Chanchal Muhalla by Nashra Khan

وہ چاروں اس وقت ارقم کے کمرے میں تھے۔۔ سلیم صاحب اپنی ٹانگیں لمبی کیے بیٹھے جبکہ وہ تینوں ان کے ارد گرد تھے
"ہاں تو بتاؤ۔۔۔ کیوں بلایا مجھے یوں انً فانً تم تینوں نالائقوں نے " سلیم صاحب نے بات شروع کی
"اب آپ بھی کہو گے یہ؟؟؟" ارقم نے معصوم سا چہرا بنا کر کہا تو سب مسکرائے جبکہ سلیم صاحب نے اس کے چہرے پہ ایک چماٹ مارا
"تم ڈنگروں سے اور کیا امید لگائی جا سکتی ہے ؟؟؟" ان کی اس بات پہ تینوں چونکہ
"شہزادے ۔۔۔۔۔!!!!" غازیان غصے سے بولا
" اچھا اچھا غصہ نہیں ۔۔۔۔۔ اصل بات پہ آؤ" سلیم صاحب مسکراتے ہوئے بولے
"یار ہم نے آگے پڑھنا ہے یونی جانا ہے اور کوئی ڈھنگ کی نوکری کرنی ہے ناکہ دکان پہ بیٹھ جائیں ہم " اسامہ اتنا کہ کر چپ ہوا
"تو؟؟؟"
"تو یہ کہ اب آپ ہماری سفارش کرو ہمارے اباؤں سے اور ہمیں یونی کی پرمیشن دلواؤ
ہمیں پتہ ہے یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہو پلیز شہزادے !!!!" غازیان نے کہا
"ہمممم !! چلو میں بات کر کے دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ "
اور ابھی سلیم صاحب کچھ اور کہتے کہ غازیان کا فون بجا تو دیکھا لائبہ کا فون تھا تو کال پک کی
"ہاں کیا ہوا ۔۔۔
"اچھا ٹھیک ہے " کہ کر فون بند کر دیا
جبکہ ان تینوں کی نظریں صرف غازی پہ تھیں
غازی نے جب ان کو دیکھا تو حیران ہوا
"کس کا فون تھا ؟؟؟" سلیم صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا
"وہ وہ لائبہ کا تھا " غازی خود پہ ان کی نظریں محسوس کر کے بولا
"کیا کہ رہی تھی ؟؟؟" ارقم نے سوال کیا
"کہ رہی تھی کہ رات کو 10 بجے آجانا سب۔۔۔ میٹینگ کرنی ہے ضروری " غازی نے بات بتائی
"اچھا بس؟؟؟؟" اسامہ نے پوچھا
"کیوں کچھ اور کہنا تھا کیا ؟؟؟" غازی گھبرا کر بولا
"نہیں ہمیں لگا کہ۔۔۔۔۔۔۔" ارقم اتنا بولا اور سب کا قہقہہ گونجا
غازی کو اب سمجھ آئی کہ یہ تینوں ایسے کیوں بول رہے
"کمینوں !!! ایسا کچھ نہیں ہے " غازیان نے اپنی وضاحت کرنا چاہی لیکن وہ تینوں تو ہنسی ہی جا رہے تھے اور ان کو دیکھ کہ اب غازی بھی ہنس دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزالہ بیگم کو گھر سے نکالنے کے بعد حسن صاحب شائستہ بیگم کے ہمراہ زارون کے کمرے میں آئے جہاں زارون بیڈ پہ لیٹا سو رہا تھا یا سونے کا ڈرامہ کر رہا تھا یہ اندازہ کرنا مشکل تھا
ہارون اس کے پاس بیٹھا اس کے سر پہ ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ حسن صاحب جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تو ہارون انہیں دیکھ کے فوراً ان کے طرف بھاگا
"بابا دیکھیں نا زارون کو کیا ہو گیا۔۔ صبح تک بلکل ٹھیک تھا دادی کے مارنے کی وجہ سے دیکھیں اسے بخار ہو گیا۔۔۔ بہت مشکل سے بخار اترا ہے اس کا تب جا کر سویا یہ۔۔۔۔" ہارون باپ کہ گلے لگے اسے بتائی جا رہا تھا. لہجے میں اتنی پریشانی تھی کہ کوئی بھی یقین کرلے شائستہ بیگم تو حیران ہی ہو گئی تھیں جب کہ حسن صاحب زارون کے پاس آئے اور اس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کہ دیکھا تو بخار واقعی اتر چکا تھا تو انہوں نے ایک سکون کا سانس لیا اور پھر اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کہ وہیں بیڈ پہ اس کے ساتھ بیٹھ گے
"بابا زارون ٹھیک تو ہو جائے گا نا " ہارون نے اداس ہونیکی بھرپور ایکٹنگ کی
"ہاں میری جان !!! آپ کا بھائی بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا " حسن صاحب نے اسے اپنی گود میں بیٹھا کر کہا
"بابا یہ ٹھیک ہو جائے نا پھر ہم کہیں گھومنے چلیں گے"
ہارون خوشی خوشی بولا تو اس سے پہلے کہ حسن صاحب کچھ کہ کر انکار کرتے شائستہ بیگم بولی
"ہاں ہاں کیوں نہیں !!! جائیں گے نا۔۔۔ ابھی آپ یہ سب باتیں چھوڑو جا کر سو جاؤ آپ بھی تھوڑی دیر
صبح سے ٹینشن میں ہے میرا بچہ" شائستہ بیگم اسے کہتے ہوئے حسن صاحب کی گود سے اٹھایا اور اسے زارون کے ساتھ بیڈ پہ لیٹا دیا اور حسن صاحب کو اشارہ کر کہ باہر چلنے کو کہا تو وہ بھی لائٹ اوف کرتے باہر آگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"زارون ،، زارون اٹھ "ان دونوں کے باہر نکلتے ہی ہارون نے زارون کو آواز دی
"ہاں کیا ہوا؟؟؟ چلے گئے دونوں ؟؟" زارون اٹھتے ہوئے بولا
"یار مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں امی بابا کو ہمارا رزلٹ نا بتا دیں!!" ہارون اداس ہو کر بولا تو زارون نے اس کی اس بات پہ اپنا سر پیٹا
"یار کیا ہو گیا ہے تجھے ؟؟؟ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ اور جہاں تک امی کی بات ہے تو تو فکر نا کر امی نہیں بتائیں گی بابا کو۔۔۔۔ اور دادی بھی نہیں کہ سکتیں اب کچھ بھی بابا کو.. کیونکہ وہ تو یہاں ہیں ہی نہیں " زارون خوشی سے اسے کہتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ ہارون بھی بے فکر ہو کر موبائل کیساتھ لگ گیا
شائستہ بیگم نے ان دونوں سے کمرے میں آکر پوچھا تھا کہ غزالہ بیگم نے زارون کو کیوں مارا تب پتہ چلا کہ یہ دونوں فیل ہو چکے ہیں تو شائستہ بیگم نے اس بات پہ کوئی دیہان نا دیا بس اتنا کہا کہ
"اچھا زارون اب چپ کر کے جا کر لیٹ جاؤ بیڈ پہ اور یہ بات کسی کو نا بتانا۔۔۔ بعد میں جس مضمون میں فیل ہوئے ہو دونوں اسے پاس کر دینا "
"لیکن امی ہم تو ایک بھی مضمون میں پاس نہیں ہوئے " ہارون سر جھکائے بولا
"بیڑا تر جائے تم دونوں نالائقوں کا ۔۔۔۔۔ ایک میں بھی پاس نہیں ہو سکتے تھے ؟؟؟؟ خیر ابھی تو لیٹوں نا دیکھتے ہیں پھر کیا کرنا ہے "

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *