Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07

وہ چاروں اس وقت ارقم کے کمرے میں تھے۔۔ سلیم صاحب اپنی ٹانگیں لمبی کیے بیٹھے جبکہ وہ تینوں ان کے ارد گرد تھے
“ہاں تو بتاؤ۔۔۔ کیوں بلایا مجھے یوں انً فانً تم تینوں نالائقوں نے ” سلیم صاحب نے بات شروع کی
“اب آپ بھی کہو گے یہ؟؟؟” ارقم نے معصوم سا چہرا بنا کر کہا تو سب مسکرائے جبکہ سلیم صاحب نے اس کے چہرے پہ ایک چماٹ مارا
“تم ڈنگروں سے اور کیا امید لگائی جا سکتی ہے ؟؟؟” ان کی اس بات پہ تینوں چونکہ
“شہزادے ۔۔۔۔۔!!!!” غازیان غصے سے بولا
” اچھا اچھا غصہ نہیں ۔۔۔۔۔ اصل بات پہ آؤ” سلیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے
“یار ہم نے آگے پڑھنا ہے یونی جانا ہے اور کوئی ڈھنگ کی نوکری کرنی ہے ناکہ دکان پہ بیٹھ جائیں ہم ” اسامہ اتنا کہ کر چپ ہوا
“تو؟؟؟”
“تو یہ کہ اب آپ ہماری سفارش کرو ہمارے اباؤں سے اور ہمیں یونی کی پرمیشن دلواؤ
ہمیں پتہ ہے یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہو پلیز شہزادے !!!!” غازیان نے کہا
“ہمممم !! چلو میں بات کر کے دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ “
اور ابھی سلیم صاحب کچھ اور کہتے کہ غازیان کا فون بجا تو دیکھا لائبہ کا فون تھا تو کال پک کی
“ہاں کیا ہوا ۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے ” کہ کر فون بند کر دیا
جبکہ ان تینوں کی نظریں صرف غازی پہ تھیں
غازی نے جب ان کو دیکھا تو حیران ہوا
“کس کا فون تھا ؟؟؟” سلیم صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا
“وہ وہ لائبہ کا تھا ” غازی خود پہ ان کی نظریں محسوس کر کے بولا
“کیا کہ رہی تھی ؟؟؟” ارقم نے سوال کیا
“کہ رہی تھی کہ رات کو 10 بجے آجانا سب۔۔۔ میٹینگ کرنی ہے ضروری ” غازی نے بات بتائی
“اچھا بس؟؟؟؟” اسامہ نے پوچھا
“کیوں کچھ اور کہنا تھا کیا ؟؟؟” غازی گھبرا کر بولا
“نہیں ہمیں لگا کہ۔۔۔۔۔۔۔” ارقم اتنا بولا اور سب کا قہقہہ گونجا
غازی کو اب سمجھ آئی کہ یہ تینوں ایسے کیوں بول رہے
“کمینوں !!! ایسا کچھ نہیں ہے ” غازیان نے اپنی وضاحت کرنا چاہی لیکن وہ تینوں تو ہنسی ہی جا رہے تھے اور ان کو دیکھ کہ اب غازی بھی ہنس دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزالہ بیگم کو گھر سے نکالنے کے بعد حسن صاحب شائستہ بیگم کے ہمراہ زارون کے کمرے میں آئے جہاں زارون بیڈ پہ لیٹا سو رہا تھا یا سونے کا ڈرامہ کر رہا تھا یہ اندازہ کرنا مشکل تھا
ہارون اس کے پاس بیٹھا اس کے سر پہ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ حسن صاحب جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو ہارون انہیں دیکھ کے فوراً ان کے طرف بھاگا
“بابا دیکھیں نا زارون کو کیا ہو گیا۔۔ صبح تک بلکل ٹھیک تھا دادی کے مارنے کی وجہ سے دیکھیں اسے بخار ہو گیا۔۔۔ بہت مشکل سے بخار اترا ہے اس کا تب جا کر سویا یہ۔۔۔۔” ہارون باپ کہ گلے لگے اسے بتائی جا رہا تھا. لہجے میں اتنی پریشانی تھی کہ کوئی بھی یقین کرلے شائستہ بیگم تو حیران ہی ہو گئی تھیں جب کہ حسن صاحب زارون کے پاس آئے اور اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کہ دیکھا تو بخار واقعی اتر چکا تھا تو انہوں نے ایک سکون کا سانس لیا اور پھر اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کہ وہیں بیڈ پہ اس کے ساتھ بیٹھ گے
“بابا زارون ٹھیک تو ہو جائے گا نا ” ہارون نے اداس ہونیکی بھرپور ایکٹنگ کی
“ہاں میری جان !!! آپ کا بھائی بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا ” حسن صاحب نے اسے اپنی گود میں بیٹھا کر کہا
“بابا یہ ٹھیک ہو جائے نا پھر ہم کہیں گھومنے چلیں گے”
ہارون خوشی خوشی بولا تو اس سے پہلے کہ حسن صاحب کچھ کہ کر انکار کرتے شائستہ بیگم بولی
“ہاں ہاں کیوں نہیں !!! جائیں گے نا۔۔۔ ابھی آپ یہ سب باتیں چھوڑو جا کر سو جاؤ آپ بھی تھوڑی دیر
صبح سے ٹینشن میں ہے میرا بچہ” شائستہ بیگم اسے کہتے ہوئے حسن صاحب کی گود سے اٹھایا اور اسے زارون کے ساتھ بیڈ پہ لیٹا دیا اور حسن صاحب کو اشارہ کر کہ باہر چلنے کو کہا تو وہ بھی لائٹ اوف کرتے باہر آگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زارون ،، زارون اٹھ “ان دونوں کے باہر نکلتے ہی ہارون نے زارون کو آواز دی
“ہاں کیا ہوا؟؟؟ چلے گئے دونوں ؟؟” زارون اٹھتے ہوئے بولا
“یار مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں امی بابا کو ہمارا رزلٹ نا بتا دیں!!” ہارون اداس ہو کر بولا تو زارون نے اس کی اس بات پہ اپنا سر پیٹا
“یار کیا ہو گیا ہے تجھے ؟؟؟ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ اور جہاں تک امی کی بات ہے تو تو فکر نا کر امی نہیں بتائیں گی بابا کو۔۔۔۔ اور دادی بھی نہیں کہ سکتیں اب کچھ بھی بابا کو.. کیونکہ وہ تو یہاں ہیں ہی نہیں ” زارون خوشی سے اسے کہتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ ہارون بھی بے فکر ہو کر موبائل کیساتھ لگ گیا
شائستہ بیگم نے ان دونوں سے کمرے میں آکر پوچھا تھا کہ غزالہ بیگم نے زارون کو کیوں مارا تب پتہ چلا کہ یہ دونوں فیل ہو چکے ہیں تو شائستہ بیگم نے اس بات پہ کوئی دیہان نا دیا بس اتنا کہا کہ
“اچھا زارون اب چپ کر کے جا کر لیٹ جاؤ بیڈ پہ اور یہ بات کسی کو نا بتانا۔۔۔ بعد میں جس مضمون میں فیل ہوئے ہو دونوں اسے پاس کر دینا “
“لیکن امی ہم تو ایک بھی مضمون میں پاس نہیں ہوئے ” ہارون سر جھکائے بولا
“بیڑا تر جائے تم دونوں نالائقوں کا ۔۔۔۔۔ ایک میں بھی پاس نہیں ہو سکتے تھے ؟؟؟؟ خیر ابھی تو لیٹوں نا دیکھتے ہیں پھر کیا کرنا ہے “
اور پھر حسن صاحب کا فون آگیا اور اسے زارون کے جھوٹے بخار کی خبر دی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ ایمن اس کے کمرے میں داخل ہوئی
