Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21

صبح حرا کی آنکھ کھلی تو خود کو غازیان کے حصار میں پایا تھا جیسے ہی اس نے نظریں اٹھائی تھیں غازیان اسی کو دیکھ رہا تھا
تھوڑی دیر کے لیے تو دونوں کی نظریں ایک دوسرے کی آنکھوں میں تک گئی تھی جبکہ غازیان نے بےخودی سی کیفیت میں حرا کے قریب ہو کر اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے حرا نے اپنی آنکھیں بند کر کے اسے محسوس کرنا چاہا تھا
“گڈمارننگ بیگم !!” غازیان اس سے تھوڑا سا فاصلے پہ ہوا جبکہ حرا کی آنکھیں مستقل بند دیکھ اسے مسکراتے ہوئے کہا تو حرا نے فوراً آنکھیں کھولی تھیں
“مارننگ ” حرا نے غازیان کے پاس سے اٹھتے ہوئے کہا تھا تو غازیان نے بھی اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا
حرا فوراً بیڈ سے اتری تھی نظریں ہنوظ جھکی ہوئی تھی ۔۔ غازیان کے اتنے قریب وہ پہلی بار ہوئی تھی اسے جھجھک محسوس ہوئی تو فوراً باتھ میں جانا مناسب لگا تھا اسے ۔۔۔ ابھی وہ بیڈ سے اٹھی ہی تھی کہ غازیان نے اسے پکارا
“سنو “
“ہاں ؟؟” حرا نے مڑے بغیر ہی اسے جواب دیا تھا
“یار تم ایک تو مجھ سے شرما رہی ہو حلانکہ تمہیں سوری ہونا چاہیے کیونکہ میرا بازو دکھ رہا ہے مجال ہے جو پوری رات تم نے اس سے اپنا سر اٹھایا ہو ۔۔۔۔۔” غازیان نے اسے شرارت سے کہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر حرا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں
حرا کچھ نہیں بولی تھی شرم حد سے سوا تھی اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتی وہ وہاں ہی کھڑی رہی حرا کو مسلسل وہی کھڑا دیکھ اس کا دل کیا کہ وہ اسے مزید تنگ کرے
“ویسے ایک بات ہے ..” غازیان اب سنجیدہ ہوا تھا اور بیڈ سے اتر کر اب اس کے پاس آ کر کھڑا ہوا تھا اور اس کے دونوں کندھوں پہ ہاتھ رکھ کے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا
“جج جی ؟؟ ” حرا ہکلاتے ہوئے بولی تو غازیان نے اپنی ہنسی مشکل سے رکی تھی۔۔۔ یہ پہلی بار تھا جب حرا کسی بات پہ گھبرائی ہو یا ایسے ہکلائی تھی مگر ہائے یہ محبت کیا کیا کروا بیٹھتی ہے
“تم نے مجھے ہسپتال میں ایک بات کہی تھی “
“کک کیا بات ؟؟” حرا نے خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا تھا
“یہی کہ تم نے سب سے اپنا حق ہی تو مانگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے تو نہیں مانگا تم نے ؟؟؟” غازیان ناراضگی سے بولا تھا اور حرا کے چہرے کے زاویے دیکھے تھے جہاں حرا کو پہلے تو اس کی بات سمجھ نا آئی تھی لیکن جب اس کی بات کا مطلب اسے سمجھ آیا تھا اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو چکا تھا۔۔ حرا کا سر مزید جھک گیا
“بولو نا ” حرا کو مسلسل چپ دیکھ اس نے پھر پوچھا
” وہ وہ ۔۔۔ ہمیں دیر ہو رہی ہے یونی کے لیے ” حرا کو سمجھ نا آئی کہ کیا بولے تو یہی کہ ڈالا
“یہ میرے سوال کا جواب تو نہیں ہے ؟”
غازیان کی بات سن کر حرا نے اس کے دونوں ہاتھ جھٹکے تھے اور بھاگ کر باتھ میں بند ہو گئی تھی جبکہ غازیان اپنی حرکت پہ حیران ضرور ہوا تھا
“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے ؟؟؟ میں کیوں اس کی طرف مائل ہو رہا ہوں ؟؟ کہیں میں حرا سے ؟؟ ” غازیان سوچتے ہوئے مسکرا دیا تھا
“ہممم تو حرا غازیان ۔۔۔ اب آپ کی خیر نہیں ” غازیان اپنی بات پہ خودی ہنس دیا تھا جب کہ حرا باتھ میں بند زور زور سے سانس لیے اپنے حواسوں کو نارمل کر رہی تھی
“کیوں میں نے غازیان کو جواب نہیں دیا۔۔۔ وہ ایسی بات کر بھی کیسے سکتا ہے میرے ساتھ ؟؟ اسے شرم آنی چاہیے۔۔ لیکن میں اب کیوں یہ سوچ رہی ہوں۔۔۔ اس ٹائم کیوں نہیں بولی میں۔۔۔ میرا دل ۔۔ میرا دل کیوں دھڑکا تھا زور زور سے ؟؟ کہیں میں ؟؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ وہ تو ۔۔ وہ تو نیلم کو۔۔۔۔ اس کی نیلم کے ساتھ بہت بنتی ہے اگر وہ نیلم کو پسند کرتا ہوا پھر؟؟؟ لیکن نیلم تو اسامہ کو پسند کرتی ہے تو پھر ؟؟؟ نہیں میں ایسا نہیں ہونے دے سکتی۔۔۔ غازی صرف میرا ہے۔۔۔۔ میں نے ساری زندگی کومپرومائز کیا ہے۔۔ لیکن اب نہیں ” حرا روتے ہوئے سوچنے لگی تھی کہ غازیان کی آواز آئی
“حرا یاراب نکل بھی آؤ مجھے بھی تیار ہونا ہے ” غازیان کی آواز سن کر اس نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے تھے اور منہ ہاتھ دھونے لگی تھی
“کتنی اپنایت محسوس ہوتی ہے اس کی باتوں سے ۔۔۔۔ کہیں یہ بھی مجھ سے پیار ؟ نہیں ہمدردی بھی ہو سکتی ہو “
حرا نا جانے کیا کیا سوچ بیٹھی تھی بدگمانی نے اس کے وجود میں اپنے پننے گاڑھنے چاہے تھے اب یہ بدگمانی صرف غازیان ہی دور کر سکتا تھا۔۔۔
“ہاں مجھے اس سے بات کرنا ہو گی۔۔۔” حرا نے سوچا تھا پھر کپڑے بدل کر وہ باہر آئی تھی جہاں غازیان بیڈ پہ بیٹھے اسی کا انتظار کر رہا تھا اسے باہر آتا دیکھ فوراً اٹھا تھا
“کیا یار۔۔۔ اتنی دیر لگاتی ہو تم۔۔۔ آج بھی لیٹ ہوئے نا یونی سے تو پھر سوچ لو ہمارے گھر والے کیا سوچیں گے۔۔۔” غازیان شرارت سے کہتے ہوئے باتھ میں گھس گیا تھا جبکہ حرا کو اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی تو وہ ڈریسینگ کے سامنے کھڑی تیار ہونا شروع ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی ” منان نے مشال بیگم کے پاس کچن میں آتے ہوئے کہا تھا جہاں مشال بیگم چائے بنا رہی تھیں
“جی کیا بات ہے؟؟ کچھ چاہیے ؟؟؟ ” مشال بیگم نے پوچھا تھا
“نہیں امی کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ” منان کو سمجھ نا آئی کہ بات کیسے شروع کرے
“کیا بات ہے بچے ؟؟ کچھ پریشان لگ رہے ہو “
“جی امی وہ۔۔۔۔ میں شادی کرنا چاہتا ہوں ” منان نے تیزی سے اتنا کہ کر مشال بیگم کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ جیسے ان کے تاثرات دیکھنا چاہتا ہو
“اچھا ؟؟؟؟ کس سے ؟؟” وہ اپنے بیٹے کو اتاؤلا ہوتا دیکھ مسکرائی تھی
“امی۔۔۔۔ ایمن سے ” منان نے سر جھکا لیا تھا کہ اگر مشال بیگم کو اس کی پسند کی ہوئی لڑکی پسند نا آئی تو ؟؟؟؟
“ہممممممم۔۔۔۔ سوچتے ہیں۔۔۔۔ ایمن اچھی لڑکی ہے ۔۔۔ لیکن بیٹا میں کیسے جا کر رشتہ مانگ لوں ان سے ؟؟ کیا کہوں گی کہ میرا بیٹا ابھی پڑھ رہا ہے لیکن شادی کے لیے بہت اتاؤلا ہے تو اس کے لیے ایمن کا رشتہ لینے آئیں ہیں ہم ؟؟؟ پہلے اپنی پڑھائی تو ختم کرو پھر جاب کرو پھر سوچیں گے اس بارے میں ” مشال بیگم نے کھڑی کھڑی سنا دی تھی بچارے کو
“ارے میری پیاری امی جان …. آپ بس رشتہ لے کے جانے کی تیاری کریں بس۔۔۔ اور جہاں تک جاب کی بات ہے ۔۔۔۔ میں نے ایک دو جگہ پہ اپلائے کیا ہوا ہے انشاءاللہ مجھے جاب مل جائے گی کچھ دنوں میں ” منان نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اپنی اماں کی طرف دیکھا تھا جبکہ مشال بیگم اس کی بات سن کر حیران ہوئی تھی اور پھر اس کے کان کھینچے تھے
“بے شرم ۔۔۔ شادی کی اتنی جلدی ہے کہ ابھی سے جاب کے لیے اپلائے بھی کر دیا۔۔۔ اور ہمیں بتایا بھی نہیں ہاں …. “
“اچھا نا امی۔۔ کان تو چھوڑے نا ۔۔۔۔۔ ” وہ درد سے بولا تھا کہ نیلم کچن میں آئی تھی
“ارے امی۔۔۔ یہ بھائی کا کان کیوں پکڑا ہوا ہے ؟؟؟”نیلم منان کی حالت پہ ہنسی تھی اور اس کی وجہ جاننی چاہی تھی جبکہ منان نے ماں کو دیکھ گردن نفی میں ہلائی تھی جیسے کہ رہا ہو
“اسے تو بلکل بھی مت بتانا “
“کچھ نہیں ایسے ہی۔۔۔ چلو جلدی سے ناشتہ کرو اور یونی جاؤ ورنہ دیر ہو جانی ہے ” مشال بیگم نے اس کا کان چھوڑتے ہوئے کہا تھا
منان اپنا کان رگڑتا ہوا کچن سے باہر چلا گیا تھا اور جاتے جاتے مشال بیگم کو کچھ بھی کہنے سے منع کیا تھا
“کیا ہوا امی ” منان کے کچن سے جاتے ہی اس نے مشال بیگم کے پاس آتے ہوئے کہا تھا
“کچھ نہیں بعد میں بتاؤں گی ابھی تو جاؤ نا ناشتہ کرو۔۔۔۔۔ کل بھی بھوکی چلی گئی تھی تم۔۔۔ ناشتہ کر کے جایا کرو ” مشال بیگم اسے ہدایت دیتی ہوئی چائے لیے ڈائنیگ کی طرف آئی تھیں جہاں منان اور حامد صاحب ناشتہ کر رہے تھے تو مشال بیگم اور نیلم دونوں بھی ان کے پاس بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منان گاڑی ابھی سٹارٹ کر ہی رہا تھا کہ اسے ایمن اپنے گھر سے نکلتے ہوئی نظر آئی تھی ۔۔ اسے دیکھ وہ فوراً گاڑی لیے اس تک پہنچا تھا
ایمن تو گھبرا ہی گئی تھی اس تیز افتاد پہ لیکن جب نظر گھمائی تو منان صاحب گاڑی میں بیٹھے تھے اور فرٹ شیشہ اتار کر اسے پکار رہے تھے
“السلام علیکم ایمن !!!! آئیں بیٹھیں میں ڈرآپ کر دیتا ہوں ” منان نے سعدت مندی سے کہا تھا
“جی نہیں شکریہ میں چلی جاؤں گی خود ہی ” ایمن اسے سنجیدگی سے کہتے ہوئے چل پڑی تھی جبکہ منان حیران تھا اور گاڑی سے اتر کر اب اس کے پیچھے آیا تھا
“رکیں ایمن !!! مجھے آپ سے بات کرنی ہے “
“لیکن مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے ” ایمن نے آج تک کسی بھی لڑکے سے کوئی بات نا کی تھی اس لیے وہ کچھ گھبرائی تھی
“آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟؟” منان نے ایمن سے سوال کیا تھا وہ دونوں مسلسل پیڈل چل رہے تھے جبکہ ایمن نے اب اس کی بات کا کوئی جواب نا دیا تھا
“میں آپ کے گھر رشتہ بھیج رہا ہوں ۔۔۔۔ جلد میرے گھر والے آئیں گے آپ کے پاس ” ایمن کو روکنے کے لیے منان نے یہ کہا تھا اور ایمن ایک دم رک بھی گئی تھی
“کک کیا کہا ؟؟؟” ایمن حیران سی ہو کر اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
منان اس کو رکتا دیکھا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا
“جی میں بلکل سچ کہ رہا ہوں ۔۔۔ دیکھیں کیا میں مسکرا رہا ہوں نہیں نا ؟؟؟ ” منان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا تھا
“مت بھیجیے گا کسی کو بھی۔۔۔۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ پہلے ہی بہت مسئلے ہیں میری زندگی میں اب اور نہیں ” ایمن کہتے ہوئے پھر چل پڑی تھی جبکہ منان نے اب اس کے سامنے اپنا بازو رکھا تھا گویا اس کے جانے کا راستہ بند کیا ہو
“کیوں ؟؟؟ کیا آپ مجھے وجہ بتائیں گی ؟؟؟ “
“آپ ہوتے کون ہیں جسے میں اپنی پرسنل باتیں شیئر کروں ؟؟؟ ” ایمن غصے سے بولی تھی
“آپ کا ہونے والا شوہر ” منان چہرے پہ معصومیت لاتے ہوئے بولا تھا
“انسان کو زیادہ خوش فہمیاں نہیں پالنی چاہیے منان صاحب میں آپکو کلیئر کر چکی ہوں کہ مجھے نہیں کرنی شادی۔۔۔۔۔ اب ہٹیے آگے سے مجھے دیر ہو رہی ہے ” ایمن اسے سناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ منان سنجیدہ ہو کر اب اپنی گاڑی کی طرف آیا تھا اور گاڑی ریورس کرکے اپنے گھر کے سامنے آیا ہی تھا کہ اسے سامنے حرا اور غازیان گھر سے نکلتے ہوئے دکھائی دیے تھے
“کیا مجھے حرا سے بات کرنی چاہیے ؟؟؟ کیا پتہ اسے ایمن کی پریشانی کا پتہ ہو ؟؟؟۔۔۔ ” منان سوچ میں تھا کہ اب نیلم لائبہ بھی گھر سے نکل آئی تھی سب گاڑی میں بیٹھے تو منان نے گاڑی چلا دی لیکن سارے راستے وہ اسی بارے میں سوچ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار یہ ارقم اسامہ ابھی تک نہیں آئے ۔۔ کلاس بھی سٹارٹ ہونے والی ہے ” لائبہ فکر مندی سے بولی تھی وہ لوگ اپنی کلاس کے سامنے بنی سیڑھیوں پہ بیٹھے ان دونوں کا کب سے انتظار کر رہے تھے کہ ایک لڑکا ان کے پاس آیا تھا
“اوہ ہائے !!! کیسی ہیں آپ ؟؟” اس لڑکے نے چہکتے ہوئے نیلم سے کہا تھا جبکہ ان سب کا حیرت سے منہ کھلا تھا کہ اب یہ نمونہ کون ہے ؟؟؟
“جی آپ کون ؟؟ میں نے پہچانا نہیں ؟؟” نیلم نے حیرت سے کہا
“ارے میں وہی ہوں جس سے آپ کا اس دن ٹکرآؤ ہوا تھا کیفے کے باہر ” اس نے یاد دلایا
“جی اچھا ۔۔۔” اب نیلم اور کیا کہتی تو بس یہی کہ دیا
“میرا نام احد ہے اور آپ کا ؟؟” احد نے نیلم کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا جیسے دیکھ سب چونکے تھے
“اور میرا نام غازیان ہے۔۔۔ میں اس کا بھائی ہوں ” غازیان نے اس کا ہاتھ تھاما تھا جو اس نے نیلم کے آگے کیا تھا۔۔۔
جبکہ نیلم کے بھائی کا سن کر احد ایک پل شرمندہ ہوا تھا لیکن پھر صحیح ہو گیا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو
“اوہ اچھا اچھا۔۔” احد نے کہا
“ہماری کلاس سٹارٹ ہو گئی ہیں میں چلنا چاہیے۔۔۔۔ چلو تم سب ” غازیان رعب دار آواز میں بولا تھا اور پھر وہ چاروں اپنی کلاس میں چلے گئے تھے
“ارے واہ ہمارے بھائی !!!” لائبہ غازیان سے امپریس ہوتے ہوئے شرارت سے بولی تھی
“ویسے غازیان بھائی۔۔۔ اسے ایک لگا ہی دیتے ۔۔ فضول انسان ایویں اووور ہو رہا تھا ” نیلم بھی اب بولی تھی جبکہ حرا اس سب کاروائی کو بہت غور سے سن رہی تھی
“غازیان نے خود کو نیلم کا بھائی کہا اور اب بھی نیلم نے اسے بھائی کہا لیکن غازیان آگے سے صرف مسکریا تھا مطلب میں جو سوچ رہی تھی سب فضول تھا۔۔۔ اللہ تیرا شکر۔۔۔ ” حرا مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی لیکن آخر الفاظ اس نے اونچے ادا کیے تھے جس پہ سب چونکہ تھے
“اللہ خیر ۔۔۔کس بات کا شکر ادا ہو رہا ہے ؟؟” نیلم نے شرارت سے کہا تھا
“وہ وہ نا۔۔۔” حرا ایک دم سٹپٹائی تھی کہ اب کیا بولے
“میں شکر اس لیے کر رہی تھی کہ ارقم اسامہ ابھی تک نہیں آئے اگر غازیان احد کو لگا دیتا تو کیا پتہ خود ہی۔۔۔۔ میرا مطلب ہے ابھی تو ٹھیک ہوا ہے یہ پھر نا کہیں ……..” حرا نے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہا تھا جس سے نیلم اور لائبہ کا قہقہہ گونجا تھا اور اسی وقت کلاس میں ارقم اور اسامہ پہنچے تھے اپنی آنکھیں ملتے ملتے
“اوے۔۔۔ کیا پوری رات سوئے نہیں تم دونوں جو ایسے نیند میں آئے ہو یونی ” غازیان نے دونوں کو آنکھیں ملتا دیکھ کہا تھا
“نہیں نا یار ۔۔۔ کہاں سوئے ہم۔۔۔”اسامہ نے کہا
“کیوں کیا پوری رات کبڈی کھیل رہے تھے دونوں ؟؟؟” غازیان نے کہا تھا
“کبڈی کا تو پتہ نہیں ہاں لڈو ضرور کھیلی تھی۔۔۔۔۔ اور اور یہ دونوں بھی تو تھیں ساتھ۔۔۔۔ یار تم دونوں فریش کیسے ہو ؟؟ ہماری تو نیند نہیں پوری ہوئی ” ارقم نے نیلم لائبہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔۔ رات کو وہ چاروں گلی میں ساتھ بیٹھے لڈو کھیل رہے تھے جبکہ لائبہ نے دو برگر بھی منگوائے تھے ارقم سے کیے گئے وعدے کے مطابق
“میسنوں۔۔۔۔ ہمیں بھی بلا لیتے ” حرا نے کہا تھا
“ارے وہ نا ہمیں لگا تھا کہ آپ نیولی ویڈ کپل کو ڈسٹرب نا کیا جائے ” ارقم نے سرگوشیانہ انداز سے کہا تھا اور جا کر آخری کونے والی سیٹ پہ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ حرا نے ایک نظر غازیان کی طرف دیکھا جو کہ اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ابھی وہ کچھ کہتے کہ ایک دم کلاس میں سر داخل ہوئے تو سب بھی ارقم کے ساتھ جا بیٹھے تھے اور کلاس شروع ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر کو پڑھاتے ہوئے ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ ہی گزرہ تھا کہ کلاس میں کسی کے خراٹوں کی آواز ابھری تھیں۔۔۔ سب نے آواز سنی تھی کہ یہ خراٹوں کی آواز آ کہاں سے رہی ہے تو پتہ چلا کہ یہ ہمارے ارقم صاحب تھے جو کہ کلاس میں گہری نیند سو رہے تھے
اسامہ جس کی آنکھ لگنے ہی والی تھی ارقم کے خراٹے سن فوراً سیدھا ہو کر بیٹھا تھا اور ارقم کو ٹھونگا مارا تھا
“اوئے کمینے اٹھ۔۔۔ مروائے گا کیا ؟؟؟؟” اسامہ نے ارقم کے قریب ہوتے ہوئے کہا تھا جبکہ ارقم کسمسایا تھا
“یار کیا ہے سونے دے۔۔۔ اتنا اچھا خواب تھا تو نے بیچ میں کباب میں ہڈی لازمی بننا ہوتا ہے ؟؟؟” ارقم آنکھیں ملتا ہوا غصے سے اونچی آواز میں بولا تو کلاس میں قہقہہ سب کا گونجا تھا ۔۔ ارقم نے حیران ہوتے ہوئے نظر دورائی تو اسے اپنی کی گئی غلطی کا احساس ہوا تھا کیونکہ سر اسے کڑی نظروں سے دیکھ رہے تھے وہ یہ تو بھول ہی گیا تھا کہ وہ کلاس کے دوران سویا ہوا تھا
“بیڑا تر جائے تیرا ارقم۔۔۔۔ اب تو تو گیا ” ارقم نے دل ہی دل میں خود کو کوسا تھا اور نظریں جھکا دی تھی
“جی تو ارقم صاحب …… کیا دیکھا تھا آپ نے ؟؟ ” سر نے نرم لہجہ اپناتے ہوئے کہا تھا جسے ارقم کو سن کر کافی سکون ملا تھا کہ
“چلو سر کا موڈ اچھا ہے۔۔۔ انہیں پٹانا آسان ہو گا ” ارقم نے سوچا تھا اور پھر مسکراتے ہوئے بولا
“سر وہ نا میں نے دیکھا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“گیٹ آؤٹ فرام دی کلاس ” ارقم کی بات ابھی مکمل بھی نا ہوئی تھی کہ سر غصے سے بولے تھے
“سوری سر ” وہ چہرے پہ معصومیت لاتے ہوئے بولا تھا
“نو سوری ۔۔۔ گیٹ آؤٹ ۔۔۔۔ آپ کو کلاس میں بیٹھنے کے مینرز نہیں ہیں ؟؟؟؟ کون سوتا ہے کلاس میں وہ بھی خراٹوں کے ساتھ “
“سر اب خراٹوں کو روکا تھوڑی جا سکتا ہے۔۔” ارقم نے سرگوشی کی تھی جیسے سب نے با آسانی سنا تھا
“کیا کہا ؟؟؟؟”
“کچھ نہیں سر ۔۔۔ میں بیٹھ جاؤں اب ” وپ معصومیت سے بولا تھا جیسے اس دنیا میں اس جیسا معصوم اور کوئی نا ہو گا
“جی بلکل بیٹھیں لیکن کلاس سے باہر جا کر ” سر اسے کہتے ہوئے پھر سے پڑھانا شروع ہو گئے تھے جبکہ ارقم نے مدد طلب نظروں سے ان پاچھوں کی طرف دیکھا تھا جو کے اسے دیکھ مسکرا رہے تھے ۔۔۔ ارقم کو سخت غصہ آیا تھا ان سب کے ہنسنے پہ۔۔ جبکہ اسامہ تو دانت نکال کر ہنس رہا تھا
“بیٹا تو رک میں تجھے ابھی سیدھا کرتا ہوں رک تو …سر ” ارقم کو اسامہ کا اس پر ہنستا دیکھ تب چڑی تھی اور پھر سر کو آواز دی تھی
“آپ ابھی تک گئے نہیں کلاس سے ؟؟؟ کیوں میرا اور کلاس کا وقت ضائع کر رہے ہیں آپ ؟؟”
“سر وہ۔۔۔ میرے ساتھ یہ اسامہ بھی سو رہا تھا کلاس میں۔۔۔ دیکھیں دیکھیں زرہ اس کی آنکھیں۔۔ نیند سے بھری ہوئی ہیں ۔۔۔۔ ابھی آپ کی آواز سے اٹھا ہے یہ “. ارقم نے اسامہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
“خبیث انسان۔۔۔ مجھے کیوں پھنسا رہا ہے اپنے ساتھ ؟؟” اسامہ چڑا تھا
“ہاں تو میں اکیلا کیوں اپنی عزت کروا کر کلاس سے باہر جاؤں۔۔ آخر میری بھی کوئی عزت ہے کہ نہیں “
“ہاں بڑا تو پرنس چارمینگ “
“ارقم اسامہ آپ دونوں ابھی اور اسی وقت کلاس سے باہر جائیے۔۔۔۔ اور ہاں ائندہ اگر میری کلاس میں آنا ہوا تو اپنی یہ نیند پوری کر کے آئیے گا “
اب دانتوں کی نمائش کرنا ارقم نے اپنا فرض سمجھا تھا جسے دیکھ اسامہ کو سخت تب چڑی تھی اور وہ دونوں کلاس سے باہر آئے تھے اسامہ نے ارقم کی طرف دیکھا تو ارقم نے اسے زبان دیکھا کر اور چڑایا تھا اور پھر وہاں سے بھاگ نکل تھا جبکہ اسامہ اب اس کے پیچھے پیچھے پوری یونی میں گھوم رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر آئے تو غازیان کو یاد آیا کہ سر افضال نے انہیں آسائنمنٹ دی تھی جو کہ انہیں کل سبمٹ کروانی تھی ۔۔۔۔ گھر آتے ہی اس نے سب کو رات میں اس کی طرف آنے کا کہا تھا تاکہ سب اکٹھے بیٹھ کر آسائنمنٹ بنا سکیں
آٹھ بجے سب غازیان کے گھر لاؤنج میں جمع تھے جبکہ باقی گھر والے جلدی کھانا کھا کر اب سونے چلے گئے تھے اور باہر پوری محفل جمی تھی
توقع کے عین مطابق انہیں آسائنمنٹ کی کھک سمجھ نہیں آ رہی تھی
“یار کیا مصیبت ہے۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔۔ ” نیلم نے بےزار ہوتے ہوئے کہا تھا
دس بج چکے تھے اور ابھی تک ان سے ایک سوال بھی حل نہیں ہوا تھا
“مجھے ایک بات بتاؤ زرہ ” لائبہ نے سب سے سوال پوچھا تھا
“کیا ؟؟؟” سب یک دم بولے
“یہ بی بی اے کرنے کا آئیڈیا کس کا تھا؟؟؟ ابھی تک مجھے کسی بھی سبجیکٹ کا کھک سمجھ نہیں آیا۔۔۔ چار سال کیسے گزریں گے۔۔۔ اوپر سے یہ آسائنمنٹ بھی ” لائبہ نے کہا تھا اور پھر سب اس کی بات سے متفق ہوئے تھے کیونکہ یہ تھا تو سچ ہی ۔۔۔۔ سمجھ کیسی کو بھی نہیں آئی تھی ۔۔۔ آخر سب نے سوچا کہ کس کے کہنے پہ بی بی اے رکھا تھا تو ارقم صاحب کا نام سامنے آیا تھا
“ارے یار میری مانو تو بی بی اے کرتے ہیں۔۔ اتنا آسان ہے کہ بس۔۔۔ میں نے سنا تھا کسی سے۔۔۔ بلکل بھی پڑھنا نہیں پڑتا ۔۔ بہت آسان سی فیلڈ ہے ۔۔۔۔ یہی کرتے ہیں ” سب کے کانوں میں ارقم صاحب کے الفاظ گونجے تھے جبکہ ارقم معصوم شکل بنائے بیٹھا ان سب کو دیکھ رہا تھا
“ایسے کیوں گھور رہے وہ سارے مجھے ” ارقم گھبرا کر بولا
” آسان فیلڈ ہے۔۔۔ بلکل نہیں پڑھنا پڑتا۔۔۔۔ ارقم صاحب اب ہماری آسائنمینٹس آپ کے زمہ ہیں ۔۔۔۔ آسان ہیں نا تو اب بنائے میری بھی۔۔۔” حرا نے کہا تو باقی سب نے بھی حرا کی بات پہ اتفاق کیا تھا ۔۔۔ اور اب بچارے ارقم پہ سب کی آسائنمنٹس زمہ لگ گئی تھی
“میری اپنی بن نہیں رہی تم لوگوں کو اپنی کی پڑی ہے “
“ہاں تو آسان فیلڈ ہے نا۔۔۔ تیرے لیے تو ویسے بھی بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔۔۔۔ چل شاباش میرا بچہ۔۔۔ لگ جا کام پہ۔۔ تب تک ہم لوگ کچھ کھیل لیتے ہیں۔۔۔ کیا کہتے ہو ؟؟؟” اسامہ نے مشورہ دیا تھا جس سے سب راضی ہو گئے تھے
“کیا کھیلیں گے ؟؟؟؟” غازیان نے پوچھا تھا
“ایسا کرتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ ٹروتھ اور ڈیئر کھیلتے ہیں ” لائبہ چہکتے ہوئے بولی تھی جبکہ گیم کا نام سن کر حرا اور غازیان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا اور رات کا سارا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *