Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19

“ارے بھائی صاحب پسند نا آیا تو کہیے گا ویسے بھی وہ ہمارے ساتھ ہی ہیں اور آپنےتو بوریت ہی بھگانی ہے ناتو وہ ہم بھگا دیتے ہیں ..” نہایت ادب سے اسامہ نے کہا تھا پھر ایک آنکھ دبا کر ارقم کو دیکھا تھا
“چلو گانا لگاؤ کوئی اچھا سا ” اسامہ نے کہا تھا تو ایک لڑکے نے اپنے فون پہ “رضیہ گنڈوں میں پھنس گئی ” گانا لگایا تھا پہلے تو اسامہ اور ارقم نے گانا سن کر ایک دوسرے کو سنجیدگی سے دیکھا تھا اور پھر دونوں کا قہقہہ گونجا تھا
وہ تینوں جب بھی مستی کے موڈ میں ہوتے تھے اکثر یہ گانا لگا کر ڈانس کرتے تھے اور اب بھی ان کے دماغ میں اپنا جنگلیوں والا ڈانس آیا تھا
پھر وہ دونوں ایسا شروع ہوئے کہ سینیئرز کی آوازوں پہ بھی نا رکے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے گدھوں کو شراب پلا دی ہو اور اب وہ ٹن ہو کر ناچ رہے ہوں
ناچار غازی کو ہی آگے آنا پڑا تھا
“ابے ہو مراسیو بس کرو بس کرو …. ” وہ زور سے چیخا تھا جب وہ دونوں چپ کرکے کھڑے ہوئے تھے تو ہر طرف قہقہے گونجے تھے سب نے خوب تالیاں بجائی تھیں ۔۔۔ جبکہ کافی سٹوڈنٹس نے ان کی ویڈیو بھی بنائی تھی
“ہر جگہ اپنا جنگلی پن دکھانا ہوتا ہے تم لوگوں نے” غازیان ان پہ چڑھ دورا تھا
“ارے جانم تم ہوتے تو اس سے بھی زیادہ مزا آتا ” اسامہ نے شرارت سے اسے کہا تھا پھر ان سب کا قہقہہ گونجا تھا جن میں لڑکیوں کا قہقہہ بھی شامل تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ان کی کب سے شروع ہو چکی تھی اور اس سب میں کافی دیر بھی ہو گئی تھی تو اب کلاس میں جانے کے بجائے ان لوگوں نے منان کو کال کر کے بلا لیا تھا اور پھر سے سب کے ساتھ شغل لگانے میں لگ گئے تھے
سینیئرز کی بھی انوکھی فرمائشیں تھیں
کسی سے گانا گنوا رہے تھے تو کسی سے آیکٹینگ
“ارے یار۔۔۔ یہ کوئی ایکٹینگ ہے ؟؟؟ ایسے ہوتی ہے ایکٹینگ ؟؟؟ ہٹو میں کرتا ہوں ” ارقم کو ایکٹینگ کرنے والے پہ بہت غصہ آیا تھا اور اسے جگہ سے ہٹا کر خود ایکٹ کرنے لگا تھا ۔۔۔۔
“اے اسامہ تو ادھر آ …… یہاں آجا میں کرتا ہوں ایکٹنگ “. اسنے اسامہ.کو بلایا تھا اور پھر ایک لڑکے سے اسکا سکارف لیا تھا جو شاید اس نے فیشن کیلیے گلے میں ڈال رکھا تھا اسے اپنے سر پہ لیا تھا اور ایک کونا منہ میں دبایا تھا
اب ایکٹ یہ تھا اسے ایک.لڑکی کی ایکٹنگ کرنی تھی جس کا بوائے فرینڈ اسے چھوڑ کر جارہا ہوتا ہے
“اسامہ .” آواز باریک کرکے اسنے اسے پکارا تھا
“کیسے جا سکتے ہیں آپ مجھے چھوڑ کر بتائیے . کیا کر سکتے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا ؟؟” نہایت ہی جزباتی انداز میں کہتے اسنے سکارف سے منہ چھپایا تھا یعنی شرمیلا بننے کی ایکٹنگ کی تھی
“میری مجبوری ہے شینو …” اسامہ بھی کریکٹر میں اترا تھا اور جو نام اسنے دیا تھا سب کے قہقہے گونجے تھے
“مجبوری ؟؟؟؟ کیسی مجبوری ؟؟ ارے بھول گئے آپ وہ دن جب میں نے آپکو اپنے پیسوں سے 15 روپے والی قلفی کھلائی تھی بھول گئے آپ وہ دن جب میں نے آپکے سر سے جوئیں نکالی تھی کیسے بھول گئے آپ اگر تب میں وہ جوئیں نا نکالتی تو اب تک آپ گنجے ہو چکے ہوتے وہ آپکے سارے بال کھا جاتی…….. ” اور. سٹوڈینٹس کے قہقہوں نے ارقم کو اپنی بات مکمل کرنے ہی نہیں دی تھی
“کیا ہو رہا ہے یہ سب ؟؟”. زوردار آواز گونجی تھی جب سب سٹوڈنٹس سائیڈ پہ ہوئے تھے اور ارقم کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی تھی سامنے سر افضال کھڑ ے اسے ہی گھور رہے تھے پہلے ہی دن وہ انکی نظروں میں آگیا تھا جلدی سے سر سے سکارف اتارا تھا اور پھر سر کو دیکھ کر مسکرایا تھا
پتا نہیں آج وہ کیوں اتنا مسکرا رہا تھا
“یہ ٹیلنٹ بھی ہے آپ میں ؟؟؟. بہتر ہے کہ آپ پڑھائی پہ توجہ دیں یہ حرکتیں نا ہی کریں تو اچھا رہے گا .” سختی سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئے تھے جب ارقم کی سانسیں بحال ہوئی تھیں
“ابے ارقم تجھے اتنی مسکراہٹ کیوں آتی ہے سر کے سامنے ؟؟” غازیان نے ارقم سے پوچھا تھا جو اب مسکینوں والی شکل بنا کر کھڑا تھا
“پتا نہیں ٹینشن میں مسکراہٹ آجاتی ہے ….. کیا کروں یار یہ سر تو بڑا ہی خطرناک ہے” . ارقم کی عجیب ہی منطق تھی وہ واقعی ٹینشن میں ہنستا تھا خود بخود ہی ہنسی آجاتی تھی اسے
“اچھا چل خیر کچھ نہیں ہوتا ….” اسامہ نے اسے حوصلہ دیا تھا
“آجاؤ غازیان!! منان بھائی آگئے ہیں ” حرا نے سب کو متوجہ.کیا تھا پھر وہ سب گھر کیلیے نکلے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی خوشی دن کا اختتام ہوا تھا
سب کا پہلا دن بہت اچھا گزرا تھا سوائے ارقم کے اچھا تو اسکا بھی گزرا تھا لیکن اسکی حرکتوں کی وجہ سے وہ سر کی.نظروں میں آگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“زرنش ” مناہل زرنش کے پاس آکر بیٹھی تھی جو کہ نا جانے کب سے باہر صحن میں اکیلی بیٹھی ہوئی تھی مناہل کی آواز پہ چونکی
“جی آپی کیا ہوا ؟؟ آئیں بیٹھیں۔۔۔” زرنش نے اسے اپنے پاس بیٹھایا تھا
“آپ یہاں کیوں بیٹھی ہو اداس ہو کر ؟؟”
“کچھ نہیں بس ایسے ہی “
“مجھے پتہ ہے آپ کو حرا آپی یاد آ رہی ہیں ۔۔۔ہیں نا ؟؟؟” اس نے زرنش کے اداس ہونے کی وجہ بتائی تھی
“ہاں نا مناہل آپی ۔۔۔۔ جب سے ان کی شادی ہوئی ہے وہ ایک بار بھی نہیں آئی یہاں رہنے ۔۔۔ میں تو اب ناراض ہوں ان سے ” زرنش منہ پھولا کر بیٹھی تھی اور اسے اس طرح بیٹھا دیکھ مناہل کو بہت پیار آیا تھا اس پہ
“ارے تو اس میں اداس ہونے کی کیا بات ہے ؟؟ ہم امی سے کہ کر انہیں بلوا لیتے ہیں۔۔۔ “
” ہیں ؟؟؟ سچی نا آپی ؟؟” وہ خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
“ہاں جی بلکل سچی ۔۔۔ چلو اب اندر چلتے ہیں ” مناہل نے زرنش سے کہا تھا اور پھر اسے لیے اندر چلی گئی تھی آسیہ بیگم کے پاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی امی ” آسیہ بیگم جو اپنے بیڈ پہ بیٹھی کپڑے تہ کر رہی تھی ان کو دیکھ کر چونکی تھی
“ہاں کیا ہوا میری جان ؟؟” مناہل اور زرنش ان کے پاس آ کر بیٹھی تو انہوں نے بات شروع کی
“امی۔۔۔ حرا آپی بہت یاد آ رہی ہیں ۔۔۔آپ غازی بھائی سے بات کرو نا وہ آپی کو بھیج دیں رہنے۔۔۔ کیا وہ انکو منع کرتے ہیں ؟؟” زرنش معصوم سی شکل بنا کر بولی تھی اسکے زہن میں یہی بات آئی تھی کہ غازی حرا کو منع کرتا ہے
“ارے نہیں بیٹے بس حرا آپی نہیں آتی نا مصروف ہوتی ہے ہونی جاتی ہے اسلیے . چلو میں خود بات کروں گی اس سے وہ آجائیگی ۔۔۔ “
“سچی نا امی۔۔۔ “
“ہاں ایک دم سچ ” وہ اپنی بیٹی کے بچپنے پہ مسکرائی تھی
اور پھر زرنش نے آسیہ بیگم اور مناہل کو پاس بیٹھا کر خوب پلاننگ کی تھی کہ جب حرا گھر آئے گی تو کیا کیا ہو گا جبکہ وہ دونوں بس اسی کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھیں آسیہ بیگم.کو ڈر بھی تھا کہ پتا نہیں حرا یہاں آنے کیلیے مانے گی بھی یا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن جب وہ لوگ یونی سے واپس آئے تو آسیہ بیگم نے غازیان کو کال کر کے اپنے پاس بلایا تھا ۔۔۔ حرا کو وہ کب سے فون کر رہی تھیں لیکن حرا نے ایک بھی فون نہیں اٹھایا تھا تو آسیہ بیگم نے بھی بالا آخر غازیان کو ہی بلا لیا تھا گھر اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی غازیان ان کے گھر آ گیا تھا
“جی خالہ آپ نے بلایا ؟؟؟ ” غازیان لاؤنج میں آ کر بیٹھا تھا جہاں آسیہ بیگم اور غزالہ بیگم بیٹھی ہوئی تھیں ۔۔۔ رسمی حال چال پوچھ کر غازیان اصل مدعے پہ آیا تھا
“ہاں بیٹا۔۔۔ میں نے تم سے کچھ باتیں کرنا تھیں “
“اللہ خیر ۔۔۔ کیا ہو گیا خالہ اتنا سسپینس ” غازیان نے شرارت سے کہا تھا
“ہاں ہاں خیر ہی ہے ” غزالہ بیگم مسکراتے ہوئے بولی تھی
” دیکھو بیٹھا میں چاہتی ہوں کہ حرا کی یونیورسٹی کی زمہ داری میں خود اٹھاؤں کیونکہ شادی اتنی جلدی ہو گئی تم خود بھی پڑھ رہے ہو سارا بوجھ بھائی صاحب پہ آجائے گا جو میں نہیں چاہتی ۔۔” آسیہ بیگم نے کہا
“ارے امی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں ؟؟؟ حرا اب میری زمہ داری ہے ۔۔ میرا حق بنتا ہے کہ میں اس کی ساری زمہ داریاں پوری کروں اور میں کروں گا بھی . ۔۔۔”
“لیکن بیٹا۔۔ تم کیسے کرو گے۔۔ پڑھائی کیساتھ نوکری کیسے کرو گے اب اچھا تھوڑی لگتا ہے کہ مصطفیٰ حرا کی بھی زمہ داری اٹھائے ” غزالہ بیگم نے بھی اپنی طرف سے ٹھیک ہی بات کہی تھی وہ غازیان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی
“ارے دادو !!!! آپ فکر نا کریں ۔۔۔ میں نے سوچا ہے اس بارے میں بھی۔۔ حرا اب میری زمہ داری ہے ۔۔ آپ لوگ فکر نا کریں اتنا بھی گیا گزرا نہیں میں۔۔ اور ہاں آئندہ یہ بات نا سنوں آپکے منہ سے میں ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا ۔۔ ” وہ شرارت سے بولا تھا لیکن آخر میں اسنے سنجیدگی سے کہا تھا
“چلو پھر جیسے تمہاری مرضی ” آخر انہوں نے بھی ہار مانتے ہوئے کہا تھا اتنے میں مناہل غازیان کے لیے جوس بنا کر لائی تھی اور آسیہ بیگم کو اشارہ کیا تھا کہ حرا کی بات بھی کریں
“اوہ ہاں سچ یاد آیا ۔۔۔ غازیان بچے کبھی حرا کو تو لاؤ گھر۔۔۔ اتنے عرصے سے آئی نہیں وہ—— اتنے پاس رہتے ہوئے بھی چکر نہیں لگاتئ ۔”
” آئی تو تھی لیکن اسے نکال دیا گیا تھا ۔۔۔ اس کے بعد میں نے ہی منع کیا تھا اسے ۔۔۔ میں نہیں برداشت کر سکتا کہ.کوئی بھی میری بیوی کی بے عزتی کرے “
وہ اٹل الفاظ میں بولا تھا لہجے میں پہلے والی نرمی غائب تھی
“غازیان بچے ہمیں معاف کر دو۔۔ اس میں ہمارا کیا قصور ۔۔۔۔ ” آسیہ بیگم پریشان بھی ہوئی تھی غازی کی بات سن کر لیکن تسلی بھی ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کیلیے غلط فیصلہ نہیں کیا
” وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن آپ مجھے یہ بتائیں کہ آخر ان کا حرا کے ساتھ کیا مسئلہ ہے جو وہ اسے اپنی بیٹی ہی نہیں مانتے ۔۔۔ اور تو اور اسے عجیب نام سے بھی بلاتے ” غازیان نے آخر وجہ جاننی چاہی تھی
“یہ تو تم اسی سے پوچھو ۔۔۔۔ ” غزالہ بیگم شرمندہ ہوتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔ آخر ان کا بھی کہیں نا کہیں ہاتھ تھا ہی حسن صاحب کو ورغلانے میں
تھوڑی دیر اور بیٹھ کے غازیان نے اجازت چاہی تھی اور پھر ان سے ملتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا دو سوچیں زہن میں تھی ایک اپنی نوکری کی اور ایک حرا سے بات کرنیکی آخر وہ وجہ جاننا چاہتا تھا کہ حرا کیساتھ ہی کیوں انکو مسئلہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچا ہی تھا کہ اسے سامنے لاؤنج میں مصطفیٰ صاحب اور جاوید صاحب بیٹھے نظر آئے تھے جب کے گھر کی خواتین اپنے اپنے کمروں میں تھیں
غازیان کو آتا دیکھ مصطفیٰ صاحب نے اسے اپنےپاس بلایا تھا
“جی ابا!! خیریت ؟؟” غازیان نے لاؤنج میں آتے ہوئے بولا تھا
“ہاں بچے خیریت ہے ۔۔۔ تم آؤ بیٹھو ادھر ” جاوید صاحب نے اسے کہا تو وہ ان کے پاس صوفہ پہ آکر بیٹھا تھا
“دیکھو بیٹا اب تمہاری ایک عدد بیوی ہے اس کی ساری زمہ داری تم پہ ہے ۔۔۔۔ اس کی ہر چیز کا خیال رکھنا تمہارے زمہ ہے ۔۔۔ یونیورسٹی کی فیس ابھی تو ہم نے دے دی ہے تم دونوں کی لیکن اب سے تم دو گے ۔۔۔ اور باقی کے اخراجات ہم دیکھ لیں گے۔۔۔یا یونی کی فیس ہم دیتے اور باقی سب تم کرو۔۔۔۔میری بات سمجھ آ رہی ہے نا ؟؟؟ ” مصطفیٰ صاحب نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا
“جج جی بابا۔۔۔۔ میں کرتا ہوں کچھ ” اس نے سعادت مندی سے کہا تھا
“دیکھوں غازی۔۔۔ ہماری بات کا غلط مطلب نا لینا۔۔۔ ہم بس تمہیں سیٹ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ اگر ابھی سے تم نے خود محنت نا کی تو اپنے بیوی بچوں کو کیسے سنبھالو گے ؟؟؟ ابھی سے محنت کرو گے تو آگے آسانی رہے گی ” جاوید صاحب نے بھی اپنے دل کی بات کی تھی
“جی چاچو۔۔۔ میں آپ لوگوں کی بات سمجھ رہا ہوں۔۔ میں سوچتا ہوں اس بارے میں آپ لوگ فکر نا کریں ” غازیان نے کہا
“اچھا چلو اب جاؤ جا کر آرام کر لو تھوڑا صبح یونیورسٹی بھی جانا ہو گا نا ؟؟ لیکن زیادہ خود پہ بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے بس کوئی چھوٹی موٹی جاب ڈھونڈو ٹھیک ہے … اب جاءو “
“جی جی بابا ۔۔۔ میں چلتا ہوں اللہ حافظ ” غازیان صوفے سے اٹھا اور انہیں اللہ حافظ کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
جبکہ مصطفیٰ صاحب اوپر اور جاوید صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو حرا سو چکی تھی تو غازیان بھی ایک نظر اسے دیکھتا ہوا بیڈ کے ایک طرف آ کر لیٹ گیا تھا
“ابا صحیح کہتے ہیں مجھے کچھ کرنا چاہیے ۔۔۔۔ اب میں اکیلا نہیں جو لاپرواہی دکھاؤں ۔۔۔ مجھے اپنی زمہ داریاں خود سنبھال لینی چاہئیں۔ حرا کی بھی کچھ خواہشیں ہوں گی ظاہر ہے وہ مجھے شاید اسلیے نا بتاتی ہو کہ میرے پاس نوکری نہیں ہے . چل غازیان بیٹے اب سدھرنے کا وقت آگیا ہے ۔۔۔۔ ” غازیان نے خود سے کہا تھا لیکن پھر ساری رات اسی بارے میں سوچتا رہا تھا کہ آخر وہ کیا کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے دس بجے تھے جب شائستہ بیگم حسن صاحب کو بھیج کر اب اپنے کمرے میں کچھ دیر آرام کی غرض سے آئی تھی کہ ہارون زارون چیختے چلاتے ہوئے ان کے پاس آئے تھے
“اماں ں !!!!!!!!!!!!!!! ” وہ دونوں چیختے ہوئے ان کے کمرے میں آئے تھے جبکہ شائستہ بیگم تو گھبرا ہی گئی تھیں
“کیا ہوا ہے ؟؟ ایسے کیوں چیخ رہے ہو ؟؟” وہ گھبرا کر بولی تھی اور ان دونوں کو اپنے پاس بیٹھایا تھا
“اماں ہم جن مضمونوں میں فیل ہوئے تھے نا ۔۔۔ ” ہارون نے بات شروع کی
“ہاں جن کا تم لوگوں نے پھر سے پیپر دیا تھا ؟؟؟ کیا پھر فیل ہو گئے ہو ؟؟؟ ہائےے اب میں کیا کروں گی ؟؟ کیسے بتاؤں گی حسن کو ؟؟ میری سمجھ سے باہر ہو تم دونوں ۔۔۔۔ پہلے تو حسن سے چھپا لیا تھا میں نے کے چلو پھر سے پیپر دے کر پاس ہوئے تو تب بتاؤں گی لیکن نہیں۔۔۔ دونوں ہی عادت سے مجبور ہو۔۔۔ میرا ہی کچھ احساس کر لیتے ۔۔۔۔ اب تو میری آزادی ختم سمجھو ۔۔۔ اب تم دونوں کو خود پڑھانے کا حکم نا مل جائے مجھے ۔۔۔۔ کمبختوں ۔۔۔۔۔” شائستہ بیگم تو گویا برس ہی پڑی تھیں ان دونوں پہ جبکہ وہ دونوں حیرانگی سے اپنی ماں کی باتیں سن رہے تھے
“ارے ارے۔۔۔ ہماری بھی تو سن لیں ۔۔۔” زارون نے انہیں چپ کروانا چاہا تھا
“کیا سنوں اب میں تم لوگوں سے ؟؟؟ تم لوگوں کے فیل ہونے کی داستان ؟؟؟ ” وہ بھڑک پڑی تھی
“ارے ہماری پیاری اماں ۔۔۔۔ ہم پاس ہو گئے ہیں ۔۔۔” ہارون نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا
“کک کیاااا ؟؟؟؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟ ” ان کو یقین نا آیا تھا
“ہاں جی۔۔۔ ہم پاس ہو گئے ہیں ۔۔ آپ کو اب آزادی مبارک ہو ” زارون نے شرارت سے کہا تو تینوں کا قہقہہ گونجا تھا
” لیکن یہ ہوا کیسے ؟؟ تم دونوں نے کہیں سچ میں پڑھائی تو نہیں شروع کر دی ؟؟؟ انہیں تجسس ہوا تھا
“ارے ہماری بھولی اماں ۔۔۔۔ آخر چیٹینگ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔۔ ہم نے اپنے پاس پرچیاں رکھی ہوئی تھی تو بس ٹیچیر کو کام پہ لگا کر ہم نے پیپر دے دیے ” زارون بڑی خوشی سے بولا تھا جیسے نا جانے کون سا کارنامہ سر انجام دیا تھا ان دونون نے
“شاباش میرے بچوں !!! ” شائستہ بیگم نے ان دنوں کو ان کے کارنامے سننے کے بعد ان کو داد دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ان کی مارکٹینگ کی پہلی کلاس تھی اور وہ چھ کلاس میں آخری سیٹوں پہ بیٹھے تھے کہ سر کلاس میں داخل ہوئے تھے
سب سٹوڈنٹس سے ان کا نام احوال پوچھا گیا تھا اور پھر سر نے اپنا انٹرو دیا تھا
اس کلاس میں سر نے انہیں جو جو بھی پڑھانا تھا سب کی آؤٹلائین پڑھا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ کلاس کے رولز بھی بتا رہے تھے
“دیکھیے سٹوڈینٹس !!! آپ لوگ کلاس میں بلکل بھی بات نہیں کریں گے ۔۔۔ مجھے اس چیز سے سخت چڑ ہے۔۔۔ اور ہاں اگر کسی کو کلاس سے باہر جانا ہے تو وہ چپ کر کے باہر جا سکتا ہے بغیر کوئی ہلچل مچائے ۔۔۔۔ یا کسی نے اگر کلاس میں آ کر بیٹھنا ہے تو وہ چپ کر کے آکر بیٹھ جائے ۔۔۔ انڈرسٹینڈ ؟؟ “
ارقم جسے سخت بھوک لگی ہوئی تھی آج صبح ناشتہ بھی اس نے نہیں کیا تھا اور اب کلاس میں اسے بھوک کے ساتھ ساتھ نیند بھی آ رہی تھی۔۔۔ جب تک وہ کچھ کھا نہیں لے گا اس کی نیند ختم نہیں ہونی تھی
ابھی وہ جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ سر کی بات سن کر اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور بغیر کسی کو کچھ کہے کلاس سے باہر نکل گیا تھا
ارقم کی یہ حرکت دیکھ کلاس میں سب کا قہقہہ گونجا تھا جبکہ سر بھی سر نفی میں ہلاتے ہوئے پھر پڑھنا شروع ہو گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس لیتے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ لائبہ نے نیلم کے کان میں سرگوشی کی
“یار یہ سر کتنا پکاتے ہیں۔۔ مجھ سے اور کلاس نہیں لینے ہوتی۔۔ میں جا رہی ہوں باہر ” لائبہ نیلم سے کہتی ہوئی اسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر اٹھ کر کلاس سے باہر چلی گئی تھی
لائبہ کو باہر جاتا دیکھ حرا کو بھی کچھ ہوا تھا
“یار کھک سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ میں بھی جا رہی” حرا کہتے ہوئے باہر نکل گئی تھی جبکہ اسامہ اور غازیان نیلم کو ہی دیکھ رہے تھے
“جائیے اب آپ بھی ” اسامہ نے نیلم کی طرف دیکھ کے کہا تو غازیان کی ہنسی چھونٹ گئی تھی جب نیلم نے اپنا پاؤں اسکے پاؤں پہ مارا تھا
آہ تیری !!” اسامہ کی آواز نکلی تھی اور یہیں انکی شامت آئی تھی
” یہ کس کی آواز تھی۔۔۔ میرے منع کرنے کے باوجود آپ لوگ کلاس میں باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ گیٹ آؤٹ ” سر سے غصے سے کہا تھا اور وہ تینوں کلاس سے باہر
ارقم جو کلاس سے کچھ فاصلے پہ بنی سیڑھیوں پہ بیٹھا مزے سے گانے سن رہا تھا سامنے سے لائبہ کو آتا دیکھا تو اسے اپنے پاس بلایا
“دیکھا مجھے پتہ تھا تمہارا میرے بغیر کلاس میں دل نہیں لگنا ۔۔۔۔ ” ارقم نے شرارت سے کہا اور لائبہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اسے سیڑھی پہ اپنے ساتھ بیٹھایا تھا
“یار چھوڑو سب ۔۔ یہ گانا سنو۔۔۔ بہت اچھا ہے ” ارقم نے ایک ہیڈفون لائبہ کے کان میں لگایا تھا ۔۔۔ لائبہ نے بھی چپ رہنے میں عافیت جانی تھی لیکن جو الفاظ ہیڈفون سے آ رہے تھے لائبہ کا غصے سے برا حال تھا
اور گانا کچھ یوں تھا
“سونیوں دل نہیں لگتا تیرے بنااااا۔۔۔ دل نہیں لگتا تیرے بنا ۔۔۔”
لائبہ نے غصے سے ارقم کو دیکھا تھا جو کہ اس کی طرف دیکھ اپنے دانتوں کی نمائش کر رہا تھا
“ہی ہی ہی ۔۔۔ ہے نا اچھا گانا “
“ارقم ۔۔۔۔!!!!!! ” لائبہ غصے سے اٹھی تھی
“اوو اوو وہ دیکھو حرا بھی آ گئی ” ارقم نے حرا کا بتا کر اپنا بچاؤ کیا تھا ورنہ آج اس کی خیر نہیں تھی
“حرا بھی آ گئی ” لائبہ ابھی یہ کہنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر کلاس کی طرف گئی تھی جہاں سے نیلم اسامہ غازیان باہر آ رہے تھے چہرے پہ سنجیدگی لائے لیکن کلاس سے باہر آتے ہی تینوں کا قہقہہ گونجا تھا
“آجاؤ میرے شیروں !!!” ارقم نے سامنے ان تینوں کو آتا دیکھ مسکرا کر کہا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *