Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04
نیلم لائبہ اور حرا کو آسیہ بیگم سے سلائی کڑھائی سیکھنے کا کہا گیا تھا تو وہ تینوں بھی صبح سے اکٹھی تھی اور حرا کی امی سے سلائی کڑھائی سیکھ رہی تھی جو کہ ان کہ پلے کچھ بھی نہیں پڑ رہا تھا
جیسے ہی وہ انہیں سیکھانا شروع کرتی کوئی نا کوئی انہیں کسی اور کام پہ یا کسی اور بات پہ لگا دیتا تاکہ ٹائم گزرے اور یہ گھر بھاگیں
کافی دیر تو وہ تینوں انہیں تنگ کرتی رہی لیکن جب آسیہ بیگم کو سمجھ آئی کہ ان کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے تو وہ پھر ایسی سخت بنی کہ حرا بھی ان کو دیکھ کہ چونکی
” کیا ہوا ہے آپ کو امی ؟؟” حرا نے اپنی امی کے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے پوچھا کہ کہیں ان کی طبیعت نا خراب ہو گئی ہو ۔۔ اتنی دیر سے جو وہ تینوں انہیں تنگ کر رہی تھیں
” کچھ نہیں ہوا ہے مجھے بلکل ٹھیک ہوں میں !!! اب چپ کر کے بیٹھو ادھر میں کسی کی کوئی آؤاز نا سنوں اب !!! کب سے تنگ کر رہی ہو تینوں مجھے ابھی تک کچھ بھی نہیں سیکھا تم لوگوں نے۔۔۔ چپ کر کے بیٹھو اب تینوں خبردار کسی کی آواز بھی آئی تو ” آسیہ بیگم غصے سے بولی تو وہ تینوں بھی خاموش ہو گئی تھی
ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ نیلم لائبہ اور حرا کو کچھ بو سی آئی جو کہ یقینً کچن سے آرہی تھی۔۔۔۔
آسیہ بیگم نے کچن میں رات کے لیے ہانڈی چڑھائی وی تھی جو کہ اب جل چکی تھی۔۔۔ وہ تینوں فوراً سمجھ گئی تھی لیکن بولی کچھ نہیں کیونکہ اب اگر کچھ بولتی تو سیدھا گھر سے باہر جاتی
وہ تینوں خاموش بیٹھی تھی کہ آسیہ بیگم کو بھی اب بو آنے شروع ہو گئی تھی
“یہ بو کہاں سے آرہی ہے ؟؟؟ ” آسیہ بیگم نے سوال کیا
” وہ امی آپ کی ہانڈی ۔۔۔۔۔” حرا اتنا کہ کر چپ ہوئی تو آسیہ بیگم کو حیرت ہوئی
“آئے کم بختوں !!! ساری ہانڈی جلا دی میری۔۔ صبح سے دماغ کھائی جا رہی ہو تینوں میرا اور اب جب ہانڈی جلی ہے تب بتا رہی ہو۔۔۔ پہلے نہیں بول سکتی تھی ؟؟؟؟ صبح سے تو چک چک لگی ہوئی ہو تینوں ” آسیہ بیگم غصے سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئی
“امی آپ نے ہی کہا تھا چپ رہنے کو ” حرا معصومیت سے بولی
“چپ کرو بدتمیز ماں کے آگے زبان چلاتی ہو ؟؟ نالائق کہیں کی !!” آسیہ بیگم حرا کی اچھی عزت افزائی کر چکی تھی اور کہتے ہوئے وہ جیسے ہی کچن میں گئیں پیچھے ان تینوں کا قہقہہ گونجا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب وہ تینوں گھر آئے۔۔۔ نڈھال اور بری حالت ہوئی وی تھی پورا دن ان تینوں نے کیسے زبرداستی دکان پہ بیٹھ کے گزارہ یہ صرف وہی جانتے تھے اسامہ اور غازیان کو تو پھر کچھ سمجھ آگئی تھی لیکن ارقم کا برا حال تھا اسے ککھ سمجھ نہیں آئی تھی کہ کپڑے کیسے سلتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسامہ گھر میں داخل ہوا تو آتے ہی لاؤنج میں پڑے صوفے پہ گرنے کے سے انداز میں لیٹ گیا
“اتنے بھی تم نے اب پہاڑ نہیں توڑے جو اس طرح صوفے پہ لیٹ گئے ہو ۔۔۔ جلدی ہاتھ منہ دھو کر آؤ کھانا کھاؤ اور سو جاؤ۔۔۔ کل پھر چلنا ہے تم نے میرے ساتھ 8 بجے تیار رہنا” ابراہیم صاحب اسے کہتے اپنے کمرے میں چلے گئے
“کیااااا کل پھر !!!! وہ بھی آٹھ بجے !!! اوفففففف !!! نہیں !!!” اسامہ ان کی بات پہ رودینے کو تھا کہ مریم بیگم آئی
“اسامہ بچے جلدی آؤ میں کھانا لگا رہی ہوں “
“کیا پکایا ہے اماں بہت بھوک لگی ہے ” اسامہ نے آنکھیں بند کرتے ہوئے پوچھا
“بیٹا ٹینڈے بنائیں ہیں آجاؤ جلدی ورنہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا ” مریم بیگم نے کچن سے آواز لگائی
“کیاااا امی ٹینڈے ؟؟؟ آپ کو پتہ ہے میں ٹینڈے نہیں کھاتا پھر بھی آپ وہی بنا لیتی ہیں !! میں نہیں کھا رہا جا رہا ہوں ماموں کے کچھ کھا لوں گا ” اسامہ غصے سے کہتا گھر سے باہر نکل گیا
“ہاں بس گھر میں نہیں کھانا کھانا۔۔ وہاں جا کہ تو کھا لو گے ٹینڈے لیکن گھر میں نخرے کرنے ہیں بس ” مریم بیگم اسامہ کو جاتا دیکھ بولی تھیں کیونکہ آج صبح ان سب نے اکٹھے ہی سبزی والے سے ٹینڈے لیے تھے کیونکہ ٹینڈے تازے تھے اور اس کے پاس صرف یہی سبزی تھی تو لاچار ان سب نے یہی خرید لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان گھر میں داخل ہوا تو اس کی امی سامنے صوفہ پہ بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی اس کے آتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی
“آگیا میرا بچہ ” عائشہ بیگم چہکتے ہوئے بولی
“جی آگیا ہوں اور بہت تھک گیا ہوں بھوک بھی بہت لگی ہے ” غازیان بولا تو اس کی آواز میں تھکن تھی
“ہاں ہاں جاؤ جا کر فریش ہو جاؤ میں تب تک کھانا لگاتی ہوں۔۔۔ میرا بچہ پہلی بار دکان پہ گیا تھا تو میں نے اپنے بچے کے لیے مزے کا سالن بنایا ہے ” عائشہ بیگم مزے سے بولی تو غازیان بھی خوش ہو گیا
“اچھا کیا بنایا ہے ” غازیان خوشی خوشی بولا
“ٹینڈے ” عائشہ بیگم کے کہنے کی دیر تھی کہ غازیان کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔۔۔۔ وہ جو سمجھ رہا تھا کہ چکن کا سالن بنایا ہو گا ٹینڈے سن کر اس کا دل کیا وہ خود کو کچھ کر دے
“اماں آج بھی ٹینڈے مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ گھر نہیں ٹینڈے خانہ ہے جہاں جب دیکھو ٹینڈے بنے ہوتے ہیں . کیا کھاؤں اب میں … اتنا تھک گیا ہوں آپکو زرا خیال نہیں ہے میرا …. ” وہ جھنھلا کر بولا تھا اور تیزی سے جوتے پہنے تھے
“تم اپنے دانت نکالنا بند کرو ورنہ میں تمہیں ٹینڈے بنا دوں گا …” غازیان کو پہلے ہی غصہ تھا اب عاکف کو ہنستا دیکھ کر اور غصہ آیا تھا
“غازیان جوتے کھائو گے تم مجھ سے… چھوٹا ہے وہ تم سے کیسے ڈانٹ رہے ہو ….” عائشہ بیگم نے اسے غصہ سے کہا تو غازیان نے معصوم سا منہ بنا کر انہیں دیکھا
“پکا یقین ہے مجھے کہ آپ لوگ مجھے مانگ کر لائے تھے یہی آپکا چہیتا ہے جا رہا ہوں میں نیچے جا کر کھا لوں گا … ” وہ تیز تیز بولتے ہوئے جلدی سے نیچے اترا تھا کیونکہ اب سچ میں جوتا اترنا تھا عائشہ بیگم کا
“ہاں ہاں جاؤ کوفتے بنائے ہیں انہوں نے تمہارے لیے….. ” پیچھے سے انکی آواز غازیان کے کانوں میں پڑی تو چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی .. بےچارہ انکے طنز کو سیریس ہی لے گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارقم گھر میں داخل ہوا تو سیدھا کچن میں گیا جہاں مومنہ بیگم روٹیاں پکا رہی تھی
“السلام وعلیکم اماں !!” ارقم کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولا
“وعلیکم السلام میرا بچہ !!! کیسا رہا دن ؟؟” مومنہ بیگم نے پیار سے بولا
“اوففف مت پوچھیں بہت تھک گیا ہوں اور بہت بھوک لگی ہے مجھے پلیز جلدی سے کھانا دے دیں۔۔۔۔ ویسے بنایا کیا ہے ؟؟؟” ارقم نے کہتے ہوئے سوال کیا
“ٹینڈے بنائے ہیں ” مومنہ بیگم کی بات پہ ارقم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
“کیاااااا اماں آج پھر ٹینڈے ؟؟؟ میں نہیں کھا رہا جا رہا ہوں اوپر تائی کے پاس ضرور کچھ اچھا بنایا ہو گا انہوں نے ” ارقم کہتا ہوا کچن سے نکل گیا
“ارے اوپر بھی یہی بنے ہیں ” مومنہ بیگم نے اسے پیچھے سے آواز لگائی لیکن ارقم نے نہیں سنا وہ باہر نکل گیا تھا
اور جیسے ہی سڑھیاں چڑھنے لگا اوپر سے غازیان آتا ہوا دکھائی دیا
“ارے کہاں جا رہا ہے تو ؟؟؟ میں اوپر آرہا تھا ” ارقم غازیان کو نیچھے آتا دیکھ بولا
“یار بھوک لگی ہے سخت نیچھے آرہا تھا کھانا کھانے …. کیا بنایا ہے چاچی نے ؟؟؟؟” غازیان نے پوچھا
“میں بھی اوپر کھانا کھانے ہی آرہا تھا اور اماں نے ٹینڈے بنائے ہیں !!!! اوپر کیا پکا ہے ؟؟”
“ہیں ٹینڈے .. امی کوفتوں والا کتنا بھیانک مزاق تھا ..” غازی سوچ کر رہ گیا تھا
“اوپر بھی ٹینڈے ہی پکے ہیں “
” چل اسامہ کی طرف چلتے ہیں شاید پھوپھو نے کچھ اچھا پکایا ہو ” ارقم کہتے ہوئے جونہی گیٹ سے باہر نکلا اسامہ سامنے سے آرہا تھا
“کہاں جا رہے ہو دونوں میں تم دونوں کی طرف ہی آرہا تھا ” اسامہ کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ ارقم اور غازیان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ارقم کو ہنسی جبکہ غازیان کی تیوری چڑھی
“کیا ہوا ہے تمہارا منہ کیوں بنا ہے اور تم کیوں ہنس رہے ہو ؟؟؟” اسامہ کو حیرت ہوئی تھی ان دونوں کی شکلوں سے
“تو ہمارے گھر کھانا کھانے تو نہیں آرہا تھا کہیں ؟؟؟؟ ” ارقم نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا
“ہاں تمہیں کیسے پتہ ؟؟” اسامہ کو حیرت ہوئی
“کہی پھوپھو نے بھی ٹینڈے تو نہیں بنائے ؟؟” اب کی بار غازیان بولا
“ہاں نا اسی لیے تو آرہا تھا تم لوگوں کی طرف کیا پکا ہے ؟؟”
“ٹینڈے ” دونوں ایک ساتھ بولے
“مجھے تو لگتا ہے آج پورے محلے میں ٹینڈے بنے ہیں.. اماں سن لو کسی دن میں نے ان ٹینڈوں سے تنگ آکر گھر چھوڑ دینا ہے… “
غازیان اونچی آواز میں بولا تھا جب اچانک اڑتی ہوئی جوتی نے اسکی کمر کا نشانہ لیا تھا
“آہہہہ اماں …” عائشہ بیگم نے اوپر سے ہی جوتی سے نوازا تھا
“19 کا ہو گیا ہوں میں … کچھ تو خوف کریں … ” وہ کمر سہلاتے ہوئے بولا …
“حرکتیں سدھار لو یہی حال رہا نا تو شادی کے بعد بھی تمہارے ساتھ یہی کروں گی “
وہ کہتے ہوئے بالکنی سے پیچے ہٹی تھی جب غازیان نے ان دونوں کو دیکھا جو پورے کے پورے دانت نکال کر اسے دیکھ رہے تھے اسکی گھوری پہ یکدم سنجیدہ ہوئے
“مجھے بہت بھوک لگی ہے …..” وہ معصوم سی شکل بنا کر بولا
“بھوک تو ہمیں بھی لگی ہے اب کیا کریں ” اسامہ نے کہا
” سن اسامہ !!! تو نے ابھی تک ہمیں انڈے والا برگر نہیں کھلایا !!! چل وہی کھلا دے یار” غازیان نے کہا تو ارقم بھی خوش ہو گیا کہ اسے بھی اب کچھ کھانے کو ملے گا
“یار۔۔۔۔۔۔۔” اسامہ نے صرف اتنا کہا کہ ان دونوں نے اسے گھورا
“اسامہ پھر وہی بات کہ تیرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔۔۔۔ حد ہے ” غازیان چڑ کے بولا
“ہیں میرے پاس پیسے … ایویں … اب ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا کہ میرے پاس پیسے نا ہوں …..” اسامہ نے وضاحت دی
ارقم نے اسامہ کی بات سن کر شکر کیا
وہ تینوں اب برگر کی چھوٹی سی دکان پہ بیٹھے تھے جو کہ انکے گھروں سے 10 منٹ کے فاصلے پر تھی
“تین منگوائیں نا …؟؟” ارقم نے کنفرم کرنے کیلیے پوچھا تو غازیان نے سر ہلایا
“اچھا رکو یہ پیسے لیجاؤ … اور برگر لیکر واپس آنا …” اسامہ نے ارقم سے کہا جو کھڑا اس کے پیسے دینے کا انتظار کر رہا تھا لیکن پھر اسامہ اپنے ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ مار کر چونکا…. پھر اسنے ان دونوں کی طرف دیکھا
“کیا ہوا اب کیوں ایسی گندی شکل بنا کر دیکھ رہا ہے …” غازیان نے اسے دیکھ کر پوچھا
“میرا والٹ تو دوسری پینٹ میں تھا جو میں نے آکر چینج کی تھی ابھی مجھے ٹراؤزر دیکھ کر یاد آیا … ” اسنے معصوم سی شکل بنا کر دھیمی سی آواز میں کہا
“اسامہ ہہہہہ …” وہ دونوں گھور کر غصے سے بولے تھے
“کتنے پیسے ہیں ابھی تیرے پاس …” ارقم کے پوچھنے پہ 20 روپے نکال کر سامنے رکھے تو ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا
“بیس روپے سے تو تیرے منہ پہ چپیڑ مارنے کا دل نہیں کر رہا میرا ..” ارقم چڑ کر بولا تھا
پھر ارقم نے جیب سے بیس روپے نکالے تھے …. پھر دونوں نے غازی کی طرف دیکھا تھا
“تجھے کیا دعوت دیں ہم .. چیک کر جیب سے کیا پتا کچھ نکل آئے..” غازیان کو چپ بیٹھا دیکھ ارقم بولا تھا
پہلے ایک جیب ٹٹولنے کے بعد 5 روپے کا سکہ نکلا تھا …. اور پھر دوسرئ سے بھی پانچ کا ہی سکہ نکلا تھا … تو تینوں خود ہی اپنی حالت پہ ہنسے تھے
“ہو گئے پچاس پورے اب جاؤ لیکر آئو آنڈے والا برگر ….” اسامہ نے ارقم سے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا تھا جبکہ غازیان قہقہہ لگا کر ہنسا تھا
___________
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ تینوں منہ برگر والے سے برگر کھا کر آئے تھے ۔۔۔۔۔ پیٹ تو ان کا بھرا نہیں تھا ایک ایک آنت بھی نہیں بھری تھی لیکن کیا کر سکتے تھے
ابھی اپنی گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ انہیں سامنے وہ تینوں چارپائی پہ بیٹی ہوئی نظر آئی اور تینوں ہی کسی سوچ میں گم تھی انہیں کچھ پتہ نا چلا کہ کب وہ تینوں بھی ان کے پاس آکر بیٹھے تھے
اسامہ نے جب ان تینوں کو سوچوں میں گم دیکھا تو چھپ کے سے نیلم کے کان میں جا کر چیخا
“بھوو ووو “
“آہہہہہہ … زلیل انسان سدھر جاؤ تم کب یہ ڈنگروں والی حرکتیں چھوڑو گے …” نیلم کا تو تراہ ہی نکل گیا تھا . اور پھر خود پہ قابو پا کر وہ اس پہ چلائی تھی
“ہی ہی ہی ہی … !!” اسامہ نے اپنے پورے دانت نکالے
“یہ بتیسی اندر کرو . مکہ مار کر توڑ دینی ہے میں نے ” نیلم نے غصے سے کہا تو اسامہ اسے منہ چڑاتا ہوا سامنے رکھی کرسی پہ جا بیٹھا
“ہائے گُنڈی … ” غازیان نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر ایکٹنگ کی
” اچھا اچھا یہ بتاؤ کہ آج کا دن کیسا گزرا تم سب کا ” لائبہ اشتیاق سے بولی
“اوففف مت پوچھو!!! بہت برا ہوا ہمارے ساتھ ” اور پھر غازیان نے ان سب کو آج کا پورا قصہ سنایا اور ان تینوں کی ہنسی چھونٹ گئی
” ہا ہا ہا بہت اچھا ہوا تم لوگوں کے ساتھ ” حرا ہنستے ہوئے بولی
“زیادہ ہنسو مت ہم پہ !!!!! یہ بتاؤ تم لوگوں کے ساتھ کیا ہوا آج ؟؟؟” ارقم نے کہا
“ہا ہا ہا ہم نے تو آج بہت مزا کیا ” نیلم چہکتے ہوئے بولی اور پھر اپنا سارے دن کا کارنامہ ان تینوں کو بتایا
“یار بہت برا کیا تم لوگوں نے ” اسامہ کو آسیہ آنٹی کے لیے برا لگا
“ارے واہ پوری پلٹون یہاں اکٹھی بیٹھی ہے،، آنٹی شینو نے دیکھ لیا نا تم سب کو ایسے اکیلا بیٹھا .. تو پھر کل پورے محلے میں کہانیاں سننا تم لوگ !!” منان اپنے گھر سے نکلتے ہوئے ان سب کو بولا اور آنٹی شینو کا حوالہ دیا تھا جو اس محلے کی سب سے تیز اور پھاپھے کٹنی عورت تھی
” جی بھائی !!! ہم ایک دوسرے کی آج کی روداد سن رہے تھے اور آنٹی شینو تو سو رہی ہوں گی اب” نیلم کہتے ہوتے ہنسنے لگی
“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن کیا اب تم سارے یہ کام کرنے کے لیے تیار ہو ؟؟؟ یونی نہیں جاؤ گے ؟؟؟” منان نے ان سب کے ہنستے چہرے دیکھ کہ تو یہی اندازہ لگایا تھا
“نہیں بلکل بھی نہیں ” سب ایک ساتھ بولے تو منان کو ہنسی آئی
” مطلب کہ ہم یہ دکان پہ بیٹھ کہ اپنی زندگی نہیں خراب کر سکتے۔۔۔۔ ہم یونی ہی جائیں گے اور نوکری کریں گے ” اسامہ ایک دم بولا
“جی بلکل ” سب یک دم بولے
“تو اگر یونی جانا ہے تو اپنے اپنے گھر والوں کو کچھ نا کچھ کر کے مناؤ اور پھر میری ہی یونی میں اڈمیشن لے لو فوراً۔۔۔۔۔ کیونکہ اڈمیشنز کلوز ہونے والے ہیں۔۔۔۔ ” منان نے ان کو رائے دی ۔۔۔
منان خود بی ایس کر رہا تھا اور یونی میں اسے دو سال ہو چکے تھے اور اس نے آج صبح ہی سنا تھا کہ آڈمیشن کلوز ہونے والے ہیں
“جی ٹھیک ہے ہم کچھ کرتے ہیں !!!” غازیان کچھ سوچتے ہوئے بولا
“کمینے کیسے کچھ کرتے ہیں۔ پتہ نہیں ہے اپنے اور میرے ابا کا ؟؟؟ کیسے اجازت دیں گے وہ ہمیں ؟؟” ارقم نے فوراً کہا
” ارے تو فکر ہی نا کر میرے پاس ایک آئڈیا ہے !!” غازیان کچھ سوچتے ہوا بولا اور پھر مسکرایا
” تم لوگ تو منا لو گے کچھ نا کچھ کر کے۔۔۔ ہم کیا کریں گے ؟؟؟” حرا اداسی سے بولی
“ارے کوئی بات نہیں میں ہوں نا کچھ کرتا ہوں ” منان ان تینوں کے سر پہ ہاتھ پھرتا ہوا اندر چلا گیا
جبکہ وہ چھ باہر ہی بیٹھے ہوئے تھے اپنی محفل جمائے
“اوے سچ یاد آیا مجھے !!! تم دو میسنوں کے ہم سے زیادہ نمبر کیسے اور کیوں آئے ؟؟؟” ارقم کو اب یاد آیا تھا کہ غازیان اور نیلم کے ان چاروں سے زیادہ نمبر آئے تھے جو کہ آنے نہیں چاہیے تھے کیونکہ ان چھوں نے اکٹھے ہی پیپرز دیے تھے چیٹینگ کر کے تو صرف نیلم اور غازی کے ہی کیوں زیادہ آئے
“وہ ناااا ” غازی کچھ سوچتے ہوئے بولا کہ اب اسے کیا کہے کہ وہ بوٹیاں رکھ کے گیا تھا اور چونکہ نیلم کی سیٹ اس کے ساتھ والی تھی تو ان دونوں نے اتنی صفائی سے چیٹینگ کی تھی کہ باقیوں کو پتہ ہی نا چلا
“ہاں ہاں بولو نا اب دونوں چپ کیوں ہو ؟؟؟” اسامہ نے بھی بات میں اب اپنا حصہ ڈالا
“یار کیا پتہ بورڈ والوں کو ہمارے آنسر زیادہ پسند آئے ہوں ۔۔۔۔ آخر ہم دونوں کی رائٹینگ بھی تو اچھی ہے نا کیا پتہ اسی کہ مارکس دے دیے ہوں ” نیلم نے اپنا تکاّ لگایا
“ہاں ہم نے تو جیسے پاؤں سے لکھا تھا نا پیپر جو ہماری رائٹنگ کے مارکس نہیں لگے اور کون سے ایسے پھول بوٹے ڈالے تھے تم دو میسنو نے ؟؟؟؟ ہمیں بھی بتا دیتے تا کہ ہم بھی ڈال دیتے !!!” ارقم چڑ کے بولا
“کیا فائدہ عزت افزائی تو پھر بھی ہوئی ہے گھر سے ۔۔۔۔ دو نمبر اور لے لیتے تو کیا ہونا تھا ” نیلم بولی تو اسامہ اور ارقم تو چڑ ہی گئے تھے اس کی اس بات پہ جبکہ باقیوں کے قہقہہ گونجے تھے ۔۔۔۔۔۔
“اوو بندروں جاؤ جا کر سوجاؤ ۔۔۔۔۔۔ کیوں آدھی رات کو گلی میں محفل جمائے بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔ دوسروں کا تو احساس کر لو کچھ۔۔۔ سونے بھی نہیں دیتے ہو ” یہ آنٹی شینو کی آواز تھی جو نا جانے کب سے کھڑکی کے پاس کھڑی ان سب کی باتیں سن رہی تھی
“چلو جی !!!! ایکسپریس نیوز کے پاس تازہ ترین خبر آگئی جو کہ صبح ہوتے ہی شائع ہو جائے گی ” غازیان نے بولا تو سب ہنسنے لگے
“جی آنٹی جا رہے ہیں بس !!!” اسامہ بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے بولا اور پھر ان سب کو اپنے اپنے گھر جانے کو کہا
اور پھر سب باری باری اپنے اپنے گھروں کی طرف چل پڑے
“سنو گھر چھوڑ آئیں یا چلے جاؤ گے ؟؟؟” لائبہ کی آواز پہ غازیان اور ارقم جو اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے ایک دم مڑے جبکہ وہ سارے لائبہ کی بات کا مطلب سمجھ کر ہنسے
“چلے جائیں گے !!!! تم چڑیلوں کو جو دیکھ لیا ہے رات کے اس وقت اور کون آئے گی ہم سے چمٹنے ؟؟؟” ارقم چڑ کہ بولا اور سب کے قہقہہ گونجے اور گھروں کو چل دیے
اب بس صبح کا انتظار تھا کہ کب صبح ہو اور وہ اپنے اپنے گھر یونی آڈمیشن کی بات کریں
…………………….
حسن صاحب کا گھر اب ایسے گھر کا منظر پیش کرتا تھا جہاں بڑوں کی کوئی عزت نہیں کی جاتی تھی یہاں تک کے اپنی دادی اور باپ کی بھی نہیں
شائستہ بیگم کے دو جڑواں بیٹے تھے اور دونوں ہی نہایت بدتمیز۔۔۔۔ بلکل اپنی ماں کی طرح جو کہ دو بیٹے پیدا کر کے ایسے غرور میں آئی تھی کہ اس کا سر کبھی جھکتا ہی نہیں تھا نا شوہر کے سامنے اور نا ساس کے سامنے۔۔۔۔ شوہر کی تو چلو پھر کوئی بات مان لیتی لیکن ساس ۔۔۔۔۔۔ اسے تو وہ کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی
اور یہی حال اس کے دونوں بیٹے ہارون اور زارون کا تھا ۔۔ وہ بھی اپنا لڑکا ہونے پہ فخر محسوس کرتے تھے کیونکہ بچپن سے ہی ان دونوں کے سامنے لڑکیوں کو کمتر اور منحوس قرار دیا گیا تھا۔۔۔ اور یہ سب باتیں سن سن کر ان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اس دنیا میں لڑکا ہونا بہت بڑے فخر کی بات ہے۔۔۔ اور اسی وجہ سے ان دونوں میں غرور آگیا تھا وہ دونوں اپنے آگے کسی کو آنے ہی نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ اپنی دادی کو بھی ۔۔۔۔۔ دادی جو بھی کام کہتی کہ یہ کر دو تو آگے سے کہتے کہ
” یہ کام ہم سے نہیں ہو گا ہم لڑکے ہیں “
بدتمیزی میں تو وہ دونوں ماسٹر تھے۔۔۔ پہلے جو ان کے اندر کچھ تمیز یا احترام تھا اپنی دادی کے لیے وہ بھی ہوا ہو چکا تھا اپنی ماں کا دادی کے ساتھ روایہ دیکھ دیکھ کہ.
جاری ہے
