Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22

“بات سنو تم سب لوگ میری!!! مجھے نہیں کرنی اکیلے میں اسائنمنٹ مجھے بھی ساتھ کھیلاؤ نا پلیز یار …” ان سب کو الگ سے نیچے بیٹھتے دیکھ ارقم نے منت کی تھی جسے انہوں نے الگ صوفے پر بٹھایا تھا
“دیکھ ارقم کل آخری دن ہے سر نے بہت بے عزت کرنا ہے تم ہی بناؤ گے اسائنمنٹ کیونکہ بہت آسان جو ہے ۔۔۔۔ خبردار تو جو وہاں سے ہلا تو ” غازیان نے اسے لتاڑا تھا اب یہ بات اسکا سر درد بن گئی تھئ اسنے تو ایویں کہا تھا کہ یہ سبجیکٹ آسان ہوتے ہیں-
“ہاں تو میں بنا دوں گا نا میں کر دوں گا لیکن رات میں ابھئ مجھے کھیلاؤ ساتھ میں .. ورنہ ورنہ میں تایا ابو کو ابھی جا کر بتاؤں گا کہ یہ لوگ میرے بغیر کھیل رہے ہیں… “حد درجہ معصومیت سے کہا گیا تھا اور ساتھ میں دھمکی بھی لگائی گئی تھی
“(ایک دفعہ کھیلاؤ سہی پھر بعد میں بتاؤں گا . میں کیوں کروں اسائنمنٹ ) “وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا
“اوہہ یہ کیا خالہ شینو کی طرح منہ میں منتر پڑھ رہا ہے دل میں گالیاں نا دے اور ادھر آجا. لیکن یاد رکھ تو اسائنمنٹ بنا کر سوئے گا…. شکایتی ٹٹو نا ہو تو . ” اسامہ نے اسے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا دیکھ کر کہا تھا تو وہ بھی دانت نکالتا انکے بیچ میں آکر بیٹھ گیا تھا جو دائرے میں نیچے کارپٹ پر بیٹھے تھے اور حرا نے کچن سے بوتل لا کر انکے سامنے رکھی تھی
“چلو جی میں گھماؤں گی بوتل .. “حرا آستینیں چڑھاتے ہوئے بولی تھئ جیسے لڑنے جارہی ہو
بوتل گھمائی گئی تھی اور پہلی باری پہ لائبہ کی طرف آیا …
“میں میں میں دوں گا اسکو”. بوتل رکتے دیکھ ارقم نے شور مچایا تھا
“ابے اوہہ منحوس آہستہ بول نا سب جاگ جائیں گے اور ابھی اسنے ٹروتھ ڈیئر کا نہیں بتایا . ” اسامہ نے اسکی کمر پہ ایک مکا جڑا تھا
“آئیی امیی آہستہ مار نا یار ..لگتی ہے . “
“چلو بس کرو لائبہ بتاؤ ٹروتھ یا ڈیئر .. ؟؟” حرا نے ان سب کو خاموش کروا کر لائبہ سے پوچھا تھا
“اممممممم. ” اسنے سوچنے کی ایکٹنگ کی تھی
“افکورس ڈیئر … ” لائبہ نے کہا پھر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا
“سوچ لو پورا کرلو گی؟؟” . ان لوگوں نے اسے چڑانا چاہا تھا جانتے تھے وہ چڑ بھی جائے گی اور یوں انکا کام بھی نکل جائے گا
“بات سنو میری میں لائبہ ہوں اور اپنا کام پورا کرتی ہوں چلو جلدی بولو ” اسنے شیخی بگاڑی تھی لیکن بھول گئی تھی یہ اسے مہنگی پڑنے والی ہے
“اچھا تو پھر لائبہ ایسا ہے کہ ہم ساروں کے اسائنمنٹس جو کہ ارقم اکیلے بنانے والا اب تم دونوں ساتھ بناؤ گے .. ” اسامہ کے بتانے پہ سب کمینگی سے مسکرائے تھے جبکہ لائبہ کا منہ.کھلا تھا
“یہ یہ یہ کیسا ڈیئر ہے دیکھو میں نہیں کر رہی ایسا کچھ… مطلب یار یہ کیا ہے؟؟” . لائبہ تو کہہ کر ہی پچھتائی تھی
“جی جی جی آپ نے ہی کہا تھا کہ لائبہ اپنا کام پورا کرتی ہے اب لائبہ کو کیا ہو گیا یے ..” ارقم نے اسی کے انداز میں اسکی نقل اتاری تھئ تو لائبہ نے دانت پیسے تھے
اب بات اسکے منہ سے نکل چکی تھی اگر وہ پورا نا کرتی تو اسکو ان لوگوں نے طعنے دینے تھے
“اچھا ٹھیک ہے میں کر لوں گی .” بےزاری سے منہ بناتے ہوئے لائبہ مانی تھی
دوسرئ دفعہ بوتل گھومی تھی نشانہ اب غازیان تھا ابھی وہ بوتل اپنی طرف سے موڑتا کہ سب کی نظر پڑی تھی
“اے خبردار جو تو نے چیٹنگ کی تیری ہی باری ہے …” اسکا بوتل کی طرف جاتا ہاتھ رکا تھا وہ شرمندہ ہوا تھا لیکن اسے یہ بھی پتا تھا کہ اب اسکی شامت آنے والی ہے
“اچھا ٹھیک ہے ڈیئر ہے میرا …” مصنوعی کالر کھڑے کرتے ہوئے کہا تھا آخر کو شرمندگی بھی چھپانی تھی
“ہاں جی تو اسکو میں دوں گا ڈیئر …’ اسامہ نے کہا تھا
“تو نے خالہ شینو کی طرح ایکٹنگ کرنی ہے وہ بھی پورے پانچ منٹ بلکل انہی کی طرح جیسے وہ بولتی ہیں … ” اسامہ نے شرارت سے کہا تھا جبکہ باقی سب کے قہقہے نکلے تھے
“اچھا بس یہ تو کوئی مشکل کام نہیں ہے” غازیان کو بھی یہ کام آسان لگا تھا شکر ان لوگوں نے اسے گھر کے باہر کا کوئی کام نہیں دیا تھا
“یہ یہ لو تائی کی چادر بھی لو “. ارقم کی نظر وہاں سائیڈ پہ رکھی عائشہ بیگم کی چادر پہ پڑی تھی تو اسنے اٹھا کر غازی کو دی تھئ . جواب میں غازی نے اسے سخت نظروں سے گھورا تھا
—————————————–
“ارے حسن آپ اتنی دیر سے آئے ہیں کال بھی نہیں اٹھائی بچے کب سے آپکا انتظار کر رہے ہیں . ” حسن صاحب ابھی گھر میں داخل ہی ہوئے تھے شائستہ بیگم کہتی انکی طرف بڑھی تھی
” اچھا کیوں خیریت میرا کیوں انتظار کر رہے تھے ؟؟”. انہوں نے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا جب وہ بھی انکے ساتھ بیٹھی تھی اور ہارون زارون بھی باہر آئے تھے
“ہاں بھئی جوانو کیوں یاد کر رہے تھے مجھے .” حسن صاحب کی نظر ان پہ پڑی تو ان سے ہی سوال پوچھا تھا
“بابا ہم دونوں پاس ہو گئے ہیں بس یہی بات آپکو بتانی تھی .” ہارون نے معصوم سی شکل بنا کر کہا تھا
“ارےےے واہہ یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے میرے بچو خوش کر دیا مجھے تو تم لوگوں نے … ” انہوں نے پیار سے دونوں کو اپنے ساتھ لگایا تھا
“ہاں تو بابا پھر ہمیں کہیں باہر لیکر جائیں ٹریٹ دیں نا ہمیں اور مجھے نیا فون بھئ چاہیے .” زارون نے کہا تھا جانتا تھا ابھی باپ انکو منع نہیں کریگا
“ہاں بابا مجھے بھی چاہیے پلیز…” ہارون نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھئ
“ہاں حسن دیکھیں نا بچے کتنے دنوں سے کہیں باہر نہیں گئے آج کہہ رہے ہیں تو لے چلیں ساتھ … ” شائستہ بیگم نے بھی بچوں کی ہاں میں یاں ملائی تھی
“اچھا بھئی کیوں نہیں ضرور چلیں گے تم لوگ تیار ہو جاؤ . ” وہ ایک دم مانے تھے لیکن پھر کچھ یاد آنے پہ ایکدم زارون کو پکارا تھا
“یہ تم لوگوں کا رزلٹ اتنا لیٹ کیوں آیا ہے زرنش کا تو کب کا آیا ہوا ہے ایک ہی کلاس ہے نا …” ان کے اچانک سوال پہ وہ تینوں گڑبڑائے تھے
“وہ وہ بابا .. ز زرنش کا بورڈ الگ ہے تو اسلیے اسکا جلدی آگیا تھا …” ہارون نے جلدی سے سنبھلتے جھوٹ بولا تھا تو حسن صاحب کے تاثرات ڈھیلے پڑے تھے شائستہ اور زارون کی جان میں جان آئی تھئ
“اوہہہ اچھا چلو جاؤ جلدی سے تیار ہو جاؤ پہلے ہی دیر ہو گئی ہے. “وہ کہتے ہوئے اٹھے اور کمرے میں گئے تھے جبکہ وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسے تھے
آج تو شائستہ بیگم بچوں کے جھوٹ پہ خوش ہو رہی تھی لیکن کل تک یہی بچوں کے جھوٹ انکو بہت مہنگے پڑ سکتے تھے لیکن اتنی دور کی کون سوچے؟؟؟
————————————-
“ہائے نی پینو میں کی دساں تینوں اے تے محلے دے حالات کوئی بئوں خراب ہو گئے نے توبہ توبہ شرم و حیا ساری مک گئی جے ( ہائے پینو میں کیا بتاؤں تمہیں محلے کے حالات کوئی بہت خراب ہو گئے ہیں توبہ توبہ شرم و حیا ساری ختم ہو گئی ہے ) ” دونوں طرف سے چادر کانوں میں اڑستے ایک کونہ منہ میں دبائے وہ انتہائئ مضحکہ خیز لگ رہا تھا باقی سبکی تو ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی
“نا کیا ہو گیا ایسا اب کچھ دس وی دے …” اسامہ پینو کا کردار ادا کرنے کیلیے اٹھ کھڑا ہوا تھا
“ہائے پینے کجھ نا پچھ بس (ہائے بہن کچھ نا پوچھو )” چادر کو صحیح کرتے غازیان نے کہا اسامہ کے کندھے پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا
“اے اپنی عائشہ نہیں اللہ معاف کرے اتنی کوئی خراب ہے یہ اپنی دیورانی کیساتھ نا بڑا ظلم کرتی ہے اس پر زرا شرم نہیں آتی اسکو …. “غازیان کے منہ کے الفاظ سن کر باقی سبکا قہقہہ گونجا تھا
“نا کر ہن کی کتا اس مومنہ نال .( نا کر اب اسنے کیا کیا مومنہ کیساتھ ) ” اسامہ نے بھی ہاتھ نچا نچا کر کہا تھا باقی سب زور زور سے ہنس رہے تھے
“ارےے اتنا چیختی ہے بچاری پہ اور جاوید سے الگ بے عزت کراتی ہے اسکو .. بڑا ظلم ہوتا ہے اسپر …” غازیان نے کئی سال پرانی بات چھیڑی تھئ جب شینو نے محلے میں مشہور کیا تھا کہ عائشہ بیگم مومنہ بیگم کیساتھ صحیح نہیں ہے
“غازیان.. !!!”زور دار آواز گونجی تھی لاؤنج میں خاموشی چھائی تھی لیکن غازیان صاحب زیادہ ہی کردار میں چلے گئے تھے
“کی غازیان .. ہائے بڑی کوئی پھاپھے کٹنی ہے یہ عائشہ … ” اس سے پہلے کہ غازی کی بات پوری ہوتی اڑتی ہوئی جوتی نے آکر غازی کے سر پہ سلامی دی تھئ تو اسے ہوش آیا تھا
“اسامہ یہ جوتی تو اماں کی جوتی سے ملتی جلتی یے “. اسکی دروازے کی طرف کمر تھی اسلیے وہ عائشہ بیگم کو دیکھ نہیں سکا تھا جو انکا شور سن کر کمرے سے باہر آئی تھی اسنے ڈرتے ڈرتے اسامہ سے پوچھا تھا جو خود ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں لال ہو رہا تھا اسنے غازیان کے خدشے کو یقین میں بدلا تھا
“ا اماں میں تو بس … ” وہ ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑا تھا
“لکھ دی لعنت وے تیرے تے غازی شرم حیا واقعی بیچ کھائی ہے تم نے .. میں بڑا خوش ہوئی تھی کہ اللہ نے پتر دیا ہے لیکن یہ کمینہ ادھر لڑکی بن کے گھوم رہا ہے .. ” عائشہ بیگم کے الفاظ پہ باقی سب کا ہنسی کا فوارا چھوٹا تھا جبکہ غازی اپنا سا منہ لیکر رہ گیا تھا حرا کی بھی ہنستے ہنستے غازئ پی نظر پڑی تو وہ چپ چاپ کھڑا تھا تو اسے بھی برا لگا
“نہیں اماں وہ تو اسامہ کے کہنے پہ انہوں نے ایسا کیا تھا” حرا نے سائیڈ لینی چاہی تھئ
“چپ.کرو تم دونوں اور جاؤ جا کر سوجاؤ یہ تم.لوگ پڑھ رہے ہو ملتی ہوں میں تم سبکی ماؤں سے صبح .. “انہوں نے سبکو ڈانٹ کر اپنے اپنے گھر بھیجا تھا جبکہ غازی اور حرا نے بھی وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی.تھی
——————————————-
وہ سب تو شاید سو چکے تھے لیکن ارقم کو لائبہ کو رات کے دو بج گئے تھے لیکن وہ بچارے ابھی تک اسائنمنٹ بنانے کے چکر میں لگے ہوئے تھے
لائبہ کے موبائل پہ بیل بجی تھی وہ جو لیپٹاپ کھولے اب حرا کی اسائنمنٹ بنا رہی تھی غصے سے موبائل کو دیکھا تھا یہ کوئی ارقم کی بارہویں کال تھی
“ارقم اب کیا مسئلہ ہے تمہیں …. نا خود کام کر رہے ہو نا مجھے کرنے دے رہے ہو ..” اسنے فون اٹھاتے ہی خوب سنائی.تھئ
“لائبہ یار نیند آرہی ہے نا بس اسامہ کی آدھی رہ گئی ہے تم تھوڑا فریش کرو نا مجھے تاکہ میں اسکا کام بھی کر کے سوؤں . ” ارقم نے منت سے کہا تھا جبکہ لائبہ نے حیرت سے فون کو دیکھا تھا
“ہاں میں تو ادھر بلیک کافی ہوں نا جسکو تم پیو گے تو تمہاری نیند اڑ جائے گی “. لائبہ نے تیزی سے کہا تھا لیکن دوسرئ طرف ارقم کا قہقہہ سن.کر اسے سمجھ میں آیا تھا کہ وہ کیا بول گئی ہے
“ویسے بن جاؤ نا میری بلیک کافی اگر تم کہو تو کل ہی امی کو تمہاری طرف بھیجتا ہوں “. ارقم پٹری سے اترا تھا
“ارقم دفع ہو جاؤ ۔۔۔۔ تم سے بات کرنا ہی فضول ہے بد تمیز انسان “. لائبہ نے غصے سے کہتے ہوئے فون رکھ دیا تھا دل اتنے زور سے دھڑک رہا تھا اسکی بات سن کر ….
ارقم نے بھی قہقہہ لگا کر فون کو دیکھا تھا جیسے وہ لائبہ کی حالت سمجھ رہا ہو
“چل بچے کام کر فلحال .. “خود سے کہتے ہوئے وہ دوبارہ لیپٹاپ کی طرف متوجہ ہوا تھا
“حد ہے اب ساری توجہ اڑا دی ہے اس بدتمیز نے میری … “جبکہ دوسری طرف لائبہ.کا دھیان اب کام سے اٹھ گیا تھا
——————————————–
“ہاں تھینک یو سو مچ یار . مجھے اس جاب کی بہت ضرورت تھی ” غازیان صبح صبح فون ہر بات کر رہا تھا یہ اس کے محلے میں ہی ایک.لڑکا رہتا تھا اسلم جس کی اپنی اکیڈمی تھی تو غازیان نے اس سے بات کی تھی کہ وہ آٹھویں تک کے بچوں کو پڑھا سکتا ہے . وہ یونی سے ادھر ہی آجایا کریگا
“ہاں ٹھیک ہے میں آج سے ہی آجایا کروں گا اللہ حافظ “
انکا فون.بند کر کے اسنے ان دونوں کو گروپ کال ملائی تھی
“ہاں اسامہ ارقم یار مل گئی مجھے جاب .” اب وہ ان دونوں کو خوشی خوشی بتارہا تھا
“ارے واہ تو ہی میں کہوں کہ.کیوں سرکار صبح صبح فون کر رہے ہیں تو یہ بات تھی اچھا یہ بتا حرا کو بتایا …. اور اسلم سے ملنا کب ہے ؟؟؟”. اسامہ نے آخر میں اس سے سوال پوچھا تھا اور تب ہی حرا بھی کمرے میں آئی تھی لیکن غازی کی اسکی طرف پشت تھی
“ارے نہیں ابھی حرا کو نہیں بتایا میں بتانا بھی نہیں چاہتا ایک دفعہ ساری بات کنفرم ہو جائے تو اسکو بھی بتا دوں گا اور… آج شام ملوں گانا” . غازیان کی اس بات نے ایک دفعہ پھر سے حرا کے دماغ میں منفی سوچیں پیدا کی تھیں
“بات سن میری اسکو بتا دے ایسا نا ہو اسکو کوئی اعتراض ہو بعد میں تجھے چھتر مارے آخر جاب تو تو اسی کیلیے کر رہا ہے نا … “ارقم نے بھی اسے چھیڑا تھا
“ارے اسکو کیوں اعتراض ہو گا بیوی ہے وہ .. اور ویسے بھی یہ تو میرا حق ہے نا …. ضروری ہے اس سے پوچھوں …؟؟؟” غازی نے بھی مکمل شرارت سے کہا تھا لیکن پیچھے کھڑے وجود کی آنکھیں دھندلائی تھئ منفی سوچنے میں تو وہ ویسے بھی ماہر تھی اور ابھئ غازی کی باتیں بھی ایسی تھیں وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی تھی
“اسکا مطلب غازی واقعی کسی سے شادی کرنے والا ہے واقعی اسے عائشہ خالہ نے شادی کیلیے زبردستی کی تھی…” اور یہ جی حرا صاحبہ کی منفی سوچیں ان پہ حاوی ہوئی تھیں
——————————————
اسائنمنٹس وغیرہ انہوں نے دے دی تھی ایک بات جو آجکل یونی میں عجیب ہو رہی تھی وہ احد کی نیلم کیساتھ بے تکلفی .نیلم بھی اس سے بس تھوڑی بہت بات کر لیتی تھی لیکن اسامہ کو یہ بات زہر لگ رہی تھی دن اچھا ہی گزرا تھا ڈھیروں کام اور بھی دیا گیا تھا وہ لوگ دو بجے ہی گھر واپس آگئے تھے
—————————————- ——
“حرا میرے کپڑے استری کر دینا مجھے شام میں کہیں جانا ہے ” . غازیان نے حرا کو پکارا تھا جو کمرے سے باہر جا رہی تھی صبح سے ہی وہ حرا کا چہرہ اترا اترا محسوس کر رہا تھا لیکن پوچھا نہیں تھا کیونکہ وہ بات کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھئ
“اچھا . ” محض ایک لفظی جواب دیکر وہ الماری کی طرف مڑی تھی
“کیا ہوا ہے تمہیں . ؟؟؟” غازی بیڈ پہ ٹیک لگائے بیٹھا فون کے ساتھ لگا ہوا تھا . میسج پڑھتے ہوئے ہی اس سے سوال پوچھا
“کچھ نہیں ہوا ” منہ موڑے ہی جواب دیا تھا آنسو پتا نہیں کیوں آنکھوں سے بہنے کو تیار تھے آواز پہ قابو پانے کے باوجود بھاری ہوئی تھئ اور ابکی بار غازی چونکا تھا
“حرا تم رو رہی ہو .؟؟” وہ یکدم فون چھوڑ کر بیڈ سے اٹھا تھا اور اسکئ طرف آیا تھا جبکہ حرا نے جلدی سے آنسو صاف کر کے سر اور الماری کے اندر گھسایا تھا
“نہیں رو رہی میں…..” ابھی وہ بات پوری کرتی کہ غازی نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا آنکھوں میں لالی تھی صاف پتا چل رہا تھا اسنے بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے ہیں غازی نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“کیوں رو رہی ہو سب ٹھیک ہے کیا ہوا اچانک . ؟؟” اسنے فکر مندی سے پوچھا تھا
“(کیسا دوغلہ انسان ہے کیسے فکر کر رہا ہے جیسے پتا نہیں کتنی محبت ہے مجھ سے لیکن جو اس چڑیل سے ملنے جارہا یے اسکا کیا اسکو لگ رہا ہو گا مجھے کچھ پتا نہیں یے )”
سوچتے سوچتے پھر سے آنسو بہہ نکلے تھے جنہیں غازیان نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا اسے تو یہی سمجھ میں آیا تھا کہ شاید وہ اپنے گھر جانیکی وجہ سے رو رہی ہے
“اچھا رو مت تم تیار ہو میں تمہیں چھوڑ کے آتا ہوں خالہ کے گھر ..” غازی نے اسے آرام سے کہا تھا لیکن حرا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“ن نہیں جاؤں گی میں وہاں کیوں جاؤں.. ” روتے ہوئے وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پائی تھی
“(اب یہ مجھے یہاں رہنے بھی نہیں دیگا)”
“کیا ہو گیا یے حرا کیسے بچوں کی طرح رو رہی ہو چپ کرو بلکل چپ .” اب غازیان چڑا تھا وہ بھی تو فضول میں رو رہی تھی غازیان نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا حرا کو اور شدت سے رونا آیا تھا
“ت تم نے خود کہ کہا تھا ک کہ وہاں نہ نہیں جانا …” حرا نے جیسے اسے اسی کی بات یاد دلائی تھئ اسکی شرٹ پکڑے اسے ڈر تھا کہ وہ غازی کو کھو نا دے وہ نہیں پوچھنا چاہ رہی تھی غازی سے کہ صبح وہ کس سے بات کر رہا تھا کیونکہ غازی کے منہ سے یہ بات سن کر شاید وہ برداشت نا کر پاتی (یہ حرا میڈم کی سوچ تھی)
“اچھا تو اب میں ہی کہہ رہا ہوں نا چلو تیار ہو چلتے ہیں میں تمہیں واپس چھوڑ کر جاؤں گا گھر جہاں مجھے جانا ورنہ دیر ہو جائے گی ..” اسے خود سے الگ کر کے حرا کے ماتھے پہ بوسہ دیا تھا اور پھر نرمی سے کہا تھا تو اسنے بھی اثبات میں سر ہلایا
فلحال یہی بات اسکے لیے بہت تھی کی غازی اسکو واپس لیکر آئیگا … وہ بھی اسکے پاس سے ہٹتی کپڑے لیکر باتھروم میں گھس گئی تھی . جبکہ غازی کو شرمندگی ہوئی تھی کہ وہ کیوں حرا کو آسیہ خالہ کے گھر جانے سے منع کرتا تھا لیکن اگر وہ حرا کے آنسو کی وجہ جان جاتا تو سچ میں غش کھا کر گر جاتا ..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد غازیان حرا کو آسیہ بیگم کی طرف لے آیا تھا اور ابھی انہیں بیٹھے دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ غازیان اٹھ کھڑا ہوا تھا
“اچھا اب مجھے اجازت دیں میں نے کسی کام سے ضروری جانا ہے ۔۔ حرا کچھ دیر یہی ہے ” غازیان نے غزالہ بیگم اور آسیہ بیگم سے کہا تھا
“ارے بیٹا کچھ دیر اور رک جاتے ” آسیہ بیگم نے کہا
“ارے نہیں امی مجھے کچھ کام ہے میں آتا ہوں گھنٹے دو تک ۔۔۔ تب تک آپ لوگ میری امانت سنبھالیں ” غازیان نے شرارت سے حرا کی طرف دیکھ کے کہا تھا جس پر سب مسکرائے تھے لیکن حرا حیران تھی
“(کیسا انسان ہے یہ۔۔۔۔ ایک طرف میری امی کو امی کہ رہا میرے ساتھ پیار سے بات کر رہا اور دوسری طرف کسی اور لڑکی سے بھی ملنے جا رہا ۔۔۔۔ اللہ میرے ساتھ ہی کیوں ایسا ہوتا ہے)۔۔۔۔ ” حرا سوچتی ہی رہ گئی اور غازیان سب کو خداحافظ کہتا ہوا اپنے کام پہ نکل گیا تھا جبکہ حرا کا مستقل دیہان غازیان کی طرف تھا نجانے وہ کیسے اتناااا گہرائی میں سوچ لیتی تھی
(“کہیں یہ نیلم سے تو ملنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا )۔۔۔۔۔ ” حرا ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ زرنش اور مناہل بھاگتی ہوئی آئی تھیں اس کے پاس اور اس سے لپٹ گئی تھیں اور شکر حرا کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا ورنہ وہ کچھ بھی سوچ سکتی تھیں
“آپیییییییی!!!!!! آپ کب آئی۔۔۔۔ میں ناراض ہوں آپ سے اچھا۔۔۔۔ آپ تو بھول ہی گئی ہمیں ” زرنش نے منہ بسورتے ہوئے حرا سے کہا تھا جس پہ حرا اپنی ساری سوچوں کو جھٹک زرنش کی باتوں پہ مسکرا رہی تھی
“ارے میری جان اب آ گئی ہوں نا ملنے۔۔۔۔۔۔ کیسی ہے میری گڑیا ” حرا نے زرنش کی ناک کو دباتے ہوئے پیار سے کہا تھا
“میں ٹھیک ہوں آپی آپ بتائیں نا کیسی ہیں۔۔۔ آپ ہم سے ملنے بھی نہیں آتی تھی کیوں ؟؟؟” زرنش نے سوال کیا تو حرا سنجیدہ ہوئی تھی کہ اب اسے کیا کہے کہ اپنے ہی باپ نے گھر سے نکالا تھا تو کیسے آتی
“ارے آپی کو تنگ تو مت کرو بھئی ۔۔۔ اب آ گئی ہیں نا تو بس دل کھول کر گپیں لگائیں گے ہم ۔۔۔ ” مناہل نے زرنش سے کہا تھا
“آپی ایسا کرتے ہیں نیلم آپی اور لائبہ آپی کو بھی بلا لیتے ہیں کافی عرصے سے وہ بھی نہیں آئی نا ۔۔۔۔میں بلا کر لاتی ہوں ” زرنش اسے کہتی ہوئی بھاگ کر باہر چلی گئی تھی
جبکہ حرا اب مناہل سے باتیں کرنے لگی تھی اتنے میں ایمن بھی آ گئی تھی۔
ابھی سارے لاؤنج میں بیٹھے باتیں ہی کر رہی تھیں کہ زرنش نیلم اور لائبہ کے ہمراہ گھر میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔ حرا تو نیلم کو لائبہ کیساتھ دیکھ کر چونکی تھی
“اگر نیلم لائبہ یہاں ہیں تو غازیان پھر کسے ملنے گیا ہے ؟؟؟؟؟؟ کہیں کوئی یونی کی لڑکی ؟؟؟؟ غازیان کہیں اسماء سے تو ؟؟؟؟” حرا کو ایک دم کچھ دن پہلے والا واقع یاد آیا تھا جب غازیان کی یونی میں ٹکر ہوئی تھی ایک لڑکی سے اور غازیان کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا جبکہ حرا دور کھڑی اس منظر کو دیکھ رہی تھی
“ارے کہاں کھو گئی ؟؟” لائبہ نے حرا کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ حال میں واپس آئی تھی
“کک کچھ نہیں ” حرا گڑبڑا کر بولی
“جاؤ بچوں اندر کمرے میں جا کر شگل لگاؤ “غزالہ بیگم نے ان سب کو اندر بھیجا تھا کیونکہ ان کی نظر باہر گیٹ کی طرف پڑی تھی جہاں حسن صاحب کی گاڑی آ کھڑی ہوئی تھی اس سے پہلے کہ وہ اندر آتے اور حرا کو کچھ کہتے غزالہ بیگم نے ان سب کو اندر کمرے میں بھیج دیا تھا تا کہ حسن صاحب انہیں نا دیکھ پائیں
“السلام علیکم امی جان !!” حسن صاحب نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا
“وعلیکم السلام جیتے رہو ۔۔۔ بڑے خوش نظر آ رہے ہو خیریت تو ہے اور یہ کیا ” غزالہ بیگم بیٹے سے بات کرتی ان کی نظر حسن صاحب کے ہاتھ میں پکڑے شاپر پر گئی
“امی یہ مٹھائی میں آپ لوگوں کے لیے لایا ہوں ۔۔۔” حسن صاحب نے شاپر سے مٹھائی نکالی اور غزالہ بیگم کے سامنے کی تھی
“ارے یہ مٹھائی کس خوشی میں “آسیہ بیگم بھی کچن سے باہر آئی تو حسن صاحب کے ہاتھ میں مٹھائی دیکھ کر چونکی
“میرے ہارون زارون پاس ہو گئے ہیں اچھے گریڈز سے ” وہ چہکتے ہوئے بولے تھے جبکہ غزالہ بیگم کی آنکھوں کے سامنے اس دن والا واقع لہرایا تھا
“اماں آپ کو خوشی نہیں ہوئی ؟؟؟ سچ کہتی ہے شائستہ آپ لوگوں کو میری خوشیاں راس نہیں۔۔۔ کبھی تو خوش ہو جایا کریں میری خوشی پہ ” غزالہ بیگم کو سنجیدہ دیکھ کر حسن نے کہا تھا
“شائستہ نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ ہارون زارون فیل ہو گئے تھے نویں میں ؟؟؟؟ ” غزالہ بیگم سے آخر صبر نا ہوا اور سچائی حسن صاحب کو بتانے کی ٹھان لی
“کیا ؟؟ یہ کیا کہ رہی ہیں آپ ؟؟ میرے بچے میرا غرور ہیں۔۔ وہ کبھی فیل نہیں ہو سکتے ” غزالہ بیگم کی بات پہ انہیں زرا یقین نا آیا تھا
“یاد ہے وہ دن جب میں نے زارون کو تھپڑ مارا تھا ؟؟؟؟ اسی دن ان دونوں کا رزلٹ تھا ۔۔۔۔ فیل تھے دونوں اور تمہیں نا بتانے کے منصوبے بن رہے تھے ” غزالہ بیگم تو گویا ان پہ ایک ایک کر کے پہاڑ توڑ رہی تھی جبکہ آسیہ بیگم کچن کے دروازے میں کھڑی حسن صاحب کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھیں
” وہ بابا زرنش کا بوڑد الگ ہے نا اس لیے اس کا رزلٹ جلدی آ گیا۔۔۔۔۔
اتنا بڑا جھوٹ۔۔۔۔ شائستہ کو بھی معلوم تھا یہ سب لیکن مجھ سے چھپایا گیا ؟؟؟؟ ” حسن صاحب نے سوچا تھا لیکن پھر انہیں غزالہ بیگم کی باتوں پہ غصہ آیا تھا۔۔۔
“ہاں تو کیا ہوا اگر وہ فیل ہوئے اب تو پاس ہو گئے ہیں نا اور مجھے کیا چاہیے۔۔۔۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی کہ میں یہاں اپنی خوشی آپ لوگوں سے باٹنے آگیا۔۔۔۔۔ اب چلتا ہوں ” حسن صاحب غصے سے کہتے ہوئے چلے گئے تھے جبکہ غزالہ بیگم اور آسیہ بیگم حیران تھی
“اس کی آنکھوں پہ ابھی تک شائستہ نے پٹی باندھی ہوئی ہے۔۔۔ سچ تو برداشت ہی نہیں ۔۔” غزالہ بیگم نے دکھ سے کہا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *