑ کر ان کی سائیکلوں کی دکان پہ جا کر بیٹھ جائیں ؟؟؟؟ ہم نے ان سے یونی کی بات کرنے کو کہا تھا اور یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔” غازیان کو تو سہی معنوں میں غصہ آرہا تھا۔۔۔۔ اور یہی کچھ حال اسامہ اور ارقم کا بھی تھا
“آرام سے ۔۔۔۔ چل آ ادھر بیٹھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ابھی آتے ہوں گے یہ باہر پھر جا کر بات کرتے ہیں ان سے۔۔۔۔” اسامہ نے غازیان کو سمجھانا چاہا اور اسے لیے لاؤنج میں آکر بیٹھ گیا
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ تینوں باہر آئے اور ان تینوں کو دیکھا جو کہ بلکل سنجیدہ ہو کر بیٹھے ہوئے تھے
” چلو اٹھو تینوں !!! تیاری کرو اپنی۔۔۔۔ دادا کے ساتھ جا رہے ہو تم تینوں کل ” ابراہیم صاحب نے کہا
“کیاااااا لیکن کیوں بابا ؟؟ ” اسامہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا
“بس ان کی خواہش ہے کہ اب تم تینوں ان کے ساتھ رہو تو جا رہے ہو تم لوگ کل ان کے ساتھ۔۔۔” اب کی بار جاوید صاحب بولے اور ان تینوں کو وہاں حیران ہوتا چھوڑ کر اپنی اپنی دکانوں کی طرف چل دیے جبکہ
اسامہ ارقم اور غازیان تینوں فوراً سلیم صاحب کے پاس کمرے میں گئے تو سامنے کا منظر دیکھ کہ ان تینوں کو حیرات کا جھٹکا لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے سامنے کا منظر دیکھا جہاں سلیم صاحب فون پہ گانا لگائے مزے سے ہاتھ ہلا ہلا کر جھوم رہے تھے
ان تینوں کا تو مانو حیرت سے برا حال تھا۔۔۔۔۔ اور اب سلیم صاحب کی جب ان تینوں پہ نظر پڑی تو ان کے پاس آئے اور انہیں بھی نچانے لگے
“اوےےے کیا ہے یاررر !!!! ڈانس کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟” غازیان غصے سے بولا تو سلیم صاحب نے گانا بند کیا اور سنجیدگی سے بولے
” ارےےےے میری جانننن !!! تم تینوں کے والد محترم نے اجازت دے دی ہے میرے ساتھ چلنے کی ۔۔۔۔ اب تم تینوں میرے ساتھ میرے گھر میں رہو گے۔۔۔۔۔۔” سلیم صاحب چہکتے ہوئے بولے
” ہم نے یہ تو نہیں کہا تھا آپ سے کہنے کو ” اب ارقم نے کہا تو سلیم صاحب حیران ہوئے
” اچھا ؟؟؟؟ مجھے لگا تم تینوں ان کے کاروبار نہیں کرنا چاہتے لیکن میرا تو سمبھالو گے نا ؟؟؟؟” سلیم صاحب نے پوچھا
” شہزادےےےے !!!” اسامہ نے کہا تو سلیم صاحب نے پہلے تو ان تینوں کے چہروں کو بغور دیکھا جو کہ غصے سے سرخ ہو چکے تھے اور پھر ان کا جاندار قہقہہ نکلا
جبکہ وہ تین حیران تھے اپنے دادا کی حرکتوں پہ کہ آج انہیں ہو کیا گیا ہے ؟؟؟
“شہزادےےےے ٹھیک تو ہے ؟؟؟؟؟” ارقم نے اگے ہو کر سلیم صاحب کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا
” ارےےے میرے بچوں میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ اور میں نے ان تینوں کی باتیں سنی ہیں وہ کبھی بھی تم تینوں کو یونی نہیں بھیجیں گے تو میں نے ان سے جھوٹ بول دیا کہ تم تینوں میرا کام سمبھالو گے۔۔۔۔ جبکہ تم تینوں یونی پڑھنے جاؤگے۔۔۔۔!!!!!” سلیم صاحب نے ارقم کے گال پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کہا
“کیااااا اور اگر ان کو پتہ چل گیا توووو ؟؟؟؟ “
“ایسا کچھ نہیں ہو گا اور اگر ہوا بھی تو میں سمبھال لوں گا۔۔۔ ” سلیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے اور وہ تینوں ان نے گلے لگ گئے
” تھینک یو سو مچ شہزادےےے !!!! وی لو یو !!!” تینوں نے اکٹھے بولا اور اپنے دادا کو ایک ایک پپی دی
” چل ہٹو بدتمیز !!! چمیاں کیوں دے رہے ہو ” وہ چڑ کے بولے
” اہہہ تو یہ کہیے نا کہ آپ کو اب ایک عدد ہماری دادی چاہیے ۔۔۔” ارقم نے شرارت سے کہا تو کمرے میں سب کے جانداز قہقہہ گونجے
“بد معاش ” سلیم صاحب نے ارقم کے کان کھینچے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم کے گھر میں رشتہ والوں کے آنے کی تیاریاں چل رہی تھی شام کو پانچ بجے ان لوگوں نے آنا تھا اور اب لائبہ نیلم کے پاس اس کے کمرے میں بیٹھی اسے ڈرا رہی تھی
” نیلم اگر اس گلاب خان کو تو پسند آگئی تو ؟؟؟؟ ” لائبہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
“دفع ہو جا !!! ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ غازیان کا آئیڈیا فضول تو ہے لیکن کارآمد لگتا ہے۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ وہ رشتہ کرے گا ۔۔۔ “نیلم لائبہ کو کہتی ہوئی غازیان کا آئڈیا سوچتے ہوئے خودی ہنس پڑی
” یہ حرا کہاں ہے ؟؟ آئی نہیں آج ؟؟ اسے یاد بھی ہے آج کا یا نہیں ؟؟؟” نیلم نے لائبہ سے پوچھا کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ دوپہر ہوگئ تھی اور حرا ابھی تک نہیں آئی تھی
“پتہ نہیں یار میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔۔۔ چل دیکھتے ہیں چل کہ ” اور پھر لائبہ اور نیلم دونوں حرا کے گھر چل دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں سلیم صاحب کے پاس بیٹھے تھے جب اچانک اسامہ کو کچھ یاد آیا اس نے ارقم کے کان میں کہا اور ارقم فوراً وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا
“میں آتا ہوں !! ” ارقم کہ کر چلا گیا جبکہ غازیان نے اسامہ کی طرف دیکھا تو اسامہ نے اسے اشارے سے بتا دیا کہ ارقم کو اس نے کہاں بھیجا ہے
غازیان اور اسامہ دونوں اشاروں میں باتیں کر رہے تھے یہ جانے بغیر کہ سلیم صاحب کب سے انہیں کو گھور رہے تھے
جب ان دونوں کی باتیں ختم ہوئی تو جیسے ہی سلیم صاحب کی طرف دیکھا وہ ایک ہاتھ کو اپنی تھوڑی کے نیچھے رکھے معصوم سا چہرہ بنائے انہیں کو دیکھ رہے تھے
“کیا مسئلہ ہے ؟” آخر سلیم صاحب سے برداشت نا ہوا تو ان سے پوچھ لیا
“وہ وہ۔۔۔۔۔” اسامہ نے کہا
” وہ وہ کیا ہاں ؟؟ اب مجھ سے بھی چھپاؤ گے ؟؟” انہوں نے بلیک میل کرنے والے انداز میں پوچھا تھا
“ارے شہزادے آپ سے کچھ چھپا سکتے ہیں کیا ؟؟”
“ہاں جی !! صاف صاف بتاؤ کیا کھچڑی پک رہی تھی ابھی اور یہ ارقم کو کہاں بھیجا ہے ؟؟؟”
” وہ نا ۔۔۔۔۔ ارقم بازار گیا ہے “
“بازار کیوں “
“جمال گوٹا لانے “
“کیاااااااا۔۔۔۔۔ کس بچارے کو دینا ہے جمال گوٹا ؟؟؟ سلیم صاحب کہتے ہوئے خودہی ہنس پڑے
” بس ہے نا کوئی۔۔۔۔ ہم آپ کو آکر بتاتے ہیں۔۔۔ اوکے بائے !!” غازیان نے جلدی جلدی میں کہا اور اسامہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر بھاگ گیا
“ارے رکو بتاتے تو جاؤ مجھے …. !!!” انہوں نے روکنا چاہا لیکن وہ کہاں رکنے والے تھے جبکہ سلیم صاحب ان کی اوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھ کر مسکرا دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم اور لائبہ جو حرا کے گھر جا رہی تھی گیٹ سے نکلتے ہی انہیں سامنے سے ارقم آتا ہوا دکھائی دیا تو اس کے پاس رک گئی
“یہ لو ۔۔۔ لے آیا ہوں اب اگے کا کام تمہارا ہے ” ارقم نے لفافہ نیلم کو پکڑاتے ہوئے کہا
“تھینکیو یاررر” نیلم نے اسے مسکراتے ہوئے کہا اور لفافہ اندر رکھنے چلی گئی جبکہ لائبہ اور ارقم باہر ہی کھڑے تھے
“تم دونوں کہاں جا رہی تھی ؟؟”
“وہ ہم حرا کی طرف جا رہے تھے۔۔ صبح سے دکھی نہیں ہمیں تو اس لیے ۔۔۔”
” اوہ اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔ میں چلتا ہوں اب ۔۔ ” ارقم اسے کہتا ہوا چلا گیا تب تک نیلم بھی آچکی تھی اور پھر وہ دونوں حرا کے گھر چلی گئی۔۔۔۔ دروازہ چونکہ کھولا ہوتا تھا تو ایک بار دروازہ بجا کر وہ دونوں اندر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شینو جو سبزی ہاتھ میں پکڑے اپنے گھر جا رہی تھی سامنے ارقم اور لائبہ کو کھڑا دیکھ کہ چونکی
“ہووو ہائےےےے !!!! اے دوئے وی ؟؟؟؟ کیسا زمانہ آگیا ہے توبہ توبہہ” شینو اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی اپنے گھر چلی گئی اور جاتے ہی پینو کو فون ملائی جو کہ ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی شینو کہ فون دیکھ کہ ٹھٹکی
“ہاں بول شینو کی گل آئے ؟؟؟”
” ہائے پینو نا پوچھ میں کی ویکھیا “
” کی ویکھیا تو ہن ؟؟؟ نیلم تے اسامہ کی ؟؟ “
” او نی !!! لائبہ تے ارقم نو ویکھیا مے۔۔۔۔ دوئے ہنس ہنس کہ گلاں پیاں کردے سن تن تنہا “
ایک دوسرے کو خبریں دیتے وقت کبھی اردو بولتی تو کبھی پنجابی۔۔ آخر دونوں ہی اپنی زبانیں ہیں ۔۔۔ جو جی میں آئے بولو۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم اور لائبہ حرا کے گھر داخل ہوئی تو سامنے ہی غزالہ بیگم کو بیٹھے ہوئے پایا
وہ دونوں حیران ہوئی تھی کہ یہ کون ہے لیکن چونکہ وہ بوڑھی تھی تو دیکھتے ہی سمجھ گئی تھی کہ یہ ضرور حرا کی دادی ہوں گی.
جاری ہے