“حرا !!! دادی آج سے تمہارے کمرے میں سوئیں گی “
“کیااااااا ؟؟؟ میرے ساتھ ؟؟ میرے کمرے میں ؟؟؟ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔ میں انہیں اس گھر میں مشکل سے برداشت کر رہی ہوں بہت ہے اب اپنے کمرے میں بھی سلاؤں انہیں اپنے ساتھ۔۔۔۔ کبھی نہیں ۔۔۔!!!” حرا کو تو جیسے تپ ہی چڑ گئی تھی
“حرا ! تم جانتی تو ہو اس گھر میں صرف تین کمرے ہیں۔۔۔ ایک امی اور رزنش کا ، ایک میرا اور مناہل کا اور ایک تمہارا۔۔۔ تو اب تمہیں ہی دادی کو اپنے ساتھ سولانا ہوگا ۔۔۔ اور جگہ نہیں ہے”
“تو لائی کیوں تھی انہیں۔۔۔۔ مت لاتی نا جب پتہ ہے کہ نہیں ہے جگہ گھر میں “
“زیادہ بدتمیزی کرنے کے ضرورت نہیں ہے سمجھی!!!!! دادی یہی سوئیں گی مطلب یہی سوئیں گی۔۔۔ مجھے کوئی بحث نہیں چاہیے ” آسیہ بیگم نے بھی حرا کی بات سنی تو غصے سے اندر آ کر بولی تھیں
“امی آپ اتنی جلدی کیسے معاف کر سکتی ہیں انہیں۔۔۔۔ کیا کیا نہیں کیا انہوں نے آپ کے ساتھ۔۔۔ نکالیں نا انہیں اس گھر سے ” حرا نے یاد دلانا چاہا
“حرا جو ہو گیا سو ہو گیا۔۔۔ اب وہ ہمارے گھر میں ہیں ۔۔۔ میں انہیں اس گھر سے نکال کر کیا انہیں کی طرح بن جاؤں ؟؟؟؟ کیا فرق رہ جائے گا ان میں اور ہم میں !!!!! میں یہ نہیں کر سکتی میں نے اپنا معاملہ اللہ پہ چھوڑ دیا ہے اور انہیں معاف بھی کر دیا ہے۔۔۔ وہ بڑی ہیں ہماری ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا ہم چھوٹوں کو زیب نہیں دیتا میری جان !!!!”
آسیہ بیگم حرا کو سمجھا رہی تھی لیکن ساری آوازیں غزالہ بیگم نے بھی سنی تھیں اور ایک آنسو ان کی آنکھ سے بہ نکلا تھا۔۔۔۔ اپنی پوتی کی آواز سے انہیں دکھ ہوا تھا لیکن اپنی بہو کی بات سن کہ انہیں کہیں نا کہیں سکون ملا تھا
“جس بہو کے ساتھ انہوں نے کبھی بھی اچھا سلوک نا رکھا تھا وہ یہ سوچتی تھی ان کے بارے میں “
“آپی آپ یہاں سو جائیں ان کے ساتھ میں مناہل کے ساتھ سو جاؤں گی۔۔۔۔ امی آپ کے جتنا دل نہیں ہے میرا ۔۔۔۔۔ آپ معاف کر سکتی ہیں لیکن مجھے تھوڑا ٹائم چاہیے ہو گا ” حرا ان سے کہتی ہوئی سڑھیاں چڑ کہ چھت پہ چلی گئی جبکہ ایمن اور آسیہ بیگم نے ایک دوسرے کو دکھ سے دیکھا
“آپ فکر نا کریں !!! ٹھیک ہو جائے گی جلدی” ایمن نے آسیہ بیگم کے پاس آکر تسلی دی تھی
“انشاءاللہ ” آسیہ بیگم بس اتنا ہی کہ پائی اور ان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہ نکلے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا کو چھت پہ آئے ابھی دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کی نظر سامنے لائبہ پہ پڑی جو کہ اپنے گھر کی چھت پھلانگتے ہوئے نیلم کے گھر گئی اور اسے اوپر سے ہی آواز لگا کر اب حرا کی چھت پہ آ گئی تھی
“اوئے تو ادھر !!!” حرا نے حیران ہو کر پوچھا
“ہاں بھول گئی؟؟؟ نیلم کا مسلہ حل کرنا ہے یار!!!! سب نے ابھی اکٹھا ہونا ہے !!!”
“اووہ !! ہاں سچ ۔۔۔۔ میں بھول گئی تھی “
“کیا بات ہے حرا تم کچھ پریشان ہو ؟؟” لائبہ نے اس کا اداس چہرہ دیکھتے ہوئے بولی
“نہیں بس وہ۔۔۔۔۔” حرا ابھی کچھ کہتی کہ نیچھے سے ارقم کی آواز آئی
“ہم آ گئے” ارقم نے چہکتے ہوئے لائبہ اور حرا کو آواز دی جو کہ چھت پہ کھڑی تھی اور ارقم نیچے گلی میں تھا
“تو اس میں اتنا چہکنے کی کیا ضرورت ہے ؟؟؟ کون سا تیر مارا ہے آکر ؟؟؟”لائبہ کی یہ کہنے کی دیر تھی سب کی ہنسی چھوٹی
“اچھا چلو اب نیچھے آؤ دونوں ” نیلم جو کہ ارقم کی آواز پہ گھر سے باہر نکلی تھی اوپر دیکھ کہ لائبہ اور حرا کو نیچے آنے کا کہا تو وہ دونوں بھی سر اثبات میں ہلاتی ہوتی ہوئی نیچھے آگئی تھی جبکہ باقیوں نے چارپائی اور کرسیاں گلی میں لگائی اور سب گول دائرہ بنا کر بیٹھ گئے
“ہاں جی اب بولو کیا ضروری بات ہے ؟؟؟” غازیان نے لائبہ کی طرف دیکھ کر کہا تو لائبہ نے پھر بات شروع کی
“یار وہ نا اصل میں ں ………. !!!!!!” لائبہ نے اتنا کہ کر نیلم کی طرف دیکھا جو کہ سر جھکائے بیٹھی تھی
“کیا اصل میں ؟؟؟ میری بات سنو۔۔۔۔ زیادہ سسپینس کریئٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اچھا۔۔۔۔ جو بات ہے سیدھا سیدھا کہو اویں ۔۔۔۔۔۔” اسامہ تو شروع ہی ہو گیا تھا انہیں لگا تھا کوئی معمولی سی بات ہو گی
“اووو ہیلوووو !!! کب سے تم ہی بولے جا رہے چپ کرو گے تو کوئی کچھ کہے گا نا ….” نیلم چڑ کہ بولی اور اسامہ نے بھی آگے سے اسے منہ چڑھایا
“اچھا چلو بتاؤ اب جلدی ” غازیان انہیں اصل مدعے کی طرف لایا
“یار بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ بابا نے مجھے یونی اڈمیشن کے لیے صاف انکار کر دیا ہے !!!!” نیلم اداس ہو کر بولی
“ہمیں اس لیے بلایا ہے ؟؟؟” ارقم نے غصے سے کہا
“اوہ نہیں ۔۔۔۔ پوری بات تو سنو !!!” اب حرا نے کہا تو سب نیلم کی طرف متوجہ ہوئے
“بابا نے کہا کہ اب میں نہیں پڑھوں گی۔۔۔ بلکہ اب میری شادی کر دی جائے گی۔۔۔۔!!!!” نیلم کی اس بات سے کسی کے دل میں ایک درد بھری ٹیس اٹھی
“اور یہ کہ۔۔۔۔ کل لڑکا آرہا ہے مجھے دیکھنے۔۔۔ وہ بھی پٹھان ن” نیلم اداس ہو گئی
“تو تمہیں شادی سے نہیں بلکہ لڑکا پٹھان ہے اس سے مسئلہ ہے ؟؟؟” غازیان نے اپنا تکا لگایا
“اوففففففففففف !!!!!! مجھے شادی سے ہی انکار ہے کیونکہ مجھے پڑھنا ہے ابھی “
“اووووو تو پھر اب ؟؟؟ ہم کیا کریں ؟؟؟” ارقم نے کہا تو ان تینوں نے اپنا سر پیٹا
“کچھ نا کرو گھر جاؤ۔۔۔ تم لوگوں سے میں مدد مانگ رہی ہوں اور تم لوگ ہو کہ۔۔۔۔۔۔” نیلم غصے سے کہتی ہوئی فوراً اٹھی
“ارے ارےے !!! کہاں جا رہی ہو بیٹھو تو سہی۔۔۔۔ حل نکالتے ہیں کوئی ” نیلم کو اٹھتا دیکھ اسامہ فوراً بولا
اور پھر نیلم بیٹھ گئی۔۔۔ اور سب مسلہ کا حل سوچنے لگے
” ویسے ان صاحب کا نام کیا ہے ؟؟؟” ارقم نے کچھ سوچتے ہوئے بولا
” کیوں تم نے کیا کرنا ہے نام کا ؟؟؟”لائبہ چڑ کہ بولی
” ارے یار پھر بھی پتہ تو چلے نا ” اس نے صفائی دی اور پھر نیلم کی طرف دیکھا
” گلاب خان !!!!” نیلم کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ سارے ہنس پڑے اور نیلم بھی ہنسنا شروع ہو گئی
” فرض کرو اگر نیلم کی شادی ہو جائے اس سے تو نیلم گلاب خان ہو جائے گی ” غازیان نے شرارت سے کہا تو سب ہنس دیے جبکہ نیلم نے خون خوار نظروں سے اسے دیکھا
“غازیان !!!!!!!” نیلم غصے سے بولی
“اچھا یار بس کرو اور اس مسلے کا حل سوچو ” اسامہ نے کہا اور پھر سب سنجیدہ ہوگئے
” ایک کام کرتے ہیں !!!!” ارقم نے جوش سے کہا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئے
” ایسا کرتے ہیں کہ ۔۔۔ ان لوگوں کو گھر کا اڈریس نہیں پتہ ہو گا تو وہ کسی نا کسی سے تو پوچھیں گے نا۔۔۔۔ ہم سب اسی ٹائم گھر کے باہر ہوں گے اور غلط اڈریس بتا دیں گے انہیں ۔۔۔۔ پھر وہ گھومتے رہیں گے پورا دن اور ایڈرس نہیں ملے گا۔۔۔۔۔کیسا ؟؟؟ “
“بلکل بھی نہیں ۔۔۔ ان کے پاس نمبر ہو گا بابا کا۔۔۔ وہ فون کر کے آڈریس پوچھ لیں گے اور انہیں میرے خیال سے گھر کا پتا ہو گا . بابا کے جاننے والے ہیں……. نیکسٹ”
“ہممممم۔۔۔۔ ایسا کرتے ہیں کہ اس کو آنے دو پھر اس کی چائے میں جمال گوٹا ملا دیں گے ۔۔۔۔۔ وہ بچارہ بس باتھ روم کے چکر ہی لگاتا رہے گا ” غازیان کے پاس بھی الگ ہی آئڈیاز ہوتے تھے… سب نے گندا سا منہ بنا کر غازی کو دیکھا جیسے اسکی عقل پہ ماتم کیا ہو جبکہ اسامہ کو تو چڑ ہی چڑی تھی
“ہاں غازی میں ایسا کروں گا اسکی بچی آدھئ چائے تجھے پلا دوں گا تا کہ تیرے اندر کا کچرا بھی باہر نکلے .. ” اسامہ کی بات سن کر سب کی دبی دبی ہنسی نکلی تھی جن میں غازی بھی شامل تھا …
“امم ۔۔۔۔۔ نیکسٹ ….” نیلم نے پھر بولا تھا
“اس کو ڈرا دیتے ہیں کہ نیلم چڑیل ہے۔۔۔ اس سے شادی نا کرو ….” اسامہ نے کہا تو سب ہنس پڑے لیکن نیلم نے غصے سے اس کے بازو پہ تھپڑ مارا
“بدتمیز ” نیلم نے منہ چڑھایا
“ایک تو آئڈیا دو اوپر سے بد تمیز ” اسامہ نے نیلم کی نقل اتاری
“اسامہ بس کر دو میں رو دوں گی اب۔۔۔۔ مجھے بہت ٹینشن ہے سچی۔۔۔۔ پلیز میری ہلپ کرو نااااااا تم سب…!!!!!” نیلم کہتے ہوئے سچ میں رو دی تھی
” اچھا اچھا مزاق کر رہا تھا یار ۔۔۔۔ رو تو مت ۔۔۔۔۔ کرتے ہیں کچھ اسے آنے تو دو پہلے۔۔۔ چپ کرو۔۔۔۔” اسامہ اسے بلکل بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا جبکہ ان چاروں نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا تھا اور وہاں کوئی اور بھی تھا جس نے یہ منظر بخوبی دیکھا تھا اور آنکھوں میں چمک تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ سارے اپنے اپنے گھر گئے اور سارے جاتے ہی اپنے اپنے بستر پہ ڈھے گئے تھے لیکن دو لوگ ایسے تھے جن کی نیند بلکل اڑی ہوئی تھی ایک تو نیلم جسے کل کی فکر تھی کہ نا جانے کیا ہوگا اس کے ساتھ ۔۔۔۔ کیا اس کی شادی کروا دی جائے گی یا وہ لڑکا اس شادی سے انکار کر دے گا۔۔۔ یہ تو اب اللہ ہی بہتر جانے کہ نیلم کی قسمت میں کیا لکھا گیا تھا
اور دوسری طرف وہ جسے بیٍڈ پہ لیٹتے ہی نیند آجاتی تھی لیکن آج نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر یہ کیا ہو رہا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔ ایک عجیب سا درد تھا اس کے سینے میں جیسے کچھ چھن جائے کا اس سے۔۔۔۔ کوئی اپنا کوئی دل کہ بہت قریب۔۔۔۔ لیکن یہ احساس اسے صرف آج ہوا تھا نا جانے کیا تھا اس احساس میں کہ اس کی نیند اڑ چکی تھی۔۔۔اور پھر یہ ہوا کہ پوری رات اس کی آنکھوں میں کٹی تھی اور دل سے صرف اسی کے لیے دعا نکل رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلیم صاحب کی آنکھ کھلی تو فجر کا وقت تھا۔۔۔ نماز ادا کر کے وہ باہر چہل قدمی کے لیے نکل آئے۔۔۔ اسامہ کے گھر کے پاس سے گزرے تو ان کی نظر اسامہ پہ پڑی جو کہ چھوٹے سے صحن میں اکیلا بیٹھا نا جانے کیا کھوج رہا تھا آسمان میں۔۔۔۔
گیٹ چونکہ کھلا تھا تو با آسانی باہر سے گھر کا صحن نظر آتا تھا۔۔۔ اسامہ کو بیٹھا دیکھ سلیم صاحب نے دروازہ بجایا اور اسامہ کا سکتا ٹوٹا۔۔۔ دروازے کی طرف دیکھا تو سلیم صاحب کھڑے تھے
“ارے آپ اس وقت ” اسامہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا
“ہاں بس ایسے ہی چہل قدمی کرنے نکلا تھا ۔۔۔۔ تم سناؤ یہاں ایسے کیوں بیٹھے ہو ؟؟ “
“بس ایسے ہی یارررر !!! نماز پڑھ کہ آیا ہوں ابھی نیند نہیں آ رہی تھی تو یہاں بیٹھ گیا!!”
“کوئی پریشانی ہے ؟؟؟ چہرہ اتنا اداس کیوں ہے تمہارا ؟؟؟”
“کچھ نہیں یار بس یونی کی فکر ہے۔۔ بابا مجھے کبھی بھی نہیں جانے دیں گے اور میں نہیں بیٹھنا چاہتا دکان پہ ساری زندگی !!”
“غازی اور ارقم کا بھی یہی حال ہے ۔۔۔۔۔ تم فکر نا کرو میں آج بات کرتا ہوں تینوں سے مان جائیں گے وہ تم جا کر آرام کرو ۔۔۔۔۔” سلیم صاحب اسے اندر بھیج کر خود بھی اپنے گھر کی طرف چل دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب اسکئ آنکھ کھلی تو گھر میں کسی مرد کی بولنے کی آواز آرہی تھی چند لمحے لگے تھے اسے اس آواز کو پہچاننے میں اور پھر یکدم اسکے منہ کے زاویے بگڑے تھے
اٹھ کر باہر نکلی تو سامنے ہی حسن صاحب لاؤنج میں رکھی کرسی پر بیٹھے چائے نوش فرما رہے تھے جبکہ دادی ساتھ رکھی چارپائی پر بیٹھی تھی …
“تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں ؟؟؟” غزالہ بیگم نے حسن صاحب سے سوال کیا
“دیکھیں امی مجھے پتہ تھا کہ آپ نے یہی آنا ہے اس لیے آپ سے ملنے آگیا ” حسن صاحب نے کہا
” تمہیں کوئی پچتاوا نہیں ہے مجھے گھر سے نکال کر ؟؟؟” انہوں نے دکھ سے پوچھا
“امی یہ بات آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی کہ اب آپ اس گھر میں نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔ شائستہ اور بچے آپ سے تنگ آگئے ہیں اس لیے آپ کا یہاں رہنا ہی بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔ میں یہ نہیں پوچھوں گا کہ آپ نے زارون کو کیوں مارا لیکن آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ” وہ دو ٹاک الفاظ میں بولے جبکہ پاس بیٹھی آسیہ اور ایمن ان دونوں ماں بیٹے کی گفتگو سن کر حیران ہوئے تھے
“لیکن تمہیں پوچھنا چاہیے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔۔۔ زارون۔۔۔۔” غزالہ بیگم نے انہیں بات بتانا چاہی تھی لیکن حسن صاحب نے ٹوک دیا
“بس امی میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر آسیہ تم بتاؤ حرا کا کیا سوچا ہے اب ؟؟” حسن صاحب نے گویا بات ہی بدل ڈالی
“حسن وہ اگے پڑھنا چاہتی ہے ۔۔۔” آسیہ بیگم نے کہا
” ہاں تو کالج میں ڈال دو اسے ” حسن صاحب نے چائے پیتے ہوئے کہا
” نہیں حسن وہ یونیورسٹی جانا چاہتی ہے۔۔۔۔ ” آسیہ بیگم کہ کے چپ ہوئی اور اسی اثناء میں حرا کمرے سے باہر نکلی
وہ بغیر کوئی سلام دعا کیے لاؤنج کے باہر صحن میں بنے چھوٹے سے باتھ روم میں گھس گئی تھی جبکہ اسکی اس حرکت پہ آسیہ بیگم کو برا لگا تھا نجانے وہ اتنی ضدی کیوں تھی لیکن حسن صاحب کی تو باقائدہ تیوری چڑھی تھئ
“یہ تم اسکو آگے پڑھاؤ گی اتنی تمیز نہیں ہے اس میں کہ باپ بیٹھا ہے اس سے حال چال ہی پوچھ لے . بس پورا دن گلی میں آوارہ گردی کروا لو .. لڑکوں کےساتھ گھومتی رہتی یے . میں یہاں ہوتا نہیں ہوں اسکا مطلب یہ نہیں ہے میں خبر نہیں رکھتا .. مجھے سب پتا ہے تم ماں بیٹیاں کیا کرتی ہو”
انہوں نے اونچی آواز میں کہا تھا جبکہ دادی اور آسیہ بیگم نے نظریں جھکائی تھی .
آسیہ بیگم نے اسلیے کہ اس شخص نے کبھی اپنی بیٹیوں سے اچھے سے بات نہیں کی تھئ باقیوں کیساتھ تو پھر بھی دوبول نرمی سے بول لیتا تھا لیکن حرا سے نجانے اسے کیا بیر تھا شاید حرا منہ پھٹ تھی منہ پہ سچ کہہ دیتی تھی اسلیے …
اور غزالہ بیگم کی نظریں اسلیے جھکی تھیں کیونکہ انکا بیٹا انہی کے الفاظ بول رہا تھا . ان سالوں میں انہوں نے اور شائستہ بیگم نے بہت زہر انڈیلا تھا انکے اندر . لیکن آج انہیں شرمندگی تھئ اپنے کیے ہر عمل پر …
“اوہ ہ ہ تو آپ اسلیے ہم سے پوچھ گچھ کیلیے آئے ہیں. کیوں آپکی بیوی نے کوئی اور پٹی پڑھا کر بھیجی ہے . اپنی ماں کو تو آپ گھر میں رکھ نہیں سکے . آئے ہیں بڑی باتیں کرنے .. “
حرا نے اندر آتے ہی انہی کے انداز میں انہیں جواب دیا تھا جبکہ آسیہ بیگم نے پریشانی سے انہیں دیکھا حسن صاحب کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا تھا
“یہ تربیت کی ہے تم نے اسکی آسیہ ؟؟؟ کہ باپ کے سامنے کھڑی ہو کر بکواس کر رہی ہے .. میں اگر تم لوگوں کو خرچہ نا دوں نا تو دیکھتا ہوں کیسے تم لوگ رہتے ہو زندہ . یہ جو ساری اکڑ ہے نا نکل جائے گی ..” حسن صاحب بات ایسے کر رہے تھے جیسے ان کے سامنے انکی بیوی اور بیٹی نہیں کوئی مانگنے والے یا ملازم کھڑے ہوں
“بڑا خرچہ دیتے ہیں آپ . تین مہینے بعد دو ہزار دے کر آپ ہم پر احسان نہیں کرتے وہ بھی نہ دیا کریں ہم بھوکے نہیں مریں گے ان دو ہزار سے اپنے بیٹوں کے پیٹ بھریں اور یہاں آکر ہمیں دھمکیاں مت دیا کریں اور مجھے آوارہ کہنے سے بہتر ہے اپنے بیٹوں پر نظر رکھیں . اور اگر ہمیں خرچہ دیتے بھی ہیں تو اولاد ہیں ہم آپکئ لیکن آپ یہ بات شاید بھول چکے ہیں . بیوی کے کہنے پہ ہم سے لڑنے آجاتے ہیں آپ … ” حرا نے صحیح سچ سنایا تھا انہیں لیکن اس سے پہلے وہ کچھ اور بھی بولتی کہ
“چٹاخخخ.”
پورے لاؤنج میں سناٹا چھاگیا تھا جبکہ حرا نے چہرے پہ ہاتھ رکھے دکھ سے سامنے دیکھا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *