Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25

(“آخر کون ہے وہ لڑکی جس سے تم روز ملنے جاتے ہو ؟؟؟؟ )
سوچتے ہوئے وہ مسلسل اپنے ناخن چبا رہی تھئ اور غازیان اسکی ہر حرکت کا جائزہ لے رہا تھا حرا کو ہوش تب آیا تھا جب غازیان نے اسکی راہیں دیوار پر ہاتھ رکھ کے دونوں طرف سے بند کی تھیں
“ک.کیا کر رہ رہے ہو غازیان؟؟؟” غازیان نے حملہ ہی اچانک کیا تھا کہ وہ بوکھلا ہی گئی تھی
“کیا کر رہا ہوں.؟ ؟؟؟” الٹا اسی سے سوال پوچھتے ہوئے غازیان نے آنکھیں اسکے چہرے پہ جمائی تھیں
“ایسے مت دیکھو تم مجھے ” غازیان کے دیکھنے سے وہ کنفیوز ہوئی تھی
“کیسے نا دیکھوں ؟؟” پھر سے سوال
“ایسے ..ایسے جیسے کچا ہی کھا جاؤ گے … “حرا نے کافی سوچنے کے بعد یہ جواب دیا تھا جب غازیان کے چہرے پہ جاندار قسم کی مسکراہٹ آئی تھی اسنے چہرہ حرا کے قریب کیا تھا اور حرا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دیوار کے اندر گھس جائے یا غائب ہو جائے
“دل تو کر رہا ہے کھا جاؤں..” غازیان جزبات سے چور لہجے میں کہتے ہوئے اسکے گال پہ اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑا تھا اور حرا نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں اب وہ اسکا لمس اپنے دوسرے گال پہ محسوس کر رہی تھی اور پھر ماتھے پہ .
کتنا سکون تھا اس لمس میں لیکن پھر اچانک ہی اسکے دماغ میں ارقم کے الفاظ گونجے تھے
“تمہاری سوتن سے ملنے ” سارا فسوں ٹوٹا تھا اب وہ یہی لمس اسے زہر لگ رہا تھا جو تھوڑی دیر پہلے اسے زندگی لگ رہا تھا
اب وہ اسکے چہرے کے ہر ہر نقش کو پیار سے دیکھ رہا تھا لیکن حرا کو ان نظروں کی تپش بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی
“تمہیں پتہ ہے تم بہت خوبصورت ہو .” غازیان نے دھیمی سی سرگوشی کی تھی حرا کا دل دھڑکا تھا آنکھیں پھر اسکے چہرے پہ ٹھہری تھیں وہ پھر اس پل میں کھوئی تھی لیکن صرف چند سیکنڈ تک ..
سوچیں پھر حاوی ہوئی تھیں ابھی غازیان اسکی گردن پہ جھکتا کہ اسنے یکدم اسے روکا تھا سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی وہ پیچھے تو نہیں ہوا تھا لیکن رک ضرور گیا تھا جب حرا کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی
“دور ہو مجھ سے پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔ (دوسری لڑکی سے مل کر آئے ہو اور اب مجھ سے پیار کا ناٹک) ” حرا روتے ہوئے بولی تھی لیکن آخری بات اس نے کرب سے سوچی تھی جبکہ حرا کو اس طرح روتا دیکھ غازیان بوکھلایا تھا وہ تو اسے بتانے والا تھا کہ وہ اس سے پیار کرتا ہے لیکن یہاں تو الٹا ہی ہو رہا تھا
“ارے حرا تم رو کیوں رہی ہو یار۔۔۔۔ اچھا اب نہیں آتا میں تمہارے قریب۔۔۔ تمہیں وقت چاہیے تو ٹھیک ہے لے لو وقت لیکن پلیز رو تو نہیں ” حرا کو روتا دیکھ اس کے دل کو کچھ ہوا تھا
“اچھا آؤ ادھر بیٹھو بیڈ پہ “غازیان نے حرا کو بیڈ پہ بیٹھنے کا کہا تو وہ چپ کر کے وہاں جا کر بیٹھ گئی تھی جبکہ آنسو ابھی بھی رواں تھے
“اچھا رو تو مت یار ۔۔۔۔۔ اب نہیں کرتا کچھ ٹھیک ؟؟؟؟ غازیان نے کہا تو حرا نے اسے گھورا تھا
“اچھا چھوڑو نا یہ رونا مجھے یہ بتاؤ کہ کیا بات کرنی تھی مجھ سے ؟؟؟؟ ” غازیان حرا کو روتا دیکھ واقعی گھبرا گیا تھا اس کے دماغ میں تو یہ تھا کہ
” اتنا عرصہ گزار گیا ہے حرا قبول کر چکی ہوگی لیکن اگر اسے وقت چاہیے تو ضرور ۔۔” غازیان اپنے دل و دماغ میں یہ سوچتا حرا کو چپ کروانے کی تگ و دو کرنے لگا تھا
“کک کچھ نہیں مجھے سونا ہے ” حرا نے بمشکل اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا تھا
“ارے تمہیں اگر نہیں کہنا کچھ تو مجھے تو بہت کچھ کہنا ہے تم سے۔۔۔ وہ بھی ضروری ہے کہ ہم ابھی اور اسی وقت وہ بات کریں ” غازیان نہیں چاہتا تھا کہ حرا سے ہی سو جائے ورنہ وہ پوری رات سو نہیں پائے گا
“کیا بات ؟؟؟” حرا اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی تھی
“یار اصل میں بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ ” غازیان بات کرتا کرتا اب حرا کے پاس آ کر بیٹھا تھا
“اسامہ نیلم کو جبکہ ارقم لائبہ کو پسند کرتا ہے۔۔۔ اور ان کے گھر والوں نے غلط لڑکیوں کے ساتھ ان کا رشتہ پکا کر دیا تھا بغیر ان سے پوچھے۔۔۔۔ اسامہ اتنا خوش تھا کہ شاید پھوپھو نیلم کا رشتہ کر رہی اس کے ساتھ لیکن جب آج انہوں نے لائبہ کا ہاتھ مانگا اسامہ کے لیے تو اسامہ حیران تھا ۔۔۔۔۔ اب مجھے تم یہ بتاؤ کہ کیا نیلم لائبہ انہیں پسند کرتی ہیں ؟؟؟؟ دیکھو صحیح بتانا ان کی زندگیوں کا سوال ہے ۔۔۔۔۔ اگر تو وہ بھی ان کو پسند کرتی ہیں تو پھر ہم کچھ کریں ان کے لیے ورنہ رہے ایسے ہی ۔۔۔” غازیان کی بات سنتے ہی حرا کو دن بھر کی گفتگو یاد آئی تھی جو اسکی حرا اور نیلم.کے ساتھ ہوئی تھی
” میسنے ” حرا نے ساتھ ہی ساتھ دل میں اسامہ اور ارقم کو اس لقب سے نوازا تھا
“کہاں کھو گئی ؟؟؟ بتاؤ نا ۔۔۔۔ “
“ہاں نیلم اسامہ کو اور لائبہ ارقم کو پسند کرتی ہے۔۔۔ آج دونوں کو بہت مشکل سے سنبھالا ہے میں نے۔۔۔۔ دونوں ہی شوکڈ تھیں اس رشتے کا سن کر ” حرا اب نارمل ہو گئی تھی اپنا رونا بھول کر اسے اب ان سب کی فکر تھی
“تو پھر ٹھیک ہے کل ان سب سے بات کرتے ہیں پھر کوئی حل نکالتے ۔۔۔۔ ” غازیان اسے کہتا ہوا باتھ میں چلا گیا تھا جبکہ حرا لیٹ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو وہ تینوں زارا بیگم کے گھر پہنچے تھے۔۔۔ حسن صاحب کو فون کر کے بتا دیا گیا تھا کہ وہ تینوں یہاں آئے ہوئے تو حسن صاحب پھر اپنے دوستوں کی طرف چلے گئے تھے
شاندار محل جیسے گھر میں داخل ہوئے تھے جہاں کافی چہل پہل تھی کافی انچی انچی امیر گھرانوں کی خواتیوں کو دعوت دی گئی تھی جبکہ بچہ پارٹی کے لیے بھی ایک الگ کونا خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
ہارون زارون تو فائق کے پاس چلے گئے تھے جو کہ غالبً اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف تھا لیکن ان دونوں کو اتا دیکھ اس کے چہرے پہ ایک خباثت سے بھری مسکراہٹ تھی
گھر کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر طرف رنگ برنگی لائٹس ، غبارے اور پھول ہی پھول تھے جو بھی دیکھتا دیکھتے ہی رہ جاتا تھا اور شائستہ بیگم کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا لیکن وہ اتنی بڑی پارٹی میں آ کر خود کو نادیدہ تھوڑی کہلوانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون زارون جا کر فائق سے ملے تھے اور پھر فائق نے انہیں اپنے دوستوں سے ملوایا تھا جن سے ایک عجیب سی بدبو آئی تھی اور ہاتھ میں بھی کوئی عجیب سی چیز پکڑی ہوئی تھی جو کہ غالبً نشہ تھا
زارون کو نئی نئی چیزوں کو ٹرائے کرنے کا بہت شوق تھا تو اس نے ایک لڑکے سے آخر پوچھ ہی لیا تھا
“بھائی یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے اور آپ اسے بار بار کیوں سونگ رہے ہو ؟؟؟” زارون نے پوچھا تو سب لڑکوں کا قہقہہ گونجا تھا
“ارے تم کیسے لڑکے ہو تمہیں اس کا نہیں پتہ ۔۔۔۔ اتنا اچھا ہے نا یہ کہ بس پوچھو مت۔۔۔ لو تم بھی سونگ کر دیکھو اتنی اچھی خوشبو ہے کہ بس تم پاگل ہو جاؤ گے ” فائق نے اپنے دوست کو آنکھ ماری اور اس کے ہاتھ سے پیکٹ اچک کر زارون کی طرف کیا تھا
اور وہ تو تھے ہی ایسے کہ سٹینڈرد کے لیے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے یہ کرتے تو زارون نے اگے ہو کر اس کو جیسے ہی ہلکا سا سونگھا اسے پہلے تو کچھ سمجھ نا آیا تھا لیکن ایک بار پھر سونگھنے سے ایک دم چکر سا آیا تھا لیکن فائق نے اسے فوراً پکڑا تھا اور پھر وہ پیکٹ ہارون کی طرف کیا تھا
“لو تم بھی سونگو۔۔۔ اتنا اچھا ہے نا کہ یاد رکھو گے کہ فائق بھائی نے اتنی اچھی چیز دی تھی ” فائق ان دونوں کو خراب کرنے میں کوئی کثر نا چھوڑ رہا تھا
“نہیں مجھے نہیں سونگھنا ۔۔۔ زارون تو بتا نا کیا تھا یہ۔۔۔۔ ” ہارون کے کہنے کی دیر تھی کہ زارون فائق کے اوپر بے ہوش جا گرا تھا
سب لڑکے قہقہے لگا رہے تھے جبکہ ہارون پریشان سا زارون کو اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن بے سود
“فائق بھائی یہ کیا تھا ؟؟؟ ایسا کیا ہے یہ جسے سونگھتے ہی زارون بے ہوش ہو گیا ہے ؟؟؟ “
“ارے مجھے کیوں الزام دے رہے ہو تم ؟؟؟ باقیوں کو بھی تو دیکھو نا انہیں تو کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ اویں مجھے الزام مت دو ۔۔۔۔ یقین نہیں ہے نا لو لو تم بھی سونگو ۔۔۔۔۔” فائق نے زبردستی اسے بھی ڈراگز سونگا کر بےہوش کیا تھا
“ارے ان دونوں کو تو اٹھاؤ جلدی اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے اور انہیں اس حالت میں دیکھ لے۔۔۔۔ اٹھاؤ فوراً اور میرے کمرے میں لے چلو ” فائق نے اپنے دوستوں سے کہا تو وہ سب آگے بڑھ کر ان دونوں کو اٹھانے لگے تھے اور اندر فائق کے کمرے میں لے آئے تھے
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہارون زارون کہاں ہو دونوں ؟؟؟؟” جب پارٹی ختم ہوئی تو شائستہ بیگم کو اپنے دونوں بیٹوں کی یاد ستائی تھی اور انہیں ہر طرف دیکھ لیا تھا لیکن وہ دونوں کہیں نظر نا آئے تھے ۔۔۔ ہوتے تو نظر آتے نا ۔۔۔۔ فائق نے دونوں کو اپنے کمرے کے ساتھ بنے چھوٹے سے سٹور میں بند کر دیا تھا اور خود مزے سے اپنے دوستوں کے ساتھ مزے لے رہا تھا
“فائق بیٹا ہارون زارون کو دیکھا ہے؟؟؟ وہ آپ کے ساتھ تھے نا ” دور فائق کو کھڑا دیکھ شائستہ بیگم اس کے پاس آئی تھیں
“جی آنٹی ابھی تو ادھر ہی تھے شاید گھر چلے گئے ہوں ” فائق نے صفائی سے جھوٹ بولا تو اس کے دوست نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا
“آنٹی میں نے کچھ دیر پہلے انہیں گیٹ سے باہر جاتے دیکھا تھا ” فائق کے دوست نے کہا
“اچھا چلو ٹھیک ہے ” شائستہ بیگم انہیں کہتی ہوئی اپنی گاڑی کی طرف چل پڑی تھیں
“گھر جانے دو زرہ مجھے۔۔۔ کہا بھی تھا کہ کیا کرو گے وہاں لیکن نہیں آنا تھا بس میرے ساتھ۔۔۔۔ اور مجھے بتائے بغیر گھر بھی چلے گئے واہ ” ان کے خیال میں وہ دونوں پارٹی سے بور ہو کر گھر گئے تھے
کچھ دیر بعد جب وہ گھر پہنچی تو سیدھا ان دونوں کے کمرے کی طرف رخ کیا تھا لیکن کمرے کی لائٹ آف دیکھ کر وہ واپس مڑی تھیں اور اپنے کمرے میں چلی گئی
“صبح پوچھوں گی میں اب دونوں کو۔۔۔۔ میرے ڈر سے آج جلدی سو گئے ۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اٹھ کر تو شائشتہ بیگم بھول ہی گئی تھیں کہ کچھ ہوا بھی تھا ویسے بھی وہ دونوں گھر ہی تھے اگر نا ہوتے تو فرق پڑتا لیکن انکو یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ رات دو بجے گھر آئے تھے فائق انکو چھوڑ کر گیا تھا اور وہ پچھلی دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے تھے
جبکہ وہ دونوں میاں بیوی سکون سے سو رہے تھے اگر انہیں پتہ ہوتا کہ آج سے انکی بربادی شروع ہو جائے گی تو وہ کبھی اتنے سکون سے نا سوتے
——————-
آج چونکہ چھٹی تھی تو سب گھر پہ ہی تھے اور اس وقت سب لوگ جاوید صاحب کے گھر اکٹھے تھے ناشتے پہ۔۔۔اسامہ ، ابراہیم صاحب مریم بیگم بھی آئے ہوئے تھے اور ناشتے سے فارغ ہو کر سب اپنی اپنی دکانوں پہ چلے گئے تھے جبکہ اسامہ ارقم غازیان حرا وہ سارے ارقم کے کمرے میں اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے کہ غازیان نے بات شروع کی
“دیکھو اسامہ اور ارقم۔۔۔۔ حرا سے میں نے پوچھا ہے اور اس کا بھی یہی کہنا ہے کہ نیلم اور لائبہ تم دونوں ڈنگروں کو ہی پسند کرتی ہیں اور اس رشتے سے خوش نہیں ہیں جو کہ ہمارے ماں باپ کی وجہ سے نیلم ارقم اور اسامہ لائبہ کا رشتہ تے ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
غازیان کے کہنے کی دیر تھی کہ اسامہ اور ارقم تو حیران تھے کہ وہ دونوں بھی انہیں پسند کرتی تھیں بڑی بات ہے …..
“یار ہمیں کچھ کرنا چاہیے ۔۔۔ وہ دونوں خوش نہیں اور وہ کچھ کہ بھی نہیں سکتی گھر میں خود سے۔۔۔ تم دونوں کو ہی کرنا ہے جو بھی کرنا ” حرا نے ان دونوں کو سمجھاتے ہوئے کہا تو ارقم اور اسامہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا کہ گھروں میں تو ان کی بھی نہیں چلتی تھی کیسے منائیں گے بڑوں کو
“ہمممممم سوچوں کچھ ” ارقم نے کہا تھا
“اوےےےےےےے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسامہ نے ایک دم چیخ کر بولا تو ان سب کا ترا نکلا تھا
“کمینے ڈرا دیا تو نے۔۔۔۔ ” غازیان نے غصے سے کہا
“آئیڈیا آیا نا دماغ میں ” اسامہ نے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے معصومیت سے کہا تھا
“اور اگر تیرا یہ آئیڈیا اچھا نا ہوا نا تو پھر دیکھی تو ” ارقم نے چڑتے ہوئے کہا
“یار۔۔۔۔ ہم شہزادے سے کیوں نہیں مدد مانگتے ؟؟؟؟ کیا پتہ وہ کچھ کر سکے۔۔۔۔” اسامہ سوچتے ہوئے بولا تو ارقم بھڑک اٹھا تھا
“رہن دے بھائی۔۔۔ سارا کچھ ہی الٹا کر دیا اس نے ۔۔۔۔۔ اسے کہا تھا کہ میری لائبہ سے اور تیری نیلم سے شادی کی بات کریں گھر ۔۔۔ وہ اس نے کیا کیا۔۔۔۔ سب ہی الٹا کر دیا۔۔۔ اس سے کہا نا تو اور بیڑا غرق کرے گا ۔۔۔۔۔” ارقم نے جھنجھلاتے ہوئے کہا
“ہممم۔۔۔ چلو میں کچھ کرتا ہوں پھر خود سے ایک ٹرائے مارتا ہوں پھر دیکھتے کیا ہوتا۔۔۔ چلو اللہ حافظ!!” اسامہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو سب نے اللہ حافظ کہا تھا جبکہ ارقم صاحب کا انداز ان دونوں سے الگ تھا
“اللہ حافظ میری جان۔۔۔ بیسٹ اف لک ” ارقم نے اسامہ کی طرف دیکھ اسے آنکھ ماری تو وہ سر نفی میں ہلاتا مسکراتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار میں خود ہی امی سے بات کر لیتا ہوں وہ ضرور میری بات سنیں گی ویسے بھی بابا نہیں ہیں گھر پہ ابھی۔۔۔۔ تو ابھی کر لیتا ہوں بات “
اسامہ سوچتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوا تھا
سامنے مریم بیگم لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی
“السلام علیکم اماں…. “صوفے پہ بیٹھتے ہوئے اسنے نہایت ادب سے سلام کیا تھا
“وعلیکم السلام اسامہ بچے کدھر گھوم رہے ہو پڑھنے کا کچھ نہیں ملا … ؟؟؟” انہوں نے پیار سے اسامہ سے پوچھا تھا نظریں ٹی وی پہ ہی تھیں
“(آپکو پڑھنے کی پڑئ ہے ادھر زندگی کا بیڑا غرق ہوا پڑا ہے …… موڈ اچھا ہے بات کر لیتا ہوں)”. اسامہ نے خود سے سوچا تھا اور انکی طرف مڑ کر بیٹھا تھا
“اماں ٹی وی بند کریں مجھے بات کرنی ہے “
“ایسے ہی کرلو نا …” انہوں نے نظریں ٹی وی پہ ہی جمائے ہوئے کہا تھا
“اماں ….. کریں نا ضروری بات کرنی ہے سن لیں بعد میں دیکھ لیجیے گا “. اسامہ نے واقعی منت سے کہا تھا تو وہ بھی اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی
“اماں دیکھیں آپ نے جو رشتہ کیا ہے نا میں نہیں راضی اسکے لیے …” اسکے پاس الفاظ نہیں تھے وہ کیسے اپنی بات سمجھائے لیکن کرنی تو تھی ہی …
“کیا فضول بول رہے ہو اسامہ دماغ ٹھیک ہے تمہارا تم سے پوچھ کے میں رشتے کیلیے گئی تھی . ” مریم بیگم کو صحیح معنوں میں غصہ آیا تھا
“ہاں مما لیکن میں نے نیلم کیلیے ہاں کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ لائبہ کیلیے آپ لوگ بس ان کو منع کر کے نیلم کا ہاتھ مانگیں. “اسامہ نے سیدھی سیدھی بات بولی تھی
“اسامہ . !!!!!” ابراہیم صاحب کی غصے سے بھری آواز گونجی تھی وہ یکدم کھڑا ہوا تھا وہ کیوں بھول گیا تھا کہ وہ دن کو کھانا کھانے گھر آتے ہیں اور اوپر سے وہ گیٹ بھی بند کر کے نہیں آیا تھا اسی لیے اسے انکے آنے کا پتا نہیں چلا تھا . ایک دفعہ تو انکی آواز سن کر دل اچھل کے حلق میں آیا تھا لیکن بات تو کرنی تھی
“حواس میں ہو اپنے کیا بات کر رہے ہو کہی نشہ وشہ کرنے لگ گئے ہو .؟؟؟” وہ بہت کم اونچا بولتے تھے لیکن جب بولتے تھے تو اسامہ کی سٹی پٹی گم ہو جاتی تھی
“بابا میں…” وہ منمنایا تھا
“خبر دار میرے آگے زبان مت چلانا .تم سے جب تمہاری ماں نے پوچھا تھا تب تم نے ہاں کی تھی ہم تمہاری مرضی سے وہاں گئے تھے اب کیا خرافات آ گئی ہیں تمہارے دماغ میں؟؟؟؟” . غصے سے انکی آواز اونچی ہو گئی تھی مریم بیگم بھی آگے ہو کر کھڑی ہو گئی تھی
“اچھا ابراہیم چھوڑیں بچہ ہے میں سمجھا دوں گی .” انہوں نے یکدم آگے بڑھ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی تھی
“کان کھول کر سن لو اسامہ …… خبردار آئیندہ کوئی بکواس تمہارے منہ سے سنوں اس عمر میں میرے سر پہ خاک ڈلوانے پہ تلے ہو . مریم اسکو سمجھاؤ کہ اسکا رشتہ طے ہے لائبہ کے ساتھ ایسے ہی قبول کرے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اگر پھر بھی بات اسکے دماغ میں نہیں پڑتی تو جو مرضی کرے لیکن مجھے باپ مت کہے “. وہ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے جبکہ اسامہ نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا تھا آنکھوں میں دکھ شکوہ آنسو .. بہت سارے جزبات تھے پہلی دفعہ شاید ابراہیم صاحب نےاسے اتنا ڈانٹا تھا
“اسامہ !!!!” . مریم بیگم نے اسکی آنکھ میں آنسو دیکھ کر اسے پکارا تھا
“اماں آپ تو سمجھ جاتی مجھے .” اسنے اتنا کہہ کر اپنے آنسو صاف کیے تھے اور کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ مریم بیگم بے بسی سے سر تھام کر رہ گئی تھی ایک طرف شوہر کی عزت تھی تو دوسری طرف لاڈلے بیٹے کی خوشی کس کی طرف داری کرتی؟؟؟
——————————
حرا مومنہ کیساتھ مل کر کپڑے دھو رہی تھی جب دروازے پہ دستک ہوئی
“چچی خالہ شینو آئی ہیں .!!!” عاکف دروازہ کھول کر انکو بتاتا اوپر چلا گیا تھا جبکہ وہ اندر داخل ہوئی تھی
“السلام علیکم خالہ!!!” حرا نے آگے بڑھ کر انکو سلام کیا تھا تو انہوں نے بھی جواب دے کر صوفہ سنبھالا تھا
“نی حرا اے سارے کم گھر دے تو کلیاں ہی کردی ایں ہن اتنا وہ ظلم نی ہونا چاہیدا (گھر کے سارے کام تم اکیلے ہی کرتی ہو اب اتنا بھی ظلم نہیں ہونا چاہیے) “
اپنی فطرت سے مجبور انہوں نے بظاہر تو حرا سے ہمدردی کی تھی لیکن انداز صاف آگ لگانے والا تھا
“نہیں خالہ ایسی کوئی بات نہیں ہے گھر کے سارے کام تو امی ہی کرتی ہیں ویسے مجھے آج چھٹی تھی تو سوچا کہ چچی کی مدد کروں . ” حرا نے بھی انہیں جواب دیا تھا جس پہ انکا برا سا منہ بنا تھا
“ویسے کتنا عرصہ ہو گیا تھا تمہاری شادی کو؟؟؟ اب انہوں نے حرا کو دیکھتے ہوئے سوال پوچھا تھا
“جی جی 4 ماہ ہونے والے ہیں ” حرا نے بھی سوچتے ہوئے جواب دیا تھا جانتی تھی کہ اب وہ ڈھیر سوال کریں گی اس لیے انکے سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی
“ویسے یہ غازیان کا کسی کیساتھ چکر شکر تے نہیں؟؟؟؟ ویسے ایسا لگتا تو نہیں ہے ایسا میرا مطلب تو خوش یے نا اس دے نال .؟؟؟” نجانے وہ کیا پوچھنا چاہ رہی تھی حرا سے .. لیکن حرا کے دماغ میں یکدم ساری باتیں آئی تھی اسے غصہ بھی آیا تھا کہ وہ کیوں ایسی باتیں کر رہی ہیں
” اگر غازیان کا چکر ہے بھی تو میں انہیں کیوں بتاؤں” حرا نے دل میں سوچا تھا
“نہیں خالہ غازیان بہت اچھے ہیں اللہ کا شکر ہے میں خوش ہوں” اسنے خود کے تاثرات کو چھپاتے ہوئے کہا تھا ورنہ دل کر رہا تھا کھری کھری سنا دے
“اچھا چلو چنگا ہے نا ویسے آجکل تو لڑکوں کے بڑے چکر ہوتے ہیں ویاہ کے بعد بھی باہر لڑکیوں کے ساتھ گھومتے ہیں کوئی تو اپنی بیویوں کو طلاق تک دے دیتے ہیں توبہ توبہ کیسا زمانہ ہے مجھے تو کہتے وے شرم آتی ہے .” حرا کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا
“غازیان بھی تو یہی کر رہا تھا تو کیا وہ بھی …….؟؟؟؟” حرا کو سوچوں سے باہر شینو کی آواز نے نکالا تھا
“حرا اے کوئی خوشخبری وغیرہ نہیں اے ..؟؟؟” اب انہوں نے اگلا سوال کیا تھا اور حرا کا دل کیا تھا کہ بس اس بندی کہ منہ پہ ٹیپ لگا دے وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب وہ کپڑے چھوڑ کر انکے پاس آکر بیٹھی تھی
“نہیں خالہ” منمناتے ہوئے جواب دیا تھا حرا کو عجیب لگ رہا تھا انکئ باتوں کے جواب دینا
“عجیب ہی تھیں وہ کیا سے کیا باتیں لیکر بیٹھ گئی تھی “
“ہا ہہ ہائے تو کوئی علاج شلاج کرا اپنا .. مرد ویسے بھی بڑا بے صبرا ہوتا ہے میری بھی پانجی تھی اسکے خصم نے بھی دوسرا ویاہ کر لیا تھا وجہ شادی کو 6,7 ماہ گزر گئے تھے اور کوئی خوشخبری نہیں ملی.تھی اب غازی بھی تو مرد ہی ہے نا کہیں…….”
“شینو …!!!” انکی بات کو عائشہ بیگم کی آواز نے بریک لگائے تھے
“بیٹی ہے حرا میری ….. تم اسکے دماغ میں ایسی خرافات مت بھرو اور ابھی وہ پڑھ رہی ہے اسکے بعد دیکھے گی . حرا تم جاؤ یہاں سے بچے چچی کی مدد کرو …” انہوں نے شینو کو کھری کھری سنائی تھی اور حرا کو وہاں سے جانے کو کہا تھا جسے یہ سب باتیں سن کر سخت رونا آرہا تھا
“ہائے میں تو ویسے بات بتا رہی تھی بچی کو .. ” اب شینو نے بے شرمی ٹالنے کیلیے کہا تھا اور پھر چلی گئی تھی
“اللہ پوچھے تمہیں غازی سب کو لگتا ہو گا کہ مجھ میں کوئی خرابی ہے لیکن وہ خود جو باہر لڑکی کیساتھ گل چھرے اڑاتا ہے وہ کیا ؟؟؟ اور کیا پتا امی بھی ایسا سوچتی ہوں۔۔۔۔۔ آج بے شک امی نے شینو خالہ کو چپ کرایا لیکن انکے دماغ میں بھی ضرور کچھ ہو گا . اور اس سے پہلے کہ غازی اس دوسری لڑکی کیلیے مجھے طلاق دے آج آئے گھر پہ دو ٹوک بات کروں گی کہ مجھے طلاق دے …” حرا کا دماغ پہلے ہی خراب تھا اور اوپر سے شینو کی باتوں نے اسے اور خراب کر دیا تھا اب دیکھنا یہ تھا اسکا یہ شک کیا اثر ڈالتا ہے ان دونوں کے رشتے پر —
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *